عراق اور شام میں داعش “بھڑوں کا گھونسلا” نامی آپریشن کی پیداوار

  • ۵۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: افسوسناک ہوگی یہ بات ان کے لئے جنہوں نے گذشتہ سات سالہ عرصے میں داعش کے لئے سب کچھ کیا، اور اس کے لئے نعرے لگائے، اس کی حمایت کی اور اس کو  اسلام کی نمائندہ تنظیم گردانا، کیونکہ داعش اسلام کی نمائندہ تنظیم نہیں بلکہ امریکی، برطانوی اور یہودی خفیہ ایجنسیوں کی پیداوار تھی۔
جب بھی کہیں ان کی شکست کی خبر آئی بالخصوص جنوبی ایشیا میں صف ماتم بچھ گئی اور داعش مار قوتوں پر اسلام دشمنی کے الزامات لگائے گئے، جبکہ داعش اسلام کی نمائندہ تنظیم نہیں تھی لیکن اگر پھر بھی یہ لوگ اس کو اسلام سے جوڑتے ہیں تو پھر انہیں اپنے “اسلام” کا جائزہ لینا ہوگا۔۔۔۔ کیونکہ شک نہیں ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور یہودی ریاست نے بھی اس کو اسلامی ریاست کا نام دیا تھا یا یوں کہئے کہ انھوں نے “اسلام کی نئی تعریف” نکالی تھی اور بےشک داعش کی حقیقت جان کر بھی اس کو اسلامی تنظیم قرار دینے والے اسی اسلام کے تابع ہونگے جو “بھڑوں کا گھونسلا” نامی کاروائی سے برآمد ہوا تھا۔ شیطان یقینا خدا اور رسول کا نام لے کر اور ان کے احکامات کے نفاذ یا ان کی خوشنودی کے حصول پر زور دے کر مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ انگیزی کرتا ہے۔
ایڈورڈ اسنوڈن (Edward Snowden) (1) کو کون نہیں جانتا جس نے امریکہ کی بہت ساری خفیہ دستاویزات شائع کردیں اور اس کی خفیہ نگرانیوں اور ریشہ دوانیوں سے پردہ اٹھایا۔ اسی جناب اسنوڈن نے ۲۰۱۴ع‍ میں این ایس اے ((National Security Agency) کی وہ دستاویز بھی شائع کردی جس سے ثابت ہوا کہ داعش کو یہود و نصاری (امریکہ اور اسرائیل) نے بنایا تھا۔
ڈیریک سانگ (Derek Tsang) ایک رپورٹ کے ضمن میں اسنوڈن کے انکشافات کی طرف اشارہ کیا ہے اور لکھا ہے: ایڈورڈ اسنوڈن نے این ایس اے کی دستاویز فاش کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بقول “عراق اور شام کی اسلامی حکومت” (داعش) کو امریکہ اور اسرائیل (یہودی ریاست) نے تشکیل دیا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “حیرت کی بات نہیں ہے کہ دیکھا جائے کہ اسنوڈن کا نام اس مشہور تصور سے جوڑا جائے کہ امریکہ اور یہودی ریاست نے داعش کی تخلیق کی ہے۔ ۱۶ جولائی ۲۰۱۴ع‍ کو بحرین کے گلف ڈیلی نیوز نے رپورٹ دی کہ ایڈورڈ اسنوڈن نے فاش کیا ہے کہ برطانوی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں اور اسرائیلی موساد نے مل کر کام کیا اور مل کر داعش کی بنیاد رکھی۔ اس کاروائی کا نام ان کے کہنے کے مطابق “بھڑوں کا گھونسلا” “Hornet’s Nest” تھا۔ اور حال ہی میں ۱۸ا اگست ۲۰۱۸ع‍ کو فلسطینی اتھارٹی نے اصرار کیا ہے کہ داعش نے امریکہ اور اسرائیل کی صہیونی سازش سے جنم لیا ہے۔ اسی اثناء میں امریکہ نے [بظاہر] عراق میں داعش پر ایک ہفتے سے مسلسل بمباری کرتا رہا ہے اور یہ رویہ اس دعوے کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ نہیں ہے۔
لکھاری نے ان معلومات کو محض الزام قرار دیا ہے اور اوباما کی ہدایت پر ابوبکر البغدادی کی رہائی کو بھی جھٹلایا ہے لیکن حقیقت آج ۲۰۱۴ کی طرح غبارآلود نہیں ہے، ہلیری کلنٹن کی کتاب “ہارڈ چوائسز” (Hard Choices) 2014ع‍ میں شائع ہوئی تھی جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ داعش کو منوانے کے لئے انہیں ۱۲۰ ممالک کے دورے کرنا پڑے ہیں؛ سنہ ۲۰۱۶ع‍ میں انتخابات انجام پائے ہیں، جس میں ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو طعنے دیتے ہوئے کہا تھا کہ “آپ کے صدر بارک اوباما نے داعش کو تخلیق کیا ہے” اور ۲۰۱۷ع‍ اور ۲۰۱۸ع‍ میں داعش کے ہزاروں درندوں کو عراق اور شام سے اکٹھا کرکے نجات دلا کر، لیبیا، افغانستان اور یمن پہنچایا اور جنگ کے دوران بھی امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے داعش کو امداد پہنچائی؛ داعشیوں کو یہودی ریاست کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں بہم پہنچائی گئیں اور دنیا نے یہ سب دیکھ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ ایڈورڈ جوزف اسنوڈن (Edward Joseph Snowden) (21 جون، ۱۹۸۳ ء) سابق مرکزی انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ملازم اور ریاستہائے متحدہ کی حکومت کے سابق ٹھیکیدار ہیں جنہوں نے ۲۰۱۳ میں قومی سلامتی ایجنسی (National Security Agency [NSA]) کی انتہائی خفیہ معلومات کو فاش کردیا۔
ان کے انکشافات نے متعدد عالمی نگرانیوں کے پروگراموں کو طشت از بام کیا جن میں بہت سے پروگراموں پر کام کی ذمہ داری این ایس اے نیز خفیہ اداروں کے “پنج چشمی اتحاد” (Five Eyes Intelligence Alliance) کے پاس تھی جن کو مختلف ٹیلی مواصلات کمپنیوں اور یورپی حکومتوں کا تعاون حاصل تھا۔ سنہ ۲۰۱۳ع‍ میں اسنوڈن کو این ایس نے اپنے ٹھیکہ دار بوز ایلن ہیملٹن (Booz Allen Hamilton) نے بھرتی کیا جبکہ اس سے قبل وہ ڈیل (Dell) اور سی آئی میں کام کرتے رہے تھے۔ وہ ۲۰ مئی کو ہاوائی میں این ایس اے کے دفتر سے نکل کر ہانگ کانگ پہنچے۔ جون میں گلین گرینوالڈ (Glenn Greenwald)، لارا پوئٹراس (Laura Poitras) اور ایوان مک اسکیل (Ewen MacAskill) نامی صحافیوں سے مل کر ہزاروں خفیہ دستاویزات ان کے حوالے کردیں۔ گارڈین اور واشنگٹن پوسٹ میں اسنوڈن کا فاش کردہ کچھ مواد شائع ہونے کے بعد انہیں بین الاقوامی شہرت ملی اور زیادہ تر خفیہ دستاویزات نیویارک ٹائمز اور جرمن اخبار “‘دیر اسپیگل” (Der Spiegel) نے شائع کردیں۔
بقلم فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

