صہیونیت کے تئیں امریکہ اور مغرب کی حمایت کے وجوہات

  • ۳۹۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: صہیونی لابیاں امریکی اور بعض مغربی ممالک کی سیاسی پالیسیوں میں انتہائی اہم اور بنیادی اثر و نفوذ رکھتی ہیں۔ ان لابیوں نے مغربی ممالک میں صہیونی مفادات کے حق میں سیاسی پالیسیاں عمل میں لانے کی بے انتہا کوششیں کی ہیں۔ ایسے حالات میں کہ امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور جرمن عوام لیبرالیزم سرمایہ دارانہ نظام کی چکی میں پس رہے ہیں صہیونی تنظیمیں ان کے معیشتی سرمایے کو بڑی آسانی کے ساتھ اسرائیل منتقل کرنے میں کوشاں ہیں۔
امریکہ
امریکہ میں صہیونی تنظیمیں بہت سرگرم اور فعال ہیں۔ AIPAC ( American Israel Public Affairs Committee) جیسی اہم تنظمیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں طاقتور ترین صہیونی لابیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ بعض عیسائیوں کی جانب سے جاری ان صہیونی تنظیموں کی حمایت در حقیقت صہیونی لابیوں کے امریکہ میں اس گہرے نفوذ کی وجہ سے ہے جو یہ چاہتی ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو آپس میں جوڑ کر اسلام کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر انہیں جمع کریں۔
’’ماؤنٹ ٹیمپل فاؤنڈیشن‘‘ امریکہ کے عیسائی صہیونیوں کی ایک اور بانفوذ ترین تنظیم ہے جس کا مرکز کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں واقع ہے اور اس کا مقصد ’’قدس‘‘ میں ’’معبد‘‘ کی تعمیر ہے۔ اس تنظیم کا عقیدہ یہ ہے کہ یہودی معبد (ہیکل سلیمان) کی تعمیر ان آخری علامتوں میں سے ایک ہے جس کا مسیح کے ظہور سے پہلے تحقق پانا ضروری ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ ہیکل سلیمانی (Temple of Solomon) موجودہ مسجد الاقصیٰ کی جگہ پر تعمیر ہونا چاہیے۔ ان کے اس نقشے میں ’’قدس الاقداس‘‘ کا مقام بھی معین کیا گیا ہے۔
صہیونی عیسائیوں اور یہودیوں کے اس عقیدے کہ مسجد الاقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی جائے کی جڑیں کیبالیسٹی تفکر Kabbalist ideas (یہودی تصوف) میں پائی جاتی ہیں۔ یہودی عیسائی تصوف سحر و جادو سے بھرا پڑا ہے۔ کیبالیسٹ کی اہم ترین کتاب ’’زوھر‘‘ ہے جس میں صرف غیب کی خبریں پائی جاتی ہیں۔ یہودی تصوف نے عیسائی معاشرے کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے آخری زمانے کی غیبی خبریں بیان کی ہیں جس کا حاصل صہیونیزم کی حمایت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
برطانیہ
برطانیہ عرصہ دراز سے یہودیت کا گہوارہ اور یہودیوں کے رشد و نمو کا مناسب پلیٹ فارم رہا ہے۔ برطانوی یہودی اس ملک کی صرف پانچ فیصد آبادی کو تشکیل دیتے ہیں۔ لیکن برطانوی سیاست میں ان کا گہرا اثر و رسوخ باآسانی اسرائیلی مفادات کو حاصل کر لیتا ہے۔ برطانوی یہودی اس ملک کے سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں اس قدر سرگرم ہیں کہ یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ برطانوی معیشت کی شہ رگ یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔
برطانیہ کی جانب سے صہیونی غاصب ریاست کی حمایت در حقیقت یہودی سیاستمدار اور سرمایہ دار گھرانوں جیسے روتھسلیڈ فیملی (Rothschild family) کے اس ملک کے سیاسی معیشتی میدان میں گہرے اثر و رسوخ کی وجہ سے رہی ہے۔ ۱۹۲۹ سے ۱۹۴۹ تک کے عرصے میں برطانیہ کے ۳۱ سرمایہ دار تاجروں میں ۲۴ تاجر یہودی تھے۔ برطانوی معیشت میں اثر و رسوخ رکھنے والے یہودی گھرانوں میں سے درج ذیل گھرانوں کا نام لیا جا سکتا ہے: Rothschild family,montefiore, Goldschmidt family, Samuel family, Badington family, sassoon family.
