بھارتی میڈیا استعمار کے شکنجے میں۔ پہلا حصہ

بقلم عادل فراز

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ہندوستانی میڈیا پوری طرح استعماری طاقتوں اور سرمایہ داروں کے شکنجے میں ہے ۔اس کی آزادی اور حق بیانی کی طاقت سلب کی جاچکی ہے ۔اس وقت ہمارا قومی میڈیا فاشسٹ طاقتوں کے ہاتھ کا کھلونا بن چکا ہے ۔ان کے پاس عوام کے لئے معلوماتی خبروں ،تحقیقاتی مباحثات اور معیاری پروگراموں کے بجائے فرقہ پرستی اور اشتعال انگیزی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔کیونکہ میڈیا کے تمام تر بڑے بڑے ادارے اور نیوزایجنسیاں سرمایہ داروں کی ملکیت ہیں۔یہ سرمایہ دار اپنے مفادات کے خلاف نہیں جاسکتے لہذا ایسی خبریں اور پروگرام پلانٹ کئے جاتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر عوام اسی جھوٹ کو حقیقت سمجھتی ہے اور پلانٹ خبروں پر اعتبار کرلیتی ہے۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تاریخی واقعات و حقائق کو پوری طرح مسخ کرکے پیش کیا جارہاہے ،فرقہ پرستی کو علی الاعلان ہوا دی جارہی ہے اور سماج کو تقسیم کرنے کا کھیل کھیلا جارہاہے مگر عوام اس پورے کھیل کی سچائی سے بے خبر خواب خرگوش کے مزے لےرہی ہے ۔ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے ۔یہ صورتحال میڈیا نے پیدا کی ہے اور اس کے ذمہ دار وہ سرمایہ دار ہیں جو بڑے بڑے میڈیا ہائوسیز کے مالک ہیں۔ یہ تمام میڈیا ہائوسیز نیوز ایجنسیوں کے محتاج ہوتے ہیں اور دنیا کی تمام تر بڑی نیوز ایجنسیاں استعمار کی ملکیت ہیں ۔استعماران نیوز ایجنسیوں کے ذریعہ دنیا کی بڑی آبادی کی سماعتوں اور قوت فیصلہ پر مسلط ہوچکا ہے۔جھوٹی خبریں پلانٹ کی جاتی ہیں ،خود کو مظلوم ثابت کرکے دنیا کی ہمدردی حاصل کی جاتی ہے ،اپنی فوجی طاقت اور اقتصادی عظمت کا بکھان کیا جاتاہے ۔اپنے دشمنوں کو دہشت گرد اور دہشت گرد دوستوں کو مصلح جہان کہہ کر متعارف کروایا جاتاہے ۔استعمار کی جاری کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں وہی تنظیمیں شامل ہیں جو اس کے مفادات کے خلاف لڑ رہی ہیں اوراس کے دنیا پر حکومت کے خواب کو ڈرائونا خواب بنا دیاہے ۔ایسی ہی ایک تنظیم کا نام ہے’’ حزب اللہ ‘‘۔حال ہی میں لبنان کے قومی دارالحکومت بیروت میں ہوئے دھماکے کے بعد عالمی سطح پر جس طرح ’حزب اللہ ‘ کو گھیرنے کی کوشش کی گئی وہ اسی منصوبے کا حصہ ہے ۔
ہمارا قومی میڈیا بھی لبنان کے دارلحکومت بیروت میں ہوئے دھماکوں کا ذمہ دار ’حزب اللہ ‘ کو قراردے رہاہے ۔جبکہ لبنان کی حکومت اورانٹلیجنس نے اس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا ۔مگر میڈیا کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ لبنان حکومت اور وہاں کی انٹلیجنس کا موقف کیاہے بلکہ وہ تو اپنے آقائوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے میڈیا ہائوسیز کی پلانٹ خبروں کو نشر کرکے اپنی غلامی کا ثبوت دے رہاتھا۔ سید مقاومت سید حسن نصراللہ کے سلسلے میں ’ٹی وی 9 بھارت ورش ‘ نے جس طرح کی خبریں نشر کی ہیں وہ اس کی اسرائیل نوازی اور حقیقت سے بے خبری کی دلیل ہے ۔حزب اللہ ایک جمہوری پارٹی ہے جس کے اراکین لبنان کی قومی اسمبلی میں موجود ہیں ۔اگر حزب اللہ دہشت گرد تنظیم ہے تو پھر لبنانی حکومت نے اس پر پابندی عائد کیوں نہیں کی؟ یا پھر ساری دنیا کا ٹھیکہ امریکا اور اسرائیل نے لے رکھاہے کہ وہ جسے چاہیں گے دہشت گرد قرار دیں گے اور جس دہشت گرد کو چاہیں گے دنیا پر امن کا نمائندہ بناکر مسلط کردیں گے ؟۔حزب اللہ اپنی سرحدوں کے تحفظ اور اسلامی اصول و اقدار کی پاسبان تنظیم ہے ۔ظلم و دہشت گردی کے خلاف اس کے جوانوں کی مقاومت اور ایثار نے ساری دنیا کو حیران کیاہے ۔اگر مظلوموں اور مستضعفین کی حمایت اور ان کا تحفظ کرنا امریکہ اور اسرائیل کی نگاہوں میں دہشت گردی ہے تو پھر یہ دہشت گردی امریکہ اور اسرائیل کے نام نہاد انصاف سے ہزار ہا درجہ بہتر ہے ۔کیا میڈیا نہیں جانتا کہ عالمی دہشت گردی کے فروغ میں اسرائیل اور امریکا کا کردار کیاہے ؟۔ طالبان سے لیکر داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ کہاں سے میسر آرہی ہے ؟ صدام حسین ،اوسامہ بن لادن ،ملا عمر اور ابوبکر بغدادی جیسے دہشت گردوں کا سرغنہ کون ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک نے دہشت گردوں کی فیکٹری قائم کی ہے جہاں ابوبکر بغدادی اور اوسامہ بن لادن جیسے دہشت گرد تیار کرکے اسلامی ملکوں میں بھیجے جاتے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جاسکے ۔ان دہشت گردوں کے ذریعہ جب یہ استعماری طاقتیں اپنے ہدف کو پالیتی ہیں تو انہیں ظالمانہ طورپر قتل کردیا جاتاہے ۔صدام حسین جو امریکہ کا پالتو تھا ،جیسے ہی امریکہ کو یہ احساس ہواکہ اب صدام اس کے مفادات کو نقصان پہونچا سکتاہے ،فرضی دلائل کے ساتھ پورے عراق کو تباہ و برباد کردیاگیا۔یہی صورتحال ابوبکر بغدادی اور ملا عمر و اسامہ بن لادن جیسے دہشت گردوں کے ساتھ اختیار کی گئی ،جبکہ یہ تمام دہشت گرد امریکہ و اسرائیل کے ایجنٹ تھے ۔

جاری

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی