کرونا کی وبا اور مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ

  • ۳۲۷

بقلم سید نجیب الحسن زیدی
ہمارے سامنے ایک طرف کرونا کی خطرناک وبا ہے دوسری طرف تیزی سے بدلتے ہوئے ملک کے حالات ہیں ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جہاں ہم اس بیماری کا مقابلہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بیدار رہیں جاگتے رہیں ایک طرف جہاں ہمارے دین کا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم خود کو اس وبا سے بچائیں وہیں یہ بھی ضروری ہے دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں چنانچہ جتنا  ضروری یہ ہے کہ ہم اس بیماری سے مل جل کر مقابلہ کریں وہیں اس بات پر توجہ بھی ضروری ہے کہ اس بیماری سے لڑتے ہوئے اپنے دینی اور قومی فرائض سے غافل نہ ہوں اس لئے کہ ہمارا دشمن جہاں ہر طرح کے حربے اپنا کر ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے وہیں وہ حقیقی اسلام کی بیخ کنی کا کوئی موقع بھی وہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا، یہی وجہ ہے کہ اس بیماری و خطرناک وبا میں بھی وہ اپنے مکروہ عزائم کو جامہ پہنانے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی نہیں کر رہا ہے بلکہ اسے ایک فرصت اور بہترین موقع سمجھتے ہوئے اسکی کوشش ہے کہ جب ہر ایک اپنے میں لگا ہے ایسے میں جتنا ہو سکے اس بیماری سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ اپنے ناپاک عزائم کو پورا کیا جا سکے ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے مختلف دشمن الگ الگ انداز سے ہمارے خلاف منصوبہ بندی کرتے نظر آ رہے ہیں، ملکی سطح پر  پورے مسلمانوں کے خلاف جو فضا بنی ہے وہ آپکے پیش نظر ہے، کس طرح کرونا کی اس وبا کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے  تبلیغی جماعت کا معاملہ اور میڈیا کی اشتعال انگیزی آپ کے پیش نظر ہے، ایک اور مشکل جو ہمارے سامنے ہے وہ مختلف جگہوں پر مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو ہراساں کرنا اور انہیں اس بیماری کا ذمہ دار قرار دینا یہ وہ بات ہے جو وقتا فوقتا ہمارے کانوں میں پڑتی رہتی ہے ایسے میں ضروری ہے کہ بہت سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کریں ایسا نہ ہو کہ محض اس بنیاد پر کہ جس کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ ہو رہا ہے چونکہ وہ ہمارے مذہب و مسلک کا نہیں ہے ہم بھی جھوٹے پروپیگنڈہ کا حصہ بن جائے جیسا کہ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملا ہے کہ بعض اپنے ہی لوگوں نے  ان مسلمانوں کو نشانہ بنایا جنکا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا بغیر یہ جانے ہوئے کہ جو باتیں میڈیا کی جانب سے پیش کی گئیں انکا بیشتر حصہ وہ تھا جو جھوٹ و فریب پر مبتنی تھا اور یہ سلسلہ مختلف انداز سے اب بھِی جاری ہے۔ اسکے علاوہ آپ دیکھیں کہ جہاں کرونا کی اس وبا میں سب سے زیادہ حکومت کی توجہ اس کرونا سے لڑائی اور مقابلہ پر ہونی چاہیے تو ہمارے سامنے ہے کہ پورے ملک میں کیا صورت حال ہے، کہیں فلمی کرداروں کو زیر بحث لا کر لایعنی باتوں میں لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے تو کہیں مختلف کیسز میں مسلمانوں کو پھنسایا جا رہا ہے، دہلی فسادات کے سلسلہ سے بالکل واضح ہے کہ پولیس کس انداز سے اور کس کے اشارے پر کام کر رہی ہے  ایسے میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس بیماری کے ساتھ ساتھ بیدار رہتے ہوئے نظر رکھیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے ہی اپنے ملک میں کیا کچھ ہو رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مسائل کا صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں اور حالات کی ڈگر کو پہچانیں کہ اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے ہمیں بہت ہی سوچ سمجھ کے قدم آگے بڑھانا ہوگا ۔

 

فلسطین کے داخلی امن میں ۴ عرب ممالک رکاوٹ

  • ۳۴۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: لبنان کے ایک اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ چار ممالک، اردن، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات فلسطینیوں کی تحریک فتح اور اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے مابین امن کے مخالف ہیں اور مفاہمت کے عمل میں رکاوٹ کھڑی کررہے ہیں۔
 لبنانی اخبار "الاخبار" کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چار عرب ممالک فلسطینی مزاحمتی گروہوں "فتح" اور اسلامی تحریک "حماس" کے مابین اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں جو حالیہ دنوں استنبول میں ہوا تھا۔

الاخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ، محمود عباس ، حماس اور فتح کی تحریکوں کے مابین طے پانے والے افہام و تفہیم کی بنیاد پر، چھ ماہ کے شیڈول کے مطابق فلسطینی عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی توقع کی جا رہی ہے، کئی عرب ممالک عام انتخابات کو روکنے اور فلسطینی گروہوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔  
الاخبار نے بتایا کہ یہ اطلاع ملی ہے کہ حالیہ افہام و تفہیم کے ساتھ چند عرب ملکوں کی مخالفت عام انتخابات کے حوالے سے محمود عباس کے حکم صادر کرنے میں تاخیر کا باعث بنی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر ، مصر اور اردن کے دباؤ اور اس کے بعد کچھ خلیجی عرب ریاستوں کے دباؤ کے بعد ، سیکریٹریوں کا اجلاس جو اس ماہ کی تیسری تاریخ کو ہونا طے پایا تھا پیچھے ہو گیا ہے وہ اجلاس جس کی توقع کی جارہی تھی کہ اس میں دیگر گروہوں کے ساتھ بات چیت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے حکم صادر کر دیا جائے گا۔  
بعض ذرائع نے الاخبار کو بتایا کہ فتح تنظیم کے وفد کے گذشتہ ہفتے قاہرہ کے دورے کے دوران (استنبول معاہدے کے بعد)، اس تحریک کو معلوم ہوا ہے کہ ترکی میں معاہدے کے طے پانے سے مصری متفق نہیں ہیں۔ تاہم ، فتح نے استدلال کیا کہ یہ معاہدہ ترکی کی نگرانی یا ثالثی کے بغیر استنبول میں واقع فلسطینی قونصل خانے میں ہوا ہے۔
تاہم ، ذرائع نے انکشاف کیا کہ مصریوں کو ان کے یہ بیانات پسند نہیں آئے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف معاہدے کی مخالفت کی بلکہ انتخابات کے انعقاد کی بھی مخالفت کی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، مصر کی مخالفت کی ابتدائی وجہ یہ تھی کہ قاہرہ کی نگرانی سے دور فلسطینی گروہوں کے درمیان کسی بھی طرح کا باہمی مصالحت اور تعاون پر مبنی معاہدہ در حقیقت مصر کی ۱۴ سالہ زحمتوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے جو وہ ان گزشتہ سالوں سے کرتا آیا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ مصر کے نزدیک یہ وقت انتخابات کے لیے مناسب نہیں ہے چونکہ ان انتخابات میں امریکہ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

 

 