تجزیہ نگاروں کی نظر میں برطانیہ اور اسرائیل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور جب بھی اسرائیل کسی بحران کا شکار ہوتا ہے برطانوی وزیر اعظم اور اس ملک کے دیگر صہیونی سیاستدان اس غاصب ریاست کے تئیں اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہیں اور اس کے دفاع میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ لیکن عصر حاضر میں ایران، لبنان اور شام کا باہمی مزاحمتی اتحاد، صہیونی ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا اور برطانیہ، امریکہ اور فرانس کی حمایت صہیونی ریاست کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا پائے گی۔
فرانس
فرانس منجملہ ان ممالک میں سے ایک ہے جن کی قابل توجہ آبادی یہودیوں پر مشتمل ہے بلکہ یورپ کے تمام ممالک کی نسبت فرانس میں سب سے زیادہ یہودی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور فرانس کے اکثر یہودی صہیونیت کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ فرانس اور اسرائیل کے باہمی تعلقات دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت قریبی رہے ہیں۔
۱۹۵۶ میں فرانس اور برطانیہ نے اسرائیل کی حمایت میں ’’سینا جزائر‘‘ پر حملہ کیا اور ’’نہر سوئز‘‘ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ فرانس نے اب تک بے شمار فوجی اسلحہ اسرائیل کو فروخت کیا ہے اور ۱۹۵۰ کے بعد ایٹمی ہتھیار بنانے میں اسرائیل کی بے انتہا مدد کی ہے۔ فرانس اور اسرائیل کی ایٹمی سرگرمیاں اس قدر وسیع تھیں کہ ڈیمونا ایٹمی نیوکلر پلانٹ ۱۵۰ فرانسیسی انجینئروں کی مدد سے اسرائیل میں تاسیس کیا گیا۔
جب نکولاس سرکوزی (Nicolas Sarkozy) نے فرانسیسی حکومت کی لگام اپنے ہاتھ میں لی تو اس ملک کے سیاسی حالات میں عظیم تبدیلی آئی۔ سرکوزی نے اسرائیل کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو اس قدر مضبوط بنا دیا کہ شیرون کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے اسرائیل کو ڈیموکریسی کا بہترین نمونہ قرار دیا اور شیرون نے بھی فرانس کو اسرائیل کا بہترین دوست گردانا۔ سرکوزی نے صہیونی لابیوں کے مقابلے میں کہا: ’’میں پوری سچائی سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ ہر گز ان لوگوں سے ہاتھ نہیں ملاؤں گا جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے‘‘۔ غزہ کی ۲۲ روزہ جنگ اور لبنان کی ۳۳ روزہ جنگ میں سرکوزی نے اسرائیل کی بھرپور حمایت کی اگر چہ ان جنگوں میں اسرائیل کو شدید شکست کا سامنا ہوا۔
جرمنی
بہت سارے جرمن مفکرین اسرائیلی سیاستوں کے مخالف ہیں۔ ایک سروے کے مطابق جرمن شہری، اسرائیل کو عالمی صلح کی راہ میں سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور اس ملک کی ۵۳ فیصد آبادی جرمنی اور اسرائیل کے تعلقات کے مخالف ہے اور صرف چالیس فیصد ان تعلقات کو ضروری سمجھتے ہیں۔ جرمنی کے وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے حالیہ ایام میں جرمنی میں پائی جانے والی اسرائیل مخالف فضا میں اضافہ کی خبر دی۔ لیکن یہ یہودی مخالفت جرمنی میں موجود مسلمان مہاجرین کے سر ڈال دی اور جرمنیوں کو سبکدوش کر دیا۔ اسلاموفوبیا اور ایرانوفوبیا صہیونیزم کی ایک اہم ترین اسٹراٹیجی ہے کہ جو وہ اپنی نشستوں میں ’’ دہشت گردی اور اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف بین الاقوامی مہم‘‘ کے عنوان سے پیش کرتے ہیں۔
۱۹۵۳ سے اب تک جرمنی نے ۳۵ ارب ڈالر صہیونی ریاست کو عطیہ دیے ہیں۔ جرمنی کی موجودہ چانسلر ’’انجیلا میرکل‘‘ نے جرمنی اور اسرائیل کے باہمی تعلقات کو اعلیٰ ترین سطح تک پہنچا دیا ہے یہاں تک کہ انجیلا میرکل نے جنوری ۲۰۰۸ میں یہ اعلان کیا تھا کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اسرائیل کے قیام کی ۶۰ ویں سالگرہ کے موقع پر مشترکہ جشن منائیں گی۔ اس وقت بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ جرمنی کے صہیونی سربراہوں نے اسرائیل کی ۷۰ ویں سالگرہ کے جشن میں شرکت کر کے اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیا۔
منابع:
۱- مسیحیت صهیونیسم و بنیادگرای آمریکا، رضا هلال
۲- لابی صهیونیسم در ایالات متحده آمریکا، محسن اسلامی
۳- یهود، صهیونیسم و اروپا، ضحی ربانی خوارسگانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صہیونیت اور منجی عالم بشریت

