اسرائیل کا کوئی مستقبل نہیں، یہودی بھاگ جائیں گے

  • ۲۳۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیلی مؤرخ بینی مورس (Benny Morris בני מוריס) ـ جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ سنہ ۱۹۴۸ع‍ کے یوم نکبہ (Nakba Day) کے بعد سے فلسطینیوں کے خلاف انجام پانے والے جرائم کے بارے میں منصفانہ موقف اپناتا رہا ہے ـ نے یہودی ریاست کے اخبار “ہاآرتص” (Haaretz) سے بات چیت کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینیی اپنی پوری سرزمین کی آزادی اور صہیونیت کی بیخ کنی کے عزم کے پابند ہیں۔
موریس نے زور دے کر کہا کہ کوئی علاقائی تصفیہ ممکن نہیں ہے اور کسی صورت میں بھی ملکوں کو تقسیم کرکے امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔
موریس نے مزید کہا: جہاں تک یہودی ریاست کے طور پر اسرائیل کے وجود کا تعلق ہے، تو میں نہیں جانتا کہ کیا ہونے والا ہے کیونکہ آج بحر اور نہر (بحیرہ روم اور دریائے اردن) کے درمیانی علاقوں (یعنی سرزمین فلسطین) میں عربوں کی آبادی یہودیوں سے کہیں زیادہ ہے، اور اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) کے تمام علاقے اور شہر و دیہات، تبدیلی کے عمل سے گذر رہے ہیں اور ان تبدیلیوں کو روکنا ممکن نہیں ہے، وہ واحد ریاست میں بدل رہے ہیں جہاں عربوں کی اکثریت ہوگی؛ جبکہ اسرائیل “یہودی ریاست” کہلوانے پر اصرار کررہا ہے؛ لیکن جس حالت میں ہم ایک مقبوضہ سرزمین کے عوام پر مسلط ہوئے ہیں، جن کو کسی طرح کے حقوق نہیں دیئے گئے ہیں اس حالت کو اکیسویں صدی میں جاری نہیں رکھا جاسکتا؛ اور اگر پھر ان کو ان کے حقوق دیئے جائیں تو اس صورت میں یہ ریاست یہودی ریاست نہیں رہے گی۔
انھوں نے کہا: اس سرزمین میں مشرق وسطی کی عرب اکثریتی ریاست قائم ہوگی اور اس ملک میں رہنے والے مختلف گروہوں کے درمیان تشدد میں اضافہ ہوگا، اور عرب [فلسطینی] پناہ گزینوں کی واپسی کا مطالبہ کریں گے اور یہودی فلسطینی عربوں کے وسیع و عریض سمندر کے بیچ چھوٹی سی اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے؛ ایسی اقلیت جس کو یا تو مارا جائے گا یا پھر ان کا تعاقب کیا جائے گا؛ اور یہودیوں کا حال اسی زمانے کی طرح ہوگا جب وہ عرب ممالک میں سکونت پذیر تھے۔ (۱) اور یہودیوں میں جو بھاگ سکے وہ بھاگ کر امریکہ اور مغربی ممالک میں پناہ لے گا۔ اور فلسطینی عوام عرصہ دراز سے ان حالات کو وسیع نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں یہاں ۵۰، ۶۰ یا ۷۰ لاکھ یہودی رہتے ہیں جن کا سینکڑوں میلین عربوں نے احاطہ کیا ہوا ہے۔ اور کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ فلسطینی اپنے موقف سے پیچھے ہٹیں۔ چونکہ یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا؛ چنانچہ فلسطینیوں کی کامیابی لازمی اور ناگزیر ہے۔ شاید ۳۰ سال بعد یا ۴۰ سال بعد، (۲) جو کچھ بھی ہوگا، وہ ہم پر غلبہ پائیں گے۔
موریس کے مطابق، جو بھی کہتا ہے کہ (یہودی ریاست کے سابق وزیر اعظم) ایہود بارک اور (سابق امریکی صدر) بل کلنٹن نے فلسطینیوں کو کچھ تجاویز دی تھیں جنہیں قبول کرنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا، وہ جھوٹ بولتا ہے۔ فلسطینی ۱۰۰ فیصد مقبوضہ سرزمین کو چاہتے ہیں اور جس وقت وہ مصالحت کے لئے آمادگی ظاہر کررہے تھے، در حقیقت چالیں چل رہے تھے۔
موریس نے مزید کہا: صہیونی قومی تحریک نے ۱۹۳۷ع‍، ۱۹۴۷ع‍، ۱۹۷۷ع‍ اور ۲۰۰۸ع‍ میں “دو قوموں کے لئے دو ریاستوں” کے قیام سے اتفاق کیا تھا!
بینی مورس نے یہودی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا: نیتن یاہو فلسطینوں کے ساتھ مصالحت کے منصوبے پر کام نہیں کررہا ہے؛ گوکہ مصالحت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوگی لیکن نیتن یاہو پر لازم ہے کہ “دنیا والوں کی نظروں کے سامنے سفارتی کھیل کھیلتا رہے”۔ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ یہودی ریاست عربوں کے ساتھ شدیدترین دشمنی کے باوجود آج تک اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی ہے کہ فلسطین پر یہودی قبضے سے قبل یہودیوں کو عرب ممالک میں کسی قسم کے اجتماعی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے چنانچہ انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ بینی مورس یورپی ممالک میں یہودیوں کی صورت حال کی مثال دیتا؛ جہاں اس جیسے یہودیوں کا دعوی ہے کہ انہیں قتل گاہوں یا ان کے بقول extermination camps میں لے جایا جاتا تھا اور کوڑا جلانے کی بھٹیوں (incinerators) میں جلایا جاتا تھا! جبکہ ایسا کوئی واقعہ عرب اور اسلامی دنیا میں رونما نہیں ہوا ہے۔
۲۔ شواہد بھی اور یہودی ریاست اور اس کے رو بہ زوال مغربی حامیوں کی صورت حال بھی ثابت کررہی ہے کہ یہودی ریاست کے دن گنے جاچکے ہیں، اور جناب بینی موریس بھی مؤرخ ہونے کے ناطے اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے: ” دل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے”۔
۳۔ بینی موریس نے بظاہر یہودی ریاست کی بقاء کی خاطر یہ پیش گوئیاں فرمائی ہیں کیونکہ وہ اسی غاصب سسٹم کا حصہ ہے اور اس مکالمے میں بھی اس کے الفاظ میں عربوں سے شدید نفرت کی جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں، ورنہ تو وہ مکار نیتن یاہو کو مکاری کا سبق دینے کی کوشش کیوں کرتا؟

 

امریکی صدارتی انتخابات میں صیہونیت کا اثر و رسوخ

  • ۲۷۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: موجودہ امریکی صدر سے لے کر "ولسن"  اور "اوباما"، سب نے کھلے عام یہ اعلان کیا کہ وہ صیہونیوں اور امریکی یہودی سرمایہ داروں کے مقروض ہیں۔ گذشتہ 40سالوں سے امریکہ کے تمام صدور نے اقتدار سنبھالتے ہی اسرائیل کا دورہ کیا اور صہیونیوں کے ساتھ بیعت کی۔ اور اس حکومت کے خطرے کو اپنا خطرہ قرار دیا۔  
امریکہ پہلی جنگ عظیم میں یہودی اور صہیونی سرمایہ داروں کے ذریعہ ہی داخل ہوا اور اس طرح اس جنگ کے نتائج بدل گئے۔ اور اس کے بعد، سائکسپیکو معاہدہ کیا گیا، جس کے دوران عرب دنیا اور عالم اسلام فرانس اور برطانیہ کے مابین تقسیم ہوگئے۔ مغربی ایشیاء کی تقسیم اور صہیونی حکومت کی تشکیل بھی اسی دور میں ہوئی۔ ان سارے واقعات کی وجہ صیہونی تھے اور اس بنا پر صہیونیوں نے امریکہ میں اپنا مزید اثر و رسوخ بڑھا دیا۔
جرمن یہودیوں نے ’ویس مین‘ کی زیرقیادت پہلی جنگ عظیم کے دوران ، انگریزوں سے کہا تھا کہ وہ جرمنوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں ، اور طے پایا کہ امریکہ کو غیرجانبداری سے نکالیں اور برطانیہ کے ساتھ امریکہ کو متحد کر کے جنگ میں کامیابی کا سہرا انگریزوں کے سر پر باندھیں۔ نیز اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جرمنی کے یہودیوں کی طرف سے اس احسان کے بدلے میں، امریکی اور برطانوی فلسطین کو یہودیوں کے قبضے کے لئے تیار کریں۔
برطانیہ کے عظیم سرمایہ دار والٹر روتھشائلڈ کے ساتھ معاہدے کے ذریعے ’وائزمین‘ نے برطانوی بحریہ کے سربراہ اور برطانوی وزیر اسلحہ ’جیمز بالفور‘ کی وجہ سے امریکہ کو جنگ میں داخل کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ نے جنگ کی پوزیشن بدل کر یہودیوں کے لیے جعلی ریاست کی تشکیل کے مقدمات فراہم کر دئے۔  
امریکی صدارتی انتخابات کے دوسرے دور میں ’ولسن‘ کا نصب العین ریاستہائے متحدہ کو جنگ سے دور رکھنا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہ عملی طور پر جنگ میں وارد ہوا۔ ربی اسٹیفن وائز نے جنگ میں امریکہ کے داخلے کی تجویز پیش کی۔ اس وقت امریکی سپریم کورٹ کا سربراہ ایک یہودی تھا جس نے ولسن کو جنگ میں داخل ہونے پر راضی کیا تھا۔ بالآخر ، ایک امریکی کشتی اور جرمنی کے ایک جنگی جہاز کے مابین تصادم نے ریاستہائے متحدہ کے لیے پہلی جنگ عظیم میں داخل ہونے کی راہ ہموار کردی۔ اسی شخص نے جو امن کے نعرے کے ساتھ دوسرے چار سال کے لئے ریاستہائے متحدہ کا صدر منتخب ہوا تھا، بالفور اعلانیہ کے جاری کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور انگریزوں کے ساتھ فلسطین یہودی قبضے کو رسمیت دے دی۔
امریکہ میں صہیونی اقلیت کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ وہ منظم اور مرکوز سرگرمیوں میں مہارت رکھتے ہیں ، اور دولت اور میڈیا کا اچھا استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ میں یہودیوں سے زیادہ عربوں،  مقامی امریکیوں اور تارکین وطن کی آبادی زیادہ ہے، لیکن صہیونیوں نے ہمیشہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اقتدار ، دولت اور عسکریت پسندی کے بنیادی اداروں پر قبضہ جمائے رکھا۔