یہودیت اور نسل پرستی

  • ۳۵۳


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ادیان ابراہیمیؑ میں یہودیت وہ واحد دین ہے، جس کی بنیاد نسل پرستی پر ہے۔ یہودی خود کو میراث موسوی کا امین سمجھتے ہیں، یہاں تک مسئلہ نہیں تھا، مگر یہ حق وہ کسی اور کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر کسی اور نسل سے تعلق رکھنے والا کوئی انسان یہودیت قبول کر لے تو وہ درجہ اول کا یہودی نہیں بن سکتا۔ ان میں ماں یہودی باپ غیر یہودی یا عکس میں بھی رتبہ کے اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے۔ یہودیت ان ادیان میں سے ہے، جن کے ماننے والے تبلیغ نہیں کرتے یا اس پر بہت زیادہ زور نہیں دیتے۔ یوں ایک طرح سے نسلی تفاخر ان میں موجود ہے، جس کے وجہ سے یہ غیر بنی اسرائیلیوں کو دوسرے درجے کے انسان سمجھتے ہیں۔ اچھی طرح یاد نہیں مگر صیہونیت کا مذہبی بیانیہ ان کے اس مذہبی ڈیکلریشن سے بھی واضح ہوتا ہے، جس میں انہوں نے فلسطینی بچوں کو اس لیے مارنا اور قتل کرنا جائز بتایا تھا کہ یہ بڑے ہو کر اسرائیلیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مدمقابل اسلام اور مسیحت میں ایسا نہیں ہے، جو بھی اسلام یا مسیحت قبول کر لے، وہ برابر کا مسلمان یا مسیحی ہوتا ہے۔
پچھلے چند روز سے اسرائیل میں شدید مظاہرے ہو رہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ نسل پرستی کا معاملہ اس قابض ریاست میں گھمبیر صورتحال اختیار کرچکا ہے۔ ایک پولیس آفیسر نے سلیمان ٹکہ نام کے ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، سلیمان کے والدین کا تعلق ایتھوپیا سے تھا، اس لحاظ سے نسلی طور پر یہ سیاہ فام تھے۔ اس قتل نے دہائیوں سے جاری اس نسل پرستی کے خلاف پسے ہوئے طبقات کو اٹھنے کا موقع دے دیا۔ لوگ بڑی تعداد میں اسرائیلی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، مظاہروں کے ساتھ ساتھ بات جلاو گھراو تک پہنچ گئی۔ یہ واقعہ تو ان مظاہروں کا سبب بن گیا، اصل میں جو یہودی موسیٰ اور سلیمان نامی آپریشنز کے ذریعے ایتھوپیا سے اسرائیل منتقل کیے گئے، اسرائیل میں ان کی آبادی تقریباً ۱۴۰۰۰۰ ہزار افراد پر مشتمل ہے، جو کل آبادی کا محض ڈیڑھ فیصد ہے۔ ان لوگوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اور یہ لوگ تعلیم میں بہت پیچھے ہیں، اسی طرح ان میں بے روزگاری بھی بہت زیادہ ہے۔ مظاہرین کے انٹرویوز دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک گھٹن کی زندگی بسر کر رہے ہیں، جس میں یہ نسل پرست ریاست ان کا استحصال کر رہی ہے اور انہیں بنیادی حقوق تک رسائی نہیں ہے۔
میں سوچ رہا تھا کہ ظاہراً دنیا بھر سے صرف اور صرف مذہب یعنی یہودیت کی بنیاد پر لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اسرائیل میں آباد کیا گیا۔ بین الاقوامی طاقتوں نے اس کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل فراہم کیے، ان یہودیوں کو بھی خوشحالی کے سہانے سہانے خواب دکھائے گئے، مگر جب وہ پہنچے تو سفید چمڑی والے ان کے اہل مذہب ان کے استحصال کے لیے موجود تھے۔ ایسا کیوں ہوا کہ مذہب کی بنیاد پر جمع ہونے والوں میں رنگ کی بنیاد پر اتنی تفریق پیدا ہوگئی؟ جلاو گھراو شروع کر دیا گیا اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، سینکڑوں پولیس والے زخمی ہوگئے اور کئی ایمبولینسز کو بھی آگ لگا دی گئی۔ اسرائیل میں گورے کالے کی یہ تقسیم امریکہ سے منتقل ہوئی، کیونکہ جو لوگ بہت زیادہ امیر ہیں اور جن کے پاس حکومت ہے، وہ یورپ یا امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں، امریکہ میں نسل پرستی کی ایک تاریخ ہے۔
قارئین کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکہ کی سینیٹ میں اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا کالے لوگ انسان ہیں یا انسان نہیں ہیں؟ کافی وقت یہ ڈیبیٹ چلتی رہی اور آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کالے لوگ تمام کے تمام انسان نہیں ہیں بلکہ ہر کالا بیس فیصد انسان ہوتا ہے۔ سینیٹ نے یہ بات قانونی طور پر منظور کر لی کہ کالے بیس فیصد انسان ہیں۔ اس لیے الیکشن میں یہ ووٹ ڈال سکتے ہیں، مگر ان کے پانچ ووٹوں کو ایک ووٹ شمار کیا جائے گا۔ یوں امریکی سینیٹ دنیا میں وہ پہلی سینیٹ ٹھہری، جس نے تمام جمہوری اصولوں کے مطابق اس کو قانون کی حیثیت دی۔ اسی طرح ایک لمبی مدت تک چینیوں کو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا تھا اور انہیں شہروں میں رہنے کی اجازت نہیں تھی، الگ بستیوں میں رہتے تھے، یعنی ایک طرح سے الگ باڑے بنا دیئے گئے تھے، جہاں یہ رہتے تھے۔
ان کا ہوٹلز اور بڑے بازاروں میں داخلہ ممنوع تھا۔ بعد میں اس قانون کو ظالمانہ قانون قرار دیتے ہوئے تبدیل کر دیا گیا، مگر تیس سال تک یہ قانون امریکہ میں نافذ رہا۔ ابھی بھی امریکہ میں بڑے پیمانے پر سیاہ فارم استحصال کا شکار رہے۔ امریکہ کی تاریخ میں پہلے سیاہ فام صدر صدر اوبامہ تھے۔ آپ گوگل پر چیک کر لیں، ہر سال سینکڑوں سیاہ فام امریکی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اسرائیل میں سیاہ فام لوگوں کے استحصال کی یہ روایت امریکہ سے آئی ہے، اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی ریاست صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ خود وہاں کی یہودی کمیونٹی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اسرائیلی ریاست پر ایک خاص گروہ مسلط ہے، جو مسیحیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کا استحصال کر رہا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ وہ انسانوں کا استحصال کر رہا ہے۔
اسلام نے مذہب کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصب کو روک دیا بلکہ کہا کہ مسلمان چاہے مشرق کا ہو یا مغرب کا، سیاہ رنگ ہو یا سفید رنگ ہو، اس کی زبان عربی ہو یا غیر عربی، ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بارگاہ نبوی میں حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی حیثیت بڑے بڑے عرب سرداروں سے زیادہ تھی، روم سے صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ نبوی میں خاص مقام رکھتے تھے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تو نبی اکرم (ص) نے فرما دیا کہ یہ ہماری اہلبیتؑ میں سے ہیں۔ جب ایرانی طلبہ نے امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر لیا تو امام خمینیؒ نے عورتوں اور سیاہ فام ملازمین کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب بی بی سی کے نمائندے نے پوچھا تو امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ اسلام میں عورتوں کے بہت زیادہ حقوق ہیں اور سیاہ فام لوگ امریکہ میں مظالم کا شکار ہیں، اس لیے میں نے عورتوں اور سیاہ فام ملازمین کو چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ حکم دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق تھا، جس میں مظلوم کی تالیف قلب کی گئی تھی۔
بقلم ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

 

اسلام کے تئین غداری کی توجیہ کے لیے آل زائد اور آل خلیفہ کی کوشش

  • ۴۰۶

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کو رکوانے اور امریکی ایف ۳۵ جنگی طیارے خریدنے جیسے جھوٹوں کے ذریعے، امارات میں آل زائد اور بحرین می آل خلیفہ اس غداری اور خیانت کی توجیہ کی تلاش میں ہیں جو انہوں نے اسلام، امت مسلمہ اور فلسطین کے مقدسات کے ساتھ کی ہے۔
حالیہ دنوں اسرائیل کے وزیر جنگ بنی گینٹز نے سعودی اور اماراتی نامہ نگاروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ تل ابیب کا عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف محاذ جنگ کو مستحکم بنانا تھا۔
انہوں نے کہا ، "ہمارے پاس ایران کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے، لیکن بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے سے ایران کے خلاف دشمنانہ کاروائیوں کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ "
ایران اور مزاحمتی محاذ کے خلاف بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اہم مسئلہ اس گٹھ جوڑ کا آشکارا ہونا ہے کہ جو ایران، مزاحمتی محاذ اور علاقے کی اقوام کے فائدے میں تمام ہوا ہے اس وجہ سے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک قدس کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ دشمنی کے بارے میں اپنے لوگوں کے ساتھ جھوٹ سے کام نہیں لے سکیں گے۔
گینٹز جانتے ہیں کہ ان کا بیان اس بارے میں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف جنگ کے محاذ کو مستحکم کرنا ہے محض جھوٹ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنگ اس معاہدے سے پہلے بھی جاری تھی اور صہیونی ریاست اور اس کے حامی مزدور ہمیشہ ایران اور مزاحمتی محاذ سے شکست کھاتے رہے ہیں اور آج ان کی فوج بقول ان کے اسرائیل کی شکست نا پذیر فوج شام میں حزب اللہ کے ایک مجاہد کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے اور یہاں تک کہ ۴۸ گھنٹے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کی توانائی نہیں رکھتی۔
آل زائد، آل خلیفہ اور آل سلمان گوسفندوں کے مانند ہیں کہ جو وہائٹ ہاؤس کی صف میں کھڑے ہیں تاکہ ٹرمپ آئندہ انتخابات میں دوبارہ وہائٹ ہاؤس میں قدم رکھنے اور صہیونی ریاست کی حمایت کرنے میں ان کے سر قلم کریں۔
اسی وجہ سے ان گوسفندوں کو چاہیے کہ گینٹز اور اس جیسوں کی کھوکھلی حمایتوں پر بھروسہ نہ کریں اس لیے کہ گینٹز ایسا شخص ہے جو حزب اللہ، حماس اور جہاد اسلامی کے جوانوں سے ڈر کر اپنا زیادہ وقت پناہ گاہوں میں گزارتا ہے۔

