مرجعیت کی شان میں الشرق الاوسط کی گستاخی ناقابل برداشت

  • ۳۹۱

بقلم سید نجیب الحسن زیدی

لندن سے چھپنے والے سعودی اخبار  «الشرق الاوسط» نے جمعہ کے دن آیت اللہ سیستانی کا ایک اہانت آمیز خاکہ شائع کیا ، جسکی مخالفت میں عراق میں شدید رد عمل سامنے آیا۔
 عراق کے پارلمانی محاذ کے سربراہ ہادی العامری " نے اس سعودی اخبار کی جانب سے آیت اللہ سیستانی  مد ظلہ العالی کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی مذمت کی، علاوہ از ایں عراقی پارلمان کے ایک نمائندے نے"احمد الاسدی"  بھی سعودی عرب کے روزنامہ  کی جانب سے اس اقدام کے سلسلہ سے اس بات کا اظہار کیا مراجع کرام کے سلسلہ سے اس طرح کی باتوں سے سعودی عرب پر حکم فرما فکر کا پتہ چلتا ہے کہ وہاں کس قسم کی گھٹیا فکر حاکم ہے ۔
 تحریک  نجباء کے رسمی ترجمان نصر الشمری نے بھی ٹوئٹر پر دئے گئے اپنے میسج کے ذریعہ اس بات کی طرف اشاہ کیا کہ  آل سعود اور امریکہ و اسرائیل کے مزدوروں کی جانب سے شیعت کے خلاف اس طرح کی محاذ آرائیاں کوئی نئی و عجیب بات نہیں ہے یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہی مسلمانوں کے خون سے زمین کو سرخ کیا ہے اور ہمیشہ خون ناحق سے انکی آستینیں سنی نظر آتی ہیں۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا: مرجعیت کے بارے میں اہانت کا ایک واضح سبب  مرجعیت کے حکیمانہ و مستحکم موقف و اقدام  کے مقابل انکی شکست کا تلخ احساس ہے، ایسا موقف و اقدام جس نے تکفیریوں کے تمام تر حربوں اور انکی چالوں کو ناکام بنا دیا  ۔
چنانچہ  نجباء تحریک کی شورای کے سربراہ  ’’علی الاسدی‘‘  نےسعودی روزنامہ الشرق الاوسط  کی جانب سے  مرجعیت کے خلاف اس اہانت کا سبب  مرجعیت کی جانب سے اٹھایا گیا وہ قدم بیان کیا جس کے سبب حشد الشعبی کا وجود سامنے آیا ۔ اسدی نے اس اخبار کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کیس دائر کر کے اسکا محاکمہ کرنے کی اور اس کے عراق میں موجود دفتر کو بند کرنے کی بات کو بیان کرتے ہوئے  کہا کہ  مرجعیت نے  عراق کی سالمیت کی خاطر ایسا فتوی دیا  جس نے تکفیریوں اور انکے امریکی و صہیونی  حامیوں  کی عراق کے سلسلہ سے دیکھے گئے خواب کی تعبیر کو ناکام بنا دیا اور عراق کی مٹی کی حفاظت کرتے ہوئے تکفیریوں کی سیاست پر پانی پھیر دیا ۔
شک نہیں ہے کہ مرجعیت ہمارے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹک رہی ہے یہی وجہ ہے کہ گاہے بہ گاہے دشمنان اسلام کی جانب سی مرجعیت کے خلاف توہین آمیز  اقدامات ہوتے رہتے ہیں، ایسے میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم مرجعیت کی طاقت کو محسوس کریں اور ایسا کوئی کام نہ کریں جو ہمارے دشمنوں کی خوشی کا سبب ہو ،   افسوس کا مقام ہے کہ دشمن اپنی تمام تر کینہ توزیوں کے ساتھ مرجعیت کی طاقت کو سمجھتا ہے اور اس کے خلاف سر گرم عمل ہے لیکن ہم اپنے اس سرمایہ سے غافل ہے اور بسا اوقات ہمارے درمیان سے ہی  مرجعیت کے خلاف باتیں بلند ہوتی نظر آتی ہیں۔
یہ معاملہ صرف عراق کا نہیں ہے اسکا تعلق ہم سب سے ہے لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ وسیع پیمانے پر لندن سے نکلنے والے سعودی روزنامے کی شدید طور پر مذمت کریں تاکہ مرجعیت کے مقابل اپنے کمترین حق کو ادا کر سکیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حتی کہ امریکی صدر بھی یہودیوں سے ڈرتا ہے!

  • ۳۳۴

خیبر صہیونی تحقیقاتی ویب گاہ  کے مطابق، شام کے مرحوم سابق صدر حافظ الاسد پیچیدہ مسائل کے ادراک کے حوالے سے بہت ہی زیرک اور حیران کن صلاحیت کے حامل تھے۔ مجھے ان کے ساتھ ایک ملاقات کا موقع ملا تو وہاں ہم نے سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن اور ان کے مشہور وزیر خارجہ ہنری کیسنگر کے ساتھ ان کی ملاقات کا تذکرہ کیا۔
صدر اسد نے اس ملاقات میں امریکی صدر نکسن اور ان کے جرمن نژاد یہودی مفکر اور وزیر خارجہ ہنری کسینگر کے واحد دورہ دمشق کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا۔
یہ ملاقات اکتوبر کی شاندار جنگ کے چند مہینے بعد، سنہ ۱۹۷۴ع‍ کے اوائل میں انجام پائی۔ شام نے مصر کے ساتھ اس جنگ میں حصہ لیا اور یہ جنگ ۱۰ رمضان کی جنگ سے مشہور ہوئی۔
صدر اسد کو نہ تو رسمی بحث و مباحثوں کے دوران امریکی صدر کے ساتھ دو بدو ملاقات کا موقع نہیں دیا جا رہا تھا اور نہ ہی رسمی عشائیوں کے دوران اور ان کے بعد۔
صدر اسد کہہ رہے تھے: ہنری کیسنگر عشایئے سے پہلے، عشایئے کے دوران اور عشایئے کے بعد، ہمیں تنہا نہیں چھوڑ رہے تھے، چنانچہ میں ان سے اس موقع پر کوئی بات نہیں کرسکتا تھا۔
اگلے دن صبح کے وقت ہم نے اختتامی اجلاس کا انتظام کیا تا کہ اس دورے سے متعلق رسمی بیانیہ تیار کیا جائے، اور ہنری کیسنگر کا اصرار تھا کہ یہ اجلاس جلد از جلد ختم کیا جائے، کبھی اس بہانے سے کہ “صحافی دو ملکوں کے صدور سے ملاقات کے لئے بے چین ہیں”، اور کبھی اس بہانے سے کہ “طیارہ پرواز کے لئے تیار ہے”، اور کیسنگر کی یہ حرکتیں قدرتی طور پر مجھے مشتعل کررہی تھیں۔
میں نے پہلی بار نکسن کی طرف سے کیسنگر کو جواب دیا کہ “صحافی اس وقت تک انتظار کرسکتے ہیں جب تک کہ ہم اپنا یہ منفرد اجلاس اور اس کے نتائج کو مکمل نہ کریں۔ ان کی تشویش کو سنجیدہ نہ لیں کیونکہ یہ انتظار ان کے پیشے کا تقاضا ہے”۔
دوسری مرتبہ میں نے ان کے سامنے آکر سنجیدگی سے کہا: “جو طیارہ پرواز کے لئے تیار ہے، وہ صدر کا طیارہ ہے اور صدر ہی اس کے ٹھہرنے اور آڑنے کا وقت متعین کرتے ہیں، اور پائلٹ کو بھی اطاعت کرنا پڑتی ہے، لہذا کچھ دیر تک پرسکون رہیں، تا کہ ہماری بات چیت قدرتی ماحول میں، پرسکون انداز سے، بیہودہ دباؤ کے بغیر مکمل ہوجائے”۔
صدر اسد کہتے ہیں: میں اس وقت سوچ رہا تھا کہ کس طرح کیسنگر سے چھٹکارا پا لوں اور امریکی صدر کے ساتھ، حتی چند ہی دقیقوں تک، کچھ خفیہ بات چیت کروں۔ اور میں نے محسوس کیا کہ مرکزی دروازے کے ساتھ ایک دوسرا دروازہ بھی ہے چنانچہ میں نے خصوصی دفتر میں پہنچایا اور میں بھی داخل ہوا اور دروازہ اندر سے مقفل کیا۔ لیکن اسی وقت کیسنگر بھی آ ٹپکے اور دستک دینے لگے اور چلانے لگے کہ “میرے لئے دروازہ کھول دیں”۔
جس وقت میں اور نکسن چھوٹے کمرے میں موجود تھے، تو نکسن میرے قریب آئے اور ادھر ادھر دیکھ کر میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا: خبر دار، وہ [کیسنگر] ایک یہودی ہے!”۔
میرے چہرے پر حیرانگی کے آثار نمایاں تھے، تو صدر حافظ الاسد مرحوم نے کہا: ہاں جناب! حتی کہ امریکہ میں صدر بھی یہودیوں سے ڈرتے ہیں اور ہمیں ہرگز ہرگز امریکی حکومت میں صہیونیوں کے اثر و رسوخ اور وہاں کی فیصلہ سازی پر یہودیوں کی اثراندازی کو نہیں بھولنا چاہئے اور یہ حادثہ اس امریکی موقف کی تفصیل ہے جو وہ فلسطین اور عرب ممالک کے سلسلے میں اختیار کیا کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: طلال سلمان
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
https://www.raialyoum.com

