ہندوستان کو طبقاتی و نسلی بھید بھاو سے ابھارنے میں مسلمانوں کا کردار

  • ۴۲۵

بقلم سید نجیب الحسن زیدی
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: آج ہمارے ملک میں جو ہر طرف مسموم فضا چھائی ہوئی ہے اور بری طرح ہمیں چو طرفہ نشانہ بنایا جا رہا ہے اسکو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ ہم بہت سوچ سمجھ کر اپنے مستقبل کے لئے لائحہ عمل تیار کریں کہ ہمیں کس طرح آگے بڑھنا ہوگا؟۔  مستقبل کے خطوط کی ترسیم کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ  جتنا ہو سکے میڈیا کے ذریعہ قلم و بیان کے ذریعہ اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کریں کہ ہم نے مذہبی و نسلی بھید بھاو سے کس طرح اس ملک کو اس مقام تک پہنچایا جہاں سب مل جل کر ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں اور طبقاتی فاصلوں کی دیواریں ملک کی ترقی میں آڑے نہ آئیں ۔
 اگر ہمارے خلاف زہر بھرنے والی طاقتیں صرف اس چیز کو جان لیں کہ ہم نے نسلی و مذہبی و قومی ہماہنگی میں ایک لافانی کردار ادا کیا ہے تو انہیں خود اندازہ ہو گا کہ  اجتماعی و معاشرتی زندگی میں جس طاقت کو وہ لوگ ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں  اگر مسلمان اس ملک میں نہ آئے ہوتے تو ہرگز وہ اس گندے گٹر سے نہیں نکل سکتے ہیں  جہاں اس وقت چھوا چھوت کے تعفن میں پوری قوم کو مبتلا کئے انسانی صلاحیتوں گا گلا گھونٹ رہے تھے۔
چھوت چھات کی ایسی بیماری اس ملک کو لاحق تھی کہ قومیت کا تصور ہی مشکل ہو چکا تھا، ہندوستان کے لئے سب سے بڑی نعمت یہ رہی کہ مسلمانوں نے اجتماعی زندگی کا شعور دیا چونکہ اسلام کی نظر میں نہ طبقاتی نظام کی کوئی حیثیت ہے نہ نسلی و قومی برتری کا تصور، اس دور میں جب ہندو مذہب کا طبقاتی نظام دبے کچلے لوگوں کو مزید دبا رہا تھا مسلمانوں نے یہ تصور پیش کیا کہ  کوئی شخص پیدائشی طور پر نہ تو ناپاک ہوتا ہے کہ اسے دھتکار دیا جائے اور نہ ہی جاہل ہوتا ہے کہ اسے علم حاصل کرنے کاحق ہی نہ ہو اور نہ ہی خاص پیشے خاص لوگوں کے لئے ہوتے ہیں، بلکہ ایک ساتھ سب ایک جگہ بیٹھ بھی سکتے ہیں کھا بھی سکتے ہیں ، امیر و غریب پہلو بہ پہلو بیٹھ بھی سکتے ہیں کام بھی کر سکتے ہیں ، ہندوستان کے طبقاتی نظام کے لئے یہ مساوات کا پیغام کوئی معمولی بات نہیں ہے یہ وہ چیز ہے جسکا اعتراف ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو نے بھی یوں کیا ہے''  مسلمانوں کے عملی مساوات کے نظام نے ہندوں کے ذہنوں پر بہت گہرا رنگ چھوڑا خاص طور پر وہ ہندو جو اونچ نیچ کا شکار تھے اور برابری کے حقوق سے محروم تھے اسلام کے مساوات کے نظام سے بہت متاثر ہوئے'' {جواہر لعل  تلاش ہند ، ص ۵۲۶-۵۲۵ Discoery off india }
ہندوستان کی موجودہ فضا میں ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس بنیادی مسئلہ کی  طرف لوگوں کی توجہات کو مبذول کرائیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے حقوق کی بازیابی کی جنگ کو بھی جاری رکھیں، اور پر امن طریقے سے مظاہرہ و احتجاج کرتے رہیں، اور ملک کو تقسیم کرنے والوں کو یہ سمجھا دیں کہ جب ہم نے کل دبے کچلے لوگوں کو سہارا دیا تو کیوں کر آج ہم ہر طرح کا ظلم سہہ سکتے ہیں اگر ہم دوسروں کو ظلم کی چلتی چکی کے پاٹوں کے درمیان سے نکال سکتے ہیں تو یقینا ایسانہیں ہو سکتا کہ خود کو ظلم و ستم کی چکی کے حوالے کر دیں ،ہماری آواز احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم آئین کی رو سے  حاصل حقوق کی روشنی میں اپنے حق کے لئے اس وقت تک لڑتے رہیں گے ہم تک ہمارا حق ہمیں نہ مل جائے ۔

 

 

 

کورونا وائرس; پردے کے پیچھے بڑی سازش کا آغاز (دوسرا حصہ)

