مشرقی ممالک کا عروج اور یورپی معیشت کا زوال

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق: جن دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے، ایران کے خلاف ایک نیا تشہیری ڈرامہ رچانے کے لئے، اپنے وزیر خارجہ مائیک پامپیو کو مغربی ایشیا کے دورے پر روانہ کیا، قدیم براعظم (ایشیا) کے مشرق میں چینی حکمران امریکہ کی معاشی بالادستی کی آخری زنجیریں توڑنے کے لئے شدید محنت میں مصروف تھے۔ وہ عالمی معیشت کے منظومے میں “یوآن” کو “ڈالر” کے متبادل کے طور پر تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔
وہ ـ جو حال ہی میں امریکہ کے ساتھ محاصل (Tariffs) کی جنگ سے چھٹکار پا چکے ہیں ـ اپنی آرزوئیں بڑی احتیاط کے ساتھ بیان کرتے ہیں لیکن دنیا کے اقتصادی راہنما کچھ زیادہ صراحت کے ساتھ اس موضوع کو بیان کرتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے برطانوی مرکزی بینک کے سربراہ مارک کارنی (Mark Joseph Carney) نے کہا کہ “توقع کی جاتی ہے کہ [چینی] یوآن امریکی ڈالر کے لئے سنجیدہ رقیب کے طور پر ابھر آئے اور عالمی تجارت میں اصلی اور بنیادی زر مبادلہ میں تبدیل ہوجائے۔
یہ بہرحال ایک پیش گوئی ہے، لیکن دوسری طرف سے روس نے اپنے ڈالر کے ذخائر کم کرنا شروع کردیئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے ممالک امریکہ پر مزید اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔ روس کے مرکزی [یا اسٹیٹ] بینک نے حال ہی میں اعلان کیا کہ روس نے زر مبادلہ میں سے ڈالر کے ذخائر کو پہلی مرتبہ کافی حد تک کم کردیا ہے اور ۱۰۰ ارب ڈالر کو یورو، چینی یوآن اور جاپانی ین میں تبدیل کردیا ہے۔
چین عالمی اقتصادی چوڑیوں کو فتح کررہا ہے اور روس بھی حالیہ چند برسوں کے دوران مغربی ایشیا اور افریقہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں اچھی خاصی کامیابیاں حاصل کرچکا ہے۔ چین کا جنوب مغربی پڑوسی ملک “بھارت” بھی اپنی معیشت کو تیزرفتاری سے ترقی دے رہا ہے اور ماہرین کے تخمینوں کے مطابق سنہ ۲۰۳۰ع‍ تک امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری معیشت قرار پائے گا۔
یہ تبدیلی البتہ ناقابل تصور اور ناپیش بیں (Unpredictable) نہیں تھی۔ امریکہ کی قومی سراغرساں کونسل (National Intelligence Council) کے ۲۳۵ صفحات پر مشتمل تزویری تشخیص (یا Strategic evaluation) کے مطابق، ـ جس میں عالمی اقتصادی مستقبل کی پیش گوئی کی گئی ہے ـ چین پر عالمی معیشت کے مرکز قطب کے طور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
امریکی قومی سراغرساں کونسل نے سنہ ۱۹۹۷ع‍ سے اب تک ـ ہر چار سال ایک بار ـ غیر درجہ بند اور غیر خفیہ، تزویری تشخیصی رپورٹیں پیش کی ہیں، جن میں اگلے ۲۰ سالہ معاشی پیش بینیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تزویری تشخیصی رپورٹ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اعلی حکام کو پیش کی جاتی ہے تا کہ وہ اس کی بنیاد پر سوچ بچار اور منصوبہ بندی کریں۔
حالیہ تزویری تشخیصی رپورٹ میں ـ جو ۲۰۱۷ع‍ میں شائع ہوئی ہے ـ بھارت اور روس کے مستقبل پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ چنانچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، اور اس کے ساتھ معاشی روابط منظم کرنے، کو اپنی توجہ کا مرکز قرار دیا تھا، تاہم چین کی دیوقامت معیشت کے آگے امریکی طاقت کی تنزلی نے انہیں چند قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ یہ تزویری تشخیص ـ جو “ترقی کا تضاد” (Paradox of Progress) کے عنوان سے شائع ہوئی ہے ـ کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کی معیشت ـ خواہ سست رفتار ہی کیوں نہ ہو ـ ترقی کرے گی۔
