تیسری عالمی جنگ ٹرمپ کی گمشدہ پہیلی

  • ۱۷۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ٹرمپ کے “سب سے پہلے امریکہ” (The American first) کے اصول سے جنم لینے والی پالیسیوں اور تزویری تدبیری معیاروں کو دیکھا جائے تو ان کی خارجہ پالیسی کے اصول سے لئے جانے والا پہلا تاثر اس نکتے کو واضح کرتا ہے کہ وہ سابقہ امریکی حکومت کی مساہلت اور مسامحت کو برداشت نہیں کر سکے ہیں اور بین الاقوامی نظام کے پہلے درجے کی حکومت کے طور پر، امریکہ کی خارجہ پالیسی کے تزویری معیاروں پر اصولی نظر ثانی پر پر یقین رکھتے ہیں، اسی بنا پر وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی ان کی مجموعی حکمت عملیاں، بالکل نئی اور روایت شکنانہ شکل میں نمودار ہوئیں جس پر انہیں بہت سے مواقع پر عالمی رائے عام کے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔
حال ہی میں زیادہ تر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور تجزیاتی حلقوں کی توجہ مشرق وسطی کے سلسلے میں ٹرمپ کے مستقبل کی تزویری سمت کے سلسلے میں پیش گوئیوں اور پیش بینیوں پر مرکوز ہوئی ہے اور تقریبا اکثر حلقوں نے ٹرمپ کی تزویری پالیسیوں کی خاکہ کشی نیز مشرق وسطی میں ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک وسیع سطحی جنگ ـ جس کا مرکز مشرق وسطی کا خطہ ہوگا اور عالمی سطح پر دنیا کے بہت سے ممالک کا دامن بھی پکڑ لے گی ـ غیر متوقع نہیں ہے اور اس کی کچھ نشانیاں بھی بالکل واضح ہوچکی ہیں۔
چنانچہ تمام تجزیاتی حلقوں کے ہاں ایک بالکل شفاف اور واضح سوال اٹھا ہوا ہے کہ “کیا ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطی کی حدود میں ایک جنگ کے درپے ہیں؟”۔
سوالی که بیشتر مجموعه های تحلیلی – خبری بصورت روشن و شفاف با آن مواجه اند در این عبارت مختصر خلاصه می شود که آیا دونالد ترامپ به دنبال جنگی جهانی در بعد خاورمیانه است؟
ٹرمپ کے “سب سے پہلے امریکہ” (The American first) کے اصول سے جنم لینے والی پالیسیوں اور تزویری تدبیری معیاروں کو دیکھا جائے تو ان کی خارجہ پالیسی کے اصول سے لئے جانے والا پہلا تاثر اس نکتے کو واضح کرتا ہے کہ وہ سابقہ امریکی حکومت کی مساہلت اور مسامحت کو برداشت نہیں کر سکے ہیں اور بین الاقوامی نظام کے پہلے درجے کی حکومت کے طور پر، امریکہ کی خارجہ پالیسی کے تزویری معیاروں پر اصولی نظر ثانی پر پر یقین رکھتے ہیں، اسی بنا پر وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی ان کی مجموعی حکمت عملیاں، بالکل نئی اور روایت شکنانہ شکل میں نمودار ہوئیں جس پر انہیں بہت سے مواقع پر عالمی رائے عام کے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ کے سب سے اعلی عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے لے کر اب تک کے ڈونالڈ ٹرمپ کے موقفوں کے ایک سادہ سے اقتباس کو دیکھا جائے تو “ان کی تمام فکرمندیوں اور ہنگامہ خیزیوں کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ امریکہ کو عالمی نظم اور ترقی کے لئے اتنے بڑے اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں؟”۔
ٹرمپ کا خیال ہے کہ ـ فرسودہ اور التوائی معیاروں کی بنیاد پر ـ عالمی نظم کی بحالی پر ارتکاز  اور یہ مسئلہ “حقیقی امریکی شہریوں [یعنی سفید فاموں] کی فلاح و بہبود کے انتظام سے غفلت” کا باعث بنا ہے؛ اور اسی بنا پر وہ اپنے آپ کو امریکہ کے اور نظرانداز ہونے والے “حقیقی سفید فام طبقے” کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور اسی بنا پر انھوں نے “صفر درجے کی رواداری” (Zero tolerance) کی پالیسی کو اپنے پروگراموں میں سر فہرست رکھی ہے اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے منصوبے کو ہر قیمت ـ حتی کہ پوری کانگریس کی مخالفت کی قیمت ـ پر پایۂ تکمیل پر پہنچانا چاہتے ہیں۔
“پہلے امریکہ” (America First) کی ڈاکٹرائن میں بنیادی کردار بین الاقوامی پالیسی کے نظریہ پرداز ہنری کسنگر کا ہے۔ انھوں نے کیسنگر کی راہنمائیوں سے استفادہ کرتے ہوئے چین کو “دشمن” یا “دیگر” (other) قرار دیتے ہیں اور ان کی پالیسی کا اصل ہدف “چین کی نشوونما اور ترقی کو لگام دینا” ہے۔ اور روس کی طرف سے بھی ایسی ہے شبہات پائے جاتے ہیں کہ وہ بھی اسی پالیسی پر گامزن ہوکر چین کی ترقی کو لگام دینا چاہتا ہے۔ کیونکہ ہنری الفرڈ کسنگر کو عرصہ دراز سے یقین ہے کہ امریکہ کو روس کے ساتھ تعاون کرکے چین سے نمٹنا چاہئے۔
تاہم مسٹر ٹرمپ کو درپیش اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو امریکی صدر کے طور پر اور امریکہ کے سابق صدرور کے ہم رتبہ ثابت کرکے دکھا سکیں اور اس لحاظ سے اپنا تشخص منوا دیں۔ صدارت کے ایام میں ٹرمپ کے غیر متوازن، غیر متوقع اور ناگہانی اقدامات اور فیصلوں نے اس چیلنج کو مزید پیچیدہ اور گہرا کردیا ہے؛ اور اس چیلنج کا دوہرا سر درد یہ ہے کہ امریکی معاشرے کے تمام طبقے ـ عوام سے خواص تک، رکن کانگریس اور سینٹر سے کر اعلی عدالت کے ججوں اور ریاستوں کے گورنروں اور میئروں تک ـ سب ریاست ہائے متحدہ کے صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کے اس بحرانِ تشخص کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور اسی تناظر میں ہی وائٹ ہاؤس کے اوول ہاؤس میں ٹرمپ کے داخلے کے ساتھ ہی ان کے مواخذے اور باز پُرسی (Impeachment) کی تجویز کانگریس اور سینٹ کے ایجنڈے میں شامل ہوئی اور یہ تجویز آج بھی ان کے ایجنڈے سے خارج نہیں ہوئی۔
تشخص کا یہ بحران اس نکتے کی اہم دلیل ہے کہ اس نے بین الاقوامی سیاست کے ماہرین کو اس یقین تک پہنچا دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ نے اپنی تشکیل سے ہی انتہاپسندانہ شکل اختیار کرلی ہے، مؤاخذے سے جان چھڑانے اور اسے چھپانے کے لئے انھوں نے “آگے کی طرف بھاگنے” (Forward Escape) کی پالیسی اختیار کی ہے اور مسٹر ٹرمپ اندرونی پالیسیوں کی لا مرکزیت (Decentralization) کے ہتھکنڈے کو آگے لائے ہوئے ہیں اور ایک تسدیدی جنگ (Preventive War) کے سانچے میں، بین الاقوامی بحرانی سازی کرکے اپنے بحرانِ تشخص کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف سے مشرق وسطی میں امریکہ کو اس کے دیرینہ دیرینہ سیاسی ابہام اور غیر یقینی صورت حال سے نجات دہندہ بھی بننا چاہتے ہیں چنانچہ مشرق وسطی میں ایک وسیع جنگ کا امکان واضح ہوجاتا ہے؛ اور پھر دوسرے اقتباس میں ہم دیکھتے ہیں کہ مشرق وسطی کا خطہ بذات خود علاقائی کشمکش کے لئے تیار کھڑا نظر آرہا ہے اور ایک چھوٹے سے تصادم کے نتیجے میں ایک وسیع البنیاد جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی کابینہ نے اپنی پیدائش کے آغاز سے ہی اپنی روایت شکن اور غیر متوقعہ حکمت عملیوں نیز سابقہ حکومتوں کی سست رفتار روشوں کو ترک کرکے، کچھ پالیسیوں کو [التوا کا شکار مسائل کے انجام کا فیصلہ یا] “فرائض کے تعین” کے سانچے میں بیان کیا جن کا نشانہ محض امریکہ کے مخالف ممالک ہیں جن کے امریکہ کے ساتھ براہ راست سیاسی اور سفارتی تعلقات نہیں ہیں جن میں اسلامی جمہوریہ ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پالیسی کے تحت شمالی کوریا کے سلسلے میں ایک نئی فضا بنا رہے ہیں اور اس پالیسی کا دوسرے مرحلے کا نشانہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔
مشرق وسطی میں حالات امریکہ کے مفاد میں نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود تشہیر کی جارہی ہے کہ مشرق وسطی میں ایک عالمی سطح کی وسیع جنگ کا امکان ہے؛ یہ تشہیری مہم کچھ صحافتی اور تجزیاتی حلقوں کے ہاں بھی موضوع بحث بن چکی ہے اور اس کی بنیاد ٹرمپ کے انتہاپسندانہ رویے اور پالیسیاں ہیں جو بز‏عم خود فوری طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدر کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں!؟ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مبصرین اور خارجہ پالیسی کے ماہرین، موجودہ اشاروں کو آپس میں جوڑ کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ نفسیاتی اور معاشی دباؤ کی صورت میں لڑی جانے والی جنگ کسی خاص نتیجے میں پر نہیں نہیں پہنچ سکے گی، کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران اس قسم کے رویوں کے آگے اپنی جان سے ہاتھ دھونے والا نہیں ہے۔ اور پھر بالادستی کی خواہاں امریکی انتظامیہ کی موجودہ پالیسیاں ایران کے لئے بالکل نئی نہیں ہیں بلکہ اس ملک کو تو ابتدائے انقلاب سے ہی اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؛ چنانچہ مسٹر ٹرمپ کی یہ حکمت عملی بھی بالآخر اندھی گلی پر منتج ہوگی؛ اور چونکہ ٹرمپ کی کابینہ کے خیالات اور عقائد جنگی اور عسکری ہیں، اور ایران دشمن عناصر بھی اس کا ساتھ دے رہے ہیں؛ لہذا ان عوامل و اسباب کا مجموعہ مشرق وسطی میں ایک بڑی جنگ کے شعلے بھڑکنے کے اسباب فراہمی کرے گا!
حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قضیے کے عینی اور ظاہری معیاروں کو کافی سمجھا جائے تو تجزیہ اور اس کا نتیجہ وہی ہوگا جو سطور بالا میں بیان ہوا۔ لیکن اگر بحث کے قواعد اور منطق و استدلال کے ساتھ ٹرمپ حکومت کے عہدیداروں کے الفاظ و اصطلاحات ـ نیز مسٹر ٹرمپ کی شخصیت کے پس منظر ـ پر توجہ مرکوز کریں، تو بحث سے بالکل نتائج برآمد ہونگے۔
ٹرمپ ڈاکٹرائن “سب سے پہلے امریکہ”  کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو بالکل واضح ہے کہ اس ڈاکٹرائن کا مقصد بیرون ممالک اخراجات کو کم کرنا ہے، اور دنیا بھر میں بھٹکتے ہوئے امریکی سرمائے کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرحدوں کے اندر لایا جائے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کی وہی تشویش ہے اور ان کا بپا کیا ہوا وہی ہنگامہ ہے جس پر سوار ہوکر انھوں نے وائٹ ہاؤس تک کا راستہ طے کیا اور حلف اٹھانے کے بعد ثابت کرکے دکھایا کہ وہ ایک عملیت پسند (Pragmatist) اور کاروباری قوم پرست شخصیت ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ان کے زیادہ تر نعرے صرف لوگوں کو جوش دلانے اور ان کے جذبات ابھارنے کے لئے نہیں تھے بلکہ ان کا نعروں نے ایک فہم و شعور، اور ان کی حکومت کی بالادست حیثیت کی پائیداری، پر ان کے یقین راسخ سے جنم لیا ہے۔ موجودہ تشہیری مہم کو اس دریچے سے دیکھا جائے تو آسانی سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امریکی سرحدوں سے باہر کوئی بھی اقدام ـ جو بھاری انسانی، مادی اور نفسیاتی مصارف و مخارج کا باعث بنے ـ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں پر موجودہ مسلط ڈاکٹرائن میں قومی اہداف پر کم از کم اخراجات اٹھانے کو بنیاد قرار دیا گیا ہے، چنانچہ کوئی بھی روایتی عسکری اقدام اور امریکی جغرافیے سے طویل فاصلے پر واقع ممالک اور علاقوں میں جنگی مہم جوئی بعید از قیاس نظر آتی ہے۔
ٹرمپ کابینہ نے “سب سے پہلے امریکہ” نامی ڈاکٹرائن کے ساتھ ہی، اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کے لئے رویوں کا ایک نمونہ متعارف کرایا ہے۔ جس کا نام “پاگل آدمی حکمت عملی” [جو رچرڈ نکسن کی madman theory سے مأخوذ] ہے۔ یہ وہی حکمت عملی ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر حلقے، تجزیہ نگار اور ماہرین سمجھتے ہیں کہ گویا ٹرمپ انتظامیہ فوجی اقدام کا ارادہ رکھتی ہے۔ حالانکہ اگر “پاگل آدمی” نامی حکمت عملی میں تھوڑا سا غور کیا جائے تو اس تزویری عبارت کا ما حصل ـ جو امریکی خارجہ پالیسی ٹیم اور خارجہ پالیسی کونسل کے پیش نظر ہے ـ یہ بنتا ہے کہ مقررہ اہداف کو بھاری دباؤ، اور عنقریب حملے کی دھمکیوں کے سائے میں حاصل کیا جائے اور دباؤ اور دھمکی کو وائٹ ہاؤس کی روایتی پالیسی کی حدود سے نکل کر بعض غیر معمولی اور خلاف قاعدہ رویوں کے سانچے میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت کا رویہ بدلنے کے لئے اسی روش سے فائدہ اٹھایا گیا جو کسی حد تک واشنگٹن کے متعینہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب نظر آرہی ہے۔ اب یہ روش اگلے دنوں میں کس قدر پائیدار رہتی ہے، اس کا انحصار مذاکرات کے عمل پر رہے گا۔
اب مشرق وسطی میں وسیع فوجی تصادم کو اجاگر کرنے والے تجزیاتی حلقوں کا خبط اسی “پاگل آدمی” کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس میں البتہ یہ امکان بالکل واضح ہے کہ ارادی طور پر ایک اجتماعی نفسیاتی خوف و ہراس اور افراتفری کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور یہ مبصرین اسی ماحول سازی سے متاثر ہوکر نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ گویا ایک غیر متوقعہ اقدام یا باقاعدہ جنگ کی فضا بن رہی ہے؛ اس ماحول سازی کا ایک سرا حال ہی مائیک پامپیو کا دورہ مشرق وسطی سمجھا جاتا ہے اور دوسرا سرا پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں امریکہ کی طرف سے ایران مخالف کانفرنس کے انعقاد کی کوشش ہے [گوکہ اس کانفرنس کے ابتدائی طور پر بیان کردہ اہداف سے امریکہ کو پسپا ہونا پڑا ہے]، اس کانفرنس کا مقصد ـ ایران کے خلاف ایک مشترکہ عالمی محاذ بنانے کے لئے ـ دنیا والوں کو ایران سے خوفزدہ کرنے [اور ایرانو فوبیا] ہے۔ ایران فوبیا کا فروغ اسلامی انقلاب سے لے کر آج تک امریکہ اور اس سے مغربی اور دیگر کٹھ پتلی ریاستوں کی پالیسیوں اور رویوں میں سرفہرست رہا ہے۔
بالآخر آخرکار کہنا چاہئے کہ وائٹ ہاؤس میں رائج الوقت روش ہے جس کے دائرے میں رہ کر، ٹرمپ اور ان کے انتہاپسند ساتھیوں کی سرکردگی میں ریگن دور کی بالادست امریکی طاقت کے احیاء کی کوشش ہورہی ہے؛ اور “سب سے پہلے امریکہ” کا نظریہ اس روش کی تشکیل کے لئے منشور کا کام دے رہا ہے؛ اس سے دو رویوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے: رسمیاتی رویہ (Formalist Approach) اور محتویاتی رویہ (Content approach)۔
رسمیاتی رویے میں ـ جس کو سرکشانہ اور تشدد پر مبنی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ـ امریکی حکومت سے ہر قسم کے اقدام کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ لیکن محتویاتی رویے میں ـ جو کہ حکمران حکمت عملی کا حقیقی رویہ ہے ـ ہدف یہ ہے کہ فوجی اقدام سمیت دھمکی آمیز اقدامات کی نمائش اور مول تول پر مبنی جنگی ڈرامہ سازی کے اوزاروں کے ذریعے مقاصد کو حاصل کیا جائے۔
اور اس کا ہدف بین الاقوامی ماحول کے اندر ایک مبہم اور غیریقینی فضا قائم کرنا ہے اور ایسی صورت حال کو جنم دینا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں “پاگل شخص” کی حکمت عملی سے نمٹنے کے لئے روشوں اور حکمت عملیوں کے اخذ کرنے میں حیرت اور تذبذب کا شکار ہوجائیں۔
دنیا پر مسلط یک قطبی (Unipolar) نظام کے سائے میں، بین الاقوامی ڈھانچے میں تبدیلی لانے کی غرض سے ایک وسیع فوجی اقدام اور عالمی سطح کی جنگی تیاریاں، در حقیقت وائٹ ہاؤس کے حکام کے نمائشی اقدامات کے پس پردہ عقلیت سے جوڑ نہیں کھاتیں۔ ابلاغیاتی اور صحافتی نیز تجزیاتی دنیا کی التہاب آفرینیاں در حقیقت وائٹ ہاؤس کی “پاگل آدمی” والی حکمت عملی کو دنیا کی سماعتوں اور بصارتوں پر مسلط کررہی ہیں اور بطور نتیجہ اختصار کے ساتھ اس سنہری نکتے کو اخذ کیا جاسکتا ہے کہ تیسری ہزاری (third millenium) کے اس دور میں جغ سیاسیی طرز کی روایتی جنگیں منسوخ ہوچکی ہیں چنانچہ عالمی نظام میں شامل حکومتیں ـ عصر معلومات (information era) میں ـ اپنے تزویری مقاصد کو بھی سیادی جنگ (Cyberwarfare) کے ذریعے اور انسانی، مادی اور نفسیاتی تحفظات کے سانچے میں، حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اور پھر جس ملک کی طرف سے جنگ اور جارحیت کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے، اس کے اپنے اندرونی اور بین الاقوامی حالات نیز ماضی قریب میں اس کی کامیابیوں یا ناکامیوں اور اس کو درپیش چیلنجوں کو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے؛ اور جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، کوئی بھی عقلی اور منطقی وجہ نہیں ہے کہ امریکہ ـ جو حالیہ تین عشروں کے دوران افغانستان اور مشرق وسطی کے ممالک میں متعدد بلا واسطہ اور بالواسطہ جنگوں میں ناکام ہوچکا ہے اور مسٹر ٹرمپ نے کئی مرتبہ حسرت بھرے الفاظ میں سات ٹریلین ڈالر کے ضیاع اور جنگوں میں ناکامیوں باعث عبرت گردانا ہے ـ کسی وسیع اور بین الاقوامی سطح کی نئی جنگ میں الجھنے کے لئے تیار ہوجائے، وہ بھی ایسی جنگ جس کا انجام بالکل مبہم اور اس کے بعد کے نتائج ناقابل برداشت ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: ڈاکٹر عبد الرحمن ولایتی
مضمون نگار بین الاقوامی تعلقات کے محقق اور امریکی مسائل کے ماہر ہیں۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://irdiplomacy.ir/fa/news/1981280