  • ۴۲۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اگر چہ اسلامی مصادر میں ظہور کے وقت یہودیوں کے حالات کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں پائی جاتیں، لیکن قرآن کریم میں یہودیوں کی جو صفات بیان ہوئی ہیں خاص طور پر ان کی نسل پرستی،(۱) ان کا برگزیدہ قوم ہونا،(۲) اور پیغمبروں کا انکار کرنا، اور پھر مسلمانوں کی نسبت ان کی شدید دشمنی، ان چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ عصر غیبت میں وہ امام زمانہ کے دشمن ہیں آپ کے ظہور کے بعد بھی وہ اپنی دشمنی جاری رکھیں گے اور آپ کے ساتھ جنگ کے لیے آمادہ ہو جائیں گے۔
اس دشمنی کی ایک وجہ یہ ہے کہ قوم یہود تلمودی تعلیمات کی بنا پر خود ایک مسیحا یا عبرانی زبان میں ’ماشیح‘ کے منتظر ہیں جسے وہ موعود یا منجی کا نام دیتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ مسیحا اس وقت ظہور کریں گے جب قوم یہود تمام مقدس سرزمین پر تسلط پیدا کر لے گی۔ چنانچہ کتاب مقدس میں آیا ہے ’’ ہم تمہاری (ابراہیم) اولاد کو نیل سے فرات تک کی زمین عطا کرتے ہیں‘‘۔ (۳)
اس بنا پر وہ قائل ہیں کہ یہودی ہی صرف حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں چونکہ وہ جناب اسحاق اور ان کی اولاد کو ہی برحق سمجھتے ہیں اور اس بنا پر کتاب مقدس کی اس آیت کے مطابق صرف یہودی ہی نیل سے فرات تک کی زمین کے حقدار ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین پر اپنا قبضہ نہیں جما لیتے مسیحا ظہور نہیں کر سکتے۔
حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو سرزمین مقدس میں داخل ہونے اور جہاد کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ لیکن بنی اسرائیل ان کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں جس کی وجہ سے۴۰ سال تک بیابانوں میں سرگرداں ہو جاتے ہیں۔ اور آخر کار جناب طالوت اور جناب داؤود کے زمانے میں یہ وعدہ تحقق پاتا ہے اور جناب سلیمان کے دور میں دوبارہ اقتدار یہودیوں کے ہاتھ میں آتا ہے۔ (۴)