 

 

کیا فلسطین کے انتخابات واقعا نجات دہندہ ہیں؟

  • ۳۴۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: پچھلے کچھ دنوں، اسلامی تحریک الفتح میں فلسطینی قومی مفاہمت کے نئے سربراہ ، ’جبریل رجوب‘ نے تمام عرب رہنماؤں کو اہم پیغامات ارسال کیے ہیں جن میں انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ فلسطینی امن ٹرین صدارتی، پارلیمانی اور قومی انتخابات کی جانب حرکت میں آ چکی ہے اور اب کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
جبریل رجوب جو تحریک حماس کے ساتھ مکمل بات چیت کے لئے استنبول گئے ہوئے ہیں اپنے روایتی حریف ’محمد دحلان‘ کی جگہ لینے کے لیے مشترکہ عربی، اسرائیلی اور امریکی منصوبے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  
محمد دحلان امارات، سعودی عرب، مصر اور اسرائیل کے حامیوں میں سے ہیں۔ جبریل رجوب موجودہ حالات میں حماس کو اپنی نجات کا راستہ سمجھتے ہیں اور بخوبی واقف ہیں کہ مفاہمت اور انتخابات اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا بہترین اور سالم طریقہ ہے۔ چونکہ الفتح خود اندرونی طور پر انتشار کا شکار ہے۔  جبکہ حماس تاحال ہم آہنگ اور مضبوط ہے، اور اختلاف رائے تحریک کو تقسیم نہیں کرسکا، اور اگر فلسطینی صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہوتے ہیں تو ، دنیا اور عرب لامحالہ ایک ایسی حکومت کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے جو قانونی انتخابات سے وجود میں آئی ہو۔ اگرچہ فلسطینی فریقوں کو یقین ہے کہ اتحاد اور قانونی اداروں کی بحالی سے کوئی فرار نہیں ہوگا ، تاہم یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ فلسطینی جماعتوں اور گروپوں میں سے ہر کوئی اختلافات کا طبل بجائے۔ مثال کے طور پر ، حماس الفتح کی ضروریات سے بخوبی واقف ہے، لہذا وہ اپنے شرائط کو اس تحریک پر مسلط کرسکتی ہے۔ حالانکہ ان شرائط پر حد سے زیادہ اصرار مذاکرات کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔ حماس اب یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ امن اور صلح کی مخالفت کے اس کے اصول درست تھے، اور یہ آئندہ انتخابات میں اس کی بڑے پیمانے پر عوامی حمایت کی ضمانت دے سکتا ہے، کیونکہ عوام کبھی بھی ان لوگوں کی تلاش نہیں کریں گے جنھوں نے خود ہی اپنے عہدوں کی شکست کا اعتراف کیا ہے۔

یقینا، ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات الیکشن سے پہلے دینے کی ضرورت ہے ، جیسے: اگلے انتخابات کی زیادہ سے زیادہ حد کیا ہے؟ کیا اوسلو معاہدہ، جو ان کے اصل مالکان نے قابض حکومت کے ذریعہ پامال کرنے کے بعد فراموش کر دیا تھا، کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟ اور آخر کار سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کے شرائط کے مطابق ، مغربی کنارے ، غزہ اور قدس میں بیک وقت انتخابات کا انعقاد ممکن ہے؟ کیا صہیونی حکومت قدس میں انتخابات کرانے کی اجازت دے گی - جس کا امکان بہت کم ہے؟ کیا قدس کو انتخابات سے خارج کر دیا جائے گا یا اس کے لئے علیحدہ طریقہ کار پر غور کیا جائے گا؟ تحریک فتح کے پاس اپنے خدشات ہیں۔ کیا دحلان اور ان کے حامیوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جائے گا؟ اگر وہ پچھلی پارلیمنٹ کی بنسبت زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا ہوگا؟ کیا فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ، محمود عباس کی سربراہی میں ، رجوب اور ان کی اہم فکر جماعتیں دحلان کے ہم خیال ممبروں یا حماس تحریک میں اپنے مخالفین سے اتحاد کریں گے؟
ان سوالوں کے جواب دینا ابھی قبل از وقت ہو گا۔ لیکن یہ سوالات اٹھائے جانے کا جو چیز باعث بنے ہیں وہ رجوب کے حالیہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو انتخابات سے کوئی روک نہیں سکتا۔  اس دوران میں ایک سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا صہیونی حکومت قدس یا مغربی کنارے میں انتخاب کی اجازت دے گی؟ اور کیا یہ انتخابات سالم، شفاف اور سب کے یہاں قابل قبول ہوں گے؟
فلسطین کی موجودہ صورتحال خوفناک اور سمجھ سے باہر ہے ، لہذا پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں مفاہمت کے منصوبے کے لئے وسیع تر تحقیق اور مطالعہ کی ضرورت ہے۔

 