 

امریکی سامراجیت اور نظریاتی طبقہ

  • ۱۹۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: حالات حاضرہ کے تناظر میں اس فورم پر نظریاتی افراد کے حوالے سے شاید یہ میری پہلی تحریر ہو، البتہ مزید پہلوئوں پر آئندہ لکھا جاسکتا ہے یا دیگر احباب بھی اس پر آراء پیش کرسکتے ہیں۔ امریکی سامراجیت پر ماضی میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، اسکی تکرار کئے بغیر عرائض پیش خدمت ہیں۔ یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ بائیں بازو کی سیاست کرنے والے نظریاتی اشتراکی دنیا کے ہر شر کا ذمے دار امریکہ کو قرار دیا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر بحرالکاہل کی تہہ میں کوئی مچھلی بھی مرجائے تو سمجھو سامراج (امریکہ) کا ہاتھ ہے۔ ایک دور تھا کہ دنیا میں نظریاتی سیاست ہوا کرتی تھی، نظریاتی لوگ نظریئے پر تن من دھن قربان کر دیا کرتے تھے اور تب ہر نظریاتی بندہ یہ دعویٰ کیا کرتا تھا کہ وہ جس نظریئے کا پیروکار ہے، بس وہی نظریہ انسانوں کی خوشحالی، خوش بختی و نجات کا ضامن ہے۔ نظریہ پاکستان کے بھی مخلص پیروکار ہوا کرتے تھے تو بین الاسلامی نظریہ بھی اپنے پیروکار رکھا کرتا تھا۔ لیکن آج کی صورتحال نظریات اور نظریاتی افراد کے حوالے سے برعکس ہوچکی ہے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد ماضی میں پسے ہوئے مظلوم و محروم طبقے کے حقوق کے لئے دیگر خواص کی طرح جدوجہد کرنے والے ایک سینیئر صحافی اور دانشور این جی او سے وابستہ ہوگئے تھے، انکے بارے میں پاکستان کے ایک علمی گھرانے کے فرزند اور پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت سے وابستہ موجودہ سینیٹر کا یہ جملہ بھی مجھے یاد ہے، جو انہوں نے مجھ سے بات چیت کے دوران اشارتاً کہا تھا کہ اب سامراج این جی اوز کے ذریعے عوام کے لئے اٹھنے والی آواز خاموش کر رہا ہے۔ شاید انہی ایام میں بائیں بازو کی طرف رجحان رکھنے والے پاکستان کے مشہور مورخ ڈاکٹر مبارک علی نے این جی اوز کو موضوع سخن قرار دیا تھا۔
نظریاتی افراد این جی اوز یا مغربی اداروں سے وابستگی کو سامراج کی غلامی قرار دیا کرتے تھے۔ انہی سینیٹر کا ایک اور جملہ بھی بہت یادگار ہے۔ کہنے لگے کہ جب وہ نوجوانی میں لکھنے لگے اور انکی تحریریں شایع ہونے لگیں تو وہ بڑے فخر سے داد وصول کرنے کی نیت سے اپنے والد محترم جو خود بیٹے سے زیادہ مشہور و معتبر دانشور و مذہبی عالم بھی تھے، کے سامنے اپنی تحریروں کا تذکرہ کرنے لگے تو انہوں نے بیٹے کو نصیحت کی کہ بیٹا لکھ بہت لیا، اب کچھ پڑھنا بھی شروع کردو! نظریاتی لوگ یوں ہوا کرتے تھے۔ اشتراکی نظریاتی طبقہ سوویت یونین کے سقوط کے ساتھ ہی یتیم ہوگیا۔ مال ختم نظریہ ہضم! اسلام کے نام پر نظریاتی طبقے ہائی جیک ہوئے، بے وقوف بنے یا اشتراکیوں کی طرح فروخت ہوگئے۔ نام نہاد افغان جہاد اس کی ایک مثال ہے اور پاکستان میں بھی بعض مذہبی سیاسی جماعتیں بھی اس سلسلے کی زندہ مثالیں ہیں۔ اب ان میں سے کوئی ترکی کو مرکز مانتی ہیں تو کوئی سعودی عرب کو اور پھر نعرہ لگاتی ہیں، امریکہ مردہ باد جبکہ انکے دونوں مراکز کی نظر میں امریکہ و نیٹو و پورا مغربی بلاک حتیٰ کہ اسرائیل بھی زندہ باد ہے۔ یعنی اب ان کا کوئی نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ سہولیات کے ساتھ وقت گذاری کی کیفیت ہے۔
اگر بڑے پیمانے پر معروضی جائزہ لیں تو دنیا میں خالص نظریاتی طبقہ اب صرف ایران یا لاطینی امریکہ میں ہی پایا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ نظریات سے وابستگی ہی ان دونوں کا وہ جرم ہو کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اپنی تمام تر توانائیاں انکے خلاف استعمال کرنے کی پالیسی وضع کر رکھی ہے۔ کتاب ’’اکنامک ہٹ مین‘‘ اور اس کے تسلسل میں دوسری کتاب ’’ہٹ مین کے اعترافات ‘‘میں جون پرکنز نے اپنی جو داستان بیان کی ہے، اگر وہ اپنی روداد نہ بھی لکھتے، تب بھی عالمی مالیاتی سامراج کے سرغنہ امریکہ کو دنیا ویسے ہی کردار کا حامل سمجھتی ہے، جیسا پرکنز نے لکھا۔ جو کوئی اسکی روداد سے آگاہ ہے، وہ آج وینزویلا کا حال دیکھ لے۔ امریکی سامراج کے خلاف مقاومت کی علامت ہیوگو شاویز کا وطن آج ٹرمپ حکومت تقریباً فتح کرچکی ہے۔ ایک امریکی منظور نظر نے اعلان کیا کہ وہ وینزویلا کا صدر ہے تو امریکی حکومت نے دنیا میں سب سے پہلے اسے تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ لاطینی امریکی ممالک اپنی تاریخ سے لاعلم نہیں، انہیں معلوم ہے کہ انکے خطے میں سی آئی اے کس طرح حکمران اور حکومتیں تبدیل کرواتی رہی ہے۔ صرف کیوبا اور میکسیکو نے امریکی منظور نظر کے اس اعلان کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ شاویز کے جانشین وینزویلا کے صدر ماڈورو نے امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، جبکہ امریکی حکومت اس حکم کو ماننے سے انکاری ہے۔ یوں خطہ امریکہ میں ایک سنگین بحران جنم لے چکا ہے۔
ایران پر ایک پیچیدہ نوعیت کی امریکی جنگ پچھلے چالیس برسوں سے مسلط ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ امریکی بلاک ایران کے خلاف کوئی نئی سازش نہ کرتا ہو۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے آنے کے بعد کی صورتحال ہی دیکھ لیں۔ ایران کے خلاف مزید نئی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ پومپیو نے بیلجیم کا دورہ کیا، اسکے بعد بیلجیم نے ایران کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا۔ پومپیو کے ماتحت ڈیوڈ ہیل نے جرمنی کا دورہ کیا اور جرمنی نے ایران کی ماہان ایئرلائنز پر پابندی لگا دی۔ اب امریکہ پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ایران کے خلاف اجتماع منعقد کر رہا ہے، جس پر یورپی اتحادی کہتے ہیں کہ اس کا ایجنڈا تھوڑا تبدیل کر دیں اور شام و یمن و مشرق وسطیٰ کا نام استعمال کریں، ایران کا نام استعمال نہ کریں، حالانکہ یہ بھی ایک فریب ہے، ایران پر یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ امریکہ سے متفق نہیں، حالانکہ تاحال انہوں نے امریکہ سے عملی بغاوت نہیں کی ہے بلکہ خالی بیانات کے میزائل داغے ہیں۔ حتیٰ کہ پریس ٹی وی کی خاتون اینکر مرضیہ ہاشمی کی بلا جواز گرفتاری کے خلاف بھی حقوق انسانی و آزادی صحافت کے علمبردار مغربی بلاک کی طرف سے مجرمانہ خاموشی پر دنیا حیران پریشان تھی۔ خیر سے وہ اب رہا ہوچکی ہیں۔
پومپیو کے دورے کے بعد امریکی حکومتی عہدیداروں اور خاص طور پر زلمے خلیل زاد کا بار بار پاکستان آنا، سینیٹر لنڈسے گراہم کا وزیراعظم عمران خان کی مدح سرائی کرنا، اور عمران خان کا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور قطر کا دورہ کرنا، یہ سب کچھ کس لئے ہو رہا ہے، اس کا اصل سیاق و سباق کوئی خالص نظریاتی پاکستانی ہی سمجھ سکتا ہے۔ سب کچھ امریکی حکومت ہی کی خوشنودی کے لئے ہے۔ باقی سب قصے کہانیاں ہیں۔ امریکیوں کا لارا لپا نظریاتی پاکستانیوں کو اس کی بدنیتی سے غافل نہیں کرسکتا۔ سینیٹر لنڈسے گراہم کو اگر امریکہ کا شیخ رشید کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ یو ٹرن لینا کوئی ان سے سیکھے۔ ماضی میں ڈونالڈ ٹرمپ کے جس موقف کی مخالفت کرتے تھے، آج اسی کی حمایت پر کمربستہ ہیں۔ انکے دورہ پاکستان کی خبر آج اس وقت تک انکے ٹوئٹر اکاؤنٹ اور انکی آفیشل ویب سائٹ پر موجود نہیں ہے، لیکن پاکستان میں سرکاری ذرایع دعوے کر رہے ہیں کہ لنڈسے نے پاکستان اور امریکہ کے مابین آزاد تجارت کے معاہدے کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے، جبکہ امریکہ میں انہیں موقع پرست (با الفاظ دیگر ابن الوقت) قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے ٹرمپ کو گدھا کہا تھا۔
ڈیوڈ ہیل کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے بھی لبنان کا دورہ کیا۔ موصوف پاکستان بھی آئے تھے۔ قطر بھی امریکی اتحادی ہے اور اس کے امیر لبنان میں عرب اقتصادی سربراہی کانفرنس میں شریک ہوکر امداد کا اعلان کرچکے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت بیک وقت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور قطر کے ساتھ تعلقات کو بہتر کر رہی ہے جبکہ قطر اور ترکی اخوانی سرپرست سمجھے جاتے ہیں، جبکہ سعودی و اماراتی حکمران قطر کے خلاف صف آراء ہیں اور ترکی کے خلاف بھی بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ سوائے اسکے کیا قدر مشترک ہے کہ یہ چاروں ملک امریکی اتحادی ہیں اور چونکہ ایران امریکی اتحادی نہیں ہے، اس لئے اس کے دورے کی باری آخر میں ہی آئے گی، حالانکہ زمینی و سمندری و فضائی ہر لحاظ سے ایران کا پڑوسی ہونے کے ناطے پہلا حق ہے۔ ایک پہلو تو یہ ہے جبکہ دوسرا یہ کہ پاکستان تا لبنان بذریعہ قطر و امریکہ بھی کوئی ربط پایا جاتا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کاش کہ پاکستان سے مخلص نظریاتی افراد بھی اپنی موجودگی کا احساس دلائیں اور سامراجیت کے براہ راست اور بذریعہ بچہ پارٹی منصوبوں سے عوام الناس کو آگاہ کرکے ذمے داری کا احساس دلائیں اور ان منصوبوں کو ناکام بھی بنائیں۔
جعلی ریاست اسرائیل آج کل بیانات کے چوکے چھکے مار کر خوش ہو رہی ہے، وہ اپنی جھینپ مٹا رہی ہے۔ ایران کے خالص و مخلص نظریاتی طبقے نے اپنی چالیس سالہ جدوجہد میں کم از کم چار ملکوں یعنی لبنان، عراق، شام اور یمن کو مغربی بلاک کی سازشوں سے اس درجہ ضرور محفوظ کر دیا ہے کہ وہاں اب فرزندان زمین اپنی غیرت و حمیت کو امریکہ یا اس کی بچہ پارٹی کے قدموں میں رکھنے پر ہرگز تیار نہیں۔ صاف نظر آرہا ہے کہ ان فرزندان زمین نے حق و آزادی یا موت کا طبل مقاومت بجا رکھا ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم اور فوجی ترجمان کبھی امریکہ کے یہودی کالم نگار تھامس فریڈ مین سے ہی پوچھ لیں کہ اسرائیل کے کٹر حامی فریڈ مین کو اسرائیلی حکام نے ایران و حزب اللہ (لبنان) کی فوجی طاقت کے حوالے سے کیا معلومات فراہم کی تھیں۔ یہ تو اسرائیلیوں کو بھی معلوم ہے کہ ایران کی قوت و طاقت کیا ہے، مگر آج کل صہیونی حکومت خود ہی خود کو ڈھارس دے رہی ہے۔ شام پر حملے، شام میں ایرانی فوجی مشاورتی عملے پر حملے، ایران کو نقشے میں دکھانا، نفسیاتی جنگ کا وہ ہنر ہے، جس کو اب شاید داد دینے والے بھی نہ ملیں۔
فلسطین پر قابض جعلی ریاست امریکہ ہی کے آسرے پر ہے، ورنہ اس میں تو اتنا بھی دم خم نہیں کہ حماس و حزب اللہ و حزب جہاد اسلامی کے عام سپاہیوں کے سامنے ٹک بھی سکے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے کے لئے ایک خالص نظریاتی نظر چاہیئے۔ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم خالص و مخلص نظریاتی طبقے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، وہ عادل مزاج نظریاتی افراد کہ جو حق پر مبنی نظریہ پر پوری زندگی گزار دیتے ہیں، سرنگوں نہیں کرتے، خواہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے۔ یہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے حقیقی پیروکار ہیں کہ دشمن ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے پر سورج رکھ دے تب بھی یہ متعہد نظریاتی طبقہ اپنے آقا و مولا کی سنت کی پیروی پر ثابت قدم رہتا ہے۔ لاطینی امریکہ کے نظریاتی طبقے کو بھی ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے، ان کے مابین مکالمے کا نیا دور ہونا چاہیئے، تاکہ امریکہ کو امریکہ کے اطراف سے ہی اس کی سامراجیت کا اور زیادہ موثر جیسے کو تیسا جواب ملے۔ پاکستان، ایران، عراق، شام، یمن، بحرین، فلسطین، لبنان اور وینزویلا سمیت ہر ملک کے انسانوں کو اللہ تعالیٰ امریکہ کے شر سے نجات دے۔

 