اس تشخیص کے مطابق، چین اور روس مستقبل میں زیادہ طاقتور ہوجائیں گے۔ یہ دونوں طاقتیں ـ باوجود اس کے، کہ ان کی مادی ترقی میں کمی آئے گی ـ اپنے اثر و رسوخ کی حدود کو وسعت دینے کے درپے ہیں اور اپنی پالیسیوں کو اس انداز سے ترتیب دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ دنیا والے بآسانی سمجھ لیں کہ یہ دونوں ممالک اپنے اطراف کے ممالک میں امریکہ کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ روس وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے درپے رہے گا، چین سستا ایندھن وصول کرنے کے لئے کوشاں ہوگا اور بھارت، جو اپنی معاشی ترقی کے بموجب مزید طاقتور ہورہا ہے، اپنے مفادات کو ان علاقوں میں تلاش کرے گا اور ماسکو ـ واشنگٹن تعلقات کی سمتوں کا تعین کرے گا۔ بلقان کی حدود نیز یورپ کے دوسرے علاقوں میں روس کے اثر و رسوخ نے براعظم یورپ میں روس کے خلاف جذبات کو تقویت پہنچائی ہے۔ روس ایک طرف سے جتا رہا ہے کہ گویا وہ بین الاقوامی تعلقات کے درپے ہے اور دوسری طرف سے مغربی اداروں کو کمزور کرکے اس علاقے کی جمہوریت میں کچھ ایسے راہنماؤں کو بر سر اقتدار لانے کی کوشش کررہا ہے، جو امریکہ کے خلاف مزاحمت اور واشنگٹن کے ساتھ تقابل کو تقویت پہنچائیں گے۔
کیا عوام بھی اقتصادی رونق کا مزہ چکھ لیں گے؟
اس تزویری تشخیصی رپورٹ کے مطابق، اگلے اگلے برسوں میں عالمی معیشت، بڑی معیشتوں کے زیر اثر، پہلے سے زیادہ مالیاتی دباؤ، عدم استحکام اور عدم اطمینان کا سامنا کرے گی۔ یہ واقعات و حوادث خاص طور پر چین اور بھارت کی معیشت کے زیر اثر نمودار ہونگے، کیونکہ ان ممالک کی معیشت ـ خواہ ان کی رفتار اگلے برسوں میں کم ہی کیوں نہ ہو ـ دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرے گی۔ اس صورت حال نے انضمامِ وسائل اور اشتمال معیشت اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کے سلسلے میں شک اور تذبذب میں اضافہ کر لیا ہے۔ مستقبل میں دنیا کی دو بڑی معیشتوں ـ یعنی چین اور یورپی اتحاد ـ کو افرادی سرمائے کی تکمیل کے سلسلے میں سنجیدہ چیلجوں کا سامنا ہوگا، جس کی وجہ چین میں یہ ہے کہ عرصہ دراز سے وہاں خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلے میں “ایک دہائی، ایک بچہ” کی پالیسی ہے [اور یورپ کے زیادہ تر ممالک میں آبادی میں مسلسل کمی ہورہی ہے]۔ عالمی تجارت کی مزید آزادی ممالک میں قدامت پسندانہ جذبات مشتعل ہونے کا سبب بنے گی جس کے نتیجے میں ممالک اتحادوں سے پسپا ہوں گے۔
چونکہ چین مصنوعات کی مانگ کا رو بہ ترقی مرکز ہوگا، لہذا ممالک چین کے ساتھ سمجھوتہ کریں گے، چین کو مصنوعات کی ٹرانزٹ اور منتقلی کے بھاری اخراجات کی وجہ سے بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہ نقصانات عدم پیداوار کی صورت میں ظاہر ہونگے اور چونکہ چین نے پیداوار کے لئے وسیع سرمایہ کاریاں کی ہیں، یہ ملک عدم پیداوار کی وجہ سے مقروض ہوجائے گا اور اس کی منڈیوں میں عدم توازن میں اضافہ ہوگا اور چینی معیشت کی عظمت کی بنا پر، یہ عدم توازن چین پر بہت بڑے اخراجات مسلط کرے گا، جس کی وجہ سے عالمی اتار و چڑھاؤ دیکھنے میں آئے گا؛ اسی بنا پر مصنوعات کی منتقلی کے اخراجات میں کمی چین کے لئے حیاتی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ جب چین کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا، اس ملک کے اندر زندگی کا معیار درہم برہم ہوجائے گا، سماجی استحکام متاثر اور کمزور ہوگا اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی طاقت میں کمی آئے گی۔
چین کی آبادی بڑھاپے کا شکار ہے، اور آبادی کا بڑھاپا اس بات کا سبب ہوگا کہ یہ ملک سبکدوشی کے قوانین کو نرم کرے اور صحت و حفظان صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات عمل میں لائے؛ اور یہی مسئلہ بھی مزید پیچیدگیوں کا سبب بنے گا۔
چین پیداوار کے اخراجات میں اضافہ کرکے، یا حکومتوں کو ٹرانزٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب دلا کر نیز نقل و حمل کے ڈھانچے کو بہتر بناکر، مصنوعات کی منتقلی کے اخراجات کم کرسکتا ہے۔
یورپی معیشت میں فنی اوزاروں کی سطح عبوری دور سے گزر رہی ہے۔ بریگزٹ (Brexit) یعنی یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی سیاسی چیلنجوں کا سبب بنے گی؛ یونان، اطالیہ اور ہسپانیہ کے قرضوں کا مسئلہ بھی یورپی اتحاد کی مالیاتی زری پالیسیوں پر اثر انداز ہوگا۔ یورپ میں آزاد تجارتی نظام اور اقتصادی لبرلیت کے خلاف اٹھنے والی صدا بہت طاقتور ہوجائے گی۔ یورپ کے اندر عالمی اقتصاد میں ضم ہونے کی خواہش ماضی کی طرح طاقتور نہیں ہے۔