قدس کی صدائے استغاثہ پر مسلمان خاموش کیوں؟

  • ۳۵۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: قدس، قبلہ اول اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا دوسرا حرم ہے، یہ فلسطین کے ان دسیوں لاکھ مسلمانوں کی اصل سرزمین ہے، جنہیں عالمی استکبار نے غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں آج سے ۷۰ سال قبل سنہ ۱۹۴۸ء میں اپنے وطن سے جلاوطن کرکے قدس کو غاصب صہیونیوں کے تصرف میں دے دیا تھا۔ اس سامراجی سازش کیخلاف فلسطینی مسلمانوں نے شروع سے ہی مخالفت کی اور ان مظلوموں کی قربانی اور صبر و استقامت کے سلسلے میں پوری دنیا کے حریت نواز، بیدار دل انسانوں نے حمایت کی اور اسی وقت سے فلسطین کا مسئلہ ایک سیاسی اور فوجی جدوجہد کے عنوان سے عالم اسلام کے سب سے اہم اور تقدیر ساز مسئلے کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے۔ خدا نے وعدہ کیا ہے “اگر تم نے اللہ کی مدد کی تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثبات قدم عطا کر دے گا۔”
اب وقت آچکا ہے کہ دنیا کے مسلمان ایک ہو جائیں، مذہب اور اعتقادات کے اختلافات کو الگ رکھ کر حریم اسلام کے دفاع و تحفظ کیلئے اسلام و قرآن اور کعبہ و قدس کے تحفظ کیلئے، جو پورے عالم اسلام میں مشترک ہیں، وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک اور ایک ہو جائیں اور کفار و منافقین کو اسلامی مقدسات کی پامالی کی اجازت نہ دیں تو کیا مجال ہے کہ دو ارب سے زائد مسلمانوں کے قبلۂ اول پر چند لاکھ صہیونیوں کا تصرف، قتل عام اور غارتگری کا سلسلہ باقی رہ سکے۔ مگر جو بات امت مسلمہ کو خون کے آنسو رلاتی ہے، وہ علاقے کے عرب ممالک کے حکمرانوں کا منافقانہ رویہ ہے۔ عرب ممالک کے سربراہ یوں تو اپنے ہر مسئلے کو عربوں کا مسئلہ قرار دے کر اس کیلئے شب و روز کوششیں کرتے ہیں اور پورے عالم اسلام میں اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ کر مدد مانگتے ہیں، لیکن فلسطین کے مسئلے پر ان کا رویہ ہمیشہ منافقانہ رہا ہے۔
جیسا کہ سعودی شہزادے کی جانب سے اسرائیل کے بارے میں صاف بیان سامنے آیا کہ فلسطین کیساتھ جنگ کی صورت میں وہ یہودیوں اور اسرائیلی جمہوری خواہشات کا ساتھ دیں گے۔ شہزادے کا کہنا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی صورت میں عرب ممالک کی جانب سے اسرائیلی اقدامات کی مخالفت کے لئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کو روکنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ ایک جانب سعودی حکام خود کو اسلام، قرآن اور سرزمین نبوت اور حرمین شریفین کا خادم اور نمائندہ کہلاتے ہیں اور دوسری جانب اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو یہ کسی مذہبی اور سماجی سانحے سے کم شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل سے سعودی عرب کے تعلقات نہ صرف مسلم امہ بلکہ خود سعودی بادشاہت کیلئے بھی بہت نقصان دہ ثابت ہونگے اور اس سے سعودی بادشاہت ملک کے اندر بھی تنہائی کا شکار ہو جائیگی۔ مسلم امہ کبھی بھی اس چیز کو قبول نہیں کریگی اور سعودی عوام بھی اس بات کو قبول نہیں کریگی کہ سعودی بادشاہت چوری چھپے یا اعلانیہ اسرائیل سے کسی بھی قسم کے تعلقات قائم رکھے۔
عالمی اداروں کی خاموشی، عرب حکمرانوں کا منافقانہ رویہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے دوہرے معیار اور عالمی برادری کی عدم توجہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امت مسلمہ اتحاد و وحدت اور اسلامی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کے حل کیلئے میدان عمل میں آجائے۔ تل ابیب اور واشنگٹن کے تعلقات ہمیشہ وسیع پہلوؤں کے حامل رہے ہیں، کیونکہ جو بھی صدر امریکہ میں برسر اقتدار آتا ہے، اس کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ اسرائیل کیساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں دوسرے پر سبقت لے جائے۔ اسی سبب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات سے پہلے بھی اور وائٹ ہاؤس میں قدم رکھنے کے بعد بھی کھل کر اسرائیلی حکومت کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے امریکہ کی سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کے برخلاف قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ فلسطین منتقل کر دے گا۔ ٹرمپ حکومت، اسرائیل کیلئے بلا عوض امداد میں اضافے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیلی حکومت کو سالانہ تین ارب ڈالر بلاعوض امداد دی جاتی ہے، جس کا بڑا حصہ فوجی ساز وسامان پرخرچ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ سالانہ اربوں ڈالر آسان شرائط پر اسرائیل کو قرض دیتا ہے، جن سے اسرائیلی حکومت مغربی ملکوں کے جدید ترین اسلحے خریدتی ہے۔ امریکہ اسرائیل کی حمایت کرکے فلسطینیوں کیلئے مسائل پیدا کر رہا ہے، فلسطین پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے، لیکن حیرت کا مقام ہے کہ انسانیت کا درد رکھنے والے غیر مسلم یہ حقیقت مانتے ہیں کہ فلسطین میں ظلم ہو رہا ہے، مگر پھر بھی اسلامی دنیا خاموش ہے۔ اسرائیلی جارحیت کی کسی بھی عرب ملک نے اب تک مذمت نہیں کی، کیونکہ اب ان بادشاہتوں اور اسرائیل میں ان کی دوستی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اسرائیل ان کی بادشاہت کے تسلسل کا گرنٹر بن چکا ہے۔ اسرائیل کی جارحانہ اور دہشتگردانہ پالیسیوں اور عزائم سے واضح طور پر ایسا لگتا ہے کہ غاصب اسرائیل صرف فلسطین پر غاصبانہ تسلط تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ پوری دنیا کو اپنا غلام بنا کر اس پر حکومت کرنا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج مشرق وسطیٰ آگ میں جل رہا ہے، جنوبی ایشیا کا حال بھی اسی طرح ہے اور اگر ان تمام معاملات کی تحقیق کی جائے تو تمام تر سازشوں کے تانے بانے اسرائیل تک جا ملتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کی سمجھدار اور باشعور ریاستیں مل کر بیٹھ جائیں اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے امن کیلئے خطرہ، غاصب اسرائیلی ریاست کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور اسرائیلی ہٹ دھرمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسرائیل کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں لیا اور دنیا کے امن کو یقینی بنایا جائے۔ متعدد مرتبہ خود اسرائیلی ذرائع ابلاغ اس بات کا انکشاف کرچکے ہیں کہ اسرائیل مہلک اور خطرناک ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ دو سو سے زائد ایٹم بم رکھتا ہے، آخر اسرائیل کو ۲۰۰ ایٹم بم رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے، یہ اسرائیل ہی ہے کہ جس نے سرزمین فلسطین پر غاصبانہ تسلط کے بعد سے متعدد مرتبہ فلسطینیوں کو نہ صرف کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنایا ہے بلکہ آج کے دن تک خطرناک اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف عمل ہے، جبکہ دنیا کی مقتدر قوتیں جو بلند و بانگ دعوے کرتے ہوئے تو نظر آتی ہیں، لیکن دراصل اسرائیلی سفاک ریاست کے سامنے بے بس ہیں، جو اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی لگانے تو کیا اس کے ہتھیاروں کے بارے میں تذکرہ کرنا بھی گوارہ نہیں کرتی ہیں کہ کہیں خطرے کا رخ ان ہی کی طرف نہ ہو جائے۔
اسرائیل ہی وہ ناجائز ریاست ہے، جو فلسطینی زمین پر غیر قانونی بستیاں تعمیر کر رہی ہے۔ اسرائیل کی ناجائز رژیم نے تقریباً ۷ ہزار فلسطینیوں کو قید، فلسطینی پناہ گزینوں کو واپسی کے حق سے محروم، اپنے ہی شہروں میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے، یہاں تک فلسطینی عوام کو بیت المقدس ان کے اپنے دارالحکومت میں جانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسرائیلی ناجائز حکومت کے اہم وزراء یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ مستقبل میں فلسطینی نام کی کوئی بھی ریاست نہیں ہوگی اور بیت المقدس کو تقسیم نہیں کیا جائے گا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل کی ناجائز ریاست امن و امان کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ امریکہ اور برطانیہ غزہ میں مظلوم فلسطینی بچوّں کے قتل عام کی باضابطہ طور سے حمایت کر رہے ہیں۔ اگر دنیا کے کسی گوشے میں ایک جانور کو مار دیا جائے تو اس کا دنیا بھر میں پرچار کرتے ہیں، لیکن غزہ پر غاصب صہیونی حکومت کے حالیہ حملوں اور خاص طور سے فلسطینی معصوم بچوں کا قتل عام ان کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