عطوان: فلسطینی کاز کا خاتمہ ایک "تاریخی دن" کہاں ہے؟

  • ۱۹۳

عرب دنیا کے مشہور تجزیہ کار اور مصنف نے امریکہ کے تحت نظر متحدہ عرب امارات اور صہیونی ریاست کے مابین انجام پائے معاہدے کو "غداری کا عروج" قرار دیا ہے۔
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عرب دنیا کے ایک مشہور تجزیہ کار اور مصنف "عبدالباری عطوان" نے لکھا ہے کہ اس سے قبل جتنے بھی معاہدے انجام پائے ان پر مصر، اردن اور فلسطینی اتھارٹی کے دستخط تھے اور آئندہ بھی تمام معاہدے جن کا ڈونلڈ ٹرمپ اور جرڈ کوشنر نے وعدہ کیا ہوا ہے وہ بھی ایسے ہی ہوں گے۔
عطوان نے لکھا: "یہ واقعی تکلیف دہ بات ہے کہ کچھ لوگ اس معاہدے پر خوشی منا رہے ہیں اور اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ" تاریخی معاہدہ " ہے اور عرب دنیا کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ لیکن میرا ایک سوال ہے،قدس، مسجد الاقصیٰ اور تمام اسلامی عربی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فلسطین کو بیچ ڈالنا کیا ایک ’تاریخی دن‘ ہے؟  کیا اسرائیل ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ایک عرب سنی رہنما کی تاج پوشی کر رہا ہے ایک نئے دور کا آغاز ہے؟  کیا یہ انصاف کے قیام کی طرف ایک بڑا قدم ہے؟ کونسا انصاف پسند معاہدہ ہے جس میں نہ قدس کا تذکرہ ہے، نہ فلسطین کا ذکر ہے، نہ عرب منصوبے کا نام ہے؟ برائے مہربانی اگر آپ ہمارے جذبات کا احترام نہیں کرتے تو کم سے کم ہمارے ضمیر کی توہین نہ کریں۔
اخبار " رائ الیوم " کے مطابق عطوان نے مزید لکھا: ہاں یہ اماراتی-اسرائیلی معاہدہ فلسطینی کاز کے لیے ایک دائمی امن کا باعث بنے گا اور وہ ہے ’فلسطینی کاز کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ‘ ،  اور شاید اس کی بہترین وضاحت خود نیتن یاہو نے کی جو کہا کہ "وہ اپنے تعلقات ہمارے ساتھ معمول پر لا رہے ہیں چونکہ ہم طاقتور ہیں اور وہ کمزور‘‘ ۔  لیکن نیتن یاہو ان عربوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے تعلقات اچھے بنا لیے ہیں یا مستقبل میں بہتر بنائیں گے نہ کہ وہ عرب جو اسرائیل کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور غزہ کی پٹی سے نیتن یاہو پر بارش کی طرح میزائل برسائے جب وہ انتخاباتی مہم کے دوران تقریر کر رہے تھے اور اپنی جان بچا کر چوہے کی طرح بل میں گھس گئے۔
عرب دنیا کے اس مصنف نے مزید لکھا ہے کہ کچھ لوگ ٹیکس یا انعام کے طور پر واشنگٹن اور ٹرمپ کو نقد رقمیں ادا کرتے ہیں یا حمایت کے بدلے ان سے ہتھیار خریدتے ہیں اور اب یہی لوگ بالخصوص خلیج فارس کے ممالک خوف اور دھشت کے مارے یہی ٹیکس اور انعامات نیتن یاہو کو دیں گے تاکہ وہ انہیں ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھیں۔
عطوان نے مزید لکھا: "ہم جانتے ہیں کہ نتن یاہو اور ٹرمپ ، جو خود بحران زدہ ہیں ، اس معاہدے کے فاتح ہیں، خواہ یہ وقتی ہی کیوں نہ ہو ، لیکن اس معاہدے پر دستخط کرنے سے متحدہ عرب امارات کو کیا فائدہ حاصل ہوا ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات جو تیل سے مالا مال ایک ملک ہے اس نے فرانس ، امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے ہوئے ہیں اور اس کی سرزمین پر ان کے متعدد فوجی اڈے ہیں ۔ایک ہفتہ قبل اس کے وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی تھی۔

دنیائے عرب کے ممتاز تجزیہ کار نے یہ ذکر کرتے ہوئے کہ عام طور پر امن معاہدوں پر دشمنوں کے ساتھ جنگ یا تناؤ کے بعد دستخط ہوتے ہیں یہ سوال اٹھایا کہ کیا متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ حالت جنگ میں تھا یا ایسی جنگ میں داخل ہونے جا رہا تھا جس سے ہم لاعلم تھے۔
انہوں نے مزید کہا: "آج ہم عراق، لیبیا ، یمن اور شام کی تباہی اور فلسطینی عوام کی بھوک اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ساتھ غداری کی وجوہات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں‘‘۔
عبد الباری عطوان نے آخر میں یہ لکھا کہ سن 1982 میں لبنانی شکست نے اسلامی مزاحمت کو جنم دیا ، اور جون 1967 میں فلسطینی مزاحمت تشکیل پائی اور 2000 میں کیمپ ڈیوڈ کے سازشوں سے دوسرا مسلح انفتاضہ شروع ہوا۔ یہ امت ایک پختہ اور مستحکم اعتقاد کی مالک ہے اور مستقبل میں بھی کسی قیام سے گریز نہیں کرے گی۔

 

 