 

امریکہ اور بین الاقوامی تنظیموں میں صہیونی اثر و رسوخ پر ایک نظر

  • ۱۷۰


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کچھ  لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل نامی ایک جعلی ریاست، جو امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی مدد سے تشکیل پائی تھی ، اب ان ممالک پر اپنا تسلط جمانے میں کامیاب ہو گئی ہو۔ اس سوال کے پیش نظر، ہم اقوام متحدہ ، جوہری توانائی تنظیم ، اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان میں اسرائیل یا یہودیوں کا کتنا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔
یہودی امریکہ میں سب سے زیادہ اقلیت میں ہیں۔ تقریبا 5 ملین یہودی 80 ، 90 فیصد اقتدار ، دولت اور میڈیا کے اداروں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس وقت مقبوضہ فلسطین کے بعد سب سے زیادہ یہودی امریکہ میں آباد ہیں۔ عالمی یہودی اسمبلی یہودیوں کی تعداد 15 سے 20 ملین بیان کرتی ہے ۔ بیشتر موجودہ یہودی غیر مذہبی اور بے دین ہیں اور انہوں نے سیکولر طرز زندگی کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن ایک بہت چھوٹی اقلیت ، جسے بنیاد پرست یہودی کہا جاتا ہے، مذہبی اور دیندار ہیں۔ ان میں سے کچھ یہودی صہیونی حکومت سے متفق ہیں ، جبکہ دوسرے اس کے اور اس کے تشکیل کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

صہیونی اور سرمایہ دار یہودی امریکی سیاسی ، سماجی ، معاشی اور فوجی ڈھانچے کے تقریبا تمام بڑے مراکز پر قابض ہیں۔ ابتدا ہی سے، انہوں نے امریکہ اور یورپ میں صیہونی یہودیوں کی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے نٹ ورک بنا رکھے ہیں۔

صہیونی ریاست کے قیام سے پہلے یہودیوں کے زیادہ تر دشمن یورپی تھے ، لہذا اسرائیل کی تشکیل کی ایک وجہ یہودیوں کو یورپ سے بے دخل کرنا تھا۔ بنی اسرائیل کے تاریخی پس منظر کو دیکھتے ہوئے بالآخر یہودی ریاست بنانے کے لئے فلسطین کا انتخاب کیا گیا۔

یہودیوں کی پہلی نظر امریکہ میں دراندازی تھی۔ چونکہ ان پر یورپ میں دباؤ تھا ، ریاستہائے متحدہ بھی ایک نیا قائم کردہ ملک اور تقریبا ایک سپر پاور تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی تنظیموں ، عالمی سیاست اور بین الاقوامی اداروں میں بھی امریکہ نے کافی اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا۔

آج ، صیہونی یہودی اور ان سے وابستہ افراد پینٹاگون ، امریکی محکمہ جنگ ، ہالی وڈ ، میڈیا ، معاشی اور سرمایہ دارانہ کمپنیوں ، بڑے امریکی بینکوں ، بڑی امریکی یونیورسٹیوں اور اسلحہ ساز کارخانوں وغیرہ میں اہم عہدوں پر ہیں۔ امریکہ میں ریپبلک پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی مہموں میں زیادہ تر سرمایہ کار صیہونی یہودی ہیں۔  ریپبلکن اور ڈیموکریٹک امیدواروں کی ریڈ لائن امریکی یہودیوں کی رضامندی ہوتی ہے اور دونوں پارٹیاں اس حکومت کے ساتھ بیعت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

