خواتین کے ذریعہ جاسوسی سے لیکر خواتین کے جنسی استحصال تک صہیونی حکومت اور اسکی کار گزاریاں

  • ۱۸۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: “خاتون ایجنٹس عام طور پر اپنا کام چپ چاپ کر سکتی ہیں۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ایجنٹ پینولپی کو ’اریکا چیمبرز‘ کے فرضی نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کا فلسطینی گروپ بلیک ستمبر کے رہنما علی حسن سلامی کے قتل میں ہاتھ تھا، جو ۱۹۷۲ کے میونخ اولپمکس میں ۱۱ اسرائیلی ایتھلیٹس کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔
میونخ میں ہونے والی ہلاکتوں کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم گولڈا میئر نے آپریشن کی منظوری دی جس کے تحت موساد کے ایجنٹس کو بلیک ستمبر کے ارکان کی تلاش اور انھیں اپنے کیے پر سزا دینا تھی۔ قتل کی پانچ ناکام کوششوں کے بعد سلامی بلآخر چار محافظوں سمیت مارے گئے۔ ۱۹۷۹ میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ان کے اپارٹمنٹ کے باہر بم دھماکے کے نتیجے میں ان کی ہلاکت ہوئی۔
ایجنٹ پینولپی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے بم دھماکہ کیا اور اس مقصد کے لیے وہ سلامی کے فلیٹ کے قریب ایک سادہ زندگی گزار رہی تھیں اور یہاں تک خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا ایک بوائے فرینڈ بھی تھا۔
دھماکے کے بعد ایجنٹ پینولپی غائب ہو گئیں لیکن اپنا سامان پیچھے چھوڑ گئیں، جس میں اریکا چیمبرز کے نام سے ایک برطانوی پاسپورٹ بھی تھا۔”[۱]
یہ مذکورہ بالا اقتباس کسی اسرائیل مخالف ادارہ یا صہیونیت کے خلاف کام کر رہی کسی فلسطین نواز تنظیم کا نہیں بلکہ یہ بی بی سی ورلڈ سرویس کی اس رپورٹ سے ماخوذ ہے جسے بی بی سی نے دنیا کی خطرناک ترین خواتین پر پیش کیا ہے ، اس رپورٹ میں بی بی سی نے کچھ خطرناک ترین خواتین کی خطرناک کہانیوں کو پیش کیا ہے ، جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں کس طرح بعض خطرناک خواتین جاسوسی جیسے خطرناک کاموں کو انجام دیتی ہیں اور پھر انکا انجام کیا ہوتا ہے، صہیونی حکومت میں خواتین کو کس رخ سے دیکھا جاتا ہے اور کس طرح اپنے مقاصد کے تئیں انکا استعمال ہوتا ہے اگر یہ جاسوسی والی رپورٹ گنگ بھی ہو اور یہ بتانے کے لئے کافی نہ ہو کہ خواتین کا کس طرح استحصال ہوتا ہے تو بی بی سی ہی کی آج ہی کی ایک اور رپورٹ ملاحظہ ہو :
“اسرائیل میں پولیس نے ایک بڑے وکیل کو جنسی روابط کے عوض عدالتی بھرتیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس وکیل کا نام نہیں ظاہر کیا گیا اور نہ ہی کیس کے بارے میں کوئی معلومات دی گئی ہیں۔ عدالت نے ان معلومات کو منظرِ عام پر آنے کی اجازت نہیں دی۔
لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا تعلق خواتین کی ایک عدالت کی جج کی تعیناتی سے ہے۔ اس کے علاوہ ایک عدالت میں مرد جج کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں تقرری کے معاملے کی بھی چھان بین کی جارہی ہے۔
اٹارنی جنرل اوی چائی مینڈی بلٹ نے اس کیس میں شامل ہونے سے معذرت کرلی ہے۔ اس کی وجہ انھوں نے مرکزی ملزم سے دوستی بتائی ہے۔
اسرائیل کے وزیر قانون ایالیت شاکید اور ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایستر حیوت کا اس کیس میں گواہی دینے کے لیے سمن جاری ہوگیا ہے۔
ایالیت شاکید اور چیف جسٹس ایستر حیوت جوڈیشیل اپائنٹمنٹ کمیٹی کے ممبر ہیں۔
اسرائیلی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لہؤؤ فورس کے اینٹی کرپشن یوٹن نے اس معاملے پر دو ہفتے قبل تحقیقات شروع کی تھیں۔ انھیں عدالتی تقرریوں میں بے ضابطیگیوں کے بارے میں ایک خفیہ رپورٹ ملی تھی۔
جس کے بعد بدھ کی صبح کو ایک مرد وکیل کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ خواتین کی عدالت کی ایک جج اور ایک خواتین وکیل سے بھی اس بارے میں تفتیش کی گئی ہے۔ پولیس نے سرچ آپریشن کر کے بہت سی دستاویزات بھی اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔
اسرائیلی جریدے یدویوتھ آھرونوتھ کے مطابق اسرائیل بار اسوسیئیشین کے یروشلم آفس پر بدھ کے روز چھاپا مارا گیا۔
اسرائیل کے وزیر قانون ایالیت شاکید اور چیف جسٹس ایستر حیوت نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی تحقیقات مکمل کر کے سچائی تک ضرور پہنچیں گے۔
دونوں صاحبان نے اسرائیلی عدالتوں میں تقرری کے سسٹم میں کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی تردید کی ہے”[۲]۔
یہ وہ رپورٹ ہے جسے محض بی بی سی نے نہیں پیش کیا ہے بلکہ دنیا کے معتبر ترین کہلائے جانے والے اخباروں نے بشمول اسرائیل ٹائمز و ہآرتض نے اس پر تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے [۳]
اس تازہ رپورٹ کے پیش نظر کیا یہ سوال نہیں اٹھتا کہ ایک ایسی حکومت جو سارے یہودیوں کے لئے خود کو سرزمین موعود کے طور پر پیش کرتی ہے، ایک ایسی سرزمین جو یہودیوں کی وعدہ گاہ ہے ، ایسی سرزمین جہاں پر یہودیوں کی وراثت کی حفاظت کی بات کی جاتی ہے خود وہاں خواتین کا حال کیا ہے کہ وہاں کی عدالتوں میں تقرری جب جسم فروشی اور سیکس کے عوض ہونے لگے تو عدالتی کاروائیوں میں دخیل خواتین کے لئے کیا ضمانت ہے کہ وہ ضمیر فروشی نہیں کریں گی ، اور اگر کوئی خاتون جج کسی منصب تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے تو اسکے ساتھ کیا کچھ نا انصافی نہیں ہوگی اور جو اپنے ضمیر کو بیچ دے وہ پھر اسکے فیصلہ میں انصاف کی خو کیا ہوگی ، یہ سب سوالات ہر ایک کے ذہن میں اٹھ رہے ہیں ۔ اپنی نوعیت کا یہ عجیب و غریب ماجرا صہیونی حکومت سے متعلق ہے شاید اسی لئے معاملہ ذرا ٹھنڈا ہے خدا نخواستہ یہی رپورٹ مشرق وسطی کے کسی ملک کی ہوتی تو سارے دنیا کے میڈیا کی سب سے پہلی خبر یہی ہوتی لیکن کیا کیا جائے کہ معاملہ اسرائیل کا ہے ۔اور جب اسرائیل کا معاملہ ہو تو پھونک پھونک کے قدم رکھنے کی ضرورت ہے چاہے عدل و انصاف کا گلا ہی کیوں نہ گھٹ رہاہو لیکن تحقیق مکمل ہونے کے بعد ہی اظہار خیال ہونا چاہیے یہی نام نہاد صہیونی صحافت کا منشور ہے ۔
حواشی :
[۱] ۔ https://www.bbc.com/urdu/world-45650679
[۲] ۔https://www.bbc.com/urdu/world-46899091،https://www.bbc.com/news/world-middle-east-46892112
[۳] ۔ https://www.middleeasteye.net/news/senior-israeli-lawyer-detained-over-suspicions-sexual-bribery-2081958263
https://www.washingtonpost.com/local/crime/sex-offense-law-in-maryland-has-loophole/2012/06/16/gJQAWdoohV_story.html?utm_term=.eff4fd705bfd
https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israeli-police-arrest-26-suspects-for-indecent-acts-and-sexual-harassment-of-minors-1.6589648
https://www.washingtonpost.com/nation/2018/10/08/should-police-be-able-have-sex-with-person-custody-rape-alle
https://www.timesofisrael.com/senior-lawyer-held-on-suspicion-of-promoting-judge-in-exchange-for-sex/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

انسانوں کی اسمگلنگ، غلامی کا نیا ورژن ۱

  • ۲۱۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: آج انسان جتنا دین سے دور ہو کر جدیدیت کی طرف بڑھ رہا ہے، انحراف اور گمراہی کے تاریکیوں میں اتنا زیادہ گم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عصر جاہلیت کے جرائم ایک نئی شکل و صورت اختیار کر رہے ہیں۔ جن میں سے اہم ترین غلامی ہے۔
انسانی سمگلنگ جدید غلامی کی ایک قسم ہے جس میں غریب اور فقیر لوگوں کو اسمگل کیا جاتا ہے۔ اسمگلنگ کی تین قسمیں ہیں:
۔ بدکاری کا رواج
۔ انسانوں کی اسمگلنگ
۔ بدن کے اعضا کی اسمگلنگ
اعدادوشمار کے مطابق ، دنیا کے 127 ممالک اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ آئرش اخبار نے اس حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ بدن کے اعضاء دولت مند صہیونیوں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔ ایران کے افق چینل نے انسانی اعضا کی اسمگلنگ کے حوالے سے  ایک ڈاکومنٹری نشر کی اور اس پر تبصرہ کے لیے ڈاکٹر ’علی رضا سلطان شاہی‘ کے ساتھ گفتگو کی ہے جسے چند حصوں میں قارئین کے لیے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛
 
انسان نام کے سامان کی خرید و فروخت
اینکر: اسمگلنگ کی مختلف قسمیں ہیں۔ لیکن بدن کے اعضا کی اسمگلنگ غیر معقول کام ہے۔ ہم صہیونی حکومت کو اس میدان میں سرگرم کارکنوں کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔
ڈاکٹر سلطان شاہی: اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کرنے سے پہلے مناسب سمجھتا ہوں کہ تمہیدی طور پر ایک مقدمہ بیان کروں۔ کچھ وجوہات کی بنا پر اگر کسی انسان کا کوئی عضو ناقص ہو جائے تو کوئی شخص جانفشانی اور فداکاری کرتے ہوئے اپنا کوئی عضو اسے عطیہ کر دے تو یہ اس انسان کی بزرگی اور کرامت ہے۔ لیکن اسمگلنگ کا مسئلہ بالکل الگ ہے۔ اس میں کوئی ایسی نیت نہیں ہوتی۔ اس کام میں زیادہ منفعت ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ اپنا کوئی عضو دوسرے کو فروخت کر دیتے ہیں، اس کا نام تجارت ہے انسانی شرافت اور کرامت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مفاد پرست لوگ مختلف طریقوں سے چاہے وہ انسانوں کی اسمگلنگ کر کے یا ان کے اعضاء کی اسمگلنگ کر کے اپنے بازار کو رونق دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ ڈاکومنٹری جو نشر کی گئی در حقیقت دو ریٹائرڈ پولیس افسران سے شروع ہوتی ہے، جن میں سے ایک گیڈی نامی اسرائیلی افسر ہوتا ہے اور دوسرا ایوان نامی برازیل کا رہنے والا۔ اصل قضیہ یہ ہے کہ یہ دونوں اعضا کی اسمگلنگ کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ اور حقائق کو برملا کرنے کے جرم میں کئی سال جیل میں بھیج دیے جاتے ہیں۔
یہ دو افراد اپنی تحقیقات کے دوران ایسے افراد کے پاس جاتے ہیں جو فقر و تنگدستی یا جہالت کی وجہ سے اپنے بدن کے اعضا خصوصا گردے بیچ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جنگیں جو اسرائیلیوں اور یہودیوں کے یہاں ہوتی رہی ہیں ان میں مارے جانے والوں کے بدن کا پوسٹ ماٹم کر کے ان کے سالم اعضا کو فروخت کیا جاتا تھا نہ صرف جنگ میں مارے جانے والے بلکہ وہ افراد جنہیں پھانسی دی جاتی تھی ان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا تھا۔
ان ریٹائرڈ افسران کی زبان سے وضاحت کے بعد دو چچازاد بھائیوں کے پاس جاتے ہیں کہ جنہوں نے فقر و ناداری کی وجہ سے اپنے گروں کو فروخت کیا ہوتا ہے، برازیلیوں کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو مرنے کے بعد سردخانے میں منتقل کیا جاتا تھا اور ان کے بدن سے تمام اندرونی اعضا نکال لئے جاتے تھے تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اس ہسپتال میں کام کرنے والا عملہ اسرائیلی تھا۔

جاری

اسرائیل کی نئی آرزو اور ہندوستان

  • ۱۹۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مدت سے ہندوستان، وسیع پیمانے پر اسرائیلی یہودیوں کی ہجرت کے مسئلہ سے دوچار ہے، اور یہ ہجرت کبھی کبھار اس طرح ہوتی ہے کہ جب حکومتی کی جانب سے لازمی سپاہی کے عنوان سے فوجی خدمت ختم ہو جاتی ہے تو یہ لوگ ہندوستان کا رخ کرتے ہیں ۔
چنانچہ ہندوستان کی طرف کوچ کر کے پہنچنے والے اسرائیلی معاشرہ میں سابقہ فوجی ملازمت کرنے والوں کی تعداد دیگرطبقات سے زیادہ ہے ۔
ان مہاجرین کی منزل غالبا شمالی ہند کا علاقہ ہماچل پردیش ہوتا ہے جو ہندوستان کے شمال اور کشمیر کے جنوب میں واقع ہے، یہودیوں کا یہاں پر وجود اس قدر سنجیدہ اور اثر بخش ہے کہ بعض قبائل اس علاقے میں طویل عرصہ سے اپنی رہائش کا دعوی کرتے ہیں اور خود کو دنیا میں بے گھر و بکھرے یہودیوں کے باقی ماندہ رفیوجیوں کے بچے کھچے لوگوں میں مانتے ہیں ۔
اس ہجرت کا قابل غور پوائنٹ یہ ہے کہ یہودیوں کے روحانی پیشوا و رابی جب اس مسئلہ کا سامنا کرتے ہیں تو دو الگ الگ قسم کے افعال دیکھنے میں آتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو یہودیوں کو یہودی آداب و رسوم ، دینی و شرعی آداب و احکام کی پابندی اور یہودی طور طریقوں کو سکھانے کے ساتھ انہیں اس بات کا شوق دلاتے ہیں کہ اپنی وعدہ گاہ کی طرف پلٹ جائیں جسے بصورت اسرائیل وہ لوگ سرزمین موعود سمجھتے ہیں، اسکے مقابل ایسے بھی یہودی روحانی پیشوا ہیں جنکی کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہودی ہندوستان ہی کے سرزمین پر رہیں اور اسی لئے اسرائیل سے یہودیوں کی ہندوستان میں ہجرت کی کوششیں بھی کرتے ہیں ۔
ہندوستان میں یہودیوں کی ہجرت اور وہاں پر انکی رہائش ملک کے لئے یوں تو خطرے کی بات نہیں ہے لیکن جو چیز خطرناک ہے ان یہودیوں کے ذریعہ ہماچل پردیش میں تیزی کے ساتھ منشیات کے دھندے کو پھیلانا ہے، چونکہ نشہ آور چیزوں میں موٹا اور بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے لہذا انہوں نے اس سلسلہ میں اپنے کاموں کا نیٹ ورک تیزی کے ساتھ وسیع کر دیا ہے ، اور دکان، ہوٹل اور ریسٹورنٹ کھول کر یہ غیر ملکی اور غیر مقامی لوگوں کو منشیات بیچتے ہیں ۔
ہندوستان ٹائمز اس بارے میں لکھتا ہے : ہندوستان کی طرف ہجرت کر کے آنے والے یہودی بغیر حکومتی قوانین کا لحاظ کئے اور بغیر نئی دہلی کی اجازت کے اپنے پیشے اور بزنس میں مشغول ہیں جبکہ دیکھا جائے توانکا اصل کام منشیات کی کھیتی خاص کر بھانگ کی پیداوار ہے جسے یہ لوگ تجارت کے پردے میں یورپین ممالک ، اور اسرائیل منتقل کرتے ہیں ۔
شاید سوال ہو کہ انکے غیر قانونی کاموں کے باوجود قانونی مراکز انکے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیتے ،تو اسکا جواب یہ ہے کہ جب انہیں اپنے کاموں میں کوئی قانونی مشکل نظر آتی ہے اور وہ قانون کے شکنجے میں خود کو گھرا دیکھتے ہیں تو بڑی بڑی رشوتیں دے کر نہ صرف یہ پلیس سے جان چھڑاتے ہیں بلکہ دیہاتوں کی پوری پوری پنچایت اور پورے دیہات کو بھی خاموش کر دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ بہت ہی آسانی کے ساتھ زمینوں اور پلاٹوں کو خریدتے ہیں حتی بعض علاقوں میں انکی اتنی ہی دادا گیری ہے کہ مقامی لوگوں کو داخل ہونے تک کی اجازت نہیں دیتے ۔
یہاں پر شاید یہ بات لائق توجہ ہو کہ ایک رپورٹر ہزار جتن اور حیلے بہانے بنا کر یہودیوں کے ان ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا تو اس نے مکمل بے یقینی کی کیفیت میں جو دیکھا وہ سب کچھ عجیب تھا اس نے دیکھا کہ ان علاقوں میں زبردست و شاندار قسم کے لاکچری (luxury) گھر بنے ہوئے ہیں ، شاپنگ مال ہیں اور ایسے خرید و فروش کے مراکز ہیں جن میں آسانی کے ساتھ منشیات کی خرید و فروش ہوتی ہے [۱] ، جبکہ علاقے کی زمینوں پر منشیات کی کھیتی ہوتی ہے اور مخصوص قسم کے کارخانوں میں اسے پیک کر کے دیگر علاقوں میں اسمنگل یا جاتا ہے[۲]۔
ہندوستان میں یہودیوں کی فعالیت کے پھیلنے اور بڑھ جانے کے باوجود، ہندوستان و صہیونی حکومت کی نزدیکیاں بڑھ رہی ہیں ، مشترکہ تجارتی و اقتصادی سرگرمیاں ، اور صہیونی عہدے داروں کے ہندوستان کے مسلسل اسفار ،یہ سب مل جل کر ایک نئے معنی پیدا کر رہے ہیں ، لہذا اس موضوع کے سلسلہ سے تجزیہ کرنے والے تجزیہ نگاروں کو اس بات کی طرف توجہ کی ضرورت ہے کہ صہیونی حکومت ہندوستان سے قربت کے چلتے مخصوص و بلند اہداف نظر میں رکھے ہوئے ہے، مثلا جوہری توانائی کے حامل ایک مسلمان ملک کی حیثیت سے پاکستان کی ابھرتی طاقت سے پنہاں مقابلہ[۳] ، ایران و ہندوستان کے تعلقات پر اثر انداز ہونا[۴] ، اپنی صنعتی مصنوعات کے لئے خام مواد کی ضرورت کو پورا کرنا، مشرق وسطی میں اپنی سر گرمیوں کے سلسلہ سے ہندوستان کی حمایت کا حصول یا پھر اسے خاموشی پر وادار کرنا [۵]یہ وہ ساری چیزیں ہیں جنہیں صہیونی حکومت کے بلند اہداف کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے ۔
حواشی:
۱ ۔– https://www.newstatesman.com/world-affairs/2013/01/why-are-there-so-many-israeli-ex-soldiers-india.
۲ ۔ https://www.mashreghnews.ir/news/759840
۳ ۔ https://www.tasnimnews.com/fa/news/1394/01/31/716554.
۴۔ فصلنامه تحقیقات سیاسی بین المللی دانشگاه آزاد اسلامی واحد شهرضا، بررسی روابط استراتژیک هند با اسرائیل و تاثیر آن بر جمهوری اسلامی ایران، محمود کتابی، یدالله دهقان، مهدی کاظمی، شماره پانزدهم، تابستان ۱۳۹۲، ص ۱۷-۱٫
۵ ۔ http://www.afghanpaper.com/nbody.php?id=144751.

 

مشرقی ممالک کا عروج اور یورپی معیشت کا زوال

  • ۱۸۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق: جن دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے، ایران کے خلاف ایک نیا تشہیری ڈرامہ رچانے کے لئے، اپنے وزیر خارجہ مائیک پامپیو کو مغربی ایشیا کے دورے پر روانہ کیا، قدیم براعظم (ایشیا) کے مشرق میں چینی حکمران امریکہ کی معاشی بالادستی کی آخری زنجیریں توڑنے کے لئے شدید محنت میں مصروف تھے۔ وہ عالمی معیشت کے منظومے میں “یوآن” کو “ڈالر” کے متبادل کے طور پر تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔
وہ ـ جو حال ہی میں امریکہ کے ساتھ محاصل (Tariffs) کی جنگ سے چھٹکار پا چکے ہیں ـ اپنی آرزوئیں بڑی احتیاط کے ساتھ بیان کرتے ہیں لیکن دنیا کے اقتصادی راہنما کچھ زیادہ صراحت کے ساتھ اس موضوع کو بیان کرتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے برطانوی مرکزی بینک کے سربراہ مارک کارنی (Mark Joseph Carney) نے کہا کہ “توقع کی جاتی ہے کہ [چینی] یوآن امریکی ڈالر کے لئے سنجیدہ رقیب کے طور پر ابھر آئے اور عالمی تجارت میں اصلی اور بنیادی زر مبادلہ میں تبدیل ہوجائے۔
یہ بہرحال ایک پیش گوئی ہے، لیکن دوسری طرف سے روس نے اپنے ڈالر کے ذخائر کم کرنا شروع کردیئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے ممالک امریکہ پر مزید اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔ روس کے مرکزی [یا اسٹیٹ] بینک نے حال ہی میں اعلان کیا کہ روس نے زر مبادلہ میں سے ڈالر کے ذخائر کو پہلی مرتبہ کافی حد تک کم کردیا ہے اور ۱۰۰ ارب ڈالر کو یورو، چینی یوآن اور جاپانی ین میں تبدیل کردیا ہے۔
چین عالمی اقتصادی چوڑیوں کو فتح کررہا ہے اور روس بھی حالیہ چند برسوں کے دوران مغربی ایشیا اور افریقہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں اچھی خاصی کامیابیاں حاصل کرچکا ہے۔ چین کا جنوب مغربی پڑوسی ملک “بھارت” بھی اپنی معیشت کو تیزرفتاری سے ترقی دے رہا ہے اور ماہرین کے تخمینوں کے مطابق سنہ ۲۰۳۰ع‍ تک امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری معیشت قرار پائے گا۔
یہ تبدیلی البتہ ناقابل تصور اور ناپیش بیں (Unpredictable) نہیں تھی۔ امریکہ کی قومی سراغرساں کونسل (National Intelligence Council) کے ۲۳۵ صفحات پر مشتمل تزویری تشخیص (یا Strategic evaluation) کے مطابق، ـ جس میں عالمی اقتصادی مستقبل کی پیش گوئی کی گئی ہے ـ چین پر عالمی معیشت کے مرکز قطب کے طور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
امریکی قومی سراغرساں کونسل نے سنہ ۱۹۹۷ع‍ سے اب تک ـ ہر چار سال ایک بار ـ غیر درجہ بند اور غیر خفیہ، تزویری تشخیصی رپورٹیں پیش کی ہیں، جن میں اگلے ۲۰ سالہ معاشی پیش بینیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تزویری تشخیصی رپورٹ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اعلی حکام کو پیش کی جاتی ہے تا کہ وہ اس کی بنیاد پر سوچ بچار اور منصوبہ بندی کریں۔
حالیہ تزویری تشخیصی رپورٹ میں ـ جو ۲۰۱۷ع‍ میں شائع ہوئی ہے ـ بھارت اور روس کے مستقبل پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ چنانچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، اور اس کے ساتھ معاشی روابط منظم کرنے، کو اپنی توجہ کا مرکز قرار دیا تھا، تاہم چین کی دیوقامت معیشت کے آگے امریکی طاقت کی تنزلی نے انہیں چند قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ یہ تزویری تشخیص ـ جو “ترقی کا تضاد” (Paradox of Progress) کے عنوان سے شائع ہوئی ہے ـ کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کی معیشت ـ خواہ سست رفتار ہی کیوں نہ ہو ـ ترقی کرے گی۔
اس تشخیص کے مطابق، چین اور روس مستقبل میں زیادہ طاقتور ہوجائیں گے۔ یہ دونوں طاقتیں ـ باوجود اس کے، کہ ان کی مادی ترقی میں کمی آئے گی ـ اپنے اثر و رسوخ کی حدود کو وسعت دینے کے درپے ہیں اور اپنی پالیسیوں کو اس انداز سے ترتیب دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ دنیا والے بآسانی سمجھ لیں کہ یہ دونوں ممالک اپنے اطراف کے ممالک میں امریکہ کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ روس وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے درپے رہے گا، چین سستا ایندھن وصول کرنے کے لئے کوشاں ہوگا اور بھارت، جو اپنی معاشی ترقی کے بموجب مزید طاقتور ہورہا ہے، اپنے مفادات کو ان علاقوں میں تلاش کرے گا اور ماسکو ـ واشنگٹن تعلقات کی سمتوں کا تعین کرے گا۔ بلقان کی حدود نیز یورپ کے دوسرے علاقوں میں روس کے اثر و رسوخ نے براعظم یورپ میں روس کے خلاف جذبات کو تقویت پہنچائی ہے۔ روس ایک طرف سے جتا رہا ہے کہ گویا وہ بین الاقوامی تعلقات کے درپے ہے اور دوسری طرف سے مغربی اداروں کو کمزور کرکے اس علاقے کی جمہوریت میں کچھ ایسے راہنماؤں کو بر سر اقتدار لانے کی کوشش کررہا ہے، جو امریکہ کے خلاف مزاحمت اور واشنگٹن کے ساتھ تقابل کو تقویت پہنچائیں گے۔
کیا عوام بھی اقتصادی رونق کا مزہ چکھ لیں گے؟
اس تزویری تشخیصی رپورٹ کے مطابق، اگلے اگلے برسوں میں عالمی معیشت، بڑی معیشتوں کے زیر اثر، پہلے سے زیادہ مالیاتی دباؤ، عدم استحکام اور عدم اطمینان کا سامنا کرے گی۔ یہ واقعات و حوادث خاص طور پر چین اور بھارت کی معیشت کے زیر اثر نمودار ہونگے، کیونکہ ان ممالک کی معیشت ـ خواہ ان کی رفتار اگلے برسوں میں کم ہی کیوں نہ ہو ـ دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرے گی۔ اس صورت حال نے انضمامِ وسائل اور اشتمال معیشت اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کے سلسلے میں شک اور تذبذب میں اضافہ کر لیا ہے۔ مستقبل میں دنیا کی دو بڑی معیشتوں ـ یعنی چین اور یورپی اتحاد ـ کو افرادی سرمائے کی تکمیل کے سلسلے میں سنجیدہ چیلجوں کا سامنا ہوگا، جس کی وجہ چین میں یہ ہے کہ عرصہ دراز سے وہاں خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلے میں “ایک دہائی، ایک بچہ” کی پالیسی ہے [اور یورپ کے زیادہ تر ممالک میں آبادی میں مسلسل کمی ہورہی ہے]۔ عالمی تجارت کی مزید آزادی ممالک میں قدامت پسندانہ جذبات مشتعل ہونے کا سبب بنے گی جس کے نتیجے میں ممالک اتحادوں سے پسپا ہوں گے۔
چونکہ چین مصنوعات کی مانگ کا رو بہ ترقی مرکز ہوگا، لہذا ممالک چین کے ساتھ سمجھوتہ کریں گے، چین کو مصنوعات کی ٹرانزٹ اور منتقلی کے بھاری اخراجات کی وجہ سے بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہ نقصانات عدم پیداوار کی صورت میں ظاہر ہونگے اور چونکہ چین نے پیداوار کے لئے وسیع سرمایہ کاریاں کی ہیں، یہ ملک عدم پیداوار کی وجہ سے مقروض ہوجائے گا اور اس کی منڈیوں میں عدم توازن میں اضافہ ہوگا اور چینی معیشت کی عظمت کی بنا پر، یہ عدم توازن چین پر بہت بڑے اخراجات مسلط کرے گا، جس کی وجہ سے عالمی اتار و چڑھاؤ دیکھنے میں آئے گا؛ اسی بنا پر مصنوعات کی منتقلی کے اخراجات میں کمی چین کے لئے حیاتی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ جب چین کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا، اس ملک کے اندر زندگی کا معیار درہم برہم ہوجائے گا، سماجی استحکام متاثر اور کمزور ہوگا اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی طاقت میں کمی آئے گی۔
چین کی آبادی بڑھاپے کا شکار ہے، اور آبادی کا بڑھاپا اس بات کا سبب ہوگا کہ یہ ملک سبکدوشی کے قوانین کو نرم کرے اور صحت و حفظان صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات عمل میں لائے؛ اور یہی مسئلہ بھی مزید پیچیدگیوں کا سبب بنے گا۔
چین پیداوار کے اخراجات میں اضافہ کرکے، یا حکومتوں کو ٹرانزٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب دلا کر نیز نقل و حمل کے ڈھانچے کو بہتر بناکر، مصنوعات کی منتقلی کے اخراجات کم کرسکتا ہے۔
یورپی معیشت میں فنی اوزاروں کی سطح عبوری دور سے گزر رہی ہے۔ بریگزٹ (Brexit) یعنی یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی سیاسی چیلنجوں کا سبب بنے گی؛ یونان، اطالیہ اور ہسپانیہ کے قرضوں کا مسئلہ بھی یورپی اتحاد کی مالیاتی زری پالیسیوں پر اثر انداز ہوگا۔ یورپ میں آزاد تجارتی نظام اور اقتصادی لبرلیت کے خلاف اٹھنے والی صدا بہت طاقتور ہوجائے گی۔ یورپ کے اندر عالمی اقتصاد میں ضم ہونے کی خواہش ماضی کی طرح طاقتور نہیں ہے۔
بھارت اپنی عظیم آبادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کامیابیوں کی بنا پر عالمی سطح پر اقتصادی ترقی کی استعداد رکھتا ہے؛ لیکن اس کو توانائی، نقل و حمل اور پیداواری ڈھانچے کے لحاظ سے اپنی قوت میں اضافہ کرنے پڑے گا۔ بھارت افرادی قوت کے لحاظ سے چین کی نسبت کم مسائل سے دوچار ہوگا تاہم اسے موجودہ زمانے میں روزگار کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے بنیادی تعلیم اور اعلی تعلیم کے شعبے پر زیادہ کام کرنا پڑے گا۔
افریقہ میں اقتصادی ترقی کے امکانات کے سلسلے میں امیدیں پائی جاتی ہیں لیکن سیاسی لحاظ سے ان علاقوں میں نسلوں کے درمیان کے عبوری دور کے سلسلے میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ افریقہ میں کام کاج کے قابل افراد قوت کی شرح نمو سب سے زیادہ ہے جو آئندہ دو دہائیوں میں ایک عظیم اقتصادی فائدہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی معیشت کے اشتمال (Integration) کو ایسی تحریکوں کی طرف سے خطرہ لاحق ہے جو عالمی تجارت اور آزاد منڈی کے خلاف اٹھ چکی ہیں۔ عالمی تجارتی ادارے (World Trade Organization [WTO]) کو بعض ممالک کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے جو تجارت کو محدود کرنا چاہتے ہیں یا بحرالکاہل کے آرپار شراکت داری (ٹی ٹی پی) (۱)، سے متعلق مفاہمتوں کی مخالفت کررہے ہیں۔
ٹیکنالوجی مستقبل میں بارآوری (Productivity) کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی لیکن یہ ہمیشہ سے مزدوروں کی پریشانی کا سرچشمہ بھی ہے۔ چنانچہ جب بارآوری کی بات ہوتی ہے تو ٹیکنالوجی کی ترقی ہی کلیدی اور حیاتی سمجھی جاتی ہے؛ خصوصا ان ممالک میں جہاں اقتصادی ترقی کے تحفظ کے لئے افرادی قوت اور انسانی سرمایہ کم پڑ جاتا ہے یا ایک ہی حالت میں باقی رہتا ہے۔ بنیادی ڈھانچہ، تحقیق اور ترقی، قوانین و ضوابط، انتظامی روشیں، تعلیم و تربیت وغیرہ بھی اہم ہیں جن کے لئے بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اندر کی طرف نگاہ
اگرچہ شمالی امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا جیسی صنعتی جمہوریتوں اپنے متوسط طبقے کے اندر فلاح و بہبود کے احساس کے تحفظ کی کوشش کررہی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ عوامیت (Populism) نیز مقامیت (Localism) کے محرکات کو بھی معتدل بنانا چاہتی ہیں۔ چنانچہ ان ممالک میں اندر کی طرف نگاہ، گذشتہ دہائیوں کی مہنگی بیرونی مہم جوئیوں کی جگہ لے لےگی۔ [اور یہ ممالک اندرونی معاملات سلجھانے کو ترجیح دیں گے]۔ یہ امکان یورپی اتحاد میں دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ ہوگا اور یورپی حکمرانی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرے گا اور اتحاد کے اندرونی چیلنجوں کو نمایاں کرے گا۔
یورپی اتحاد کے اندرونی اختلافات، آبادی سے متعلق مسائل اور اقتصادی پالیسیوں کا ناکامیاب نفاذ، ایک عالمی کردار کے طور پر یورپ کی پوزیشن کو خطرے میں ڈالے گا۔ اگلے پانچ سالوں میں، اتحاد سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے یا بریگزٹ سائے میں، یورپی روابط کی تعمیر نو کا اہتمام کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے یورپی اتحاد کمزور اور اس کے نتیجے میں بحر اوقیانوس کے آر پار [امریکہ ـ یورپ] تعاون کھوکھلا پڑ جائے گا۔ دوسری طرف سے پناہ گزینی کے خلاف پائے جانے والے جذبات عوامیت پسندی {Populism) کو فروغ دیں گے، جس کی وجہ سے یورپ کے سیاسی راہنماؤں کی اندرونی حمایت میں کمی آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://www.fdn.ir/news/25053
۱۔ Trans-Pacific Partnership [TPP]، ایک مفاہمت نامہ جس میں [چین کے سوا] بحر الکاہل کے ۱۲ ممالک شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کیا عربوں کی پیشانی پر احمق کندہ ہے؟