دنیا بھر میں درجنوں امریکی اڈے ایسے جن کا نام پتہ نہیں

  • ۱۸۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: دنیا میں ۹۵ فیصد بیرونی فوجی اڈے امریکہ کے پاس ہیں۔ جبکہ فرانس، روس اور برطانیہ میں سے ہر ایک کے پاس ۱۰ سے ۲۰ فوجی اڈے ہوں۔ چین کے پاس صرف ایک اڈہ ہے۔
امریکی فوج آخرکار التنف میں اپنے فوجی اڈے کو چھوڑ رہا ہے (ممکن ہے کہ اسے نہ چھوڑے!)۔ شامی حکومت عرصے سے کہہ رہی ہے کہ التنف دہشت گردوں کا تربیتی کیمپ ہے۔ یہ شام کے اندر تک جانے کا راستہ اور عراق اور اردن کی سرحد پر واقع ہے اور روس اسے دہشت گردوں کی نشوونما کا مرکز سمجھتا ہے (اگرچہ اس کا مشترکہ انتظام امریکہ کے ہاتھ میں ہے)۔
گذشتہ سال سینکڑوں میرینز خصوصی کاروائیوں کے لئے یہاں تعینات ہوئے تھے۔ امریکی کہتے ہیں کہ التنف نہ صرف داعش کی شکست کی کنجی ہے بلکہ جنرل جوزف ووٹل (Joseph Votel) کے بقول “ایران اور کئی دوسری نیابتی گروہوں (Proxy Groups) کے خطرناک اقدامات” سے نمٹنے کا اڈہ بھی ہے۔
صدر ٹرمپ نے شام سے انخلاء کا اعلان کیا تو صرف چند ہی گھنٹوں میں ـ پیشگی تیاری کے ساتھ ـ التنف میں موجود فوجی سازوسامان یہاں سے نکالے جانے کے لئے تیار کیا گیا۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ شام میں (شاید) امریکہ کا سب سے اہم فوجی اڈہ، پینٹاگون کے فوجی اڈوں کی فہرست سے حذف ہورہا ہے؛ واضح رہے کہ التنف کا نام کبھی بھی پینٹاگون کے دفاتر میں امریکی فوجی کے اڈے کے طور پر درج نہیں ہوا تھا۔ یہ اڈہ سنہ ۲۰۱۵ع‍ میں بنایا گیا، حالیہ مہینوں تک یہاں سینکڑوں امریکی فوجی موجود تھے اور ان بےشمار اڈوں میں سے ایک تھا جو سائے اور روشنی کے بیچ کہیں موجود ہیں؛ ایک تصدیق شدہ بیرون ملکی چوکی، جو ہرگز امریکی بیرونی اڈوں کی باضابطہ فہرست میں درج نہیں ہوئی تھی۔ امریکہ کی وزارت دفاع کے باضابطہ اڈوں کی تعداد ۴۷۷۵ ہے جو پچاس امریکی ریاستوں، آٹھ امریکی عملداریوں اور ۴۵ بیرونی ممالک میں موجود ہیں۔ وزارت دفاع کی رسمی فہرست کے مطابق ان اڈوں میں سے ۵۱۴ اڈے امریکی سرحدوں سے باہر واقع ہیں۔ اس طویل و عریض فہرست کی ابتدا میں بحر ہند کے جزیرے ڈیگو گارشیا (Diego Garcia)، ا قرن افریقا (Horn od Africa) کے ملک جیبوتی، پیرو (Peru) اور پرتگال (Portugal)، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کا نام لیا جاسکتا ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔ اڈوں کے ڈھانچے کی رپورٹ (۱) ـ جو سنہ ۲۰۱۸ع‍ ک کی ابتداء میں شائع ہوئی۔ میں التنف کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں شام یا عراق یا افغانستان یا تیونس یا کیمرون یا نائجر یا صومالیہ یا کئی اور مقامات میں سے کسی بھی مقام کا تذکرہ بھی اس رپورٹ میں دکھائی نہیں دے رہا ہے جہاں نہ صرف جانے پہچانے امریکی اڈے موجود ہیں بلکہ ان کی توسیع کا کام بھی جاری ہے۔
کتاب “اڈوں والی قوم: امریکی فوجی اڈے امریکہ اور دنیا کے لئے کس طرح تکلیف دہ ہیں؟ (۲) کے مؤلف ڈیوڈ وائن (David Vine) کے بقول: “ممکن ہے کہ التنف کی طرح کے سینکڑوں فوجی اڈے فہرست سے باہر، موجود ہیں۔ وائن کہتے ہیں کہ “بے نام و نشان اڈے ایسے نظام میں شفافیت کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں جس کے پاس میر تخمینے کے مطابق، ۵۰ امریکی ریاستوں اور واشنگٹن کے باہر ۸۰۰ اڈے ہیں جنہوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد پورے دنیا کو گھیر لیا ہے”۔ وائن “بیرون ملکی اڈوں کی ترتیبِ نو اور بندش اتحاد” (۳) کے بانی اراکین میں سے ایک ہیں۔ یہ مختلف اعتقادی گرہوں سے تعلق رکھنے والے عسکری تجزیہ نگاروں کی تنظیم ہے جو امریکیوں کے پاوٴں کے نِشانات (Footprints) میں کی کمی کے خواہاں ہیں۔
ایسی وجہ پائی جاتی ہے کہ اس طرح کے فوجی اڈوں کے نام فہرستوں میں درج نہیں ہوتے۔ کیونکہ پینٹاگون ان کے بارے میں کچھ بولنا نہیں چاہتا۔
پینٹاگون کی ترجمان لیفٹننٹ کرنل مشیل بلدانزا (Michelle Baldanza) نے وزارت دفاع کی پراسرار اور لاتعداد فوجی اڈوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹام ڈسپیچ (TomDispatch) کو بتایا: “میں نے پریس آفیسر اور «اڈوں کے ڈھانچے کی رپورٹ» کی تیاری کے ذمہ دار سے بات چیت کی ہے، ان کے پاس موجودہ معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا اور فی الحال کسی بھی ایسا شخص دستیاب نہیں ہے جو اس بارے میں وضاحت دے سکے”۔
وائن وضاحت کرتے ہیں: “غیر مستند اور غیر مندرج اڈے نہ صرف معاشرے کی نگرانی سے محفوظ ہیں بلکہ کانگریس کی نگرانی اور مداخلت سے بھی محفوظ ہیں؛ فوجی اڈے امریکہ کی خارجہ اور عسکری پالیسیوں کا فطری اظہار ہیں۔ چنانچہ غیر مستند (اور خفیہ) اڈوں کا مطلب یہ بنتا ہے کہ انتظامی اور عسکری شعبوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس طرح کی پالیسی کو عمومی سطح پر لائے بغیر نافذ کریں، تسلسل کے ساتھ سینکڑوں میلین یا بلین ڈالر خرچ کریں اور ممکنہ طور پر امریکہ کو ایسی جنگوں اور تنازعات میں ملوث کریں جن کے بارے میں ملک کی بڑی آبادی کچھ بھی نہیں جانتی”۔
*یہ اڈے ہیں کہاں؟
“بیرون ملکی اڈوں کی ترتیبِ نو اور بندش اتحاد” اشارہ کرتا ہے کہ دنیا میں ۹۵ فیصد بیرونی فوجی اڈے امریکہ کے پاس ہیں۔ جبکہ فرانس، روس اور برطانیہ میں سے ہر ایک کے پاس ۱۰ سے ۲۰ فوجی اڈے ہوں۔ چین کے پاس صرف ایک اڈہ ہے۔
وزارت دفاع [پینٹاگون] حتی کہ ڈینگ بھی ہانکتی ہے اور کہتی ہے کہ ان اڈوں کے مقامات دنیا کے ۱۶۴ ممالک میں واقع ہوئے ہیں۔ دوسری طرف سے یہ وزارت خانہ مختلف شکلوں میں، دنیا بھر کے ۸۴ ممالک میں عسکری طور پر موجود ہے؛ یا کم از کم اس وزارت خانے نے یہ دعوی کیا ہے! ان اڈوں کی تعداد کے بارے میں تحقیق کے بعد ـ جن کے نام وزارت دفاع کی نئی ویب گاہ پر درج ہوئے تھے ـ پینٹاگون نے اپنے اعداد و شمار کو فوری طور پر بدل دیا۔ لیفٹننٹ بالدانزا کہتی ہیں: “ہم اس موضوع میں تحقیق و تلاش کے سلسلے میں آپ کی محنت کو سراہتے ہیں۔ آپ کے مشاہدات کی مدد سے ہم نے دفاعی حوالے سے سرکاری اعداد و شمار کی تصحیح کرلی ہے۔ اور حکومت کے اعلان کے مطابق یہ تعداد “۱۶۰ سے زائد” ہے”۔
جو بات وزارت دفاع نہیں بتا رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے ہاں ایک “مقام” کی تعریف، کیا ہے؟ عدد ۱۶۴ اس نفری کی بہت کمزور سی نشاندہی کرتا ہے جس کو بروئے کار لایا گیا ہے اور صرف ۱۶۶ مقامات پر ۱۶۶ مقامات پر فوجی نفری کے مختلف اندازوں کا پتہ دیتا ہے؛ منجملہ وہ ممالک جہاں پینٹاگون کے مطابق بہت کم امریکی اور دیگر ملکی فوجی نفری موجود ہے؛ جیسے عراق اور شام، جہاں پر موجود امریکی فوجی نفری ـ واضح طور پر ـ اعلان شدہ نفری سے کہیں زیادہ تھی، حتی اگر اس تشخیص کی انجام دہی کے وقت انہیں فہرست میں درج نہ بھی کیا گیا ہو۔ (پینٹاگون نے حال ہی میں دعوی کیا ہے کہ عراق میں ۵۲۰۰ عراقی سپاہی اور شام میں کم از ۲۰۰۰ امریکی سپاہی موجود ہیں، اگرچہ یہ تعداد اس وقت تک [شاید] کافی حد تک کم ہوچکی ہوگی۔)
اس کے باوجود بیرون ملک فوجی نفری کے سلسلے میں وزارت دفاع کے اعداد و شمار میں وہ فوجی بھی شامل ہیں جو امریکی عملداریوں ـــ امریکی ساموآ جزائر (Samoa Islands)، پورٹو ریکو (Puerto Rico)، امریکی ورجن جزائر (United States Virgin Islands)، جزیرہ ویک (Wake Island) ـــ میں تعینات ہیں۔  پینٹاگون کے کہنے کے مطابق درجنوں امریکی فوجی ایکروتیری (Akrotiri) نامی ملک میں (۴) میں تعینات ہیں اور ہزاروں امریکی سپاہی دوسرے بےنام و نشان مقامات پر تعینات ہیں۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ان نامعلوم سپاہیوں کی تعداد ۴۴ ہزار کے لگ بھگ ہے۔
“بیرون ملکی اڈوں کی ترتیبِ نو اور بندش اتحاد” کے کہنے کے مطابق، بیرون ملک تعینات امریکی فوجیوں نیز بیرونی اڈوں کے تحفظ کے مجموعی سالانہ اخراجات ۱۵۰ ارب ڈالر تک پہنچتے ہیں۔ صرف اڈوں کی نگہداشت پر خرچ ہونے والی رقم اس رقم کا ایک تہائی حصہ ہے۔ وائن کا کہنا ہے کہ “بیرون ملک امریکی اڈوں کی تعمیر و نگہداشت پر سالانہ ۵۰ ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے جبکہ اس عظیم رقم کو ملک کے اندر کی بنیادی ضروریات ـ تعلیم و تربیت، صحت و حفظان صحت، رہائش اور ڈھانچوں کی تعمیر نو ـ پر خرچ کیا جاسکتا ہے”۔
شاید آپ کو یہ جان کر حیرت نہ ہوگی کہ “امریکی حکومت اپنے سپاہیوں کی تعیناتی کے مقامات کو خفیہ کیوں رکھتی ہے؟”۔ بطور مثال امریکی وزارت خارجہ کی نئی ویب گاہ کی رپورٹ کے مطابق، پوری دنیا میں امریکی دفاعی اڈوں کی تعداد ۴۸۰۰ سے زائد [۴,۸۰۰+ defense sites] مندرج تھی۔ لیکن اس عدد کے بارے میں اور رسمی عدد “۴۷۷۵” کے ساتھ اس کے رابطے کی کیفیت کے سلسلے میں ٹام ڈسپیچ کی تحقیقات کے بعد، اس ویب گاہ نے عدد میں اصلاح کرکے اس کو “تقریبا ۴۸۰۰ دفاعی اڈے”  (approximately 4,800 Defense Sites)کردیا۔
لیفٹننٹ کرنل بالدانزا لکھتی ہیں: “میں شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے اس ابہام کی طرف اشارہ کیا۔ چونکہ ہم اس نئی ویب گاہ کی طرف منتقلی کے مرحلے میں ہیں، ہماری کوشش ہے کہ جدید ترین معلومات کی فراہمی کو بھی جلد از جلد یقینی بنائیں۔ مہربانی کرکے تازہ ترین اعداد و شمار کے بارے میں معلومات وصول کرنے کے لئے “اڈوں کے ڈھانچے کی رپورٹ” سے رجوع کریں”۔
بےنام و نشان امریکی فوجی اڈے
افریقہ واحد علاقہ نہیں ہے جہاں کے حقائق پینٹاگون کی رسمی فہرستوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اڈوں کے ڈھانچے کی رپورٹ نے تقریبا دو دہائیوں سے افریقہ کے کسی بھی فعال جنگی علاقے میں امریکی اڈوں کی طرف اشارہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ بطور مثال عراق کے قبضے کے عروج کے دنوں میں افریقہ میں امریکہ کے ۵۰۵ فوجی اڈے تھے جن میں چھوٹی چوکیاں بھی شامل تھیں اور عظیم تنصیبات پر مشتمل بڑے فوجی اڈے بھی۔ لیکن پینٹاگون کی سرکاری رپورٹوں میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔
افغانستان میں یہ تعداد اس سے کہیں بڑھ کر تھی۔ “سلامتی کی بین الاقوامی معاون فورس” (ISAF) (5) کے پاس افغانستان میں تقریبا ۵۵۰ اڈے تھے اور اگر ایساف کے چیک پوسٹوں اور ناکوں کو بھی اس میں اضافہ کیا جائے تو عظیم اڈے، اگلے عملیاتی مورچوں، جنگی چوکیوں، گشتی اڈوں وغیرہ کی مجموعی تعداد ۷۵۰ تک پہنچی ہے۔
صدر ٹرمپ کی ہدایت پر شام سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا مطلب یہ ہوگا کہ اڈوں کے ڈھانچے کی ۲۰۱۹ع‍ والی رپورٹ ـ شاید ـ سابقہ چند سالوں کے دوران شائع ہونے والی رپورٹوں میں سب سے زیادہ صحیح رپورٹ ہوگی، کیونکہ سنہ ۲۰۱۵ع‍ سے لے کر اب تک، پینٹاگون کے فوجی اڈوں کی فہرست میں اگر غیر مندرج التنف فوجی اڈے کا نام نہ بھی آئے تو یہ رپورٹ درست ہوگی۔ (البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ پھر بھی ایسا ہی ہو اور یہ غیر رسمی اڈہ پھر بھی غیر مندرج اڈوں میں شمار ہو یعنی ممکن ہے کہ امریکیوں نے یہ اڈا پھر بھی خالی نہ کیا ہو۔) لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ نئی رپورٹ سے بھی سینکڑوں غیر رسمی اڈے غائب ہونگے جن کا نہ تو کوئی نام ہے نہ ہی کوئی پتہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: نک ٹرس (Nick Turse) تحقیقاتی صحافی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ base structure report 2018
۲۔ Base Nation: How U.S. Military Bases Abroad Harm America and the World

۴۔ Overseas Base Realignment and Closure Coalition
۴۔ آکروتیری در حقیقت یونان کے جزیرہ سانتورینی (Santorini) میں واقع ایک گاؤں ہے۔
۵۔ International Security Assistance Force [ISAF]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارسی ماخذ: http://fna.ir/brbfk1
انگریزی ماخذ: yon.ir/Rr0c2

 

تعارف کتاب “اسرائیل کی سو ق الجیشی اہمیت اور اسکے اطراف و اکناف کا جائزہ”