  • ۴۲۲

گزشتہ سے پیوستہ

امریکا کی سیاست میں اکثر یہودی افراد شامل ہیں اور اس منصوبہ بندی کے پیچھے دنیا کے سب سے  بڑے  دولت مند اور پاورفل لوگ موجود ہیں جو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کے مالک ہے یہاں تک کہ Uno اور World Bank,  unicefوغیرہ جیسے اداروں اور عالمی تنظیموں کے افراد بھی اس پروپیگنڈے میں شامل ہیں۔ اسی لئے ان کے لئے خود امریکیوں کا مرنا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ۔  9/11 کے حادثے کی زندہ مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس حادثے میں پانچ ھزار سے زائد امریکی مارے گئے تھے۔ اسلئے اس امریکی صہیونیوں سے بعید نہیں ہے کہ انہوں نے یہ منحوس وائرس ایجاد کیا ہو جو عمر رسیدہ  افراد کو ہی زیادہ تر نشانہ بنائے جس وجہ سے انہیں ایران کی بزرگ افراد جسمیں مراجع کرام شامل ہیں کو  ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ ہو۔ اور یوں امریکا کے سب سے بڑے دشمن ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کو مین ٹارگیٹ میں رکھا گیا ہو۔ اس دوران  ابھی تک یہ لوگ ایران میں چند بڑی شخصیات کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اگرچہ ان کے استکباری میڈیا نے اعلان کر ہی دیا ہے کہ امام خامنہ ای بھی اس وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ یہاں تک کہ رہبرمعظم کے مشاور علی اکبر ولایتی تک یہ کرونا وائرس  پہنچایا گیا ہے۔ اور وہ اس وائرس سے متاثر ہوئے۔
 اس طرح یہ لوگ ایران میں بڑی اور انقلابی شخصیات کو نشانہ بنانے پہ تلے ہیں جسمیں سپاہ پاسداران اسلامی بھی شامل ہیں چنانچہ ایران کی اکثر انقلابی شخصیات عمر رسیدہ ہیں لیکن عالمی استکبار کی یہ پھونکیں نور الہی کو بجا نہیں سکتیں اور یہ لوگ  اپنے مکر میں زیادہ کامیاب نہیں ہونے والے ہیں۔ و مکروا ومکراللہ و اللہ خیر الماکرین۔ رسول اللہ ۖ فرماتے ہیں کہ یہ '' دنیا محضر خدا ہے '' اس میں جو بھی گناہ کرتا ہے وہ اس کیلئے بھاری پڑ جاتا ہے اور  مخلوق خدا  اور  عیال خدا کے ساتھ جو بھی چھیڑتا ہے خدا اس کے ساتھ چھیڑتا ہے ان کے اس مکر سے اب امریکی خود اس مرض کی لپیٹ میں آچکے ہیں بہر حال قدرت کا نظام ہی اسی طرح بنا ہے کہ جو کسی پر ظلم کرے وہ خود بھی ظلم کا شکار ہوتا ہے۔ جو کسی کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود اس میں گرتا ہے۔
 امریکا کے وزیر خارجہ پمپو نے ایران کو چند بار مدد کی پیشکش کی اس کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے خطاب میں انہیں جواب دیا کہ ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے آپ اپنے لوگوں کیلئے جو میڈیکل کی عدم سہولیات سے پریشان ہیں ان کی مدد کریں ۔ ایران کا انقلاب واقعا  پوری دنیا اورخصوصا یہاں کے لوگوں کیلئے بڑی نعمت ہے ایران نے اس وائرس  سے  جہادی طور پر جنگ کی ہے ۔ یہاں کی رضا کارانہ  فوج جو  یہاں پر بسیج  کے نام سے جانے جاتے ہیں نے بے حد شجاعانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر یہاں کے ہسپتالوں میں کام کیا ہے، لوگوں کے گھر جا جا کر انہیں مفت میں جراثیم کش ادویات اور ماسک بانٹے ہیں۔  
امریکا اور برطانیہ اس shadow politics پالیسی کے ذریعے اپنے دیرینہ مفادات کو پانے کیلئے  بہت سی حدیں پار کرنا چاہتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرونا وائرس، برڈ فلیو سے زیادہ خطرناک ہے بلکہ اس کی شرح اموات میں زیادہ فرق نہیں ہے تو کیونکر اس کی دوا جلد تیار کی گئی اور کرونا کی دوا تیار کرنے میں یہ لوگ تساہلی سے کام لے رہے ہیں ۔
    BBC کی رپورٹ کے مطابق کرونا کی دوائی اٹھارہ مہینے تک آمادہ ہو جائے گی ۔ اگرچہ یہ دوائی پہلے ہی بنائی جا چکی ہے ادھر دوسری جانب ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ وائرس جلد ہی معجزاتی طور پر ختم ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ بات مسلم نہیں ہے کیا پتا کہ یہ ایک اور سازش ہو دنیا کو تحقیق سے روکنے کیلئے کہ جس طرح چین نے مکمل طور پر اس وبا کو کنٹرول کیا ہوا ہے اسی طرح دوسرے ممالک بھی اس وائرس کو روکنے میں کامیاب ہوگئے تو امریکی مفادات حاصل نہیں ہوں گے۔
بہرکیف خداوند تعالی امریکا کی اس عالمی دہشت گرد رجیم کو کیفر کردار تک پہنچائے اور پوری انسانیت کو خدا اپنی رحمت کی آغوش میں رکھ کر اس منحوس وائرس کو دنیا سے جلد نابود کرے اور پوری دنیا میں امن و سلامتی قائم کرے ۔ آمین

رابطہ نمبر
00989927941087
Email: javeeddilnavi@gmail.com

 

کورونا وائرس; پردے کے پیچھے بڑی سازش کا آغاز (پہلا حصہ)