امریکہ میں انسانی حقوق کی وسیع پامالی

  • ۷۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکہ دنیا بھر میں اپنا تسلط جمانے کے لئے انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں وغیرہ کی پامالی کے دعوے کرتا ہے اور دوسرے ملکوں پر الزام دھرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ کچھ خودمختار ممالک اور بعض انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے امریکہ میں انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی پامالی کے بارے میں بھی کبھی کبھی کچھ تنقید آمیز باتیں سنائی دیتی ہیں گوکہ منفعل دنیا اپنی صفائیاں پیش کرتے کرتے امریکی دنیا کی خوشنودی میں اس قدر مصروف ہے کہ اسے امریکیوں کے ہاتھوں انسان کی تذلیل کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کا کردار ہم سب کے سامنے ہے، کبھی تو لگتا ہے کہ یہ عالمی ادارہ امریکہ کی غلامی کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے جیسا کہ بہت سے سیاسی اور عسکری امور میں دیکھا جاسکتا ہے؛ لیکن امریکہ کے اندر انسانی حقوق کی حالت اتنی نازک ہوچکی ہے کہ امریکہ اور یورپ کی جارحیتوں کے لئے راہ ہموار کرنے والے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کو بھی اپنی رہی سہی ساکھ کے بچاؤ کے لئے، بولنا پڑ رہا ہے۔
لندن میں تعینات انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل (Amnesty International) کی ۲۰۱۶ع‍ کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں خاتون قیدیوں کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے بیان کرتی ہے کہ خاتون قیدیوں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے پہلا ملک امریکہ ہے۔
سب سے زیادہ قیدی خواتین کس ملک میں ہیں؟
سنہ ۲۰۱۶ع‍ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی آخری سالانہ رپورٹ کے ضمن میں دنیا بھر میں خاتون قیدیوں کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ دنیا بھر میں خاتون قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے امریکہ اپنی آبادی کے پیش نظر پہلے درجے پر “فائز” ہے۔
بعض بین الاقوامی ادارے اور خودمختار ممالک عرصہ دراز سے ناقابل انکار دستاویزات پیش کرکے امریکہ میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں لیکن منفعل دنیا اپنے اوپر لگے الزامات کی صفائیاں پیش کرتے کرتے امریکی دنیا کی خوشنودی میں اس قدر مصروف رہی ہے کہ اسے امریکیوں کے ہاتھوں انسان کی تذلیل کے بارے میں سوچنے تک کی فرصت ہی نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ دو پہلؤوں سے لیا جاسکتا ہے:
اندرونی لحاظ سے پناہ گزینوں، سرخ فاموں، سیاہ فاموں، زرد فاموں، غرباء اور قیدیوں کے حقوق کی پامالی، جیلخانوں کی حالات و کیفیات، فوجداری قوانین، ملزموں پر پولیس کا تشدد وغیرہ؛ اور بیرونی لحاظ سے جیسے: دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت، دوسرے ممالک پر جارحیت، جیسے: پاکستانی، شامی، افغانی، یمنی اور عراقی عوام پر ڈرون حملے، سائبر حملے، خودمختار ممالک بالخصوص ایران کے عوام پر ظالمانہ معاشی پابندیاں، القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد ٹولوں کی دیکھ بھال اور حمایت وغیرہ۔
دوسرے ممالک پر انسانی حقوق اور انسان دوستانہ اقدامات کی دشمن ریاستوں کی جارحیتوں کی حمایت جیسے: فلسطینیوں اور مقبوضہ فلسطین کے پڑوسی ممالک پر حمایت قابض اور غاصب یہودی ریاست کی جارحیتوں کی حمایت، سعودی ریاست کی یمن پر جارحیت کی حمایت، انسانی حقوق کے کنونشنوں میں عدم شمولیت یا بعض بین الاقوامی مفاہمت ناموں سے علیحدگی۔
اس تحریر میں امریکہ میں سنہ ۲۰۱۵ع‍ اور سنہ ۲۰۱۸ع‍ کے درمیان انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کو انسانی حقوق کے رپورٹروں اور ماہرین سمیت بین الاقوامی ماہرین، نیز اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کی آراء اور رپورٹوں کی روشنی میں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حصۂ اول: امریکہ کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزی
الف) پناہ گزینوں کے حقوق کی پامالی
انسانی حقوق کے خصوصی کمشنر زید رائد الحسینی، نے ۷ مارچ سنہ ۲۰۱۸ع‍ کو انسانی حقوق کونسل کے سینتیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مجھے امریکہ کی جنوبی سرحدوں پر پناہ گزینوں کی نگہداشت کی صورت حال کے بارے میں ملنے والی رپورٹوں کو دیکھ کر شدید صدمہ ہوا۔ اطفال کو نامناسب حالات، شدید سردی میں والدین سے دور رکھا جارہا ہے۔ مدتوں قبل قانونی دستاویزات کے حامل پناہ گزینوں کو گرفتار کرکے ملک سے نکال باہر کرنے جیسے اقدامات میں اچانک اضافہ ہوا ہے، خاندانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جارہا ہے، اور امریکہ کی حکومت میں مرکزی امریکہ کے پناہ گزینوں کی پناہ کو منسوخ کر رہی ہے۔
امریکی انسانی حقوق کے ادارے “ہیومین رائٹس واچ” نے بھی بعض امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا: ٹرمپ نے بعض مسلمان ممالک کے باشندوں کی امریکہ آنے پر پابندی لگائی ہے، پناہ گزینوں کے خلاف سختگیرانہ پالیسیاں نافذ کررہے ہیں؛ اور بچوں کو جبر و ستم کے ساتھ والدین سے الگ کرتے ہیں، انہیں نہایت افسوسناک صورت حال میں رکھا جاتا ہے۔ بطور مثال مرکزی اور جنوبی ۲۵۰۰ بچے ـ جو اپنے والدین اور اہل خانہ کے ساتھ میکسیکو کی سرحد سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے ـ کو امریکی سرحدی افواج نے والدین سے جدا کرکے “پنجروں (cages) میں منتقل کیا، جن میں سے ۱۰۰ سے زائد بچے چار سال سے کم عمر کے تھے۔
امریکی یہ سب ایسے حال میں کررہے ہیں کہ عالمی قوانین پناہ گزینوں کی حمایت کرتے ہیں اور ممالک کے مناسب سلوک کا پابند بناتے ہیں۔
عالمی عدالت انصاف (International Court of Justice) “پناہ گزین” یا “مہاجر” کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: “پناہ گزین (یا مہاجر) وہ ہے جو کسی حکومت کی طرف سے مطلوب ہے اور دوسرا ملک اس کی حمایت کردیتا ہے”۔
انسانی حقوق کے اعلامیے کے قانون کی دفعہ ۱۴ میں مقرر ہوا ہے کہ “ہر کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ تعاقب، شکنجے، تشدد اور آزار و اذیت سے بچنے کے لئے پناہ تلاش کرے اور دوسرے ملک میں پناہ حاصل کرے”۔
سنہ ۱۹۵۱ع‍ کے کنونشن کے بعض دفعات میں پناہ گزینوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے:
اس قانون کے دفعہ نمبر ۳ میں حکومتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کے ساتھ مختلف مسائل میں کسی بھی قسم کے امتیازی رویے روا رکھنے سے پرہیز کریں۔
دفعہ نمبر ۴ میں مذہبی اعمال انجام دینے سمیت پناہ گزینوں کے لئے مختلف قسم کی آزادیاں قرار دی گئی ہیں۔
دفعہ نمبر ۷ میں روزگار کو پناہ گزینوں کا حق سمجھا گیا ہے۔
دفعہ نمبر ۱۷ اور ۱۸ میں پناہ گزینوں کے انسانی حقوق کے بارے میں سفارشات کی گئی ہیں۔
دفعہ نمبر ۲۶ میں پناہ گزینوں کے لئے نقل و حرکت اور آمد و رفت کی آزادی کے سلسلے میں سفارشات دی گئی ہیں۔
اور اسی طرح کی دیگر دفعات، اور تمام ممالک کا فرض بنتا ہے کہ پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی اور مناسب برتاؤ روا رکھیں۔
ب) جیلخانوں کی صورت حال اور قیدیوں کے حقوق
الحسینی نے اپنی رپورٹ میں کہا: میں امریکی حکومت کی طرف سے خلیج گوانتانامو میں کم عمر لڑکوں کے قید خانوں کی بندش کے منصوبے پر عملدرآمد روکے جانے اور ان قیدخانوں میں قیدیوں کے لئے مقدمہ چلائے بغیر سزاؤں کے تعین کی وجہ سے فکرمند ہوں جہاں قیدیوں کو غیر انسانی حالات میں رکھا جاتا ہے اور یہ اقدام انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
امریکہ میں ہر سال ۱۲ لاکھ افراد کو قید کیا جاتا ہے اور رپورٹوں کے مطابق پوری دنیا میں [آبادی کے تناسب سے] قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد امریکہ میں ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ۵ ستمبر ۲۰۱۶ع‍ کو اپنی آخری رپورٹ میں امریکی جیلوں میں خواتین کی صورت حال کے بارے میں واضح کیا ہے کہ امریکی آبادی کے تناسب سے، خاتون قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی امریکہ پہلے نمبر پر ہے۔ امریکہ کی خواتین کی آبادی دنیا کی خواتین کی آبادی کے ۵ فیصد کے برابر ہے لیکن دنیا بھر کی تمام خاتون قیدیوں کا ۲۳ فیصد حصہ امریکی جیلوں میں بند ہے۔
سی این این نے ۵ ستمبر ۲۰۱۷ع‍ نے امریکی قیدخانوں میں خاتون قیدیوں کی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ میں قید خواتین کی اکثریت کا تعلق غیر سفید فام نسلوں سے ہے۔
سی این این کی رپورٹ میں بیان کیا گیا: امریکی حکومت نے عورتوں کے حقوق کو نظرانداز کیا ہے اور ان کے مسائل کو وہ بہت کم توجہ دیتی ہے۔ عورتیں مالی لحاظ سے تنگ دست ہیں اور قیدخانوں میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔ خواتین اپنے بچوں سے بہت دور ہیں اور یہ رویہ خاندانی ادارے پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔
پ) غرباء اور مساکین
اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر فلپ جی آلسٹن (Philip G. Alston) نے آلاباما، جارجیا، مغربی ورجینیا اور واشنگٹن ڈی سی میں اپنی تحقیقات کے بعد بیان کیا: اگرچہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا امیر ملک ہے لیکن اس ملک کی ۴۰ فیصد آبادی غربت میں مبتلا ہے۔ ریاست آلاباما میں آنتوں کے طفیلی کیڑے بہت عام ہیں کیونکہ گھروں کے ساتھ بہت زیادہ کوڑا کرکٹ جمع رہتا ہے۔ میں نے لاس اینجلس میں بہت سارے انسانوں کو دیکھا جو صرف زندہ رہنے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں۔
آلسٹن نے کہا: میں نے سنا ہزاروں انسان، جو مقروض ہونے کے خطرے کا سامنا کررہے ہیں، صرف اس لئے ـ ارادی طور پر ـ پہلے سے خبردار نہیں کیا جاتا کہ جن مقروض افراد کے پاس ادائیگی کے لئے رقم نہ ہو انہیں جیلخانوں میں بند کیا جائے، ان کے اموال اور املاک کو ضبط کیا جائے اور ریاستی خزانہ بھر جائے۔
انھوں نے مزید کہا: میں نے سنا کہ منشیات کی وجہ سے موت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور آٹھ امریکیوں میں سے ایک شخص غربت و افلاس میں زندگی بسر کررہا ہے اور یوں امریکی غریبوں اور مفلسوں کی تعداد چار کروڑ افراد تک پہنچ چکی ہے۔
سنہ ۲۰۱۶ع‍ کے صدارتی انتخابات کے نامزد امیدوار اور ڈونلڈ ٹرمپ کے رقیب، سینیٹر برنی سینڈرز (Bernie Sanders) نے مئی ۲۰۱۶ع‍ کو اعتراف کیا کہ صحت اور حفظان صحت نیز شدید غربت کی وجہ سے امریکہ کے بعض علاقوں میں متوقعہ عمر کی شرح میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔
ت)  غیر سفید فاموں کے حقوق کی صورت حال
امریکی ویب گاہ “لاپروگریسیو” (laprogressive[.]com) نے اپنی ایک رپورٹ میں سیاہ فام قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں لکھا: امریکی جیل خانوں میں سیاہ فاموں کی تعداد ان سیاہ فاموں کی تعداد سے تجاوز کرگئی ہے جنہیں سنہ ۱۸۵۰ع‍ کی خانہ جنگی میں اور اس سے قبل کے برسوں میں، غلام بنایا گیا تھا اور امریکہ کے سیاہ فام اکثریتی علاقوں میں ممکن ہے کہ ہر ۵ سیاہ فاموں میں سے چار افراد اپنی زندگی میں ایک یا کئی بار مختلف الزامات میں گرفتار کئے گئے ہوں یا حتی کہ عدالتوں کے نظام میں الجھ گئے ہوں۔ اس المناک صورت حال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پولیس اور عدالتی نظام کی تمام سطوح میں سیاہ فاموں کے ساتھ شدید قسم کا نسلی امتیاز رائج ہے۔
ج) پولیس کا رویہ اور سماجی سلامتی
سابق امریکی وزیر خارجہ اور سنہ ۲۰۱۶ع‍ کے انتخابات میں ٹرمپ سے ہارنے والی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے اپنی انتخابی مہم میں کہا کہ ہر روز امریکہ کے مختلف علاقوں میں کم از کم ۹۰ افراد گولی لگنے سے مارے جاتے ہیں اور یوں امریکہ میں ہر سال گولی لگنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۳۰۰۰۰ تک پہنچتی ہے اور یہ تعداد ان ہلاک شدگان کے سوا ہے جنہیں پولیس گولی مار کر ہلاک کرتی ہے؛ بطور مثال سنہ ۲۰۱۶ کے ابتدائی تین مہینوں میں پولیس نے گولی مار کر ۲۵۶ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ [اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے]۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امریکی فوج کی طاقت کا سپنا چکنا چور