اقوام عالم غزہ میں درد ناک واقعات کا مشاہدہ کر رہی ہیں کہ نام نہاد انسانی حقوق کے دعویدار ممالک اور تنظیموں کو، مغرب خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کے حامی قصّابوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کا منظر گویا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ غزہ میں غاصب صہیونی حکومت کے جرائم پر عالمی برادری کی معنی خیز خاموشی، دنیا کی تلخ حقیقت کی ہولناک تصویر ہے۔ غزہ میں صہیونی حکومت کے وحشیانہ حملوں پر اسرائیل کے حامی مغربی ذرائع ابلاغ ایسی حالت میں چپ سادھے ہوئے ہیں، جب کہ صہیونی معاشرے میں ہر قسم کی اخلاقی برائیاں اور بدعنوانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ جرائم مقبوضہ فلسطین میں انجام پا رہے ہیں۔ اس کے باوجود صہیونیوں کو ہر حالت میں مغرب کی حقوق انسانی کی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے، حتیٰ مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی نوجوان کو زندہ جلا دینے پر مبنی صہیونی آبادکاروں کا وحشیانہ اقدام بھی مغربی ممالک کے نام نہاد انسانی حقوق کے حامیوں کے ضمیر کو بیدار نہ کر سکا اور صہیونزم کے حامی ذرائع ابلاغ نے تو گویا اس جارحیت کو دیکھا ہی نہیں۔
بلا شبہ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوں میں فلسطینی عورتوں اور بچوں کا قتل عام، مغرب میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے دم توڑنے کا غماز ہے اور غزہ میں انجام دی جانے والی وحشیانہ کارروائیوں میں اسرائیل کے حامی خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ بھی شریک ہیں۔ غزہ ایسی حالت میں صہیونی فوجیوں کے حملوں کا نشانہ بن رہا ہے جبکہ ۲۰۰۶ء سے اسرائیل نے اس علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ پر غاصب صہیونی حکومت کے وحشیانہ حملے، جنگی اور انسانیت کیخلاف جرائم کا حقیقی مصداق ہیں اور مغرب کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی غزہ کی حالیہ صورت حال کے مقابلے میں خاموشی نے مغرب میں انسانی حقوق پر خط تنسیخ کھینچ دیا ہے اور یہ تنظیمیں صرف استکباری طاقتوں کے ناجائز مفادات کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔ اسرائیل کا مفاد اسی میں ہے کہ عرب ملکوں پر طاغوتوں اور ڈکٹیٹروں کی حکومت قائم رہے۔ یہ ڈکٹیٹر بڑی شدت سے جمہوریت اور آزادی کے مخالف ہیں اور اسرائیل کے مفادات کا تقاضا ہے کہ عرب ملکوں میں اسی طرح کے حکمران برسر اقتدار رہیں۔
واضح رہے کہ عرب ملکوں اور قدس کی غاصب حکومت کے درمیان کئی برسوں سے خفیہ تعلقات ہیں، جو اب دنیا پر آشکار ہوچکے ہیں۔ ستاون ممالک کی اسلامی اتحادی افواج کی ٹھیکیدار سعودی عرب کی حکومت جو خود کو خادمین حرمین شریفین کہتی ہے، فلسطین کے موقف پر خاموشی اختیار کئے بیٹھی ہے، جو کہ بلاشبہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے مفاد میں ہے۔ جیسا کہ سعودی شہزادے کی جانب سے اسرائیل کے بارے میں صاف بیان سامنے آیا کہ فلسطین کیساتھ جنگ کی صورت میں وہ یہودیوں اور اسرائیلی جمہوری خواہشات کا ساتھ دیں گے۔ شہزادے کا کہنا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی صورت میں عرب ممالک کی جانب سے اسرائیلی اقدامات کی مخالفت کے لئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کو روکنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ اگر تیسری دنیا کے کسی ملک اور خصوصاً کسی اسلامی ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو تو ساری دنیا بہت شور مچاتی ہے، لیکن اگر خود ان سپر پاورز اور ترقی یافتہ ممالک کے ہاں ایسا کچھ ہو جائے تو ایسا سنّاٹا چھا جاتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
انسانیت کیخلاف ہونیوالے جرائم میں امریکہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس میں سیاہ فاموں اور مسلمانوں کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے، ان ترقی یافتہ ممالک میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کسی کو کیوں نظر نہیں آتیں؟ افغانستان، یمن، شام، مصر، لیبیا، فلسطین اور کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقوق کی پامالیوں اور ان میں موجود سپر پاورز کے کردار پر کوئی واویلا کیوں نہیں مچایا جاتا؟ دنیا میں بسنے والے وہ انسان جن کا خون انتہائی سستا سمجھا جاتا ہے، ان میں مسلمان سب سے زیادہ ہیں، فلسطین میں پوری پوری جیتی جاگتی ہنستی بستی آبادی کو سیکنڈز میں خون میں نہلا دیا جاتا ہے، شہر کے شہر بمباری کرکے ہموار کر دیئے جاتے ہیں، لیکن کسی انسانی حقوق کی تنظیم کے پیٹ میں درد تک نہیں ہوتا، کوئی سپر پاور دیگر معاملات کی طرح خدائی فوجدار بن کے میدان میں نہیں کودتی بلکہ بعض اوقات ظالم کے ہاتھ مزید مضبوط کرتے دکھائی دیتی ہے۔ ابھی تک تو متواتر اسرائیلی حکومتیں کسی نہ کسی طرح یورپ کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہی ہیں کہ ان کی جانب سے کسی بھی قسم کا سیاسی دباؤ اسرائیل کو امن مذاکرات کے عمل سے باہر کر دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ امن مذاکرات کا یہ عمل بہت عرصہ پہلے ہی اپنا برائے نام وجود بھی کھو چکا ہے، اسرائیل نے فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کی حد کر دی، شیر خوار بچوں کو بھی نہیں بخشا، کمسن لڑکے لڑکیوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس کی جیلوں میں جہاں درجنوں فلسطینی مرد و خواتین قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، وہیں دو سو سے زائد کمسن بچے بھی اپنے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کا قصور یہ ہے کہ انہیں اپنی مقدس اراضی سے پیار ہے۔ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ کیلئے وہ اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ اسرائیلی پولیس اور سکیورٹی فورسز کا ظلم و بربریت بڑھ جاتا ہے تو یہ معصوم اپنے ہاتھوں میں پتھر لئے یا پھر غلیلوں سے ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ویسے بھی اسرائیلی فورسز کے عصری اسلحہ کے سامنے ان پتھروں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، پھر بھی کمسن فلسطینیوں کی جانب سے برسائے جانے والے سنگ اسرائیلی فورسز کا غرور و تکبر خاک میں ملا دیتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی سنگدلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ فلسطینی کمسنوں کو اغوا کرتے ہوئے انہیں جیلوں میں بند کر دیتی ہے۔
ان بچوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ یہودی آبادیوں پر دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے تھے یا اس منصوبہ کا حصہ تھے، جو یہودیوں کی تباہی و بربادی اور ہلاکتوں کیلئے بنایا گیا تھا۔ حقوق انسانی کے تحفظ کا دعویٰ کرنیوالا امریکہ فلسطینی بچوں کو جیلوں میں ڈالے جانے سے متعلق اسرائیلی مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کے استحصال کیخلاف آواز اُٹھانے کی جرأت ہی نہیں، اس جرم میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی شامل ہے اور اس کا ثبوت امریکی حکومت کی خاموشی ہے۔ اس ایسوسی ایشن کا یہ بھی الزام ہے کہ امریکہ اسرائیل کی بربریت پر تنقید کرنے سے گریز کرتا ہے، لیکن اس کے برعکس اسرائیل کے تشدد اور ظلم و جبر کی جب فلسطینی مزاحمت کرتے ہیں تو ان کی مذمت کرنے میں وہ کسی قسم کی تاخیر نہیں کرتا۔ یہ دراصل امریکی حکومت کا دوغلا پن ہے۔
ایک طرف تو مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا مسئلہ ہے اور دوسری طرف درد اور تکلیف کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی سرپرستی والے عرب ممالک مسلمانوں کے ابدی اور دائمی دشمن اسرائیل کیساتھ گہری دوستی اور تعلقات قائم کر رہے ہیں اور اسرائیل کے شوم منصوبوں کو عرب ممالک میں نافذ کرکے اسرائیل اور امریکہ سے شاباش حاصل کر رہے ہیں۔ کیا اسرائیل نے کسی عرب سرزمین پر غاصبانہ قبضہ نہیں کیا۔؟ اسلامی مقدسات کی توہین نہیں کی؟ فلسطینی بچوں کو بے رحمی کیساتھ قتل نہیں کیا۔؟ مسلمانوں کیساتھ عرب حکمرانوں کی خیانت طشت از بام ہوگئی ہے۔ واضح ہوگیا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے حامی عرب ممالک پر امریکہ اور اسرائیلی مزدوروں کا قبضہ ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی نیابت میں اسلامی ممالک پر جنگ مسلط کر رہے ہیں اور علاقہ میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔
تحریر: شبیر احمد شگری