  • ۴۰۶

بقلم جاوید حسن دلنوی کشمیری
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:  چین کے ووہان شہر میں شروع  ہونے والے کورونا وائرس کو امریکی فوج نے پھیلایا جو وہاں پر عالمی فوجی کھیلوں میں شرکت کیلئے گئی ہوئی تھی جس میں امریکہ نے کھلاڑیوں  کے بھیس میں ایک تربیت یافتہ فوجی دستہ بھیجا تھا جنہوں نے خفیہ طور پر وہاں کے ایک بازار میں جا کر اس وائرس کو کھانے والی چیزوں میں وارد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ امریکا  کے فوجی کھلاڑی نہیں تھے بلکہ اسی خاص مشن کے لیے انہیں تربیت یافتہ بنا کے بھیجا گیا تھا۔ اس دوران امریکا کے ان جعلی فوجی کھلاڑیوں نے ایک تمغہ بھی حاصل نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کھلاڑی نہیں بلکہ جاسوس تھے جو اپنے اصل مقصد تک رسائی چاہتے تھے اور اس طرح بہت ہی تیزی سے اس وبا نے پھیلنا شروع کیا۔
 اس بات کا سنسنی خیز انکشاف حال ہی میں برطانیہ کے ایک معروف اخبار Independent نے  ایک مضمون کے ذریعے کیا ۔ اخبار کے مطابق  چین کے اقتصادی ڈھانچے کو عالمی سطح پر خراب کرنے کیلئے امریکا نے ایک بہت بڑے Biological war  کا آغاز کیا ہے ۔ جرمنی کے ایک جریدے نے بھی اس بات کا انکشاف کیا ہے  کہ یہ جراثیم برطانیہ کی فیکٹری میں بنایا گیا ہے  جسے سب سے پہلے زندانیوں پر آزمایا گیا تھا ،جس پر امریکا کے ایک دولت مند ترین شخص نے سرمایہ کاری کی تھی ۔ یہ وائرس ایک خاص طریقے کے DNA  کے ذریعے سے تیار کیا گیا ہے،  دوسری جانب ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ امریکا کا بنایا ہوا کارٹون The simpsons  جو آج سے سترہ سال پہلے بنایا گیا ہے جس میں اگر دقت سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ کارٹون  آج  کے اس کرونا  وائرس سے متعلق بنایا گیا ہے, کہ جس میں پروڈکٹس کو دوسرے ملکوں میں صادرات کر کے ایک مہلک بیماری کو پوری دنیا میں منتقل کیا جاتا ہے۔  مذکورہ کارٹون کو آپ نیٹ سے سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں، ادھر ٹرمپ  نے صدر بننے کے ساتھ ہی اعلان کیا تھا کہ انہیں اب اقتصادی جنگ چین سے کھیلنی ہوگی۔
 چین تجارت میں دنیا میں برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے جس کا مشرق وسطی میں کرونا وائرس کی  وجہ سے  اب برآمدات رکی ہوئی ہیں  اور تیس فی صد چین کی تجارت کا گراف نیچے کی طرف جا رہا ہے جو اس ملک  کے لئے بہت بڑا نقصان  تصور کیا جا رہا ہے، اگرچہ حال ہی میں چین نے وائرس کو کنٹرول کر کے عالمی تجارت میں واپسی کی ہیں، چین کی وزرات خارجہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے اور امریکا کو دھمکی بھی دی ہے کہ ان کے اس Bilogical war   کا جواب دیا جائے گا۔ اور کہا کہ انہیں باضابطہ طور پر اس کے ثبوت بھی ملے ہیں، امریکا چاہتا ہے کہ چین کے مقابلے میں اس وقت ہندوستان کو کھڑا کیا جائے تاکہ ان سے با آسانی اپنی منفعت لیتا رہے کیونکہ ھندوستان کی موجودہ حکومت نظریاتی طور پر امریکا اور اسرائیل کے بہت نزدیک ہیں لیکن حالیہ قرائن سے پتا چلتا ہے کہ چین کی قدرت کے آگے ہندوستان نہیں ٹک سکتا ہے،  واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکی رجیم، دہشت گرد تنظیم داعش کو بھی اسی لئے وجود میں لائی تھی تاکہ تیل سے مالا مال مشرق وسطی کو رام کرکے ان سے اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکے، لیکن ایران کی طاقتور فوج  کی حکمت عملی نے  خطے میں داعش کی  درندہ صفت حکومت جو پوری انسانیت کی سلامتی کے لئے خطرہ تھی کو پوری طرح سے خاتمہ کیا جس کا عندیہ خود شھید سلیمانی نے دیا تھا ۔
 امریکا نے  Bilogical war کا آغاز دوسری عالمگیر جنگ  سے ہی شروع کیا تھا۔ اس کے بعد اس انسانیت مخالف کام کو انجام دینے کے لئے کئی اپنے حریفوں کو جو  ان کے لئے آنکھ کا کانٹا تھے جسمیں کیوبا کے معروف آزادی پسند انسان ’فیڑل کاسترو‘ ، وینزویلا کے صدر ’یوگا شاویز‘ قابل ذکر ہیں، ان کو اسی war  سے  نشانہ بنایا ۔ دوسری جانب امریکا نے سارس ، ایڈس ، برڈ فلیو  ،لندن فلو وغیرہ وائرس کو  وجود میں لاکر وقتا فوقتا اپنے اقتصادی مقاصد حاصل کئے ۔ اگرچہ ان وائرسوں سے شرح اموات کرونا کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی لیکن امریکا کو ان وائرس  سے
اتنے فائدے حاصل نہیں ہوئے جتنے اب  اس جدید ترین وائرس '' کرونا '' سے حاصل ہو رہے  ہیں۔ کرونا  اصل میں اتنا  بڑا  وائرس نہیں ہے جسے انسان کو ڈرنے کی ضرورت ہے، مگر  ایک سوچے سمجھے پلان کے مطابق امریکا نے اپنے استعماری میڈیا کو بھرپور پیسہ دیکر اسے دنیا میں وحشی اور ڈراونا ترین وائرس  کے طور پر پیش کیا ۔ اگرچہ اس کی اموات کی شرح برڈ فلیو سے تقریبا مساوی ہے ۔ کرونا وائرس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ  80  سال سے اوپر عمر والے افراد کو22در صد  70  اور 80 کے درمیان 8  ، 60 سے 70 والے 3.6 اور50 سے نیچے عمر رکھنے والے افراد کی شرح اموات1 فیصد جبکہ  10  سال کے نیچے والے کمسنوں کی اموات تحقیق کے مطابق صفر درصد بتائی جاتی ہیں ۔
 امریکا  نے کرونا وائرس سے اپنے دیرینہ اہداف حاصل کرنے کے حوالے سے ایک بڑی سازش  کا آغاز کیا ہے ۔ جس میں خاص طور پر چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی کو روک لگانی ہے ۔ اگرچہ وہ ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ چین نے فوری  طور پر اور بڑی سرعت سے  اس وبا پر مکمل طور پر کنٹرول کر لیا ہے ۔ اور ووہان شھر سے اسے آگے پھیلنے سے روک دیا ہے ۔ دوسری جانب چین کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران جو امریکا کا سب سے بڑا حریف ہے کو اس وبا سے شکار کرنا چاہا ۔ امریکا نے ایران میں انقلابی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے کرونا  پارلمینٹ تک پہنچایا اور یہاں تک کہ چند بڑی انقلابی شخصیات کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا۔  بتایا جاتا ہے کہ ایران میں اس وباء کو دسمبر میں ہی وارد کیا گیا تھا  اور spray  کے ذریعے اس مہلک وبا کو عمومی مقامات میں پھیلایا گیا تھا۔ جسکا  ایران کو بعد میں پتا چلا اس دوران پچاس سے زیادہ اموات ایران میں ہو چکی تھیں لیکن اس وقت اسے برڈ فلیو کا نام دیا گیا اگرچہ وہ کرونا وائرس سے ہی واقع ہوئی تھیں۔ جس کے بعد 3  جنوری کو انہوں نے  ایران کے طاقتور جنرل قاسم سلیمانی کو بھی شھید کیا تاکہ بیک وقت یہ اس ملک کو ایک بڑے بحران کا شکار بنا سکیں۔
دوسری جانب ایران کے غم و غصے کو روکنے  کے لئے کرونا نے بڑا کام کیا کہ ایران نے امریکی فوج کو خطے میں نکال باہر کرنے کی ٹھان لی تھی، تحقیقات سے پتا چلتا ہے امریکا نے پوری دنیا کے اقتصاد کو خراب کرنا ہے اور خود کو دنیا میں سپر پاور کے طور پر باقی رکھنا ہے ، کیونکہ اس وقت امریکا کی اقتصادی ناو ڈوبنے پر ہے جو وہ کرونا وائرس سے بچانا ہی نہیں بلکہ اسے مضبوط بھی بنانا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بیماری سے 70  سال سے اوپر کے افراد کو بھی صفحہ ہستی سے ہٹانا مقصود ہے کیونکہ امریکا اب سبکدوش (ریٹائرڈ) لوگوں کو سوشل سروسز اور میڈیکل سہولیات وغیرہ دینے سے عاجز آ چکا ہے۔   

جاری

 

ملک کے موجودہ حالات اور ہندوستان کی تعمیر میں مسلمانوں کے کردار کو بیان کرنے کی ضرورت

  • ۴۴۹

بقلم سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ملک و قوم کے حالات جس سمت میں جا رہے ہیں  انہیں دیکھتے ہوئے ہم سب پر لازم ہے  وطن عزیز کی تعمیر میں  اپنے کردار سے کو اہل وطن کے سامنے پیش کریں  بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ہم سے ناواقف ہیں ، ہماری ملک کی خاطر دی جانے والی قربانیوں کو نہیں جانتے ،اور یہاں بات محض ناواقفیت کی نہیں ہے بلکہ مسلسل ایک ایسی  فکر بھی  کام کر رہی ہے جو ہماری تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کررہی ہے ، کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک قوم کی پوری تاریخ ، اسکے کارناموں اسکی تہذیب  کو نہ صرف منحرف ا نداز میں پیش کیا جا رہا ہے بلکہ  جہاں قربانیوں کا ذکر ہے وہاں جان بوجھ کر اسکی قربانیوںکو  نظر انداز کیا جا رہا ہے ، ایک قوم کی علمی و اقتصادی خدمات  کا باقاعدہ انکار کرنے کا رجحان پیدا ہو چلا ہے ، ہماری تاریخ کو اس انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گویا مسلمانوں کی حکومت کا دور  سامراجی دور تھا یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کی حکومت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی حکومت کو بھی سامراجی و بیرونی حکومت کے طور پر پہچنوانے کی کوشش کی جا رہی ہے  اور بالکل اس طرح پیش کیا جا رہا ہے جیسے  ہم نے ملک کی تعمیر میں کوئی حصہ ہی نہ لیا ہو  کوئی ایسا کام ہی نہ کیا ہو جس پر ہم فخر کر سکیں ،آزادی کی جنگ میں ہمارا کردار ہی نہ ہو  لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے ان پہلووں کو لوگوں کے سامنے لیکر آئیں جن سے ہمارے درخشان ماضی کا پتہ چلتا ہو جس سے ہماری قربانیوں کا پتہ چلے ،جب ہم اپنی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو ہمیں اندازہ ہوگا ہم کہاں تھے اور اب کہاں کھڑے ہیں اور اسی بنیاد پر ہمارے اندر مزید آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوگا ،اور ساتھ ہی ساتھ ہم اپنے آپ کو احساس کمتری سے بھی نکالنے میں کامیاب ہوں گے ۔
ہم نے جو کچھ ملک کو دیا ہے اسکی فہرست طولانی ہے  جسے اس مختصر تحریر میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن ضروری ہے کہ بہت ہی اختصار کے ساتھ کچھ ایسے اہم نکات کو بیان کیا جائے جسکے سبب لوگوں کو پتہ چل سکے کہ معاشرتی طور پر ہم نے ہندوستان سماج کو مستحکم کرنے میں کیا رول ادا کیا ہے  جیسے ملک کو چھوا چھوت اور طبقاتی اونچ نیچ سے نجات دلانے کی نتیجہ بخش کوشش کرنا ، یہ طبقاتی اونچ نیچ گرچہ اب بھی پائی جا رہی ہے لیکن اسے کم کرنے میں ہمارا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے ۔
اور یہ بات آج کے ہندوستان کے لئے بہت ضروری ہے کہ اسے معلوم ہو مسلمانوں نے  بھید بھاو کے ختم کرنے میں کیا رول ادا کیا ہے اور کتنا مثبت کردار ادا کیا ہے جسکے سبب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکا ہے ۔
وہ لوگ جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے  پورا ہندوستان طبقاتی نظام کی زنجیروں میں جکڑ رہا تھا ان لوگوں کو مل جل کر آگے بڑھنے کا حوصلہ  دینے والے طبقاتی نظام کی دیواروں کو گرانے والے مسلمان ہی ہیں یہ وہ چیز ہے جس سے ہم پسماندہ قوموں اور مستضعفین کو بھی اپنے ساتھ شامل کر سکتے ہیں  اور مل جل کر موجودہ طبقاتی شگاف کے خلاف آواز احتجاج بلند کر سکتے ہیں ۔

 

بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تزویری تعلقات

  • ۳۷۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: حالیہ برسوں اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں، ہندوستان کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ اسرائیل کے اعلی درجے کے دفاعی سسٹم اور فوجی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائے۔ ہندوستان ان ممالک سے رشتہ مضبوط کرنا چاہتا ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے اعتبار سے آگے ہیں اور چونکہ اسرائیل بھی ایک ترقی یافتہ ریاست کہلاتی ہے اس لیے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ اور پھر ہندوستان اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے کہ اسرائیل امریکہ کے نزدیک خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ اور اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا درحقیقت امریکہ سے قربت حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب سے اسرائیل بھی ایشیائی ممالک مخصوصا ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی توسیع کو اپنے خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سے قرار دیتا ہے۔ اس لیے کہ وہ ہندوستان کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ وزن دار ملک سمجھتا ہے اس لیے کہ پاکستان تنہا اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت کا مالک ہے اور اس پر دباؤ رکھنے کے لیے اسرائیل کا ہندوستان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا گویا اس کی مجبوری بھی ہے اور پھر پاکستان اور مسلمانوں کو دھشتگرد قرار دے کر اسرائیل آسانی سے ہندوستان کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بن گوریان کی ہندوستان کے بارے میں گفتگو آپ کو یاد ہو گی جس میں انہوں نے کہا تھا: ’’میرے خیال میں ہندوستان وہ بہترین جگہ ہے جہاں سے ہم مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کی بخوبی رہنمائی کر سکتے ہیں‘‘۔ بعض اسرائیلی محققین جیسے ’آبراہام سیگال‘ اور ’ہیری ایسریگ‘ اس بارے میں کہتے ہیں: ہندوستان اسرائیل کے نزدیک ایک عظیم اخروٹ کی حیثیت رکھتا ہے کہ اسرائیل نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اب اسے صرف توڑنا باقی ہے‘‘۔ (ابوالحسنی، ۱۳۷۷؛ ۴۴۰)
بھارت اور اسرائیل تعلقات پر تاریخی نظر
اگر چہ ہندوستان نے اسرائیل کو مستقل ریاست کے عنوان سے ۱۹۵۰ میں تسلیم کر لیا لیکن اس نے اسرائیل کے ساتھ سیاسی روابط قائم نہیں کئے۔ ہندوستان میں سرگرم سامراجیت مخالف تنظیمیں اس بات کے آڑے تھیں کہ بھارت اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔ ایک طرف سے ہندوستان کے مسلمان فلسطینی عوام کی حمایت کے خواہاں تھے اور دوسری طرف سے عرب ممالک بھی ناوابستہ تحریک کے ذریعے ہندوستان پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ اسرائیل کے قریب نہ جائے۔ لیکن ۱۹۶۲ میں بھارت چین جنگ کے بعد ہندوستان کو اپنی دفاعی قوت مضبوط کرنے کے لیے اسرائیل کی فوجی طاقت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت محسوس ہوئی، لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان ۱۹۹۲ تک سیاسی روابط محدود اور خفیہ رہے۔ آخر کار ۱۹۹۲ میں سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہندوستان نے اپنی نئی اسٹریٹجک پالیسیوں کے تحت ان تعلقات کو ایک نئی جہت دی اور صہیونی ریاست کے ساتھ سیاسی روابطہ کو وسیع اور علنی کر دیا۔ (ملکی، ۱۳۸۹؛ ۴۷)
۱۹۹۲ میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوتے ہی غیر معمولی حجم کے دوطرفہ تجارتی اور سکیورٹی معاہدے شروع ہو گئے اور حالیہ دنوں میں یہ روابط سکیورٹی تعاون، سیٹلائٹ سسٹم، پیشرفتہ میزائل، ایٹمی سرگرمیوں اور دیگر فوجی ساز و سامان کی فراہمی کے معاہدوں کی صورت میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اگر چہ ہندوستان اور اسرائیل کے سامنے پائے جانے والے خطرات ایک جیسے نہیں ہیں اور ان کا کوئی مشترکہ دشمن نہیں ہے اس کے باوجود دونوں ملک اپنے دفاعی سسٹم کو اپڈیٹ کرنے کی کوشش میں جٹے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے نزدیک اسرائیل جدید دفاعی سسٹم کو اپڈیت کرنے کے لیے ایک قابل بھروسہ ملک ہے اور اسرائیل کے لیے بھی ایشیا میں تزویری اعتبار سے بھارت ایک مستحکم اتحادی شمار ہوتا ہے۔
ہندوستان میں ہندو نسل پرستی کے زور پکڑ جانے اور بھارتیا جنتا پارٹی کے برسر اقتدار آنے سے بھارت و اسرائیل کے درمیان روابط ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے۔ مثال کے طور پر ۱۹۹۱، ۹۲ میں فوجی اور دفاعی تعاون کے حوالے سے تقریبا دو ملکوں کے درمیان لگ بھگ پچاس ملاقاتیں اور معاہدے ہوئے۔ یہاں تک کہ ہندوستان کی معیشتی مشکلات اور اسرائیلی ساخت کے ہتھیاروں کی نامرغوب کیفیت کے باوجود دونوں ملکوں میں بعض فوجی ساز و سامان جیسے ہلکے طیارے، ارجن ٹینک (مرکاوا) پریٹوی میزائل(جریکو ۱)، (جریکو ۲) نیز مشترکہ فوجی تحقیقات اور ٹیکنالوجی کا رد و بدل کیا گیا۔ (کلانتری، ۱۳۸۸؛ ۹)
چنانچہ اگر ہندوستان اور اسرائیل کے گہرے تعلقات اور اس کے ایران و ہند تاریخی روابط پر پڑنے والے اثرات کو مزید گہرائی کی نگاہ سے دیکھا جائے تو درج ذیل تین بنیادی سوالوں کے جوابات دینا ضروری ہوں گے:
۱؛ کیا حقیقت میں اسرائیل اور ہندوستان کے تعلقات تزویری ہیں؟
۲؛ اس حساسیت کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو ایران اور عرب ممالک تل ابیب و نئی دہلی کے روابط کی نسبت رکھتے ہیں ہندوستان کے اسرائیل کے ساتھ تزویری روابط بڑھانے کی وجوہات کیا ہیں؟
۳؛ کیا ہندوستان کا اسرائیل سے اسٹریٹجک روابط بڑھانے کا مقصد امریکہ سے نزدیک ہونا ہے؟
مذکورہ سوالات پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہندوستان علاقے میں خصوصا چین کے مقابلے میں بڑی طاقت بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہذا اسرائیل اس کے لیے فوجی ساز و سامان فراہم کرنے کے اعتبار سے بہترین آپشن ہے۔

 

نفسیاتی جنگ اور ہمارا دشمن

  • ۵۲۸

خیبر صہیون ریسرچ سینٹر: موجودہ دور میں سامراجی عناصر کا قوموں پر اپنا دبدبہ بنانے اور انہیں اپنی یلغار کا شکار بنانے کا ایک حربہ نفسیاتی جنگ ہے .
اپنے استعماری اہداف کے حصول کے لئے دشمن جو سناریو تیار کرتا ہے اور جس طرح اپنی پروپیگنڈہ مشینری کا استعمال کرتا ہے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ جس مہارت کے ساتھ دشمن ثابت کر کے اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لئے جو چال چلتا ہے اسے ہی نفسیاتی جنگ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
آمنے سامنے کی فزیکی جنگ کے بارے میں توسب جانتے ہیں اس کی تخریب کاریوں سے بھی واقف ہیں اس کے اسلحوں سے بھی آشنا ہیں لیکن نفسیاتی جنگ وہ ہے جس کے بل پر فیزیکلی جنگ پر بھی انسان غلبہ کر سکتا ہے ۔ آمنے سامنے کی جنگوں میں انسان سر زمینوں کو فتح کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے لیکن نفسیاتی جنگ میں ذہن و دماغ پر تسلط پیدا کیا جاتا ہے اور جب ذہن و دل قابو میں آ جاتے ہیں تو اب زمین پر قبضہ کوئی بڑی بات نہیں رہ جاتی ۔نفسیاتی جنگ کا آغاز یوں تو تمدن بشری کی ابتدا سے ہے لیکن ماہرین کے خیال کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اس طریقہ جنگ کو ایک خاص مقام حاصل ہوا ۔ نفسیاتی جنگ کے اپنے اصول و ضوابط اور اس کا ایک خاص طریقہ کار ہے جس پر کسی اور وقت گفتگو ہوگی لیکن وہ ایک اہم نکتہ جس کی وجہ سے نفسیاتی جنگ میں دشمن کو کامیابی ملتی ہے طرف مقابل کا جاہل ہونا ہوتا ہے ، جہالت کی بنیاد پر ہمیشہ ہی نقصان ہوا ہے اور اس قوم نے معیشتی ، معاشرتی ، اور سیاستی و قومی میدان میں ہمیشہ ہی نقصان اٹھایا ہے جو جاہل رہی یہی جہالت سبب بنتی ہے کہ نفسیاتی جنگ میں دشمن جس رخ پر چاہےقوم کو ڈھکیل کر اپنا الو سیدھا کرے ۔
نفسیاتی جنگ کا سب سے بڑا اسلحہ:
نفسیاتی جنگ کا سب سے بڑا اسلحہ میڈیا ہے اگرچہ پروپیگنڈہ کرنے کے دیگر وسائل جیسے کتاب، میگزین ، بروشرز، اور خاص کر سوشل میڈیا فیس بک و اٹس اپ سبھی اس مشینری کا حصہ بن جاتے ہیں اور انسے بوقت ضرورت بہت آسانی کے ساتھ اپنی بات لوگوں کے ذہنوں میں اتار دی جاتی ہے ۔
نفسیاتی جنگ ایک ایسا آزمودہ حربہ ہے جسے سامراج نے ہمیشہ ہی ترپ کے پتے کے طور پر استعمال کیا ہے چنانچہ ماہرین سیاست اس بات کو مانتے ہیں کہ نفسیاتی جنگ کے پیچیدہ اصولوں سے اگر کوئی واقف نہیں ہے تو بہت جلد اس جنگ میں دشمن سے زیر ہو کر ہاتھ اٹھا سکتا ہے اور یہ وہ حربہ ہے جس کے بل پر آپ کسی بھی مظلوم قوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا سکتے ہیں قاتل کو مقتول مقتول کو قاتل بنانا اس جنگ کے ماہرین کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے اور فلسطین کا وجود اسکا زندہ ثبوت ہے کہ کس طرح صہیونیوں نے ہلوکاسٹ کی کہانی گڑھ کر اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرتے ہوئے دنیا کی ہمدردیاں بٹوری اور کس طرح آج یہ لوگ فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دینے کے بعد بھی نفسیاتی جنگ کے بل پر خود کو بجا و حق پیش کر رہے ہیں ۔ نفسیاتی جنگ کا مقصد اپنے حریف و مخالف پر پروپیگنڈہ کے ذریعہ تسلط حاصل کرنا سازشوں کا شکار بنا کر اپنے مفاد کی خاطر استعمال کرنا ہے نت نئی سازشیں ، ٹی وی پر ایسے پروگرام جو خاص کر کسی ایک قوم کو ٹارگٹ کر رہے ہیں ہوں ، کسی مذہب کے مقدسات سے کھلواڑ ،حکومت کی جانب سے بغیر ایک قوم کی رائے جانے اس سے مشورہ لیا بغیر اسکے مذہب میں مداخلت کرتے ہوئے ایسے بل پیش کرنا جو یکطرفہ ہوں جبکہ باہمی گفت و شنید کے ذریعہ مسئلہ کا حل ممکن ہو یہ وہ خطرناک پوائنٹ ہیں جن سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے دشمن ایک قوم احساس کمتری میں مبتلا کر سکتا ہے ۔اس جنگ میں زبردستی کسے کو مارنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کسی بھی قوم سے کچھ لالچی لوگوں کو پکڑ کر انہیں کوئی چھوٹا موٹا منصب دیکر پوسٹ اور مقام کا لالچ دیکر درونی طور پر ایک ہی قوم میں سیاسی ،مذہبی اور علاقائی اختلافات ڈالا جا سکتا ہے اور جہاں اختلافات و آپسی تصادم ہوا وہاں بڑی سے بڑی قوم کی ہوا نکل جاتی ہے۔
ملک کی موجودہ صورت حال اور نفسیاتی جنگ:
ہمارے ملک ہندوستان میں جو مسلمانوں کی صورت حال ہے اسے دیکھ کر نفسیاتی جنگ کی شدت دشمن کے نت نئے حربوں کا جتنا اندازہ ہوتا ہے اتنا ہی اس بات کا بھی کہ ہمارے پاس اس نفسیاتی جنگ سے ابھرنے کے لئے کچھ نہیں ہے بلکہ ہمارے ہاتھوں میں زہریلے لالی پاپ تھما دئے جاتے ہیں مثلا فلاں حکومت میں فلاں قوم کی شراکت زیرو تھی اور ایک خاص حکومت میں مثلا ہر طر ف ایسے ناموں کی بارش ہے جن سے ایک خاص مسلک کی نمائندگی کا پتہ چلتا ہے اب ایسے میں ہم سوچتے ہیں کہ چلو موجودہ حکومت میں ہمارا منسٹر ہمارا نمائندہ تو ہے فلاں پارٹی میں ہمارے آدمی تو ہیں جبکہ ہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ان ہمارے اپنوں نے ہمیں کیا دیا ہے اور یہ کونسے اپنے ہیں کہ دیر و خانقاہ سے لیکر مندر و گرودواروں تک میں یہ وہی عمل انجام دیتے ہیں جس کے لئے اوپر سے انہیں کہا جاتا ہے ، یہ اگر اپنے ہی ہوتے تو اپنے ائمہ کی سیرت پر چل کر اپنوں کے لئے کچھ کرتے ۔
نفسیاتی جنگ کا ایک خطرناک رخ جو ہمارے یہاں چل رہا ہے وہ یہ ہے سوشل میڈیا پر اختلافی مسائل چھیڑ کر پوری قوم کو الجھا دیا گیا ہے رات کے نصف حصہ میں گروجی اپنا ایک چمتکار فیس بک پر ڈالتے ہیں جس کا تعلق نہ دین سے ہے نہ مذہب سے نہ قوم سے صبح تک ہزاروں کی تعداد میں لائیک سجدہ ریز نظر آتے ہیں اور کبھی ایسی متنازعہ بات واٹس اپ گروپ پر یا فیس بک پر ہوجاتی ہے کہ پورے ہفتہ اسی پر گفتگو ہوتی رہتی ہے اور باتیں ختم بھی ہو جائیں تو چیلے چپاٹے ختم نہیں ہونے دیتے ایک نیا شگوفہ چھوڑ کر سب کو پھنسائے رہتے ہیں اور قوم حاشیہ میں الجھی رہتی ہے ۔
یہ تو خیر آپسی طور پر گتھم گھتا کی بات تھی جہاں بے سود بحثیں ہوتی ہیں اور اس نفسیاتی جنگ میں دشمن زیادہ انرجی بھی نہیں لگاتا کسی ایک کو اس نے دوست کی چادر اڑھا کر ایک گروپ میں ڈالا ہوتا ہے اور بس اسکا کام ہو رہا ہوتا ہے …
جبکہ اس سے منظم طور پر جہاں کام ہوتا ہے وہاں کبھی ایک قوم کو مسلسل ہراساں کرنے کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور سوچے سمجھے طریقے اپنا کر ایسی باتیں پیش کی جاتی ہیں جنکے بل پر ہم اپنی کم تعداد کی بات کرتے رہیں اور جب بھی کچھ کرنے کی بات ہو غیرت ایمانی کی بات ہو تو ہم کہیں کہ ہماری تعداد بہت کم ہے ایسا ہوا تو یہ ہو جائے گا ویسا ہوا تو یہ ہو جائے گا ، ہمارا گھر بار لٹ جائے گا ہم کہیں کے نہیں رہیں گے ہمارے کھیت کھلیان تباہ و برباد ہو جائیں گے و۔۔۔ کبھی اس نفسیاتی جنگ میں ہمیں خوش کرنے کے لئے ایسے باتیں پھیلائی جاتی ہیں جن پر ہم خوش ہو جاتے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ خبر ہی جھوٹی تھی اس کے برخلاف کبھی ایسی خبر نشر ہوتی ہے جس سے ہم ڈر جاتے ہیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ خبر ہی کی کوئی اصلیت نہیں تھی

 