  • ۲۱۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: تنظیم آزادی فلسطین (Palestine Liberation Organization – PLO [1] کی ورکنگ کمیٹی کے جنرل سکریٹری صائب عریقات [۲] نے حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مائک پامیو کے ذریعہ قاہرہ کی یونیورسٹی میں کی گئی تقریر کے سلسلہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ” کیا آپ کو عربوں کی پیشانی پر احمق لکھا ہوا نظر آتا ہے؟ تنظیم آزادی فلسطین (Palestine Liberation Organization – PLO کے رہنما مائک پامیو کی جانب سے مصر کی قاہرہ یونیورسٹی میں کی گئی تقریر کے اس حصہ پر تنقید اور طنز کر رہے تھے جس میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ” انکا ملک علاقے میں خیر و نیکی کا سرچشمہ ہے” ۔
ایسنا کی رپورٹ کے مطابق صائب عریقات نے مصر کی ایک یونیورسٹی میں امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان پر کی گرفت کی جس میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انکا ملک علاقے میں اچھائیوں اور نیکیوں کا سرچشمہ ہے، صائب عریقات نے امریکہ کے خطے میں خیرو برکت کے سرچشمے والی بات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو عربوں کے ماتھوں پر احمق لکھا ہوا نظر آتا ہے؟
القدس العربی کی تحریر کے مطابق پامئیو نے قاہرہ میں ایک امریکن یونیورسٹی میں اس بات کا دعوی کیا تھا کہ انکا ملک علاقے میں نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے درمیان صلح کو تحقق بخشے گا ۔
عریقات نے اپنے بیان میں آگے چل کر کہا کہ امریکہ کے صدر جمہوریہ ڈونالڈ ٹرنپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا پائتخت قرار دینا، فلسطینیوں پناہ گزینوں اور رفیو جیز کے مسئلہ کو مذاکرات سے حذف کرنے پر اصرار، بیت المقدس میں امریکن قونصل خانے کو بند کرنا، واشنگٹن میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR ) کے دفتر کو [۳]کو بند کرنا ، صہیونی شہری تعمیرات کو مقبوضہ فلسطین میں قانونی اور جائز قرار دینا ، یہ تمام وہ چیزیں ہیں جنہوں نے امریکہ کی جانب سے صلح کے تحقق کے امکان کو از حد کم کر دیا ہے ۔
تنظیم آزادی فلسطین (Palestine Liberation Organization – PLO کی ورکنگ کمیٹی کے جنرل سکریٹری نے امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا :”جو کچھ قابض صہیونیوں کی جانب سے جنگی جرائم کی صورت میں انجام پا رہا ہے ،اسکی توصیف ہرگز اپنے دفاع کے طور پر نہیں ہو سکتی ، (جنگی جرائم اور اپنے دفاع میں ٹکراو پایا جاتا ہے ہرگز دفاعی انداز جنگی جرائم کے ارتکاب کا سبب نہیں بنتا)۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت نے فلسطینیوں کی تمام مدد روک دی ہے یاامداد پر پابندی لگا دی ہے اس میں جزوی طور پر فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد پہنچانے والے ادارے UNRWA [4]کی امداد ، ہسپتالوں کی امداد کی فراہمی شامل ہے جسے اب بند کر دیا گیا ہے، علاوہ از ایں فلسطین کے قومی دستور کی نابودی کے مقصد تحت اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں فلسطین کے حق میں ووٹنگ کرنے والے ممالک کو دھمکیاں دینا اور باختری کنارے [۵]سے غزہ پٹی[۶] اور بیت المقدس کوعلیحدہ کرنے کی کوششیں اور وہ بھی اس دعوے کے ساتھ کہ فلسطین کی جانب سے کی جانے والی پیشکش صلح قائم نہیں کر سکتی ، یہ تمام باتیں وہ ہیں جنکا تسلسل کبھی بھی صلح کے وجود میں آنے کا سبب نہیں ہو سکتا (جبکہ امریکہ انہیں باتوں پر مصر ہے) چنانچہ ۲۰۱۷ دسمبر کے مہینے میں ٹرنپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کے پائتخت کے طور پر متعارف کراتے ہوئے اسے قانونی حیثیت بخش دی۔ جسکی بنیاد پر فلسطین کی قیادت نے امریکیوں کے ساتھ گفت وشنید وتبادل خیال کو روک دیا، اور امریکہ کی فلسطین میں امن و صلح کے مراحل میں مستقل طور پر نظارت کو مسترد کرتے ہوئے، مختلف فریقوں کو صلح فلسطین کے سلسلہ میں متحرک ہونے کی دعوت دی ۔
https://www.isna.ir/news/97102211382/%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%A7%D8%AA-%D8%AE%D8%B7%D8%A7%D8%A8-%D8%A8%D9%87-%D9%BE%D8%A7%D9%85%D9%BE%D8%A6%D9%88-%D8%B1%D9%88%DB%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%D9%84%D9%85%D9%87-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D9%82-%D9%86%D9%88%D8%B4%D8%AA%D9%87-%D8%B4%D8%AF%D9%87
حواشی:
[۱]تنظیم آزادی فلسطین، جسے عربی اور انگریزی میں با الترتیب منظمة التحریر الفلسطینیة) اورPalestine Liberation Organization – PLO) کہا جاتا ہے ایک تنظیم ہے جو ایک آزاد فلسطین کے قیام کے کیے ۱۹۶۴ء میں بنی۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: https://www.nytimes.com/1964/05/29/archives/arabs-create-organization-for-recovery-of-palestine.html
[۲] ۔ حرکت فتح سے متعلق، فلسطینی سیاست مدار اور پی ایل او کی اسٹرینگ اور مانیٹرنگ کمیٹی کے سربراہ ، میڈریڈ کانفرنس میں فلسطینی وفد کے اعلی عہدے دار ۔
[۳] ۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR ) دسمبر ۱۹۵۰ء میں قائم کیا جانے والا اقوام متحدہ کا ذیلی دفتر ہے جو بین الاقوامی سطح پر مہاجرین کی حفاظت اور امداد کا ذمہ دار ہے۔ مہاجرین کی امداد و حفاظت کے لیے یا تو کوئی حکومت باضابطہ درخواست دائر کرتی ہے یا پھر اقوام متحدہ اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر یہ کام سر انجام دیتی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف مہاجرین کے فلاح، حفاظت اور امداد کا کام سر انجام دیتا ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے میں مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے، یاد رہے کہ اس ادارے کا کام کلی طور پر فلاحی ہے۔ اس ادارے کا مرکزی دفتر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں قائم ہے
[۴] ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ۱۹۴۹ میں قائم ہونے والا ایسا ادارہ جسکا کام خطے میں فلسیطنیی پناہ گزینوں کو امداد پہچانا اور انکے لئے کام تلاش کرنا ہے جسے { United Nation Relife and Work Agency for palestine Refugeesian in the Near East) کہا جاتا ہے
Dowty, Alan (2012), Israel/Palestine, Polity, p. 243, ISBN 9780745656113،
[۵] ۔ مغربی کنارہ (عربی: الضفة الغربیة‎، انگریزی: West Bank) دریائے اردن کے زمین بند جغرافیائی علاقے کو کہا جاتا ہے جو مغربی ایشیا میں واقع ہے
[۶] ۔ مصری سرحدوں سے متصل فلسطین کا ایسا علاقہ جس کواسرائیل نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس کی تجارت اور خارجی معاملات پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