 

عرب امارات کی صہیونیت نوازی، امت میں نئے فتنے کا آغاز

  • ۴۱۱

بقلم عادل فراز

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ اور سفارتی تعلقات بحال کرکے عالم اسلام کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے ۔اسرائیل جوکہ فلسطین کی سرزمین پر غاصبانہ تسلط جمائے ہوئے ہے ،اس کو تسلیم کرنا مسلمانوں کے ساتھ غداری ہے۔اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا یہ بتارہاہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں پر استعمار کا کتنا اثر ہے ۔اس معاہدہ کے نفاذ کے وقت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنز کی موجودگی بتارہی ہے کہ یہ سارا کھیل کس نے رچایا ہے ۔استعماری طاقتیں عالم اسلام کے خلاف متحد ہیں اور نام نہاد مسلمان حکومتیں ان کے تلوے چاٹ رہی ہیں تاکہ امت مسلمہ کے مفادات کا سودا کیا جاسکے۔ اس معاہدہ نے متحدہ عرب امارات کی منافقت اور اسرائیل نوازی کو بے نقاب کردیا۔ مشرق وسطیٰ پر تسلط کا یہ پورا اسکرپٹ استعماری آلۂ کاروں نے لکھاہے۔ چونکہ اسرائیل کے وجود کا مسئلہ مشرق وسطیٰ میں تسلیم ہوئے بغیر عالمی حیثیت اختیار نہیں کرسکتا لہذا پہلے مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے زرخرید حکمرانوں کی زبان سے اپنے وجود کو تسلیم کروا کر عالمی حیثیت حاصل کرنے کی راہ میں پیش رفت کی گئی ہے ۔امن معاہدہ کے بعد اسرائیل سے براہ راست متحدہ عرب امارات پرواز شروع ہوچکی ہے ۔اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنز نے کہاکہ ’یہ مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نیا سکرپٹ ہے۔‘ ظاہر ہے یہ اسکرپٹ عالم اسلام کے مفادات کے خلاف اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کی راہ میں بڑا قدم ہے ۔جارڈ کشنز نے اس معاہدے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا ہے جوکہ اس سے پہلے ’ صدی ڈیل ‘ کے اسکرپٹ کو بھی حتمی شکل دے چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی مفادات کے تحفظ اور اس کے وجود کو عالمی حیثیت عطا کرنے میں جارڈ کشنز کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا مگر افسوس مسلمان حکمران ایسے استعماری عہدیداروں کی غلامی کو اپنے لئے باعث شرف سمجھ رہے ہیں۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور عالم اسلام کے اتحاد کے لئے اسکی کوششوں کے خلاف استعمار کا بڑا قدم ہے ۔ایران کی سیاست نے اکثر اسلامی ملکوں کو امریکہ و اسرائیل سے الگ تھلگ کر دیا تھا ۔اس معاہدے کے بعد متحدہ عرب امارات ان عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ منسلک کرنے کی جی توڑ کوشش کرے گا ۔ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی قربت میں اضافہ ضرور کیاہے مگر کیا ایران کی طاقت متحدہ عرب امارات کے لئے کسی خطرہ کی گھنٹی ہے؟ اگر اسلامی ملک ایک دوسرے سے اس قدر خوفزدہ ہیں تو ان کے اس خوف کا فائدہ اسرائیل جیسے ملک ضرور اٹھائیں گے ۔ایران امریکہ کے ذریعہ عائد کی گئی عالمی معاشی پابندیوں کا شکار ہے مگر اس نے کبھی استعمارکے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے ۔اس کے عوام کی مقاومت عالم اسلام کے لئے بڑا سبق ہے ۔ایران میں جتنی بھی ترقی ہے وہ اس کےعوام کی مرہون منت ہے ۔مگر متحدہ عرب امارات نے یہ فیصلہ کرلیاہے کہ اس کی ترقی اسرائیل کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔لہذا اس نے عالم اسلام کے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیل کےسامنے سرتسلیم خم کردیا۔ اس کے دورس نقصانات ہونگے جن کا اندازہ اسلامی دنیا کو ہونے لگاہے۔اس معاہدے کےبعد عرب ممالک یروشلم کو اسرائیل کا پایۂ تخت تسلیم کریں گے ۔مصر1979 اور اردن1994میں پہلے ہی اسرائیل کے وجود کو تسلم کرچکے تھے۔اب بحرین اور متحدہ عرب امارات بھی اس ناپاک منصوبے کی تکمیل میں شامل ہوچکے ہیں۔
استعمار اس معاہدے سے عالم اسلام کی توجہ ہٹانے کے لئے کئی طرح کے محاذ پر کام کررہاہے۔ اول تو یہ کہ اس نے شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان نفرت انگیزی شروع کردی ہے ،جس پر عرصۂ دراز سے لگام کسی جاچکی تھی ۔ایران اور شیعوں کے مراجع عظام کی کوششوں سے شیعہ و سنی بیحد قریب آچکے ہیں۔ استعمار کی آنکھوں میں یہ قربت کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے اور اسکے وجود کے لئے بھی خطرہ ہے ،لہذا اس نے ایسے تکفیری گروہوں کو بڑھاوا دینا شروع کردیا ہے جو مسلمانوں کے درمیان نفرت اور شرانگیزی کو فروغ دے سکیں۔
رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ خامنہ ای ،سرزمین عراق سے مرجع عالیقدر آیت اللہ سید علی سیستانی اور دیگر مراجع کرام نے شیعہ و سنی اتفاق و اتحاد کےلئے جتنی کوششیں کی ہیں وہ عالم اسلام کے لئے گرانقدر ہیں۔مراجع کا مشترکہ فتویٰ ہے کہ مقدسات اہلسنت و الجماعت کی توہین جائز نہیں ہے ۔اس کے باوجود بھی اگر کوئی شخص اہلسنت و الجماعت کی مقدس شخصیات کی اہانت کرتاہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ دشمن کا آلۂ کار ہے ۔اسی طرح اہلسنت و الجماعت کے درمیان بھی ایسے تکفیری فکر کے حامل افراد ہیں جو مسلمانوں کے متفقہ اورمشترکہ عقائد و مسلمات کے مخالف ہیں ۔جیساکہ حال ہی میں پاکستان میں ممنوعہ دہشت گرد تنظیم ’سپاہ صحابہ ‘ ،’جماعت الدعوۃ‘ جیسی دیگر تنظیموں نے استعمار کے اشارے پر یزید ملعون کی حمایت میں ریلی نکال کر شیعوں کے کفر کا اعلان کیا اور ان کے قتل کو جائز قراردیا۔اس اجلاس میں اتحاد اسلامی کے سب سے بڑےداعی رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی ۔اس سے یہ ثابت ہوجاتاہےکہ ایسی نفرت انگیز اور شرپسند ریلیوں کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے ۔افسوس یہ ہے کہ حکومت پاکستان ایسی دہشت گرد تنظیموں کہ جن پر وہاں پابندی عائد ہے،سرکاری سرپرستی میں شیعوں کے خلاف اور یزید معلون کی حمایت میں ریلی کی اجازت کیسے دے سکتی ہے؟ ۔سرکار کی اسی ڈھلائی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں شیعوں کی ٹارگیٹ کلنگ جاری ہے اور ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں۔ حکومت پاکستان کو ایسے شرپسندوں اور تکفیری گروہوں پر سختی کے ساتھ ضروری اقدام کرنا چاہئےورنہ یہ لوگ پاکستان کو یزید نوازی میں دہشت گردی کی بھٹّی میں جھونک دیں گے ۔
ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ استعمار نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے ذریعہ اپنے مفادات کی تکمیل چاہتاہے ۔مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا اور اسلامی دنیا میں پھوٹ ڈلوا کر اسرائیل کوان کے سروں پر مسلط کرنا اس کا بڑا ہدف ہے ۔استعمار اپنی ان کوششوں میں بڑی حدتک کامیاب ہے کیونکہ اس نے سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارت پر ایسے حکمرانوں کو مسلط کر رکھاہے جو اس کے زرخریدغلام ہیں۔ ’صدی ڈیل ‘ جس کا مسودہ ابھی صیغہ ٔ راز میں ہے، اس کو تسلیم کروانے کے لئے بھی انہی مسلمان حکمرانوں کا سہارا لیا جارہاہے ۔جیساکہ بعض عرب ممالک منجملہ مصر اورسعودی عرب فلسطین مخالف’ صدی معاہدہ‘ کو پہلے ہی تسلیم کرچکے ہیں اور استعمار کے ساتھ مل کر فلسطین کے حقوق پر نقب زنی کررہے ہیں۔ بعض اسلامی ملکوں نے عرب امارات اوراسرائیل معاہدے کی ظاہری طورپر مخالفت کی ہے مگر ان کا عمل ان کے قول کےساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ وہ استعمار کے ساتھ خفیہ روابط رکھتے ہیں اور اندرونی طورپر اس کے مفادات کی تکمیل میں مدد پہونچاتے ہیں۔اگر عالم اسلام ایسے منافقانہ کردار ادا کرنے والے مسلم ملکوں اور حکمرانوں کے خلاف متحد نہ ہوا تو انہیں عالمی سطح پر اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