ہندوستان میں بڑھتی مذہبی منافرت اور ہماری ذمہ داری

  • ۴۷۸

بقلم سید نجیب الحسن زیدی


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اگر ہم صفحہ گیتی پر نظر ڈالیں تو ہمیں ملے گا کہ اس دنیا میں موجود۲۰۵ / ممالک میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر  محبت ، عزت تعاون و اشتراک کے ساتھ  رہ رہے ہیں اور تعاون و اشتراک کی وجہ بھی یہ ہے کہ  ایک دوسرے کے مزاج کو پہچانتے ہیں دینی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں اور قومی نفسیات کو جانتے ہیں  یہی سبب ہے مختلف مذاہب سے متعلق ہونے کے باوجود ایک ملک کے پرچم تلے  آئین میں دئیے گئے حقوق کی بنیادوں پر مل جل کر ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے نظر آتے ہیں.
کبھی کبھی ضرور ایسا ہو جاتا ہے کہ کوئی مذہب کے جنون میں گرفتار فرد دوسرے مذاہب کے لوگوں کو نشانہ بنا لے لیکن  اسکے لئے بھی ایسے قوانین موجود ہیں کہ اسکے جرم کی سزا اسے دیر یا زود مل جاتی ہے ، یہ محض دنیا  ہی کی بات نہیں ہے  بلکہ ایسے بہت سے اسلامی ممالک موجود ہیں جہاں  غیر مسلم عرصہ دراز سے جی رہے ہیں اور کوئی انہیں مذہب کی بنیاد پر نشانہ نہیں بناتا، افسوس کہ حالیہ کچھ برسوں میں اس ملک میں اقلیتوں پر ایک خوف  و ہراس کی کیفیت طاری ہے جہاں ہمیشہ مختلف مذاہب کے ماننے والے مل جل کر ہنسی خوشی رہتے آئے تھے، سوال یہ اٹھتا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں ہم کیا کریں کہ ملک بھی ترقی کرے اور مختلف مذاہب سے متعلق افراد بھی ملک کی ترقی میں حصہ ادا کریں اور کسی کے حقوق کو مذہب کی بنیاد پر نہ چھینا جائے۔
اسکا جواب یہ ہے کہ  پہلی منزل پر ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ آئین میں دئیے گئے حقوق کو جانیں اور دیکھیں کہ آئین نے ہمیں کیا تحفظ فراہم کیا ہے اور پھر اسی کی روشنی میں اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے آواز بلند کریں اور اگر ملک کی انتظامیہ آئین سے ہٹ کر کوئی فیصلہ مذہب کی بنیاد پر لیتی ہے تو اسے عدالت میں چیلنج کریں، نیز آئین ہی کی رو سے ہر اس فیصلہ کے خلاف مظاہرہ ہمارا حق ہے جس سے ہماری حق تلفی کی بو آتی ہےدوسری بات یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہم نے ملک کے لئے کیا کیا ہے اور کتنی قربانیاں ہم نے دی ہیں تاکہ بعض منفی پروپیگنڈوں کے ذریعہ  ہمارے خلاف  بے بنیاد پھیلائی گئی باتوں کا ہم جواب دے سکیں، کیا ہمارے لئے ضروری نہیں ہے کہ  اپنے غیر مسلم بھائیوں کو بتائیں کہ ہم نے  کلچر و تمدن ، علم و حکمت ، اور اقتصادی میدانوں میں اس ملک کو کیا دیا ہے ؟ یقینا اگر ہم اپنی خدمات صحیح طور پر لوگوں کے سامنے رکھنے میں کامیاب ہوں تو انسانی جذبہ کے تحت ہم بہت سے حریت پسند افراد کو اپنے  ساتھ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے  جو ہماری ہی طرح ہمارے حقوق کی بازیابی کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو تیار ہو جائیں گے جیسا کہ ابھی   شہریت کے متنازعہ قانون کو لیکر ہو رہا ہے۔
لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے خود اپنی خدمات سے واقف ہوں ہمیں پتہ ہو ہمارا ماضی کس قدر درخشاں رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہم منطقی انداز میں اپنی بات رکھ سکیں ، شک نہیں کہ سخت ترین حالات میں بھی اگر ہم جزوی اختلافات کو بھلا کر ایک وسیع النظر پلیٹ فارم تیار کریں گے تو آئین کی بالادستی کے محور تلے ہم بہت سے ان لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو ہماری طرح ہی ستائے ہوئے ہیں اور ان کا دم بھی ہماری ہی طرح اس زہریلی فضا میں گھٹ رہا ہے لیکن یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب ہم من و تو کے جھگڑوں سے باہر نکل کر مل جل کر عظیم مقصد کے لئے آگے بڑھیں ۔

 

کیا ڈین کونٹز نے 40 سال پہلے کورونا وائرس کی پیش گوئی کی تھی؟

  • ۳۹۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: حالیہ دنوں میں، امریکی ناول نگار ڈین کونٹز (Dean Koontz)  کے ناول "اندھیرے کی آنکھیں" کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے کہ اس نے 40 سال قبل ’’ووہان ۴۰۰‘‘ نامی کورونا وائرس کے پھیلنے کی پیش گوئی کی تھی۔
ڈین کونٹیز کا ناول ایک خیالی ناول ہے۔ کورونا وائرس آخر الزمان میں دنیا بھر میں بہت سارے لوگوں کو ہلاک کرنے والے آرماجیڈن وائرس (The Armageddon virus)  کی صنف میں سے ہے اور گزشتہ دہائیوں سے کئی فلمیں اور ٹیلی ویژن سیریز اور داستانیں اسی موضوع پر بنائی جا چکی ہیں۔  لہذا ڈین کونٹز نے جس موضوع کا انتخاب کیا وہ کوئی نیا موضوع نہیں ہے اور اس کی ایک طولانی تاریخ ہے۔
حالیہ دنوں میں ڈین کونٹیز کی مقبولیت کی دو وجوہات ہیں: ایک ، اس وائرس کے پھیلنے کا سال ۲۰۲۰ ہے، دوسری ’’ووہان ۴۰۰‘‘ کے نام کا انتخاب جو چین کا شہر ہے جہاں سے اس وقت یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا ہے۔
۲۰۲۰ آخری زمانے کے وائرس کے پھیلاؤ کا سال بھی کوئی ڈین کونٹز کی ایجاد نہیں ہے۔ بلکہ اس سے قبل بھی کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے آخری زمانے کے عنوان سے مختلف سال بیان کئے ہیں جن میں سے ڈین ڈیکسن امریکی منجمہ کا نام لیا جا سکتا ہے انہوں نے بھی ۲۰۲۰ کو آخری زمانے کا سال قرار دیا۔
’’ووہان ۴۰۰ وائرس‘‘ کے نام کا انتخاب بھی کوئی ڈین کانٹز کی ہی پیش گوئی نہیں ہے۔ ڈین کانٹز کی کتاب پہلی بار ۱۹۸۱ میں منظر عام پر آئی، یہ وہ زمانہ تھا جب رونالڈ ریگن کی صدارت کا آغاز ہوا اور امریکہ اور سوویت یونین کے دو بلاکوں کے درمیان زبردست سرد جنگ جاری تھی۔ امریکہ میں ’برائی‘ کو کمیونسٹ معاشرے سے نسبت دے کر اس کے بارے میں قابل توجہ فلمیں بنائی اور کہانیاں لکھی جا رہی تھیں۔ ڈین کونٹیز نے اپنی کتاب میں جو اپنے تخلص ’لی نکولس‘ کے نام سے شائع کی میں آخری زمانے کے وائرس کو سوویت یونین کی طرف منسوب کیا۔ وہ پہلے ایڈیشن میں اس کا نام ’گورکی ۴۰۰‘ رکھتے ہیں جو سوویت یونین کا اس دور میں اہم تحقیقاتی شہر تھا۔
ڈین کونٹز کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن ۱۹۸۹ میں شائع ہوا جس میں انہوں نے اپنے اصلی نام کا استعمال کیا۔ یہ سوویت یونین کے خاتمے کا دور تھا اور اس زمانے میں سوویت یونین سے خوف کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ لہذا ڈین کونٹز نے اس ایڈیشن میں وائرس کو ووہان ۴۰۰ کے نام سے بدل دیا۔ اور اس کا مرکز چین کا شہر ’ووہان‘ قرار دیا جو ۱۹۶۰ سے چین کا علمی اور تحقیقاتی شہر کہلاتا تھا۔ چین نے چونکہ اس دور میں مغرب پر قبضہ جمانے کی ابھی نئی پالیسیوں کا آغاز نہیں کیا تھا۔

 

قاسم سلیمانی زندہ ہیں صرف مادی زنجیروں سے رہا ہوئے ہیں: آیت اللہ طائب

  • ۴۰۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: دشمنوں نے الحاج قاسم سلیمانی کو شہید کر کے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ اگرچہ وہ اس شخص کی فراست اور ذہانت سے جان چھڑانا چاہتے تھے، لیکن ان کا یہ اقدام انتہائی غلط تھا۔ کیونکہ وہ شہادت کے مفہوم کو نہیں سمجھتے تھے، اور اگر وہ اس عظیم مفہوم کو سمجھتے تو اسلامی مجاہدین کو شہید نہیں کرتے۔
خداوند متعال کے حکم کے مطابق شہید "زندہ" ہے ۔ خدا فرماتا ہے: "«وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَاء.»(۱) جو راہ خدا میں قتل ہو جاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ البتہ ہم نے بھی لفظ ’’احیاء‘‘ کو اچھے سے درک نہیں کیا۔ لہذا ہمیشہ ’’بل احیاء‘‘ کے حوالے سے ایک مبہم تصویر ہمارے ذہنوں میں رہتی ہے۔ اگر یہ مفہوم قابل ادراک نہ ہوتا تو خداوند متعال اتنی واضح گفتگو نہ کرتا۔ حیات کا تصور تو ہمارے نزدیک معین ہے جو خداوند عالم فرماتا ہے کہ شہداء زندہ ہیں۔ اور «عِندَ رَبِّهِم یُرزَقونَ» (۲) اپنے پروردگار کے نزدیک رزق پاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم میں سے ہر کوئی خدا کی بارگاہ سے رزق حاصل نہیں کرتا؟ ہم سب بھی تو اپنے رب کا رزق کھاتے ہیں۔ «وَ مَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا» (۳) امام خمینی (رہ) فرماتے ہیں ’’عالم خدا کے حضور میں ہے، خدا کے حضور میں گناہ نہ کرو‘‘۔ خدا کے حضور کا مطلب یہی ہے کہ ہم سب ’’عند اللہ‘‘ موجود ہیں۔
وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَاء کی تفسیر
خداوند عالم کا یہ فرمان کہ شہداء زندہ ہیں کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شہداء جسمانی اعتبار سے زندہ ہیں؟ یا ان کی روح زندہ ہے؟ اگر خداوند عالم کے اس کلام سے شہداء کا جسم مراد ہے تو یہ صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ بہت سارے شہداء کے جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ بدن کا کوئی حصہ باتی نہیں رہتا کہ زندگی کا تصور کیا جا سکے۔ مجھے یاد ہے جنگ کے دوران جب شہیدوں کے پاس گولے پڑتے تھے تو ان کا بدن اس قدر ٹکڑے ٹکڑے ہوتا تھا کہ جمع کرنا ممکن نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اگر مراد شہیدوں کی روح ہے، روح تو سب کی زندہ رہتی ہے، مگر جو شہید نہیں ہوتے ان کی روحیں مر جاتی ہیں؟ روح کو تو موت نہیں آتی۔ عالم برزخ ارواح کی زندگی کا عالم ہے روح کو موت نہیں آتی۔
پس شہداء کو کون سا امتیاز حاصل ہے جو خداوند عالم کے پیش نظر ہے؟ خداوند عالم یہ بھی فرما سکتا تھا کہ شہید کی روح ایک خاص طرح کی زندگی کی حامل ہے۔ زندہ اور مردہ شخص میں فرق یہ ہے کہ زندہ افراد تاثیر گزار ہوتے ہیں لیکن مردہ نہ موثر ہوتے ہیں نہ متاثر۔ تاثیر و تاثر در حقیقت روح سے متعلق ہے۔ لیکن اس دنیا میں اگر کوئی روح موثر واقع ہونا چاہے تو اسے جسم کی ضرورت ہے، جب تک جسم اس کے اختیار میں رہتا ہے کہ روح موثر و متاثر واقع ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جہاد اس وقت ممکن ہے جب انسان کا بدن اس کے اختیار میں ہو۔
جب بدن انسان سے چھن جائے تو اس انسان کی کوئی تاثیر باقی نہیں رہتی۔ لہذا زندہ وہ ہے جو کوئی موثر اقدام انجام دے۔ اور مردہ وہ ہے جو کوئی اقدام نہ کر سکے کوئی تاثیر نہ دکھا سکے۔ عام لوگوں کا تصور یہ ہے کہ جو اپنی موت مرتا ہے اس میں اور جو راہ خدا میں شہید ہوتا ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، عام انسانوں جو فطری موت مرتے ہیں اور شہداء جیسے شہید بہشتی، شہید مطہری اور شہید قاسم سلیمانی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
خداوند عالم اس فرق کو واضح کرنے کے لیے شہیدوں کو زندہ کہتا ہے۔ وہ شخص جس نے راہ خدا میں جہاد کیا اور اپنے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا وہ دوسروں کی طرح نہیں ہے، یعنی وہ شہادت کے بعد بھی اثرانداز ہوتا ہے اگر چہ شہید نے اپنا جسم راہ خدا میں دے دیا لیکن خدا اسے ایسا رزق دیتا ہے جس رزق کے واسطے وہ کائنات پر موثر واقع ہوتا ہے۔
ہم اسی وجہ سے قائل ہیں کہ دشمن نے ایک بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے امریکیوں نے ایک بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔
حالیہ برسوں میں، دشمن نے ملت اسلام اور اسلامی نظام پر بہت کڑی ضربت لگانے کی کوشش کی ہے لیکن جو افراد اس دوران شہید ہوئے ہیں وہ حقیقت میں مرے نہیں ہیں۔
اگر چہ دشمن یہ تصور کر رہا ہے کہ شہید بہشتی، شہید رجائی کو امت اسلامیہ سے چھین لیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ دشمن نے اپنی ان حرکتوں سے اسلام کی خدمت کی ہے۔
دوسرے لفظوں میں شہید اپنی شہادتوں سے قبل، جو مجاہدت کرتے ہیں جو خدمات انجام دیتے ہیں وہ اپنے معمولی بدن اور مادی آلات کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ یعنی ضروری ہے کہ قاسم سلیمانی مادی آلات کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کریں چونکہ جسم محدود ہے۔
جب دشمن قاسم سلیمانی کے جسم کو مٹاتا ہے تو سوچتا ہے کہ اسے مٹا دیا گیا، لیکن قرآن کریم کی تعبیر کے مطابق، قاسم سلیمانی زندہ ہیں اور اس رزق کے واسطے جو خداوند عالم کی طرف سے انہیں مل رہا ہے اس دنیا میں سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں بغیر اس کے کہ انہیں کسی بدن کی ضرورت پڑے۔
دشمن نے آپ کو شہید کر کے یہ سوچا کہ اس اقدام سے وہ اس عظیم مرد سے محفوظ ہو جائے گا، لیکن دشمن کے اس اقدام کا نتیجہ الٹا ہو گیا، اور بہت ساری کامیابیاں اسلام کو نصیب ہوئی ہیں۔ لہذا بغیر کسی شک و شبہہ کے قاسم سلیمانی کی شہادت انقلاب، اسلام اور مظلومین عالم کی کامیابی میں بے حد موثر واقع ہو گی۔