  • ۱۴۲

ترجمہ سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل کی سوق الجیشی اہمیت و فن حرب کے اطراف و اکناف  کا جائزہ نامی کتاب، صہیونی مسائل  کے محقق جناب ڈاکٹر محمد تقی تقی پور کی ایک ایسی تحقیق ہے جو دو ہزار پانچ میں پہلی بار زیور طبع سے آراستہ ہوئی، اگر چہ اس کتاب کے پہلے اڈیشن کو شائع ہوئے عرصہ ہوا اور بعض لوگوں کی رائے کے مطابق اس کتاب کے تاریخی مطالب اب استفادہ کے لائق نہیں رہ گئے ہیں اور اتنے مفید نہیں ہیں کہ ان سے کچھ حاصل ہو سکے۔
بہر کیف! اس بات کو ماننا پڑے گا کہ یہ کتاب صہیونی حکومت کی اطلاعاتی کار گزاریوں اور اس  جانب سے انجام پانے والی جاسوسی کاروائیوں، کو سامنے لانے کے علاوہ وسیع پیمانے پر فن حرب سے متعلق بعض ایسے طریقہ کار کو اپنے مخاطب کے سامنے پیش کرتی ہے جنہیں صہیونی حکومت مسلسل انجام دیتی رہتی ہیں، یعنی  کہا جا سکتا ہے کہ کتاب صہیونی حکومت کے فن حرب سے متعلق بڑے منصوبوں کو کتاب سامنے لاتی ہے۔
یہ قیمتی کتاب، ایک مقدمہ، ایک پیش لفظ اور کلی عناوین کے تحت سات فصلوں پر مشتمل ہے، مصنف نے اسی طرح کتاب کے اختتام میں  ضمیمہ کے عنوان سے ایک حصہ  مخصوص کیا ہے جس میں اسرائیل کی موساد اور ایرانی شہنشاہیت کی خفیہ ایجنسی ساواک کے درمیان  خفیہ اطلاعات، سیاسی اور اقتصادی  مشترکہ تعاون کو بیان کیا گیا ہے ۔
کتاب کے مقدمہ میں  ایران کی خصوصی اہمیت، اور اسرائیل کی ایران کو دیکھنے کی نوعیت کو بیان کیا گیا ہے اور آگے چل کر اسرائیل کی تشکیل میں استعمال شدہ حکمت عملی کو اسکی بقا کے ساتھ توسیع کے طریقوں کو مختصر انداز میں  ثبوتوں اورنمونوں کے ساتھ بیان کیا ہے ۔  
کتاب کے پیش لفظ یا سر آغاز میں اسرائیل کی جانب  سے اس کے اہداف کے حصول اور اسکے اپنے طریقہ کار کے جواز کو ثابت کرنے کے لئے دشمن تراشی اور مظلوم نمائی کی حکمت عملی کے اختیار کرنے کو بیان کیا گیا ہے)جسکے ذریعہ دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم مظلوم ہیں اور جو کر رہے ہیں اسکے لئے مجبور ہیں( توجہ کے لائق بات یہ ہے کہ یہ وہ طریقہ کار ہے جو صہیونی حکومت کے راہنماوں اور سربراہوں کے ذریعہ بیان ہوا ہے.
کتاب کی پہلی فصل میں موساد اور ساواک کے عنوان کے تحت، اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے اہداف و مقاصد ، اسکےمعرض وجود میں آنے، اسکے ڈھانچہ، اسکی ذمہ داریوں، کے تحت موساد کی کارگزاریوں کو بیان کیا گیا ہے ، آگے چل کر موساد کے بعض سربراہوں ، اسرائیل کے وزیر اعظم ، اور صدر جمہوریہ کے عہدے پر رہنے والوں کا تعارف پیش کیا گیا ہے اور اسکے آخر میں  ساواک کی تشکیل کی کیفیت اور اسکے موساد سے رابطہ کو بیان کیا گیا ہے ۔
دوسری   فصل میں  مصنف نے ترکی ، ایران اور اسرائیل کے مابین خفیہ اطلاعات کے تبادل کے معاہدے کو بیان کیا ہے ، اس حصہ میں  مسلم ممالک ہونے کے اعتبار سے ایران اور ترکی کی  اسرائیل کے لئے اہمیت کواجاگر کیا گیا ہے ، خاص طور پر یہودیوں کے ترکی کے ساتھ  اطلاعاتی معاہدے کے وجود میں لانے کے  کردار کو بیان کیا ہے نیز آگےچل کر تینوں ممالک کے ما بین انٹلی جنس بیورو کے مشترکہ تعاون کو  کمیٹیوں ، شوری، اور اطلاعات پر مشتمل سمیناروں کے  تحت   بیان کرنے کے ساتھ  افراد کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے ۔ یہاں پر جو چیز قابل غور ہے وہ یہ کہ  بہت سے بیان شدہ مطالب کو  ساواک کی رپورٹس سے مستند کیا گیا ہے ۔
تیسری فصل میں”  سہ طرفہ  مشترکہ اطلاعاتی اجلاس ” کو بیان کیا گیا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے مقابل اس طرح کے تعلق خاطر اور بندھن کے تاریخی سابقہ کی طرف اشارہ ہے
چوتھی فصل میں  پہلے تو اتھوپیا کی اہمیت اور اسکی جائے وقوع کو بیان کرتے ہوئے اس کی اسرائیل کی بہ نسبت اسٹراٹیجکل پوزیشن سے گفتگو کی گئی ہے  اور بعدہ اس ملک کے اسرائیل کے ساتھ تعاون کی علت ،  اتھیوپیا   میں اسرائیل کے نفوذ  کی فضا کی فراہمی ،اور وہاں پر اسرائیلی اثر و رسوخ کی سطح  نیز ان تینوں ممالک کے  درمیان  اطلاعات کا مشترکہ تعاون  وغیرہ جیسے مسائل کو بیان کیا گیا ہے   ۔
پانچویں فصل میں مصنف نے اسرائیل کی اہم اسٹراٹیجی  مغربی ایشیا سے افریقا کے شمال تک اقلتیوں میں سیندھ لگا کر وہاں اپنی پکڑبنانا بیان کی ہے  یعنی مغربی ایشیاسے  افریقا کے شمال تک   اسلامی ممالک میں کی اقلتیوں میں گھسنے اوران میں اپنا رسوخ پیدا کرنے  کو ایک اسرائیلی حکمت عملی کے طور پر بیان کیا گیا ہے ،
علاوہ از ایں جہاں پر کردوں کے مسئلہ کی بات ہوئی ہے وہاں چونکہ مرکزی نقطہ  عراق میں کردوں کا  ہی کا مسئلہ ہے لہذا سلطنت ایران کے رول سے اس لئے گفتگو ہوئی ہے کہ سیا خفیہ ایجنسی اور موساد کے درمیان کرد قیادت اور ملا مصطفی بارزانی گفتگو کے سلسلہ سے ایرانی سلطنت حلقہ وصل ہے  ۔
چھٹی اور ساتویں  فصل میں  مولف نے جانبی ڈاکٹرین ،یا  اطراف واکناف سے ماوراء ڈکٹرین و نظریات پر مشتمل صہیونی  منصوبے کی وضاحت کی ہے ۔
یعنی  سرحد سے متصل اور سرحدوں کے پرے جیسے لبان، عراق، سعودی عرب ، اردن ، اور افریقائی اور لاتینی امریکہ کے ممالک کا نام لیا ہے ، ان کی اہمیت کی وجہ بھی انکی جانب سے انجام پانے والے سرگرمیوں کی نوعیت ہے ، اور انکے پیشرو اہداف کی وضاحت ہے جنکی معلومات اور اطلاعات کو کھول کر بیان کیا گیا  ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بن سلمان کا ٹرمپ کے بغیر کوئی مستقبل نہیں!

  • ۲۶۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کوئی یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ محمد بن سلمان ، سعودی عرب کے نوجوان شہزادے کے لیے کیا ممکن ہے کہ وہ اتنی آسانی سے زمام حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لے سکیں جبکہ آل سعود میں ان سے بڑے بڑے تجربہ کار اور سیاستدان موجود ہیں۔ بن سلمان کا حکومت پر قبضہ کر لینا اور ملک کے اندر یا باہر سے بالکل کسی اختلافی آواز کا نہ اٹھنا کیا تعجب کی بات نہیں ہے؟ اس کے پیچھے راز کیا ہے؟ اس سوال کا جواب بہت آسان اور مختصر ہے اور وہ یہ کہ صرف ٹرمپ کی وجہ سے ہے۔
اگر یہ ڈونلڈ ٹرمپ ، ریاستہائے متحدہ کے صدر نہ ہوتے تو کبھی بھی بن سلمان اپنے خواب پورے نہ کر سکتے اور کسی بھی صورت میں مافیا گینگ کے سرغنہ نہ بن پاتے۔
سعودی ولی عہد بن سلمان، ٹرمپ کو ایک ایسی سیڑھی کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے ذریعے وہ آسانی سے اقتدار کی کرسی پر قدم رکھ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ ٹرمپ کے دو عظیم اہداف کو عملی جامہ پہنائیں: پہلا ، امریکی معیشت میں بے انتہا ڈالروں کو انڈھیلنا اور دوسرا ، مسئلہ فلسطین پر خط بطلان کھینچنا۔ بن سلمان نے مسٹر ٹرمپ کی ان شرطوں کو پورا کرنے اور خود اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کی غرض سے سعودی عرب کا خزانہ خالی کر دیا ہے اور سیکڑوں ارب ڈالر ٹرمپ کی جیب میں بھر دئے ہیں۔
ٹرمپ کی یہ حیرت انگیز حمایت ، یہاں تک کہ وہ خاشقچی کے قتل میں بن سلمان کے ملوث ہونے سے متعلق امریکی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں، نے اس نوجوان شہزادے کو اس قدر جری کر دیا ہے کہ وہ سعد الجبری کے ساتھ بھی وہی سلوک کرنے جا رہے تھے جو خاشقچی کے ساتھ کیا۔ بن سلمان کی دھمکی اس بات کا باعث بنی کہ الجبری کینیڈا فرار کر جائیں اور وہ وہاں امریکی فیڈرل کورٹ میں بن سلمان کے خلاف مقدمہ دائر کریں۔ جس کے نتیجے میں دو روز قبل بن سلمان اور ان کے ۱۳ ساتھیوں کو عدالت میں طلب کیا گیا۔
برطانوی مصنف اور صحافی ڈیوڈ ہرسٹ نے میڈل ایسٹ آئی ویب سائٹ پر لکھے گئے ایک مضمون میں سعد الجبری کے خطرات کو خاشقچی سے کہیں زیادہ خطرناک قرار دیا اور زور دیا کہ وہ بن سلمان کی بادشاہی کے لئے سب سے بڑا غیر ملکی چیلنج ہے ۔
برطانوی مصنف نے سعد الجبری کے لئے امریکی محکمہ خارجہ کی حمایت کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاملہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ مہینوں سے متعلق ہوسکتا ہے، خاص طور سے چونکہ ٹرمپ کے ممکنہ جانشین ’جو بائیڈن‘ نے انتخابات میں کامیابی کی صورت میں پہلے تو سعودی عرب کو اسلحہ بیچنا بند کرنا ہے اور دوسرے خاشقچی قتل کیس میں ملوث افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کرنا ہے۔  لہذا اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے چلے جاتے ہیں تو ، سی آئی اے اور امریکی محکمہ خارجہ کی پالیسی میں اہم تبدیلی سامنے آئی گی جس کے بعد محمد بن سلمان کے لئے مشکل حالات پیدا ہوں گے، چاہے وہ اس وقت تک خود کو سعودی عرب کے بادشاہ کے طور پر ہی کیوں نہ پیش کر دیں۔ سعودی بادشاہ کو بہر صورت علاقے میں خود کو بچانے کے لیے امریکہ کی ضرورت ہے چونکہ چین اور روس کی حمایت حاصل کرنا سعودی عرب کے لیے آسان نہیں ہے۔ اور اگر ٹرمپ وہائٹ ہاؤس سے رخصت ہوئے تو اپنے ساتھ بہت ساروں کو رخصت کر دیں گے جن میں ایک بن سلمان بھی ہیں۔

 

انسانوں کی اسمگلنگ، غلامی کا نیا ورژن ۲

  • ۱۸۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ

ترکی میں مقیم ایک ڈاکٹر جس کا پیشہ ہی پیوند کاری کا ہوتا ہے، اس کو گرفتار کر کے اس سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ وہ کہتا ہے: میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے اور اس بار میرے کندھوں پر کسی کا کوئی بوجھ نہیں ہے، وہ صرف آپریشن کے لئے میرے پاس آئے تھے۔ میں نے قانون کے مطابق کوئی غلطی نہیں کی۔
انسان شناسی کے ماہر استاد ڈاکٹر شیرہاف، اس موضوع پر تجزیہ کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ کچھ زندہ افراد بھی اس خطرے میں ہیں کہ ان کے بدن کے اعضا نکال لیے جائیں عام طور پر ترقی پذیر ممالک جیسے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب وغیرہ تیسری دنیا کے لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ اور انہیں دوسرے ملکوں میں جاب دلانے کے بہانے لے جاتے ہیں اور وہاں تشدد، طاقت اور وباؤ سے انہیں اعضا کا عطیہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔  