بھارت اپنی عظیم آبادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کامیابیوں کی بنا پر عالمی سطح پر اقتصادی ترقی کی استعداد رکھتا ہے؛ لیکن اس کو توانائی، نقل و حمل اور پیداواری ڈھانچے کے لحاظ سے اپنی قوت میں اضافہ کرنے پڑے گا۔ بھارت افرادی قوت کے لحاظ سے چین کی نسبت کم مسائل سے دوچار ہوگا تاہم اسے موجودہ زمانے میں روزگار کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے بنیادی تعلیم اور اعلی تعلیم کے شعبے پر زیادہ کام کرنا پڑے گا۔
افریقہ میں اقتصادی ترقی کے امکانات کے سلسلے میں امیدیں پائی جاتی ہیں لیکن سیاسی لحاظ سے ان علاقوں میں نسلوں کے درمیان کے عبوری دور کے سلسلے میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ افریقہ میں کام کاج کے قابل افراد قوت کی شرح نمو سب سے زیادہ ہے جو آئندہ دو دہائیوں میں ایک عظیم اقتصادی فائدہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی معیشت کے اشتمال (Integration) کو ایسی تحریکوں کی طرف سے خطرہ لاحق ہے جو عالمی تجارت اور آزاد منڈی کے خلاف اٹھ چکی ہیں۔ عالمی تجارتی ادارے (World Trade Organization [WTO]) کو بعض ممالک کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے جو تجارت کو محدود کرنا چاہتے ہیں یا بحرالکاہل کے آرپار شراکت داری (ٹی ٹی پی) (۱)، سے متعلق مفاہمتوں کی مخالفت کررہے ہیں۔
ٹیکنالوجی مستقبل میں بارآوری (Productivity) کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی لیکن یہ ہمیشہ سے مزدوروں کی پریشانی کا سرچشمہ بھی ہے۔ چنانچہ جب بارآوری کی بات ہوتی ہے تو ٹیکنالوجی کی ترقی ہی کلیدی اور حیاتی سمجھی جاتی ہے؛ خصوصا ان ممالک میں جہاں اقتصادی ترقی کے تحفظ کے لئے افرادی قوت اور انسانی سرمایہ کم پڑ جاتا ہے یا ایک ہی حالت میں باقی رہتا ہے۔ بنیادی ڈھانچہ، تحقیق اور ترقی، قوانین و ضوابط، انتظامی روشیں، تعلیم و تربیت وغیرہ بھی اہم ہیں جن کے لئے بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اندر کی طرف نگاہ
اگرچہ شمالی امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا جیسی صنعتی جمہوریتوں اپنے متوسط طبقے کے اندر فلاح و بہبود کے احساس کے تحفظ کی کوشش کررہی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ عوامیت (Populism) نیز مقامیت (Localism) کے محرکات کو بھی معتدل بنانا چاہتی ہیں۔ چنانچہ ان ممالک میں اندر کی طرف نگاہ، گذشتہ دہائیوں کی مہنگی بیرونی مہم جوئیوں کی جگہ لے لےگی۔ [اور یہ ممالک اندرونی معاملات سلجھانے کو ترجیح دیں گے]۔ یہ امکان یورپی اتحاد میں دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ ہوگا اور یورپی حکمرانی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرے گا اور اتحاد کے اندرونی چیلنجوں کو نمایاں کرے گا۔
یورپی اتحاد کے اندرونی اختلافات، آبادی سے متعلق مسائل اور اقتصادی پالیسیوں کا ناکامیاب نفاذ، ایک عالمی کردار کے طور پر یورپ کی پوزیشن کو خطرے میں ڈالے گا۔ اگلے پانچ سالوں میں، اتحاد سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے یا بریگزٹ سائے میں، یورپی روابط کی تعمیر نو کا اہتمام کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے یورپی اتحاد کمزور اور اس کے نتیجے میں بحر اوقیانوس کے آر پار [امریکہ ـ یورپ] تعاون کھوکھلا پڑ جائے گا۔ دوسری طرف سے پناہ گزینی کے خلاف پائے جانے والے جذبات عوامیت پسندی {Populism) کو فروغ دیں گے، جس کی وجہ سے یورپ کے سیاسی راہنماؤں کی اندرونی حمایت میں کمی آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://www.fdn.ir/news/25053
۱۔ Trans-Pacific Partnership [TPP]، ایک مفاہمت نامہ جس میں [چین کے سوا] بحر الکاہل کے ۱۲ ممالک شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی