برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا برصغیر میں نقطہ آغاز

  • ۲۰۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: برطانیہ کی بیرون ملکی تجارت کی تاریخ در حقیقت تیرہویں صدی عیسویں اور ‘لندن تجارتی کمپنی’ کی طرف پلٹتی ہے۔ سولہویں صدی میں برطانیہ کے روس کے ساتھ تجارتی تعلقات، بھارت اور ایران کے ساتھ تجارت کا بھی نقطہ آغاز شمار ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے جس انگریز نے بھارت کا سفر کیا وہ “توماس اسٹفنس” (۱۵۷۹) تھے۔
کچھ عرصہ تجارتی سرگرمیوں کے بعد، ۳۱ دسمبر ۱۶۰۰ میں الزبتھ کے حکم سے لندن تجارتی کمپنی نے انڈیا کے ساتھ باضابطہ تجارتی معاملات شروع کئے۔ درحقیقت یہ کمپنی وہی “ایسٹ انڈیا کمپنی” تھی جس نے بعد میں ہندوستان کو اپنا مرکز انتخاب کیا۔ اس کمپنی نے اس وقت جنم لیا جب ۲۱۸ انگریز تاجروں نے الزبتھ کو خط لکھا کہ وہ برصغیر میں ایک تجارتی کمپنی کی تاسیس کے ذریعے ایشیا کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کمپنی برطانوی ملکہ کے براہ راست حکم سے وجود میں آئی اور اس کا اکثر منافع برطانیہ کی حکومت کو جاتا تھا۔ یہ کمپنی بہت جلد اس قدر طاقتور ہو گئی کہ سالانہ دس ہزار اشرفیاں حکومت کے خزانے میں دیتی تھی۔ اور یہ اشرفیاں ان رشوتوں کے علاوہ تھیں جو یہ کمپنی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے حکومتی کارندوں کو دیتی تھی۔ اور رشوتوں کا یہ سلسلہ سبب بنا کہ حکومت برطانیہ شدت سے اس کمپنی سے وابستہ ہو جائے۔ لہذا اس دوران (۱۶۸۵-۱۶۶۰م) میں حکومت برطانیہ اور خود ملکہ کی جانب سے اس کمپنی کو حاصل حمایت قابل تعجب نہیں ہے۔ اس کی اصلی وجہ یہ تھی کہ یہ تعلق اور وابستگی دوطرفہ تھی، ایک طرف سے برطانوی بادشاہ کو اس کمپنی کے پیسے اور دولت کی ضرورت تھی اور دوسری طرف سے ایسٹ انڈیا کمپنی کو حکومت کی سیاسی حمایت درکار تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا نفوذ اس قدر وسیع ہو گیا تھا کہ “چارلز دوم” کے دور میں اس کمپنی نے زمینیں قبضانے کے حق سے لیکر، اعلان جنگ اور ملک کے اندرونی امور اور عدلیہ تک امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے مشرقی ایشیا یا برصغیر میں تجارتی نفوذ بڑھانے کے لیے پہلی تلاش و کوشش، ‘جان میلڈن ہال (John Mildenhall) نامی شخص کو بھیجنے کے ذریعے شروع ہوتی ہے۔ لیکن ‘میلڈن ہال’ کی تلاش و کوشش پرتگالیوں کی مخالفتوں کی وجہ سے مثمر ثمر واقع نہیں ہوتی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی دوسری مرتبہ ۱۶۰۸ میں سورت بندرگاہ پر اپنا لنگر ڈال کر اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن پھر بھی پرتگالیوں کے نفوذ کی وجہ سے اسے ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن آخر کار ۱۶۱۲ میں یہ کمپنی گجرات کے حاکم کو اپنے قبضے میں لینے کے بعد اس کی اجازت سے سورت بندرگاہ پر اس کی کشتیاں لنگر ڈالنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔
اسی فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت برطانیہ اپنا سفیر ‘جھانگیر’ بادشاہ کے دربار میں بھیجتی ہے جس کے بعد بنگال اور ہندوستان کے دوسرے شہروں میں انگریزوں کی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب انگریز پرتگالیوں کو شدید شکست سے دوچار کرتے ہیں اور ‘بندرگاہ ہرمز’ سے انہیں باہر نکالنے میں ‘شاہ عباس صفوی’ کی مدد کرتے ہیں۔ انگریزوں کو اس کے بعد پرتگالیوں سے کوئی خوف نہیں رہتا۔ اور اس طریقے سے ایسٹ انڈیا کمپنی بندرگاہ سورت پر اپنا دائمی قبضہ جما لیتی ہے اور اسے اپنی تجارت کا مرکز بنا لیتی ہے۔
برطانوی ملکہ الزبتھ اول کی قائم کردہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۶۰۰ء میں جب برصغیر کی سرزمین پر پاؤں رکھا تھا تو کسی کے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سورت اور مدراس میں مسالہ جات کے تجارتی مراکز قائم کرنے والی یہ بے ضرر سی کمپنی کسی دن پورے ہندوستان پر برطانوی راج کی راہ ہموار کر دے گی اور مستقبل میں اس خطے کے لوگ معاشی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی لحاظ سے انگریزوں کی غلامی میں چلے جائیں گے۔ کاروبار کے لیے آنے والی اس کمپنی نے ۱۶۸۹ میں علاقائی تسخیر شروع کر دی۔ یہ نوے برسوں پر محیط عرصہ ہے کہ یہ کمپنی سرمایہ کاری اور کاروبار کے پس پردہ رہی۔ بعدازاں جنگ پلاسی جیسی لڑائیاں چلتی رہیں اور آخر کار ۱۸۵۷ء کے بعد پورے ہندوستان پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔
تحریر؛ میلاد پور عسگری
زرسالاران یهودی و پارسی، شهبازی، عبدالله، ج۱، موسسه مطالعات و پژوهش‌های سیاسی، تهران، چاپ اول: ۱۳۷۷،ص۷۹-۷۸٫
۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امریکی سلطنت یا ابھی یا کبھی نہیں

  • ۱۶۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ جن لوگوں سے میں بات چیت کرتا ہوں، ان میں سے بہت سوں کا خیال ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کا تعلق جمہوریت، قومی سلامتی یا شاید دہشت گردی یا آزادی یا خوبصورتی یا کسی اور چیز سے ہے۔ عجیب خیال ہے یہ، یہ سارے واشنگٹن کے حبدار ہیں۔ کچھ تو واضح طور پر حیران و پریشان ہیں جنہیں امریکہ کے بین الاقوامی رویوں میں کوئی نمونہ عمل نظر نہیں آتا لیکن اس صورت حال کی وضاحت آسان ہے۔
البتہ اس صورت حال کا سبب “سلطنت” ہے جس کی طرف رغبت بنی نوع انسان کے فکری مجموعے کا قدیم اور ذاتی جزء ہے: سلطنت اشکانیان (یا سلطنت پارثاوا یا پارت یا پارث)، (۱) سلطنت روم (۲)، آزٹیک سلطنت (۳)، سلطنت ہیبسبرگ (۴) اور سلطنت برطانیہ اور ان سلطنتوں کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست۔
جب سوویت اتحاد کا خاتمہ ہوا تو امریکہ ایسی پوزیشن میں تھا کہ حقیقتا ایک عالمی سلطنت قائم کرسکتا تھا؛ ترقی یافتہ ممالک عملی طور پر امریکہ کے خراج گزار تھے اور ان میں سے بہت سے امریکی سپاہیوں کے قبضے میں تھے؛ جیسے: پورا یورپ، کینیڈا، جاپان، جنوبی کوریا، لاطینی امریکہ، سعودی عرب اور آسٹریلیا۔ اسی اثناء میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ زبردست معیشت اور سب سے بڑی فوجی طاقت کا مالک تھا؛ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف (۵)، نیٹو (شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم)، (۶) ڈالر اور سوِفٹ، (۷) الغرض سب کچھ اس کے کنٹرول میں تھا اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی دوسروں پر فوقیت رکھتا تھا؛ روس افراتفری کا شکار تھا اور چین ایک نقطہ تھا دور افتادہ افق میں۔
)یہودی لابیوں کے سب سے اہم ادارے( آیپیک (۸) جیسے طاقت کے مراکز نے اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کردیا لیکن اصل یلغار عراق پر حملے سے شروع ہوئی۔ نہ کہتے ہوئے بھی ظاہر ہے کہ امریکہ کی موجودہ خارجہ پالیسی کرہ ارضی پر تسلط کی حکمت عملی پر مرکوز ہے۔ حیرت انگیز نکتہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اس موضوع سے بےخبر ہیں۔
دنیا کا دارومدار تیل پر ہے۔ تیل کے سودوں پر کنٹرول، ان ممالک پر تقریبا مطلق قابو رکھنے پر منتج ہوتا ہے جن کے پاس تیل نہیں ہے۔ (بطور مثال اگر جاپانیوں کو تیل کی منتقلی رک جائے تو وہ بہت جلد ایک دوسرے کو کھا لیں گے۔) سعودی عرب امریکہ کا ایک زیر حمایت ملک (۹) ہے، اور عراق پر گذرنے والی صورت حال کو دیکھ کر وہ بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اگر وہ تیل کی پیداوار اور فروخت بند کردے تو ممکن ہے کہ امریکہ کے زیر قبضہ آجائے۔ امریکی بحریہ [بقول مضمون نویس] آسانی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے بعض ممالک یا تمام ممالک کی طرف جانے والے تیل بردار جہازوں کا راستہ روک سکتی ہے۔
۱۱۔ عراق کی تباہی کا ایک اصل مقصد اس ملک کے تیل کو اپنے ہاتھ میں لینا اور تیل پیدا کرنے والی ایک اہم طاقت “ایران” کی سرحدوں پر اپنی فوج کی تعیناتی سے عبارت تھا۔ ایرانیوں پر بھوک مسلط کرنے کی موجودہ کوشش ایران میں ایک کٹھ پتلی حکومت کو برسر اقتدار لانے کی غرض سے ہورہی ہے۔ حال ہی میں جنوبی امریکی ملک ونزویلا (۱۰) میں بغاوت کروانے کا مقصد بھی تیل کے عظیم ذخائر کے حامل ایک اور ملک پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ یہ عمل لاطینی امریکہ کے دوسرے ممالک کے خوفزدہ کرنے کے لئے بھی ہوسکتا ہے اور اس طرح سے انہیں دکھایا جاسکتا ہے کہ یہ واقعہ ایسے ہر ملک کے اندر رونما ہوسکتا ہے جو واشنگٹن کے لئے مسائل پیدا کرنا چاہے۔ امریکی فوجی نائجیریا میں کیا کرتے ہیں؟ آپ اندازہ لگائیں کہ نائیجریا میں ایسی کونسی چیز ہے؟
یاد رکھیں کہ عراق اور ایران، تیل کے ذخائر کے ساتھ ساتھ، جُغ سیاسی (۱۱) لحاظ سے بھی ایک عالمی سلطنت کے لئے حیاتی اہمیت رکھتے ہیں؛ علاوہ ازیں امریکہ میں یہودیوں کی بہت طاقتور موجودگی بھی اپنے مقاصد کے لئے مشرق وسطائی جنگوں کی حمایت کرتی ہے گوکہ اسلحہ تیار کرنے والی کمپنیوں کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ “خدا کے تمام فرزند سلطنت کے عاشق ہیں”۔
بڑی سلطنت کے غلبے کے لئے، روس اور چین ـ جن میں مؤخر الذکر ملک حیرت انگیز رقیب بھی ہے ـ کو بےاثر کرنا چاہئے۔ کارزار کا نتیجہ روس کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے توڑ دینا ہے۔ اسی اثناء واشنگٹن اپنی کرائے کی ملیشیا “نیٹو” پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ اپنا دائرہ مشرق کی طرف پھیلا دے؛ پولینڈ میں امریکی افواج کو تعینات کرنا چاہتا ہے اور ایک خلائی کمان قائم کرنے کے درپے ہے جس کا واحد مقصد روس کو خوفزدہ یا بلیک میل کرنا اور درمیانی فاصلے سے تک مار کرنے والے میزائلوں کے معاہدے (۱۲) سے الگ ہونا چاہتا ہے، علاوہ ازیں وہ اپنے یورپی خراج گزاروں کو روس کے ساتھ تجارتی تعلقات وتعاون سے بھی بازرکھنا چاہتا ہے۔
اس کے باوجود، چین امریکی سلطنت کے پھیلاؤ کی راہ میں کلیدی رکاوٹ ہے: چنانچہ اسے چین کی ساتھ تجارتی جنگ کی طرف بڑھنا چاہئے؛ امریکہ کو چین کی معیشت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا راستہ روکنا چاہئے اور ہاں اب “اسی وقت” اسے یہ کام سرانجام دینا چاہئے کیونکہ اسے مزید کوئی بھی موقع نہیں ملے گا۔
موجودہ دور سلطنت امریکہ کے لئے ایک اہم تاریخی موڑ ہے۔ امریکہ تجارت کے لحاظ سے بھی ـ اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی ـ چین کے ساتھ رقابت کی صلاحیت نہیں رکھتا اور واشنگٹن اس حقیقت سے واقف ہے۔ چینی معیشت کی امتیازی خصوصیات بہت بنیادی ہیں: بہت بڑی آبادی اور بہت باصلاحیت اور مستعد افرادی قوت، ایک بڑی معیشت منافع کمانے کے لئے، جو اندرونی سطح پر بھی اور بیرون ملک بھی، بہت بڑی سرمایہ کاریوں کے امکانات فراہم کرتی ہے۔ ایک مستحکم حکومت جو مستقبل کے لئے بہت مناسب منصوبہ بندیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکہ کیا ہے؟ اس سے کہیں زیادہ ٹوٹتی ہوئی طاقت، جو یہ نظر آتی ہے۔ امریکہ کسی وقت اقتصادی لحاظ سے بھی، بہتر مصنوعات کے لحاظ سے بھی اور بہتر قیمتوں کے لحاظ سے بھی فوقیت رکھتا تھا، عظیم فاضل تجارتی آمدنی سے بہرہ ور تھا اور بہت کم کہیں اسے اپنے راستے میں کوئی رقیب نظر آتا تھا۔ آج اس ملک میں صنعتی انہدام کاری ہوچکی ہے۔ اسے ایک عظیم تجارتی خسارے کا سامنا ہے اور یہ سارے مسائل ایک حد سے زیادہ اور قابو سے باہر قرضوں کا سبب بنتا ہے۔ اس ملک میں تیار کردہ مصنوعات ـ جو دنیا والے کسی دوسرے ملک سے کم قیمت پر فراہم نہیں کرسکتے ـ بہت محدود ہیں۔
وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی تجارتی طاقت ایک پیداواری قوت سے ایک صارف کی سطح تک تنزلی کا شکار ہوچکی ہے۔ واشنگٹن تمام ممالک سے کہتا ہے کہ “اگر جو ہم چاہتے ہیں نہ کرو تو تمہاری مصنوعات نہیں خریدیں گے”۔ ایک اٹل (۱۳) [کہلوانے والے] ملک کو ایک اٹل منڈی بھی ہونا چاہئے۔ چند ممالک ایسے ہیں کہ جہاں امریکی مصنوعات اہمیت رکھتی ہیں لیکن اگر آج امریکہ اپنی مصنوعات چین کو بیچنا بند کردے تو چین بمشکل کوئی امریکی مصنوعات کی کمی محسوس کرے گا جبکہ اگر چین سے خریداریاں بند کرے تو چین کی معیشت سست پڑ جائے گی۔ قابل غور ہے کہ محصولات میں اضافہ، چینی مصنوعات کی عدم خریداری کا صرف ایک راستہ ہے۔
چونکہ امریکہ کی مسرف اور فضول خرچ منڈی دوسرے ممالک کے لئے بنیادی عنصر سمجھی جاتی ہے، تو وہ ویسا ہی عمل کرتے ہیں جیسا کہ ان سے کہا جاتا ہے تاہم ایشیائی منڈیاں ترقی کررہی ہیں اور ایشیائی مصنوعات کے مالکان بھی ترقی کررہے ہیں۔
امریکہ کی مسابقت پذیری (۱۴) میں کمی آنے کے بعد، واشنگٹن آہنی مکے کے حربوں کا سہارا لیتا ہے اور اس ملک کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس صورت حال کا ایک اہم نمونہ پانچویں نسل کا انٹرنیٹ ہے، ایک بہت بڑا سودا، جس میں ہواوی (۱۵) کمپنی آگے آگے ہے۔ واشنگٹن اچھی قیمت پر بہتر مصنوعات پیش کرنے سے عاجز ہے اور انتہائی عاجزی کی حالت میں اپنے خراج گزار ممالک کو ـ اپنی مصنوعات کے نہ بکے جانے کی مصیبت کے پیش نظر ـ ہواوی کے ساتھ لین دین سے باز رکھتا ہے۔ امریکی ناامیدی، عاجزی اور بےبسی کو آپ یہاں بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ واجب الوجود یا اٹل (۱۶) [کہلوانے والا] ملک اپنے خراج گزار اور فرمانبردار ملک کینیڈا کو مجبور کرتا ہے کہ ہواوی کمپنی کے بانی کی بیٹی کو حراست میں لے لے۔
مد و جزر سلطنت امریکہ ہی کی طرف پلٹ آتا ہے۔ دو عشرے قبل یہ بات مہمل لگتی تھی کہ چین ٹیکنالوجی کے لحاظ سے امریکہ کے ساتھ مسابقت کی صلاحیت پیدا کرسکتا ہے؛ لیکن آج چین انتہائی تیزرفتاری سے ترقی کررہا ہے۔ یہ ملک سوپر کمپیوٹرز، چاند پر اترنے والی مشینوں (۱۷) کی تیاری اور پانچویں نسل کے انٹرنیٹ کے سلسلے میں امریکہ کے شانہ بشانہ بڑھ رہا ہے اور جینیات (۱۸) کے شعبے میں نیز عالمی درجے کی چپ سیٹس (۱۹) نیز اسمارٹ فون کی تیاری میں پہل کارانہ کردار کا حامل ہے۔ ایک دو عشرے مزید گذریں گے تو امریکہ اس میدان میں بالکل پیچھے رہ جائے گا۔
امریکی انحطاط و زوال زیادہ سے زیادہ اسی ملک سے جنم لے چکا ہے۔ امریکہ اپنی حکومت عام انتخابات کے بجائے ریاستی نمائندوں کے درمیان مسابقت کے ذریعے منتخب کرتا ہے۔ امریکہ کا تعلیمی نظام سماجی انصاف کے شعبے کے بوالہوسوں کا شکار ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مزید تباہی کی طرف گامزن ہے۔ واشنگٹن اپنے بنیادی ڈھانچے اور اقتصاد کی بہتری کے بجائے فوجی قوت پر خرچ کرتا ہے یہ سلسلہ سیاسی حوالے سے انارکی اور افراتفری کا باعث بنتا ہے، اس ملک کی کوئی ثابت سیاست نہیں ہے اور ہر نئی حکومت اس کی پالیسیوں کو تبدیل کردیتا ہے۔
سلطنت (۲۰) کا سب سے پہلا قاعدہ یہ ہے کہ “اپنے دشمنوں کو متحد نہ ہونے دو”؛ لیکن واشنگٹن کے مسلسل دباؤ کے تحت، روس، چین اور ایران امریکی سلطنت کے خلاف ایک اتحاد قائم کرنے میں مصروف ہیں۔ اگر ایران، یورو ـ امریکی معاشی دنیا سے قریب تر ہوتا تو حالات بہت بہتر ہوتے لیکن یہودی ریاست (اسرائیل) امریکہ کو ہرگز ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ یہی رویہ روس کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے، ایسا ملک جو نسلی لحاظ سے یورپ سے قریب تر ہے نہ کہ چین سے۔ امریکہ عملی طور پر اور بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ سائبریا کے نہایت وسیع اور خالی علاقوں کی سرحدیں گنجان آباد چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ واشنگٹن نے یکسان طور پر اپنے دشمنوں اور اتحادیوں کو پابندیوں کا نشانہ بنا کر عالمی معیشت سے ڈالر کے حذف کئے جانے کے عمل کی رفتار تیزتر کررہا ہے اور اس حقیقت کی عملی تصدیق کررہا ہے کہ امریکہ کسی کا اتحادی نہیں بلکہ “آقا” ہے۔
یا ابھی یا پھر کبھی بھی نہیں
اگر امریکہ اپنی عظیم مگر رو بہ زوال طاقت کی مدد سے پوری دنیا کو اپنا پابند بنانے میں کامیابی حاصل نہ کرسکے تو ایشیا کی ابھرتی طاقتیں اس کو ڈبو دیں گی۔ حتی کہ بھارت بھی بڑے سے بڑا ہوتا جارہا ہے۔۔۔ صورت حال یہ ہے کہ یا تو امریکی اقتصادی پابندیاں دنیا کو زیر کرلیں گی؛ یا امریکہ عالمی جنگ کا آغاز کرے گا؛ یا پھر امریکہ مختلف ملکوں میں بٹ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارسی ماخذ: http://fna.ir/brykcd
انگریزی ماخذ:  unz.com/freed/the-empire-now-or-never
نویسنده: فریڈ ریڈ  (FRED REED) اخبارنویس، مصنف و مترجم
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ Parthian Empire
۲۔ Roman Empire
۳۔ Aztec Empire
۴۔ Habsburg Empire
۵۔ International Monetary Fund [IMF]
۶۔ The North Atlantic Treaty Organisation [NATO]
۷۔ Society for Worldwide Interbank Financial Telecommunication [SWIFT]
۸۔ امریکی ـ اسرائیلی تعلقات عامہ کمیٹی “آی پیک” (American Israel Public Affairs Committee [AIPAC])
۹۔ Protectorate
۱۰۔ Venezuela
۱۱۔ Geopolitical
۱۲۔ Intermediate-Range Nuclear Forces Treaty [INF treaty]
۱۳۔ Indispensable
۱۴۔ Competitiveness
۱۵۔ Huawei
۱۶۔ Indispensable
۱۷۔ Moonlanders
۱۸۔ Genetics
۱۹۔ Chipsets
۲۰۔ Empire
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد/ت/۱۰۰۰۱