یہودیوں کے ساتھ صہیونی عیسائی بھی ہم صدا
لہذا توریت میں جو اللہ نے یہودیوں کے ساتھ وعدہ کیا وہ حضرت سلیمان کے دور میں پورا ہو گیا اور وہ سرزمین مقدس پر قابض ہوئے۔ لیکن جو چیز یہاں پر قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں صہیونی عیسائی بھی یہودیوں کے ساتھ ہم صدا اور ہم نوا ہو چکے ہیں۔ جبکہ عیسائی یہ جانتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ مسیحا بن کر قوم یہود کے لیے آئے تھے اس قوم نے انکی نبوت کا انکار کیا اور آخر کار انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا بلکہ اپنی طرف سے انہیں قتل کر دیا لیکن اللہ نے انہیں بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔
عصر حاضر میں امریکہ اور برطانیہ رہنے والے اکثر عیسائی بنی اسرائیل اور یہودیوں کے ساتھ ہم نوا ہو کر مسیح کے پلٹنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن عیسائیوں میں ایک پروٹیسٹنٹ نامی فرقہ ہے جو آخر الزمان کے موضوع کو لے کر بہت ہی حساس ہے اور انتہاپسند یہودیوں کے ساتھ مل کر مسیح کے ظہور کے لیے مقدمات فراہم کرنے میں بے انتہا سرمایہ لگا رہا ہے۔
یہ فرقہ قائل ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے ایک مسیحا ظہور کرے گا مگر اس سے قبل فلسطین میں ایک خطرناک ایٹمی جنگ ہو گی جس کے حوالے سے انہوں نے تاہم دسیوں فلمیں بھی بنائی ہیں۔
انہوں نے ان فلموں کے اندر یہ یقین دہانی کروانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں لوگ دو طرح کے ہیں ایک شرپسند اور دوسرے خیر پسند۔ خیر پسند صہیونی ہیں چاہے وہ یہودی ہوں یا عیسائی، جبکہ شرپسند مسلمان، عرب یا اسرائیل کے مخالف لوگ ہیں۔ اور اس جنگ میں شرپسند تمام طاقتیں ختم ہو جائیں گی اور ہزاروں سال حکومت صہیونیوں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بقول اسی خطرناک جنگ کے دوران مسیح ظہور کریں گے جو عیسائیوں کی حمایت کریں گے۔ اسی وجہ سے ۲۰ ویں صدی عیسوی کے ابتدا سے ہی بنیاد پرست عیسائیوں اور انتہا پسند یہودیوں نے سیاست میں قدم رکھا اور اسرائیل کو جنم دیا اور اب اپنا حیرت انگیز سرمایہ لگا کر صہیونی ریاست کی حفاظت میں کوشاں ہیں اور منتظر ہیں اس وقت کے جب فلسطین میں خیر و شر کی غیر معمولی جنگ ہو گی اور اس میں مسیح ظہور کر کے انہیں نجات دیں گے اور پھر ہزاروں سال دنیا پر صہیونی حکومت ہو گی۔
حواشی
1 – بقره: ۱۱۱ و ۱۱۳ و ۱۲۰ ، ۱۳۵
2- بقره: ۸۷
3- الکنیسة ، ۱۹۸0م؛ سفر التکوین الأصحاح الخامس عشر، ۲0 ص ۲۳.
4- مائده: 26-21
    
ماخذ: فصلنامه مشرق موعود، مواجهه امام زمان علیه السلام با قوم یهود در عصر ظهور، سعید بخشی، سید مسعود پورسید آقایی، تابستان 1396، سال یازدهم، شماره 42، ص86-39.
 

 

صہیونیت عالم بشریت کے لیے ناسور

  • ۴۳۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: دوسری جنگ عظیم کے بعد، جب یہودی پوری دنیا سے اپنے افراد کو جمع کر کے ایک ملک کی تشکیل کی کوشش میں تھے تو بہت سارے عراقی یہودی اس مقصد کو پورا کرنے کی طرف ذرہ برابر بھی مائل نہیں تھے۔ جس کی اصلی وجہ، عراق میں عربوں اور یہودیوں کی عرصہ دراز سے آپس میں ملی جلی زندگی تھی۔
صہیونیوں نے یہ طے کیا کہ عراق کے یہودیوں پر دھشتگردانہ حملے کروا کر عراقی مسلمانوں کی نسبت ان میں نفرت کا بیج بوئیں اور انہیں اسرائیل کی طرف بھاگنے کے لیے تیار کریں۔ سی آئی اے کے سابق رائٹر ویلبر کرین اولنڈ (wilbur crane eveland) یوں لکھتے ہیں: صہیونیوں نے عراق میں یہودیوں کے مذہبی مراکز اور امریکہ سے متعلق اداروں جیسے امریکی انفارمیشن سروس لائبریری میں بم بلاسٹ کروائے تاکہ اس طریقے سے عراقیوں کی امریکہ کی نسبت مخالفت ثابت کریں اور یہودیوں کے اندر خوف و دھشت پھیلائیں‘‘۔
اولنڈ مزید اس بارے میں لکھتے ہیں: عراق میں بہت تیزی سے ایسے اطلاعیے منتشر ہوئے کہ جن کے ذریعے یہودیوں کو اسرائیل کی طرف بھاگنے کی ترغیب دلائی جانے لگی۔ دنیا کے اکثر لوگوں نے عربوں کے دھشتگرد ہونے اور عراقی یہودیوں کے اسرائیل بھاگے جانے کے حوالے سے شائع کی جانے والی رپورٹوں پر یقین کر لیا‘‘۔
اسی طرح عراقی یہودی نعیم گیلادی جو خود ان واقعات میں تشدد کا شکار بنے لکھتے ہیں: اسلامی سرزمینوں میں سکونت پذیر یہودی اپنی مرضی اور چاہت سے فلسطین کی طرف ہجرت کر کے نہیں گئے بلکہ صہیونی یہودی اس مقصد سے کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے یہودی اپنے ملکوں کو چھوڑ کر فلسطین بھاگ جائیں انہیں قتل کرتے تھے‘‘۔
یہاں پر یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ صہیونیت تمام عالم بشریت کے لیے ایک خطرناک وائرس اور ناسور ہے جو کبھی بھی انسانوں کی نابودی کا باعث بن سکتی ہے۔ چونکہ صہیونی فکر کے مالک افراد اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیے کسی بھی جرم کا ارتکاب کرنے سے گریز نہیں کرتے یہاں تک کہ اپنی قوم اور اپنے ہم مذہب افراد کو بھی اپنے مفاد کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔
ماخذ:
رائٹر: Alison Weir
کتاب کا نام: Against our better judgment: the hadden history of how the U.S was used to create Israel.

 

اسرائیل کی معیشت گھراوٹ کا شکار

  • ۴۹۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل کی معیشت، بازار اور ٹیکنالوجی پر چلتی ہے۔ اسرائیل خام تیل، دالیں، خام مواد اور جنگی اسلحہ درآمد کرتا اور ہیرے، ہائی ٹیکنالوجی کا سامان اور زرعی مصنوعات کو برآمد کرتا ہے۔
۲۰۰۸ وہ سال ہے جس سال اسرائیل کی برآمدات اور سالانہ پیداوار میں قابل توجہ ترقی ہوئی، البتہ یورپی یونین جو اسرائیل کی سب سے بڑی تجارتی حصہ دار ہے وہ اس سلسلے میں غیر مؤثر نہیں تھی۔ اس معیشتی ترقی کی وجہ سے اسرائیل نے اپنی فوج کو قوی کر لیا اور بہت سارے مہاجرین کو اپنی طرف جذب کیا، لیکن آج ایک طرف سے طولانی اور طاقت فرسا جنگوں اور دوسری طرف سے حکومت کی بے لیاقتی، سماجی مشکلات اور نسل پرستی جیسے گہرے مسائل اس ریاست کی معیشتی صورت حال کو روز بروز کمزور کر رہے ہیں۔
challenge کی ماہنامہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سالوں میں اس ریاست کی اقتصادی پوزیشن بڑھ رہی تھی اس طریقے سے کہ ۱۹۸۲ میں ۰٫۲۲۲ سے ۲۰۰۵ میں ۰٫۳۹۲ تک پہنچ گئی لیکن ۲۰۰۶ میں لبنان کے ساتھ ہوئی صیہونی ریاست کی ۲۲ روزہ جنگ میں اسے جہاں جنگی اعتبار سے شکست کا سامنا ہوا وہاں اسے اقتصادی طور پر بھی شدید دھچکا لگا اور اسرائیل کی اقتصادی صورتحال ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف گامزن ہو گئی۔

 

گریٹر اسرائیل کے اہداف و مقاصد

  • ۴۸۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل کے ایک سابقہ وزیر اعظم اسحاق رابن کے یہ ہیجان انگیز الفاظ قابل توجہ ہیں کہ “ہر یہودی چاہے وہ مذہبی ہو یا لادینی (سیکولر) یہ عہد کرتا ہے کہ اے یروشلم! اگر میں تجھے بھول جاوں تو میرا دایاں ہاتھ برباد ہو”۔ صہونیوں نے بیان بازی پر ہی اکتفا نہیں کیا (اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی طرح) ایک منظم اور مستحکم پالیسی ترتیب دی اور اسے عملی شکل دینے کے سلسلے میں کئی ظالمانہ اور کٹھور اقدامات اٹھائے۔ دجل و فریب کے تمام ممکنہ ہتھکنڈے استعمال کئے۔ فلسطینی مسلمانوں کو شہر بدر کرکے اس میں یہودیوں کو بڑے ہی شدو مد سے بسایا۔ وقتا ً فوقتا ًاس شہر میں اسلامی شعائر و آثار مٹانے کی کوششیں کیں حتیٰ کہ مسجد اقصیٰ میں آگ بھی لگادی۔ بیت المقدس میں عبادت پر پابندی لگا دی۔ بارہا مسجد اقصی کے فرش کو فلسطین کے نمازیوں کے خون سے رنگین بنایا گیا۔ اسرائیل کی نیت اور کاروائیوں کے پیش نظر ۱۹۸۶ میں اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر ۱۹ کے تحت اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی گئی جب مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی توہین کی گئی تھی۔ مگر دوسری جانب امریکی جائنٹ چیفس آف اسٹاف کی ایک خفیہ رپورٹ زیر نما ۱۹۴۸/۱۱ مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۴۸ کے مطابق عظیم اسرائیل کا جو خاکہ تیار ہوا تھا اس پر اسرائیلی صیہونیت اور عالمی سامراجیت مرحلہ وار عمل پیرا ہے اور اس سلسلے میں عرب کی آمریت اپنے آقاوں کے مقاصد کی آبیاری میں مشغول ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جس شجرِ ملعونہ (گریٹر اسرائیل) کی عرب حکمران آبیاری کررہے ہیں۔ اسکے مہیب سائے ان کے شاہی محلوں اور حکومتی ایوانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق گریٹر اسرائیل کے چند ایک درج ذیل اہداف مقرر ہوئے ہیں۔
۱۔ ابتدا میں فلسطین کے ایک حصے پر یہودی اقتدار
۲۔ پھر فلسطین میں یہودیوں کا غیر محدود داخلہ(جو اب تک جاری ہے)
۳۔ پھر، پوری فلسطین پر یہودی اقتدار کی توسیع
۴۔ اسکے بعد اردن، لبنان، شام (بلکہ اس کے آگے) ارضِ اسرائیل کی توسیع
۵۔ پھر، پورے شرقِ اوسط پر اسرائیل کو فوجی، سیاسی اور معاشی تسلط۔(بحوالہ مغرب اور عالم اسلام۔۔۔ ایک مطالعہ۔۔ از خرم مراد)

 

صہیونی معاشرے میں بڑھتی دراڑوں کی حقیقت

  • ۴۶۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل کے اندر معاشرتی دراڑیں مختلف سطحوں پر اور مختلف پہلووں میں پائی جا رہی ہیں، جبکہ سیاسی مشینریاں بعض دراڑوں کو عمیق بنانے میں جیسے قومی دراڑ و شگاف اور مذہبی و سیکولر طبقے کے درمیان بڑھتی خلیج کے باقی رکھنے میں اپنا رول ادا کر رہی ہیں ۔کہا جا سکتا ہے کہ کم از کم چار طرح کے قابل ذکر شگاف صہیونی معاشرہ میں پائے جا رہے ہیں ، یہ شگاف حسب ذیل ہیں :
۱۔ اعراب و یہودیوں کے درمیان تاریخی اور قومی شگاف
۲۔ یہودیوں کے درمیان نسلی شگاف
۳۔ یہودیوں کے درمیان دینی شگاف
۴۔ صہیونی سماج میں طبقاتی شگاف
یہ وہ دراڑیں ہیں جو بعض جگہوں پر ایک دوسرے کی شدت کا سبب بن رہی ہیں اور صہیونی رژیم کی آبادی کی تقسیم اس بات کا سبب بنی ہے کہ ان دراڑوں میں اور بھی گہرائی پیدا ہو چنانچہ صہیونی صدر جوکہ ہرتزلیا کانفرنس ۲۰۱۵ء میں اس کانفرنس کے بنیادی و اصلی مقررین کے طور پر مدعو تھا خود اس نے ہی صہیونی معاشرہ میں وسیع پیمانہ پر پائے جانے والی دراڑوں اور وہاںک کے آپسی اختلافات و تفرقوں کو ایک بڑے خطرہ کے طور پر بیان کرتے ہوئے ان دراڑوں اور تفرقوں کے وجود کا اعتراف کیا ۔ روئن ریولین نے اس کانفرنس میں کہا : گزشتہ ۹۰ کی دہائی میں اسرائیلی معاشرہ ایک بڑی اکثریت و چھوٹی اقلیت سے تشکیل پاتا تھا جس میں اکثریت کا تعلق صہیونیوں سے تھا جو کہ تین اقلتیوں ، مذہبی صہیونیوں، عربوں اور افراطی آرتھوڈکسوں حریدیوں کے ساتھ اسرائیل سماج کو تشکیل دیتا تھا ۔ شاید آج بھی اسرائیل میں بہت سے لوگ یہ سوچتے ہوں اور ذرائع ابلاغ اور اسرائیل نظام کے لوگ یہ سوچتے ہوں کہ اسرائیلی سماج اب بھی اپنی پرانی حالت پر ہے ۔لیکن اس وقت سے لیکر اب تک حقیقت بنیادی طور پر تبدیل ہو چکی ہے فی الحال صورت حال یہ ہے کہ پہلے درجہ کے شہری سیکولر صہیونی ۳۸ فیصد قوم پرست و مذہبی۱۵ فیصد ۲۵ فیصد عرب اور ۲۵ فیصد افراطی آرتھوڈکس ہیں بہرحال آبادی کی بناوٹ کی تبدیلی ایک ایسی حقیقت ہے جو آج اسرائیل کے موجودہ چہرہ کو پیش کر رہی ہے اور اس موجودہ صورت حال میں حقیقت یہ ہے کہ کسی گروہ کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہے اور کوئی اقلیت چھوٹی نہیں ہے۔

 

یہود ستیزی کا ڈرامہ یہودی ریاست کی تشکیل کے لیے بہانہ

  • ۴۰۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: صہیونی موومنٹ کا اصلی مقصد ایک ایسی حکومت کی تشکیل تھا کہ جس میں دنیا بھر میں بکھرے ہوئے یہودی یہودیوں کی نابودی سے فرار کرتے ہوئے وہاں پناہ لے سکیں لیکن اس کی حقیقت کچھ اور ہی ہے ، یہودیوں کا قتل عام اور یہود ستیزی تو ایک بہانہ تھا کہ یہودیوں کو اس کے ذریعہ ہجرت کرنے پر وادار کیا جا سکے اور اس کے ذریعہ صہیونی اہداف کو حاصل کیا جا سکے ۔
یہودیوں کی ایجنسی کے سربراہ ڈیوڈ بن گوریان نے امریکی و یہودی کے ایک مشترکہ اجتماع میں اس سلسلہ سے کہا تھا : صہیونیت کے اصولوں میں سے ایک تمام یہودیوں کو اسرائیل لانا تھا ، ہم مختلف گھرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمار ی مدد کریں تاکہ ہم انکے بچوں کو اسرائیل لے جائیں البتہ یاد رہے کہ اگر وہ ایسا نہیں بھی کریں گے تو ہم زبردستی انہیں اسرائیل لے جائیں گے ،، ان جملوں کا مطلب یہ ہے کہ صہیونی اہداف کے امتداد میں یہودیوں کی اپنی رائے اور انکی اپنی نظر کی کوئی اہمیت نہیں ہے .حتی بیت المقدس میں عبری یونیورسٹی کے بانیوں میں ایک ڈاکٹر ماگنس اس سلسلہ سے لکھتے ہیں : ہمارا ہمیشہ سے یہ خیال رہا کہ صہیونزم کی تحریک دنیا میں یہودی ستیزی کے ختم ہونے کا سبب ہوگی لیکن آج ہم اس کا بالکل الٹا اثر دیکھ رہے ہیں ۔
صہیونیوں نے یہود ستیزی سے سب سے زیادہ ناجائز فائدہ ہٹلر کے سامنے آنے کے بعد اٹھایا ، ماریس ارنسٹ رفیوجی اور ملک بدری امور سے متعلق بین الاقوامی ادارہ روزولٹ کے نمائندہ اس بارے میں کہتے ہیں :
جب یہودیوں کے لئے میں جرمنی میں ایک امن و سکون کی جگہ تلاش کر رہا تھا اس وقت یہودی میرے اس کام کے خلاف تھے اور میرا مذاق اڑا رہے تھے حتی شدت کے ساتھ میرے اوپر حملہ آور تھے ۔
صہیونیت کا نفاق اس وقت واضح ہوتا ہے جب آڈلف ایشمن نازیوں کا ایک سربراہ فلسطین جاتاہے اور یہود ایجنسی کے سربراہوں جیسے بن گارین ، ٹڈی کوکل وغیرہ سے ملاقات کرتا ہے جسکے بموجب ان لوگوں نے نازیوں سے ٹرانسفر کے توافق کے تحت ایک قرارداد پر بھی دستخط کئیے تاکہ وہ یہودی جو فلسطین ہجرت کر کے جانا چاہتے ہیں وہ اپنے سرمایہ کو منتقل کر سکیں جبکہ یہ اس وقت کی بات ہے جب یہودیوں نے جرمنی پر پابندیاں عائد کی ہوئی تھیں ۔
جوبات مسلم ہے وہ یہ کہ فلسطین میں اسرائیلی حکومت کی تشکیل کی خاطر دنیا میں بہت سے یہودیوں کو صہیونزم کے جعلی یہود ستیزی کے ڈرامہ کا شکار ہونا پڑا ۔
Alison Weir
Against our better judgment: the hadden history of how the U.S was used to create Israel.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