 

اسرائیل کیوں شام کے آگے مبہوت؟

  • ۳۷۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی پارلیمنٹ میں خارجہ اور دفاعی امور کی کمیٹی کی رکن کیسینا سیوتلویا نے جو بیان دیا ہے اور جس میں انہوں نے کہا کہ جب سے روس سے شام کو میزائل ڈیفنس سسٹم ایس-۳۰۰ ملا ہے تب سے اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کی فضائی حدود میں کوئی بھی پرواز نہیں کی، یہ بہت ہی اہم بات ہے ۔
کیوں کہ اس سے اسرائیل کے ان گزشتہ دعوؤں کی پول کھل جاتی ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ایس-۳۰۰ میزائل ڈیفنس سسٹم مل جانے کے بعد بھی شام کی فضائی حدود میں اسرائیلی طیاروں کی پروازیں جاری رہیں گی بلکہ میزائل سسٹم ملنے کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے اندر کچھ حملے بھی کئے ۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے ستمبر میں روس کا ایل-۲۰ طیارہ اسرائیل کی وجہ سے سرنگوں ہونے کے بعد مسئلے کے حل کے لئے کئی بار روسی صدر ولادیمیر پوتین سے ملاقات کی کوشش کی تاہم پوتین نے نتن یاہو سے ملنے سے انکار کر دیا۔
 
نتن یاہو نے کئی بار یہ بھی اشارہ کیا کہ اسرائیل، روس سے شام کو ملنے والے میزائلوں کو تباہ کرنے کی توانائی رکھتا ہے جن کی وجہ سے علاقے میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے ۔ نتن یاہو نے یہ خبریں بھی لیک کروائیں کہ اسرائیل کے پاس امریکی ساخت کے ایف- ۳۵ جنگی طیارے موجود ہیں جو رڈار کی پہنچ سے باہر رہتے ہوئے بمباری کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تاہم امریکا نے اس طیارے میں فنی خرابی کی وجہ سے اسے واپس لے لیا ہے ۔
نتن یاہو کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ صدر پوتین کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ۔ پوتین شروع سے ہی نتن یاہو کی دوستی سے مطمئن نہیں تھے کیونکہ اس دوستی سے انہیں بہت نقصان پرداشت کرنا پڑتا تھا۔ اس لئے ہمیں لگتا ہے کہ جیسے ہی اسرائیل کی وجہ سے روس کا جاسوسی طیارہ سرنگوں ہوا پوتین کو نتن یاہو سے دوستی ختم کرنے کا اچھا موقع فراہم ہو گیا ۔
 
خاص طور پر اس لئے بھی کہ اسرائیلی وزیر ا‏عظم نے ساری ریڈ لائینیں پار کر لی ہیں اور لاذقیہ کے علاقے میں روس کی فضائی چھاونی سے کچھ کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع شام کے فوجی ٹھکانے پر حملہ کرکے پوتین کی بے عزتی کرنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں روس کا جاسوس طیارہ سرنگوں ہوا جس پر اعلی خفیہ شعبے کے آفیسرز سوار تھے ۔
نتن یاہو جن کے جنگی طیاروں نے شام کے اندر ۲۰۰ سے زائد فضائی حملے کئے ہیں اب ایک بھی حملہ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ اگر انہوں نے حملہ کرنے کی کوشش کی تو اس پر روس اور شام کی جو بھی جوابی کاروائی ہوئی وہ پورے اسرائیل کو دگرگوں کر دے گی اور پھر ان کے لئے اسرائیل میں اپنی حکومت کا دفاع مشکل ہو جائے گا ۔ اسی لئے نتن یاہو خاموش بیٹھے ہوئے ہیں ۔
 
شام، جنگ سے ہونے والی تباہی کے بعد زیادہ طاقتور بن کر سامنے آیا ہے۔ صرف اس لئے نہیں کہ اس نے اس سازش کا سات سال تک مقابلہ کیا جسے عالمی اور علاقائی طاقتوں نیز اسرائیل نے مل کر تیار کیا تھا بلکہ اس لئے کہ اس جنگ کے دوران حکومت دمشق کا اصل ہدف سے ہٹانے والے کسی بھی تنازع میں نہیں الجھی حالانکہ اسرائیل نے اس کی بڑی کوشش کی ۔
نتن یاہو آنے والے دنوں میں بھی شام پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کر پائیں گے کیونکہ ان کا جواب وہاں تیار ہے اور اگر نتن یاہو اس سے الگ کچھ سوچتے ہیں تو ایک بار آزما کر دیکھ لیں ۔
عبد الباری عطوان
عالم اسلام کے مشہور تجزیہ نگار

 

عرب حکمران کی آبرو دوستوں کے ہاں بھی غیر محفوظ

  • ۳۶۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مشہور فلسطینی قلمکار “کمال خلف” نے اپنی ایک یادداشت بعنوان “قوم عرب کی توہین اور ایران کی قوت” میں لکھتے ہیں: امریکہ کے آگے عرب حکومتوں کا رویہ عرب قوم کی تذلیل اور توہین کا باعث بنا ہوا ہے اور اس رویے کی مذمت کرتے ہیں۔
کمال خلف کے خاص خاص نکتے:
ہم تاریخ میں ہمیشہ عربی عظمت، افتخار، شان و شوکت، جوانمردی کو عرب انسان کی خصوصیات قرار دیتے رہے لیکن کیا ہمیں دھوکا ہوا؟ یا پھر یہ زمانہ اور ہے اور وہ زمانے اور تھے؟ اس وقت جس ذلت و خفت اور زوال سے ہم گذر رہے ہیں یہ ساری عظیم خصوصیات اس عمومی ذلت کے کس حصے میں دکھائی دے رہی ہیں؟
یہ وہ دور ہے جس میں ہمیں شرافت و عزت کی لذت چکھنے کے مجاز نہیں ہیں۔ شرمناک ہے کہ امریکی صدر ایک عظیم اسلامی اور عربی حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے تذلیل، اہانت اور بےشرمی کے لب و لہجے میں بات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ “تم کمزور اور ضعیف ہو لہذا اپنی حفاظت کی قیمت ادا کرو ورنہ تمہارا تخت و تاج برباد ہو کر رہے گا”۔ اور کہتا ہے: “تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ اپنی دولت اور اپنی قوم کا رزق ہمارے سپرد کرو، تمہاری قوم کو اس دولت سے استفادہ کرنے کا حق نہیں ہے؛ لہذا ہم تمہیں آخری قطرے تک دوہ لیں گے”۔
ایسا زمانہ ہے کہ امریکی حکومت آگے ہمارے قبلہ اول، “قدس” اور ہمارے مقدسات کو ہمارے دشمنوں کے سپرد کرتی ہے، جبکہ ہمیں خاموش رہنا پڑ رہا ہے اور ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، بلکہ ہم خاموشی سے بھی زیادہ تلخ اقدامات تک بھی کرلیتے ہیں اور قدم آگے بڑھاتے ہیں اور ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں تاکہ وہ آسانی سے ایک امت کی حیثیت سے ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈال سکیں۔ یہودی ریاست ہماری دیرینہ دشمن ہے لیکن ہم اس کے قریب ہوجاتے ہیں اور ایک اسلامی ملک کے خلاف ـ جو کہ ہمارے ساتھ اسلامی اقدار اور حیات باہمی کے لحاظ سے شریک و رفیق ہے ـ اس ریاست کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
عربوں کی جوانمردی کہاں رخصت ہوکر گئی ہے، لاکھوں فلسطینی، شامی اور عرب پناہ گزین، خانہ و کاشانہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں لیکن عرب ممالک کی سرحدیں ان کے لئے بند کی جاچکی ہیں وہ نہ تو یورپ جاسکتے ہیں نہ عرب ممالک میں داخل ہوسکتے ہیں اور کچھ کیمپوں میں کسمپرسی اور ذلت و خفت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں اور بدترین نسلی امتیازات کا شکار ہیں: عرب عربوں کے ساتھ نسلی اور قومی امتیاز برتتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی پامال شدہ شرافت کی تلاش میں سمندر کے راستے یورپ کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں لیکن سمندر کی لہریں انہیں نگل لیتی ہیں اور ان کے بچوں کی تصویریں اخبارات کی کمائی کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔
کیا حاتم طائی ایک عربی افسانوی شخصیت کا نام ہے یہ وہ ایک اسثنائی شخصیت ہے؟ کیا جزیرہ نمائے عرب میں انصار و مہاجرین کی داستان ایک حادثانی کہانی ہے جو اگر رسول اللہ(ص) نہ ہوں تو اسے دہرایا نہیں جاسکتا؟
اے عرب حکمرانو! تم نے ایران کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا اس بہانے کہ ایران عرب ممالک میں مداخلت کررہا ہے، کوئی حرج نہیں لیکن کون سی چیز لے کر ایران کے خلاف لڑوگے؟ کیا اسرائیل کی فوجی طاقت کے ذریعے یا امریکی پابندیوں کے ذریعے، یا عوام کو ایرانیوں کے مذہب کے خلاف اکسا کر، جو تمہارے عوام میں سے بہت سوں کا مذہب بھی ہے؟
یہ عظمت و شرافت اور یہ عزت و آبرو اور یہ خودمختاری کے تحفظ کے لئے جنگی رویے کا مظاہرہ صرف ہمارے پڑوسی ملک ایران کے خلاف نظر آتا ہے، لیکن ہمارے یہاں کچھ دشمن ہیں جنہوں نے ہماری سرزمینوں کو غصب کرلیا ہے، ہماری ناموس کی بےحرمتی کرچکے ہیں، ہماری عورتوں اور بچیوں کو قید میں رکھے ہوئے ہیں اور ہمارے بچوں کے قاتل ہیں، اور ہم ان کے آگے گویا کسی قسم کی عزت و آبرو نہیں رکھتے!
کیا ہمیں اپنی طاقت، اپنا اسلحہ اور اپنی شجاعت (!) کو اپنے کمزور اور غریب یمنی بھائیوں کو جتانا چاہئے؟ حالانکہ یمن ـ جب تک کہ عربوں کے ہاتھوں اپنے عوام کے سروں پر ویران نہیں ہوا تھا ـ خوش بخت یمن کے عنوان سے مشہور تھا؛ یعنی ہماری طاقت و عظمت صرف یمنی بچوں کے قتل عام کے لئے ہے؟
میری خواہش ہے اے عرب حکمرانو کہ واشنگٹن میں جو شخص تمہاری تذلیل کرتا ہے، اس کے سامنے ڈٹ جاؤ کیونکہ تم اپنے عوام کی معیشت سے اپنی حفاظت کررہے ہو، اور ہم دنیا کے عوام کے آگے شرمندگی محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم زیرہ نمائے عرب سے محبت کرتے ہیں اور اس خطے کے عوام نابود ہونے والی عربی امت کا حصہ ہیں۔
اب ہمیں بھی اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ کیا واقعی اگر ٹرمپ سعودی حکومت کی حمایت چھوڑ دے تو وہ دو ہفتوں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکے گی؟ ہمارا سوال یہ ہے کہ ریاض کس ملک کے حملے کا نشانہ بنے گا؟ اگر ٹرمپ ریاض کی حمایت سے پسپا ہوجائے تو کیا ایران سعودی عرب کے خلاف جنگ کا آغاز کرے گا؟ ہمارا خیال ہرگز یہ نہیں ہے، ہمیں یقین ہے کہ ایران کبھی بھی عرب ممالک پر حملہ نہیں کرے گا، بلکہ ممکن ہے کہ معاملہ بالکل برعکس ہوجائے اور ایران سعودی حکومت کی مدد کو آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک امریکی بلیک میلنگ سے دوچار ہیں؛ اور ہم وہ قوم ہیں جس نے سر تسلیم خم کیا ہوا ہے۔
عرب حکمرانو! کیا اپنے آپ سے پوچھنا چاہوگے کہ تم نے کس طرح شام کے خلاف ابلاغیاتی اور سفارتی جنگ کا آغاز کیا اور شام کو کئی چھوٹے چھوٹے فرقہ وارانہ ممالک میں تقسیم کرنا چاہا تاکہ وہ ابد تک ایک دوسرے سے لڑیں؟ تم نے کیونکر شام میں دہشت گرد ٹولوں کو اسلحہ پہنچایا جبکہ تم نے ان بےپناہ فلسطینی عوام کی حمایت سے اجتناب کیا جو فلسطینی سرزمین کے مالک اور تمہارے مقدسات کے نگہبان ہیں؟
تم یہ بتاؤ کہ تم نے کیونکر خلیج فارس تعاون کونسل کے اندر ہی اندر ایک دوسرے کو بےاعتبار کرنے کے لئے نہایت پیشہ ورانہ انداز سے ان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا؟ جبکہ عرب ممالک کے کسی عادلانہ مسئلے کو آگے بڑھانے کے معاملے میں تم نے کبھی بھی اس طرح کی پیش ورانہ مہارت کا مظاہرہ نہیں کیا؟
ٹرمپ ہم سے تحقیر و تذلیل کی بشرمانہ لب و لہجے سے مخاطب ہے اور ہم اس کے ساتھ شراکت اور اپنے رابطے کے استحکام پر فخر کرتے نہیں تھکتے، یہی ٹرمپ اپنے دشمن “ایران” کے بارے میں بولتے ہوئے احترام کے ساتھ بات کرتا ہے، اور اس ملک کے راہنماؤں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرتا ہے اور ایران بھی اس کی اس خواہش کو مسترد کرتا ہے؛ یہی امریکی صدر جو اس انداز سے عرب ممالک کا مالک بن کر ان کے حکمرانوں کی توہین کرتا ہے، ایران کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہے اور ایران اس کی دعوت کو مسترد کرتا ہے؛ اور جان لو کہ اگر امریکہ کے ساتھ کوئی سودا کریں تو یہ تم عربوں کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ہوگا اور اس نئے سودے کی بنیاد پر تمہیں شاہ کے زمانے کی طرح ایران کے سامنے ہاتھ اٹھانے پڑیں گے اور سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔
ہم حسد کی نظر سے ایران کو دیکھتے ہیں، ایسا ملک جو اپنی اندرونی طاقت کے بل بوتے پر مزاحمت کرتا ہے، استقامت کرتا ہے، اور ڈٹا ہوا ہے اور خوداعتمادی کی برکت سے پابندیوں کے آگے صبر کرتا ہے اور خود ہی اپنا بچھونا اور اپنا قالین خود بناتے ہیں، اپنی غذا خود تیار کرتے ہیں اور اپنی ضرورت کا اسلحہ خود تیار کرتے ہیں تا کہ ان کی قومی عزت و آبرو محفوظ رہے۔
اے عرب حکمرانو! ایران کو دیکھو کہ کس طر عسکری میدانوں میں داخل ہوجاتا ہے اور وہاں کامیاب ہوجاتا ہے اور اپنے ترپ کو پتوں کی تعداد کو بڑھا لیتا ہے، اور سفارتکاری کے میدان میں بھی اپنے رقیبوں کے آگے بھی اپنے احترام کو محفوظ رکھتا ہے لیکن آج ہم عرب کس کے ہاں قابل احترام سمجھے جاتے ہیں؟
http://fna.ir/bp0hhy
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امریکہ انسانیت کا بدترین دشمن

  • ۳۸۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: طول تاریخ میں ہمیں امریکہ کی سیاست اور حکومت کی ایک ایسی بدترین مثال نظر آتی ہے کہ جو زبان سے تو انسانیت اور انسانی حقوق کا واویلا کرتی ہے، لیکن عملی طور پر امریکی سیاست و حکومت دنیا کی اقوام کے لئے نہ صرف ایک بدی اور برائی کے طور پر ثابت ہوئی ہے بلکہ پوری انسانیت کی بدترین دشمن کے طور پر سامنے آئی ہے۔ امریکی سیاست کا ہمیشہ سے وتیرہ ہی رہا ہے کہ امریکی مفادات یعنی امریکہ کے چند ایک سیاستدان جو کہ بذات خود اب صیہونیوں کے زیر اثر ہیں، ان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے دنیا کے کسی بھی گوشہ و کنار میں کتنا ہی قتل عام کیوں نہ کرنا ہو کرتے رہو، چاہے نت نئے دہشت گرد گروہ ہی کیوں نہ بنانے پڑیں، چاہے اسرائیل جیسی خونخوار جعلی ریاست کو اربوں ڈالر کا اسلحہ دے کر نہتے مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام ہی کیوں نہ کرنا پڑے، چاہے یمن میں امریکی اسلحہ کی کھیپ کی کھیپ سعودی حکمران خاندان کو پہنچا کر یمن کے عوام کا قتل عام اور ان پر زندگی تنگ ہی کیوں نہ کرنا پڑے، چاہے کشمیر میں بھارت کی جارحیت کی حمایت اور مظلوم کشمیریوں کے قتل عام پر خاموشی ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے۔
اسی طرح چاہے عراق و افغانستان میں لاکھوں انسانوں کا قتل عام، ویت نام میں انسانیت کی دھجیاں اڑانا، ہیرو شیما و ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانا اور اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بالخصوص پاکستان میں ڈروں حملوں کے ذریعے اور کبھی دہشت گرد گروہوں کا قیام عمل میں لا کر ان کی پشت پناہی کرتے ہوئے اسی ہزار پاکستانیوں کو موت کی نیند سلانا پڑے، چاہے فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینا پڑے، چاہے لسانیت کو پھیلانا پڑے، شام میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنا اور اسلحہ پہنچانا، چاہے کسی ملک پر معاشی شکنجہ لگانا پڑے تو لگاؤ، ایران و ترکی جیسے ممالک جو حالیہ دنوں امریکہ کی معاشی دہشت گردی کا شکار ہیں، اس طرح کے متعدد دیگر مسائل کو پیدا کرنا پڑے، امریکہ یہ سب کرتا آیا ہے، اس عنوان سے امریکہ کی ایک سو سالہ تاریخ دہشت گردی کے سیاہ ترین ابواب سے تاریک تر ہوچکی ہے۔
حالیہ دور میں ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ امریکی سیاست کا دارومدار صرف اور صرف غاصب صیہونیوں کے تحفظ کی خاطر دنیا کے امن کو داؤ پر لگائے ہوئے ہے، وہ غاصب صیہونی کہ جنہوں نے پہلے امریکہ و برطانیہ کی مدد سے فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کرکے ایک جعلی ریاست اسرائیل کو وجود میں لائے اور پھر فلسطینیوں کا ستر برس سے قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال چکے ہیں، اسی طرح پوری دنیا میں ان صیہونیوں کے مفادات کی خاطر انسانیت کے ساتھ عجب مذاق کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجہ میں فلسطین سے کشمیر تک مظلوم انسان اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کئے جا رہے ہیں اور نہ جانے کب تک مزید قتل عام جاری رہے گا۔
رواں ماہ امریکہ کے شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا ہے، دراصل اقوام متحدہ کے کردار پر بھی ایک تفصیلی بحث کی جا سکتی ہے کہ آیا آج تک اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام کیوں رہاہے ہے؟ مزید یہ کہ اس ناکامی کے ساتھ ساتھ عالمی دہشت گرد قوتوں اور قاتلوں کو بھی اس ادارے کی سرپرستی کہہ لیجئے یا پھر خاموش حمایت کیوں حاصل رہی ہے۔ خیر یہ ایک طویل بحث ہے جس پر کسی اور مقالہ میں تفصیلی گفتگو پیش کیجائے گی۔ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں دنیا کے متعدد ممالک کے سربراہان اور رہنماؤں سمیت وزرائے خارجہ نے خطاب کیا ہے اور اگر ان سب کے خطابات کا خلاصہ نکال لیا جائے تو افریقہ و یورپ سمیت ایشیاء و آسٹریلیا تک اور لاطینی امریکائی ممالک تک، تمام کے تمام اقوام امریکی ظلم اور ستم ظریفی کو براہ راست اور بالواسطہ بیان کرتے رہے ہیں۔
چین کی بات کریں تو چین نے بھی امریکی شیطانی سیاست پر سخت اعتراض کیا، افغانستان، عراق، شام تو پہلے ہی امریکی ناپاک سازشوں کو بھگت ہی رہے ہیں، فرانس و جرمنی نے بھی امریکی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، ایران نے بھی امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں اس کی شیطانی سیاست پر آئینہ دکھایا ہے، ترکی نے بھی کھری کھری سنا دی ہیں، اسی طرح لاطینی امریکہ کا ایک چھوٹا سا ملک بولیویا نے بھی امریکی سازشوں اور دہشت گردانہ سیاست کو مسترد کیا ہے، ونیزویلا، شمالی کوریا، روس، پاکستان سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں نے امریکہ کی غلط اور دہشت گردانہ پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یعنی اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں امریکی سیاست و حکومت کے کارناموں پر جس طرح سے دنیا بھر کی اقوام کے نمائندوں سے اظہار خیال کیا ہے، یہ اس بات کی کھلی دلیل اور ثبوت ہے کہ امریکہ اور اس کی سیاست دنیا کے اقوام کی بدترین دشمن ہے، جیسا کہ ایک سو سالہ تاریخ میں امریکہ کے ہاتھوں پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہوں کا خون ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ کی حکومت دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی کے باعث نہ صرف امریکی عوام کی نظروں میں اپنا معیار کھو چکی ہے بلکہ دنیا کی دیگر مہذب قومیں بھی امریکی حکومت کی ایسی پالیسیوں کو کہ جس کے تحت امریکہ ہر دہشت گردی کے اقدام کی حمایت کرتا ہے، سخت مخالف کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر فلسطین، یمن، لبنان، شام، عراق، افغانستان، لیبیا، پاکستان، کشمیر، برما و دیگر ممالک میں جہاں جہاں دہشتگردی ہے، سب امریکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی مرہون منت ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اب امریکی حکومت کی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہوچکی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی صدر کی انتھک کوششوں کے باوجود ایران کے خلاف کسی بھی ایک ملک نے ووٹ نہیں دیا اور امریکی صدر کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ خود امریکی سیاست اور حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ دنیا بھر میں امریکی مداخلت کے باعث آج ہر ذی شعور یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ امریکہ دنیا کی واحد حکومت ہے کہ جو دنیا بھر کی اقوام کی بدترین دشمن ہے۔
تحریر: صابر ابومریم

 

عرب حکمران ایران سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟

  • ۳۴۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اردنی قلمکار صابر الدقامسہ نے لکھا:
حال ہی میں امام خامنہ ای نے انکشاف کیا کہ: امریکہ نے پیشکش کی تھی کہ اگر ایران علاقائی جنگوں میں امریکہ کے صرف کردہ ستر کھرب ڈالر واشنگٹن کو ادا کرے تو وہ ایٹمی معاہدے سے خارج نہیں ہوگا۔ اور امام خامنہ ای نے امریکہ کو جواب دیا کہ “ہم آگ اور دور مار میزائلوں کے سوا کچھ بھی امریکہ کو نہیں دیں گے”۔
تم [عرب حکام] ہر روز صبح، شام، کھانے کے بعد اور سونے سے پہلے ایران کو گالیاں دیتے ہو، توہین کرتے ہوں، ایران کے خلاف شرانگیزیاں کرتے ہو اور “شیعیت” کو ہیولا بنا کر اس سے ڈرا کرتے ہو، نادان اتنے ہو کہ شدت نادانی سے یہ بھی نہیں جانتے ہو کہ ایران میں دو کروڑ سنی بھی رہتے ہیں، جنہیں کسی نے بھی شیعہ ہونے پر مجبور نہیں کیا اور کسی بھی ایرانی سنی نے اپنا مذہب نہیں بدلا؛ تو پھر ایران کے خلاف اتنی شدید نفرت کہاں سے عربوں میں سرایت کرتی ہے؟
کیا اس نفرت کا سبب وہ احساس کمتری ہے جو ایران کے مد مقابل تمہارے اندر جڑ پکڑ چکا ہے؛ اس لئے کہ ایران نے ۳۵ سالہ بدترین محاصرے اور شدید ترین پابندیوں کے باوجود نہ صرف مغرب کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا بلکہ کامیاب بھی ہوا اور دنیا کو مجبور کیا کہ اس کے ایٹمی پروگرام کو تسلیم کرے؟
کیا اس نفرت کا سبب یہ ہے کہ ایران محاصرے اور پابندیوں کے باوجود ایک عظیم معاشی طاقت، علوم، سائنس اور صنعت کے قلعے اور ناقابل تسخیر فوجی طاقت میں تبدیل ہوچکا ہے، جو سیارچے خلا میں بھیجتا ہے، ڈرون بناتا ہے اور بین البر اعظمی میزائل تیار کرتا اور داغتا ہے؟
کیا ایران سے عربوں کی نفرت کی وجہ یہ ہے کہ ایران آج اس قدر طاقتور اور مستقل ریاست کی صورت اختیار کرچکا ہے کہ عراق، شام، لیبیا اور یمن میں خونخواری اور درندگی میں مصروف وہابی اس کی سرحدوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہیں رکھتے؟
کیا ایران سے عربوں کی نفرت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ایران علاقے کا واحد ملک ہے جس میں داعشی درندے نہیں پائے جاتے جو اس ملک کے باشندوں کو نقصان پہنچائیں، اس کی تاریخی عمارتوں اور آثار قدیمہ کو تباہ کریں، بزرگ اور تاریخی اور دینی شخصیات اور انبیاء اور اولیاء کے مزاروں کو دھماکوں سے اڑائیں، اس کی قبروں کو کھول کر اموات کی توہین کریں، ضریحوں کو اکھاڑ دیں، اور اس کے مقدس مکانات کی بےحرمتی کریں؟
اور ہاں! کہیں ایران سے عربوں کی نفرت کی وجہ یہ تو نہیں ہے کہ اس ملک میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی ہر چار سال ایک بار منظم انداز سے انتخابات ہوتے رہے ہیں اور اس کی جمہوریت عرب حکمرانوں کے اصلی چہروں کو بے نقاب اور انہیں رسوا کررہی ہے اور طاقت و اقتدار میں عوامی شراکت کے سلسلے میں ایسے نکتے انہیں سکھا رہی ہے جو انہیں کبھی بھی سمجھ میں نہیں آتے یا پھر وہ انہیں سمجھنا ہی نہیں چاہتے؟
یا پھر اس نفرت کا سبب ایران کی طرف سے ان جوانمردوں کی مطلق اور غیر مشروط اعلانیہ حمایت ہے جنہوں نے عربوں کو کئی عشروں تک خوفزدہ رکھنے والے غاصب دشمن کو عبرتناک شکست دی، اپنی سرزمین کو آزاد کرایا، اپنے اسیروں کو ان کے ماؤں کی آغوش میں پلٹایا؛ حالانکہ عرب حکمران ڈھٹائی اور بےغیرتی اور عزت و شرف کے فقدان کی بنا پر اسرائیل کے پاؤں تلے بیٹھ کر یہودی قابضین کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں مصروف ہیں؟
میں عربوں کے اس اعصابی زوال کو خوب سمجھتا ہوں؛ وہی جو دمشق پر زہران علوش اور ابو محمد الجولانی کی حکمرانی کے منصوبے بنا بیٹھے تھے؛ میں ان کے نفسیاتی بحران اور شدید ذہنی افسردگی کو اچھی طرح سمجھتا ہوں جنہوں نے اربوں ڈالر خرچ کرکے شام پر اخوان المسلمین کی سلطنت مسلط کرنے کی کوشش کی۔
ایک اردنی شہری نے کبھی بھی ایک ایرانی انسان کو اپنے ملک میں نہیں دیکھا، تو سوال یہ ہے کہ اس شدید اور نفرت انگیز تعصب کا سرچشمہ کہاں ہے؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایران کے خلاف اس ہسٹیریائی نفرت کا اصل سرچشمہ وہابیوں کی فرقہ وارانہ اکساؤ ہے؛ وہی وہابی کا تعلق اس قوم سے ہے جس نے حالیہ ایک صدی کے دوران صرف حلال و حرام، نکاح، شرمگاہوں، جنسی معاملات، جنت کی حوروں، مجامعت، حیض و نفاس اور جنابت، حمام میں داخلے کی شرطوں، وضو کو باطل کرنے والے عوامل، پیشاب کرنے کے آداب، تارک صلاۃ کے قتل کے جواز، عذب قبر، اقرع نامی سانپ، جہنم کے درجۂ حرارت، رضاعت کبیر (بالغ مردوں کو دودھ پلا کر محرم بنانے) مری ہوئی بیوی کے ساتھ مجامعت کے جواز یا عدم جواز، مسیحی عیدوں میں انہیں مبارکباد دینے کی حرمت، ان کے خلاف سختگیران رویہ روا رکھنے کے وجوب، ان کے مردوں پر ترس کھانے کی حرمت، اونٹ کا پیشاب پینے، نابالغ لڑکیوں سے شادی رچانے، جہاد النکاح، زمین کی گردش کے تردید یا تصدیق، قرائت میں اصوات ادغام اورقلقلے اور معدے سے نکلے والی ہوا کی اقسام وغیرہ جیسے موضوعات ڈاکٹریٹ کی سطح تک کے مقالے لکھوائے ہیں جبکہ ایران کی صورت حال بالکل مختلف ہے۔
خلیات جذعیہ (Stem cells) کا عالمی سطح کا مرکز ایران میں ہے اور ایران نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں بےپناہ ترقی کی ہے؛ جبکہ وہابیوں نے انسانی تہذیب کو داعش، النصرہ، طالبان، جیش الاسلام، احرار الشام، القاعدہ، جیش الفتح، نور الدین زنگی، جند الاقصی اور اکناف بیت المقدس جیسے ٹولے بطور تحفہ دے رہے ہیں جن کو یہودی ریاست اور مغربی دنیا کی حمایت بھی حاصل ہے اور اسلامی عناوین و اسماء کے باوجود وہ صرف مسلمانوں کو ذبح کرتے ہیں اور کفار سے تو وہ مدد لے رہے ہیں۔
وہابیت آج کے اس دور میں انسانی تہذیب اور مسلمانوں کی نوجوان نسل کو سر قلم اور دست و پا قلم کرنے کی نت نئی روشیں سکھا رہی ہے، اور انہیں آری سے سر کاٹنے، بندگان خدا کو سولی چڑھانے، انسانوں کے دل نکال کر چبا جانے، قبریں کھولنے، مساجد کو دھماکے سے اڑانے، عورتوں کو قیدی بنانے، عجائب گھروں کو تباہ کرنے، گرجاگھروں کو نذر آتش کرنے یا بموں سے اڑانے، راہباؤں کو اغوا کرینے، آثار قدیمہ اور قدیم تاریخی شہروں کو منگولوں کے طرز پر نیست و نابود کرنے، مسلمانوں کو کافر قرار دینے، زیارتگاہوں کو منہدم کرنے، بچوں کو ذبح کرنے اور بچیوں کو بم باندھ کر دھماکوں سے اڑانے، انسانوں کو زندہ در گور کرنے یا زندہ آگ میں پھینکنے یا پانی میں ڈبو دینے یا ٹینکوں اور گاڑیوں سے روند ڈالنے اور مقتول مسلمانوں کی لاشوں کو بھوکے کتوں کے سامنے پھینکنے اور جشن و سرور کی محفلیں سجا کر مسلمانوں کو اونچی عمارتوں کی چھتوں سے گرانے کی تعلیم دے رہی ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود ہم اردنی فخر کرتے ہیں کہ ہم اردن میں سالانہ ۵۰۰۰۰۰ کے داخلے کا راستہ روکے ہوئے ہیں اور زر مبادلہ کمانے کے اس ذریعے کو نابود کرچکے ہیں، جبکہ ہم اپنی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے ایسے ممالک سے مدد مالی امداد اور عطیات مانگنے پر مجبور ہیں جنہوں نے ہمیں ہمیشہ مشکل حالات میں بےیار و مددگار چھوڑا اور تنہا چھوڑا ہے۔
………
بقلم: صابر الدقامسہ
مترجم: فرحت حسین مہدوی

 

نسل پرستی میں امریکہ اور اسرائیل ایک ہی سکے کے دو رخ

  • ۳۷۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کیا فلائڈ ان مشکلات اور مصائب کے بارے میں کچھ بتا پائے گا جو امریکی نسل پرست صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسوں نے سیاہ فام لوگوں کے لیے وجود میں لائے ہیں؟ کیا الحلاق ان غاصب اسرائیلی فوجیوں کے مظالم کی عکاسی کر پائے گا جو فلسطین میں بے گناہ مسلمانوں اور بے کس فلسطینیوں پر ڈھا رہے ہیں؟
اب تو فلائڈ اور الحلاق دونوں ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں نہ ٹرمپ کی نسل پرستانہ حکومت ہے نہ نیتن یاہو کا ظلم و تشدد، جہاں نہ کوئی رنگ و نسل پر کسی کا خون بہاتا ہے نہ کوئی زبردستی کسی کو اس کے گھر سے باہر نکالتا ہے۔
جب فلسطینی معذور ایاد الحلاق کی لاش ان کے گھر والوں کو ملی اس کی ماں کے رونے کی آوازوں سے بیت المقدس کی دیواریں بھی چیخ اٹھی تھی، جب میں نے جارج فلائڈ کی بیٹی کو روتے ہوئے دیکھا تو میں نے اس ویڈیو کو اپنی آنکھوں کے سامنے لایا جس میں امریکی سفید پوست پولیس افیسر فلائڈ کی گردن پر گھٹنا رکھ کر دبا رہا تھا اور فلائڈ اپنی جان بچانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہا تھا لیکن جب تک اس کی آخری سانس نہیں نکلی پولیس آفیسر نے اس کی گردن سے گھٹنا نہ ہٹایا، اس منظر کو دیکھ کر میں نے یہ سوچا کہ کیا ایک دن اس کی یتیم لڑکی اس لعنتی کی اس حرکت کو بھول پائے گی؟ کیا کوئی چیز اس کے دل میں جلتی ہوئی آگ کو بجھا پائے گی؟
کیا ایاد الحاق کی ماں، گولیوں کی اس آواز کو بھول پائے گی جس نے اس کے بے گناہ بچے کو چھلنی کر دیا اور اس کی زندگی کے شیرازے کو لمحوں میں بکھیر دیا؟ وہ بھی ایسا بیٹا جس کا صرف اتنا قصور تھا کہ وہ ذہنی طور پر معذور تھا۔
یا خدا! یہ لوگ کیسے انسانیت سے دور ہو چکے ہیں؟ کیا ان کے اندر انسانیت نام کی کوئی بھی چیز نہیں بچی ہے؟ کیا ان کے چہروں پر جھوٹی نقاب چڑھی ہوئی ہے؟ اگر اس نقاب کو ہٹائیں گے تو ان کا اصلی چہرا سامنے آئے گا جو انسان کا چہرہ نہیں ہو گا، بلکہ کسی درندہ جانور کا چہرہ ہو گا۔
جی ہاں اسرائیل اور امریکہ کی نسل پرستی الحلاق اور فلائڈ جیسوں کے قتل میں واضح طور پر کھل کر سامنے آئی ہے۔ یہ دونوں جرم در حقیقت ایک ہی فکر اور سوچ کا نتیجہ ہیں اگر چہ ایک امریکی پولیس آفیسر کے ہاتھوں انجام پایا ہے اور دوسرا اسرائیلی فوجی کے ہاتھوں، اور ظلم کا شکار بننے والے بھی دونوں بے گناہ اور لاچار تھے۔
جب امریکی مجرمین کے چہروں سے نقاب گری تو قدس کے غاصبوں کا اصلی چہرہ بھی سامنے آیا، ہاں دونوں نسل پرستی کا شکار بنے ہیں۔
یہ بات حقیقت ہے کہ صہیونیوں نے فلسطین کی زمین کو غصب کیا اور امریکی سفید فام لوگوں نے امریکی زمین کو۔ دونوں غاصب اور قابض ہیں دونوں مجرم اور جنایتکار ہیں، دونوں نے اپنی حکومتوں کی عمارتوں کو ان زمینوں کے اصلی مالکوں کی لاشوں پر کھڑا کیا ہے۔
لیکن یہ جان لینا چاہیے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ایاد الحاق اور جارج فلائڈ کی جانیں لینے والی نسل پرستی امریکہ اور صہیونی ریاست کو لے ڈوبے گی، امریکہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں پاش پاش ہو گا اور صہیونی ریاست نابودی کا شکار ہو گی۔
بقلم فارس الصرفندی

 

انہدام جنت البقیع سے بے گناہوں کے خون کی ہولی تک، شیطان کی ڈگڈگی پر تکفیریت کا ننگا ناچ. 1

  • ۵۶۱

بقلم سید نجیب الحسن زیدی


خیبر صہیون تحقیقاقی ویب گاہ؛ دنیا بھر میں موجود حریت پسند ہر سال  جنت البقیع کے انہدام کے جانگداز المیہ پر اس دن کی یاد میں مجالس کا اہتمام کرتے ہیں مختلف پروگرامز اور احتجاجی جلسوں میں شریک ہو کر اپنا احتجاج درج کراتے ہیں  گرچہ کرونا کی وبا کے پیش نظر اس بار یہ احتجاج نہ سڑکوں پر ہو سکتا ہے نہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر ہم کسی اجتماع کا حصہ بن سکتے ہیں  لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ انہدام جنت البقیع کے خلاف  احتجاج نہ ہو  ، احتجاج اس بار بھی ہوگا لیکن اسکا انداز بدل جائے گا  تمام تر حریت پسندوں کی کوشش ہوگی مذہب و مسلک سے ماوراء ہو کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس بار بھی پرزور طریقے سے اپنی بات کو دنیا تک پہنچا سکیں  اور ظلم کے خلاف آواز بلند کر کے اپنے  بیدار ضمیر ہونے کی گواہی دیں ،ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس بار احتجاج کا پلیٹ فارم بدل جائے گا اور زیادہ تر احتجاج  کا حصہ ا س مجازی فضا میں ہوگا   جو اس وقت اتنی پر اثر ہے کہ حقیقی پلیٹ فارم  سے زیادہ  لوگ مجازی پلیٹ فارم  یعنی سوشل میڈیا ، ویب ،اور مجازی ذرائع ابلاغ پر متحرک نظر آتے ہیں ۔

احتجاج کیوں؟

ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں سوال ہو آخر ہر سال اس احتجاج کی ضرورت  کیا ہے اور اس سے کیا فائدہ ہے تو ایسے لوگوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے کہ  فرض کریں کسی کی پشتینی  ایسی زمین پر کوئی قبضہ کر لے جس سے خاندانی یادیں وابستہ ہوں خاندان کی کوئی نشانی ہو   اور ایسی زمین پر قائم عمارت کو منہد م کر دیا جائے تو انسان کا رد عمل کیا ہوگا ؟ کیا وہ چیخ چلا کر خاموش بیٹھ جائے گا یا پھر جب تک دوبارہ اسکی زمین اسے نہیں مل جاتی دوبارہ عمارت کی تعمیر نہیں ہو جاتی تب تک وہ احتجاج کرتا رہے گا ؟ کیا کسی کا حق مار لینےوالے بدکرادار و شاطر انسان کے سامنے یہ سوچ کر انسان خاموش بیٹھ جائے تو بہتر ہے کہ اب جو جانا تھا چلا گیا ا ب ہاتھ پیر مارنے سے کیا فائدہ یا پھر جب تک جان میں جان ہے انسان کو اپنے حق کے حصول کے لئے کوشش کرنا چاہیے ؟

یقینا انسان کا ضمیر بیدار ہے تو وہ یہی کہے گا اگر ناحق کسی جگہ پر قبضہ کیا گیا ہے اگر ناحق کسی عمارت کو ڈھایا گیا ہے اگر ناحق کسی یادگار کو مٹایا گیا ہے تو انسانی ضمیر کی آواز یہی ہے کہ جب تک  اسکی بھرپائی نہ ہو جب تک حق نہ ملے تب تک احتجاج ہونا چاہیے ۔

۸ شوال کو کیا ہوا ؟

 ۸ شوال کی تاریخ اس دردناک واقعہ کی یاد کو تازہ کرتی ہے جب ۹۷ سال زیادہ عرصہ ہونے آیا وہابیت و تکفیریت نے اس تاریخی قبرستان کو منہدم کر کے آنے والے کل کے لئے اپنے خون خرابے کی سیاست کا اعلان کر دیا تھا۔

 یوں تو ایک صدی ہونے آئی لیکن جنت البقیع کے تاریخی قبرستان کو منہدم کر دینے کا غم آج بھی تازہ ہے وہ قبرستان جس میں رسول رحمت کی بیٹی شہزادی کونین (بروایتے)[1] اور ان کے ان فرزندوں کے مزارات مقدسہ تھے[2] جنہوں نے بشریت کو علمی ارتقاء و تکامل کا وہ وسیع و عظیم افق عطا کیا جس پر پہنچ کر آج انسان ان کے شاگردوں کے سامنے جھکا نظر آ رہا ہے کہ قال الباقر و قال الصادق کے موجزن علم کے ٹھاٹھے مارتے سمندر کے کچھ قطرے جابر ابن حیان و ہشام ابن الحکم نے بشریت کے حلقوم تشنہ میں ٹپکا دئیے تھے ۔
کتنے عجیب خشک فکر اور کوڑھ مغز لوگ تھے جنہوں نے ان عظیم شخصیتوں کے مزارات مقدسہ کو زمیں بوس کر دیا جن سے کسی ایک مسلک و مذہب نے نہیں بلکہ بشریت نے استفادہ کیا اور آج تک کر رہی ہے ۔

 

حواشی :

[1]  ۔اختلفت الروایات فی موضع قبر فاطمة سیدة نساء العالمین علیها‌السلام ، فمنهم من روى أنها دفنت فی البقیع

من لا یحضره الفقیه نویسنده : الشیخ الصدوق    جلد : 2  صفحه : 572

[2]  ۔ ابن سعد، الطبقات الکبری،۱۴۱۰ه‍، ج۲، ص۴۴ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۳۸.،شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، ۱۴۲۳ق، ص۱۴۳.

 

کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس (دوسرا حصہ)

  • ۴۸۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ

بقلم سید نجیب الحسن زیدی

{ہم نے گزشتہ تحریر میں کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آج کے دور میں اسرائیل کیوں کرونا سے خطرناک تر ہے ، دلیل کے طور پر ہم نے لوین ناتھن  کی جانب سے اسلامی مزاحمت کاروں کے خلاف عجیب و غریب قانون  تجویز کئے جانے کی طرف اشارہ کیا جس کے بموجب شہادت طلبانہ کاروائی کرنے والے افراد کے گھر والوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی سزا تجویز کی گئی تھی  اس تحریر میں ہم اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے کہ عقل و منطق سے ماوراء یہ تجویز کیا کسی طرح قابل قبول ہو سکتی ہے  اگر نہیں تو کیا یہ اس طرح کی باتیں کرنے والے دہشت گردی کی وائرس کو وجود بخشنے کا ذریعہ نہیں ہیں  کیا ایسے میں ضروری نہیں ہے کہ ہم سب مل کر قدس کے پلیٹ فارم سے اس وائرس کے خلاف آواز اٹھائیں} ۔
آپ اندازہ لگائیں کہ اپنی ہی سر زمین کو حاصل کرنے کے لئے مزاحمت کرنے والوں کے لئے یہ سزا کونسی قانون کی کتاب میں ہے کہ شہادت طلبانہ کاروائی کرنے والوں کے گھر والوں کو پھانسی دے دی جائے ، ہر انسان جہاں اس بات پر حیران ہے وہیں آپ اس سزا کے پیچھے کتاب مقدس کی تعلیمات کو بھی دم بخود رہ جائیں گے چنانچہ ناتھن کی جانب سے ایک یہودی اخبار  «فاروارڈ»  کو اپنے دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران  یہ بات بھی کہی جاتی ہے :
 "غیر فوجی عام فلسطینیوں کے قتل کی پالیسی ، خودکش ( شہادت طلب ) حملوں کے مقابل ضروری انتباہ کو فراہم کرتی ہے !! لوین کی جانب سے  اس سلسلہ میں اپنی کہی بات کو تلمودی نظر شمعا  سے بھی جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے  یعنی یہ وہ بات ہے جو اس سے قبل شمعا میں بیان ہو چکی ہے ۔یہ وہ نظریہ ہے  جس کے بموجب  یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ قوم جسکے شہری مارے جاتے ہیں یا معذور ہو جاتے ہیں انکے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک با مقصد ٹرر کے ذریعہ یا دیگر وسائل کی بنیاد پر اس بات پر مختار و آزاد ہوں کہ خودکش بمبار ( شہادت طلب ) کے پہلے درجہ کے رشتہ داروں جو کہ والدین ، بھائیوں اور بہنوں کو شامل ہے  کو موت کے گھاٹ اتار دیں کاش کوئی اس عجیب و غریب نظریہ کو بیان کرنے والے کے سامنے  ۲۵ فروری  ۲۰۰۲ ء  کا وہ واقعہ رکھے جب ایک میریام گلداشتاین نامی  یہودی ہپرون کی ایک مسجد میں داخل ہوتا ہے اور ۴۰ فلسطینیوں کو نماز کی حالت میں شہید کر دیتا ہے اور عجیب بات ہے کہ اس کی ماں اپنے بیٹے کے اس عمل کی تحسین   و تمجیدکرتی ہے اور اس پر افتخار کرتی ہے  ۔ان سب چیزوں کے باوجود ، کیاکوئی  منطق یہ کہتی ہے کہ اس اقدام کرنے والے  میریام  کے گھر والوں کو فورا موت کے گھاٹ اتار دینا چاہیے ؟
یہ تو محض افراطی یہودیوں کی ان  فلسطینی مسلمانوں  کے خلاف قتل و غارت گری کا ایک نمونہ ہے کہ جنکا خانہ و کاشانہ یہودیوں کی نفرت کا شکار  ہو گیا  ۔
 بڑی اچھی بات کہی''  فسلطینیوں کی نسل کشی نامی کتاب '' کے مصنف نے کہ "ناتھن لوین صاحب اس مذکورہ بالا واقعہ کے پیش نظر  ضروری ہے کہ آپ اس قوم کے بارے  میں جو اپنے حق اور اپنی سر زمین کا دفاع کر رہی ہے  ایک نظر ثانی کریں اور ایسے نفسیاتی اقدامات سے پرہیز کریں جو یہودی  جوانوں کے  ذہنوں  کو اکسانے کا سبب ہیں اب آپ اندازہ لگائیں یہ وائرس کتنا خطرناک ہے جو کہ دہشت گردی کو ایک تقدس فراہم کر رہا ہے ۔
یہ تو ایک مثال تھی  اگر آپ  صہیونی رہبروں کی باتوں کو سنیں تو سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے ،جہاں یہودیوں کو ایک جگہ لانے کے لئے خود انکی مرضی کی ضرورت بھی نہیں ہے بلکہ کچھ ہی لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے  چنانچہ یہودیوں کی ایجنسی کے سربراہ  ڈیوڈ بن گوریان کا امریکی و یہودیوں کے  ایک مشترکہ اجتماع کا یہ بیان قابل غور ہے  " صہیونیت  کے اصولوں میں  ایک اصول تمام یہودیوں کو اسرائیل لانا تھا، ہم مختلف گھرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمار ی مدد کریں تاکہ ہم انکے بچوں کو اسرائیل لے جا ئیں البتہ یاد رہے  کہ اگر وہ  ایسا نہیں بھی کریں گے تو ہم زبردستی انہیں اسرائیل لے جائیں گے ،، ان جملوں کا مطلب یہ ہے کہ  صہیونی اہداف کے امتداد میں یہودیوں کی اپنی رائے اور انکی اپنی نظر کی کوئی اہمیت نہیں ہے  یہی وہ چیز ہے جس نے  صہیونیوں کے ساتھ یہودیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے چنانچہ بیت المقدس میں عبری یونیورسٹی کے بانیوں میں ایک ڈاکٹر ماگنسس سلسلہ سے لکھتے ہیں : ہمارا ہمیشہ سے یہ خیال رہا کہ صہیونزم کی تحریک دنیا میں یہود مخالفت کے ختم  ہونے کا سبب ہوگی لیکن آج ہم اس کا بالکل الٹا اثر دیکھ رہے ہیں ۔ صہیونیوں نے یہود مخالفت سے سب سے زیادہ ناجائز فائدہ ہٹلر کے سامنے آنے کے بعد اٹھایا،  یہاں یہ تسلط پسندانہ عزائم یہودیوں کو نقصان پہنچانے کا سبب رہے ہیں وہیں یہ بات بھی ہے کہ اگر صہیونی نظریات سے ہٹ کر کوئی یہودیوں کے لئے آگے بھی آیا ہے تو اسے بھی مخالفت ہی کا سامنا کرنا پڑا ہے چنانچہ  ماریس ارنسٹ رفیو جی اور ملک  بدری  امور سے متعلق بین الاقوامی ادارہ  روزولٹ کے نمائندہ اس بارے میں کہتے ہیں : جب یہودیوں کے لئیے میں جرمنی میں ایک امن و سکون کی جگہ تلاش کر رہا تھا اس وقت یہودی میرے اس کام کے خلاف تھے اور میرا مذاق اڑا رہے تھے حتی شدت کے ساتھ میرے اوپر حملہ آور تھے ۔ اب آپ اندازہ لگائیں جو لوگ یہودیوں کے لئے ہی کام کر رہے تھے لیکن صہیونی نظریہ سے مکمل طور پر متفق نہیں تھے  یہ  تسلط پسندانہ عزائم رکھنے والے  یہودی انکے بھی مخالف تھے یہ وائرس کتنا خطرناک ہےاسے سمجھنا ہو تو اس وائرس سے بری طرح متاثر ملک امریکہ کو ہی لے لیں جس کے بارے میں "صہیونی لابی اور امریکہ کے خارجی سیاست" نامی کتاب لکھنے والے دو عظیم قلمکاروں نے اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے کہ امریکہ صہیونی لابی کے آگے کتنا بے بس ہے۔
   یاد رہے کہ یہ کتاب اوہ جوزف میئر شیمر(John Mearsheimer (/ mɪrʃhaɪmər /؛ اور اسٹیفن والٹ   کی مشترکہ کاوش ہے  دونوں ہی آر وینیل ہیریسن ڈسٹرکٹ میں ممتاز استاد کی حیثیت سے جانے جاتے  ہیں  کتاب کے مصنفین کا مقصد اسرائیلی حکومت کی حمایت کے سلسلہ سے صہیونیوں کی غلط توجیہات اور نئے قدامت پسندوں کی اس ناجائز حکومت کی حمایت کے سلسلہ سے کی جانے والی تاویلوں کو آشکار کرتے ہوئے ان پر خط بطلان کھینچنا ہے ۔ اس کتاب میں واضح طو ر پر اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکی سیاست  مداروں نے عراق اور افغانستان میں ہزاروں لوگوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا جبکہ صہیونی چھوٹی سی  منظم لابی کے سامنے انکی گھگھی بندھی رہتی ہے اور انکی حقارت کی انتہا نہیں ۔
مصنفین کی نظر کے مطابق مشرق وسطی میں امریکہ کی خارجی سیاست ہر ایک عامل سے زیادہ  صہیونی لابی سے متاثر ہے یہاں تک کہ آخری چند دہایہوں میں خاص کر اسرائیل و  عربوں کی جنگ کے دور سے اسرائیل سے تعلقات   کا مسئلہ مشرق وسطی میں امریکہ کی بنیادی سیاست  میں تبدیل  ہو گیا ہے ۔
یہ کتاب ۲۰۰۶  میں چھپی ، اور اسکے مارکیٹ میں آنے کے بعد  دنیا بھر میں  مخالفین و موافقین کے درمیان بحث و گفتگو کا بازار گرم ہو  گیا قابل ذکر ہے کہ ۲۰۰۶ ء میں ہی یہ کتاب کئی بار پرنٹ ہوئی اور اس کے ایڈیشن کے ایڈیشن ختم ہو گئے یہاں تک کے ۲۰۰۶ء میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب قرار پائی ۔
کتاب کے ایک حصہ میں ہمیں ملتا ہے" صہیونی لابی امریکہ میں اس قدر طاقت ور ہے کہ اس نے ناقابل خدشہ یہ عقیدہ لوگوں کے ذہنوں میں ترسیم کر دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے قومی مفادات ایک ہی ہیں '' واضح سی بات ہے کہ ہر ملک کی خارجہ پالیسی  اس ملک  کے قومی مفادات کے پیش نظر تدوین پاتی ہے ، جبکہ یہ بات مشرق وسطی میں امریکی پالیسی پر صادق نہیں آتی اس لئیے  کہ صہیونی رژیم کے مفادات کا تحفظ اس علاقہ میں امریکہ کی اصلی خارجہ پالیسی کا محور و مرکز ہے  کتنی عجیب بات ہے دنیا کا سب سے طاقت ورمانا جانے والا ملک  اتنا بے بس ہے کہ کہ امریکہ کی صدارت کے امیدواروں میں کوئی ایک ایسا نہیں ہے چاہے وہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکراٹ کوئی بھی ایسانہیں جو صہیونیوں  کو خشنود کئیے بغیر انکی رضایت کے بغیر انکی مالی حمایت کے بغیر  الیکشن  میں  کامیاب ہونے کے بارے میں سوچ بھی سکے ۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا جو ایک طرف تو کرونا کے وائرس سے لڑنے میں ناکام رہا ہے دوسری طرف کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس کو اپنے لئے نسخہ شفا بخش سمجھ بیٹھا ہے اور دونوں ہی وائرس ایسے ہیں جو مسلسل اسے تباہ کئے جا رہے ہیں ۔
 

 

 

 

کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس (پہلا حصہ)

  • ۳۷۴

بقلم سید نجیب الحسن زیدی


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یقینا کرونا ایک ایسا خطرناک وائرس ہے جس نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، ایسی بیماری یقینا خطرناک ہے اور ہر ایک کو اس بیماری کے سلسلہ سے تشویش لاحق ہونا چاہیے  جس نے دنیا بھر میں پچاس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہو اور جس کے چلتے تین لاکھ سے زائد لوگ لقمہ اجل بن چکے ہوں   شک نہیں کہ پوری دنیا اس وائرس سے پریشان ہے اور ہونا بھی چاہیے ۔
ایسے میں ہر ایک پر لازم ہے کہ خود بھی احتیاطی  تدابیر کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اور اپنے گھر والوں کو اس خطرناک وائرس کے حملہ سے بچائے ساتھ کوشش کرے کہ یہ موذی وائرس کہیں اور نہ پھیلنے پائے ،ہر صاحب شعور یقینا احتیاط بھی کر رہا ہے اور اسکی کوشش ہے کہ دوسرے افراد اس سے متاثر نہ ہو یہی وجہ ہے کہ اگر کسی کے اندر اس وائرس کی نشان دہی ہوتی ہے تو کچھ دنوں کے لئے اسے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے اس کے اپنے بھی اس سے نہیں ملتے کہ کہیں وائرس کی زد میں نہ آ جائیں  جگہ جگہ قرنطینہ کے مراکز قائم کئے گئے ہیں مبتلا لوگوں کو وہاں رکھا جا رہا ہے یہ سب ہم دیکھ رہے ہیں  کہ اس وائرس سے دنیا کیسے لڑ رہی ہے  ، کاش جس طرح دنیا اس وائرس سے لڑ رہی ہے ویسے ہی ا س سے زیادہ خطرناک وائرس سے بھی لڑتی ایسا وائرس جو دنیا کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے  بشریت کے سکون کے لئے خطرہ ہے ۔
کرونا وائرس کے سلسلہ سے دنیا جس طرح سر جوڑے بیٹھی ہے کاش دنیا کے امن کو غارت کرنے والے مہلک وائرس کے بارے میں کچھ سوچتی  اس لئے کہ یہ وائرس تو ایسا ہے جو کرونا کے مریضوں کوبھی نہیں بخشتا  یہ وائرس تو ایسا ہے جو کرونا کی وبا سے جوجھتے لوگوں کی جانوں تک کو نہیں بخشتا ہے۔
جس طرح کرونا وائرس انسان کے جسم میں داخل ہو کر اس کے خلیوں میں سرایت ہو کر انسانی  پھیھپڑوں کو ناکارہ بنا دیتا ہے اسی طرح کرونا سے خطرناک وائرس  لوگوں  کی فکروں میں سرایت کر کے ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے، جس طرح کرونا وائرس کے حامل  افرادکو الگ تھلگ نہ کیا جائے تو یہ پھیلتا چلا جاتا ہے اور جتنا لوگوں سے گھلنا ملنا بڑھتا ہے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے ویسے یہی کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس ہے یہ اقتصادی تعلقات کے بہانے ، ٹکنالوجی و پیشرفت کے نعروں کی آڑ میں قوموں کے اندر گھس کر انہیں برباد کر دیتا ہے اسکا علاج یہی ہے کہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے اور اس وائرس میں مبتلا جو بھی لوگ ہیں چاہے اپنے ہوں یا پرائے سب کو ضروری ہے ایک محدود فضا میں سمیٹ دیا جائے اور مل جل کر اس سے لڑنے کی حکت عملی تیار کی جائے ، سوال یہ ہے کہ کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس ہے کہاں پایا کہاں جاتا ہے اور کیسے پتہ  کہ یہ وائرس کرونا سے بھی زیادہ خطرناک ہے تو اس کے لئے مطالعہ و غور فکر کی ضرورت ہے اس مختصر سے نوشتے میں ہم کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس کی نشاندہی کے ساتھ کوشش کریں گے کہ ثبوتوں کی روشنی میں یہ بتا سکیں کہ یہ کتنا مہلک ہے ، اس وائرس کا نام ہے اسرائیل ، یوں تو اسکا مرکز مشرق وسطی ہے لیکن یہ آج ہر طرف پھیلا نظر آتا ہے۔  
کیوں کرونا سے خطرناک ؟
یہ کرونا سے خطرناک اس لئے ہے کہ یہ دہشت گردی کو تقدس فراہم کرتا ہے اور بے گناہوں کا قتل عام کرواتا ہے ،آپ کہیں گے ثبوت کیا ہے تو ثبوت یہ ہے کہ اس نے لاکھوں لاکھ  لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے لاکھوں کا قتل عام کیا  اور ہر دن کے سورج کے طلوع ہونے  کے ساتھ روز ہی اس کی قتل و غارت گری شروع ہو جاتی ہے ،یہ نہ بچوں کو دیکھتا ہے نہ بوڑھوں کو اور نہ عورتوں کو  جو اسکے سامنے آ جائے یہ اسے نشانہ بناتا ہے اور دہشت گردی کو ایک تقدس عطا کرتے ہوئے اسے قانون کی صورت پیش کرتا ہے  ممکن ہے  کسی کے ذہن میں سوال ہو  کیسے؟ توجواب کے لئےاسے اسرائیل کی تشکیل کی تاریخ اٹھا کر دیکھنا ہوگا جابجا اسے ایسے ثبوت مل جائیں گے کہ یہ وائرس کتنا خطرناک ہے خاص کر انتفاضہ اول سے لیکر اگر دوسرے انتفاضے کی تاریخ  پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے جب  آپ انتفاضہ دوم   کے وجود میں آنے کے محرکات کو دیکھیں گے تو اس وائرس کا بھیانک چہرہ سامنے آ جائے گا  چنانچہ  ۲۸ ستمبر  ۲۰۰ ء اس دور کے اسرائیلی وزیر اعظم « شارون» نے جب خاصی  تعداد میں فوج کی بھاری نفری کے مسجد الاقصی کا رخ کیا تو مزاحمت کے طور پر انتفاضہ  دوم  وجود میں آیا جسے انتفاضہ اقصی کے نام سے  جانا گیا جسکے نتیجہ میں  ۲۰۰۲ ء میں کچھ فلسطینیوں نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئیے شہادت طلبانہ آپریشن کئیے ، اور جب یہ تحریک آگے بڑھی تو واشنگٹن یونیورسٹی کے شعبہ قانون  کے ممتاز استاد « ناتھن لوین  » نے اعلان کیا کہ فلسطینیوں کے اس شہادت طلبانہ اقدام کو روکنے کے لئیے ضروری ہے کہ انکے گھروالوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے ۔