 

بھارتی جارحیت، اسرائیل کا کردار

  • ۲۳۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کشمیر اور فلسطین کے مسائل میں بڑی مماثلت ہے، دونوں خطوں پر طاقتور قوتیں بالجبر قابض ہیں، مگر دونوں علاقوں کے نہتے عوام اس طاقت سے مرعوب ہوئے بغیر اس قبضے کی مخالفت اور مزاحمت کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے دونوں جھگڑے اکثریت پر مبنی مسلمان آبادیوں کیخلاف ہیں اور دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان ایک قدر مشترک مسلمانوں سے عداوت ہے۔ دوسری جانب عالمی ضمیر گہری نیند سو رہا ہے۔ سارے عالم اسلام میں ان دو مسائل نے ایک بڑے کرب، الم، غم اور غصے کی ایک مستقل فضا پیدا کر رکھی ہے، جو نوجوانوں کو تشدد کی راہ اپنانے کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس پس منظر میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ بھارت اور اسرائیل میں دفاعی تعاون قدیم ہے۔ ہم یہاں تین اہم واقعات کا ذکر کرینگے، جو اس تعاون کی گہرائی کا پتہ دیتے ہیں۔ ان دو ممالک کا پہلا تعاون ۱۹۷۱ء کی جنگ میں سامنے آیا، جب اسرائیل نے ایران کو بھیجا جانے والا اہم ترین جنگی ساز و سامان بھارت کو فراہم کر دیا۔ یہ تعاون اندرا گاندھی اور گولڈا مائر کے درمیان خصوصی رابطے نے ممکن بنایا۔ یہ تفصیلات سری ناتھ راگھوان کی کتاب “بنگلہ دیش کے قیام کی عالمگیر تاریخ “، جو اس موضوع پر مستندحوالہ ہے، میں درج ہیں۔
دوسرے، امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات جن کو بعد ازاں افشاں کیا جا چکا ہے کے مطابق اسرائیل نے جب عراق کے زیر تعمیر نیوکلیئر ریئکٹر کو تباہ کر دیا تو اس کے فوراً بعد سے بھارت اور اسرائیل ایک دوسرے سے تعاون اور منصوبہ بندی کرنے لگے کہ وہ کس طرح پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کا بھی عراقی حشر کر دیں۔ یہ منصوبے اس خیال سے دھرے رہ گئے کہ خطرات بہت زیادہ تھے یا قبل از وقت ان کی خبر پاکستان کو ہوگئی۔ ۱۹۹۰ء میں ایسی ایک کوشش اس وقت ناکام بنا دی گئی، جب پاکستان نے بھارت کو یہ انتباہ کیا کہ وہ زبردست جواب دے گا بلکہ شائد خود پہلے حملہ کر دے۔ تیسرے، اسرائیل نے بھارت کو کارگل کی جنگ میں ایسی مدد فراہم کی، جس نے اس کی نہایت کمزور حالت کو طاقت میں بدل دیا۔ انڈیا ٹو ڈے نے اپنی ۵ جولائی ۲۰۱۷ء کی اشاعت میں یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ بھارتی فضائیہ اپنی زمینی فوج کو پاکستانی پوزیشنز کے متعلق صحیح معلومات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی تھی اور اس کے میزائل بھی ٹھیک نشانے پر نہیں لگ رہے تھے۔
ایسی حالت میں اسرائیل نے بھارتی فضائیہ کو لیزر گائیڈڈ میزائل فراہم کر دیئے، جو میراج ۲۰۰۰H طیاروں میں لگا دیئے گئے۔ ان میزائلوں کیوجہ سے precision bombing کی گئی، جس نے پاکستان کی بلند و بالا پوزیشنز کی برتری کو ختم کر دیا، جبکہ اسے لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔ ماضی قریب میں اور خصوصاً مودی حکومت کے دور میں دونوں ممالک میں قربتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔ اس ضمن میں بھارت اسرائیل سے جنگی ساز و سامان خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن کر ابھرا ہے جبکہ اسرائیل سے بھارت کی خریداری دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ ۲۰۱۲-۱۶ کے عرصے میں درآمد کئے جانے والے جنگی ساز و سامان کا ۴۱ فیصد اسرائیل سے خریدا گیا ہے۔ اس ساز و سامان میں بڑے مہلک اور تباہ کن ہتھیار مثلاً وسط فاصلے پر مار کرنے والے میزائل، لیزر گائیڈڈ میزائل، طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل اور ان کا کمانڈ اور کنٹرول سسٹم، اواکس طیارے، ہیرون ڈرون، ریڈار اور دیگر ساز و سامان شامل ہے، جس میں سے اکثر ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار کی بنیادوں پر خریدے گئے ہیں۔ ان تفصیلات سے بھارت کی حالیہ جارحیت میں اسرائیل کے کردار کو سمجھا جا سکتا ہے۔
رابرٹ فسک Robert Fisk ایک نڈر برطانوی صحافی ہیں، جو ایک طویل عرصے سے مشرق وسطٰی اور خصوصاً عرب، اسرائیل اور فلسطین تنازعے پر رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ وہ اسرائیلی جارحیت کے بڑے ناقد ہیں اور موقر برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کیلئے لکھتے ہیں۔ ایک حالیہ مضمون میں فسک نے یہ ہوشربا انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل، پاک بھارت تنازعے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ فسک کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے بھارتی فضائی حملے کی خبر سنی تو انہیں یوں لگا کہ یہ خبر اسرائیل کے کسی فلسطینی علاقے یا شام میں حملے کی خبر ہے۔ اس خبر کے پہلے الفاظ تھے کہ “دہشت گردوں کے کیمپ پر حملہ”، ایک “کنٹرول و کمانڈ سسٹم ” تباہ کر دیا گیا، کئی “دہشت گرد” ہلاک کر دیئے گئے۔ ملٹری اس اطلاع پر کاروائی کر رہی تھی کہ “دہشت گرد” حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ ایک “اسلامی جہادی” ٹھکانہ ختم کر دیا گیا تھا۔ آگے وہ لکھتے ہیں کہ “لیکن پھر اس میں بالاکوٹ کا نام آگیا۔ جو نہ غزہ میں تھا، نہ شام میں اور نہ ہی لبنان میں، بلکہ وہ پاکستان میں ہے۔ حیرت کی بات ہے، یہ کیونکر ممکن ہے کہ بھارت اور اسرائیل یوں خلط ملط ہو جائیں، لیکن اس خیال کو یونہی محو نہیں ہونے دینا چاہیئے۔ اڑھائی ہزار میل کے فاصلے پر تل ابیب میں واقع اسرائیلی وزارت دفاع اور نئی دہلی میں واقع بھارتی وزارت دفاع کے بیانیوں میں یکسانیت کی ایک معقول وجہ ہے۔
کئی مہینوں سے اسرائیل بڑی احتیاط اور چابکدستی سے خود کو قوم پرست بی جے پی حکومت کیساتھ ایک خاموش، غیر سرکاری، غیر تسلیم شدہ، لیکن سیاسی طور پر خطرناک، “اسلام مخالف اتحاد” میں صف آراء کر رہا تھا، جبکہ بھارت خود اسرائیل کی دفاعی پیداوار کی کھپت کی سب سے بڑ ی منڈی بن گیا ہے۔ یہ اتفاقیہ امر نہیں ہے کہ بھارتی پریس نے اس حقیقت کا خوب ڈھنڈورا پیٹا ہے کہ بھارتی ایئر فورس نے پاکستان کے اندر جیش محمد کے “دہشت گردوں” پر جو “اسمارٹ بم” گرائے ہیں، وہ اسرائیل کے تیار کردہ Rafael Spice-2000 تھے، لیکن جس طرح بہت سے اسرائیلی ان موقعوں پر مطلوبہ اہداف تباہ کرنے کی شیخیاں بگھارتے ہیں، بھارتی مہم جوئی بھی ایک خیالی پلاؤ ثابت ہوگی نہ کہ کوئی فوجی کامیابی۔ “۳۰۰-۴۰۰ دہشت گردوں” کی اسرائیلی ساختہ اور فراہم کردہ جی پی ایس گائیڈڈ بموں سے ہلاکت بالآخر کچھ درختوں اور پہاڑیوں کی تباہی سے زیادہ ثابت نہیں ہوگی، لیکن ۴۰ بھارتی فوجیوں کی ایک سفاکانہ کارروائی میں ہلاکت اور اس کی (مبینہ) ذمہ داری کی قبولیت اور بھارتی لڑاکا طیارے کا گرنا یہ حقیقی واقعات ہیں۔
۲۰۱۷ء میں بھارت اسرائیلی جنگی ساز و سامان کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ یہ ساز و سامان فلسطین اور شام میں مطلوبہ اہداف پر آزمایا ہوا ہے۔ اسرائیل کے پاس کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ اس نے یہ سامان میانمار کو کیوں بیچا ہے، جبکہ مغربی اقوام اس ملک پر اس وجہ سے تجارتی پابندیاں لگا رہے ہیں کہ وہ روہنگیا مسلمان اقلیت کی نسل کشی میں ملوث ہے۔ اس کے برخلاف بھارت سے خرید و فروخت کے معاملات کی ساری دنیا میں نمائش کی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے دونوں ملکوں کے “اسپیشل کمانڈوز” کی نغیو (Negev) صحرا میں مشقوں کی فلم بندی بھی کی ہے۔ یقیناً ان مشقوں میں اسرائیل نے بھارتی کمانڈوز کو وہ مہارت سکھائی ہے جو اس نے غزہ اور آبادی سے بھرے دیگر مقامات میں کارروائیاں کر کے حاصل کی ہے۔ برسلز کی محقق شائری ملہوترا نے اسرائیل کے موقر اخبار “حارٹز” میں لکھا ہے کہ بھارت دنیا میں مسلمانوں کی تیسری بڑی آبادی کا گھر ہے۔ “لیکن اسکے باوجود بھارت اور اسرائیل کا تعلق دائیں بازو کی دو جماعتوں بی جے پی اور لکہود پارٹی کے خیالات میں قدرتی ملاپ سے جوڑا جاتا ہے۔ ہندو انتہا پسندوں نے ایک بیانیہ تشکیل دیا ہے، جس کے مطابق انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ستم رسیدہ قوم ظاہر کیا گیا ہے۔”
ملہوترا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے بھارت میں سب سے بڑے ممدوح وہ “انٹرنیٹ ہندو” ہیں، جن کو اسرائیل کی یہ ادا پسند ہے کہ جس طرح وہ فلسطینیوں کی پٹائی کرتا ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ بھارت اور اسرائیل کا تعلق ضرورت کے تحت نہ کہ نظریاتی بنیادوں پر ہونا چاہیئے، لیکن یہ بڑا مشکل ہے کہ صیہونیت کا کمبل ہندو قوم پرستی کے جسم سے جدا ہو جائے، کیونکہ بھارت کو وہ ہتھیار درکار ہیں، جو اس نے ابھی حال میں پاکستان پر حملہ کرنے کیلئے استعمال کیے ہیں۔ “دہشت گردی کیخلاف جنگ” یا “اسلامک دہشت گردی” کیخلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ بظاہر ایک قدرتی امر ہے، لیکن یہ دونوں ممالک ایسے علاقوں کو نگین رکھنا چاہتے ہیں، جو ان کے مقبوضہ ہیں۔ آخری اہم حقیقت یہ ہے کہ بھارت، پاکستان اور اسرائیل تینوں ایٹمی قوتیں ہیں۔ یہ بات کشمیر اور فلسطین میں مشترک نہیں ہے اور یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیئے کہ بھارت میں ۱۸ کڑوڑ مسلمان بستے ہیں۔”
مندرجہ بالا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل مل کر کشمیر کے معاملے کو اسی انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں، جس طرح اسرائیل نے فلسطین کا معاملہ کیا ہے۔ نیز یہ کہ حالیہ جارحیت میں اسرائیلی اسلحہ جس میں اسمارٹ بم بھی شامل ہیں، استعمال ہوا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف موثر دفاع کیا ہے بلکہ بھارت کو یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے فلسطینی تجربے کو ایک سطحی انداز میں کشمیر کے مسئلے پر منطبق نہ کرے، کیونکہ فلسطین کے مسئلے کے برخلاف، جہاں کوئی دوسرا ملک اس قضیے کا فریق نہیں ہے، یہاں پاکستان ایک مستند و عالمی سطح پر تسلیم شدہ فریق ہے۔ وہ ایٹمی طاقت بھی ہے اور اسرائیل کے فراہم کردہ ہر طرح کے تباہ کن اور مہلک ہتھیاروں سے لیس بھارت سے کسی طور بھی نہ صرف مرعوب نہیں ہوگا، بلکہ اس کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ بھارت کو زیادہ نقصان پہنچا دے۔ لہٰذا اسے اپنا جنگی جنوں ایک حد میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
تحریر: وقار مسعود خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

قریب الموت امریکی ریاست کے تابوت میں آخری کیل کون ٹھونکے گا؟

  • ۱۹۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، امریکہ پر حکومت کرنے والی اشرافیہ نہایت کربناکی سے اس حقیقت کو سمجھ چکی ہے کہ امریکی طاقت سڑ چکی ہے اور اس کی طاقت کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کے پیدواری مراکز کی بیرون ملک منتقلی اور ملک کی نصف آبادی کی شدید غربت میں ابتلا کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔
حکومت کی خودتباہ کن (self-destructive) بندش ان بےشمار حملوں میں سے ایک ہے جو انتظامی شعبے کی افادیت کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ راستے، پل اور عمومی حمل و نقل کا نظام ویرانی کی طرف جارہا ہے، جس کی وجہ سے تجارت اور مواصلات کو مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومتی خسارہ مسٹر ٹرمپ کی طرف سے کمپنیوں پر عائد ٹیکس میں شدید کمی کے باعث ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔
مالیاتی نظام پر عالمی سٹہ بازوں کا قبضہ ـ جلدی یا بدیر ـ ایک نئی مالیاتی شکست و ریخت (meltdown) کی دہائی دے رہا ہے۔ جمہوری اداروں کا فساد و انہدام ـ جو ڈونلڈ ٹرمپ جیسے دغاباز فنکاروں کو اقتدار کی چوٹی تک پہنچاتا ہے اور کمپنیوں کے مفادات کے پابند جو بائڈن اور نینسی پلوسی جیسے نااہل سیاستدانوں کو ان کے متبادل کے طور پر متعارف کراتا ہے، ـ ایک نئی مطلق العنانیت کو جنم دے کر مستحکم کر رہا ہے۔ حکومت کے ستون ـ منجملہ سفارتکاری کے کارگزار ـ نیز قانون ساز ادارے کھوکھلے ہوچکے ہیں لہذا صرف اور صرف ننگی عسکری قوت کو بیرونی اختلافات پر رد عمل ظاہر کرنے کے لئے میدان میں چھوڑ دیا گیا اور امریکہ کا گرتا پڑتا نظام صرف نہ ختم ہونے والی غیر مفید جنگوں کو ایندھن فراہم کررہا ہے۔
اندرونی انحطاط بھی بالکل بیرونی زوال کی طرح خوفناک ہے۔ تمام معاشرتی طبقات میں حکومت پر عدم اعتماد، وسیع البنیاد اداسی اور مایوسی، برآوردہ نہ ہونے والی توقعات کی وجہ سے جمود اور الجھاؤ، تلخی اور توہمات اور حقائق کی ایک آمیزش نمایاں ہو چکی ہے اور صورت حال یہ ہے کہ سیاسی اور شہریتی گفتگو کی جڑیں حقائق میں پیوست نہیں ہیں۔
روایتی اتحادیوں نے امریکہ کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور ـ بالخصوص ماحولیاتی ـ المیوں سے نمٹنے میں بےبسی، منطقی اور دوراندیشانہ سیاست کے اعلان سے عاجزی کی وجہ سے وہ طاقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے جو امریکہ کے لئے سرمایہ حیات تھی۔ جارج آرول (George Orwell) لکھتے ہیں: “ایک معاشرہ اس وقت مطلق العنان ہوجاتا ہے جس کا ڈھانچہ بری طرح مصنوعی بن جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب اس معاشرے کا حکمران طبقہ اپنی کارکردگی کھو بیٹھتا ہے لیکن طاقت اور دھاندلی اور حیلہ گری اور مکاری کے ذریعے اقتدار پر براجماں رہتا ہے”۔ ہماری اشرافیہ ـ عرصہ ہوا کہ ـ دھوکہ دہی اور مکاری میں اپنی انتہا تک پہنچ چکی ہے اور طاقت کا استعمال وہ واحد ذریعہ ہے جو ان کے ہاتھ میں باقی ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ زخمی جانور ہے جو سکرات موت (death throes) کی حالت میں دھاڑ رہا ہے اور ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ یہ ملک اپنے آپ کو بہت بڑے نقصانات پہنچا سکتا ہے لیکن وہ ان نقصانات اور اپنے اوپر لگے زخموں سے صحت یاب نہیں ہوسکتا۔ یہ امریکی سلطنت کے اذیت ناک آخری ایام ہیں۔
مہلک ضرب تب اس کے پیکر پر لگے گی جب ڈالر عالمی زر مبادلہ کے طور پر زوال پذیر ہوگا، اور ڈالر کے زوال کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ ڈالر کی تیزرفتار زوال پذیری شدید ترین کساد بازاری کا سبب فراہم کرے گی اور یہ کساد بازاری امریکہ کی بیرون ملک فوجی موجودگی کے فوری انقباض اور سکڑاؤ (contraction) کا تقاضا کرے گی۔
سیتھ اے کلیرمین (Seth Andrew Klarman) احتیاطی امدادی فنڈ ” باو پوسٹ گروپ” (Baupost Group) کے منتظم ہیں اور ان کا ادارہ ۲۷ ارب ڈالر کا مالک ہے؛ انھوں نے حال میں گریہ و زاری سے بھرپور ۲۲ صفحات پر مشتمل خط لکھ کر اپنے سرمایہ کاروں کے لئے بھجوا دیا ہے۔ انھوں نے اپنے خط میں اشارہ کیا ہے کہ ملک کے حکومتی قرضہ جات کی شرح سنہ ۲۰۰۸ع‍ سے سنہ ۲۰۱۷ع‍ تک، مجموعی ملکی پیداوار ۱۰۰ فیصد سے تجاوز کرچکی ہے اور یہ شرح کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور اسپین کی شرح کے قریب پہنچ چکی ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ قرضوں کا یہ بحران اگلے مالیاتی بحران کے لئے “بیج” کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ عالمی سطح پر “سماجی پیوستگی” (social cohesion) کے بکھراؤ کو مسترد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “احتجاجات، بغاوتوں، اور بڑھتی ہوئی سماجی کشیدگیوں کے بیچ کاروبار ہمیشہ کی طرح جاری نہیں رہ سکتا”۔
انھوں نے مزید لکھا ہے: “کوئی بھی ایسا راستہ نہیں ہے جس سے اس حقیقت کا صحیح اندازہ لگایا جاسکے کہ قرضوں کی مقدار کس قدر بڑھ چکی ہے، لیکن یہ طے ہے کہ امریکہ افراط زر کے نقطے تک پہنچ جائے گا جس میں قرضوں کی منڈی ہمیشہ سے زیادہ بدگمان ہوگی، کیونکہ ہمیں ایسی شرح سود پر قرضہ نہیں دیا جائے گا جس کی ادائیگی سے ہم عہدہ برآ ہوسکیں۔ جس وقت اس قسم کا بحران ظہور پذیر ہوگا، تو امکان یہ ہے کہ ہم اپنے گھر کے حالات سنوارنے میں کافی دیر کرچکے ہوں اور یہ گھر [ملک] سنبھالنا بھی دشوار ہوچکا ہوگا”۔
حکمران اشرافیہ عنقریب رونما ہونے والے مالیاتی بحران سے فکرمند ہوکر قانون کی مشکل اور سختگیرانہ روشوں کو نافذ کرنا چاہتے ہیں، تا کہ اس مسئلے کا سد باب کرسکیں جو ان کے خیال میں عمومی بےچینی کا سبب بن سکتا ہے؛ وہ اسی واقعے کا راستہ روکنا چاہتے ہیں جس کی ابتدائی صورت امریکی اساتذہ کی ہڑتالوں اور فرانسیسی پیلی واسکٹوں والوں کے احتجاج میں دکھائی دے رہی ہے۔
نولبرالیت (Neo-liberalism) وہ نظریہ ہے جس کو حکمران اشرافیہ تسلیم کرتی ہے، لیکن یہ نظریہ سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں کے ایک طبقے کے اندر غیر معتبر ہوچکا ہے۔ یہ صورت حال معاشرے کی اشرافیہ کو مجبور کررہی ہے کہ نوفسطائیوں (neo-fascists) ـ کے ساتھ ـ جن کی قیادت دائیں بازو کے قدامت پسندوں کے ہاتھ میں ہے ـ ناخوشایند اتحاد قائم کریں۔ یہ عیسائی شدہ فسطائیت (Christianized fascism) وسیع سطح پر ٹرمپ کے پیدا کردہ اعتقادی خلا کو پر کررہی ہے۔ یہ آئیڈیالوجی ـ نائب صدر مائیک پینس (Mike Pence)، وزیر خارجہ مائیک پامپیو (Mike Pompeo)، ٹرمپ کے نامزد کردہ سپریم کورٹ کے ایسوسی ایٹ جسٹس بریٹ کاوانو (Brett Kavanaugh) اور وزیر تعلیم بیٹسی ڈیواس (Betsy DeVoss) جیسے چہروں میں ـ مجسم ہوچکی ہے۔
جس وقت معیشت بحران سے دوچار ہورہی ہوتی ہے، جو چیز نہایت زہریلے انداز سے ابھر کر سامنے آتی ہے یہ ہے کہ یہ عیسائی فسطائیت معاشرے میں سے ـ انجیل کی تحریف شدہ اور بدعت آمیز تفسیر کی بنیاد پر، ـ مسلمانوں، پناہ گزینوں، فنکاروں اور دانشوروں کا قلع قمع کرتے ہوئے سرخ فام امریکیوں، اور نادار غیر سفید فام باشندوں میں سے چنے گئے “مجرموں” ـ کا صفایا کرنے نکلے گی ان پر سماجی جرائم پیشگی کا الزام لگائے گی، بہت سے جرائم کے لئے سزائے موت کو لازمی قرار دے گی۔ تعلیم و تربیت کا شعبہ، تاریخ سے سفید فاموں کی بالادستانہ تصور، دماغ شوئی (Brainwashing) یا ذہنی طرح بندی (intelligent design آفرینش ہوشمند یا ذہنی نمونہ سازی) کے تحت قرار پائے گا۔ جدید امریکہ کے مقدس ہڑوار کے سورما انیسویں صدی کی امریکی خانہ جنگی میں شمالی ورجنیا کے کمانڈر جنرل رابرٹ ای۔ لی (Robert Edward Lee)، سنہ ۱۹۵۰ع‍ کے عشرے کے امریکی سینیٹر جوزف آر۔ مکارتھی (Joseph Raymond McCarthy) اور سنہ ۱۹۶۹ع‍ سے سنہ ۱۹۷۴ع‍ تک امریکی صدر رہ کر واٹر گیٹ کی رسوائی کے نتیجے میں استعفا دینے والے صدر رچرڈ ایم۔ نکسن (Richard Milhous Nixon) جیسے لوگ ہونگے اور ریاست و حکومت سفید فام اکثریت کو مظلوم اور ہمیشہ نشانہ بننے والے طبقے کے طور پر نمایاں کرے گی۔
عیسائی فسطائیت مطلق العنانیت کی تمام دوسری اشکال کی طرح اپنے آپ کو ایک قے آور تقویٰ، امید افزا اخلاقی نیز جسمانی تجدید کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرے گی۔ ثقافتی زوال جنسی جنون، ننگے تشدد اور افیونی دواؤں اور شراب نوشی کی لت، خودکشی، جوابازی وغیرہ کی عادت و آفت میں مبتلا فردی نااہلی کی تکریم و تعظیم اور ان مسائل کے ساتھ ساتھ سماجی افراتفری اور انارکی اور سرکار کی نااہلی، ایک “مسیحی تقویٰ” کی طرف پلٹنے کی عیسائی فسطائیوں کے وعدے کو معتبر بنائے گی اور اس تقویٰ کے ذریعے تمام شہری اور شہریتی آزادیوں کو چھین لیا جائے گا۔
ہر مطلق العنان عقیدے کے وسط میں ایک دائمی [اعتقادی] چھان بین کا ادارہ بھی ہوتا ہے جو ان مبینہ خفیہ اور شرانگیز گروپوں کے خلاف سرگرم عمل ہوتا ہے جنہیں ملک کے انحطاط و زوال کا ملزم ٹہرایا جاتا ہے۔ نظریاتِ سازش (Conspiracy theories) ـ جنہوں نے مسٹر ٹرمپ کے نظریۂ کائنات کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے ـ کو مسلسل جنم دیا جاتا رہے گا۔ حکمرانوں کے نعرے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیں گے اور پارہ پارہ ہونے کا یہ عمل انفرادیت پسندی (individualism) اور فردی آزادی کی حمایت سے ان لوگوں کی اطاعت محض تک جو خدا اور قوم کی طرف سے بولتے ہیں؛ زندگی کے تقدس سے لے کر سزائے موت، پولیس تشدد اور بےلگام اور لامحدود عسکریت پسندی کی حمایت تک؛ شفقت و محبت سے ایک غدار اور بدعت گذار کا الزام لگنے کے خوف تک، جاری رہے گا۔ ایک قسم کی انتہاپسندانہ اور خوفناک مردشاہی کی تکریم کی جائے گی۔ تشدد، معاشرے اور دنیا کو “شر اور شیطان” سے بچانے کے وسیلے کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ عینی حقائق کو نیست و نابود یا تبدیل کیا جائے گا۔ جھوٹ کو حقیقت کا روپ دیا جائے گا۔ شناختی عدم آہنگی سیاسی زبان میں تبدیل ہوجائے گی۔ ملک جتنا زیادہ انحطاط و زوال کا شکار ہوگا اجتماعی مالیخولیا اور دماغی خلل کو زیادہ نشوونما ملے گی۔ یہ تمام چیزیں مختلف اشکال میں ہماری شکست خوردہ ثقافت اور دیوالیہ جمہوریت کے اندر موجود ہیں۔ ملک کی نئی کیفیت جس قدر ابھر کر سامنے آتی رہے گی اور مطلق العنانیت کا مرض جتنا پھیلتا رہے گا، یہ عناصر زیادہ سے زیادہ نمایاں ہونگے۔
مقتدر طبقے کے اراکین (oligarchs) تمام تر ناکام حکومتوں کی طرح اپنی مورچہ بند عمارتوں اور املاک کی طرف پسپا ہوجائیں گے، ان میں سے بہت سے تو ابھی سے اس کی تیاری کررہے ہیں، وہ ایسی جگہ پناہ لیں گے جہاں بنیادی خدمات، علاج معالجے کی سہولیات، تعلیم، پانی، بجلی اور سلامتی ـ جن کا عمومی معاشرے میں فقدان ہے ـ تک رسائی ممکن ہوگی۔ مرکزی حکومت کا کردار اپنے انتہائی بنیادی فرائض ـ یعنی اندرونی و بیرونی سلامتی اور ٹیکس جمع کرنے کی حد تک ـ محدود ہوجائیں گے۔ شدید غربت زیادہ تر شہریوں کی زندگی کو مفلوج کرکے رکھے گی؛ تمام تر خدمات ـ جو کسی وقت حکومت کی طرف سے فراہم کی جاتی تھیں، جیسے پانی، بجلی اور گیس سے لے کر ابتدائی امن و امان کی فراہمی کا کام ـ نجی اداروں کو سونپ دیا جائے گا اور یہ خدمات ان لوگوں کے لئے بہت زیادہ مہنگی پڑیں گی جو ضروری وسائل سے محروم اور غریب و نادار ہیں۔ سڑکوں پر گندگی کے ڈھیر پڑے رہیں گے، جرائم کی شرح دھماکہ خیز حد تک بڑھ جائے گی۔ بجلی کا فرسودہ نیٹ ورک اور پانی کی فراہمی کا نظام ـ کمپنیوں کی کمزور اور ناقص کارگردگی کی وجہ سے ـ مسلسل منقطع اور متصل ہوتا رہے گا۔
ذرائع ابلاغ ننگے اور بےپردہ انداز میں جارج آرول کی فضا میں تبدیل ہوجائیں گے اور ایک روشن مستقبل کی لامتناہی تشہیر میں مصروف ہوجائیں گے اور یوں ظاہر کریں گے کہ گویا امریکہ ہنوز ایک بڑی طاقت ہے۔ سیاسی پروپیگنڈا خبروں کی جگہ لے لے گا ــ ایسی برائی جو اسی وقت بھی نہایت تیزی سے پھیل چکی ہے ـ جبکہ یہ ذرائع اصرار کررہے ہیں کہ ملکی معیشت بہتری کے دور سے گذر رہی ہے، یا پھر بہتری کے مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔
یہ ذرائع ابلاغ گہرائی کی طرف جانے والی سماجی ناانصافی اور عدم مساوات، سیاسی اور ماحولیاتی ابتری اور فوجی ہزیمتوں کے بارے میں کچھ کہنے لکھنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی کردار توہمات کو ہوا دینے سے عبارت ہے اور مقصد چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے اپنے برقی وسائل کے اسکرینوں پر نظریں جما‏ئے معاشرے کی توجہ اس کے قریب الوقوع زوال سے منحرف کرنا ہے تا کہ وہ اپنی حالت زار کو اجتماعی نہیں بلکہ شخصی مسئلہ سمجھیں؛ جبکہ ناقدین کو اس زوال کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا اور ان کی تنقید کو شدت سے سینسر (censor) کیا جائے گا۔ منافرت پھیلانے والے گروپ وسیع سطح پر سرگرم ہوں گے اور منافرت کا سبب بننے والے جرائم میں شدت آئے گی اور حکومت کی چشم پوشی کی وجہ سے ان گروپوں اور ان کے جرائم کو ضمنی طور پر تقویت ملے گی۔ اجتماعی فائرنگ کے واقعات رائج الوقت معمول بن جائیں گے۔ کمزور طبقات ـ منجملہ بچوں، عورتوں، معذوروں، مریضوں اور بوڑھوں ـ کا استحصال کیا جائے گا، اپنے حال پر چھوڑا جائے گا یا ان سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے گا۔ جن کے پاس طاقت ہے وہ قادر مطلق کا روپ دھار لیں گے۔
پیسہ ـ لوٹ کھسوٹ کے لئے ـ بدستور موجود ہوگا۔ کمپنیاں ہر چیز کو منافع کمانے کے لئے بیچ دیں گی۔ بدامنی میں بدلتی ہوا امن، قلت کا شکار اشیائے خورد و نوش، رکازی ایندھن (fossil fuel)، پانی، بجلی، تعلیم، طبی دیکھ بھال اور نقل و حمل، کے لئے، امریکی شہری مجبور ہونگے کہ ایسے قرضوں کے غلام بن جائیں جن کی ادائیگی ممکن نہ ہوگی اور جب ادائیگیوں سے عاجز آئیں گے تو ان کے ناچیز سرمایوں کو ضبط کیا جائے گا۔
ہمارے ملک میں قیدیوں کی تعداد، دنیا بھر کے ممالک میں سب سے زیادہ ہے اور اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا اور ان شہریوں کی تعداد میں شدید اضافہ ہوگا جن کو ۲۴ گھنٹے الیکٹرانک مانیٹر پہننا پڑیں گے۔ بڑی کمپنیاں کسی قسم کا محصُول آمدنی (income tax) ادا نہیں کریں گی یا بہترین حالت میں صرف علامتی ٹیکس ادا کریں گی۔ وہ قانون سے بالاتر ہونگے اور ان کے پاس مزدوروں کے استحصال کا امکان میسر ہوگا جو کام کے عوض تھوڑی سے اجرت لینے پر مجبور ہونگے، وہ ماحولیات میں زہر بھر لیں گے اور ان کے کام پر کوئی نظارت اور نگرانی نہیں ہوگی۔
آمدنیوں میں عدم مساوات کا سلسلہ جاری رہے گا، مبلغ ۱۴۰ ارب ڈالر دولت کے مالک جیف بیزوس (Jeffrey Preston Bezos) سمیت دیگر مالیاتی دیو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جدید بردہ داروں (Modern Slaveholders) کی صورت اختیار کررہے ہیں۔ وہ بڑی مالیاتی سلطنتوں پر زعامت کریں گے، جہاں محروم مزدور چلتے ٹریلروں اور گاڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ دن کے ۱۲ گھنٹے وسیع و عریض اور مناسب ہواداری (ventilation) سے محروم گوداموں میں محنت و مشقت میں مصروف رہتے ہیں۔ ان مزدوروں کو زندگی گذارنے کے لئے کم از کم اجرت دی جاتی ہے اور ہر وقت رازدارانہ سماعت کی ڈیجیٹل آلات کے ذریعے ان کی رفت و آمد اور اٹھک بیٹھک کی نگرانی کی جاتی ہے؛ جب ناقابل برداشت مشقت ـ اور مسلسل جانکنی کی کیفیت ـ ان کی صحت اور سلامتی کو چھین لے گی تو انہیں برخاست کیا جائے گا۔ آمازون (Amazon) کے بہت سے کارکنوں کے لئے یہ کَل آج ہی ہے اور وہ عنقریب بےروزگار ہوجائیں گے۔
کام کاج سب کے لئے ـ خاص طور پر بالادست اشرافیہ اور بااختیار مینجروں کے لئے ـ غلامی اور بردہ داری کی شکل میں تبدیل ہوجائے گا [اور اس کے ذریعے محنت کشوں کو رعایا اور غلام بنایا جائے گا]۔ پروفیسر جیفری پففر (Jeffrey Pfeffer) اپنی کتاب “تنخواہ کے ایک چیک کے لئے جان کی بازی لگانا: جدید امریکی انتظام کیونکر مزدوروں کی صحت اور کمپنیوں کی کارکردگی کے لئے نقصان دہ ہے — اور ہم اس کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟” (۱) ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: “۶۱ فیصد مزدوروں اور کارکنوں نے کہا ہے کہ ان کے کام کے مقام پر موجود شدید دباؤ نے انہیں بیمار کردیا ہے اور ۷ فیصد نے کہا ہے کہ انہیں اسی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونا پڑا ہے”۔ پففر لکھتے ہیں کہ جائے کار کا شدید دباؤ امریکہ میں سالانہ ۱۲۰۰۰۰ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ چین میں شدید مشقت سے سالانہ مرنے والوں کی تعداد ۱۰ لاکھ تک ہے۔
یہ وہ دنیا ہے جو اشرافیہ نے قانونی طریقہ کار وضع کرکے اور امن نافذ کرنے والے اندرونی اداروں کی نفری تعینات کرکے ہماری آزادیاں چھیننے کے لئے پر تول رہی ہے۔
ہمیں بھی اس ناکام اور دیوالیہ ریاست (Dystopia) کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے، محض اپنی بقاء کی خاطر نہیں بلکہ ایسا طریقہ کار بنانے کے لئے کہ اس مطلق العنان اور بےلگام طاقت کا راستہ روکیں اور اس کو گرا دیں جسے متوقعہ طور پر مقتدر اشرافیہ استعمال میں لانا چاہی ہے۔ روسی لکھاری الیگزینڈر ہرزن (Alexander Herzen) نے ۱۰۰ سال قبل انارکیوں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے زار روس (Russian czar) کا تختہ الٹنے کی کیفیت کے بارے میں اپنے سامعین کو یاددہانی کرائی تھی کہ “تمہارا کام ایک مرتے ہوئے نظام کو نجات دلانا نہیں بلکہ اس کا متبادل لانا ہے؛ ہم ڈاکٹر نہیں ہیں بلکہ ہم مرض ہیں”، امریکہ کے موجودہ نظام کی اصلاح کی ہر کوشش دباؤ قبول کرکے، ہتھیار ڈال کر اطاعت گذاری قبول کرنے کے زمرے میں آتی ہے اور امریکی نظام کی اصلاح کے لئے ہونے والی تمام تر کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے اندر کوئی بھی ترقی پسند شخص پرچم اٹھانے، اس جماعت کا کنٹرول ہاتھ میں لینے اور ہمیں نجات دلانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ امریکہ میں صرف ایک حکمران جماعت ہے جو کہ کمپنیوں کی جماعت (corporate party) ہے۔ یہ جماعت ایک تنگ نظرانہ جنگ میں دونوں متنازعہ فریقوں کی نابودی کے اسباب فراہم کرسکتی ہے، جیسا کہ اس نے حالیہ حکومتی بندش کے دوران کرکے دکھایا۔ یہ جماعت اقتدار کے حصول کے لئے تنازعہ کھڑا کرسکتی ہے اور طاقت کو نیست و نابود کرسکتی ہے۔ یہ جماعت ایک [بظاہر] روادارانہ موقف اپنا کر حقوق نسوان، ۔۔۔ اور غیر سفید فام باشندوں کی سماجی حیثیت کی وکالت کار کے طور بھی ظاہر ہوسکتی ہے لیکن جنگ، اندرونی سلامتی اور کمپنیوں کی حکمرانی جیسے بنیادی مسائل کے سلسلے میں کسی قسم کی دو رائیں نہیں ہیں۔
ہمیں کمپنیوں کی طاقت کو کمزور کرنے کے لئے ایک منظم ترک موالات (civil disobedience) اور عدم تعاون کی بعض صورتوں پر عملدرآمد کرنا چاہئے۔ ہمیں فرانس میں جاری صورت حال کی طرح، وسیع اور مسلسل بےچینی پھیلا کر اپنے کمپنی کے مالک آقاؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کرنا پڑے گا۔ ہمیں مستقل اور پائیدار اجتماعات (communities) قائم کرکے کمپنیوں کا سہارا لینے سے پرہیز کرنا پڑے گا۔ ہم جس قدر کمپنیوں کے کم محتاج ہونگے اتنے ہی آزاد ہونگے۔
یہ باتیں ہماری زندگی کے تمام شعبوں میں پائی جاتی ہیں، اشیائے خورد و نوش کی پیداوار میں، تعلیم میں، صحافت میں، بیان اور فنکارانہ سرگرمیوں میں۔ زندگی کو سماجی اور اجتماعی ہونا چاہئے کیونکہ حکمران بھنیوں کے سوا کسی کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ تنہا جیئے اور زندہ رہے۔
ہم جس قدر ظاہرداری کریں گے اور تجاہل عارفانہ سے کام لے کر دعوی کریں گے کہ یہ ناکام، دیوالیہ اور خوفناک دنیا ہم سے دور ہے، اتنے ہی زیادہ غیر مستعد، غیر آمادہ، کمزور اور بےبس ہوجائیں گے۔ حکمران اشرافیہ کا اصل مقصد ہی ہمیں مصروف، خوفزدہ اور منفعل (passive) رکھنا ہے؛ جبکہ یہ حکمران اس اندھیری حقیقت کی زمین میں [ہمیں] کچلنے کے لئے دہشت ناک ڈھانچے تیار کررہے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ طاقت کو طاقت کے خلاف استعمال کریں، اپنی طاقت کو ان کی طاقت کے خلاف۔ ہم حتی اگر وسیع تر ثقافت کو تبدیل نہ بھی کرسکیں، یقینی طور پر اپنا بوجھ خود اٹھانے والے اور اپنے آپ کو پائیدار رکھنے والے حلقوں کی تخلیق کرسکتے ہیں، ایسے حلقے جن کے اندر ہم زیادہ سے زیادہ آزادی سے بہرہ ور ہوں۔
ہم دو طرفہ تعاون کی بنیاد پر ـ نہ کہ دو طرفہ [یا یکطرفہ] استحصال کی بنیاد پر ـ چھوٹی چھٹی چنگاریوں کو محفوظ کریں اور جو کچھ ہمیں درپیش ہے، اس میں یہی بھی ایک کامیابی ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: کرس ہیجز Chris Hedges (Christopher Lynn Hedges) ۔۔۔ کرس ہیجز امریکی صحافی، پریسبیٹیریَن کلیسا میں خادم دین اور پرنسٹن یونیورسٹی کے جزو وقتی استاد ہیں۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

انگریزی مضمون کا لنک: yon.ir/kM7tO
فارسی ترجمے کا لنک: http://fna.ir/brdzkw
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱٫ Dying for a Paycheck: How Modern Management Harms Employee Health and Company Performance—and What We Can Do About It?