  • ۷۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: سابقہ رپورٹوں میں ایسے بہت سے معیاروں کا تذکرہ کیا گیا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی طاقت مختلف شعبوں میں انحطاط اور زوال سے دوچار ہے؛ تاہم شاید اہم ترین معیاروں میں سے ایک فوجی طاقت ہے جو دنیا بھر میں امریکی بالادستی کا جدائی ناپذیر جزء ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ملک کی فوجی طاقت دوسرے اشاروں سے کہیں پہلے، اپنی اثرگذاری میں ناقابل یقین تنزلی دکھا چکی تھی۔
لاطینی امریکہ میں قتل عام
امریکی حکومت جو برطانوی سامراج سے آزاد شدہ ۱۳ ریاستوں پر مشتمل تھی  نے اپنے قیام کے آغاز ہی سے کوشش شروع کر دی کہ جبر کی طاقت سے فائدہ اٹھا کر فرانسیسیوں کے زیر تسلط علاقوں پر قبضہ کرے اور امریکہ کے اصل مالکین ـ یعنی سرخ فام باشندوں ـ کے باقیماندہ علاقوں کو غصب کرکے اپنی عملداری کو وسعت دے۔ برطانیہ اور فرانس کے زیر تسلط علاقوں میں امریکی طاقت کے استحکام کے بعد اس ملک نے پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیتوں کا آغاز کیا۔
سرحد پار امریکی جارحیتوں کا سب سے پہلا نشانہ امریکہ کا پڑوسی ملک میکسیکو ہے۔ یہ ملک انیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ کے ساتھ اپنی جنگ کے دوران سان فرانسسکو، ٹیکساس اور کیلیفورنیا سمیت اپنے بہت وسیع رقبے کو امریکہ کے حوالے کرنے پر مجبور ہوا اور میکسیکو کے یہی مقبوضہ ممالک بعد میں امریکہ کی طاقت اور دولت کا اصل ذریعہ بنے۔ میکسیکو کے بعد لاطینی امریکہ کے دوسرے ممالک کی باری آئی۔
باوجود اس کے کہ مونرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine) کے مطابق، امریکہ کا ارادہ نہیں تھا کہ لاطینی اور شمالی امریکی علاقے سے باہر کسی ملک میں مداخلت کرے، لیکن لاطینی امریکی ممالک کو امریکہ کی طرف سے بدترین جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا؛ پورٹو ریکو (Puerto Rico) پر حملہ، ہیٹی (Haiti) پر حملہ، کیوبا پر حملہ اور اس کے بعض علاقوں پر قبضہ، نیز پاناما پر حملہ کرکے نہر پاناما کی تعمیر لاطینی امریکہ میں امریکہ کی اہم فوجی مہمات ہیں۔ ان امریکی جارحیتوں کا مقصد علاقے پر یورپی ممالک کے تسلط کا سد باب کرنا اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے ایک خصوصی ـ بلاشرکت غیرے ـ تجارتی علمداری فراہم کرنا تھا۔
اس تجارتی علاقے کی ترقی سے امریکیوں کا مقصد، ریاست ہائے متحدہ کے تجارتی راستے کو چین تک پھیلانا تھا۔ کیونکہ چین امریکی تاجروں کے منافع بخش نظام مراتب میں بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ امریکیوں نے حتی کہ جنوب مشرقی ایشیا کے بعض ممالک پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی، اس نے فلپائن پر حملہ کیا، اس پر قبضہ کیا اور اس ملک کے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور یہ اس امریکی حکمت عملی ہی کا تسلسل تھا۔
اس کے باوجود، امریکہ دوسری عالمی جنگ تک کسی طور پر بھی ـ خاص طور پر فوجی اعتبار سے ـ ہرگز عالمی طاقت نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن پہلی اور دوسری عالمی جنگیں وہ مواقع تھے جن سے فائدہ اٹھا کر امریکیوں نے فوجی اعتبار سے اپنے آپ کو عالمی طاقت کے طور پر متعارف کروایا۔
یہ سلسلہ سنہ ۱۹۱۷ء ‍میں ـ پہلی عالمی جنگ میں امریکہ کی باضابطہ مداخلت سے شروع ہوا اور دوسری عالمی جنگ میں جاپان اور ہٹلر کے جرمنی کے خلاف جنگ میں عروج کو پہنچا۔ امریکہ نے اپنی آبادی اور صنعتی طاقت کی مدد سے سنہ ۱۹۴۵ء ‍میں اپنی فوجی نفری کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تک پہنچائی تھی جبکہ جنگ کی ابتداء اور سنہ ۱۹۳۹ء ‍میں امریکی فوج کی نفری کی تعداد دو لاکھ پچاس ہزار تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے آخر میں امریکیوں کی طاقت یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ وہ ۲۴ گھنٹوں میں ایک طیارہ بردار جہاز بنا سکتے تھے۔ ایٹم بم ـ جو دوسری عالمی جنگ کے بعد توازن کے نظام میں سب سے اہم اور بنیادی عنصر سمجھا جاتا تھا ـ امریکیوں کی کوششوں کا ثمرہ تھا گوکہ انہیں ہٹلر کے خوف سے بھاگ کر امریکہ ہجرت کرنے والے یورپی سائنسدانوں کا تعاون بھی حاصل تھا۔
*ویٹ نام سے ۱۱ ستمبر تک
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی اپنی فوجی طاقت کے سہارے، سوویت یونین کے ساتھ مل کر دو ستونوں پر مشتمل عالمی نظام کے حصے کے طور پر، اس نظام کا دوسرا ستون بن گئے۔ اگرچہ اس نئے عالمی نظام نے ـ ناقابل پیشگوئی عواقب و نتائج کے خوف سے ـ تیسری عالمی جنگ کا راستہ روک لیا لیکن تیسری دنیا کے ممالک کے باہمی تنازعات کی جولان گاہ بن گئے۔
کوریا کی جنگ اس عسکری مسابقت کا پہلا بلاواسطہ نتیجہ تھی جس کے بموجب یہ قدیم سرزمین دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی اور آج کوریا کی جنگ کے ۷۰ سال بعد بھی، قدیم کوریائی سلطنت دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔
ویت نام کی جنگ دو بڑی طاقتوں کے تقابل کا دوسرا حصہ تھا جو بدقسمتی سے امریکہ نے دائیں بازوں کی جماعتوں کے اثر و رسوخ کا سد باب کرنے کے بہانے شروع کردی تھی۔ ویت نامیوں نے ہوچی منہ (Ho Chi Minh) کی قیادت میں جاپانیوں اور فرانسیسیوں کے مار بھگایا تھا اور اب انہیں ان دو سے بڑے دشمن کا سامنا تھا جو ان کی کامیابیوں کے آگے بند باندھنا چاہتا تھا۔ جنگ ویت نام سنہ ۱۹۶۰ء ‍کی دہائی کے آغاز سے کئی برسوں تک جاری رہی (۱) اور اس جنگ میں ـ دوسری عالمی جنگ کے بعد نیز سرد جنگ کے تیس سال بعد ـ امریکیوں کی فوجی طاقت، ایک چھاپہ مار جنگ میں جانچی پرکھی گئی گوکہ یہ جانچ پرکھ امریکیوں کے لئے بہت زیادہ مہنگی پڑی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ۵۸ ہزار امریکی فوجی مارے گئے اور کئی لاکھ زخمی؛ اور یہ وہ قیمت تھی جو امریکیوں کو ادا کرنا پڑی۔
سنہ ۱۹۷۰ء ‍کی دہائی میں امریکہ کو کئی بڑے جارحانہ ٹھکانوں سے پسپا ہونا پڑا، جو کہ ویت نام کی جنگ کا براہ راست نتیجہ تھا۔ بہرصورت ویت نام کی جنگ میں بھی اور اس کے بعد بھی امریکی فوجی طاقت کو شدید ترین شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ رونلڈ ریگن کی صدارت میں اس تاریخی تذلیل کا ازالہ کرنے کے لئے ایک بار پھر کوششیں کی گئیں۔ امریکیوں نے اپنی دفاعی قوت میں اضافہ کرکے “اسٹارز وار” کا منصوبہ پیش کیا تا کہ سوویت یونین کو ـ جو معاشی مسائل سے دوچار ہوچکا تھا ـ اسلحے کی دوڑ میں الجھایا جاسکے اور اس دوڑ نے سوویت یونین کو زوال کامل سے دوچار کیا۔ سنہ ۱۹۸۰ء ‍کی دہائی کے آخر میں امریکی ویت نام کی تاریخی تذلیل کی تلافی کرچکے تھے اور خلیج فارس کی جنگ (۱۹۹۰ع‍) میں صدام پر اپنی عسکری بالادستی کا ثبوت دے چکے تھے۔
یہ صورت حال آخر کار ایسے نقطے پر پہنچی کہ ۱۱ ستمبر سنہ ۲۰۰۱ء ‍کے بعد، امریکیوں نے افغانستان اور عراق پر ہمہ جہت فوجی چڑھائی کرکے ان دو ممالک پر قبضہ کرلیا۔ یہ دو جنگیں امریکیوں کی فوجی طاقت اور طاقت کے اظہار کا عروج سمجھی جاتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ یہ طاقت ابھی تک قائم رکھ سکا ہے؟
۔طویل ترین استعماری جنگوں نے امریکی فوج کا ستیاناس کیا
حقیقت یہ ہے کہ امریکیوں کو اس وقت فوجی شعبے میں بہت بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ اس امریکہ کا آج اتا پتا ہی نہیں ہے جو آج سے کچھ ہی عرصہ قبل سنہ ۱۹۹۰ء ‍کی دہائی میں دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت سمجھا جاتا تھا۔ آج امریکہ کو بجٹ کے سلسلے میں بھی اور جدید ہتھیاروں کے سلسلے میں بھی بےانتہا مسائل کا سامنا ہے۔
علاقے میں دو اہم جنگیں ـ یعنی عراق کی جنگ اور افغانستان کی جنگ ـ ایک ایسے میدان میں تبدیل ہوچکی ہیں جس نے امریکی طاقت کو شدید فرسودگی سے دوچار کردیا ہے۔ امریکیوں نے عراق پر جارحیت کرنے کے بعد ۱۰ لاکھ فوجی عراق بھجوا دیئے جن میں سے ـ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ـ ۶۰۰۰ فوجی ہلاک ہوئے۔ اگرچہ غیر سرکاری اعداد و شمار میں عراق میں امریکی ہالکین کی تعداد کئی گنا بتائی جاتی ہے۔
عراق میں امریکی افواج کے اخراجات کمر توڑ اور امریکی معیشت کے لئے ناقابل برداشت تھے۔ عراق کی جنگ میں امریکیوں کے اخراجات کے سلسلے میں مختلف تخمینے پیش کئے گئے ہیں چھ کھرب (۶۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰ ارب) ڈآلر سے لے کر تیس کھرب (۳,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰) ڈالر تک۔
ان اخراجات میں زخمی فوجیوں کو معاوضہ نیز متفرقہ اخراجات بھی شامل ہیں، جبکہ جنگ عراق کے اخراجات برداشت کرنے کا سلسلہ برسوں تک جاری رہے گا۔
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ سنہ ۲۰۰۸ء ‍کے مالی بحران  کا سبب وہ ہولناک اخراجات تھے جو امریکہ کو عراق اور افغانستان پر جارحیت کرکے اٹھانا پڑے تھے۔ یہ عین حقیقت ہے کہ ان دو جنگوں نے امریکہ کو طویل المدت گھساوٹ اور فرسودگی سے دوچار کیا۔
یہ دونوں طویل اور تھکا دینے والی جنگیں استعماری جنگوں کے زمرے میں آتی ہیں، اور لگتا ہے کہ ان دو جنگوں کا انتہائی نقطہ قابل تصور ہی نہیں ہے اور گویا انہیں ابد تک جاری رہنا ہے۔ اور اس کے باوجود بہت سے تزویری ماہرین کا خیال ہے کہ (Strategists) کا خیال ہے کہ امریکہ ان دو جنگوں کے متعینہ مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ امریکہ سولہ سال سے افغانستان میں طالبان کا نام لے لے کر لڑتا رہا ہے اور اب پاکستان کی ثالثی میں طالبان کے سربراہوں کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں مصروف نظر آرہا ہے۔
۔ بندھے ہوئے ہاتھ بمقابلۂ چین و روس
امریکیوں کو سمندر میں بھی کثیر مسائل کا سامنا ہے۔ کسی زمانے میں امریکی طیارہ بردار جہاز پوری دنیا میں امریکی فوجی طاقت کا اہم ترین حربہ سمجھے جاتے تھے، لیکن آج امریکہ اس سلسلے میں اہلیت کی حضیض تک پہنچ چکا ہے۔
اس مسئلے کا سبب امریکی افواج کے بجٹ کے مختلف حصوں میں پیش آمدہ متعدد مشکلات ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل (Wall Street General) نے کچھ عرصہ قبل اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ امریکہ اور اس کی بحری فوج کو جدیدسازی نیز امریکی جنگی بحری جہازوں کے صحیح استعمال کے سلسلے میں لاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔ اس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست ویرجنیا میں ایک ہی ایسا بحری اڈہ ہے جو امریکہ کے طیارہ بردار ایٹمی بحری جہازوں کی میزبانی اور تعمیر و مرمت کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایسے حال میں امریکیوں کا دعوی ہے کہ اس ملک کی فضائیہ اپنی طاقت کے عروج پر ہے، لیکن شائع ہونے والی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی فضائیہ کا ۵۰ فیصد حصہ بروقت مرمت اور افرادی قوت کی صحیح عدم تربیت کے بموجب شدید مشکلات کا شکار ہے۔ گوکہ امریکہ اسی فضائیہ کے ذریعے بھی علاقے ـ بلکہ پوری دنیا ـ میں اپنے آپ کو طاقتور ترین فوجی طاقت کے طور پر متعارف کروا سکتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں موجود دوسرے مسائل و مشکلات مزید امریکیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گی کہ وہ جہاں چاہے اپنی فوجی قوت کو استعمار کرے۔
درحقیقت مسئلہ وہی ہے جو سابق امریکی صدر بارک اوباما نے سنہ ۲۰۱۲ء ‍میں ویسٹ پائنٹ عسکری درسگاہ (United States Military Academy) میں خطاب کے دوران بیان کیا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ ” صرف یہی کہ ہمارے پاس بہترین ہتھوڑا ہے، دلیل نہیں ہے کہ ہر مسئلہ ایک کیل ہے”۔ (۲) جس کا سادہ سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ “امریکی عسکری ہتھوڑے سے مزید کوئی کیل کسی چٹان میں ٹھونکنا ممکن نہیں ہے”۔ یا یوں کہئے کہ “امریکی فوج مزید، امریکی طاقت کے اظہار کے لئے، مناسب حربے کا کردار ادا کرنے سے عاجز ہے”۔
اب باری ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے جو ان سارے نقائص کے رد عمل کے طور پر بزعم خود امریکی فوجی ڈھانچے کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ فوجی بجٹ میں بےتحاشا اضافہ کرکے امریکی فوجی شعبے کے پرانے نقائص کا ازالہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم کام جنگی بحری جہازوں اور تباہ کن جہازوں (Destroyers) کی تعمیر ہے۔ یہ مسئلہ سنہ ۲۰۱۹ء ‍کے عسکری بجٹ میں بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔
اس وقت ٹرمپ نے امریکی افواج کے لئے ۷۰۰ ارب ڈالر کا بجٹ قرار دیا ہے۔ یہ بجٹ اگرچہ عددی لحاظ سے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی بجٹ ہے لیکن ابھی تک یہ سنہ ۱۹۴۵ء ‍کے امریکی فوجی بجٹ تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ افراط نظر کو نظر میں رکھتے ہوئے ۱۹۴۵ء ‍کا امریکی فوجی بجٹ ـ سنہ ۲۰۱۸ء ‍کے حساب سے ـ ایک ٹریلین (۱,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰) ڈالر بنتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کوشش کررہے ہیں کہ اپنے بعد فوجی شعبے میں ایک تسلی بخش ورثہ چھوڑ دیں۔
ایک نکتہ ـ جو امریکی افواج میں دکھائی دے رہا ہے ـ یہ ہے کہ امریکی افواج ایک محاذ پر مرکوز نہیں ہے۔ امریکیوں کو نہیں معلوم کہ انہیں کس محاذ پر لڑنا چاہئے: مشرق وسطی میں یا جنوب مشرقی ایشیا میں؟ اس وقت مشرق وسطی میں تعینات بہت سے امریکی فوجیوں کو جنوب مشرقی ایشیا میں منتقل کیا جارہا ہے جس کی بنا پر آج امریکی کمانڈروں کو ان اندیشوں کا اظہار کرنا پڑ رہا ہے کہ “ہوسکتا ہے کہ ایران کے ممکنہ حملوں سے نمٹنے یا اس ملک کے ساتھ فوجی تنازعات کے لئے امریکی افواج کافی صلاحیت نہ رکھتی ہوں”۔ یہ وہ اندیشہ ہے جس کا اظہار ایک بار مشرق وسطی میں تعینات امریکی افواج کے کمانڈر نے کیا اور حالیہ مہینوں میں امریکی ذرائع ابلاغ اسی اندیشے کو دہراتے رہے ہیں۔ یہی مسئلہ چین اور روس کے سلسلے میں پایا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کی افواج ـ ایسے حال میں کہ حکومت انہیں کافی شافی بجٹ دینے سے عاجز ہے ـ دنیا بھر میں متعدد خطروں سے نمٹنے پر مجبور ہیں۔ ان خطروں میں سے ایک جنوب مشرقی ایشیا میں چین کی قابل توجہ قوت ہے۔ چینی تیز رفتاری سے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کررہے ہیں۔ چین کی بحریہ دنیا کی دوسری بڑی بحریہ میں تبدیل ہورہی ہے اور کچھ ہی عرصہ بعد ـ ممکن ہے کہ ـ یہ ملک یہ صلاحیت حاصل کرلے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی بحریہ کو مسائل سے دوچار کرسکے۔ ادھر امریکہ اور یورپ کو نہایت بھاری روسی دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت اور بھی نازک ہوجاتی ہے جب ہم جان لیتے ہیں کہ مشرقی یورپی ممالک کی سرحدوں پر تعینات روسی افواج، یورپی ممالک میں تعینات امریکی افواج سے تیس گنا بڑی ہیں؛ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کی فوجی مشقیں محض طاقت کی ایک نمائش ہے جس کو یورپی ممالک میں مداخلت کے لئے ہر دم تیار روسی افواج سے نمٹنے کا ارادہ قرار دینا بہت مشکل ہے۔ [روسی افواج، مشرقی یورپ کے ممالک کی سرحدوں پر لڑنے کے لئے آئی ہیں نمائش کے لئے نہیں]۔
۔شام اور امریکیوں کے لئے ایک ضرب انگشت
امریکی سمجھتے ہیں کہ گویا وہ گذشتہ صدی کی طرح اب بھی دنیا کے مختلف حصوں میں کسی بھی ملک پر فوجی جارحیت کا جواز پیش کرسکتے ہیں، لیکن حالیہ چند سالوں کے واقعات نے واضح کیا ہے کہ یہ امریکی تصور حقیقت سے دور ہے اور امریکی ابھی تک دنیا کے بہت سے مسائل و مشکلات کے صحیح ادراک سے عاجز ہیں۔
شاید اس سلسلے میں سب سے زیادہ سنجیدہ ضرب انگشت شام کا مسئلہ تھا۔ امریکہ نے صدر ڈاکٹر بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے لئے تمام تر معلوماتی اور عسکری اقدامات کئے تھے لیکن ایران اور روس نیز حزب اللہ لبنان نے امریکہ اور اس کے تمام علاقائی حلیفوں کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنایا۔
یہ وہ حقیقت ہے جس کی طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بار بار اشارے کئے ہیں۔ سنہ ۲۰۱۳ء ‍میں بھی اور پھر سنہ ۲۰۱۸ء ‍میں بھی امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کا بھی اعلان کیا لیکن اعلان کے بعد اپنی تاریخ میں پہلی بار ایسا کرنے میں بےبس نظر آیا؛ اور اب شام میں غیر قانونی طور پر تعینات امریکی فوجی دستوں کے انخلاء کا اعلان شاید اسی حقیقت کے ادراک کا ایک ثبوت تھا کہ “امریکی مزید دنیا کے کسی بھی مقام پر، کسی بھی ملک کے عوام کے خرچے پر، اس ملک میں چڑھائی نہیں کرسکتے”۔
امریکیوں کو چاہئے کہ اس صورت حال کو تسلیم کریں کہ اس ملک کی فوجی قوت بہت زیادہ کمزور ہوچکی ہے اور امریکہ اور روس سمیت، امریکہ کے رقباء پوری قوت سے اپنی افواج کو جدیدترین ہتھیاروں سے لیس کررہے ہیں اور جدید اسلحے اور فوجی سازوسامان کو ترقی دے رہے ہیں۔
بےشک ہم کچھ ہی سالوں میں امریکہ کے بعض رقباء کو ایسے علاقوں میں نمایاں کردار ادا کرتا دیکھیں گے جہاں کسی وقت امریکی کی بات حرف آخر سمجھی جاتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: مہدی پور صفا
ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی

 

عرب حکمرانوں کی یہود نوازی کا مقصد اپنے تاج و تخت کا تحفظ

  • ۸۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: شیخ عبدالسلام الوجیہ نے علاقے میں سعودی فتنہ انگیزیوں اور حج کی بدانتظامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: عرصہ ایک صدی سے مناسکِ حج ـ سعودی انتظام کے تحت ـ اپنی حقیقی روح سے خالی ہوچکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بعض عرب حکمران آج ببانگ دھل یہودی ریاست کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ تعلقات کے قیام کے نغمے گاتے ہیں، تو ان کا اصل ہدف یہ ہے کہ اپنے لرزتے کانپتے تاج و تخت کو محفوظ اور اپنی حکمرانی کو قائم رکھ سکیں۔
انھوں نے کہا کہ سعودی حکمران حتی کہ ایک صدی سے حج کا انتظآم سعودیوں کے ہاتھ میں ہے لیکن وہ اس میں ناکام ہوجکے ہیں اور حج اپنی اصلی روح سے خالی ہوچکا ہے اور یہ حج مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق قائم کرنے اور دشمنان دین و امت کے خلاف موقف اپنانے سے عاجز ہے؛ یہی نہیں بلکہ بنی سعود حرمین شریفین کو عربوں اور مسلمانوں کے درمیان فتنہ انگیزی اور نسل پرستی کی ترویج کے لئے استعمال کررہے ہیں۔
حوزہ نیوز نے حال ہی میں انجمن علمائے یمن، شیخ عبدالسلام الوجیہ کے ساتھ ایک مکالمہ ترتیب دیا ہے جس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے:
سوال: عرب حکمران موجودہ صورت حال میں یہودی ریاست کے ساتھ عرب حکومتوں کے تعلقات قائم کرنے کا مقصد کیا ہے؟
– کٹھ پتلی اور وابستہ حکومتوں کی طرف سے یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا اصل مقصد ان حکمرانوں کے لرزتے کانپتے تاج و تخت کا تحفظ اور اپنے اقتدار کی بقاء ہے؛ وہی تاج و تخت جو ابتداء میں بھی مغربی استعمار نے اسلامی امت کے مقدرات اور وسائل پر تسلط جمانے کے لئے انہیں عطا کیا تھا؛ ان حکمرانوں کو اقتدار مغرب نے دیا ہے اور سب جانتے ہیں کہ ان کی اکثریت نے استعمار و استکبار کے ہاتھوں علاقوں کی تقسیم کی تاریخی سازش سے جنم لیا ہے تا کہ چھوٹی چھوٹی کٹھ پتلی ریاستیں معرض وجود میں آئیں، ان ہی سے وابستہ اور ان ہی کے دست نگر رہیں اور ان کی سازشوں پر بلا چون و چرا عملدرآمد کیا کریں اور عالم اسلام کی دولت، وسائل اور مستقبل کو اسلام دشمن طاقتوں کے سپرد کیا کریں؛ اسلام دشمنی کو اسلام اور فرقہ واریت کے لبادے اپنا نصب العین قرار دیں اور حریت پسند اسلامی تحریکوں اور اسلامی مزاحمت کا مقابلہ کریں اور ان کے دشمنوں کے اتحادی بنیں۔ یہ نظام ہائے حکومت اپنی تاسیس سے لےکر آج تک ایک تکلیف دہ پتھر کی مانند علاقے کی اصلاحی تحریکوں کی راہ میں پڑے ہیں اور ابتداء ہی سے عالمی استکباری طاقتوں کے اطاعت گزار ہیں۔
یہ نظام ہائے حکومت گمان کرتے ہیں کہ یہودی ریاست اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی انہیں اقوام کی بیداری اور مسلمانوں کے انقلاب غیظ و غضب کے آگے، ان کی بقاء کی ضمانت دے گی۔
سوال: آج عرب ممالک فلسطین اور قبلہ اول سے علی الاعلان غداری کررہے ہیں، آپ کے خیال میں امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے [یہودی] داماد جیرڈ کوشنر (Jared Kushner) کا اس عربی رجحان میں کیا کردار کیا ہے؟
– امریکہ یہودی ریاست کا سب سے پہلا اتحادی تھا اور ہے، جبکہ برطانیہ اس کا بانی تھا جس کا کردار امریکہ نے سنبھالا اور آج بھی عالم اسلام کے قلب میں واقع اس سرطانی پھوڑے کی حمایت میں برطانیہ کے متبادل کا کردار ادا کررہا ہے؛ امریکی صدور اور حکومتیں یکے بعد دیگرے یہودی ریاست کی حامی رہی ہیں اور فلسطینی قوم کے خلاف مختلف حربے نیز اپنی ابلاغیاتی، عسکری، فکری، ثقافتی اور سیاسی طاقت استعمال کی ہے؛ اور انھوں نے آج تک تمام بین الاقوامی فیصلوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ـ جن میں فلسطینیوں کا مفاد مد نظر رکھا گیا تھا ـ شکست سے دوچار کردیا ہے اور سلامتی کونسل میں اپنی خصوصی حیثیت سے ناجائزہ فائدہ اٹھا کر فلسطینی قوم سمیت دنیا کی مستضعف اور محروم اقوام کے خلاف اقدام کرچکے ہیں۔ مختصر یہ کہ بیسویں صدی عیسوی کے نصف دوئم سے لے کر آج تک اس سلسلے میں امریکہ نے اپنا خبیث اور پلید کردار جاری رکھا ہے۔ جن ممالک نے یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے قدم بڑھایا ہے وہ بھی امریکہ ہی کے دست نگر ہیں اور ٹرمپ اور ان کے داماد کا کردار اس سلسلے میں ناقابل انکار ہے۔
سوال: صدی ڈیل سمیت اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کو کیونکر ناکام بنایا جاسکتا ہے؟ صدی ڈیل کا مقصد کیا ہے؟
– اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت اور واپسی کے لئے ہونے والے احتجاجی مظاہرے، بدستور ٹرمپ کی راستے میں اہم رکاوٹ ہیں جس کے باعث اس شرمناک سودے کا باضابطہ اعلان مؤخر ہوا ہے اور امریکہ کے علاقائی غلام بھی زچ ہوچکے ہیں اور ان کے سامنے کوئی راستہ باقی نہیں رہا ہے۔ اور بےشک فلسطینی عوام نیز محاذ مزاحمت کی جدوجہد، نیز عراق اور شام اور یمن میں اس محاذ کی عظیم کامیابیاں بتا رہی ہیں کہ یہ ذلت آمیز معاہدہ نتیجہ خیز نہیں ہوگا اور فلسطین کی مجاہد عرب ملت اور مسلم اقوام کی بیداری نیز اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششیں ناقابل تسخیر پہاڑ کی طرح ان سازشوں سے نمٹ لیں گی اور غاصب یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے ہونے والی تمام تر سازشوں کو نیست و نابود کریں گی۔ گوکہ اس ہدف کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ محنت نیز حریت پسندی اور خودمختاری کے لئے ہونے والی تحریکوں اور اسلامی مزاحمتی محاذ کی حمایت کی ضرورت ہے۔
سوال: کیا قدس کی آزادی کے لئے مسلمانوں کے اتحاد کی کوئی امید ہے؟ اس اتحاد کی راہ میں کونسی رکاوٹیں حائل ہیں؟
– اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قدس ایک بنیادی محور و مرکز ہے اور یقینا عالم اسلام کی پوری توجہ اور اہتمام کا رخ اسی جانب ہونا چاہئے، کیونکہ قدس ایک مقدس حرم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے معراج کی منزل ہے چنانچہ قدس صرف فلسطینی قوم یا عرب ممالک ہی کا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا ہے اور واضح ہے کہ اگر حرمین شریفین ـ یعنی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ـ استعمار کے کٹھ پتلی سعودیوں کے قبضے میں نہ ہوتے تو قدس شریف بھی یہودیوں کے زیر قبضہ نہ ہوتا۔
تقریبا ۱۰۰ برسوں سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کا انتظام ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے مسجد الاقصی پر یہودیوں کے تسلط کے اسباب فراہم کئے تھے اور جب سے برطانوی استعمار نے وہابی تحریک کو تقویت پہنچائی اور اس کی حمایت کی اور وہابیوں کو جزیرہ نمائے عرب پر مسلط کیا، اسی وقت سے اس کے اس اقدام کا ایک طویل المدت مقصد تھا؛ وہ یہ کہ مقدسات کے بنیادی کردار میں خلل ڈالا جائے اور مسلمانوں کو مقدسات اور اسلامی شعائر سے دور اور دور تر کیا جاسکے۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شعائر اور مقدسات مسلمانوں کو گہری نیند سے بیدا کردیتے ہیں اور انہیں اپنے تشخص کا احساس دلاتے ہیں۔
عرصہ ایک صدی سے حج کے اعمال و مناسک اس کے اصل مضمون اور اصل روح سے خالی ہوچکے ہیں اور حج کا مقدس فریضہ موجود صورت میں مسلمانوں کے اتحاد اور دشمنان امت کے خلاف متحدہ موقف اختیار کرنے کے اسباب فراہم نہیں کرسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بنی سعودی حج اور حرمین شریفین کو منبر کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور اس منبر کو مسلمانوں اور عرب اقوام کے درمیان فتنہ انگیزی اور نسل پرستی کے فروغ کے لئے بروئے کار لارہے ہیں۔ بنی سعود نے مسلمانوں کی مقدس سرزمین میں امریکی اڈے قائم کئے ہوئے ہیں تاکہ امت مسلمہ کو امریکہ کی غلامی پر مجبور کرے اور انہیں ان کے دین و امت کے دشمنوں کے آگے خوار و ذلیل کردے۔ وہ اللہ تعالی کے اس کلام کو بھلا چکے ہیں کہ:
﴿یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِیَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ وَمَن یَتَوَلَّهُم مِّنکُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ یَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ * فَتَرَى الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِم مَّرَضٌ یُسَارِعُونَ فِیهِمْ یَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِیبَنَا دَآئِرَةٌ؛ اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی تو وہ ان ہی میں سے ہے۔ یقینا اللہ ظالموں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا * تو دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ وہ ان کے حلقوں میں تیزی سے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر کوئی آفت نہ آئے﴾۔ (۱)
آج وحدت اسلامی کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ مسلمانان عالم اللہ کی طرف پلٹیں، فتنہ اور تکفیر سے دوری اختیار کریں، وحشی، درندہ خو اور خونخوار دہشت گرد ٹولوں کی تشکیل سے پرہیز کریں جن کا کام قتل عام اور انسانوں کو ذبح کرنے اور انسانیت کے لئے باعث شرم جرائم کے ارتکاب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