مکالمہ/امریکی سمجھتے تھے کہ انصار اللہ چھ مہینوں میں شکست کھائی گی

  • ۱۹۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسٹاک ہوم (Stockholm) مذاکرات کے بعد بنی سعود ذرائع ابلاغ کی جنگ میں اپنے آپ کو اس جنگ کا فاتح قرار دے رہے ہیں جبکہ یمنی عوام کی چار سالہ مزاحمت اور پامردی نے خلیج فارس کی عرب شیخ نشین ریاستوں کو اپنی ہوسناکیوں تک پہنچنے سے ناامید کیا۔
مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے امور کے تجزیہ نگار اور لبنان میں اسلامی جمہوریہ ایران سابق ناظم الامور ڈاکٹر سید ہادی سید افقہی نے “رجا نیوز” ویب گاہ کو انٹرویو دیتے ہوئے حالیہ مذاکرات میں سعودیوں کی طرف سے کامیابی کے دعؤوں، یمن پر ان کی جارحیت کی تازہ ترین صورت حال، ملک یمن کے مستقبل اور مغربی ـ عربی محاذ کی سازشوں اور حالیہ اقدامات کا جائزہ لیا ہے:
سوال: ابتدائی سوال کے طور پر، آپ فرمائیں کہ اسٹاک ہوم کے امن مذاکرات کے سلسلے میں آپ کا تجزیہ کیا ہے، اور ان مذاکرات میں سعودیوں کی طرف سے ہونے والے فتح و کامیابی کے دعوے کس حد تک درست ہیں؟
جواب: سعودیوں اور منصورہادی سے وابستہ گروپوں کی طرف سے مذاکرات میں کامیابی کے دعوے بےبنیاد ہیں؛ وہ شیخیاں بگھارنے کے عادی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان کا دعوی سچا ہے اور وہ مذاکرات میں کامیاب ہوئے ہیں تو پھر ابھی تک وہ یمن پر بمباری کیوں کررہے ہیں؟ ابھی تک مذاکرات میں طے پانے والے نکات کی خلاف ورزی کیوں کررہے ہیں؟ ابھی تک یمن کا محاصرہ جاری کیوں ہے؟ یہاں تک کہ اقوام متحدہ اور یمن کے لئے اس ولندیزی ایلچی نے بھی احتجاج کیا ہے، اور انھوں نے کہا کہ “بعض فریق روڑے اٹکا رہے ہیں”؛ اور ہم پوچھتے ہیں کہ کون روڑے اٹکا رہا ہے؟ کون ہے جو الحدیدہ کی طرف جانے والے بحری جہازوں کا راستہ روک رہا ہے؟ کون سا فریق ہے جو ابھی تک الحدیدہ اور اس کے اطراف پر بمباری کررہا ہے؟ جواب: سعودی عرب۔
دوسری طرف انصار اللہ اور انقلابی کمیٹیوں کی بالادستی ہے کیونکہ وہ اسٹاک ہوم میں ہونے والی مفاہمت پر خوش تھے اور ایک سفارتی کامیابی حاصل کرچکے تھے، کیونکہ اقوام متحدہ نے پہلی بار انہیں جنگ یمن کے ایک اہم فریق کے طور پر تسلیم کرلیا تھا اور ان کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ وہ اسٹاک ہوم پہنچے اور ایک مفاہمت نامے کے فریق کے طور پر مذاکرات میں شریک ہوئے اور قیدیوں اور لاشوں کے تبادلے کے مفاہمت نامے پر دستخط کئے۔ چنانچہ ان مذاکرات میں کامیاب فریق وہ ہے جو اس کا پابند ہو اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ انصار اللہ ابھی تک اس مفاہمت کی پابندی کررہا ہے جبکہ مخالف فریق روڑے اٹکا رہا ہے اور خلاف ورزی کررہا ہے۔ چنانچہ سعودی اور ان کے شرکاء اپنی شکست کا جواز تلاش کررہے ہیں اور اور کہتے ہیں کہ “ہم کامیاب ہوئے ہیں”، حالانکہ وہ اسٹاک ہوم میں ان مذاکرات پر مجبور ہوئے تھے اور انہیں بہ امر مجبوری مذاکرات کی میز پر آنا پڑا تھا۔
سوال: آپ نے بھی اشارہ کیا اور یہ ایک عمومی خیال ہے کہ یمن کی جنگ اور خاشقجی کے قتل کے بعد سعودیوں کو شدید دباؤ کا سامنا تھا اور وہ اسی بنا پر مذاکرات پر مجبور ہوئے اور وہ اس اقدام کو ایک “چال” قرار دے رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی دباؤ میں کمی آجائے؛ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
جواب: میرے خیال میں بعید از قیاس نہیں ہے کہ سعودی اور اماراتی اس جنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں کیونکہ بین الاقوامی دباؤ کے لحاظ سے بھی، اخلاقی لحاظ سے بھی، بین الاقوامی قوانین و ضوابط کے لحاظ سے بھی اور جانی نقصانات کے لحاظ سے بھی، وہ اس جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں؛ علاوہ ازیں اس جنگ کے عظیم مصارف و اخراجات بھی سعودیوں اور کسی حد تک اماراتیوں کے لئے بھاری پڑ رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب دو سالوں سے بجٹ میں بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سعودی اس جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں لیکن وہ یہ نہیں چاہتے کہ اس جنگ کا فاتح فریق انصار اللہ ہو۔
کیونکہ یہ مسئلہ ایک طرف سے ان کے لئے بہت بڑی شکست کے طور پر ابھرے گا اور دوسری طرف سے سعودیوں کے لئے بہت زیادہ سیاسی اور علاقائی تزویری نقصانات کا سبب بنے گا؛ یہ مسئلہ سعودی عرب کے اندر بھی ایک بحران کا سبب بنے گا اور سعودی حکمرانوں سے پوچھا جائے گا کہ “تم نے چار سال تک یہ غیر مفید اور نقصان دہ جنگ کیوں لڑی جس کے نتیجے میں شکست کھا کر اور یمن کو ایران کے حامیوں کے سپرد کرکے واپس آئے ہو؟ پس یہ مسئلہ کہ یہ لوگ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ساتھ ہی چاہتے ہیں کہ انہیں اس جنگ کا فاتح مانا جائے، اور اگر نہیں تو کم از کم انہیں شکست خوردہ نہ دکھایا جائے! وہ یمن کو بھی جنگ اور امن کی درمیانی حالت میں رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ کسی حال میں بھی راضی نہیں ہوتے کہ انصار اللہ ـ جسے وہ اپنا شدید ترین دشمن سمجھتے ہیں ـ یمن میں اقتدار حاصل کرے یا یمن کی وفاق ملی (قومی اتحاد) کی حکومت کا ایک بڑا حصہ انصار اللہ کے ہاتھ میں ہو اور جنگ بندی کے بعد بننے والی حکومت میں ایسی قوت یمنی حکومت کے ایک حصے کے طور پر ان کے برابر آکر بیٹھ جائے جو کل تک ان کی شدید ترین دشمن تھی۔
چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت ایک طرف سے سعودیوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور دوسری طرف سے ساکھ اور حیثیت کا مسئلہ بھی درپیش ہے اور وہ تمام اخراجات بھی ستا رہے ہیں جو انھوں نے اس جنگ کے لئے اٹھائے ہیں۔ چنانچہ انہیں شدید ترین مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے، جو انہیں جنگ کے خاتمے پر مجبور کرتے ہیں، چنانچہ وہ بین الاقوامی دباؤ کم کرنے کے لئے مذاکرات پر رضامند ہوجاتے ہیں اور حتی کہ مذاکرات میں شریک ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ بعض مفاہمت ناموں پر دستخط بھی کرلیں لیکن وہ درحقیقت چاہتے یہ ہیں کہ انصار اللہ کو کسی بھی صورت میں یمن کی سیاست میں کردار ادا نہ کرنے دیا جائے اور یمن کی سیاست سے اس کو حذف کیا جائے۔ البتہ ممکن ہے کہ سعودی اتحاد شمالی صوبے “صعدہ” اور “الحدیدہ” وغیرہ میں ایک قسم کی خودمختاری دینا چاہے لیکن وہ فی الحال یہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ انصار اللہ یمن کے مستقبل میں کوئی بنیادی کردار ادا کرے۔
سوال: آج کل یمن کی دو “شمالی اور جنوبی” حصوں میں تقسیم کے بارے میں چہ میگیوئیاں ہورہی ہیں؛ اور یمن کے مختلف علاقوں میں مختلف جماعتوں کی تعیناتی کی کیفیت سے بھی اس مسئلے کی تصدیق ہوتی ہے؛ آپ کی نظر میں کیا یہ درست ہے؟
جواب: یمن اسی وقت عملی طور پر تقسیم ہوچکا ہے گوکہ یہ تقسیم رسمی اور باضابطہ نہیں ہے۔ لیکن عالمی برادری اس تقسیم کو تسلیم نہیں کرے گی اور انصار اللہ بھی قبول نہیں کرتی کہ یمن کو ماضی کی طرح تقسیم کیا جائے ‌جب شمالی یمن کا دارالحکومت صنعا تھا اور جنوبی یمن کا دارالحکومت عدن۔
اس کو حتی یمن کی کانگریس پارٹی اور انصار اللہ میں سے کوئی بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے جنوبی یمن میں اس کے لئے ماحول تیار ہے اور کئی اطراف سے اس کو تقویت مل رہی ہے۔ جنوبی یمن خودمختاری کا اعلان کرے گا تو سعودی اور اماراتی کم از کم کہہ سکیں گے کہ “اگرچہ ہم پورے یمن پر قابض نہیں ہوسکے اور انصار اللہ کو یمن کی سیاست سے نکال باہر کرنے میں ناکام ہوئے لیکن اب اس سمت میں بڑھتے ہیں”۔
دوسری بات یہ ہے کہ جنوب کی علیحدگی پسند تحریک عدن میں یہی کچھ چاہتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ “ہم پلٹ کر آنا چاہتے ہیں اور اپنے جنوبی یمن کو ایک بار زندہ کردیتے ہیں”۔
تیسرا مسئلہ القاعدہ، داعش اور ان جیسی تنظیموں کا ہے جو اس وقت جنوبی یمن میں موجود ہیں اور پھر یہودی ریاست (اسرائیل) بھی یمن کے اتحاد کو نہیں چاہتی۔ امریکہ بھی چاہتا ہے کہ اس ملک میں جنگ کا سلسلہ اس قدر طویل ہوجائے کہ یہاں موجود تمام قوتیں فرسودگی سے دوچار ہوجائیں اور یہ استکباری اور استعماری طاقت یمن کے تیل کے کنؤوں اور اس کی حساس آبناؤں پر براہ راست قابو پا لے۔
ایک روئیداد یہ بھی کہ صوبہ المہرہ کے عوام اور قبائل اس وقت سعودی قبضے اور اس صوبے میں سعودی فوجی اڈوں کے قیام کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔
جہاں تک عدن کا تعلق ہے تو یہاں مختلف تنظیموں کے درمیان خونریز لڑائیاں جاری ہیں اور نام نہاد یمنی صدر منصور ہادی عدن سے دور سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں، کیونکہ وہ یمن میں طویل عرصے تک قیام کرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ کہیں انہیں کسی قاتلانہ حملے کا نشانہ بنا کر قتل نہ کیا جائے۔ شمال میں بیرونی حملوں کے علاوہ، اندرونی سطح پر مکمل امن قائم ہے جبکہ جنوبی یمن شدید بدامنی کا شکار ہے۔
شمال میں کم ہی ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ شمال میں مختلف گروپوں کے درمیان جنگ کی صورت حال نہیں ہے۔ شمال میں انصار اللہ، انقلابی کمیٹیاں اور یمنی افواج متحد ہیں اور ان کا مقابلہ سعودی حملہ آوروں سے ہے اور یہ معمول کی لڑائی ہے لیکن غیر معمولی لڑائیاں جنوب میں جاری ہیں۔ ہر تنظیم کسی بندرگاہ یا کسی جزیرے پر مسلط ہونا چاہتی ہے جس کی وجہ سے ان کے درمیان لڑائیاں چھڑ جاتی ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں منصور ہادی نے امارات کے ساتھ ایک سو سالہ معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت یمن کے سقوطرا (Socotra) جزائر ایک صدی تک امارات کے سپرد کئے گئے ہیں۔ امارات نے ان جزائر میں فوجی دستے بھی اتارے ہیں اور فوجی اڈوں کی تعمیر میں مصروف ہے۔ لہذا یمن کی تقسیم کا مسئلہ سنجیدہ اور باعث تشویش ہے؛ یہ الگ بات ہے کہ کیا عالمی برادری اس اماراتی اقدام کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں، اور مسقبل میں کیا واقعات رونما ہونے والے ہیں، یہ سب اگلے سیاسی مذاکرات پر منحصر ہے۔
سوال: ڈاکٹر صاحب! آپ نے یمن میں امریکہ کے تباہ کن کردار کی طرف اشارہ کیا۔ کیا آپ یمن میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت عالمی طاقتوں کے کردار کی وضاحت کریں گے؟
جواب: جی ہاں! اصل کھلاڑی یہی ممالک ہیں لیکن پس پردہ۔
سوال: کیا یہ ممالک میدان میں بھی موجود ہیں؟
جواب: جی ہاں میدان میں بھی موجود ہیں۔ آپ کو یقینا معلوم ہوگا کہ بہت سے امریکی، فرانسیسی، برطانوی اور مصری اور دوسرے ممالک کے ہوابازوں (پائلٹوں) کو سعودی عرب اور امارات نے بھرتی کرلیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اسی بنا پر اب امارات اور سعودی عرب میں ان پائلٹوں کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے اور مصری پائلٹ کہتے ہیں کہ امریکی اور برطانوی پائلٹوں کو ۲۵۰۰۰ ڈالر ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے لیکن انہیں صرف ۸۰۰۰ ڈالر دیئے جارہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ یہ بہت بڑی رسوائی ہے جارح ملکوں کے لئے۔
حدیدہ کے مسئلے میں یہ سب اکٹھے ہیں۔ عرصہ چار مہینوں سے ان تمام ممالک نے مل کر حدیدہ کی بندرگاہ، شہر اور ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن ناکام ہوچکے ہیں۔ اس حملے کے لئے امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی سب آئے ہیں اور ہمیں موثق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انصار اللہ نے ان جھڑپوں کے دوران فرانسیسی اور اسرائیلی قیدی بھی پکڑ لئے ہیں۔
جی ہاں یہ سب یمن میں موجود ہیں، مغرب اور یہودی ریاست کے مشترکہ کنٹرول رومز سعودی عرب اور امارات اور یمن کے بعض مقبوضہ علاقوں میں قائم ہیں۔ جو ہتھیار وہ اعلانیہ فروخت کرچکے ہیں، ان کے علاوہ اسلحے کے خفیہ سودے بھی ہورہے ہیں۔ امریکہ کانگریس کی شدید مخالفت کے باوجود سعودی عرب اور امارات کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔
بنیادی موضوع امریکی لالچ ہے اور وہ بحیرہ احمر اور نہر سوئز پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ حتی کہ آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز کے درمیان ایک آبی حفاظتی انتظام کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کررہا ہے تا کہ ایران کے تیل بردار اور تجارتی جہازوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرسکے۔ یعنی کھیل ایک امریکی کھیل ہے، ورنہ سعودیوں کی کیا جرأت کہ وہ امریکہ کی اجازت کے بغیر یمن میں اتنی خونریزی کرے؟ یقینا وہ جو بھی کرتے ہیں امریکی اجازت سے کرتے ہیں۔
سوال: آپ نے یمن میں استکباری طاقتوں کے تباہ کن کردار کی طرف اشارہ کیا اور پھر مذاکرات کا مسئلہ بھی حساس مرحلے تک پہنچ چکا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ جیسے ممالک کا کردار جنگ کے بعد بھی اس ملک میں سیاسی اور اقتصادی سانچوں میں جاری رہے گا؟ اگر یمنی آپس میں صلح کرلیں تو وہ اس امریکی کردار سے نمٹنے کے لئے کیا کچھ کرسکتے ہیں؟
جواب: اس موضوع کو سمجھنے کے لئے ہمیں ان کے پروگراموں اور منصوبوں پر غور کرنا پڑے گا۔ امریکی تین قسم کے منصوبوں پر کام کرتا ہے: ہنگامی منصوبہ، وسط مدتی منصوبہ اور طویل المدت منصوبہ۔ مثال کے طور پر عراق میں امریکہ نے ہنگامی منصوبے کے تحت داعش کو مسلط کیا؛ پروگرام یہ تھا کہ داعش آکر چھ مہینوں کے عرصے میں عراق پر مسلط ہوجائے، اور شام اور عراق میں اسلامی خلافت کا اعلان کرے اور پھر شام پر حملہ کرے اور اپنی خلافت کو وسعت دے اور پھر ایران کی طرف آجائے۔ [اور جب داعش ظہور پذیر ہوئی تو امریکہ نے داعش کے خلاف نام نہاد لڑائی کے لئے ایک اتحاد بھی قائم کیا اور اعلان کیا کہ داعش کے مکمل خاتمے کے لئے دو عشرے وقت درکار ہے]؛ یہ الگ بات ہے کہ یہ ہنگامی امریکی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکا، عراق میں الحشد الشعبی قائم ہوئی، اسلامی جمہوریہ ایران نے مدد کی اور ایران عراقی عوام اور مسلح افواج کے ساتھ مل کر داعش کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔
یعنی یہ کہ امریکہ معمول کے مطابق وسط مدتی منصوبہ پیش کرنے میں بھی ناکام ہوا، اور اب وہ اس منصوبے کے لئے داعش کے دوسرے جنم کا انتظام کررہا ہے۔ امریکہ نے داعش کی کمانڈ کو محفوظ رکھا اور کمانڈروں اور اہم افراد کو دوسرے ممالک میں منتقل کیا اور کچھ کو عراق اور شام کے مختلف علاقوں میں بسایا۔ اس وقت وہ داعش کو ہر قسم کی امداد پہنچا رہا ہے اور داعش کے مستقبل کی ریشہ دوانیوں کے لئے منصوبہ سازی کررہا ہے۔ عراقی علاقوں “کرکوک، دیال اور الانبار” کے نواحی علاقوں میں ـ خصوصا عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں ـ ان کی خاطر تواضع کررہا ہے؛ وہ عراق اور شام کے درمیان زمینی سرحد کو بند کرنا چاہا ہے، ایران کو محدود کرنے کی سازشیں کررہا ہے اور ایران کی بحیرہ روم تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔ یہ سب یہاں ہورہا ہے چنانچہ یمن میں بھی ان کا ایک ہنگامی منصوبہ ہے۔
ہنگامی منصوبے کے تحت، ان کے بزعم، انصار اللہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جانا تھا، لیکن یہ منصوبہ ناکام ہوچکا ہے جنانچہ اب انصار اللہ کو مذاکرات کی دعوتیں دی جارہی ہیں؛ اور اس سے بڑھ کر ممکن ہے کہ وہ اگلی یمنی حکومت میں انصار اللہ کو اچھا خاصا حصہ دلوانے کے لئے بھی تیار ہوجائیں اور انہیں توقع ہوگی کہ انصار اللہ حکومت کے انتظام و انصرام میں ناکام ہوجائے، یمن کی تعمیر نو میں ناکام ہوجائے، اور عوامی مطالبات کی تکمیل نہ کرسکے اور یوں عوام اور انصار اللہ کے درمیان فاصلہ پڑے۔
وہ درحقیقت یہاں وہی کچھ کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے مصر میں کیا، ابتداء میں انھوں نے اخوان المسلمین کو اقتدار تک پہنچایا تا کہ وہ آکر اپنے تمام پتے خرچ کرے، اور انہیں روزمرہ کے مسائل میں الجھایا یہاں تک کہ عوام ناراض ہوگئے اور احتجاجی مظاہرے ہوئے، اور پھر ایک بغاوت کے مشابہ اقدام کے ذریعے اخوانی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور جنرل السیسی کو میدان میں لا کھڑا کیا جو جنرل سادات اور جنرل حسنی مبارک سے کہیں زیادہ خطرناک آمر ہیں، ممکن ہے کہ یمن کے لئے بھی ان کا ایسا ہی کوئی منصوبہ ہو جس کے لئے انصار اللہ اور انقلابی قوتیں پہلے سے تیار ہیں، اسی لئے وہ کبھی بھی اقوام متحدہ، امریکہ یا خلیجی ریاستیں کی دی ہوئی تجاویز کو من و عن قبول نہیں کریں گے، کیونکہ یہ سب ایک جیسے ہیں؛ وہ اسی بنا پر ہوشیاری اور زیرکی کے ساتھ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں؛ یقینا انہیں اپنے شہیدوں کے خون کا پاس رکھنا پڑے گا اور ہمدرد قوتوں کے مشورے سے فائدہ اٹھانا پڑے گا۔
۔ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت شکریہ۔
۔میں بھی آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

 

ڈالر کے تسلط کا ممکنہ خاتمہ اور اس کے محرکات

  • ۱۹۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فارس نیوز ایجنسی[۱] کے اقتصادی شعبے سے متعلق نامہ نگار کے مطابق نے رشا ٹوڈے[۲] “Russia Today” RT سے نقل کرتے [۳]ہوئے لکھا کہ سن ۲۰۱۸ ء ایسے حوادت کو اپنے دامن میں لئے ہوئے تھا کہ جنکے سبب دنیا جیوپولیٹکل بنیاددوں پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی : ایک حصہ ان ملکوں پر مشتمل تھا کہ جنہوں نے حسب سابق بین الاقوامی معاملات میں ڈالر کو ایک مالی تبادلہ کے ذریعہ کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ،اس کا استعمال جاری رکھا جبکہ دوسرے حصے میں وہ ممالک آتے ہیں جو ڈالر کو پیٹھ دکھا رہے ہیں ۔
امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کی بنا پر وجود میں آنے والی بین الاقوامی چپقلشیں اور واشنگٹن کی جانب سے تجارتی جنگ کے چھیڑے جانے کی بنا پر امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے مسائل سے جوجھتے ممالک اس بات پر مجبور ہو گئے کہ اقتصادی معاملات کی انجام دہی اور لین دین میں ڈالر کے علاوہ کسی اور طریقہ کار کو عمل میں لاتے ہوئے ڈالر کو کنارے لگا دیں ۔
چنانچہ سن۲۰۱۸ میں مختلف ممالک نے ڈالر کو تجارتی معاملات سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا اور اس کرنسی سے وابستگی و تعلق خاطر کو ختم کرنے کے لئے انہوں نے مختلف اقدامات کئے ، ڈالر سے پیچھا چھڑانے والے ان ممالک میں ہر ایک کا اپنا الگ ہی زاویہ نظر ہے ۔
چین :
چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کا سلسلہ ، اور اس کے ساتھ روس کے خلاف امریکہ کی پابندیاں جو چین کا ایک بڑا تجارتی شریک ہے اس با ت کا سبب بنیں کہ پکن کے عہدے دار ایسی سیاست کو اختیار کریں جس کے چلتے ڈالر سے وابستگی کو ختم کیا جا سکے ۔
پکن نے اس میدان میں ایک نرم سیاست اختیار کی اور چینی حکومت نے بغیر شور شرابے کے اس سیاست کو آگے بڑھانا شروع کیا ، چین کے مرکزی بینک نے ۲۰۱۸ میں امریکہ کی خزانہ داری کی وزارت سے خریدے گئے باونڈس[۴] و تمسکات {negotiable instruments}کو جوکہ چین کے اختیار میں تھے بازار میں بیج دیا ۔
اس اقدام کے باوجود ،چین آج بھی امریکہ کے سب سے زیادہ باونڈس رکھنے اور قابل خرید و فروخت تمسکات {negotiable instruments} والا ملک ہے یہ اور بات ہے کہ چین کے اس عمل سے اس کا حصہ گزشتہ دو سالوں میں اپنے کمترین مقام پر پہنچ گیا ہے ۔
چین نے ڈالر سے دوری بنانے کی حکمت عملی اس طرح بنائی کہ اپنے تبادلات میں ڈائرکٹ ڈالر کوختم کرنے کے بجائے یوآن کو بین الاقوامی سطح پر لانے کی کوشش کرنا شروع کر دی ہے ۔
چین گزشتہ چند سالوں میں چین یو آ ن [۵]کو ڈالر ، جاپانی ین[۶] ، یورو اور پونڈ کے ساتھ بین الاقوامی کرنسی کی مخصوص فنڈ یا باسکٹsdr-imf [7]میں جگہ دلانے میں کامیاب ہو گیا ۔
گزشتہ چند مہینوں میں چین نے یوآن کی مضبوطی کے لئے وسیع پیمانے پر اقدامات کئے ،ان اقدامات میں سونے کے ذخیرے میں اضافہ ، یوآن کے تحت تیل کے مارکیٹ کی تشکیل ، اسی طرح اپنے تجارتی شرکاء کے ساتھ اپنی ملکی کرنسی یوآن سے استفادہ کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
چین اپنے منصوبہ کے ایک اور حصہ کی تکمیل کے لئے یوآن کی دنیا میں مضبوطی کی خاطر اپنے تجارتی شریکوں کے ساتھ سوئپ[۸] کے امکانات کے سلسلہ سے پروگرامنگ میں مشغول ہے تاکہ اس کے ذریعہ یوآن کو رواج بخش سکے ۔ ان تمام ہی موارد میں چینی متحرک انداز میں مشرقی ایشیا کے جنوبی ممالک کے ساتھ علاقے کی جامع اقتصادی شراکت کے نام کے تحت آزاد تجارت کے ایک معاہدے {T.PP}[9]کو وجود میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
اگر یہ ڈیل ہو جاتی ہے اور معاہدہ کامیاب رہتا ہے تو چین بڑی ہی آسانی کے ساتھ آزاد تجارت میں امریکہ کی خالی جگہ لینے میں کامیاب ہو جائے گا جو کہ امریکیوں ہی کے ذریعہ وجود میں آئی تھی ، لیکن ٹرنپ کی حکومت اس سے دست بردار ہو گئی تھی ۔
جامع اقتصادی شراکت علاقے کے ۱۶ ایسے ممالک پر مشتمل ہوگی جنکا زیادہ تر تعلق ایشیاء سے ہے ، جنکی مجموعی آبادی ۴۔۳ /ارب ہے ، اور انکا مجموعی اقتصادی تخمینہ، ۵۔۴۹ ٹریلن ڈالر بیان کیا گیا ہے، جو کہ ۴۰ فی صدد دنیا کی مجموعی ملکی آمدنی[۱۰] دنیا کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں ۔
روس :
روس کے صدر جمہوریہ ولادیمیر پوٹین نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایک اسٹراٹیجک غلطی کا ارتکاب کیا ہے اس لئے کہ دنیا میں ڈالر پر قائم اعتماد ختم ہو رہا ہے ۔
پوٹین نے ابھی تک ڈالر میں ہونے والے تجارتی لین دین، یا پھر تجارتی معاملات میں ڈالر کی ممنوعیت کے سلسلہ سے کوئی بات نہیں کہی ہے ، لیکن انٹون روس کے وزیر اقتصاد آنتھن گرامانوچ سیلوناو[۱۱] نے گزشتہ سال کی ابتداء میں یہ اعلان کیا کہ روس کو چاہیے اپنے اختیار میں موجود امریکی وزرات خزانہ کے بونڈس کو محفوظ اور بہتر پونجی جیسے روبیل و یورو یا دیگر قیمتی دھاتوں میں تبدیل کرا لے ۔ روس نے اب تک کئی بار ڈالر کو تا حد ممکن اپنے اقتصاد سے ختم کرنے کی سیاست کو اپناتے ہوئے ڈالر سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے ، ۲۰۱۴ ء سے لیکر ۲۰۱۸ دائمی طور پر مغرب کی جانب خاص کر امریکہ کی طرف سے روس کو پابندیوں کا سامنا رہا ہے اور دن بہ دن ان پابندیوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا ہے ۔
اسی تسلسل کی بنیاد پر اور امریکہ کی جانب سے مزید سخت پابندیوں کے لگائے جانے کی دھمکی اور روس کی سوئفتس SWIFT[12] ، ویزا کارڈ اور مسٹر کارڈ سے دسترسی ختم ہو جانے کی وجہ سے روس نے سوئفت کی جگہ SPFS نامی ایک قومی سسٹم کے متبادل کو پیش کیا ہے ، اور MIR کو بھی ویزاکارٹ اور مسٹر کارڈ کی جگہ ایک متبادل بنایا ہے ۔
روس اپنے ان اقدامات کے بل پر کسی حد تک اپنے ایکسپورٹ میں ڈالر کے استعمال کو کم کرنے میں کامیاب ہوا ہے روس کو ، ہندوستان ، چین اور ایران کے ساتھ ، کرنسی سوآپ { swwap } ، جیسے معاہدوں پر دستخط کرنے کی بنا کافی حد تک یہ کامیابی نصیب ہوئی ہے کہ وہ قومی کرنسی کو ڈالر کی جگہ استعمال کر سکے۔ روس نے ابھی یہ تجویز بھی رکھی ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ بھی تجارتی لین دین میں ڈالر کی جگہ یورو کو استعمال کیا جائے، ایک زمانہ وہ بھی تھا جب روس امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے بونڈس کے ۱۰ بڑے ملکوں میں شمار ہوتا تھا لیکن اب اس نے اپنی تمام پونجی کو نیلام کر دیا ہے اور اس نیلامی کا بڑا حصہ ۲۰۱۸ ء میں انجام پایا ہے ۔
روس نے امریکی بونڈس{us Treasury bonds} کو بیچنے کے بعد حاصل ہونے والے سرمایہ کو بیرونی کرنسی کے ذخیرہ میں اضافہ اور روبل کو مضبوط بنانے کے لئے زیادہ سونے کو حاصل و ذخیرہ کرنے میں خرچ کیا ہے ۔
ترکی :
گزشتہ سال کی ابتداء میں ترکی کے صدر جمہوریہ رجب طیب اردگان نے تجارت کی عالمی منڈی میں ڈالر کے تسلط کو ختم کرنے کے سلسلہ سے اپنے منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ترکی حکومت یہ چاہتی ہے کہ اپنے ساتھ شریک تجارتی حلیفوں کے ساتھ ڈالر ہوانے والے تجارتی تبادلوں کی ادائگی کو ڈالر میں ادا نہ کرتے ہوئے اس مقصد کو حاصل کرے ، ترکی کے صدر جمہوریہ نے اعلان کیا کہ انقرہ چین، روس اور یوکرین سے تجارتی لین دین میں ان ممالک کی قومی کرنسی میں ادائگی کے منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ اسی طرح ترکی ایران کے ساتھ تجارتی لین دین میں ڈالر کو حذف کرنے کے سلسلہ سے مذاکرات کر رہا ہے ، ترکی کے اس فیصلہ کے مختلف سیاسی و اقتصادی دلائل ہیں ۔