 

شام میں صہیونی حکومت کی اسٹراٹیجی

  • ۱۶۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: شام سے امریکہ و اسرائیل کا ایک پرانا اختلاف رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس تنازعہ و اختلاف کی وجہ کیا ہے؟ شام مشرقی بلاک کے ٹوٹنے سے قبل سوویت یونین کے حلیفوں اور متحدوں میں شمار ہوتا تھا، لیکن سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد جب دنیا ایک قطبی ہو گئی تو امریکہ نے کوشش کی کہ شام کو علاقے میں اپنے متحدین میں شامل کر لے، لیکن اس درمیان جدید روس کے ساتھ ہم پیمان ہونے سے ہٹ کر ایران و عراق کے مابین آٹھ سالہ جنگ میں عراق کے ساتھ اختلاف کی بنیاد پر شام، ایران کو اسلحوں کے ذریعہ امداد پہونچاتا رہا اور یہ بات ایران کی امریکہ سے دشمنی کے چلتے امریکہ کو پسند نہ آئی، البتہ یہ وہ باتیں ہیں جو صہیونی حکومت کے بارے میں امریکہ و شام کے ما بین اختلافات سے ہٹ کر ہیں ۔
شام اور اسرائیل کے ما بین اختلافات کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ صہیونی حکومت کی امریکہ و برطانیہ کی حمایت میں تشکیل کے بعد، شام بھی دیگر عربی ممالک کی طرح جہان عرب کی قیادت کے دعوے کے پیش نظر اسرائیل کے ساتھ شدید مخالفت کرنا شروع کر دیتا ہے، صہیونی حکومت اور شام کے ما بین اختلافات جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضہ سے اور بھی شدید ہو جاتے ہیں اور یہ اختلافات صیہونی حکومت اور شام کے ما بین خطے میں ایک دائمی مشکل میں ڈھل جاتے ہیں۔ مغربی ایشیاء میں بہار عربی کے شروع ہونے کے ساتھ شام میں بھی داخلی طور پر جنگ چھڑ جاتی ہے اور شام داخلی خانہ جنگی کا شکار ہو جاتا ہے، اور داعش کے اس جنگ میں کود پڑنے کے بعد حالات نہ صرف شام کے لئے بلکہ پورے خطے اور خاص کر امریکہ و اسرائیل کے لئے تشویشناک ہو جاتے ہیں، باوجودیکہ داعش اسرائیل و امریکہ کے ذریعہ وجود میں آتی ہے اور انہیں کے اہداف و مقاصد کی تکمیل کے لئے اسے علاقے میں کھڑا کیا جاتا ہے لیکن آہستہ آہستہ وقت کے گزرنے کے ساتھ یہ انکے کنڑول سے نکل جاتی ہے ۔
اس لحاظ سے کہ شام کی علاقے میں ایک اسٹراٹیجک حیثیت ہے، یہ تمام آشوب و مارکاٹ اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ ترکی، روس، ایران اور عراق جیسے ہم پیمان اور پڑوسی ملک راست طور پر فوجی مداخلت کرنا شروع کر دیں اور یہ مداخلت شروع بھی ہو جاتی ہے، اگرچہ فی الوقت داعش تیزی کے ساتھ کمزور پڑ رہی ہے اور اسد رجیم نے اپنی کھوئی ہوئی پاور اپنے حامیوں کی مدد سے دوبارہ حاصل کر لی ہے لیکن اسکے باوجود ،یہ مذکورہ ممالک حکومت مخالف عناصر اور داعش اور دیگر تکفیری گروہوں کے بچے کچے لوگوں سے مقابلہ آرائی میں مشغول ہیں، اور یہ مسئلہ اس بات کا سبب بنا ہے کہ حالات و شرائط چنداں اسرائیل و اسکے متحدین کے حق میں نہ ہوں ۔
اسرائیل کے وزیر دفاع موشہ یعلون کا ماننا ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے احتمالی نتائج تین حالتوں سے باہر نہیں ہیں ، ۱۔ بشار اسد کی کامیابی، ۲۔ بشار اسد کے مخالف دھڑے اور شدت پسندوں کی کامیابی، ۳۔ شام کی ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا ہر صورت میں اسرائیل کو نقصان اٹھانا پڑے گا، اگر اسد کو کامیابی نصیب ہوتی ہے تو نئی حکومت ہر وقت سے زیادہ موجودہ حالات میں خود کو ایران کا مقروض تسلیم کرے گی ، اور شدت پسند و افراطی گروپس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتاکہ انکا موقف کیا ہوگا ؟ اگر شام کے ٹکڑے ہوتے ہیں تو بھی کلی طور پر دو حصے ہونا نا گزیر ہیں۔ ۱۔ افراطی و شدت پسند ۲۔ ایران کا طرفدار ، چاہے شام ٹوٹنے کے بعد شدت پسندوں کے ہاتھوں جائے یا ایران کی طرف جھکاو رکھے دونوں ہی صورتوں میں اسرائیل ہی کو نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ لہذا اسرائیل کی کوشش ہے کہ اس جنگ میں سنجیدہ طور پر حصہ نہ لے، لیکن چونکہ وہ حزب اللہ، اور ایران کی شام میں سرگرمیوں کو لیکر لاتعلق نہیں رہ سکتا ،اسی لئے وقتا فوقتا شام میں موجود ایران اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا رہتا ہے لیکن خیال رکھتا ہے کہ یہ حملے محدود پیمانے پر اس طرح ہوں کہ اسرائیل پر حملے کا سبب نہ بنیں، اور ایران و اسرائیل کے ما بین ڈائریک جنگ کے احتمال کو کم سے کم پر پہنچایا جا سکے ، ان تمام باتوں کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ اس تنازعہ میں اسرائیل ۴بڑے اہداف کو لیکر چل رہا ہے ۔
۱۔ ایران کو کنڑول کرنا اور ایرانی اسلحوں کو لبنان کی حزب اللہ ملیشیا اور فلسطین کے مزاحمتی محاذ تک پہنچنے سے روکنا
۳۳ روزہ لبنان کی جنگ اور ۲۲ روزہ غزہ میں اسرائیل کی بری طرح شکست ، صہیونی حکومت کے طاقت کے غرور کے ٹوٹنے اور علاقے میں اسکے جعلی شان و شوکت کے محل کے زمیں بوس ہونے کے علاوہ اس بات کا سبب بھی ہوئی کہ جنگ کا دائرہ اسرائیلی شہروں تک کھنچتا چلا جائے، یہ بات سبب بنی کہ یہ لوگ شیعت کے ہلال کے خطر ے کی طرف متوجہ ہوں اور اسی بنا پر شام ایک غیر معمولی رول ادا کرنے کے سبب انکی توجہات کا مرکز بنا ، یہی سبب ہے کہ اسرائیل اور اسکے متحدین و حلیفوں نے مزاحمتی محاذ کو الگ تھلک کرنے کے لئے اور ایران کو علاقے میں تنہا کرنے کے لئے داعش کی داغ بیل ڈالی ، لیکن یہ لوگ نہیں جانتے تھے انکا یہ کام انکے گلے کی ہڈی بن جائے گا اور علاقے میں ایران اور مزاحمتی محاذ کے مزید اثر و رسوخ کے پھیلنے کا سبب بنے گا ، اور یہی ہوا داعش کی شکست کے بعد شام میں ایران کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا اور مزاحمتی محاذ تک اسلحوں کا پہنچانا اور بھی آسان ہوتا چلا گیا اور عسکری سازو سامان و اسلحوں کی ترسیل مزید آسانی کے ساتھ انجام ہوتی گئی، اسکے علاو ہ ایران اسرائیل کے ساتھ مشترکہ محاذ و سرحد کا حامل ہو گیا، اور یہ وہ چیز تھی جو اسرائیل کے شدید اضطراب کا سبب تھی ، اس لئے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کے شمالی شہروں پر حملوں کا امکان فراہم ہو گیا ہے اور ایران آسانی کے ساتھ اسرائیل پر اپنا شکنجہ کس سکتا ہے اور اسرائیل پر دباو بنانے کے ساتھ اسرائیل کے احتمالی حملوں کے سلسلہ سے ایک دفاعی رول ادا کر سکتا ہے ، اور اپنی عسکری طاقت کے بل پر اسرائیلی حملوں کو روکنے کا سبب بن سکتا ہے ۔
۲۔روس کے سیاسی اور عسکری نفوذ و اثر کو کم سے کم کرنا
شام میں روس کی عسکری موجودگی کا ایک سبب “طرطوس “کی بندرگاہ ہے ایسی بندرگاہ جو کہ مدتوں پہلے سے ہی روسی بحریہ کے اس ملک کے ساحلوں پر موجودگی کا ضامن ہے ، دوسرا سبب روس اور امریکہ کے درمیان اختلاف کا پایا جانا ہے ، امریکہ دنیا میں یک قطبی نظام کا خواہاں ہےاور اسی سبب مغربی ایشیاء کے مسائل میں دخالت کرنے کے لئے اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ، اور بغیر روک ٹوک وہ جہاں چاہتا ہے دخالت کرتا ہے اسکے مقابل روس نے علاقے میں امریکہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے مقصد کے تحت اپنے ہم نواوں و ہم پیمانوں یعنی ایران اور شام کے ساتھ تعاون کی حکمت عملی اختیار کی ہے ۔
روس کا شام میں عسکری وجود اسرائیل کے لئے شدید طور پر سر درد کا سبب ہے ، کیونکہ روس، ایران اور حزب اللہ کی جانب سے اسد حکومت کی حمایتوں کا تسلسل اسد کی حکومت کی کامیابی اور شام میں ایک شیعہ طاقت کے اقتدار میں آنے کا سبب ہوگا، وہ بھی ایسی حکومت جو شدید طور پر اسرائیلی حکومت کے خلاف ہے ۔
دوسری طرف اسرائیل نہیں چاہتا کہ حزب اللہ یاخونت جیسے اینٹی کشتی کروز میزائل اور پی ۸۰۰ جیسے اینٹی طیارہ میزائل سے لیس ہو جسے روس نے اسد کی فوج کو دے رکھا ہے، اسی طرح صہیونی حکومت کی کوشش ہے کہ عسکری سازو سامان و اسلحے حزب اللہ تک نہ پہنچ سکیں، اور ان سب کے درمیان روسی افواج کی شام میں موجودگی نے اسرائیل سے آزادی عمل کو سلب کر رکھا ہے، اس لئے کہ اسرائیل کے ممکنہ اقدامات جان بوجھ کر یا بھولے بھٹکے روسی افواج سے سیدھی مڈبھیڑ کا سبب بن سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ۲۴ نومبر ۲۰۱۵ء میں نیتن یاہو نے روس کا سفر کیا تاکہ ایک فضائی، بحری اور مقناطیسی معاہدہ کرکے راست طور پر آپسی مڈبھیڑ سے پرہیز کیا جاسکے، اس لئے کہ روس کے موقف اور اسکے فیصلوں میں تبدیلی کو لیکر اسرائیلی وزیر اعظم کے بس میں کچھ بھی نہیں ہے ۔
 ۳ ۔اسد کی متزلزل حکومت کی ایک نسبی حمایت
اسرائیل کے سامنے موجودہ راہ حلوں میں ایک یہ ہے کہ اسد رجیم کی مخالفت کے ساتھ اس حکومت کے گرنے سے ممانعت کی جائے اور ایسا کچھ نہ ہو کہ یہ رجیم سقوط کر جائے، اس لئے کہ اسکے گرتے ہی یہ علاقہ بری طرح نا امن ہو جائے گا اور اسرائیل پر حملہ کا احتمال زیادہ ہو جائے گا ، دوسرے الفاط میں کہا جا سکتا ہے کہ اسد اور ایران کی فورسزکے بارے میں تو تخمینہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں لیکن تکفیری و سلفی عناصر کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتاہے کہ وہ کیا کر بیٹھیں ۔ البتہ اس حمایت کا مطلب اسد رجیم سے موافق ہونا یا ااسکی حمایت کرنا نہیں ہے ۔
بلکہ یہ اس لئے ہے کہ وہاں پر خانہ جنگی چلتی رہے کیونکہ اسد کی فورسز اور تکفیریوں یا اسد مخالف فورسز کے بارے میں جنگ و لڑائی اس بات کا سبب ہوگی کہ مشرق وسطی میں اسرائیل توجہات کے مرکزیت سے خارج ہو جائے گا اور اسکا تحفظ یقینی ہو جائے گا ۔
۴۔ جولان کی پہاڑیوں کے سلسلہ سے شام کے دعوے کی قانونی حیثیت کو بے دم کرنا
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا شام میں داخلی جنگ کے شروع ہونے سے پہلے اسد اور اسرائیل کی فورسز جولان کی پہاڑیوں پر ایک دوسرے سے بر سر پیکار تھیں ،ایک جنگ کو چھیڑنا اور اسد کے مخالفوں کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا ذکر شدہ باتوں کے علاوہ ایک ایسا بہانہ تھا کہ شامی فورسز اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے جولان کی پہاڑیوں کو چھوڑ دیں اور اسرائیل کی سرحدیں پر سکون و محفوظ ہو جائیں [۱]۔
حاصل کلام
جو کچھ ہم نے بیان کیا اسکی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے پاس ایران اور مزاحمتی محاذ سے مقابلہ کے لئے بہت زیادہ آپشنز نہیں بچے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی کوشش ہے کہ ایران کے دشمنوں جیسے سعودی عرب کے ساتھ مشرکہ تعاون کو بڑھا کر اور شمالی سپر جیسے آپریشنز کو انجام دے کر مزاحمتی محاذ اور ایران کی شام میں دخالت کو کم کرے اور دوسری طرف اسد مخالف گروہوں کو اسلحوں ، خفیہ معلومات ، اور فوجی تربیت وغیرہ کی فراہمی کے ذریعہ شام کی داخلی جنگ کی آگ کو بھڑکائے رکھا جا سکے [۲] البتہ یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اسرائیل سے ایران و لبنان کی جنگ کا احتمال موجودہ شرائط میں نا ممکن نظر آتا ہے ، ایران کے اپنی داخلی معیشتی مشکلات ،اور شام میں ایک تھکا دینے والی جنگ ، نیز اقوام متحدہ میں یمن کےحوثیوں کو میزائلوں کی فراہمی کی فائل کا کھلا ہونا یہ وہ اسباب ہیں جنکے پیش نظر ایران اسرائیل کے ساتھ ایک نئی جنگ نہیں چھیڑے گا ، دوسری طرف اسرائیل بھی لبنان کی حزب اللہ کی میزائلی طاقت، اور نامنظم و گوریلا جنگوں میں حزب اللہ کی صلاحیت و طاقت کے پیش نظر نیز ، باختری وغزہ ،شام ، اور لبنان کی شکل میں موجودہ سہ رخی محاذ کی بنا پر جنگ چھیڑنا نہیں چاہے گا ، کیونکہ یہ سہ رخی محاذ خود بخود اسرائیل کی جانب سے جنگ چھیڑے جانے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا [۳]۔
[۱] ۔ موسسه رند، ترجمه: مرکز بررسی های استراتژیک ریاست جمهوری، «منافع و گزینه های اسرائیل در سوریه»، لَری هانور، ترجمه: محسن محمودی، جواد عرب یار محمدی، انتشار ۲۰۱۶م.
[۲] ۔۲۳۳۴http://theinternational.ir/west-of-asia/item/
[۳] ۔ https://iramcenter.org/fa/israels-policy-towards-hezbollah-after-the-end-of-the-syrian-war/
– فصلنامه پژوهش‌های انقلاب اسلامی، نقش قدرت‌های تاثیرگذار در بحران سوریه و تحلیل ژانوسی از منافع ملی ایران، اختیار امیری، رضا، دوست محمدی، حسین، تابستان۹۶، شماره ۲۱، ص۶۹-۴۱٫
– فصلنامه مطالعات منطقه‌ای، تاثیرات تضعیف سوریه بر امنیت اسرائیل، رابینویچ، ایتمار، ترجمه: منصور براتی، زمستان۹۵، شماره ۶۳، ص۹۴-۷۳٫
۴- فصلنامه پژوهش‌های انقلاب اسلامی، نقش قدرت‌های تاثیرگذار در بحران سوریه و تحلیل ژانوسی از منافع ملی ایران، اختیار امیری، رضا، دوست محمدی، حسین، تابستان۹۶، شماره ۲۱، ص۶۹-۴۱٫
۵- فصلنامه مطالعات منطقه‌ای، تاثیرات تضعیف سوریه بر امنیت اسرائیل، رابینویچ، ایتمار، ترجمه: منصور براتی، زمستان۹۵، شماره ۶۳، ص۹۴-۷۳٫
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تعارف کتاب’’ ۲۲روزہ جنگ‘‘

  • ۲۵۷

ترجمہ سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہ کتاب ان نوشتہ جات کے مجموعہ پر مشتمل ہے جو اسرائیل کی غزہ پر ۲۲ روزہ جارحیت کے سلسلہ سے لکھے گئے مضامین و مقالات کی شکل میں اکھٹا کئے گئے ہیں، کتاب کا مقدمہ جنگ کے کلی پہلووں جیسے صہیونی حکومت کی جنایت و تعدی، صہیونی ظلم و جنایت کا بین الاقوامی انعکاس ،غزہ کی پائداری و مزاحمت اور مظلومیت وغیرہ کو بیان کر رہا ہے ۔
ان مقالات کی کل تعداد ۱۶ عدد ہے جو اولویت و ترتیب کے اعتبار سے اس جنگ کے مختلف پہلووں کو بیان کر رہے ہیں ،” جنگ کی گونج اور اسکی شہرت” نامی مقالے میں اسرائیل کی بہانہ تراشیوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے جس میں اسرائیل کی طرف سے غزہ پر حملے کا بہانا یہ پیش کیا گیا کہ: “ہم دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے دہشت گردوں پر حملہ کر رہے ہیں” اور اس بہانے کے تحت غزہ کے بے دفاع و مظلوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ، اسکے بعد کے دوسرے مقالے میں اسرائیل کے جنگی جرائم و اسکی جنایتوں کے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پیش کئے جانے اور لوگوں کے اس سلسلہ سے سیاسی رد عمل اور ان خبروں کے بارے میں اظہار رائے کو بیان کیا گیا ہے ۔
اسکے بعد کے حصے میں  اوبامہ و بش کے فسلطین کے و غزہ کے سلسلہ سے موقف کو بیا ن کیا گیا ہے کہ فلسطین و غزہ کے سلسلہ سے انکا موقف کیا تھا  اور اسی ضمن میں یہ بھی بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مشرق وسطی کی صلح و امنیت کے بارے میں اوبامہ کا وعدہ ایک دعوے کے سوا کچھ نہیں تھا جسکا کوئی بھی نتیجہ حاصل نہ ہو سکا ، ۔
ایک اور مقالے  “اسرائیل میں حقیقت سے جدائی و علیحدگی ایک فطری و طبیعی امر ہے ” میں اسرائیل کی صبرا و شتیلا میں جنایت و بربریت کے ساتھ ۲۲ دن کی جنگ کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس علاقے میں میڈیا پر صہیونی حکومت کی پابندیوں کو بیان کیا گیا ہے ۔ آگے چل کر امریکہ میں خبروں کے سینسر کئے جانے اور امریکہ کے بلند پایہ اہلکاروں کی  جانب سے فلسطیینوں کے خلاف اختیار کئے جانے والے موقف کو بیان کرتے ہوئے امریکہ میں یہودیوں کے نفوذ و رسوخ اور امریکہ و اسرائیل کے ما بین اچھے تعلقات کو پیش کیا گیا ہے ، اور بعد کے حصہ میں ایک اسرائیلی تجزیہ کار “انتھنی کرڈزمن” کے ایک مقالے پر تبصرہ  وتنقید کی گئی ہے جو کہ ۲۲ روزہ جنگ کے سلسلہ سے لکھا گیا تھا  ۔دو اپارتھائیڈ[۱] ملکوں کی حکایت ، پاول ڈآماٹو  کے ذریعہ لکھے جانے والے مقالے کا عنوان ہے جس میں دو ملکوں کے سربراہوں کی ملاقاتوں کی کیفیت و اسکے مراحل ، ملاقات کا پس منظر اور اسکے نتائج کا تجزیہ کیا گیا ہے ، اسکے بعد کے مقالہ میں جسے نیکلانسر نے لکھا ہے  اسرائیل کو اس جنگ کے شروع کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ  کس طرح اسرائیل جھوٹ کو پھیلاتا ہے اور یورپین  سیاست مداروں نیز امریکی ساست دانوں کے اسرائیل کے حق میں اختیار کئے جانے والے موقف کو بیان کیا گیا ہے ۔نوام چامسکی[۲] نے بھی اپنے مقالے میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مڈ بھیڑ کے بارے میں اوبامہ کے نظریہ پر تنقید کرتے ہوئے  مشرق وسطی کی صلح کی پیش کش کو فلسطینی عوام کے حق میں ایک خیانت کے طور پر بیان کیا ہے ،  بی بی سی کے لئے شرمناک دن ، ایک ایسا مقالہ ہے جس میں بی بی سی نیٹ ورک کی جانب سے امدادی کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے غزہ کی عوام کے لئے بھیجی جانے والی رسد وامدادکی ممانعت کے موضوع کو چھیڑا گیا ہے جو کہ برطانیہ  میں  درونی اور بیرونی طور پر اعترض کا سبب بنا  ۔
اسکے بعد کے  دو مقالوں میں  فلسطین پر قبضے کی تاریخ ، جنگی جرائم و جنایت کے تحت اسرائیل کی اسٹراٹیجی کو پیش کیا گیا ہے ، “غزہ میں حمام خون کے پیچھے ” نامی مقالہ میں  مصنف نے ۲۲ روزہ جنگ کو  اس دور میں اسرائیل کی داخلی فضا،یعنی قریب الوقوع انتخابات سے ملا کر دیکھا ہے نیز ۳۳ روزہ لبنان کی جنگ اور اسی طرح کے دیگر موارد سے جوڑ کر بیان کیا ہے ۔ اور آخر میں یوسف بیکر  نے اسرائیل کے نئے ہدف کے تحت لکھے جانے والے مقالے میں  ۲۲ روزہ جنگ کے سلسلہ سے  اس جنگ کی بنیاد پر قائم ہونے والی اسرائیل کی اسٹراٹیجی کی تشریح کی ہے ۔
 
 
حواشی :
[۱] ۔ اپارتھائیڈ Apartheidجنوبی افریقا میں ایک سیاسی نظام تھا جو بیسویں صدی میں ۱۹۴۰ء سے ۱۹۸۰ء تک لاگو رہا۔ اس نظام میں، جنوبی افریقہ کے لوگوں کو نسلی اعتبار سے تقسیم کیا گیا تھا ۔ Bartusis, Mark (2012). Gomez, Edmund; Premdas, Ralph, eds. Affirmative Action, Ethnicity and Conflict. New York: Routledge Books. pp. 126–۱۳۲٫ ISBN 978-0415627689.
 
[۲]  ۔ اَورام ناؤم چومسکی (عبرانی: אברם נועם חומסקי) Noam Chomsky (7 دسمبر ۱۹۲۸) ایک یہودی امریکی ماہر لسانیات، فلسفی، مؤرخ، سیاسی مصنف اور لیکچرر ہیں۔ ان کے نام کا اولین حصہ اَورام دراصل ابراہیم کا عبرانی متبادل ہے۔ انکی شناخت مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شعبہ لسانیات میں پروفیسرکی حیثیت سے ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

جرمنی؛ یورپ میں یہودی ریاست کا پچھواڑا

  • ۱۴۶

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودی ریاست (اسرائیل) جرمنی میں بہت سے ثقافتی سرگرمیاں بجا لاتی ہے، اسرائیلی فنکاروں کی حمایت کرتی ہے اور جرمنی کے ساتھ فنکاروں نیز فنکارانہ کاوشوں [فلموں وغیرہ] کا تبادلہ کرتی ہے۔ جرمنوں کی سرزمین میں بصری فنون کی نمائشیں لگاتی ہے؛ یہودی ریاست کی تھیئٹر گروپ جرمنی کے دورے کرتے ہیں، یہودی ریاست کی فلم کمپنی جرمنی کے مختلف میلوں میں شرکت کرتی ہے، نیز موسیقی کے فنکاروں اور لکھاریوں کی حمایت کا حمایت کرتی ہے۔ یہ سب برلن میں یہودی ریاست کے سفارتخانے کے ثقافتی شعبے کے معمول کی سرگرمیاں ہیں۔
اس کے علاوہ علاوہ بریں، ہر سال جرمن ـ اسرائیل میلہ (۱) بھی جرمنی وزارت ثقافت کی مالی حمایت سے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس میلے میں برلن میں مقیم اسرائیلی فنکاروں کی کاوشیں پیش کی جاتی ہیں۔ اس میلے کا آغاز سنہ ۲۰۱۵ع‍ سے ہوا ہے۔ ہر سال یہ میلہ ایک خاص موضوع متعین کرکے منایا جاتا ہے؛ مثال کے طور پر سنہ ۲۰۱۷ع‍ کا میلہ اتفاق ، ادغام (۲) کے موضوع پر منایا گیا۔ اس موضوع کے انتخاب کا مقصد یہودی ریاست کے فنکاروں کو جرمنی کے فنکارانہ ماحول کے قریب لانا تھا۔
سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون
جرمنی میں یہودی ریاست کے سفارتخانے کی ویب گاہ کے مندرجات کے مطابق، یہودی ریاست اور جرمنی سائنس اور ٹیکنالوجی کے بہت سارے شعبوں میں قریبی تعاون کررہے ہیں۔ اسرائیلیوں کا دعوی ہے کہ امریکہ کے بعد، سائنس اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے، جرمنی دوسرا بڑا ملک ہے جو ان کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ اس تعاون کا آغاز سنہ ۱۹۵۰ع‍ کی دہائی کے آخری برسوں سے ہوا ہے۔ ہالوکاسٹ کے بعد بہت سوں نے یہودی ریاست اور جرمنی کے درمیان تعلق بنانے کی کوشش کی۔ سنہ ۱۹۶۴ع‍ میں جرمن ادارہ “میکس پلانک سوسائٹی برای فروغ سائنس” (۳)، امریکی ادارہ “مینروا فاؤنڈیشن” (۴) اور یہودی ریاست کا ادارہ “وائزمین انسٹٹیوٹ آف سائنس” (۵) بھی میدان میں آئے اور فریقین کے ماہرین اور محققین کے درمیان تعاون کے لئے پروگرام مرتب کئے۔
آج یہودی ریاست اور جرمنی کے درمیان سائنس کے شعبوں میں تعاون بہت وسیع ہے اور “مینروا فاؤنڈیشن”، “جرمن وفاقی وزارت تعلیم و تحقیقات اور اسرائیلی وزارت سائنس کے درمیان تعاون کے پروگرام”، “جرمن ـ اسرائیلی فاؤنڈیشن برائے سائنسی ترقی و تحقیقات”، “مستقبل کے سلسلے میں جرمن ـ اسرائیل تعاون کے پروگرام” اور “صنعتی تحقیقات میں جرمن ـ اسرائیل تعاون” کی مالی امداد سے مختلف پروگراموں اور منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔
اس سلسلے میں مینروا فاؤنڈیشن، اہم ترین ادارہ ہے جو یہودی ریاست اور جرمنی کے درمیان تعاون کی حمایت کرتا ہے۔ یہ ادارہ جو اپنا سالانہ بجٹ جرمن حکومت سے وصول کرتا ہے، جرمنی اور یہودی ریاست کے محققین اور ماہرین کے درمیان بات چیت کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ یہ ادارہ نوجوان جرمن اور اسرائیلی محققین کو یہ امکان فراہم کرتا ہے کہ ۶ سے ۳۶ مہینوں تک کے عرصے میں میزبان ملک کے تحقیقاتی مراکز میں کام کریں۔ اس ادارے نے آج تک ۱۴۰۰ جرمن اور اسرائیلی محققین کی حمایت کی ہے۔ یہ اسکالرشپس [یا وظائف] نوجوان جرمن اور اسرائیلی سائنسدانوں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ میزبان ریاست [ملک] کے محققین و ماہرین کے ساتھ قریبی تعلق برقرار کریں۔
تحقیقاتی منصوبے
ادھر جرمن وزارت تعلیم و تحیققات اور یہودی ریاست کی وزارت سائنس، تحقیقاتی منصوبوں کی پشت پناہی کے سلسلے میں آپس میں تعاون کررہی ہیں۔ تعاون کا یہ سلسلہ سنہ ۱۹۷۳ع‍ سے شروع ہوا ہے اور اس کا مقصد ان تحقیقاتی منصوبوں کی حمایت کرنا ہے جو حیاتیاتی ٹیکنالوجی (۶)، توانائی، ماحولیات، محیطیات یا سمندری علوم، (۷)، زمینیات (۸)، علم طب، جدید مواد (۹) اور نینو مواد (۱۰) اور لیزر ٹیکنالوجی (۱۱) سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ علاوہ “جرمن- اسرائیلی فاؤنڈیشن برائے سائنسی تحقیق اور ترقی” (۱۲)، جس کی بنیاد سنہ ۱۹۸۶ع‍ میں رکھی گئی ہے، بھی جرمنی اور یہودی ریاست کے مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اس ادارے کے ٹرسٹ بورڈ میں چار اسرائیلی اور چار جرمن شامل ہیں۔ اس ادارے کا مجموعہ سرمایہ ۱۶ کروڑ یورو ہے جو فریقین کے تعلیمی حکام کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے۔ اس ادارے نے آج تک ۳۶۰۰ منصوبوں کی حمایت اور پشت پناہی کی ہے۔
“مستقبل کے منصوبوں کے سلسلے میں جرمن ـ اسرائیل تعاون پروگرام” (۱۳) بھی فریقین کے حکام کے لئے بھی بہت اہم ہے۔ اس پروگرام کی بدیاد سنہ ۱۹۷۷ع‍ میں جرمن وزارت تعلیم و تحقیق نے رکھی تھی۔ اس پروگرام کے مطابق، مستقبل کے بارے میں کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد کے لئے ۱۰ لاکھ ڈالر بجٹ کے طور پر مدنظر رکھے جاتے ہیں۔ یہ رقم عرصہ پانچ سال تک درخواست دہندگان کے سپرد کی جاتی ہے۔
نیز جرمنی اور یہودی ریاست کے حکام صنعتی شعبے کی تحقیق کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں یہودی ریاست کی وزارت صنعت و تجارت اور جرمنی کی وزارت تعلیم و تحقیق نے جون سنہ ۲۰۰۰ع‍ میں صنعتی تحقیق کے شعبے میں تعاون کے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے۔ اس مفاہمت نامے کے مطابق، فریقین نے فیصلہ کیا کہ ۱۳ لاکھ یورو صنعتی تحقیقات کے لئے مختص کیا جائے۔ اس رقم کو چھوٹے اور اوسط درجے کی صنعتی تحقیق اور نئے کاموں کے آغاز پر خرچ ہونا چاہئے۔ اس کام کا مقصد الیکٹرانک، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات، بائیوٹیکنالوجی اور ماحولیاتی ٹیکنالوجی کی حمایت کرنا ہے۔
وائزین سائنس انسٹٹیوٹ
وائزمین انسٹٹیوٹ آف سائنس بھی یہودی ریاست کے اہم ترین سائنسی اداروں میں شامل ہے جو جرمنی کی جامعات اور تحقیقی مراکز کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ یہ ادارہ مقبوضہ فلسطین میں واقع ریحوووت (۱۴) نامی شہر میں واقع ہے اور یہودی ریاست کے سائنسی حلقوں میں بےپناہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس ادارے کے نئے تحقیقی منصوبے بیماریوں کے انسداد کے لئے نئے راستوں کی تلاش، ریاضیات اور کمپیوٹر سائنس کے کلیدی مسائل کے جائزے اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے نئی حکمت عملیاں تلاش کرنے پر مرکوز ہیں۔ یہ ادارہ صرف ان جرمن طالبعلموں کو تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کرتا ہے جو ایم ایس سی، ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر مختلف سائنسی شعبوں میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔
تعلیمی وظائف (۱۵)
برلن میں یہودی ریاست کے سفارتخانے کی ویب گاہ کے مطابق، یہ ریاست مقبوضہ سرزمین میں تعلیم کے جرمن شائقین کو وظیفہ اور دیگر سہولیات فراہم کرتی ہے۔ یہ وظائف ان جرمن طالبعلموں کو دیئے جاتے ہیں جو “تاریخ یہود، بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، عبرانی زبان اور زبان و ادب کے مضامین میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ وظائف ان جرمن طالبعلموں کو دیئے جاتے ہیں جن کی عمریں ۳۵ سال سے زیادہ نہ ہوں اور انگریزی اور عبرانی زبان میں مہارت کاملہ رکھتے ہوں۔
یہودی ریاست یہ وظائف مختلف طریقوں سے جرمن طالبعلموں کو دے دیتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک وظیفہ وہ ہے جو ایک تعلیمی سال (آٹھ مہینوں) کے لئے اس ریاست میں حصول تعلیم کے رضاکار جرمن طالبعلموں کو دیا جاتا ہے جن میں ایم ایس سی، ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے طالبعلم نیز مختلف شعبوں کے محققین شامل ہوتے ہیں۔ جن طالبعلموں کو اس کورس میں داخلہ ملتا ہے وہ ماہانہ ۸۵۰ ڈالر وظیفہ لیتے ہیں اور ان کا ﺻﺣت کا بیمہ بھی کروایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، مقبوضہ فلسطین جانے اور جرمنی واپس آنے کے اخراجات ان طالبعلموں کو خود برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
مقبوضہ فلسطین میں عبرانی اور عربی زبان کی تعلیم
تعلیمی وظائف کے علاوہ مقبوضہ فلسطین پر مسلط یہودی ریاست جرمن طالبعلموں کو عبرانی اور عربی زبانیں سیکھنے کے لئے بھی وظائف دیتی ہے۔ جرمن طالبعلموں کو مختصر عبرانی کورس میں شرکت کے لئے حیفا یونیورسٹی میں داخلہ دیا جاتا ہے؛ اس کورس کے شرکاء کو ہفتہ وار ۳۰۰ ڈالر بطور وظیفہ دیئے جاتے ہیں۔
علاوہ ازیں، اس ریاست کی دوسری یونیورسٹیاں بھی بین الاقوامی طلبہ کو عبرانی اور عربی زبانوں کے کورس فراہم کرتی ہیں۔ یہ کورسز مختلف یونیورسٹیوں میں معمول کے مطابق مختصر مدت کے لئے منعقد کروائے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: برلن میں ایرانی سفارتخانے کے ثقافتی شعبے کا جائزہ
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://iqna.ir/fa/news/3786199
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ Israel-Deutschland Festival Berlin
۲۔ integration
۳۔ Max-Planck-Gesellschaft zur Förderung der Wissenschaften e. V. [MPG] (Max Planck Society for the Advancement of Science)
۴۔ Minerva Stiftung [Minerva Foundation]
۵۔ מכון וייצמן למדע = Weizmann Institute of Science
۶۔ Biotechnology
۷۔ Oceanography
۸۔ Earth sciences
۹۔ Advanced materials
۱۰۔ Nanomaterials
۱۱۔ Laser technology
۱۲۔ Deutsch-Israelische Stiftung für Wissenschaftliche Forschung und Entwicklung [GIF]
۱۳۔ stiftung deutsch-israelisches zukunftsforum
۱۴۔ רְחוֹבוֹת = Rehovot
۱۵۔ Scholarships