ڈیوک نامی ایک شخص نیپال میں رہتا ہے اور چھوٹی عمر میں اپنے گاؤں سے کھٹمنڈو چلا جاتا ہے۔ وہ وہاں کام کرنے لگتا ہے؛ مالی اور معاشی دباؤ اسے اپنے گردے فروخت کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ اس کام کے لیے دلالی شروع کر لیتا ہے۔
وہ تین آدمیوں کو اپنے اعضا بیچنے کی دعوت دیتا ہے اور انہیں موٹی رقموں اور جاب کی لالچ دیتا ہے۔ وہ تینوں آدمی اس کے کہنے میں آ جاتے ہیں اور وہ انہیں بیہوش کروا کر ان کے بدن سے گردے نکلوا لیتا ہے اور اس کے بعد نہ پیسہ اور نہ ہی جاب انہیں نصیب ہوتی ہے۔
اس ڈاکومنٹری میں پھر اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ اس معاملے میں قصور وار کون ہے؟

اینکر: ڈاکٹر صاحب برائے مہربانی اس دستاویزی فلم کے بارے میں مزید وضاحت کیجیے۔
اس ڈاکومنٹری کے بارے میں مزید وضاحت کرنے سے پہلے ہمیں اسرائیل کو مختلف ذاویوں سے جانچنا ہو گا۔ چونکہ اسرائیل ہی اس کام کو مینیج کرتا ہے۔ پہلی دلیل ان کا عقیدتی نظریہ ہے یہودیوں کا ماننا ہے کہ یہودی کے علاوہ کوئی دوسرا شخص انسان نہیں ہے۔ اور باقی لوگ انہیں کاموں کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہودی صرف دنیا کی زندگی کے لالچ میں ہیں اور وہ زندہ رہنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔
اینکر: کیا یہ یہودی وہی صہیونی ہیں اور کیا اس کام کو صرف صہیونی انجام دیتے ہیں یا یہودی بھی شامل ہیں؟
دیکھیے اگر کوئی یہودی نسل پرست نہیں ہے یا غاصب نہیں ہے یا آمرانہ افکار کا مالک نہیں ہے تو ہم اس کے لیے احترام کے قائل ہیں لیکن اگر مذکورہ خصلتوں کا حامل ہے تو وہ صہیونیوں کی فہرست میں آئے گا۔
کچھ سال قبل ’قصائی فرشتے‘‘ (Butcher Angels) نامی ایک فلم بنی تھی جس میں افغانستان میں یہودیوں کے ذریعے حالات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس فلم کے علاوہ ہمارے پاس دیگر ثبوت بھی ہیں۔
اس فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ انسانوں کی اسمگلنگ ہوتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اس پیچھے کس کا ہاتھ ہے فلم میں صہیونیوں کا کردار بالکل مخفی رکھا گیا ہے۔ یہ ان کی ایک چال ہے۔
خیبر: فلم قصائی فرشتے سہیل سلیمی کی بنائی ہوئی فلم ہے، جو متعدد بار ایرانی ٹی وی چینلز پر نشر کی جاچکی ہے۔  اس فلم میں کچھ اہم نقائص پائے جاتے ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال صیہونیت اور انسانی سمگلنگ کے حوالے سے مزید مطالعے کے لیے سومبارٹ کی لکھی ہوئی کتاب ’یہودیوں کی اقتصادی زندگی‘ کی طرف رجوع کریں۔

 

لبنان کے خلاف فرانس، امریکہ اور سعودی عرب کا اتحاد

  • ۲۰۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ، لبنان کے وزیر اعظم ’’حسان دیاب‘‘ جو بیروت دھماکے کے بعد سخت دباؤ میں تھے نے بالآخر پیر (کل) کو استعفیٰ دے کر اگلی حکومت کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے تاکہ ملک کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔
روزنامہ " الاخبار " نے اپنی ایک رپورٹ میں لبنان کی موجودہ صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے، فرانسیسی صدر "ایمانوئل میکرون" نے ایسے وقت میں لبنان کا اچانک دورہ کیا کہ لبنان کی صورتحال بحرانی کیفیت کا شکار تھی انہوں نے بجائے اس کے کہ موجودہ حکومت کو سہارا دیں اور دھماکے میں اتنی جانوں کے ضیاع پر تعزیت پیش کریں مخالف سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کو حکومت کے خلاف مشتعل کر دیا۔  ایسے میں حسن دیاب کو ان لوگوں کو جواب دینا پڑا جو ان کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر انہیں قربانی کا بکرا بنانے کی سازش رچا رہے تھے ، لہذا انہوں نے قبل از وقت الیکشن کا بم پھوڑ دیا۔ لیکن جب پارلیمنٹ کے اسپیکر ’نبیہ بری‘ نے "اتحادیوں سے مشورہ کیے بغیر یہ اعلان کر دیا کہ وہ جمعرات کے روز موجودہ حکومت کو بیروت دھماکے کے حوالے سے مواخذہ کرنے کا قصد رکھتے ہیں تو حسن دیاب استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے۔
لبنانی حکومت کے استعفے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، فرانسیسی وزارت خارجہ نے یہ اعلان کیا کہ میکرون کے لبنان دورے کا مقصد پورا ہو گیا ہے لہذا جلد ہی نئی حکومت تشکیل دی جائے گی۔ بیان میں آئندہ حکومت کے چیلنجوں کو ’بیروت کی تعمیر نو‘ اور ’لبنانی عوام کے مطالبات کا جواب‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ اگر چہ بظاہر فرانس کے منصوبے کے مطابق لبنان کی سیاسی پالیسی ایک قومی حکومت کی تشکیل کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم اعلیٰ سیاسی ذرائع کے مطابق فرانس لبنان میں قومی حکومت کی تشکیل کا خواہاں نہیں ہے بلکہ امریکہ اور سعودی عرب کے ہمراہ ایسی حکومت کی تشکیل پر زور دے رہا ہے جو ان کے مفاد میں ہو اور مزاحمتی گروہوں کو کمزور بلکہ غیر مسلح کرے۔
اسی سلسلے میں ریاض کے قریبی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ فرانس نے لبنان کے لئے کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا اور یہ سچ نہیں ہے کہ پیرس نے قومی اتحادی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ایسی حکومت "دوسری بغاوت" کا باعث بنے گی۔ ذرائع نے مزید کہا: "فرانسیسی کسی بہانے قومی اتحاد کی حکومت کے اس نظریہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میکرون کے الفاظ کی غلط ترجمانی کی گئی ہے۔"
الاخبار نے لبنان میں ہونے والے واقعات اور فرانسیسی منصوبے کے بارے میں سعودی عرب کے مؤقف کو باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ریاض کے لئے سب سے بڑا مسئلہ "حزب اللہ کا غلبہ اور اس کے تئیں مشیل عون کی حمایت ہے‘‘۔
لبنانی سیاسی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکیوں فرانسیسیوں اور سعودیوں نے ’نواف سلام‘ کو مستقبل کی لبنانی حکومت کے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار نامزد کیا ہے ۔ لیکن ممکن ہے مشیل عون اپنے قانونی اختیارات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگلے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے کوئی ریڈ لائن متعین کر دیں۔ لیکن بہر صورت سیاسی خلا سے بچنے کے لیے جلد ہی ایک نئی حکومت کی تشکیل لازمی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ، موجودہ حالات کے پیش نظر لبنان کا مستقبل دو ممکنہ صورتوں پر مبنی ہے:
پہلی صورت؛ ابتدائی پارلیمانی انتخابات کا نفاذ۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سنجیدہ نہیں لگتا کیوں کہ لبنان کو بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے، ان میں سے پہلی مشکل نئے انتخابی قانون پر اتفاق ہے۔

دوسری صورت؛ نئی حکومت کا قیام یا سیاسی نظام کی تنظیم نو ، جو ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے ’طائف‘ معاہدے کی طرح طویل مدتی گفتگو اور مشاورت کی ضرورت ہے۔ ایک ہی آپشن باقی رہتا ہے اور وہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت اپنا استعفیٰ واپس لے لے، جو آسان نہیں ہے لہذا ملک کی صورتحال وہی ہے جو سعد الحریری کے استعفیٰ کے بعد پیش آئی تھی ، لیکن اس بار مسئلہ صرف حکومت کی تشکیل کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ بیروت دھماکے میں جانوں کے ضیاع اور بھاری نقصانات کا بھی ہے۔ چونکہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ انتقام کے خواہاں ہیں۔
ایسے میں لبنان کے حالات کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بھارتی میڈیا استعمار کے شکنجے میں۔ دوسرا حصہ