 

 

بن سلمان کی مکھیاں فلسطینیوں کے لیے وبال جان بن گئیں

  • ۳۳۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بن سلمان کی مکھیوں نے سوشل میڈیا پر ھیشٹیگ چلا کر صہیونی ریاست کے ساتھ صلح کے منصوبے کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔
بن سلمان کی مکھیوں نے ان ھیشٹیگ میں فلسطین کے حامیوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا کر فلسطنیوں پر قدر ناشناس اور ناشکرے ہونے کا الزام عائد کر دیا ہے۔
خلیج فارس کے سرکاری حلقوں کی حمایت سے اس منظم حملے میں، خاص طور پر سعودی عرب میں، فلسطینی مقاصد کے حوالے سے لوگوں کی حساسیت کو کم کرنے کے لئے تیز رفتار عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر منصوبے کا مقصد فلسطینیوں کے حقوق، ان کی حرمت اور زمین کو فروخت کرنے کے لئے ایک خطرناک اور خوفناک اتحاد وجود میں لانا ہے۔ اس طریقہ کار کا سہارا لیتے ہوئے، وہ فلسطینی مسئلے میں عوام کی دلچسپی کو ختم کرنے اور فلسطینی عوام کے حقائق کی توہین کرنے یا تعلقات کو معمول پر لانے کی کسی بھی مزاحمت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بن سلمان: فلسطینی کاز ہماری ترجیح نہیں ہے
فلسطینی مقصد کی نابودی بن سلمان کے سیاسی مقاصد میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بارہا کہا تھا کہ فلسطینی کاز سعودی حکومت کے لئے ترجیح نہیں ہے اور پچھلے دنوں کے واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ فلسطینی کاز واقعی میں سعودی عرب کے نزدیک کسی اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ اس ملک نے صہیونی طیاروں کے لیے امارات اور دیگر ممالک کی طرف رفت و آمد کرنے والی پروازوں کے لیے اپنا آسمان کھول دیا ہے۔  اس کے علاوہ ، انہوں نے فلسطینی رہنماؤں اور سربراہان کے لیے تہدید آمیز پیغامات بھی بھیجے ہیں۔
اعلی سطح کے ذرائع کے مطابق، بن سلمان نے حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو فون کیا اور ان سے صہیونی حکومت کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات اور ان کے مابین ہونے والے معاہدے پر تنقید سے باز رہنے کی تاکید کی اور کہا کہ اس اقدام پر کسی بھی قسم کے اعتراض کو روکنا ہو گا۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بن سلمان نے "عرب ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کا منصوبہ" کے عنوان سے ایک نیا سناریو تیار کیا ہے اور وہ اسے عرب امن منصوبے کی جگہ پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس نئے منصوبے پر بھرپور طریقے سے عمل کیا جارہا ہے اور اس میں فلسطین کو بھی شامل ہونا چاہئے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مشترکہ عرب امریکی اور صیہونی منصوبہ - جسے سعودی عرب پیش کرے گا - پر مختلف جہتوں پر عمل کیا جائے گا اور اس پر عمل درآمد کے لئے وسیع اور گہری تحریکیں اور مشاورت کی جائے گی۔
چنانچہ ، بن سلمان کے الیکٹرانک حملے کے تیر کی نوک نے عرب دنیا میں سمجھوتے نامی منصوبے کے مخالفین کو نشانہ بنایا ہے۔ فلسطینی کاز کے خلاف تباہ کن سناریو  کے حوالے سے لیک ہونے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ عرب دنیا، اسلامی مقدسات اور فلسطین کے حالات میں ایک عظیم تبدیلی آنے والی ہے۔ اس تمام منصوبوں اور سازشوں اور پروپیگنڈوں کا اصلی فائدہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کو ہونے والا ہے تاکہ نیتن یاہو خود کو مالی بدعنوانیوں سے بچا سکیں اور ٹرمپ آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ پھر آخر میں بن سلمان کو بادشاہت کا تاج پہنا ان کی زحمتوں کا صلہ دے سکیں۔

 

امریکہ، عرب ممالک اور اسرائیل

  • ۴۰۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: دو برس قبل امریکہ نے مسئلہ فلسطین کے عنوان سے ایک امن منصوبہ متعارف کرواتے ہوئے فلسطین کے دارالحکومت یروشلم (القدس) کی طرف امریکی سفارتخانہ کو منتقل کرنے کا اعلان کیا اور پھر کچھ عرصہ بعد ہی فلسطینی دارالحکومت کو غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان پر اگرچہ دنیا بھر کی اقوام اور حکومتوں نے امریکی صدر کے فیصلوں کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی واضح اکثریت سے اس فیصلہ کو مسترد کر دیا گیا۔ امریکہ جو کہ دو سو سالہ ایسی تاریخ کا حامل ہے کہ جس میں صرف اور صرف ہمیں دنیا کی دیگر اقوام کے خلاف امریکی جارحیت ہی ملتی ہے۔ کبھی فوجی چڑھائی کے ذریعے تو کبھی ممالک پر مہلک اور خطرناک جان لیوا ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں بے گناہوں کی جانیں ضائع ہوتی نظر آتی ہیں۔ چیدہ چیدہ ممالک میں پاکستان بھی سرفہرست رہا ہے کہ جہاں امریکی ڈرون حملوں نے متعدد بے گناہوں کو بھی قتل کیا ہے۔ اس کے علاوہ عراق، افغانستان، شام، لبنان، ویتنام، ہیروشیما، ناگا ساکی سمیت افریقی ممالک کی فہرست موجود ہے کہ جہاں امریکی ظلم و جبر کی داستانیں رقم ہیں۔

ظلم و جبر کی دو سو سالہ تاریخ رکھنے والی امریکی حکومت فلسطین کے مسئلہ میں بھی صہیونیوں کی مددگار اور دنیا کے مختلف ممالک سے لاکر بسائے جانے والے صہیونیوں کی پشت پناہ رہی ہے۔ فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کی بھرپور حمایت کرنے والی امریکی حکومت ہی تھی۔ آج یہی امریکی سامراجی نظام ایک امن منصوبہ بنام "صدی کی ڈیل" کے ذریعے صہیونی غاصبوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس منصوبہ کے تحت امریکی حکومت کی یہ خواہش ہے کہ فلسطین کے مسئلہ کو دنیا کی سیاست سے ختم کر دیا جائے اور فلسطین میں لا کر بسائے جانے والے صہیونیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فلسطین سے نواز دیا جائے اور بدلہ میں خطے میں امریکی مفادات اور توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے اسرائیل جیسی خونخوار ریاست کا استعمال بروئے کار لایا جائے۔

دراصل امریکی سامراجی نظام نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ اپنی ماضی کی ان تمام تر کوششوں اور منصوبوں کی ناکامی کے بعد متعارف کروایا ہے کہ جن میں پہلے جنگیں مسلط کی گئیں، بعد میں فلسطین اور گرد و نواح کے پڑوسی ممالک پر قبضہ کیا گیا اور اس میں بھی ناکامی کے بعد داعش جیسے منصوبہ کو متعارف کیا، تاہم بعد ازاں یہ داعش نامی منصوبہ بھی خطے میں موجود اسلامی مزاحمت کے بلاک نے نابود کر دیا ہے۔ اب فلسطین سمیت خطے پر مکمل تسلط کے خواب کو پورا کرنے کے لئے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ سامنے لایا گیا ہے۔ اس منصوبہ پر عمل درآمد کرنے کے لئے امریکہ نے عرب ممالک کے کردار کو بھی اپنی سیاست کے ساتھ ساتھ رکھا ہے اور اس عنوان سے محمد بن سلمان اور جیرڈ کشنر دونوں ہی نہایت سرگرم رہے ہیں اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عرب دنیا کے ممالک صدی کی ڈیل کو تسلیم کر لیں۔