اگر مسلمان اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں تو انہیں فرقہ واریت سے دوری کرکے ان تمام اجرتیوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا جو مذہب، دین، فرقہ پرستی اور نسل پرستی کے بہانوں کے تحت امت اسلامیہ میں دراڑیں ڈالتے ہیں؛ تمام مسلمانوں کو جاننا چاہئے کہ امت کی بقاء، قبلہ اول کی آزادی، اسلامی سرزمینوں کو غاصبوں سے چھڑانے کے لئے اتحاد بین المسلمین کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور اتحاد بین المسلمین موجودہ صورت حال میں ممکن نہیں ہے سوائے اس کے کہ دین اسلام کے ثابت اور دائمی و ابدی اصولوں کی طرف پلٹنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
سوال: اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کے حق میں اور یہودی غاصبوں کے خلاف چھ اہم فیصلے کئے ہیں۔ کیا ان فیصلوں پر عملدرآمد ممکن ہے یا یہ فیصلے سب کاغذ کے اوپر کچھ الفاظ اور سطور کی صورت میں باقی رہیں گے؟
– اقوام متحدہ امریکہ اور برطانیہ جیسے استعماری ممالک کے قابو میں ہے اور وہ صرف ان ممالک کے مفادات کے تحفظ کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہے۔ چنانچہ وہ کسی کو بھی اس کا حق پلٹانے اور مظلوموں کی پشت پناہی کرنے یا انسانی حقوق کے تحفظ سے عاجز ہے؛ وہ حتی اپنے ہی منظور کردہ بین الاقوامی قوانین نافذ کرنے سے عاجز ہے، سوائے اس صورت کے کہ یہ طاقتیں اسے ایسا کرنے کی اجازت دیں اور ان کے مفادات ایسا کرنے کا تقاضا کریں؛ ایسی صورت میں یہ بین الاقوامی ادارہ کچھ کرنے کا قابل ہوجاتا ہے۔
ہم آج ایک وحشی دنیا میں بس رہے ہیں، جہاں ظلم و ستم اور سرکشی، لالچ اور بعض ممالک کے مفادات پوری انسانیت پر مسلط ہیں اور یہ ممالک دنیا کے مستضعفین اور کے حقوق کے لئے کسی قسم کے احترام کے قائل نہیں ہیں اور آج عالم اسلام میں رونما ہونے والے مسلسل اور متعدد واقعات کی رو سے یہ حقیقت بالکل عیاں ہوچکی ہے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کو تمام نعرے اور فیصلوں مستضعف ممالک میں قابل نفاذ نہیں ہیں اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ بڑی طاقتیں تمام انسانی اصولوں اور بین الاقوامی اور انسانی قوانین کے ذریعے تجارت کررہی ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ دولت اور طاقت حاصل کریں اور ہمارے اس مدعا کا واضح ترین ثبوت جمال خاشقجی کا قتل کیس ہے؛ ہم نے دیکھا کہ ذرائع ابلاغ کے دباؤ کے تحت پوری دنیا کی توجہ اس واقعے اور سعودی عرب کی جرائم پیشگی کی طرف مبذول ہوئی ـ جبکہ اس سے قبل کے چار برسوں میں سعودیوں نے اس طرح کے ہزاروں جرائم کا ارتکاب کیا تھا اور یمن پر حملہ کرکے لاکھوں بچوں، خواتین، بوڑھوں اور مریضوں کو خاک و خون میں لت پت کردیا، اور یہ جرائم بدستور جاری ہیں لیکن دنیا والوں کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا اور انسانی حقوق اور آزادی کے جھوٹے علمبرداروں کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ حریت پسند انسانیت سے ہمارا سوال یہ ہے کہ یہ کیا رویہ ہے کہ ترکی میں ایک سعودی باشندے کا قتل تو ناقابل معافی جرم ہے مگر ایک قوم کا یکسر قتل عام ایک غیر اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے؟ ڈوب مرنا چاہئے اس دنیا کو جس کے بڑے مقتدر حکمران بد دیانت گوالے (Dishonest cowboys) ہیں اور یک بام و دو ہوا کی پالیسی کی رو سے دنیا کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں، جہاں عدل و انصاف کا دور دور تک کوئی اتہ پتہ نہیں ہیں۔
سوال: یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے انسداد اور مسلم اقوام کو آگہی اور بصیرت دینے میں علماء کا کیا کردار ہے/ ہوسکتا ہے؟
– بےشک علمائے اسلام کا فریضہ اسلام کی تبلیغ و تشریح، اقوام کو آگاہ و بیدار کرنا اور ان سازشوں اور مکاریوں سے انہیں خبردار کرنا ہے جو دشمنان اسلام امت اور دین اسلام کے خلاف کررہے ہیں تاکہ مسلمین عالم ان عظیم ذمہ داریوں سے آگاہ ہوجائیں جو ان کے کندھوں پر رکھی گئی ہیں۔
قرآن کریم میں متعدد ایسی آیات ہیں جو علماء کو اپنے فرائض کی انجام دہی کی دعوت دیتی ہیں اور فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی سے خبردار کرتی ہیں۔ بطور مثال خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَى الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَـئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ؛ اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہئے جو بھلائی کی دعوت دیتی ہو، بھلائی کی ہدایت کرتی ہو اور برائیوں سے منع کرتی ہو اور یہی وہ ہیں جو ہر طرح کی بھلائی حاصل کرنے والے ہیں﴾ (۲)
علماء کی ایک عظیم ذمہ داری یہ ہے کہ قرآن کو عوامی زندگی میں واپس لے کر آئیں، سنت نبوی کے مفہوم کی اصلاح کریں اور عوام کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے احیاء کی ترغیب دلائیں، سوئی ہوئی مسلم قوموں کو خواب غفلت سے بیدار کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو عملی طور پر نافذ کریں، اور خود بھی لوگوں کو بھلائی کی دعوت دیں اور برائی سے منع کریں۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
.............

242

 

۶ ملین یہودیوں کا قتل عام، جھوٹ یا سچ؟

  • ۹۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکی قابض حکام نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں جنگ کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کیمپوں میں واقعی کتنے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے۱۹۵۱میں جو اعداد و شمار شائع کئے ان کے مطابق، اس عرصے کے دوران کیمپوں میں لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد۱/۲ ملین تھی، جس میں خانہ بدوشوں ، یوکرائنی ، یہودی اور دیگر اقوام کے افراد بھی شامل تھے حتیٰ کہ وہ افراد بھی ان اعداد و شمار میں شامل تھے جو اپنی فطری موت مرے۔
اس طرح ، اعلی ترین سطح پر، یہودیوں کی ہلاکت کی تعداد پانچ لاکھ یا چھے لاکھ سے زیادہ نہیں ہوسکتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں ، عیسائی قوموں نے اس سے کہیں زیادہ جانی نقصان اٹھایا۔ ہنگری کی چھوٹی چھوٹی ملک گیر جنگوں میں ہلاکتوں کی تعداد ، آج کے یہودیوں سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے -  وہ لوگ جو فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے یا جو کیمپوں میں بھوک اور یا سردی کی وجہ سے مرے۔ کم سے کم ان کی تعداد دس لاکھ بتائی گئی ہے۔ چھبیس لاکھ جرمن فوجی اس جنگ میں مارے گئے جو یہودیوں کی طرف سے ان پر ٹھونسی گئی تھی۔ ۱۲ لاکھ عام جرمن اس جنگ کے اختتام تک ہلاک ہوئے۔ ۱۴ لاکھ وہ جرمن ہلاک ہوئے جو جیلوں اور روس کے کیمپوں میں موجود تھے۔  (۱)
جہاں تک چھ لاکھ یہودیوں کے قتل کی تعداد کا تعلق ہے ،تو تاریخی نظرثانی کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار صیہونیوں نے ایجاد کیے ہیں، اور اگرچہ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے یہودیوں سمیت تمام دیگر جنگ زدہ ممالک کے لوگوں کے لئے بہت تباہ کن نتائج برآمد ہوئے تھے، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر یہودیوں کا قتل عام کسی بھی طرح سے ممکن نہیں تھا۔ صیہونیوں کی جانب سے بیان کی گئی، ہلاک ہونے والے یہودیوں کی تعداد کے بارے میں ، تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ ایک طرف سے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودی مقتولین کے لئے "چھ ملین" کی تعداد کا بیان پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت تھا، یا دوسرے الفاظ میں ، ایک "علامتی نمبر" تھا ، اور دوسری طرف اعداد و شمار صرف زبانی گواہی کی بنیاد پر مہیا کیے گئے۔ (۲)
فرانسیسی مسلم دانشور روجر گاروڈی  (Roger Garaudy)، جو ۱۹۷۱ تک چھ ملین یہودیوں کے اعداد و شمار کو صحیح سمجھتے تھے اس بارے میں لکھتے ہیں: یہاں پر میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ کس طرح میں نے غیر حقیقی چھ ملین یہودیوں کے اعداد و شمار کی حقیقت سے پردہ اٹھایا، کیونکہ میں بھی ۱۹۷۱ تک ان اعداد و شمار کو حقیقی سمجھتا تھا۔ ورلڈ یہودی کانگریس کے چیئرمین مسٹر "ناحوم گولڈمین" (۳) ، میرے ایک قریبی دوست ہیں یہاں تک کہ میں بیت المقدس میں ان کے گھر مہمان رہا ہوں۔ ایک دن پیرس میں انہوں نے مجھے بتایا کہ کیسے وہ جرمن صدر اعظم آڈنور سے یہودی مقتولین کا معاوضہ لینے میں کامیاب ہوئے۔ مسٹر ناحوم گولڈمین نے کہا ، "میں نے چھے ملین کے سرکاری اعداد و شمار متعین کئے۔" ( ۶)
تاریخ دان اور انسٹی ٹیوٹ برائے تاریخی جائزہ کے ڈائریکٹر، مارک ویبر کا کہنا ہے: چھے ملین یہودیوں کے قتل کا کئی ثبوت نہیں ہے۔ لہذا دوسری جنگ عظیم میں اس قتل عام کی کہانی کے بارے میں بہت سارے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جاپان سے چھپنے والے ایک اہم اخبار باسلرناخریشتن نے ایک دقیق رپورٹ کے بعد ۱۹۴۶ میں یہ لکھا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمن حکومت کے ہاتھوں ۱۵ لاکھ سے زیادہ یہودیوں کی جانیں گئی ہوں۔ ( ۷)

حواشی

۱ـ لوئیس مارشالکو، فاتحین جهانی (جنایتکاران حقیقی جنگ) ترجمه دکتر عبدالرحیم گواهی (تهران: مؤسسه فرهنگی انتشاراتی تبیان، ۱۳۷۷) صص۱۸۲-۱۸۳٫

۲ـ نشریه رویداد و گزارش صهیونیسم (تجدیدنظرطلب)، شماره ۶-۵۰، ص ۲۰٫

۳- Nahum Goldman

۴ـ سیاستمدار آلمانی و بانی حزب مسیحی دموکرات آلمان. وی بین سال‌های ۱۹۴۹ تا ۱۹۶۳ صدر اعظم آلمان بود.