  • ۱۹۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ؛ گزشتہ سے پیوستہ

اگر میڈیا سید مقاومت سید حسن نصراللہ کا ظالم اور دہشت گرد ابوبکر بغدادی سے مقایسہ کرنے سے پہلے ان کے خدمات اور ایثار کی تاریخ کا مطالعہ کرلے تو شاید اتنی بڑی غلطی کے مرتکب نہ ہوں ۔مگر جہاں میڈیا ہائوس جھوٹ اور فریب کے سہارے چل رہے ہوں وہاں حقیقت جاننے کی للک کسے ہوتی ہے ۔داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کو لبنان میں حزب اللہ کے جوانوں نے شکست دی ہے ۔شام اور عراق میں دہشت گردوں سے مقابلہ آرائی میں حزب اللہ کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں ۔درجنوں محاذ ایسے ہیں جہاں آج بھی اس کے جوان حالت جنگ میں ہیں ۔چونکہ یہ تمام محاذ اسرائیل اور امریکہ کے تیار کردہ ہیں ،اور حزب اللہ کے جوان انکی کامیابی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ،لہذا اس دشمنی میں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قراردیدیا گیا تاکہ عالمی سطح پر حزب اللہ کو تنہا کردیا جائے ۔یہی رویہ استعماری طاقتوں نے ایران کے ساتھ اختیار کیا ہواہے ،کیونکہ ایرانی جوانوں نے حزب اللہ کے جوانوں کی طرح استعماری منصوبوں کو خاک میں ملا دیاہے ۔اسرائیل جس کی فوجی طاقت کا دنیا لوہا مانتی ہے اس نام نہاد عظیم طاقت کو اگر کسی نے ذلت و پستی کے تحت الثریٰ میں پھینک دیاہے تو وہ حزب اللہ کے جوان ہی ہیں ۔لہذا استعمار نے اپنی پوری طاقت حزب اللہ کے خلاف جھونک دی ہے ۔وہ اپنے میڈیا ہائوسیز کے ذریعہ حزب اللہ کے خلاف جھوٹی خبریں پلانٹ کرتے ہیں ،ہر پروگرام میں اس کے جوانوں کو دہشت گرد اور ظالم قرار دیا جاتاہے تاکہ دنیا کی ہمدردی حاصل کی جاسکے ۔یہ وہی پرانا کھیل ہے جو فلسطین پرقبضے کے وقت کھیلا گیا تھا اور ’ہولوکاسٹ‘ کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ عالمی سطح پر یہودی ایک مظلوم قوم قراردیدی گئی ۔یہودیوں کی مظلومیت کا فائدہ ’صہیونیوں ‘ نے اٹھایا اور آج فلسطین کی زمینوں پر جسے ہم ’اسرائیل ‘ کے نام سے جانتے ہیں ،یہودیوں کی تعداد ’نا‘ کے برابر ہے ۔اسرائیل نے ایک الگ تھلگ ریاست کے قیام کے لئے ہر طرح کے جھوٹ اور فریب کا سہارا لیا اور لے رہاہے اسی طرح اسلامی مقاومتی تنظیموں کو بدنام کرنے اور عالمی سطح پر انہیں الگ تھلگ کرنے کے لئے ہر طرح کے گھنائونے پروپیگنڈے کررہاہے ۔ورنہ ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا تھاکہ ایک ملک کے کمانڈر( قاسم سلیمانی) پر بزدلی کے ساتھ ہوائی حملہ کرکے شہید کردیا جائے اور اس کے بعد دنیا کی ساری ہمدردیاں امریکہ اور اسرائیل کے حق میں ہوں۔
اب عالم یہ ہے کہ استعماری طاقتوں کے پرفریب منصوبوں کا شکار ہمارا قومی میڈیا بھی ہوچکاہے ۔کیونکہ ہمارا ملک اسرائیل نوازی میں اپنی ساری حدیں پار کرچکاہے ۔ہماری عوام کو یہ باور کرادیا گیاہے کہ ہماری ترقی اسرائیل کی دُم سے بندھی ہوئی ہے ۔وہ دن دور نہیں جب ہم اس کے دوررس نتائج بھگتیں گے ۔
جس وقت وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے پر تھے،اس وقت ہمارا قومی میڈیا اسرائیل نوازی میں فلسطینی مقاومتی تنظیموں کو دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیمیں ثابت کرنے پر تُلا ہوا تھا ۔میڈیا کے بقول اسرائیلی ایجنسی’ موساد‘ ایک مظلوم ایجنسی ہے جس پر فلسطینی مقاومتی تنظیمیں جب چاہتی ہیں دہشت گردانہ حملے کرتی ہیں اور اس کے فوجیوں اور جوانوں کا قتل عام کردیتی ہیں۔یہ ایک ایسا سفید جھوٹ تھا جسے بے بنیاد حقائق اور موساد کے اشارے پر ہندوستان میں پھیلایا گیا ۔وزیر اعظم مودی اسرائیل میں تھے اور ہم ہندوستان میں اسرائیل کی مظلومیت کی داستان سن رہے تھے ۔حیرت ہے میڈیا اس قدر بے ضمیر اور بے غیرت کیسے ہوسکتاہے ؟۔کیا اس میڈیا کو فلسطینی عوام کی مظلومیت اور مقاومت نظر نہیں آتی ۔وہ صہیونی قوم جو فلسطین کی زمین پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے اس کو فلسطینی زمین کا مالک قراردینا کہاں کا انصاف ہے ۔فلسطین کی نہتی عوام اسرائیل مہلک ہتھیاروں کا مقابلہ اینٹ اور پتھروں کے ذریعے کررہی ہے ،اس کے جوان ،بچے ،بوڑھے اور خواتین کو بے دریغ قتل کیا جارہاہے ، ان کے گھروں پر اسرائیلی فوجیوں کا قبضہ ہے ،وہ آزادانہ زندگی بسر نہیں کرسکتے بلکہ ان کے بچوں کا مستقبل خوف کے سائے میں ہے،ایسی فلسطینی عوام کو دہشت گرد کہہ کر ہمارا قومی میڈیا اپنے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو خود ہی نوچ کر پھینک دیتاہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کے وقت ہی ہمیں یہ باور ہو گیاتھاکہ ہمارے قومی میڈیا کی رہی سہی آزادی بھی سلب کرلی گئی ہے ۔اب ہم وہ دیکھیں گے جو استعماری طاقتیں دکھانا چاہتی ہیں ۔حزب اللہ کے جنرل سکریٹری سید حسن نصراللہ کو بدنام کرنے کے لئے جس طرح جھوٹی خبروں کو میڈیا نےنشر کیاہےاس سے معلوم ہوتاہے کہ میڈیا ہائوسیز پر سرمایہ داروں کے تسلط اور ان کے مفادات نے میڈیا کی آزادی کو کتنا متاثر کیاہے ۔اس میڈیا کو ہم ’ رٹّوطوطا‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔
میڈیا کوایسی بے بنیاد اور پروپیگنڈہ خبریں نشر کرنے پر شرم آنی چاہئے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ عہد میں میڈیا کا وقار تباہ ہوچکاہے ۔دانشور طبقہ میڈیا کی خبروں پر یقین نہیں کرتا اور نہ اسکے پروپیگنڈے کا شکار ہوتاہے ۔مگر اس دانشور طبقے کی تعداد بہت محدود ہےاور سماج میں اس کا کردار بھی بہت زیادہ نہیں رہ گیاہے ۔جمہوریت میں اصل کردار عوام کا ہوتاہے اور عوام کی ۸۰ فیصد سے زیادہ آبادی علم و دانش سے محروم ہے ۔وہ میڈیا کے پروپیگنڈے کا شکار ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ پیش کئے جارہے مسخ شدہ حقائق کو درست تسلیم کرتی ہے ۔ہندوستان میں جمہوریت کے زوال میں بڑا کردار میڈیا نے ادا کیاہے اوراس کے لئے تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بھارتی میڈیا استعمار کے شکنجے میں۔ پہلا حصہ

  • ۲۰۸

بقلم عادل فراز

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ہندوستانی میڈیا پوری طرح استعماری طاقتوں اور سرمایہ داروں کے شکنجے میں ہے ۔اس کی آزادی اور حق بیانی کی طاقت سلب کی جاچکی ہے ۔اس وقت ہمارا قومی میڈیا فاشسٹ طاقتوں کے ہاتھ کا کھلونا بن چکا ہے ۔ان کے پاس عوام کے لئے معلوماتی خبروں ،تحقیقاتی مباحثات اور معیاری پروگراموں کے بجائے فرقہ پرستی اور اشتعال انگیزی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔کیونکہ میڈیا کے تمام تر بڑے بڑے ادارے اور نیوزایجنسیاں سرمایہ داروں کی ملکیت ہیں۔یہ سرمایہ دار اپنے مفادات کے خلاف نہیں جاسکتے لہذا ایسی خبریں اور پروگرام پلانٹ کئے جاتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر عوام اسی جھوٹ کو حقیقت سمجھتی ہے اور پلانٹ خبروں پر اعتبار کرلیتی ہے۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تاریخی واقعات و حقائق کو پوری طرح مسخ کرکے پیش کیا جارہاہے ،فرقہ پرستی کو علی الاعلان ہوا دی جارہی ہے اور سماج کو تقسیم کرنے کا کھیل کھیلا جارہاہے مگر عوام اس پورے کھیل کی سچائی سے بے خبر خواب خرگوش کے مزے لےرہی ہے ۔ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے ۔یہ صورتحال میڈیا نے پیدا کی ہے اور اس کے ذمہ دار وہ سرمایہ دار ہیں جو بڑے بڑے میڈیا ہائوسیز کے مالک ہیں۔ یہ تمام میڈیا ہائوسیز نیوز ایجنسیوں کے محتاج ہوتے ہیں اور دنیا کی تمام تر بڑی نیوز ایجنسیاں استعمار کی ملکیت ہیں ۔استعماران نیوز ایجنسیوں کے ذریعہ دنیا کی بڑی آبادی کی سماعتوں اور قوت فیصلہ پر مسلط ہوچکا ہے۔جھوٹی خبریں پلانٹ کی جاتی ہیں ،خود کو مظلوم ثابت کرکے دنیا کی ہمدردی حاصل کی جاتی ہے ،اپنی فوجی طاقت اور اقتصادی عظمت کا بکھان کیا جاتاہے ۔اپنے دشمنوں کو دہشت گرد اور دہشت گرد دوستوں کو مصلح جہان کہہ کر متعارف کروایا جاتاہے ۔استعمار کی جاری کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں وہی تنظیمیں شامل ہیں جو اس کے مفادات کے خلاف لڑ رہی ہیں اوراس کے دنیا پر حکومت کے خواب کو ڈرائونا خواب بنا دیاہے ۔ایسی ہی ایک تنظیم کا نام ہے’’ حزب اللہ ‘‘۔حال ہی میں لبنان کے قومی دارالحکومت بیروت میں ہوئے دھماکے کے بعد عالمی سطح پر جس طرح ’حزب اللہ ‘ کو گھیرنے کی کوشش کی گئی وہ اسی منصوبے کا حصہ ہے ۔
ہمارا قومی میڈیا بھی لبنان کے دارلحکومت بیروت میں ہوئے دھماکوں کا ذمہ دار ’حزب اللہ ‘ کو قراردے رہاہے ۔جبکہ لبنان کی حکومت اورانٹلیجنس نے اس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا ۔مگر میڈیا کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ لبنان حکومت اور وہاں کی انٹلیجنس کا موقف کیاہے بلکہ وہ تو اپنے آقائوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے میڈیا ہائوسیز کی پلانٹ خبروں کو نشر کرکے اپنی غلامی کا ثبوت دے رہاتھا۔ سید مقاومت سید حسن نصراللہ کے سلسلے میں ’ٹی وی 9 بھارت ورش ‘ نے جس طرح کی خبریں نشر کی ہیں وہ اس کی اسرائیل نوازی اور حقیقت سے بے خبری کی دلیل ہے ۔حزب اللہ ایک جمہوری پارٹی ہے جس کے اراکین لبنان کی قومی اسمبلی میں موجود ہیں ۔اگر حزب اللہ دہشت گرد تنظیم ہے تو پھر لبنانی حکومت نے اس پر پابندی عائد کیوں نہیں کی؟ یا پھر ساری دنیا کا ٹھیکہ امریکا اور اسرائیل نے لے رکھاہے کہ وہ جسے چاہیں گے دہشت گرد قرار دیں گے اور جس دہشت گرد کو چاہیں گے دنیا پر امن کا نمائندہ بناکر مسلط کردیں گے ؟۔حزب اللہ اپنی سرحدوں کے تحفظ اور اسلامی اصول و اقدار کی پاسبان تنظیم ہے ۔ظلم و دہشت گردی کے خلاف اس کے جوانوں کی مقاومت اور ایثار نے ساری دنیا کو حیران کیاہے ۔اگر مظلوموں اور مستضعفین کی حمایت اور ان کا تحفظ کرنا امریکہ اور اسرائیل کی نگاہوں میں دہشت گردی ہے تو پھر یہ دہشت گردی امریکہ اور اسرائیل کے نام نہاد انصاف سے ہزار ہا درجہ بہتر ہے ۔کیا میڈیا نہیں جانتا کہ عالمی دہشت گردی کے فروغ میں اسرائیل اور امریکا کا کردار کیاہے ؟۔ طالبان سے لیکر داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ کہاں سے میسر آرہی ہے ؟ صدام حسین ،اوسامہ بن لادن ،ملا عمر اور ابوبکر بغدادی جیسے دہشت گردوں کا سرغنہ کون ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک نے دہشت گردوں کی فیکٹری قائم کی ہے جہاں ابوبکر بغدادی اور اوسامہ بن لادن جیسے دہشت گرد تیار کرکے اسلامی ملکوں میں بھیجے جاتے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جاسکے ۔ان دہشت گردوں کے ذریعہ جب یہ استعماری طاقتیں اپنے ہدف کو پالیتی ہیں تو انہیں ظالمانہ طورپر قتل کردیا جاتاہے ۔صدام حسین جو امریکہ کا پالتو تھا ،جیسے ہی امریکہ کو یہ احساس ہواکہ اب صدام اس کے مفادات کو نقصان پہونچا سکتاہے ،فرضی دلائل کے ساتھ پورے عراق کو تباہ و برباد کردیاگیا۔یہی صورتحال ابوبکر بغدادی اور ملا عمر و اسامہ بن لادن جیسے دہشت گردوں کے ساتھ اختیار کی گئی ،جبکہ یہ تمام دہشت گرد امریکہ و اسرائیل کے ایجنٹ تھے ۔

جاری