یہاں پر ایک بات جو بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے، وہ یہ ہے کہ فلسطین کے مسئلہ کا حل کسی بھی جانب سے پیش کیا جائے، اس میں یہ بات ضرور مدنظر رکھنی چاہیئے کہ آیا فلسطین کے عوام اس منصوبہ پر کس قدر اعتماد کرتے ہیں اور آخر فلسطینیوں کی رائے کیا ہے۔؟ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو فلسطینیوں کی رائے اور ان کی اعتماد سازی کے بغیر کسی بھی جانب سے پیش کیا جائے گا، وہ کارآمد نہیں ہوسکتا ہے۔ لہذا امریکی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا یہ منصوبہ یعنی صدی کی ڈیل بھی ردی کی ٹوکری میں رکھنے کے لئے ہے، کیونکہ فلسطینی عوام نے یک زبان ہو کر صدی کی ڈیل کو فلسطین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش قرار دیا ہے اور اس منصوبہ کو ایک سو سال قبل بالفور اعلامیہ جیسے خطرناک منصوبہ سے تشبیہ دی ہے۔ بالفور اعلامیہ نے 1917ء میں فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا تھا اور اب صدی کی ڈیل نامی یہ منصوبہ امریکی اور عرب ممالک کی جانب سے فلسطین کے مسئلہ اور فلسطین کو دنیا کی سیاست سے نابود کرنے کے مترادف ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب ممالک جو امریکہ کے اس منصوبہ میں امریکی سامراجی نظام کا ساتھ دے رہے ہیں، وہ ایک لمحہ کے لئے بھی فلسطینیوں کے حقوق کی پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔ امریکہ اور چند عرب ممالک مل کر فلسطین کا سودا کر رہے ہیں اور اس سودے کا خریدار کوئی اور نہیں، پہلے سے ہی فلسطین کی سرزمین پر غاصب و قابض اسرائیل ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اب مسلسل اسرائیل اور عرب امارات کے عہدیداران کی ملاقاتوں کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آج تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانے والوں کو کیا حاصل ہوا ہے، جو اب متحدہ عرب امارات حاصل کرے گا۔؟

دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ جب اسرائیل تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر آپہنچا ہے کہ جب وہ اپنے وسیع تر اسرائیل کے خواب کو مکمل نہیں کر پا رہا بلکہ اس سے الٹ اپنے ہی گرد دیواروں کا جال بچھا کر خود کو محدود کر رہا ہے تو ایسے حالات میں متحدہ عرب امارات جیسے ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور تعلقات قائم کرنا کیا اسرئیل کو سہارا دینے اور خطے میں اسرائیلی دہشت گردی کو توسیع دینے کے لئے تو نہیں ہے۔؟ تیسری اہم بات یہ بھی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نے خلیج اور عرب دنیا کی سکیورٹی کو مزید خطرات میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ نہ صرف خلیج بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جیسے اہم ملک کے لئے مزید خطرات جنم لیں گے۔ امریکہ اور عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے لئے راستے ہموار کرنے کے بارے میں خود غاصب اور جعلی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکہ اور عرب ممالک اسرائیل کی اس وقت میں حمایت نہ کرتے تو اسرائیل بہت پیچھے چلا جاتا اور فلسطینی تحریک آزادی عنقریب اسرائیل کو نابود کر ڈالتی۔ یہ بات نیتن یاہو نے امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرکے اسرائیل کے لئے راستہ فراہم کر دیا ہے کہ وہ دیگر عرب ممالک کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرے اور عالمی سطح پر 1967ء تک اسرائیل کی واپسی کے مطالبہ کو بھی دفن کر دیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر متحدہ عرب امارات اس وقت اسرائیل کا ساتھ نہ دیتا تو فلسطینیوں کی تحریک اسرائیل کے لئے سنگین خطرہ بنتی اور اسرائیل کا وجود باقی رہنا مشکل تھا۔ لہذا عرب امارات نے اسرائیل کو بچا لیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے نہ صرف فلسطین کے ساتھ بلکہ تحریک آزادی فلسطین کے ہزاروں شہداء کے خون کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے دنیا بھر کی مسلمان اقوام کے ساتھ خیانت کی ہے اور خود اپنے ماتھے پر ایک ایسے سیاہ کلنک کو لگایا ہے کہ جو کبھی بھی ان کے چہرے سے دور نہیں ہوگا۔ فلسطین، فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل غاصب صہیونیوں کی ایک جعلی ریاست ہے، جسے آج نہیں تو کل آخر کار نابود ہونا ہی ہے۔

بقلم صابر ابومریم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

فلسطین کے پیکر پر سعودی عرب کا پہلا زہر آلود خنجر

  • ۳۶۰

 

جن بہانوں کو لے کر متحدہ عرب امارات غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے آگے بڑھا انہیں بہانوں کو لے کر سعودی عرب نے فلسطین کے پیکر پر پہلا زہر آلود خنجر گھونپ دیا ہے۔  
سعودی عرب کی فضا سے عبور کر کے پہلا اسرائیلی طیارہ جب ابوظہبی ایئرپورٹ پر پہنچا تو اس کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ریاض حکومت نے اس بات پر رضامندی کا اظہار کر دیا کہ اسرائیل اور عرب امارات اپنی پروازوں کے لیے سعودی فضا کا استعمال کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب سے متحدہ عرب امارات جانے والی "اسرائیل" سمیت تمام پروازوں کی منظوری کے بارے میں سعودی عرب کا یہ پہلا باضابطہ اعلان ہے اور یہ پروازیں درحقیقیت متحدہ عرب امارات اور صہیونی حکومت کے مابین تعلقات کو معمول پر لائے جانے کا عملی اقدام ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ "فیصل بن فرحان"  نے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا: "مسئلہ فلسطین کے بارے میں سعودی عرب کا موقف اسرائیل اور عرب امارات کے مابین پراوزوں کے عبور کی اجازت دینے سے تبدیل نہیں ہو گا"۔  بن فرحان نے مزید کہا ہے کہ سعودی عرب ایئر لائنز کی عمومی تنظیم نے متحدہ عرب امارات کی ایئر لائنز کی درخواست پر اتفاق کرتے ہوئے سعودی آسمان سے متحدہ عرب امارات کی تمام ممالک کے لئے پروازوں کی منظوری جاری کر دی گئی ہے۔
ابوظہبی اور تل ابیب کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کا ذکر کرتے ہوئے، جسے فلسطینیوں اور اسلامی ممالک نے فلسطینی کاز اور اسلامی امت کی پشت پر خنجر گھوپنے سے تعبیر کیا ہے، سعودی وزیر نے کہا: " ایک پائیدار اور انصاف پسند عرب امن منصوبے کے قیام کے عمل میں تمام کوششیں قابل قدر ہیں۔"
دوسری جانب بحران سے دوچار قابض حکومت اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو نے ایک ویڈیو میں سعودی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اس کی تعریف کی ہے۔ ویڈیو میں، نیتن یاھو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کو متحدہ عرب امارات کے لئے براہ راست پرواز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
نیتن یاہو نے اس کے بعد ٹویٹر پر لکھا: "ایک اور بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسرائیل سے ابوظہبی اور دبئی کے لئے اسرائیل کی تمام پروازوں کے علاوہ دیگر ان ممالک کی پروازوں کی آمد و رفت کا راستہ ہموار ہوا ہے جو اسرائیل سے تعلقات رکھتے ہیں۔ ۔ "اس کامیابی سے پروازوں کی لاگت اور وقت میں کمی آئے گی، اور سیاحت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ہماری معیشت کو تقویت ملے گی۔ "
اس معاہدے کا اصلی مزہ تو صہیونی ریاست اور مجرم اسرائیلی ہی چھکیں گے اور فلسطین کے مظلوم عوام اور امت مسلمہ کو تو صرف نقصان ہی اٹھانا پڑے گا۔

آخر میں یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ سعودی عرب کا اسرائیلی طیاروں کو اپنی فضا سے اڑان بھرنے کی اجازت دینے پر مبنی فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر نے سعودی عرب کی فضا سے امریکی اور اسرائیلی پروازوں کے عبور کی اجازت کا شکریہ ادا کیا۔ کشنر نے مزید کہا کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان امن معاہدے پر آئندہ مہینوں دستخط کئے جائیں گے۔