 

امریکہ کو طاقت کے دائرے سے کس نے نکال باہر کیا؟

  • ۱۶۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: سنہ ۱۹۷۹ع‍ میں، ایران میں ایک دینی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا تو بہت سوں نے پیش گوئی کی کہ دنیا میں بڑی تبدیلیوں کی آمد ہے اور دنیا کے بہت سے ہوشمند نے کہا کہ زمانہ ـ مزید ـ پرانے ڈگر پر نہیں چلے گا۔ اسلامی انقلاب ایسے ملک میں رونما ہوا تھا جس کو مغرب کی اصطلاح میں تیسری دنیا کا ملک کہا جاتا تھا اور یہ ملک ایک وابستہ ملک تھا اور مغربی و مشرقی طاقتوں کے پاس دنیا پر مسلط تھیں جن کے پاس “ناخواستہ واقعات” کا سد باب کرکے محو و نابود کرنے کا بھرپور تجرجہ رکھتی تھیں؛ جنہوں نے اپنی پوری طاقت فوری طور پر میدان میں پہنچا دی مگر انہیں راستے کے کٹھن ہونے کا بھی اندیشہ تھا اور “ایران کی عظیم دینی روداد” کے نتائج سے بھی خائف تھیں۔
ہیملٹن جارڈن (۱) نے اپنی کتاب “بحران: کارٹر کی صدارت کا آخری سال” (۲)، میں صدر جمی کارٹر (۳) کے حوالے سے لکھا ہے کہ “ہمیں ایک عظیم سردرد کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور ہمارے پاس اسے روکنے کے لئے کافی وسائل نہیں ہیں”۔ تہران میں سفارتخانے کے نام پر امریکی جاسوسی کے گھونسلے میں تعینات جاسوسوں کو یرغمال بنایا گیا تو جمی کارٹر کو جب امام خمینی (قدس سرہ) کے نام ایک خط لکھنا پڑا اور اپنے نقادوں کے ایک وفد کو ایک انجیل اور ایک کیک دے کر تہران روانہ کرنا پڑا تو اسلامی انقلاب کے رہبر نے وفد اور اس کے لائے ہوئے تحائف کو مسترد کردیا، تو سب لوگ بھانپ گئے کہ حالات بالکل نئے ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ہے۔
اسلامی انقلاب کو ایران کے اندر بھی زبردست قومی بنیادیں فراہم تھیں اور اس کے قومی اہداف و مقاصد بھی عظیم تھے، چنانچہ یہ ایک انتہائی طاقتور انقلاب تھا اور “عدل و انصاف” اور “آزادی” اس کے دو اہم بنیادی عناصر تھے لیکن اسی اثناء میں یہ ایک “عالمی انقلاب” سمجھا جاتا تھا اور امریکہ اور دوسری طاقتوں کا مسئلہ بھی اسی موضوع سے جنم لیتا تھا۔ یہ انقلاب نہ صرف “غیر وابستہ تحریک” (۴) کی تشکیل میں بروئے کار آنے والی فکر کی مانند، سلامتی کے شعبے میں بلاکوں اور طاقتوں کی پیروی کی نفی کررہا تھا بلکہ عالمی “تخمینوں [اندازوں] اور تعلقات” کی تبدیلی کے لئے میدان میں آیا تھا؛ امریکیوں کی مشکل کا آغاز اسی نقطے سے ہوا۔
امریکہ کے لئے کسی بھی قومی ـ اور اصطلاحا “غیر وابستہ” ـ انقلاب کو لگام دینا کچھ زیادہ مشکل نہیں تھا؛ اس نے سنہ ۱۹۷۳ع‍ میں چلی (۵) کے غیر وابستہ قومی انقلاب کو تین سال کے بعد، گرا دیا اور اس کے پاس اس طرح کے درجنوں تجربات اور بھی تھے: مصر میں جمال عبدالناصر، سابق یوگوسلاویہ میں مارشل ٹیٹو (۶)، بھارت میں نہرو اور انڈونیشیا میں سوئیکارنو کی کو لگام دینا اس کے لئے بہت آسان تھا جیسا کہ وہ جمال عبدالناصر، نہرو اور سوئیکارنو کی جگہ اپنی پسند کے لوگوں کو عشروں تک برسر اقتدار رکھ چکا تھا لیکن اس کو یہاں ایک ایسے انقلاب کا سامنا تھا جس کا نعرہ اور مدعا ہی کچھ اور تھا۔ یہ انقلاب پوری دنیا کو اپنے ساتھ ملا رہا تھا اور اس کا سامنا کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔
اس انقلاب نے “اسلام کا پرچم”، “امریکہ اور یہودی ریاست کا مقابلہ کرنے کا پرچم” اور “اغنیاء پر فقراء کے غلبے” کا پرچم اٹھا کر، ان کروڑوں انسانوں کی توجہ بہت تیزی کے ساتھ اپنی جانب مبذول کروائی جو کسی وقت قوم پرستانہ، اشتراکی اور لبرل تحریکوں سے وابستہ ہونے کے بعد ناامید ہوکر پلٹ آئے تھے اور اپنے آغاز ہی سے اُس وقت کی سب سے بڑی طاقت یعنی امریکہ کو چیلنجوں سے دوچار کردیا تھا۔
آج امریکی طاقت کے انحطاط و زوال اور اس کی بڑی طاقت ہونے کے دور کے اختتام کی باتیں ہورہی ہیں، لیکن جو لوگ تیزبین تھے، وہ ایران میں اسلامی انقلاب کے کامیاب ہوتے ہی اس کو ـ بطور بڑی طاقت” ـ امریکہ کے دورِ زوال کا آغاز قرار دیا تھا۔ پال کینیڈی (۷) نے سنہ ۱۹۸۷ع‍ میں شائع ہونے والی اپنی کتاب “بڑی طاقتوں کا عروج و زوال” (۸) میں لکھا ہے: “امریکہ متناسب زوال کے دور میں داخل ہوچکا ہے اور لمبی مدت میں، مکمل زوال سے دوچار ہوجائے گا”۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ ـ بحیثیت بڑی طاقت اور کوئی بھی دوسری طاقت ـ چار ستونوں پر قائم ہے: پہلا ستون اخلاقی ہے جو دوسری طاقتوں کو قائل کرکے اور ساتھ ملا کر قائم کیا جاتا ہے؛ دوسرا ستون ان بڑے بڑے “مسائل کا حل” ہے جو رونما ہوا کرتے ہیں؛ تیسرا ستون کامیابی تک پہنچنے کے لئے اتحاد سازی اور دوسروں کی طاقت سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت ہے اور چوتھا ستون رقیب طاقت کا سد باب کرنا۔ یہ چاروں عناصر البتہ ایک دوسرے سے متصل اور جڑے ہوئے ہیں۔
امریکہ کی اخلاقی طاقت ـ یعنی دوسروں کو قائل کرنے کی صلاحیت ـ کے بارے میں کہنا چاہئے کہ امریکیوں نے اخلاقی طاقت کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے سنہ ۱۹۴۸ع‍ میں اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی اور اس کا مرکزی دفتر اپنی سرزمین پر قرار دیا اور پوری مہارت اور چالاکی سے ایسے درجنوں قرادادیں منظور کروائی ہیں اور معاہدے کروائے ہیں اور دوسرے ممالک سے دستخط لے کر ان کنونشنوں، معاہدوں اور قراردادوں کو نہیں بلکہ امریکی اقدار کو بھی “عالمگیر” بنایا [اور Globalize کروایا] ہے۔ لیکن اسلامی انقلاب نے ایک زبردست اور طاقتور منطق پیدا کرکے دین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا اور امریکہ کی حکمرانی اور سیاست کے فلسفے اور ایک بڑی طاقت کی اخلاقی اداکاریوں کو زائل کردیا۔
اسلامی انقلاب نے فلسطین کو امریکہ کے عالمگیر شدہ ظالمانہ اور غیر انسانی قواعد اور رویوں کی علامت بنا دیا اور یہ امریکی طاقت کے اخلاقی عنصر کے زوال کی مثال تھی۔ ادھر انقلاب اسلامی ـ بذات خود، اس انقلاب کی وقوع پذیری، یرغمالوں کے مسئلے کے حل میں امریکہ کی بےبسی اور ایران میں مقیم امریکی کارندوں کی قید کی طوالت نے، امریکہ کے فیصلہ کن کردار ـ یعنی ایک بڑی طاقت کے دوسرے عنصر ـ کو چیلنج کردیا اور یہ اور یہ امریکہ کے زیر تسلط علاقے ـ یعنی مغربی ایشیا ـ میں معرض وجود میں آنے والے رجحانات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے اقدامات کا آغاز تھا جنہیں امریکہ حل نہیں کرسکا اور اپنے مشتہرہ نمونہ ہائے عمل کے نفاذ سے عاجز ہوا۔ و نافذ نہیں کرسکا۔ گیلپ (۹) سروے کے مطابق ـ جو کہ ۱۳۴ ممالک کے باشندوں کی آراء کا مجموعہ ہے ـ دنیا کی آبادی میں سے صرف ۳۰ فیصد کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا کے حالات اور تبدیلیوں کے انتظام و انصرام میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔
لیکن یہ مسئلہ ـ کہ امریکہ یک رخی پالیسیوں کے حوالے سے مشہور ہوا ـ کسی بھی موضوع کے حل کے لئے “اتحاد” کا سہارا لے لیتا تھا ـ بجائے خود اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ امریکہ تمام رجحانات اور واقعات میں ایک ناکام ملک شمار کیا جاتا ہے۔ دریں اثناء آج ہم جو کچھ ایک بڑی طاقت کے تیسرے ستون کے حوال سے دیکھ رہے ہیں، یہ ہے کہ امریکہ ایک “مؤثر اتحاد” بنانے سے قاصر ہے اور مسئلہ حل کرنے کے لئے، اس قسم کے کسی اتحاد سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ ناروے کے مشہور ماہر عمرانیات یوہان گالتونگ (۱۰) کہتے ہیں: “اب صرف شمالی یورپ کے ممالک امریکی جنگوں کی حمایت کرتے ہیں، جو ایک دو سال سے زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہ سکے گی”۔
عوامی انقلابوں کو قابو لینے میں بھی امریکی طاقت شدت سے زوال پذیر ہوچکی ہے اور اسی بنیاد پر آج حکومتوں کی سخت طاقت (۱۱) کے ساتھ ساتھ قوموں کی نرم طاقت (۱۲) اور عوامی طاقت کی برتری کی باتیں ہورہی ہیں؛ حتی کہ حکومتیں قوموں کی نرم طاقت کو اپنے مخالفین سے نمٹنے کے لئے بروئے کار لاتی ہیں۔ تازہ ترین مثال “وینزوئلا” کی ہے جہاں امریکہ نے مادورو حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانے کی مہم چلائی گئی؛ اور اسی وقت حکومتی سطح پر بھی امریکیوں کو مخالفین سے نمٹنے میں بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اسی بنا پر امریکی تھنک ٹینک “امریکن انٹرپرائز” (۱۳) نے اپنی ۳۶ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں لکھا کہ “امریکہ کے دشمن بشمول چین، روس اور ایران اپنی فوجی صلاحیتوں کو تقویت پہنچا رہے ہیں اور یہ پیشرفت انہیں امریکہ کی فوجی طاقت سے نمٹنے کا امکان فراہم کررہی ہے”۔ جیسا کہ کچھ عرصہ قبل امریکی فضائیہ کے کمانڈر جنرل مارک ویلش (۱۴) نے فاکس نیوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “امریکہ اور اس کے دشمنوں کی عسکری صلاحیتوں میں ماضی کا فاصلہ اختتام پذیر ہوچکا ہے [اور وہ ہماری سطح تک پہنچ گئے ہیں]”۔
چنانچہ ایک عمومی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ چار عشروں میں اپنی طاقت کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ چیلنجوں سے دوچار ہوچکا ہے”۔
لگتا ہے کہ امریکی پہلے ہی سے جانتے تھے کہ انہیں ایک ناقابل تسخیر واقعے سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ ان کے حافظے میں صدیوں کے فاصلے سے معرض وجود میں آنے والی تین بڑی مسلم طاقتوں کی تاریخ محفوظ تھی جو چودہویں صدی سے بیسویں صدی تک دنیا کے وسیع علاقوں حکمرانی کرچکی تھیں: سلطنت عثمانیہ (۱۵) سنہ ۱۲۹۹ع‍ تا سنہ ۱۹۲۴ع‍؛ صفوی سلطنت (۱۶) سنہ ۱۵۰۱ع‍ تا سنہ ۱۷۳۶ع‍ اور [متحدہ] ہندوستان میں مغلیہ سلطنت (۱۷) سنہ ۱۵۲۶ع‍ تا سنہ ۱۸۵۷ع‍ جنہوں نے چھ صدیوں کے دوران ـ بالخصوص سولہویں صدی سے انیسویں صدی تک ـ یورپی استعماری طاقتوں کو زبردست چیلنجوں سے دوچار کیا تھا۔ زیادہ تر مواقع پر ان تین مسلم سلطنتوں کے باہمی تعلق نے مغرب کو خوفزدہ کردیا تھا؛ اور جب اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو سلطنت عثمانیہ کے زوال کو ۵۵ برس اور سلطنت مغلیہ کے زوال کو ۱۲۲ برس ہوچکے تھے؛ اور یہ ایک طویل عرصہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اس حقیقت نے امریکیوں کو دو نکتوں کی یاددہانی کروائی: ۱۔ برصغیر سے لے کر مغربی افریقہ تک پورے عالم اسلام کی نشات ثانیہ اور عمومی اٹھان کا قوی امکان ہے؛ ۲۔ عالم اسلام کے تمام حصوں کے درمیان باہمی تعلق کا قوی امکان ہے۔ چنانچہ امریکی اکیڈمیاں اسلامی اٹھان کے دور کے آغاز عندیہ دینے لگی تھیں؛ حتی کہ سیموئیل پی ہنٹنگٹن (۱۸) نے اس سلسلے میں کتاب ”تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو” (۱۹) لکھ ڈالی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی انقلاب عثمانی،  صفوی اور مغل طاقتوں کی نسبت دو مزید عناصر کا حامل تھا: “معنویت” (روحانیت) اور “دنیا کے انتظام کے لئے نیا خاکہ اور نیا منصوبہ”۔ یعنی اسلامی جمہوریہ ایران صرف ایک مادی اور اور اعلی فوجی صلاحیتوں کا حامل ملک ہی نہیں تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مغربیوں کے لئے اس پر غلبہ پانا زیادہ مشکل نہ تھا۔ معنویت کی دو اہم کارکردگیاں تھی: ۱۔ اس انقلاب نے مغربی تہذیب کے فلسفے کو  مشکوک اور متنازعہ بنایا اور خود مغربیوں نے اس موضوع کو یوں بیان کیا: “ایران کے اسلامی انقلاب نے انسان سے تقاضا کیا کہ اپنے اصل مقام [اللہ کی بندگی] کی طرف پلٹ آئے اور اپنے عقائد و افکار میں اللہ کے لئے اس کا اصل مقام ـ یعنی انسان پر حکمرانی ـ کے رتبے کا قائل ہوجائے”؛ ۲۔ اسلامی انقلاب کی معنویت نے مغرب کے سامنے ایک عظیم استعداد اور بےمثل موقع بھی مغرب کے سامنے رکھا جو کہ ـ البتہ ـ مغربیوں کے لئے انجانا تھا۔
اسلامی انقلاب کے معنوی فلسفے نے بہت جلد ملحد مشرقی بڑی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور جس طرح کہ امام خمینی (قدس سرہ) نے سوویت اتحاد کے آخری صدر میخائل گورباچوف (۲۰) کو شیوعیت (۲۱) کی نابودی کے سلسلے میں یاددہانی کروائی تھی، مغرب کو بھی مختلف انداز سے نشانہ بنایا اور خبردار کیا تھا۔
بایں حال، بہت سوں نے سوویت اتحاد کے زوال کو مغرب کے دباؤ یا سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے اندرونی شکست و ریخت کا نتیجہ قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوویت اتحاد کو اندرونی اور بیرونی لحاظ سے کسی خاص مسئلے کا سامنا نہیں تھا اور سب کچھ اپنی جگہ قائم تھا، لیکن ایک معنوی انقلاب نے ـ عدالت پسندانہ اور حریت پسندانہ منصوبے کے ساتھ ـ مارکسیت (۲۲) کے  وجود کے اہم ترین فلسفے ـ یعنی دین اور معنویت کی نفی ـ کو سرے سے باطل کردیا اور اس کے تشخص کو چھین لیا؛ چنانچہ جو چیز جو کمیونسٹ حکومت کے زوال کی بنا پر نظر آئی یہ تھی کہ مذہب معاشرے کے تمام شعبوں میں پلٹ کر آیا اور “یہی وہ عنصر ہے جو آج ایک ہی ساتھ شیوعیت کی واپسی کا بھی راستہ روک رہی ہے اور روس میں مغربی لبرلیت کو بھی شیوعیت کے متبادل کے طور پر مقبولیت حاصل سے باز رکھ رہی ہے۔ حالانکہ اگر سوویت اتحاد کا زوال مغرب کے ساتھ مسابقت میں شکست یا اندرونی طور پر معاشی بدحالی کا نتیجہ ہوتا تو آج اس بڑی طاقت کے کھنڈرات پر مغربی لبرلیت کی عمارت تعمیر ہوچکی ہوتی”۔
اگر ہم “تخمینوں [اندازوں] اور تعلقات کی تبدیلی” کو اسلامی انقلاب کا اہم ترین مقصد سمجھیں ـ وہی جن پر اسلامی انقلاب کے نعرے بھی مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں ـ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ “اگرچہ اسی لمحے بھی امریکی نامی طاقت، اس کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے عناصر ـ منجملہ زور، دولت، طبقاتی نظام اور اس کے [جدید دور کی] خرافاتی روایتیں ـ بدستور موجود ہیں؛ لیکن اسلامی انقلاب نے ایک طرف سے اس کے جواز کو چیلنج کیا ہے، اور دنیا والوں کی آنکھوں سے گرا دیا ہے اور دوسری طرف سے دنیا کا ایک وسیع اور حساس حصہ امریکہ اور اس کی طاقت کے عناصر و عوامل نیز پورے مغرب کے تسلط سے چھڑانے میں کامیاب ہوا ہے؛ اور اس حال میں ہم آج ہم اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: سعد اللہ زارعی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ William Hamilton McWhorter Jordan
۲۔ Crisis: Last year of Carter’s presidency
۳۔ James Earl Carter Jr
۴۔ Non-Aligned Movement [NAM]
۵۔ Chile
۶۔ Josip Broz Tito
۷۔ Paul Kennedy
۸۔ The Rise and Fall of the Great Powers
۹۔ Gallup [company]
۱۰۔ Johan Galtung
۱۱۔ Hard power
۱۲۔ Soft power
۱۳۔ American Enterprise Institute
۱۴۔ Mark Welsh
۱۵۔ Ottoman Empire
۱۶۔ Safavid dynasty
۱۷۔ Mughal Empire
۱۸۔ Samuel Phillips Huntington
۱۹۔ The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order
۲۰۔ Mikhail Sergeyevich Gorbachev
۲۱۔ Communism
۲۲۔ Marxism
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://kayhan.ir/fa/news/153214

 

کیا متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور تھا؟ 2

  • ۲۰۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ۔
خیبر: موجودہ صورتحال کے پیش نظر بیروت میں ہوئے حالیہ دھماکے اور اس کے بعد حزب اللہ پر آنے والا شدید دباؤ ، اور پھر یہ اسرائیل امارات معاہدہ، کیا ان سب مسائل سے مزاحمتی محاذ کے لیے حالات زیادہ سخت نہیں ہو گئے ہیں اور کیا ان کو اس دباؤ سے باہر آنے کے لیے کوئی بڑا اقدام کرنا پڑے گا؟
۔ کسی خطے میں ایک موثر اداکار کو متاثر کرنے کی ایک حکمت عملی یہ ہے کہ اس کے خلاف سلسلہ وار مستقل اقدامات کیے جائیں جس سے دباؤ بڑھتا رہے اور بالآخر اس خطے میں اداکار کا حجم کم ہوجائے۔ ایسا لگتا ہے کہ مزاحمت پر دباؤ بڑھانے کا جو سلسلہ شام سے شروع ہوا اور اس کے بعد عراق میں اور اب بیروت میں کئی گنا اس میں اضافہ ہوا، دباؤ تو مزاحمتی محاذ پر ہر طرف سے ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مزاحمت کو کیسے اس ہمہ گیر دباؤ سے باہر آنا ہو گا؟
میری نظر میں ، اس دباؤ سے نکلنے کے لئے مزاحمت کو ذہانت سے کام کرنا ہوگا۔ چونکہ ذرا سی خطا مزاحمت کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے انشاء اللہ امید ہے اسلامی مزاحمت صحیح حکمت عملی اپناتے ہوئے موجودہ صورتحال پر قابو پا لے گی۔ یہ حکمت عملی ، پوری ہوشیاری کے ساتھ، ڈپلومیسی، ملٹری سیکیورٹی اور میڈیا کے شعبوں میں ہونا چاہئے۔ کیونکہ دشمن کے اقدامات بھی ان تینوں شعبوں میں ہوتے ہیں۔

خیبر: آپ کی نظر میں اسرائیل امارات معاہدے سے متحدہ عرب امارات کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟
۔ خلیج فارس کے بیشتر حکمران سیکیورٹی اور دفاعی میدان میں بہت زیادہ امریکہ پر منحصر ہیں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ میری نظر میں، شاید متحدہ عرب امارات کے حکمران اس طرح کا معاہدہ نہیں کرنا چاہتے ہوں گے ۔ متحدہ عرب امارات ایک تجارتی ملک ہے اور یہ تجارت لوگوں کے بل بولتے پر چلتی ہے۔ اگر عرب امارات کوئی ایسا کام کرتا ہے جس سے اسے معاشی دباؤ یا ممکنہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یقینا وہ مشکلات میں گرفتار ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا معاہدے کو قبول کرنا امریکی ایجنڈے میں شامل ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ ٹرمپ انتخابات سے پہلے اچھی پوزیشن میں نہیں ہیں اور ان کی فتح یقینی نہیں ہے ، متحدہ عرب امارات اگر تھوڑا سا ہوشیار ہوتا تو یہ منصوبہ اگلے امریکی صدر کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کرتا۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان ممالک میں امریکی اثر و رسوخ اتنا زیادہ ہے کہ ایک امریکی حکم کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا۔ یعنی ، متحدہ عرب امارات کا معاہدے کو قبول کرنا امریکہ پر مکمل انحصار کی دلیل ہے۔  چونکہ متحدہ عرب امارات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ یمن کی جنگ اور خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے کافی متاثر ہوا ہے لہذا ایک طرح سے وہ اس معاہدے کے ذریعے مزید امریکی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

دوسری طرف ، متحدہ عرب امارات فی الحال مزاحمتی محور ، خاص کر اسلامی جمہوریہ ایران اور اخوان المسلمین کے خلاف اپنے اتحاد کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چونکہ اخوان المسلمین ترکی اور اردوغان کی سربراہی میں صہیونی ریاست کے خلاف سخت موقف رکھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے حالیہ اقدام کے ساتھ ، اپنے علاقائی حریفوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے صیہونیوں کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوشش کی۔

تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ محمد بن زید جیسے شیخ اپنے مقام و منزلت کے اعتبار سے بھی متزلزل شخصیت کے مالک ہیں ، اور اگر انہیں امریکہ کی حمایت حاصل نہ ہو تو دیگر شہزادے ان سے اقتدار کی کرسی چھین سکتے ہیں۔ محمد بن سلمان کا بھی یہی حال ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی بن سلمان ریاستہائے متحدہ یا مغرب کی مرضی کے خلاف کچھ کرتے ہیں تو ، ان کے ممکنہ حریفوں کو فوری طور پر کھڑا کیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور صہیونی ریاست کے مابین حالیہ معاہدے پر اس تناظر سے بھی غور کیا جانا چاہئے۔

خیبر: بہت بہت شکریہ

 

کیا متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور تھا؟ 1

  • ۲۱۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکہ، صہیونی ریاست اور متحدہ عرب امارات نے جمعرات (۱۳ اگست) کو ایک مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے منعقدہ معاہدہ کی خبر دی۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے نامہ نگار نے اس حوالے سے علاقے کے حالات کے ماہر ڈاکٹر حسین آجرلو سے گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ درج ذیل ہے؛

خیبر: آپ جانتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ کافی عرصہ سے خفیہ تعلقات برقرار تھے تو کیا اب ان تعلقات کو آشکار کرنے اور مزید مضبوط بنانے کے لیے کئے گئے معاہدے کے بعد علاقے کے حالات میں کوئی تبدیلی رونما ہو گی؟
۔ بنیادی طور پر سفارتی تعلقات استوار کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہیں یہ در حقیقت ایک سیاسی اقدام ہے۔ ایک نیا سیاسی رشتہ قائم کرنے کا ایک سیاسی پیغام ہوتا ہے، خاص طور پر اگر یہ رشتہ برسوں سے قائم نہیں رہا ہو۔ لہذا ، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صہیونی ریاست، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے ذریعہ مشترکہ بیانیہ جو دو روز قبل اعلان کیا گیا اس میں پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے اور وہ ایک نئے سیاسی روابط اور سفارتکاری کا آغاز ہے کہ جو قریب ۹۰ کی دہائی سے ادھر کبھی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ خاص کر ۲۰۰۲ میں شاہ عبد اللہ کے منصوبے کے بعد جو عرب ممالک میں تبدیلیاں آ رہی ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ سلسلہ اور آگے بڑھے گا اور دوسرے عرب ممالک بھی اس منصوبے پر عمل پیرا ہوں گے۔

خیبر: ان تعلقات کے معمول پر آنے سے اسرائیلی حکومت کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟
۔ صہیونی ریاست کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ مغربی ایشیا میں اس کے پڑوسی ممالک، خصوصا عرب ہمسایہ ممالک، اسے تسلیم نہیں کرتے۔ اگر دوسرے ممالک اسے سیاسی طور پر تسلیم کریں گے اور اسے سیاسی پہچان دیں گے تو اسرائیل علاقے میں قانونی حیثیت حاصل کر لے گا۔  اور اس طریقے سے صہیونی ریاست کا سب سے بڑا چیلنج حل ہو جائے گا۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے اس اقدام کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے پہلے ہی اردن اور مصر میں اپنے سفارت خانے کھول رکھے ہیں۔ لیکن حالیہ اقدام تقریبا 30-40 سال بعد انجام پایا ہے۔
اردن اور صہیونی ریاست کے مابین میڈریڈ امن کے قیام کے دوران، فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے پیشرفت ہوئی۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد، مصر نے اس معاہدے کو قبول کیا اور اپنی سرزمین ’سینا‘ کا کچھ حصہ واپس کیا۔ لیکن حالیہ اقدام میں ، متحدہ عرب امارات نے کچھ حاصل کئے بغیر صہیونی ریاست کے حق میں ایک تاریخی معاہدہ انجام دیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران ، صیہونیوں نے اپنے متعدد منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا۔ جیسے بیت المقدس کو جعلی ریاست کا دارالحکومت قرار دینا، جولان (گولان) کی پہاڑیوں پر اسرائیل کو مسلط کرنا اور اس کے قبضے میں دینا، اور پھر آخر میں صدی کی ڈیل۔ ایک ایسے وقت میں جب صیہونیوں اور فلسطینیوں کے مابین فاصلے اور چیلینج زیادہ سے زیادہ حد تک پہنچ گیے ہیں - خصوصا 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہونے والی سازش کے بعد، تو ایسے حالات میں صہیونی کامیاب ہو گئے ہیں ایک ایسے ملک کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لے آئیں جو ایک عربی ملک بھی ہے اور مال و دولت کے اعتبار سے بھی امیر ملک ہے۔
نیز تیسری اہم بات یہ ہے کہ نیتن یاھو کی ٹیم اس اقدام کے ذریعے انتہا پسند صہیونیوں کو امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت پر ابھاریں گے چونکہ آنے والے انتخابات میں ٹرمپ کے حالات کچھ مناسب نظر نہیں آ رہے تھے۔  در حقیقت ، ٹرمپ اندرونی سیاست میں حالیہ معاہدے سے فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہیں۔
اور آخری بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیلی حکومت کے مابین سرکاری اور سفارتی تعلقات کے آغاز سے اسرائیل کے لیے خلیج فارس کے علاقے خصوصا اسلامی جمہوریہ ایران کے پڑوس میں گھسنے کے لیے راہ ہموار ہو چکی ہے اور یہ معاہدہ خلیج فارس کے اسٹریٹجک علاقوں میں صہیونیوں کے داخلے کا جواز فراہم کرے گا اور موجودہ صورتحال میں ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے صہیونیوں کے نزدیک یہ اقدام ایک تاریخی اقدام ہے۔