۲۰۱۶ ء میں اردگان کی حکومت کے خلاف ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد سے لیکر اب تک ترکی کے واشنگٹن سے تعلقات خراب ہو گئے ہیں اور رپورٹس کے مطابق اردوگان کا ماننا ہے کہ امریکہ کا اس بغاوت میں ہاتھ تھا ۔ دوسری طرف قومی سلامتی و سکورٹی کے اسباب کی بنیاد پر ایک امریکن پادری کو ترکی کی جانب سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دینے پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر دیں ، جنکے چلتے ترکی کی معیشت کو زبردست جھٹکا لگا۔
علاوہ از ایں اردگان نے مکرر ترکی کی پابندی کے خلاف بولنے کے ساتھ ہی ساتھ واشنگٹن کے ذریعہ تہران کے خلاف اقتصادی جنگ چھیڑے جانے اور ایران کو الگ تھلگ کر دئے جانے پر امریکہ کی کڑی تنقید کی ہے ۔
ترکی کی جانب سے روس سے S400 کے فضائی سسٹم کوخریدے جانے کی وجہ سے بھی ترکی اور واشنگٹن کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔
ان تمام مذکورہ موارد کے ساتھ ترکی کی کوشش ہے کہ ڈالر کو لین دین سے ختم کر کے اپنی کرنسی کو مضبوط بنائے، ترکی لیرہ کی قیمت گزشتہ سال سے اب تک ڈالر کے مقابل آدھی رہ گئی ہے ۔ ڈالر کے سامنے ترکی لیرہ کی قیمت میں شدید گراوٹ، افراط زر (Inflation) [13]کے زیادہ ہونے اور ترکی میں اشیاء اور سرویسز کی قیمت کے بڑھ جانے کے ساتھ ساتھ پیش آئی ۔
ایران :
ایران کے چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری توانائی کے جامع معاہدے [۱۴] JCPOA کے بعد عالمی منڈی میں واپسی کو ابھی زیادہ وقت بھی نہیں ہوا تھا کہ ڈونلڈ ٹرنپ نے وہائٹ ہاووس پہنچ کر امریکہ کو اس معاہدے سے دست بردار کر دیا ۔
تیل کے ذخائر سے مالا مال ایران ایک بار پھر امریکہ کی شدید تر ین پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے ،اور اتنا ہی نہیں امریکہ کی طرف سے دھمکی بھی دی گئی ہے کہ جو ملک ایران کا اس سلسلہ سے کوئی بھی تعاون کرے گا اسے بھاری مالی تنبیہ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
امریکی پابندیوں نے ایران کو مجبور کر دیا ہے کہ ایسے مکینزم کو تلاش کرے جس کے بموجب تیل کی فروخت کے بعد ڈالر سے ہٹ کر ادائگی ممکن ہو سکے۔
ایران نے ہندوستان کے ساتھ تیل کی فروخت کے بعد روپیہ میں قیمت کی ادائگی کے معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں ، فی الحال عراق سے اس کے مذاکرات جاری ہیں ۔
ایران اور عراق چاہتے ہیں آپسی لین دین میں دینار سے استفادہ کریں تاکہ بینکی سسٹم پر پابندی کی بنا پر ڈالر سے اپنی وابستگی کو کم کیا جا سکے ۔
ہندوستان :
ہندوستان ، دنیا کی چھٹی بڑی اقتصادی طاقت ہے، اور بین الاقوامی برادری کے ایک بڑے امپورٹ کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے ، یہ بات ذرا بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہندوستان ڈائرکٹ ہی بہت سارے جیو پولیٹکل جھگڑوں سے متاثر ہوتا ہے ، اور ہندوستان کے تجارتی شریکوں پر لگائی گئی پابندیاں ہندوستانیوں کو شدید طور پر متاثر کر تی ہیں ، گزشتہ سال کی ابتداء میں امریکہ کی جانب سے روس پر لگائی گئی پابندیوں کے چلتے روس سے s400 سسٹم خریدنے پر ہندوستان نے ماسکو کو روپیہ میں ادائگی کی ۔
اسی طرح ہندوستان ناچارہوا کہ ایران سے تیل خریدنے کی قیمت بھی ایران پر لگی امریکی پابندیوں کی بنا پر ایک بار پھر روپیہ میں ہی چکائے ۔
گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں بھی ہندوستان نے عرب امارات کے ساتھ ایک معاہدہ میں سوایپ{ swwap }پر سائین کئے تاکہ تجارتی تبادل میں آسانی کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تیسری کرنسی کے سلسلہ سے سرمایہ کاری کو کم کر سکیں ۔
اس لحاظ سے کہ ہندوستانی خریدنے کی توانائی کے لحاظ سے دنیا کے تیسرے ملک میں شمار ہوتے ہیں ، یہ تمام اقدامات عالمی منڈی میں ڈالر کے تسلط کو قابل دید حد تک چیلنز کر سکتے ہیں ۔
ترجمہ و تحقیق : سید نجیب الحسن زیدی
حواشی :
[۱] https://www.farsnews.com/news/13971012000416/%D8%AF%D9%88%D9%82%D8%B7%D8%A8%DB%8C-%D8%AF%D9%84%D8%A7%D8%B1-%D8%B6%D8%AF%D8%AF%D9%84%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%D8%B1-%D8%AC%D9%87%D8%A7%D9%86-%D8%B4%DA%A9%D9%84-%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA-%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1%D9%87%D8%A7-%D8%A8%D9%87-%D8%AF%D9%84%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D8%AE%D9%85-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D9%86%D8%AF
.[۲] انگریزی اور عربی زبان میں ۲۴ گھنٹے پروگرام پیش کرنے والا روسی چینل ۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : RT (formerly Russia Today) is a Russian international television network funded by the Russian government.
https://www.rt.com/about-us/contact-info/، russiatoday.ru، rtarabic.com
[۳] ۔https://www.rt.com/business/447915-top-states-ditching-dollar
[۴] ۔ وہ ضمانتی اوراق یا تمسکات جنہیں ٹریزی باونڈس {us Treasury bonds} کہا جاتا ہے
[۵] ۔ چین کی سرکاری کرنسی جسے خصوصی اور بین الاقوامی سیاق و سباق کے تحت چینی یوآن (Chinese yuan) کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے تفصیل کے لئے دیکھیں : https://web.archive.org/web/20070320211302/http://www.cin.gov.cn/law/main/2004010802.h
[۶] ۔ امریکی ڈالر ، یورو کے بعد دنیا کی تجارت میں تیسری سب سے زیادہ استمعال ہونے والی کرنسی ۔ “Foreign exchange turnover in April 2013: preliminary global results” (PDF). Bank for International Settlements. Retrieved February 7, 2015
[۷] ۔ { special drawing rights –international monetary fund } جسے مختصر طور پر sdr –imf بھی کہا جاتا ہے
[۸] ۔currency swwap
[۹] ۔ trans-pacific free trade partnership agreement {T.PP}
[۱۰] ۔Gross net income (G.N.I)
[۱۱] ۔ Anton Germanovich Siluanov
[۱۲] ۔ Society for Worldwide Interbank Financial Telecommunication
[۱۳] ۔ معیشت میں موجود اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی شرح تفصیل کے لئے : Barro, Robert J. (1997). Macroeconomics. Cambridge, Massachusetts: MIT Press. p. 895. ISBN 0-262-02436-5.
Blanchard, Olivier (2000). Macroeconomics (2nd ed.). Englewood Cliffs, N.J: Prentice Hall. ISBN 0-13-013306-X.
Mankiw, N. Gregory (2002). “Macroeconomics” (5th ed.). Worth. Measurement of inflation is discussed in Ch. 2, pp. 22–۳۲; Money growth & Inflation in Ch. 4, pp. 81–۱۰۷; Keynesian business cycles and inflation in Ch. 9, pp. 238–۲۵۵٫
[۱۴] ۔ ایران کے جوہری پروگرام پر جامع معاہدہ JCPOA comprehensive agreement on the Iranian nuclear program))
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امریکہ اور اسرائیل کی چودراہٹ کا دور ختم