۵ـ روژه گارودی، محاکمه آزادی (در مهد آزادی)، (تهران: مؤسسه فرهنگی اندیشه معاصر، ۱۳۷۷) صص۵۷- ۵۶٫

۶  Baseler Nacherichten

۷ـ مارک وبر، اعتبار از دست رفته هولوکاست، مؤسسه بازنگری تاریخی htt://www.ihr.com

 

قرضوں کے بحر بیکراں میں ڈوبی امریکی کشتی

  • ۷۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: پچھلی رپورٹ میں بیان ہوا کہ یہ تصور کہ جو سبب بنتا ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر ایک طاقت کے طور پر ابھرتا ہے، ایک ایسا تصور ہے جو اس نے امریکی سپنے (American Dream) کے سانچے میں اپنے لئے ڈھالا ہوا ہے۔ اسی تصور کی بنیاد پر ہی امریکہ اس دنیا کے ایک بڑے حصے میں اپنے آپ کو ایک مثال اور نمونۂ عمل کے طور پر پیش کیا ہے۔
تیسری دنیا کے بعض ممالک سے قطع نظرـ جو امریکی لوٹ مار، جارحیتوں اور فوجی بغاوتوں کی آماجگاہ رہے ہیں ـ ایشیا اور یورپ کے بعض حصوں میں یہی امریکی سپنا ہے جو امریکی فوجی اڈوں کے بجائے ان ممالک کی رائے عامہ پر حکمرانی کررہا ہے۔
اس کے باوجود حالیہ برسوں میں یہ سپنا امریکیوں کے ذہن میں بھی اور عالمی رائے عامہ کے نزدیک بھی، چورچور ہو گیا ہے۔
اس ابتری کے اسباب متنوع اور متعدد ہیں، لیکن چند زمروں میں ان کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔
*امریکی قرضوں کے بحر بیکراں میں ڈوب جائیں گے
پہلا مسئلہ امریکہ کے قومی قرضے ہیں جن میں ہر لمحے کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ سلسلہ ایک ایسے نقطے پر پہنچے گا جہاں اس صورت حال کی بقاء ناممکن ہوجائے گی۔
امریکی کانگریس کے مالیاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ـ جو کہ “بجٹ اور اقتصادی زاویۂ نگاہ” کے عنوان سے ماہ اگست سنہ ۲۰۱۰ع‍میں شائع ہوئی ـ قومی قرضہ جات ـ مجموعی قومی پیداوار میں فیصد کے طور پر، مجموعی اندرونی قومی پیداوار (GDP) کے ۶۰ فیصد کے برابر ہیں؛ اور ۲۰۱۸ع‍میں جی ڈی پی کے ۱۰۰فیصد کے برابر ہوچکے ہیں۔
یہ بہت افسوسناک اعداد و شمار ہیں لیکن یہ اعداد و شمار امریکہ کو بدترین ریکارڈ کے حامل ممالک کے زمرے میں نہیں لاتے۔ (اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم “او ای سی ڈی” (Organisation for Economic Cooperation and Development [OECD]) کی رپورٹ کے مطابق، جاپان کے قومی قرضے اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے ۲۵۰فیصد کے برابر ہیں اور یونان اور اطالیہ کے قومی قرضے بھی ان ملکوں کی مجموعی پیداوار کے ۱۰۰فیصد کے برابر ہیں)۔
اس کے باوجود بےبی بومرز (Baby boomers) (2) کی سبکدوشی کے نتیجے میں لازم آنے والی منظم بجٹ کٹوتی (یا بجٹ خسارے) سے ایک عظیم اور طویل المدت مسئلے کا پتہ ملتا ہے۔ اپریل ۲۰۱۰ع‍میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن (Brookings Institution) نے ایک مطالعے کے ضمن میں مختلف مفروضوں کے تحت امریکہ کے قومی قرض (National Debt) کا جائزہ لے کر مستقبل کے بارے میں پیشگوئیاں کی ہیں۔ اس تحقتق میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ اگر امریکی حکومت اگلے سال بھی اوباما کے ۲۰۱۱ع‍کے بجٹ کی طرح کا بجٹ پیش کرے تو سنہ ۲۰۲۵ع‍میں امریکی قرضہ ۶/۱۰۸ فیصد ہوگا۔ اس مفروضے کے مطابق کہ ان عظیم اخراجات کی ادائیگی کے لئے ٹیکس میں زبردست اضافے کی ضرورت ہوگی جبکہ امریکی قوم کو اس قسم کے کسی اضافے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ ایک ناگزیر حقیقت یہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ کی قومی مقروضیت میں اضافہ ـ چین سمیت لیندار ممالک کے منصوبوں کے سامنے ـ اس کی زدپذیری (Vulnerability) میں اضافہ کرے گا۔ یہ مسئلہ دنیا کے محفوظ ذخیرے کے طور پر ڈالر کی پوزیشن کو کمزور کرے گا اور عالمی معاشی نمونے (Model) کے طور پر امریکی معیشت کے کردار کو کمزور کردے گا، اور دنیا کی مالیاتی تنظیموں ـ مرجملہ جی۲۰، عالمی بینک اور آئی ایم ایف ـ میں امریکی کی قائدانہ حیثیت کو گزند پہنچائے گا نیز اندرونی مسائل کے حل کے سلسلے میں امریکہ کی صلاحیتوں کو محدود کردے گا۔ حتی ایسے وقت بھی آئے گا جب امریکہ ایک ناگزیر جنگ کے اخراجات سے عہدہ بھی بر آ نہیں ہوسکے گا۔
* امریکہ کا مایوس کن تناظر
امریکہ کا مایوس کن تناظر کو، سنہ ۲۰۱۰ع‍میں عمومی امریکی پالیسیوں کے دو حامیوں “راجر سی آلٹمین” (Roger Charles Altman) اور “رچرڈ این ہاس” (Richard Nathan Haass) نے فارن افیئرز کی ویب گاہ میں اپنا ایک مشترکہ مضمون “امریکی فضول خرچی اور امریکی طاقت” (American Profligacy and American Power) میں ناامیدی سے بھرپور الفاظ میں، مختصر طور پر بیان کیا ہے: “سنہ ۲۰۲۰ع‍کے ما بعد کے کا مالیاتی تناظر، قطعی طور پر دو وجوہات کی بناء پر آخر الزمانی تناظر کی طرح ہے، نہایت خوفناک اور نامعلوم۔۔۔ امریکہ بڑی تیزرفتاری سے اہم تاریخی موڑ کی طرف بڑھ رہا ہے؛ جہاں یا تو اسے چارہ کرنا پڑے گا تا کہ وہ اپنے موجود مالی مسائل کو درست کرے؛ کہ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس صورت میں وہ اپنی عالمی برتری اور فوقیت کے لئے لازمی شرطیں فراہم کرسکے گا یا پھر ایسا کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے گا تو اسے اندرونی سطح پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی، ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
اگر امریکہ ایک سنجیدہ اصلاحی پروگرام کے اہتمام کو ـ جو حکومت کے اخراجات کو کم اور اس کی آمدنیوں میں اضافہ کرے ـ مزید مؤخر کرے تو یقینا اس کا انجام ان سابقہ بڑی طاقتوں ہی کا انجام ہوگا جو مالیاتی لحاظ سے مفلوج ہوچکی تھیں؛ خواہ قدیم روم ہو خواہ بیسویں صدی کا برطانیہ۔
*مالیاتی نظام جو امریکہ کو نگل دے گا
دوسرا مسئلہ امریکہ کا معیوب اور ناقص مالیاتی نظام ہے جو درد سر کا باعث اور بہت بڑی مشکل ہے۔ یہ نظام کم از کم دو شعبوں میں زد پذیر ہے:
پہلی بات یہ ہے کہ یہ نظام نہایت خطرناک اور جاہ طلبانہ طرز سلوک کی وجہ سے ایک لمحاتی بم (moment bomb) کی صورت اختیار کرگیا ہے جو نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی معیشت کو بھی خطرات سے دوچار کررہا ہے۔
اور دوسری بات یہ کہ اس نظام نے اس قدر اخلاقی خطرات پیدا کئے ہیں کہ اندرون ملک تشدد اور غیظ و غضب کا باعث بنا ہے اور بیرون ملک امریکی جاذبیتوں کو ـ اپنی دشوار سماجی صورت حال کی بنا پر ـ مخدوش کرکے رکھ دیا ہے۔
سرمایہ کار بینکوں اور تجارتی اداروں کی زیادہ روی اور عدم توازن ـ کانگریس کے غیرذمہ دارانہ طرز سلوک اور جائیداد خریدنے کے لئے قرضہ دینے والے مالیاتی اداروں سے نگرانی اور کنٹرول اٹھانے کی بنا پر ترغیب شدہ نیز لالچی بازارہائے حصص کی تحریک پر ـ سنہ ۲۰۰۸ کے مالیاتی بحران اور بعدازاں معاشی بدحالی (Economic downturn) کا سبب بنا جس نے کئی ملین انسانوں کو مالیاتی مشکلات اور دشواریوں سے دوچار کیا۔
بازار حصص کے دلالوں اور بینکاروں نے بازار حصص اور سرمائے کو نقصان سے بچانے کے لئے قائم فنڈز، مؤثر طور پر حصص مالکان سے محفوظ تھے، اور انھوں نے کوئی معاشی جدت متعارف کرائے بغیر عظیم ذاتی منافع جیب میں ڈال دیا اور یوں جو بد تھا وہ بدتر ہوگیا۔ سنہ ۲۰۰۸ع‍کے مالی بحران نے بالادست طبقات اور عام لوگوں کی زندگی کے درمیان شدید اختلاف کو عیاں کردیا اور واضح کیا کہ مالیاتی اشرافیہ عوام کی روزمرہ زندگی سے مکمل طور پر بےخبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۲۰۰۸ سے قبل، مالیاتی اداروں ـ یعنی بینکوں، بازار اور حصص مارکیٹوں وغیرہ ـ میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں اور غیر مالیاتی نجی اداروں میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں اختلاف ۱/۷ فیصد تھا؛ اور تنخواہوں میں یہ اختلاف دوسری عالمی جنگ کے بعد آج تک نہیں دیکھی گئی ہے۔
امریکہ کے لئے دوسری طاقتوں کے ساتھ رَقابَت (Competition) جاری رکھنے کی صلاحیت قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے مالیاتی نظام کو ایک سادہ ـ مگر مؤثر ـ نظم اور قواعد سے استفادہ کرنا چاہئے کہ یہ قواعد کام کی شفافیت میں اضافہ کریں اور اداروں کو جوابدہ بنا دیں؛ اور اس نظام کو ایسے حال میں کہ اقتصادی ترقی کو ترغیب دے رہا ہو، اصلاح کریں۔ تاہم، موجودہ صورت حال بتا رہی ہے کہ آمریکی ایسا کرنے سے عاجز تھے، اور ہیں؛ اور بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ بہت جلد اور سنہ ۲۰۲۰ میں، ایک نئے عالمی مالیات بحران سے دوچار ہوجائے گا؛ ایسا بحران جو شاید ڈونلڈ ٹرمپ کا تختہ بھی الٹ دے۔

 

بھارت اسرائیل باہمی تعلقات کے اہم اسباب

  • ۸۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودی ریاست کو اپنی تشکیل کے بعد پڑوسی عرب ممالک اور مسلمان اقوام سے انتہائی خطرہ محسوس ہوا لہذا اس نے اپنے تحفظ اور پڑوسی ممالک کی جانب سے پیش آنے والے سیاسی دباؤ میں کمی لانے کی خاطر علاقے کے ممالک سے سیاسی اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کی مساعی شروع کر لی۔ اس درمیان ہندوستان، اسرائیل کے پیش نظر جغرافیائی اور اجتماعی اعتبار سے ان ممالک میں سے ایک تھا جس کے ساتھ یہ یہودی ریاست سفارتی تعلقات قائم کر سکتی تھی۔  مثال کے طور پر صہیونی ریاست نے ترکی کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے تاکہ شام پر دباؤ ڈالے، سوڈان کے ساتھ تعلقات قائم کئے تاکہ مصر پر دباؤ ڈالے اسی طرح ہندوستان کے ساتھ بھی تعلقات اور روابط قائم کرنے کا مقصد ایک اسرائیل کو خود اپنا تحفظ فراہم کرنا تھا دوسرا پاکستان پر دباؤ ڈالنا تھا چونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہونے کی ناطے کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا اور اسرائیل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔
بہر حال اسرائیل کے ہندوستان کے ساتھ سیاسی روابط دھیرے دھیرے بہت گہرے ہوتے گئے۔ اور موجودہ دور میں اسرائیل اس کوشش میں ہے کہ تین ممالک “ہندوستان، ترکی اور اسرائیل” کے باہمی اتفاق اور امریکہ کی مدد سے ایشیا کے اندر ایک نیا بلاک تشکیل دے تاکہ اس طریقے سے وہ علاقے میں مسلمان ممالک کو کمزور بنا سکے اور اسلامی بنیادوں کو اکھاڑ سکے۔ یقینا ہندوستان اور اسرائیل کے اسلام اور مسلمانوں کی تئیں پائے جانے والے مشترکہ نظریات کے پیش نظر یہ اقدام بعید از قیاس نہیں لگتا۔
ہندوستان کے جیوپولیٹکس کے پیش نظر، اسرائیل دیگر غیر اسلامی ممالک کے ساتھ رابطہ جوڑنے کے لیے ہندوستان کو رابطہ پل کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ علاوہ از ایں، وہ بحر ہند کو بھی اپنے بحری بیڑوں اور آبدوز کشتیوں کے لیے استعمال میں لا سکتا ہے۔
دوسری جانب، ہندوستان اپنی مسلمان آبادی کے اعتبار سے بھی کئی مسلم ممالک کے ساتھ تاریخی تعلقات رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے بھی اسرائیل ہندوستان کے ساتھ سیاسی، معاشی اور عسکری روابط قائم کر کے ہندوستان کا اسلامی ممالک سے ناطہ توڑنا چاہتا ہے اور اسے مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا  چاہتا ہے نیز اندرونی طور پر بھی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلافات اور دراڑیں پیدا کر کے ہندوستان میں موجود مسلمانوں کو بھی کمزور کرنا چاہتا ہے۔
ہندوستان کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے اسباب
اسرائیل کے معرض وجود میں آنے کے بعد۱۹۵۰ میں تل ابیب میں موجود ہندوستان کا تجارتی دفتر بھارتی سفارتخانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ سوویت یونین کے خاتمے سے قبل ۸۰ فیصد اسلحہ ہندوستان سابق روس سے برآمد کرتا تھا۔ لیکن سرد جنگ کے خاتمے اور روس کے کمزور ہونے کے بعد ہندوستان پاکستان پر برتری حاصل کرنے اور چین کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی غرض سے پیشرفتہ ہتھیار حاصل کرنے کے لئے کسی متبادل آپشن کی تلاش میں تھا۔
اس درمیان امریکہ نے ہندوستان کو علاقے کے لیے خطرہ گردان کراسے اسلحہ فروخت کرنے سے انکار کر دیا، اس وجہ سے ہندوستان کے پاس بہترین متبادل آپشن اسرائیل تھا۔ نیز ۱۹۹۸ میں ہندوستان کی جانب سے ایٹمی تجربہ کئے جانے کے بعد امریکہ نے اس پر پابندیاں عائد کر دی یہ پابندیاں بھی اس بات کا باعث بنیں کہ ہندوستان اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے اور پابندیوں میں کمی لانے کے لیے اسرائیل کو امریکہ کے نزدیک واسطہ قرار دے۔
اور پھر ہندوستان عرصہ دراز سے مسئلہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ الجھا ہوا ہے لہذا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا ایک مقصد کشمیر کے حریت پسند مسلمانوں کی مشترکہ دشمن کے عنوان سے سرکوبی ہے۔ پاکستان کے مد مقابل دفاعی توازن کو برقرار کرنے کی غرض سے پیشرفتہ اسلحے کا حصول اور ہندوستان میں دھشتگردی کے نفوذ پر روک تھام کرنے کے لیے اسرائیلی جاسوسی ایجنسیوں کا استعمال بھارت اسرائیل تعلقات کے دوسرے مقاصد کا حصہ ہیں۔ ان سب وجوہات کے باوجود، بھارت اسرائیل تعلقات کی اصلی وجہ یورپ اور امریکہ کے ساتھ سیاسی روابط میں توسیع کے لیے راستہ ہموارکرنا تھا کہ جس کا نتیجہ سلامتی کونسل میں دائمی سیٹ کا حصول تھا۔
البتہ صہیونی ریاست کا ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ کے نمائندوں میں گہرا اثر و رسوخ بھی ان ملکوں کے باہمی تعلقات کے فروغ میں بے تاثیر نہیں رہا۔ نیز ان تعلقات کی توسیع میں یہودی لابیاں اور تنظیمیں بھی بے کار نہیں بیٹھی رہیں۔ مثال کے طور پر سن ۲۰۰۵ میں کشمیر زلزلے میں، دو صہیونی تنظیموں؛ Global Jewish Assistance اور World Jewish Relief Institute  نے سب سے زیادہ اینڈین پاکستانی زلزلہ زدہ لوگوں کی مدد کی۔
اس سے قبل ۱۹۷۰ میں ہندوستان کے قبیلے بنی مناشہ کو یہودی قبیلے کا نام دے کر اس کے پانچ ہزار افراد کو اسرائیل منتقل کیا کہ یہ بھی ہندوستان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی ایک وجہ ہے۔ صہیونیوں نے ہندوستانیوں کو یہ بھی باور کروانے کی کوشش کی کہ یہودی اور ہندو تاریخی اعتبار سے ایک دوسرے کے مشابہ قومیں ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا کہنا ہے کہ ہندو اور یہودی پانچ ہزار سال پرانی تاریخ کے حامل ہیں، دونوں کا مشترکہ دشمن ’مسلمان‘ ہے ( ہندوستان کے دشمن پاکستانی اور اسرائیل کے دشمن فلسطینی)، دونوں برطانیہ کے زیر قبضہ رہے ہیں اور دونوں کے سیاسی رہنما کو بھی دھشتگردی کا نشانہ بنایا گیا ( مہاتما گاندھی ۱۹۴۸ میں اور اسحاق رابین ۱۹۹۵ میں)۔
یہ تمام وہ عوامل اور اسباب ہیں جن کی بنا پر اسرائیل ہندوستان سے روز بروز قریب سے قریب تر ہوتا گیا ہے یہاں تک کہ اب اسرائیل ہندوستان کے اندر کافی حد تک اپنا اثر و رسوخ پیدا کر چکا ہے۔ لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کھیل میں سب سے زیادہ جس نے فائدہ اٹھایا ہے وہ اسرائیل ہے۔
منبع: صفاتاج، مجید، صہیونیت و اسرائیل انسائکلوپیڈیا، ج۶

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

امریکی ریاستی دھشتگردی اور علاقے میں افراتفری

  • ۱۰۸


بقلم افتخار جعفری
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: دہشت گردی کسی بھی ایسے دشمنانہ اقدام سے عبارت ہے جو کسی شخص یا قوم کے لیے دھشت اور خوف کا سبب بنے یا جسمانی یا نفسیاتی اذیت و آزار کا باعث بنے۔ لیکن ریاستی دہشت گردی سے مراد ایسی کوئی بھی کارروائی ہے جو حکومتیں اپنے شہریوں کے خلاف یا غیر ملکی گروہوں اور ریاستوں کے خلاف اپنے ملک میں یا پرائے ملک میں کسی خاص مقصد کے پیش نظر انجام دیتی ہیں۔  
اگر ہم اس تعریف کو ریاستہائے متحدہ امریکہ پر لاگو کرنا چاہیں تو ہمیں واشنگٹن کی اس پالیسی کی متعدد مثالیں ملیں گی جو بیرونی ممالک ، اداروں اور جماعتوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا حقیقی ترجمان ہیں، لیکن کیا امریکی لڑاکا طیاروں کے ذریعے لبنان جانے والے ایرانی مسافر بردار طیارے کو ہراساں کیا جانا امریکہ کی ریاستی دھشتگردی کا حصہ ہے؟ درج ذیل موارد پر غور کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو سکتا ہے؛  
- ایرانی طیارہ ایک مسافر بردار طیارہ تھا نہ کہ ایک فوجی طیارہ ، اور اس حقیقت کے پیش نظر کہ امریکہ نے ماہان ایئر لائن کو بھی اپنی پابندیوں کا حصہ بنا رکھا ہے اور اس وجہ سے ماہان ایئرلائن کے جہاز کو ہراساں کرنے یا اسے دھشتگردی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جبکہ ایسا کرنا امریکہ کے لیے بالکل قانونی اقدام نہیں تھا چونکہ امریکی پابندیاں صرف اور صرف امریکہ کے لیے قانونی ہیں کسی دوسرے ملک کا ان پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے چونکہ دنیا کے دیگر ممالک بالکل امریکی قوانین کے پابند نہیں ہیں، امریکی پابندیاں سوفیصد امریکی مفاد میں ہیں نہ کہ دنیا کے دوسرے ممالک کے مفاد میں۔  
- ایرانی مسافر بردار طیارہ شام کے اوپر پرواز کر رہا تھا ، جس کا مطلب ہے کہ یہ ریاستہائے متحدہ کے آسمان پر نہیں اڑ رہا تھا ، اور اس پرواز کو ملکی ایئرلائنز ادارے سے متعلقہ تمام بین الاقوامی تنظیموں کے اتفاق رائے کے مطابق انجام دیا گیا تھا۔ تاہم ، شام کی فضائی حدود میں امریکی لڑاکا طیاروں کی موجودگی بین الاقوامی قوانین اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور مسافر طیارے پر اس کا حملہ ریاستی دہشت گردی کے تناظر سے باہر نہیں ہے۔ چونکہ امریکہ اپنے اس اقدام کی توجیہ میں کہتا ہے کہ اس کے جنگی طیارے شام میں داعش کے خلاف اتحاد میں شمولیت کی غرض سے موجود ہیں جبکہ اس اتحاد کو نہ تو عالمی برادری کی نظر میں قانونی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی نظر میں۔
۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ایرانی مسافر طیارے پر حملے کے بارے میں لبنان میں شام کے سفیر نے کہا ہے کہ میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد یہ تھا کہ شام کا دفاعی سسٹم کبھی دھوکہ سے اس جہاز کو دشمن کا طیارہ سمجھ کر اس پر فائر نہ کر دیتا۔  اس وجہ سے امریکہ لڑاکا طیاروں نے اس کی حفاظت کے لیے اس کے اطراف کو گھیر لیا!۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ وہ طیارہ جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے مشخص اور معلوم رووٹ پر چل رہا ہو اسے شام کا دفاعی سسٹم دشمن کا طیارہ سمجھ سکتا ہے اور جو امریکی طیارے غیر قانونی طور پر شام کے آسمان پر پروازیں کرتے ہیں انہیں شام کا دفاعی سسٹم دشمن کا طیارہ نہیں سمجھتا؟۔
بہر حال یہ فعل بین الاقوامی قوانین کی نظر میں ایک جرم سمجھا جاتا ہے اور ذمہ دار شخص کو بین الاقوامی فوجداری قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہئے ۔ جیسا کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے زور دیا ہے کہ قانون شکنی کرنے والوں کو کسی تباہی کا سبب بننے سے پہلے روکنا ہو گا۔
مذکورہ بالا وضاحت کی روشنی میں ، مسافر بردار طیارے پر حملہ ریاستی دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں ہے ، اور یہ امریکہ کی خصلت ہے جو کئی دہائیوں سے ایران کے خلاف ہر طرح کی دہشت گردی ، خصوصا معاشی ، سیاسی اور عسکری دھشتگردی کرتا آیا ہے۔
۔ یہ فطرتی بات ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ، اپنی داخلی پریشانیوں اور چیلنجوں کے باوجود، علاقے میں تناؤ پیدا کرنے، انتشار پھیلانے اور دوسرے ممالک کو مشتعل کرنے کے در پہ ہے۔
- یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ امریکہ وہی پلان اور منصوبہ جو سمندری حدود میں لاگو کرتا تھا وہی فضائی حدود پر بھی لاگو کرے، یعنی ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ امریکہ سمندری حدود میں ایرانی کشتیوں کو ہراساں کرتا تھا اور انہیں دھشتگردانہ کاروائیوں کا نشانہ بناتا تھا ویسے ہی اب فضائی حدود میں بھی ایرانی جہازوں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسے میں ایران کو کسی نئی حکمت عملی پر عمل کر کے عالمی دھشتگرد سے اپنی جان چھڑانی ہو گی۔
بہر کیف، ایسے اقدامات کا نتیجہ بہت ہی بدتر ہو سکتا ہے۔ کسی بھی صورت میں ، دونوں ممالک کے مابین تناؤ ریاستی دہشت گردی کی سطح تک نہیں پہنچنا چاہئے اور عام شہریوں کو اس دھشتگردی کا نشانہ نہیں بننا چاہیے ورنہ امریکی مسافر بردار طیارے بھی ایران کی قریبی فضائی حدود سے گزرتے ہیں تو ایران کے لیے بھی جوابی کاروائی کرنا اور امریکی طیاروں کا نشانہ بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان عوام کا ہے اور مسافروں کی جانوں کو خطرہ ہے چاہے ایرانی طیارے ہوں یا امریکی طیارے دونوں پر عام لوگ سوار ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں صورتوں میں ذمہ داری امریکہ پر عائد ہو گی لہذا عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے امریکہ کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہو گا۔ ورنہ نتائج بہت برے ثابت ہو سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایران کی دفاعی طاقت اور اسرائیل پر طاری خوف

  • ۹۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل، اپنی پوری طاقت کے ساتھ جو اس نے امریکہ سے قرض لی ہے، سالہا سال سے ایران پر حملے کی دھمکیاں دیتا ہے لیکن امریکہ اور یورپ کی مدد سے بھی، آج تک اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے کی جرئت نہیں کرسکا ، کیونکہ اس طفل کش حکومت کے رہنما جانتے ہیں کہ ایران کی دفاعی طاقت کے سامنے امریکہ اور اسرائیل شکست سے دوچار ہوں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ چھیڑی تو ایران کے پوائنٹ میزائل اسرائیل کی دھجیاں اڑا دیں گے۔  
ایران ’سجیل‘ ، ’شہاب 3‘ ، وغیرہ میزائلوں کی اسرائیل پر بارش کر سکتا ہے۔ ایران سے مقبوضہ فلسطین تک فاصلہ صرف 1500 کلو میٹر ہے۔ جبکہ ایران کے پاس 2000 کلو میٹر تک بغیر کسی خطا کے مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔  
اس کے علاوہ وہ میزائل جو لبنان اور فلسطین میں اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لئے تیار ہیں امریکہ کو ایران پر حملہ کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، کیونکہ کانگریس میں یہودی اور صہیونی عہدیدار جو امریکی پالیسی کے پشت پردہ موجود ہیں، اسرائیل کی تباہی کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔ مثال کے طور پر ، یہ کہا جاسکتا ہے کہ بریگیڈیئر جنرل محمد علی اللہ دادی پر 19 دسمبر 2014 کو شام کے "قنیطرا" علاقے میں اسرائیلی میزائل نے حملہ کیا تھا اور حزب اللہ لبنان کے متعدد ممبروں کے ساتھ جام شہادت نوش کر گئے تھے۔
اسرائیلیوں نے یہ بہانہ کیا کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ ایرانی کمانڈر وہاں موجود ہے اور معذرت کرلی۔ لیکن ایران نے اعلان کیا کہ اسرائیل ہماری سرخ لکیر میں داخل ہوا ہے اور اس کا بدلہ لے گا ، اور 10 دن بعد ، 29 فروری 2015 کو لبنان نے اسرائیل پر حملہ کر کے ان کے 17 فوجیوں کو ہلاک کر دیا اور ۹ کو زخمی کر دیا تھا۔  ایران کی جانب سے لبنان کے حزب اللہ کو اسرائیل پر حملہ کرنے کا یہ معمولی سا حکم تھا۔
سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے یہ اعتراف کیا اور یہودی رہنماؤں کو یہ کہا ہے کہ: "اگر ہم ایران پر حملہ کرتے ہیں تو حزب اللہ تل ابیب پر میزائل داغے گا ، اور تمام منظرناموں میں، اسرائیل کو فوجی حملوں کا سامنا ہوگا۔" [1]
جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سپاہ پاسداران انقلاب کے موجودہ کمانڈر سردار سلامی نے ایک جولائی 2016 کو یوم قدس کے موقع پر کہا: "ایک لاکھ سے زیادہ میزائل صہیونی ریاست کے قلب پر داغے جانے کے لئے لبنان میں تیار ہیں۔ [2] ان میزائلوں میں سے ایک "فاتح 110" ہے جو جنگ کی صورت میں صہیونی حکومت کے لیے ڈراؤنا خواب ہوگا۔ [3]
دوسری طرف ، اسرائیلی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کا آئرن ڈوم بہت مضبوط ہے اور وہ اسلامی جمہوریہ ایران ، لبنان اور فلسطین کے میزائلوں کا مقابلہ کر پائے گا۔ لیکن پراکسی جنگوں کے تجربے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ آئرن ڈوم انتہائی خطرے سے دوچار ہے اور حقیقت سے زیادہ مقبوضہ علاقوں کے دفاع کا صرف وہم رکھتا ہے۔
Ynetnews نے 2014 میں اسرائیل اور غزہ کے مابین فوجی تنازعہ کے دوران لکھا تھا: "غزہ سے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش جاری ہے، اور اب تک اسرائیل پر لگ بھگ 9 راکٹ فائر ہوئے ہیں جن میں سے صرف 2 راکٹوں کو آئرن ڈوم روک پایا ہے۔ اور باقی ٹھیک نشانے پر لگے ہیں." [4] لہذا ، صہیونی ریاست اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے میں ایران کے اتحادیوں سے محفوظ نہیں ہوگی۔ [5]
[1] . http://www.fetan.ir/home/10729
[2] . http://www.iribnews.ir/00512x
[3] . https://tn.ai/567172
[4] . http://yun.ir/fzi7wa
[5] . www.mshrgh.ir/365450

 

امریکہ کی سڑکوں پر سونے کے قالین نہیں بچھے ہیں

  • ۶۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: آج سے صرف ۱۰ سال قبل تک امریکی زوال کے بارے میں کچھ بولنا لکھنا شاید کافی مشکل تھا لیکن آج قریب الوقوع واقعے کو پوری دنیا میں ایک مسلمہ حقیقت سمجھا جاتا ہے۔ کوئی بھی اس نکتے کو فراموش نہیں کرسکتا کہ ۲۰۰۸ع‍ کے مالی بحران اور مغرب میں وسیع پیمانے پر مالیاتی زوال  کے بعد وہ مفہوم کلی طور پر نابود ہوگیا جس کو امریکن ڈریم کا نام دیا جاتا رہا تھا۔
امریکن ڈریم کا مزید کوئی وجود نہیں تھا اور ۹۹٪ عوام کے احتجاجات نے بھی واضح کردیا کہ امریکہ کو عظیم بحران کا سامنا ہے اور اس بحران کا سبب اس ملک کی طاقت کا زوال تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کا [کم از کم ایک] سبب یہ تھا کہ امریکیوں کے مابین امریکن ڈریم پھیکا پڑ گیا ہے۔
اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو اپنی سرحدوں میں [واپس] لانا چاہتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ امریکی طاقت زوال کی طرف کیوں جارہی ہے؟ اور امریکہ کو محدود کرنے کے لئے ہونے والے یہ اقدامات کس حد تک امریکہ کی نام نہاد بالادستی (Hegemony) کو کم کرسکیں گے؟
مثالیت پسندی اور مادہ پرستی کی کشش
امریکہ بہر صورت، اپنی تاریخ اور بین الاقوامی سطح پر اپنے رویوں کی بنا پر، عالمی توجہات کا مرکز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو امریکی بالادستی کا نام دیا ہے جاتا ہے بعینہ وہی چیز ہے جس کو امریکن ڈریم کہا جاتا ہے۔ امریکن ڈریم وہ سب کچھ ہے جس کے اوپر ریاست ہائے متحدہ امریکہ آج تک قائم رہا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آج امریکن ڈریم کے نام کا کوئی مفہوم نہ ہوتا تو شاید امریکی طاقت نامی چیز بھی نہ ہوتی۔
اب اس فرض [اور تصور] کے ساتھ کہ، بین الاقوامی معاملات میں تعمیری اثر و رسوخ کی امریکی اہلیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ دنیا والے امریکہ کے سماجی نظام اور بین الاقوامی کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؛ تو ہم نتیجہ لیں گے کہ اگر امریکہ کے اندر کے منفی حقائق اور اس کے بیرونی سیاسی اقدامات ـ جو کہ بین الاقوامی نفرت کا باعث ہوئے ہیں ـ امریکہ کے تاریخی کردار کو ناپسندیدہ بنا دیں تو امریکہ کی عالمی وضع (position) لامحالہ، زوال پذیر ہوگی۔ چنانچہ امریکہ کو اپنی تمام تر منفرد اور موروثی طاقت کو بروئے کار لاکر اپنے حیرت انگیز اندرونی مسائل پر غلبہ پانا ہوگا اور اپنی بےلگام خارجہ پالیسی کو تبدیل کرے تا کہ اپنی ہمہ جہت اور منظم برتری کا تحفظ کرسکے۔
کئی عشروں کے دوران “امریکن ڈریم”  نے کروڑوں انسانوں کو اپنی زلفوں کا شیفتہ بنا کر انہیں امریکی ساحلوں تک کھینچ لیا ہے۔
امریکن ڈریم اور جاذبیت
بہت سے بیرونی سائنسدان، اطبّاء اور سرمایہ کار آج بھی سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں ان کے لئے کام کاج کے مواقع موجود ہیں اور زیادہ تسلی بخش سماجی صورت حال نیز سستی زندگی ان کا انتظار کررہی ہے! جبکہ ان کے اپنے ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ نوجوان نسل کے لوگ امریکہ میں اعلی جامعاتی تعلیم کے حصول کے لئے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ سے ایک اعلی تعلیم سند انہیں اپنے ملک میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی زیادہ بہتر پیشہ ورانہ ماحول فراہم کرسکتی ہے۔ ہر سال تقریبا ۱۰ لاکھ بیرونی طلبہ حصول تعلیم کے لئے امریکہ پہنچتے ہیں اور امریکہ کے اندر کے صورت حال کے شیدائی بن کر وہیں رہ جاتے ہیں۔ [اور یوں جن ملکوں سے وہ آئے ہیں وہ ان افراد کی اہلیتوں اور صلاحیتوں سے کلی طور پر محروم ہوجاتے ہیں]۔
اسی طرح مرکزی امریکہ کے غریب عوام، جو اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر امریکہ کی غیر فنی اور غیر تخصصی منڈی میں کام تلاش کرنے کے لئے آتے ہیں، در حقیقت ایسا ذاتی انتخاب کرچکے ہیں جو انہیں ان لوگوں سے ممتاز کردیتا ہے جو اس طرح کے پر خطر سفر کی جرات نہیں رکھتے۔ ایسے افراد کے لئے امریکہ آج بھی پہلے سے بہتر زندگی کی خاطر، جاذب ترین اور قریب ترین منزل ہے۔  ان افراد کے ذاتی سپنوں کا اصل فائدہ آخرکار امریکہ کو پہنچتا ہے۔
امریکہ کی جاذبیت اور کشش کی کنجی مثالیت پسندی (idealism) اور مادہ پرستی (materialism) کے دو عناصر کے ملاپ سے معرض وجود میں آئی ہے اور یہ دونوں عناصر انسانوں کی روحوں کو اکسانے اور متحرک کرنے کے لئے ہیں۔
امریکہ کی شخصیت ابتداء ہی سے مثالیت پسندی اور مادہ پرستی کے دو عناصر، کے آئینے میں دیکھی اور دکھائی گئی ہے۔ اسی بنا پر بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) کے اطراف کے لوگ ـ جو اپنے ملکوں کو لئے وہی کچھ چاہتے تھے جو امریکی انقلاب نے بظاہر اپنے عوام کے لئے چھوڑ رکھا تھا ـ امریکہ کی طرف کھنچ گئے۔ امریکہ جانے والے مہاجرین ایسے خطوط اپنے عزیزوں کے لئے لکھتے تھے جن میں امریکہ کی مالیاتی صورت حال اور ان افراد کی سماجی شخصیت کے سلسلے میں ـ مبالغہ آمیزی پر استوار ـ دلفریب تصویر دکھائی جاتی تھی۔ چنانچہ بہت سوں کو یہ المناک حقیقت تلاش کرنے کے لئے خود امریکہ جانا پڑا کہ “امریکہ کی سڑکوں پر سونے کے قالین نہیں بچھے ہیں”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