چین ایران کا عظیم اتحاد، ٹرامپ اور مودی دیکھتے رہو - دوسرا حصہ

  • ۱۸۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ

ہندوستان کے لئے ، چابہار بندرگاہ نہ صرف افغانستان کو تیل کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے اور افغانستان اور وسطی ایشیا رسائی حاصل کرنے کے عنوان سے اہمیت کی حامل تھی بلکہ پاکستان کے گوادر بندرگاہ کے وزن کو کم کرنا ہندوستان کے لیے زیادہ اہم تھا۔
ایران کے لئے، چابہار بندرگاہ پہلی سمندری بندرگاہ تھی جس سے وہ کمرتوڑ پابندیوں سے نکلنے کے لیے کوئی چارہ جوئی کر سکتا تھا اور اپنی معیشت کو بہتر بنانے کی سہولت فراہم کر سکتا تھا۔

تاہم ، یہ منصوبہ جلد ہی جمود کے دور میں داخل ہوگیا۔ 2017 میں ، ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدے کے خلاف موقف اختیار کر کے اس سے نکلنے کی سعی شروع کر لی۔ دوسری جانب چابہار بندرگاہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اسے استفادے میں لانے کے لیے نجی کمپنیوں کی شراکت کی ضرورت تھی، لیکن نجی کمپنیوں نے نئی امریکی پابندیوں کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے ہندوستانی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے گریز کیا۔

2018 میں ، ٹرمپ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوگئے اور اسی سال ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی گئیں۔ لیکن افغانستان کی تعمیر نو میں چابہار کے ممکنہ کردار کی وجہ سے، اس بندرگاہ کو امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ کر دیا گیا۔

اس چھوٹ کے باوجود ، ہندوستان چابہار کے لئے نجی شراکت دار ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ یہاں تک کہ بندرگاہ کو درکار سامان اور آلات و ابزات فراہم کرنے سے بھی قاصر رہا۔ گذشتہ موسم گرما میں ، یہ رپورٹ سامنے آئی کہ نئی دہلی نے اس منصوبے سے متعلق اپنے وعدوں کو 2017 سے پورا نہیں کیا ہے۔

اس بندرگاہ میں کنٹینر ٹریفک بہت کم ہے اور چابہار اس وقت اپنی سالانہ گنجائش کے 10٪ سے بھی کم کام کررہا ہے۔ برآمدات کی کم مقدار کا مطلب یہ ہے کہ جہاز بغیر مال کے چلتے ہیں اور اس وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

بھارت نے بظاہر چابہار میں ریلوے کی تعمیر میں کوئی پیشرفت نہیں کی اور ایران خود اس منصوبے کو انجام دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔ نیز، ہندوستانی کمپنیاں جو تھوڑا بہت گیس کے میدان میں کام کرنے کے لیے آگے بڑھی تھیں انہوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا۔ ایسے میں تہران ایک نئے پارٹنر کو تلاش کرنے پر مجبور ہوا۔
ایران نے چین کو اپنا پارٹنر بنا کر بہت ساری مشکلات کا راہ حل تلاش کر لیا ہے چین اگر چاربہار بندرگاہ کو مکمل کر کے ایران میں سرمایہ کاری شروع کر لیتا ہے اور ایران کے ذریعے وہ مشرقی وسطیٰ اور یورپ میں مکمل طور پر گھسنے کے لیے اپنا زمینی راستہ تیار کر لیتا ہے تو پھر چین کی راہ میں امریکہ کیا امریکہ کا باپ بھی روڑے نہیں اٹکا سکے گا اور نتیجہ میں امریکہ چین کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور تو ہو گا ہی مگر ایران بھی چین کے سہارے علاقے میں بڑی طاقت کی صورت میں ابھرے گا۔ ایشیا میں چین ایران اور روس کا اتحاد امریکہ اور یورپ کو ناکو چنے چبوانے کے لیے کافی ہو گا۔

 

چین ایران کا عظیم اتحاد، ٹرامپ اور مودی دیکھتے رہو - پہلا حصہ

  • ۱۸۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکی جریدہ نیشنل انٹرسٹ (The National Interest) میں ’روپرٹ اسٹون‘ نے "چین اور ایران کے عظیم اتحاد کے لئے تیار ہو جائیں" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے:

چین کو کنٹرول کرنے میں بھارت امریکہ کا اہم شراکت دار ہے۔ لیکن ایران کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسی نے خطے میں نئی دہلی کی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے ، اور اس وقت تہران سے اہم مراعات حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔

چین اور ایران کے مابین 25 سالہ معاہدے کی اطلاعات نے واشنگٹن کو مشتعل کردیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ کی تہران کو تنہا کرنے کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔

لیکن ریاستہائے متحدہ واحد ملک نہیں ہے جو چین-ایران عظیم اتحاد کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔ بھارت نے بھی ایران میں مختلف سرمایہ کاری کی ہے جو ایران اور چین کے مابین معاشی تعلقات میں توسیع کی وجہ سے خطرہ میں ہے۔

انتباہی نشانیاں پہلے سے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، جب سے چین کی ایران میں سرمایہ کاری کی بات شروع ہوئی ہے مبینہ طور پر ہندوستانی کمپنیوں نے ایران میں اپنی نقل و حرکت روک دی ہے۔ موجودہ صورتحال نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ بیجنگ ہندوستان کو ایران سے نکال باہر کرے گا۔

حیرت کی بات نہیں ہے کہ ایران چین معاہدے نے نئی دہلی میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سرحدی تنازعات میں اضافہ کے ذریعہ نہ صرف ہند چین تعلقات اس وقت تناؤ کا شکار ہیں ، بلکہ نئی دہلی کو اپنے پڑوس میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں طویل عرصے سے تشویش ہے۔

شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ نئی دہلی کا یہ خوف کہ چین بھارت کو ایران سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے بے بنیاد نہیں ہے۔ ایران میں ہندوستانی منصوبے حقیقت میں مشکلات سے دوچار ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ مشکلات امریکی پابندیوں کا نتیجہ ہیں، نہ صرف چین کی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش۔ در حقیقت ، چین-ایران معاہدہ اس سے کہیں کم اہمیت کا حامل ہے جتنا میڈیا اسے اہمیت دے رہا ہے۔

ہندوستان نے کئی دہائیوں سے ایران میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، اور 2015 میں جوہری معاہدے کے بعد ایرانی معیشت کے خلاف پابندیوں کے خاتمے سے بھارت کی تلاش و کوشش میں تازہ جان آ گئی تھی۔

ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران جوہری معاہدے کے بعد تیزی سے ایران کے قریب ہونے کے لیے قدم اٹھایا۔ تہران کے پاس بہت سارے قدرتی ذخائر ہیں جن میں توانائی کے وافر وسائل بھی شامل ہیں۔ نیز پاکستان کو نظر انداز کر کے ایران، افغانستان اور وسطیٰ ایشیا میں قدم رکھنے اور اپنی برآمدات بہم پہنچانے کے لیے بھارت کے پاس اس سے اچھا آپشن نہیں تھا۔

ہندوستانی کمپنیوں نے تہران کے ساتھ گیس کے حوالے سے اپنے پرانے معاہدوں کو دوبارہ بحال کیا۔ اس کے علاوہ 2016 میں ، مودی نے اپنے ایرانی اور افغان ہم منصبوں کے ساتھ ہندوستان اور افغانستان کے مابین ایک نیا تجارتی روٹ قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس مقصد کے لئے ، ہندوستان نے ایران کے جنوب مشرق میں چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری پر اتفاق کیا اور چابہار سے افغان سرحد تک ایک ریلوے لائن تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔

جاری

 

مسلم ممالک اور صہیونی ریاست کی قربتیں

  • ۱۷۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ؛ عرب دنیا کے حکمرانوں اور اسرائیل کی قرابت میں آئے روز ہونے والا اضافہ جہاں ایک طرف فلسطینیوں کی بے مثال جدوجہد کو سبوتاژ کر رہا ہے، وہاں ساتھ ساتھ اسرائیل کے لئے خطے میں کھلم کھلا بدمعاشی اور دہشت گردی کے راستے بھی کھول رہا ہے اور یہ دہشت گردی بالآخر خطے میں موجود اسرائیل کے قرابت دار عرب حکمرانوں کو بھی اپنی آگ میں لپیٹ لے گی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمران اور بادشاہ اپنے انجام اور عاقبت سے بے خبر امریکہ و صہیونی کاسہ لیسی میں غرق ہوچکے ہیں۔ سابق اسرائیلی سفارتکار دورے گولڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل عرب تعلقات کے بڑھتے ہوئے رحجان سے اسرائیل کی مشکلات میں کمی ہونے کا امکان پیدا ہوچکا ہے۔ انہوں نے عرب دنیا اور اسرائیل کے مابین ملاقاتوں اور تعلقات کے راز کو افشا کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ملاقاتیں کوئی نئی بات نہیں ہیں بلکہ کئی برسوں کا تسلسل ہے اور اس طرح کی ملاقاتیں اسرائیل کے لئے کامیابی کی کنجی ہیں۔
اس تجزیہ نگار کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمران اور اسرائیل کے حکمران اب ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن ماضی میں کوئی بھی قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی، تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ سابق اسرائیلی سفارتکار کے تجزیہ کے مطابق عرب خلیجی حکمرانوں کی اسرائیل کے قریب آنے کی ایک وجہ اسرائیل اور ان عرب ممالک کا ایران مخالف ہونا ہے۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران پر قابو رکھنے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ بھی خلیج میں امریکی اتحادیوں اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات کی زبردست حامی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں فلسطین اور اس کے عوام شدید خطرات سے لاحق ہو رہے ہیں، القدس خطرے میں ہے۔ خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں، نئے اتحادوں اور صدر ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد کہ وہ اسرائیل عرب تنازعے کو ختم کرنے کے لیے اس “صدی کا سب سے بڑا معاہدہ” کرانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، فلسطینیوں کی فکرمندی میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔
فلسطینیوں کو خطرہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اْن پر دباؤ بڑھانے کے لئے سعوی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی ریاستوں کی جانب دیکھ رہی اور یہ امریکی انتظامیہ فلسطینیوں کو ایک ایسے امن معاہدے پر مجبوراً رضامند کرانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے ان کے دیرینہ مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ فی الحال صرف مصر اور اردن ہی وہ عرب ممالک ہیں، جو اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن قائم کرنے کا عمل بہت پہلے رک چکا ہے، لیکن گذشتہ سال اسے ایک اور دھچکا لگا۔ وہ فلسطینی عوام جو مقبوضہ بیت المقدس کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانے چاہتے ہیں، انھوں نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اسے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے یہ کہہ کر واشنگٹن سے اپنے تعلقات ختم کر لیے کہ یہ قدم تصفیہ کرانے والے کسی منصف کا نہیں ہو سکتا۔
لیکن اس کے باوجود مشرق وسطیٰ کے لئے امریکہ کے ایلچی جیسن گرین بلاٹ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم کے عمان کے دورے کے حوالے سے پرجوش بھی ہیں۔ اپنی ایک ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ “یہ قدم ہماری امن کی کوششوں کے لئے نہ صرف مدد گار ہے بلکہ اسرائیل، فلسطین اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان استحکام اور خوشحالی کی فضا قائم کرنے کے لئے ضروری بھی ہے۔” دوسری طرف عرب دنیا کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امن مذاکرات کی بحالی میں سعودی عرب کو جو کردار دیا گیا تھا، وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد شکوک کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بیان میں بنیامن نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگرچہ خاشقجی کی ہلاکت ایک “ہولناک” خبر تھی، لیکن اس سے سعودی عرب کے اندر عدم استحکام پیدا نہیں ہونا چاہیئے، کیونکہ اصل اور بڑا مسئلہ ایران ہے۔ بحرین نے اسرائیل کی جانب سے اس “واضح موقف” کو اسی طرح سراہا ہے، جیسا اس نے گذشتہ دنوں عمان کو اسرائیلی وزیراعظم کی آمد پر سراہا تھا۔
اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ عرب ممالک جلد ہی اسرائیل کو پوری طرح گلے لگا لیں گے، اس لئے فی الحال ہمیں دونوں فریقوں کے درمیان ایسے دعوت ناموں اور پرجوش انداز میں ہاتھ ملانے کے مناظر کو ہی کافی سمجھنا پڑے گا، جن کے بارے میں ہم کل تک سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس تمام تر صورتحال پر اثر اب پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہوچکا ہے کہ جو ماضی میں پاکستانی حکمرانوں کی اسرائیلی عہدیداروں کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں خفیہ ملاقاتوں کی صورت میں سامنے آیا تھا، تاہم دور حاضر میں تل ابیب سے پرواز کرکے آنے والا طیارہ کی اسلام آباد میں لینڈنگ ہو اور دس گھنٹے قیام ہو یا پھر سابق جنرل کا اسرائیل حمایت میں لیکچر یا پھر حکومتی جماعت کی رکن قومی اسمبلی کی طرف صہیونیوں کی حمایت اور اسرائیل کے لئے راہ ہموار کرنے جیسے بیانات اور تقریریں ہوں، سب کے سب ریکارڈ پر موجود ہیں اور ایک نئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔
ایسے حالات میں خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ اب پاکستان نے جن ممالک کیلئے ویزا پالیسی کا اعلان کیا ہے، اس میں اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو بھی پاکستانی ویزا دیا جائے گا، یہ انتہائی خطرے کی بات ہے اور پاکستان کے آئین اور نظریاتی بنیادوں سمیت بانیان پاکستان کی اساس سے انحراف کے مترادف ہے۔ چونکہ پاکستان کی سیاست اور آنے والی حکومتوں کے حکمران عام طور پر امریکہ کے بعد سعودی عرب اور امارات کو اپنا سب سے بڑا پیشوا اور مسیحا مانتے ہیں، تاہم اس مریدی میں یقیناً پاکستان پر انہی عرب ممالک کی طرف سے یہ دباؤ بھی ضرور ہوگا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کو نرم کیا جائے۔ بہرحال خلاصہ یہی ہے کہ حالیہ دور میں فلسطینی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، جو کہ مثالی ہے جبکہ عرب دنیا کے حکمران اسرائیل کے ساتھ قربتیں پیدا کرکے جس طرح سے نہ صرف فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی پیٹھ میں خنجر گھونپا جا رہاہے۔
اس صورتحال سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے مسلم دنیا اور عالم انسانیت کا خطرناک دشمن صہیونی جعلی ریاست اسرائیل ہے، جو عنقریب ان عرب قرابت داروں کو بھی اپنے شکنجہ میں دبوچ ڈالے گی اور اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ مقالہ کے اختتام پر سابق پاکستانی جنرل غلام مصطفیٰ کی بات کو دہراتا ہوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان تل ابیب میں بیٹھ کر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی چوکیداری بھی کر لے، تب بھی یہ اسرائیل پاکستان کو نہیں چھوڑے گا اور موقع ملتے ہی پاکستان کے خلاف اپنا ہر قسم کا وار کرے گا۔ اب پاکستان سمیت تمام عرب دنیا کے حکمرانوں کو اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیئے۔

 

امریکہ ہمیشہ سے زیادہ بےبس / طاقت کے اظہار کے لئے لفاظیوں کا سہارا

  • ۱۸۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکہ نے جارج ڈبلیو بش (باپ) کے زمانے سے مشرق وسطی میں قبضہ گری اور فوجی مداخلت کی پالیسی اپنا رکھی ہے جو خطے کے ممالک کے لئے بدبختیوں اور امریکہ کے لئے بھی عظیم ترین جانی اور مالی نقصانات کا سبب بنی ہوئی ہے؛ چنانچہ اوباما نے بش کی تباہ کاریوں کے ازالے کی کوشش کی اور اسی مقصد سے اس نے عراق اور افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاء کا آغاز کیا، لیبیا، یمن اور شام میں مداخلت سے امریکہ کو دور رکھنا چاہا اور نیٹو اور یورپی اتحادیوں کی صف اول سے دور رہنے کی کوشش کی۔
اوباما امریکی معاشی رونقیں بحال کرنے اور اپنے ملک کو نئی فوجی مہم جوئیوں سے دور رکھنے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے، انھوں ںے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ منعقد کیا اور کئی عشرے سرد جنگ اور پابندیوں کے بعد، کیوبا کے ساتھ امن و آشتی کی راہ پر گامزن ہوئے۔ لیکن “پراپرٹی ڈیلر” اور “جائیداد بنانے والے” ٹرمپ نے ـ جو امریکہ کی رائج جماعتی رویوں کے برعکس، مشکوک مقبولیت کے ساتھ ریپلکن پارٹی کی چھتری تلے، ناقابل یقین انداز سے وائٹ ہاؤس کے تخت نشین بن گئے ہیں ـ ڈیموکریٹ اوباما اور ریپبلکن جارج بش کی پالیسیوں سے متصادم پالسیاں اپنا رکھی ہیں، یہاں تک کہ وہ سمجھے بوجھے بغیر بولتے ہیں اور جانچے پرکھے بغیر عمل کرتے ہیں، اور ان کا ہر کام بدنظمیوں کا باعث بنتا ہے اور یوں وہ اوباما انتظامیہ کی حصولیابیوں کو ضائع کرچکے ہیں۔
مال اندوز ٹرمپ، یورپ میں اپنے سب سے قریبی اتحادیوں کے ساتھ لڑ پڑے ہیں، نیٹو پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور یورپی اتحادیوں سے کہتے ہیں کہ انہیں دستخط شدہ خالی چیک (Blank checks) دےدیں، جس کی وجہ سے یورپی حکمران بھی ناراض ہوئے ہیں اور “مستقل یورپی فوج” کی تشکیل اور امریکی معاشی معاملات سے دوری اختیار کرنے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔
ٹرمپ اپنے قریب ترین عرب اتحادی “سعودی عرب” کے ساتھ توہین آمیز سلوک روا رکھتے ہیں اور اس کو “شیر دار” گائے کا لقب دیتے ہیں کیونکہ وہ ریاض کے ساتھ سینکڑوں ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کرکے کہتے ہیں کہ “اگر امریکہ کی حمایت نہ ہو تو سعودی دو ہفتوں تک بھی اپنا اقتدار محفوظ نہیں رکھ سکیں گے”، جبکہ سعودیوں نے حالیہ کئی عشروں سے کئی سو ارب ڈالر کا اسلحہ امریکہ سے خرید لیا ہے۔ صورت حال اس قدر پتلی ہوچکی ہے کہ غاصب یہودی ریاست ـ جو علاقے میں امریکی مداخلتوں کا اصل سبب ہے اور جس کی حفاظت واشنگٹن کی حفاظت سے بھی زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے ـ آج اپنے سلامتی کے لئے ماسکو کی طرف دیکھنے لگی ہے، کیونکہ جو کچھ شام میں وقوع پذیر ہوا ہے اس کی امریکہ کو توقع نہ تھی۔
اس مرحلے میں، جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کو کھو رہا ہے اور ٹرمپ کے ناگہانی فیصلے سب کو حیرت زدہ کرتے ہیں، واشنگٹن کے رقیب ممالک ـ خصوصا روس، چین اور یورپی اتحاد کے رکن ممالک اپنے سیاسی، اقتصادی، اور فوجی مفادات کے حصول کے لئے ـ ترکی اور افریقی ممالک میں قدم جمانے لگے ہیں جبکہ یہ ممالک ماضی قریب میں امریکہ کے زیر تسلط تھے۔ عرب ممالک بھی ـ جو کہ امریکہ کے مدار میں گردش کررہے ہیں ـ شام کے ساتھ اپنے تعلقات کی بحالی کے درپے ہیں، اگرچہ بعض عرب حکمران ابھی تک دمشق کی حکومت کے خاتمے کے پرانے نعرے دہرا رہے ہیں۔
اس میں شک نہیں ہے کہ امریکہ نے ٹرمپ کے دور میں اپنے آپ کو اپنے اتحادیوں سے دور اور تنہا کردیا ہے اور اپنے رقیب ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے، اب اس پر کم ہی اعتماد کیا جاسکتا ہے اور ناقابل پیشگوئی (Unpredictable) ہوچکا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ امریکہ کے روایتی اتحادی امریکہ سے مایوس ہوکر اپنے آپ کو دوسری علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے برابر میں لانے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ وائٹ ہاؤس کے غیر سنجیدہ تخت نشین کے عجیب و غریب اقدامات اور ناگہانی فیصلوں سے زیادہ متاثر نہ ہوں۔
وزیر خارجہ مائیک پامپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا بیک وقت دورہ مشرق وسطی یہاں کے ممالک اپنے ساتھ ملانے اور یہ بتانے کے لئے شورع ہوا کہ “امریکہ بدستور ایک طاقتور ملک ہے” لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی امریکی حکام آپ بییتیاں بیان کرنے لگتے ہیں اور لفاظیوں کے ذریعے اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہیں، اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ امریکی طاقت شدت سے کم ہورہی ہے، امریکہ سستی اور بیماری کا شکار ہوچکا ہے اور ماضی کی طرح مشرق وسطی میں جیسا چاہے، پینترے بازیاں نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ علاقے کی دو جڑواں ریاستوں کے بنیامین نیتن یاہو اور محمد بن سلمان بھی جتنا روسی صدر پیوٹن پر اعتماد کرسکتے ہیں، اتنا وہ ٹرمپ پر اعتماد نہیں کرسکتے؛ کیونکہ پیوٹن جانتے ہیں کہ انہیں کیا کہنا چاہئے اور کیسا رویہ اپنانا چاہئے لیکن ان کے امریکی ہم منصب ان اوصاف سے عاری ہیں کیونکہ ان کے فیصلوں کا اعلان یا تو ٹوئیٹر یا ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ہوتا ہے یا پھر وہ اپنی بیٹی ایوانکا یا داماد کوشنر کی تجویز پر فیصلے اور اعلانات کرتے ہیں؛ جبکہ وہ اپنے ذاتی کاروبار کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور وائٹ ہاؤس میں کسی اہم اجلاس کے دوران بھی اپنے کاروباری اور اقتصادی منصوبوں کے لئے کسی ضامن اور کفیل (sponsor) کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: احمد المقدادی العالم نیوز چینل
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسرائیل میں ہم جنس پرستی کا رواج