  • ۱۷۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، غروب اور طلوع اللہ کی نشانیاں ہیں اور جیسا کہ معلوم ہوتا ہے مقولہ “ایام گردش میں ہیں [یا ایام مسلسل تبدیل ہوتے جا رہے ہیں] یعنی مطلب یہ ہے کہ دنیا صرف انسانوں کے حوالے سے ہی تبدیل نہیں ہوتی بلکہ ریاستوں اور حکومتوں کے حوالے سے بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے؛ لیکن تاریخ اس زمانے میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جس کا سبب شاید مواصلاتی انقلاب ہے ـ کیونکہ وقت کی پیدائش فیمٹو سیکنڈ سے ہونے لگی ہے ـ چنانچہ عین ممکن ہے کہ ہم بعض واقعات کو دنوں میں دیکھ سکیں جو اس سے پہلے صدیوں میں رونما ہوا کرتے تھے۔
امریکی اور اسرائیلی راہنماؤں کے حالات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات وہ نہیں ہیں جو امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے؛ کیونکہ سیاسی راہنما عروج، تابندگی اور انحطاط و زوال کے لحاظ سے دوسرے ملکوں کی طرح ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ٹرمپ جیسا شخص امریکہ کی خانہ جنگی، دو عالمی جنگوں یا حتی سرد جنگ جیسے حالات میں امریکہ کی قیادت کر سکے؛ نیز بن گورین یا گولڈامائر اور نیتن یاہو میں بہت زیادہ فرق ہے۔ وہ یوں پسپائی اور زوال کے دور کے راہنما زیادہ بدعنوان اور زیادہ جھوٹے ہوتے ہیں۔
محض راہنماؤں کے سلسلے میں موجودہ تاثرات اور ان کی سطح پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ممالک کی معاشی اور سماجی صورت حال اور درپیش مسائل زیادہ اہمیت کے حامل مسائل ہیں۔ بے شک امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہے اور اس کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج بھی ہے لیکن:
– اس ملک میں کھپت کی مقدار پیداوار سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسری بڑی وجہ وہ دشواریاں ہیں جو دوسری طاقتوں کے ساتھ رقابت و مسابقت کے حوالے سے درپیش ہیں۔
– کسی زمانے میں ہینری کیسنگر (Henry Kissinger) اور زبیگینیو برڑینسکی (Zbigniew Brzezinski) نے چین کے ساتھ تعلقات بحال کئے تا کہ اس کو لگام دیں، اسے سوویت اتحاد سے اس کو دور رکھیں، تا کہ بعد میں یہ ملک آزاد عالمی تجارت کے معاہدے میں شامل ہوجائے، لیکن چین روز بروز امریکی معیشت کے لئے خطرناک سے خطرناک تر ہوتا گیا اور قرض دینے والے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ تجارتی توفیر (Trade surplus) کے مالک ملک میں تبدیل ہوا۔
– زیادہ تر امریکی مصنوعات چین جنوبی کوریا اور بھارت سمیت رو بہ عروج معیشتیں وہ ممالک نہیں ہیں جن کی امریکیوں کو توقع تھی؛ امریکہ تو سمجھ رہا تھا کہ ان ممالک پر ـ قدیم سامراجیت کی طرف پلٹے بغیر ـ دور سے تسلط جمائے ہوئے ہے۔ کیونکہ وہ سب سے بڑے بینکوں پر مسلط تھا اور ڈالر کو ـ سونے کے امدادی کردار کو ہٹانے کے باوجود ـ عالمی زر مبادلہ میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا؛ بالفاظ دیگر امریکی ڈالر محض شہرت اور بین الاقوامی اعتبار کی بنا پر معتبر عالمی زر میں بدل ہو چکا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور ٹرمپ حکومت آزاد تجارت کا معاہدہ پھاڑنے کے لئے پر تول رہی ہے۔
– ڈالر اور امریکی اعتبار اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے چنانچہ مسٹر ٹرمپ عالمی معاہدوں میں مقررہ عہد و پیمان کی پابندیوں سے جان چھڑا کر اور عالمی حالات کے منطقی تبدیلیوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے، ان معاہدوں سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں اور اب وہ دھونس دھمکی، دباؤ اور بلیک میلنگ وغیرہ کے ذریعے اپنا تسلط زور زبردستی کے واسطے سے بحال رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی امریکی پالیسی کی بنیاد پر ایک سادہ مگر بہت خطرناک واقعہ رونما ہوا۔
ہوا یوں کہ کینیڈا پولیس نے چین کی ہواوی کمپنی (Huawei Technologies Co.) کی مالیاتی منتظمہ محترمہ مینگ وانژو (Meng Wanzhou) کو ـ امریکہ کی تحویل میں دینے کے لئے ـ گرفتار کرلیا۔ الزام یہ تھا کہ انھوں نے ایران پر لگی [امریکی] پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اپنے اندرونی قوانین کو دنیا بھر میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے [اور اس سلسلے میں وہ دوسرے ملکوں کے باشندوں کو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اغوا کرنے تک آگے جا سکتا ہے]۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ کا چین اور ایران کے درمیان تجارت سے کیا تعلق ہے؟ بہرحال اس اقدام نے چین کو غضبناک کیا اور اس نے بحران میں اضافہ کرنے کی دھمکی دی۔
یہودی ریاست (اسرائیل) کی صورت حال بہت خراب ہے، اور اس کی بدحالی امریکی زوال پذیر اور تقسیم شدہ صورت حال سے، کم نہیں ہے؛ کیونکہ وہ نہ تو [ماضی کی طرح مزید] علاقے کے ممالک کے لئے خوفناک نیزے کا کردار ادا کرنے کے قابل ہے اور نہ ہی علاقے میں امریکہ اور یورپ کی یَدِ طُولیٰ [اور ان کی بالادستی کی علامت] سمجھی جاسکتی ہے۔ اس ریاست کی حالت عربوں کے شدید اختلافات کے باوجود، بہت زیادہ خراب ہیں۔ یہاں تک کہ لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں چھوٹی چھوٹی سی تنظیموں کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے۔ یہودی ریاست جانتی ہے کہ حزب اللہ اور فلسطینی تنظیموں سے لڑنے بھڑنے کے نقصانات اس کے لئے برداشت کرنا بہت دشوار ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس ریاست کے فضائی حملوں کو بھی مزید خوفناک نہیں سمجھا جاتا؛ کیونکہ مزاحمت تنظیموں نے سرنگیں کھود کر ان حملوں کو کافی حد تک ناکارہ بنا دیا ہے نیز میزائل شکن اور طیارہ شکن نظامات بھی علاقے میں موجود ہیں اور پھر اس کے ہر حملے کے جواب میں مختلف روشوں سے جوابی حملوں کو بھی سہنا پڑتا ہے۔
یہودی ریاست کے انتہا پسند حکام پوری طرح اقتدار پر قابض ہیں، چنانچہ وہ امن و آشتی کے تمام راستے بند کردیتے ہیں، چنانچہ اب وہ جنگ سے عاجز آ چکے ہیں اور امن کے قیام کے سلسلے میں بھی ضعیف اور کمزور ہوچکے ہیں۔
امریکہ اور یہودی ریاست کی پسپائی اور تنزلی یقینی ہے لیکن یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی انتہا اور ان کا خاتمہ قریب ہے؛ امریکہ ابھی تک ایک طاقتور ملک ہے اور اسرائیل کے پاس بھی کافی طاقت ہے، اور اسرائیلیوں کی طرف سے شور و غل مچانے میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ وہ ہنوز اذیت و آزار کی قوت رکھتے ہیں؛ لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکہ مزید اپنا تسلط جمانے کی صلاحیت کھو چکا ہے؛ اور اس کے ساتھ ساتھ یہودی ریاست کی حالت بھی ایسی ہی ہے؛ اور ہاں! اگر انھوں نے طاقت کے ذریعے وقت کو ماضی کی طرف پلٹانے کی کوشش کی اور جبر کے ذریعے اپنا تسلط ٹھونسنا چاہا تو یہ ان کے مشترکہ دور کے مکمل خاتمے اور ان کے مکمل زوال کا باعث ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: مصطفی السعید، الاہرام (مصر)
اردو ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارسی متن کا لنک: http://asrdiplomacy.ir/47832