  • ۱۹۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ہم جنس پرستی ایک ایسی وبا ہے جو عرصہ دراز سے بشریت کے دامن گیر ہو چکی ہے لیکن کچھ سالوں سے یہ وبا بہت تیزی سے انسانی معاشروں میں پھیلتی جا رہی ہے اور لوگوں کی کثیر تعداد اس کی طرف کھچی چلی آ رہی ہے۔ اسرائیل بھی ان ممالک میں سے ایک ہے جو معرض وجود میں آنے کے بعد تو کچھ عرصے تک اس عمل کو ناجائز اور غیر قانونی قرار دیتا رہا لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد حالات میں تبدیلی آ گئی اور گزشتہ قوانین کو منسوخ کر دیا گیا اور ہم جنس پرستی کو قانونی شکل دے دی گئی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسرائیل ہم جنس پرستی کا سب سے بڑا اڈہ اور حامی بن چکا ہے۔(۱) یہاں تک کہ ہم جنس پرست سیاحوں کے لیے کلب اور مخصوص پارک بنائے گئے ہیں اور سالانہ وافر مقدار میں پیسہ اس طریقے سے  کمایا جاتا ہے(۲)۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ طول تاریخ میں یہودیوں کی عملی زندگی پر اگر نگاہ دوڑائی جائے تو یہ حیوانی اور نازیبا عمل ان کی زندگیوں میں نظرنہیں آتا اسی وجہ سے یہودیوں کی مقدس کتاب “تلمود” میں اس موضوع کے سلسلے سے کوئی گفتگو نہیں ملتی۔ حتیٰ میلاد مسیح سے قبل بھی اس معاشرے میں ’’ہلنی‘‘ اور ’’یہودی‘‘ نامی دو ثقافتیں موجود تھیں اور یہودی کافی حد تک ہلنی ثقافت سے متاثر تھے اور ہلنی ثقافت میں ہم جنس پرستی کھلے عام پائی جاتی تھی اس کے باوجود اس دور کے یہودی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے۔ یہ ایسے حال میں تھا کہ جناب لوط، جناب بلیعال اور بنیامین کے زمانے میں یہ عمل گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا اور اس گناہ کے مرتکب ہونے والے کو پھانسی کی سزا دی جاتی تھی۔
لیکن اسرائیل میں مذہبی گروہوں کی شدید مخالفتوں کے باوجود، ہم جنس پرست یہودیوں نے “ماگنوس ہرشفیلڈ” کی سرپرستی میں پہلا گروہ تشکیل دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ ۱۹۷۷ میں پہلی بار تل ابیب میں ہم جنس پرستوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اور نتیجہ میں دو دہائیوں سے کم عرصے میں یہ عمل قانونی شکل اختیار کر گیا۔ اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد فلسطین کے مقدس شہر القدس میں یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کی مخالفت کے باوجود احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ آرتھوڈوکس یہودی کہ جو دوسرے یہودیوں کی نسبت زیادہ مذہبی تھے کی مخالفت کے باوجود، اصلاح طلب یہودی ہم جنس پرستی کی طرف مائل ہونے لگے اور انہوں نے اپنے رابی اور معبد بھی الگ کر لئے۔
در حقیقت اسرائیل میں یہ انحرافی فکر سنہ ۱۹۸۸ کی طرف پلٹی ہے جب کینیسٹ نے آرتھوڈوکس ربیوں کی مخالفت کے باوجود ہم جنس پرستی کی سزا کے قانون کو منسوخ کیا۔ اس ماجرے کے بعد اس موضوع پر عبرانی اور انگریزی زبان میں مختلف جریدے چھپنے لگے۔ حکومت وقت نے اس جماعت کی حمایت کے لیے مختلف طرح کے دیگر قوانین جیسے ’’ ہم جنس شادی کو سرکاری حیثیت دینا، منہ بولا بیٹا لینے کو جواز فراہم کرنا، انہیں سرکاری نوکریاں دینا، ہم جنس جوڑوں سے مربوط حقوق کی حمایت کرنا جیسے وراثت کا حق، راشن کارڈ کی منظوری، ہم جنس پرستوں کے خلاف تشدد آمیز کاروائیوں کی روک تھام، وغیرہ وغیرہ منظور کئے۔
دین اور انسانیت مخالف اس اقدام نے یہودی مذہبی سماج خصوصا آرتھوڈوکس جماعت کو انتہائی غضبناک کیا۔ وہ ہم جنس پرستی کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اور اس عمل کے مرتکب ہونے والے افراد کو جانوروں کے برابر سمجھتے ہیں۔ ایک آرتھوڈوکس ربی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا: ’’پہلے تل ابیب سیکولر افراد کے اجتماع کا مرکز اور قدس دیندار یہودیوں کا پایتخت تھا لیکن اب ان دونوں میں کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔ فساد کے آلات اور غیر اخلاقی جرائد کے فروخت کی دکانیں اب پورے قدس حتیٰ دیوار گریہ کے پاس بھی دیکھنے کو ملتی ہیں‘‘۔
مذہبی یہودیوں کے عقیدے کے مطابق، ہم جنس پرستی غضب الہی کا سبب اور عذاب الہی کا باعث ہے۔ مثال کے طور پر ’’شلومو بنیزری‘‘ کہ جو کینیسٹ میں ’’شاسی‘‘ پارٹی کے رکن اور صہیونی ریاست کے سابق وزیر بھی ہیں اس بارے میں کہتے ہیں: مجھے ایسے زلزلے کا انتظار ہے جو پورے اسرائیل کا نابود کر دے چونکہ حکومت ہم جنس پرستی کو رواج دے رہی ہے اور ان کی سرگرمیوں کی حمایت کر ری ہے‘‘۔
یہ ناراضگیاں بعض اوقات پرتشدد کاروائیوں کا سبب بھی بنیں اور بعض اوقات موت کا۔ ۲۰۰۵ میں ہونے والی ہم جنس پرستوں کی ریلی میں ایک آرتھوڈوکس یہودی نے ریلی پر حملہ کیا اور ایک آدمی کو ہلاک اور دسیوں کو زخمی کر دیا۔ ایسے واقعات متعدد بار اس جیسی ریلیوں میں رونما ہوتے رہے ہیں.
مذکورہ مطالب کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر چہ ہم جنس پرستی ایک عوامی جماعت کا مطالبہ تھا لیکن یہودیوں کی مذہبی اکثریت کے باوجود کیوں اسرائیل پر حاکم نظام نے اس انحرافی ٹولے کی حمایت کی اور اس نازیبا فعل کو قانونی قرار دیا؟
ہم جنس پرستی کی حمایت میں اسرائیلی حکومت کے دلائل
۱۔ اسرائیلی حکومت ہمیشہ سے فلسطین کے مقامی لوگوں کے ساتھ ناروا رویہ اپناتی رہی ہے جو اس بات کا سبب بنی کہ اسرائیل دنیا میں ایک نفرت بھرے چہرے کے عنوان سے پہچانا جائے۔ علاوہ از ایں، مقامی فلسطینی اس رژیم کے نسل پرستانہ اور طبقاتی اختلافات پر مبنی رویے کی وجہ سے رنج و الم اٹھا رہے ہیں۔ یہ امور اس بات کا باعث بنے کہ اسرائیلی حکومت ان مشکلات کو حل کرنے اور اپنے ناروا کردار پر پردہ ڈالنے نیز اپنے جمہوری چہرہ کو ظاہر کرنے اور عالمی دباو سے خود کو نجات دلانے کے لیے ہم جنس پرستی کی حمایت کرے۔
۲۔ یہودی معاشرے اور سیاسی نظام میں سیکولر فکر کے پھیلنے کی وجہ سے مذہبی افکار بے حد متاثر ہوئے اور ساتھ ساتھ دینی اور اخلاقی ادارے بھی کمزور ہوتے گئے۔ البتہ اس درمیان اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اسرائیلی سیاسی گروہ بھی ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ مذہبی اور سیکولر گروہوں میں تعادل برقرار کرنے کے لیے جہاں مذہبی گروہوں کی حمایت کرتے ہیں وہاں ہم جنس پرستی کی بھی حمایت کرتے ہیں۔
۳۔ یہودی ریاست کی زیادہ تر توجہات مذہب کے بجائے قومیت پر ہیں لہذا یہ بات بھی باعث بنی ہے کہ دینی اور مذہبی حدود سے باہر نکل کر اسرائیلی حکومت، یہودی معاشرہ کے ہر مطالبے کو پورا کرے بھلے وہ مخالف دین و شریعت ہی کیوں نہ ہو۔
۴۔ ہم جنس پرستی کے رواج کی ایک وجہ اسرائیلی معاشرے کی مختلف النوع تشکیل بھی ہے جو مختلف ملکوں سے ہجرت کر کے آئے ہوئے یہودی باشندوں سے تشکیل پائی ہے۔ لہذا اس معاشرے میں پائے جانے والے افراد مختلف مزاج، مختلف ذوق اور الگ الگ ثقافت کے مالک لوگ ہیں۔
۵۔ اسرائیلی عہدیداروں کی ہم جنس پرستی کی نسبت غفلت اور اس ناشائستہ اور نازیبا عمل کے مرتکب ہونے والوں کے ساتھ کوئی قانونی کاروائی نہ کرنے کی وجہ سے بھی دھیرے دھیرے یہ بیماری معاشرے میں پھیلتی گئی اور جب لوگوں کی کثیر تعداد اس کا شکار ہو گئی تو اسرائیلی حکومت کو اسے قانونی شکل دینا پڑی۔
۶۔ اور اہم ترین عامل اس بیماری کے پھیلاو میں خود اس کا قانونی جواز ہے جس کی وجہ سے نہ صرف سیکولر معاشرہ بلکہ مذہبی معاشرہ بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔
حواشی
۱ – https://www.yjc.ir/fa/news/4870797
۲- https://www.farsnews.com/news/13911201001077
۳- Magnose Hiresfield
۴- صفاتاج، مجید، دانشنامه صهیونیسم و اسرائیل، ج۶، تهران، آروَن، چاپ اول: ۱۳۸۸، ص۸۰۷-۷۹۴٫
تحریر: میلاد پورعسگری