 

امریکہ کے ہاتھوں بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی

  • ۱۶۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ تحریر میں امریکہ کے اندر انسانی حقوق کی وسیع پامالی کی طرف اشارہ کیا گیا اور درج ذیل تحریر جو گزشتہ مضمون کا دوسرا حصہ ہے میں بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے ہاتھوں پامال ہونے والے انسانی حقوق کے چند نمونوں کو بیان کیا گیا ہے۔
دوسرا حصہ: امریکہ کے ہاتھوں بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی
بین الاقوامی سطح پر امریکی مداخلتوں، اور رویوں کے نتیجے میں غیر معمولی اور غیر روایتی خوفناک مسائل سامنے آتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین نیز اقوام متحدہ کے منشور، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیئے، جنیوا کے چار کنونشنوں میں مندرج قوانین (انسان دوستانہ قوانین)، اور بین الاقوامی عرف کی شدید خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
۱) بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کا استعمال
باوجود اس کے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ ۲ کی شق نمبر ۴ کے مطابق، طاقت کا عدم استعمال ایک مسلمہ اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے لیکن امریکہ نے بےبنیاد حیلوں بہانوں سے حالیہ چند عشروں میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر جارحیت کا ارتکاب کرکے ان پر فوجی طاقت سے قبضہ رچایا ہوا ہے۔ آخری تین مثالیں: افغانستان پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرنا، عراق پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرنا، شام پر حملہ کرکے قبضہ کرنے میں ناکام ہونا۔
قبضہ گری کے ان اقدامات میں امریکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر عسکری حملہ کرتا ہے اور جنیوا کنونشنوں سمیت بین الاقوامی قوانین کو پامال کردیتا ہے اور اب تو قوانین کی خلاف ورزی امریکہ کے معمول کا کام بن چکا ہے۔ [اور وہ اپنا حق سمجھتا ہے کہ اقوام عالم کے لئے منظور شدہ قوانین سے بالاتر ہوکر ان کی منظم خلاف ورزی کیا کرے]۔
الف) جنگی قیدیوں کے حقوق کی عدم رعایت
افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں کے جنگی قیدیوں کو امریکہ نے خلیج گوانتامو کے غیر قانونی قیدخانوں میں منتقل کیا اور ان کے ساتھ وحشیانہ رویہ روا رکھا، انہیں ٹارچر کیا اور ان پر تشدد کے مختلف قسم کے حربے آزمائے۔ اور یہ جنیوا کنونشن کے چوتھے کنونشن کی کھلی خلاف ورزی تھی، کیونکہ یہ افراد جنگی قیدی تھے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے افغان طالبان کے ۱۲۰۰۰ جنگجؤوں کو گرفتار کیا تھا جن میں سے بمشکل ۳۵۰۰ یا زیادہ سے زیادہ ۴۰۰۰ افراد زندہ رہے اور رہا ہوئے۔
امریکہ نے عراقی قیدیوں اور سینکڑوں جنگی قیدیوں کو صحرائی چھاؤنیوں میں رکھا جہاں پینے کا صاف پانی اور حفظان صحت کے وسائل ناپید تھے۔ اور انہیں تشدد اور آزار و اذیت کا نشانہ بنایا۔
ب) نہتے عوام کو غیر روایتی ہتھیاروں کا نشانہ بنانا
امریکہ نے افغانسان کے دیہی علاقوں کو ویکیوم بموں کا نشانہ بنایا جو علاقے کو مکمل طور پر تباہ کردیتے تھے اور دیہاتوں کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کیا۔ حتی امریکیوں نے ان بموں سے خوست کے اسپتال کو نشانہ بنایا اور سینکڑوں مریضوں اور زخمیوں کو قتل کردیا۔ عراق کے مختلف علاقوں میں کمزور شدہ یا کم تابکار یورینیم (Depleted uranium) کے حامل بموں کا وسیع استعمال کرکے عراق کی موجودہ اور آئندہ نسلیں تابکاری کے اثرات سے متاثر ہوئیں۔
۲) جارحوں اور دہشت گردوں کی حمایت
جارح ملکوں اور دہشت گردوں کے لئے امریکی حمایت “سخت حمایت اور نرم حمایت” (Hardware support & Software support) پر مشتمل ہے۔ صدام کی بعثی حکومت نے ایران پر حملہ کیا تو امریکہ نے اس کو ہتھیار دیئے اور دلوائے اور اس کے لئے رسد کا مسلسل انتظام کیا۔ اسرائیل نامی یہودی ریاست نے فلسطین پر قبضہ کرلیا اور اپنے منحوس آغاز سے لے کر آج تک مقبوضہ فلسطین کے پڑوسی ملکوں پر حملے کررہی ہے اور ان حملوں میں امریکہ کے دیئے ہوئے ہتھیار اور ہر قسم کے سازو سامان کو استعمال کیا جارہا ہے۔ یمن پر سعودی اور اماراتی حکومتوں نے حملہ کیا تو ان کو کھربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا اور ساتھ ہی امریکی طیارے سعودی عرب اور امارات کے امریکی ساخت کے جنگی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرتے ہیں اور ان کے طیاروں کی نگہداشت اور تعمیر و مرمت کی ذمہ داری بھی امریکیوں کے پاس ہے جبکہ امریکہ سیارچے سعودیوں اور اماراتیوں کو تسلسل کے ساتھ جنگی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
امریکہ اور اس کی حمایت یافتہ عرب ریاستیں داعش، القاعدہ اور النصرہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو امداد فراہم کرتی ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ براہ راست یا پھر امریکی حکومت دوسری روشوں سے دہشت گردوں کو ابلاغیاتی مدد بھی فراہم کرتی ہے اور ان کی تشہیری مہم میں کردار ادا کرتی ہے اور ایران کے خلاف اقدامات بھی در حقیقت ان دہشت گرد ریاستوں کی پشت پناہی شمار ہوتے ہیں جو علاقے کے ممالک کے خلاف جارحیت میں مصروف ہیں۔
– جس وقت امریکہ کے اشارے پر صدام نے ایران کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا اور امریکہ اور اس کے حاشیہ بردار ممالک نے ہر لحاظ سے صدام حکومت کی امداد کو اپنا فریضہ سمجھا اسی وقت امریکہ نے ایرانی عوام کے خلاف ظالمانہ پابندیاں عائد کردیں۔
– اقوام متحدہ کی مجلس عمومی اور سلامتی کونسل میں یہودی ریاست کے خلاف ۶۰ سے زائد قراردادیں منظور ہوئیں جنہیں امریکہ نے ویٹو کردیا۔
– ان عوامی تنظیموں اور اداروں کو شدید ترین نفسیاتی اور سیاسی و سماجی مسائل اور مشکلات سے دوچار کیا جاتا ہے جو یہودی ریاست کی جارحیتوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں۔ جن میں فلسطینی جماعتیں اور لبنانی نیز وہ یمنی تنظیمیں شامل ہیں جو یمن پر سعودی جارحیت کے خلاف جدوجہد کرتی ہیں۔
۳) امریکہ کے اندر بین الاقوامی قوانین اور اقوام کے حقوق پامال کرنے کے لئے قوانین کی منظوری
عجیب ہے کہ امریکہ اپنے ملک کے اندر قوانین منظور کرتا ہے اور انہیں بیرون ملک نافذ کرتا ہے جس کی وجہ وہ بیرونی ممالک بھی ہیں جو خدا کے احکام کو تو معطل کرسکتے ہیں لیکن امریکہ کے احکامات کی پیروی کو اپنی نجات کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔
امریکہ نے ۱۷ اکتوبر سنہ ۲۰۰۶ع‍ کو “فوجی کمیشن” نامی قانون (Military Commissions Act of 2006) منظور کیا جس کے تحت امریکہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں واقع کسی بھی ملک کے قوانین اور قومی سالمیت اور حق حکمرانی کو پامال کرکے کسی بھی ملک کے باشندوں کو ـ جو امریکیوں کے خیال میں “دشمن” قرار پائے ہوں ـ گرفتار کرکے شکنجہ کرسکتے ہیں، ان پر اپنے ملک میں مقدمہ چلا سکتے ہیں اور انہیں سزا دے سکتے ہیں اور شکنجے (ٹارچر) اور جسمی اور نفسیاتی دباؤ کی از سر نو تعریف کرسکتے ہیں اور رائج تعاریف کو بدل سکتے ہیں۔ [یعنی وہ اپنی طاقت کو حتی کہ سچ اور جھوٹ اور حق و باطل کی جگہ بدلنے کا جواز سمجھتے ہیں جو ایک استکباری اور انسانیت دشمن روش ہے]۔
لندن سے شائع ہونے والے اخبار “الحیات” نے ۱۵ اپریل سنہ ۲۰۰۷ع‍ کو “بین الاقوامی قانون کے چہرے پر امریکی طمانچہ” کے زیر عنوان لکھا کہ فلسطین، لبنان، عراق اور دوسرے ممالک کے عوام کا قتل عام جنیوا کنونشنوں اور مفاہمت ناموں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
۴) دوسرے ممالک پر یکطرفہ پابندیاں لگانا
اس کے باوجود کہ اقوام متحدہ کا منشور رکن ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ (دفعہ ۱، شق ۲)، دوسرے ممالک میں عدم مداخلت (دفعہ ۱، شق ۷)، اختلافات کا پرامن حل (دفعہ ۲، شق ۳) اور سماجی و اقتصادی ترقی کے سلسلے میں تعاون کی دعوت دینا۔ جبکہ امریکہ ان ساری دفعات اور شقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ناجائز مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لئے خودمختار، آزاد اور واشنگٹن کی راہ پر گامزن نہ ہونے والے ممالک پر پابندیوں سے بین الاقوامی حربے کے طور پر فائدہ اٹھاتا ہے اور دوسرے ممالک کو بھی اس طرح کی پابندیوں کا ساتھ دینے پر مجبور کرتا ہے؛ جبکہ یہ پابندیاں قطعی طور پر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
۵) انسانی حقوق اور انسان دوستانہ قوانین کے فروغ میں عدم تعاون
امریکہ مختلف بین الاقوامی کنونشنوں سے مسلسل پہلو تہی کرتا رہا ہے اور بعض مواقع پر ان کنونشنوں کے برعکس رویے اپناتا رہا ہے جن میں سے بعض کچھ یوں ہیں:
– اقوام متحدہ کنونشن برائے حقوق اطفال (Convention on the Rights of the Child)
– تشدد کے خلاف کنونشن کے اختیاری پروٹوکول (Optional Protocol to the Convention against Torture [OHCHR])
– بین الاقوامی کنونشن برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق (Convention on Economic, Social, Cultural Rights)
– جبری گمشدگیوں سے لوگوں کی حفاظت کا بین الاقوامی کنونشن (International Convention on the Protection of Individuals with regard to the Forced Disappearance [ICPPED] )
– بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم قانون (International Criminal Court Statute or the Rome Statute) –
– جنیوا کے چار کنونشنوں کے اضافی پرٹوکول (انسان دوستانہ قوانین)
– حقوق انسانی کا بین الاقوامی قانون (International human rights law [IHRL])
انسانی حقوق کمیشن کے اعلان کے مطابق، امریکہ نے انسانی حقوق کی کسی بھی دستاویز میں رکنیت حاصل نہیں کی ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ میں کوئی بھی ایسا مستقل ادارہ نہیں ہے جو تین مقامی، ریاستی اور وفاقی شعبوں میں انسانی حقوق کی پیروی کی نگرانی کرے اور امریکہ مختلف روشوں (دھمکی اور رشوت) کے ذریعے سے اس سلسلے میں بین الاقوامی نگرانی کی راہ میں روڑے اٹکاتا آیا ہے۔
امریکی حکام ان غیر قانونی اور انسان دشمن رویوں کے لئے یا تو غیر منطقی اور متکبرانہ دلائل پیش کرتے ہیں یا پھر “طاقت کی منطق” سے اپنا کام نکالتے ہیں۔ بطور مثال بش دور کی امریکی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: “اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے بیان کردہ انسانی مفادات امریکہ کے قومی مفادات کے بعد دوسرے درجے میں آتے ہیں”۔
چینی حکومت نے سنہ ۲۰۱۷ع‍ میں ایک دستاویز کے ضمن میں امریکی حکومت کے ہاتھوں حقوق انسانی کی پامالی کے ذیل کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، امریکہ پر تنقید کی:
– نسلی امتیازات، شہریوں کے حقوق کی پامالی، گولی چلانے کے ہلاکت خیز واقعات اور تعلیمی اداروں [یونیورسٹیوں اور اسکولوں] میں طلبہ کا قتل؛
– امریکہ میں امیر اور غریب کے درمیان کا فاصلہ ہر روز بڑھ رہا ہے، خواتین اور بچوں کو روزمرہ معاملات میں نسلی امتیازات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے۔
اس رپورٹ میں خودسرانہ گرفتاریوں، دوسرے ممالک پر سائبر حملوں اور گوانتانامو قیدخانے سمیت امریکی جیلخانوں میں قیدیوں کے حقوق کے نظرانداز کئے جانے کی بنا پر امریکہ پر نکتہ چینی ہوئی ہے۔
بین الاقوامی قوانین میں انسانی حقوق کی پابندی کی ضرورت پر زور دیئے جانے کے باوجود امریکہ کے اندر اور اس سے باہر، امریکیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سنجیدہ تنقیدات روز بروز زیادہ سے زیادہ وسیع سطح پر سامنے آرہی ہیں، مگر اس کے باوجود یہ حکومت انسانی حقوق نیز انسان دوستانہ قوانین کی عدم رعایت پر اصرار کرتا نظر آرہی ہے اور اپنے خطرناک رویوں اور اقدامات کے ذریعے ملک کے اندر اور باہر کروڑوں بےگناہ انسانوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے یا پھر انہیں خاک و خون میں تڑپا رہی ہے۔ امریکہ نے گذشتہ صدی میں بھی اور موجودہ صدی کے آغاز سے بھی، بنی نوع انسان پر تباہ کن جنگیں مسلط کرکے بین الاقوامی امن و آشتی کو سنجیدہ خطرات سے دوچار کردیا ہے۔
امریکہ نے سنہ ۱۹۴۵ع‍ میں برطانوی استعمار کے وارث کی حیثیت سے ابھرنے کے بعد سے اب تک انسانی حقوق کو بہانہ بنا کر دوسری حکومتوں کو بلیک میل کرکے ان کی سرزمینوں پر قبضہ کیا ہے [مثال: میکسیکو]؛ یا پھر بہت سے ملکوں کی حکومتوں کو بلیک میل کرکے ان سے سیاسی اور اقتصادی رعایتیں لی ہیں اور یہ اس کا جاری رویہ ہے جو کہ حال ہی میں عالمی آگہی میں اضافے اور استکباری سرکار کی طاقت کی تنزلیوں کی بدولت کسی حد تک کمزور پڑ گیا ہے۔ المختصر، یہ تسلط پسند استکباری حکومت انسانی حقوق کو آج تک اپنا تسلط بڑھانے کے لئے ایک اوزار اور حربے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے اور نہ ملک کے اندر نہ ہی اس کے باہر، حقوق انسان، حقوق نسوان، حقوق اطفال، قیدیوں کے حقوق، وغیرہ وغیرہ پر یقین نہیں رکھتی ہے۔ امریکہ حتی کہ ان ممالک میں بھی انسانی حقوق کی پابندی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا جن پر وہ اسی حوالے سے تنقید کرتا ہے، وہ تو صرف اس حربے کے ذریعے اپنا مفاد چاہتا ہے اور یہ الگ بات ہے کہ دنیا کی مطلق العنان ترین اور انسان دشمن ترین حکومتوں کا حامی و سرپرست امریکہ ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: عباس مختاری/ بین الاقوامی قوانین کے ماہر
ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