سامراجیت کے لیے بہائیت کی بے لوث خدمات

  • ۶۳۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فرقہ بہائیت نے جو سامراجی نظام خصوصا برطانیہ کے لیے خدمات انجام دیں اس کی ایک مثال پہلی جنگ عظیم میں عثمانی بادشاہت کی سرنگونی کی غرض سے برطانیہ کے لیے جاسوسی تھی جس کے بدلے میں انہیں کافی مراعات ملیں۔
’شوقی افندی‘ کے بقول صہیونیت کی حاکمیت کے دوران بہائی اوقاف کے نام سے فلسطین میں ایک شاخ قائم کی گئی کہ جس سے ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا اور اس کے علاوہ بہائیوں کے مقدس مقام کے نام پر دنیا بھر سے جو کچھ فلسطین آتا تھا وہ کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس سے معاف ہوتا تھا۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ صہیونی یہودی، فلسطین کو برطانیہ کے قبضے سے الگ کروانے سے پہلے سلطان عبد الحمید کے پاس گئے، اور انہیں مختلف وعدے دے کر ان کی رضایت کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور ان سے اس سرزمین کو یہودیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن چونکہ انہوں نے اس معاملے میں یہودیوں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا اسی وجہ سے ان سے اس سرزمین کی حاکمیت چھین لی گئی۔
سلطان عبد الحمید چونکہ بہائیوں اور انگریزوں کے باہمی پروپیگنڈوں سے آگاہ ہو گئے تھے اس وجہ سے انہوں نے اپنی سلطنت کے خاتمے سے قبل بہائیوں کے سربراہ کے قتل اور اس کی نابودی کا حکم دے دیا۔ شوقی افندی اپنی کتاب ’قرن بدیع‘ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ عثمانی حکمران ’جمال پاشا‘ نے ’عباس افندی‘ کو جاسوسی کے جرم میں قتل کی دھمکی دی۔
اس بار بھی برطانیہ بہائیوں کی فریاد کو پہونچتا ہے اور ان کی خدمتوں کا صلہ دیتے ہوئے ’’لورڈ بالفور‘‘ فلسطین میں برطانیہ کے جنگی کمانڈر ’اللنبی‘ کو ایک خط کے ذریعے حکم دیتا ہے کہ ’عبد البہاء‘ (عباس افندی) اور اس کے خاندان کو فوج کی حمایت میں رکھے اور ہر طرح کے خطرے اور گزند سے محفوظ رکھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے قیام کے بعد ’عباس افندی‘ کی خدمتوں کا بدلہ دیتے ہوئے اسی برطانوی جنرل نے انہیں (sir) کا لقب دیا۔
کچھ عرصے کے بعد جب عباس افندی فوت کر جاتے ہیں تو فلسطین میں برطانوی کمیشنر اور معروف صہیونی شخصیت ’سر ہربٹ ساموئل‘ برطانیہ کی جانب سے افندی کے خاندان کو تسلیت پیش کرتے ہیں اور بذات خود افندی کے تشییع جنازہ میں شرکت کرتے ہیں۔
عباس افندی کے بعد شوقی افندی بہائیت کی سربراہی کی لگام کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور بہائیت اور صہیونیت کے درمیان تعلقات کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں۔
ماخذ
1 – فصلنامه تاریخ معاصر ایران، بهائیت و اسرائیل: پیوند دیرین و فزاینده، شکیبا، پویا، بهار 1388، شماره 49، ص 640-513.
2- فصلنامه انتظار موعود، پیوند و همکاری متقابل بهائیت و صهیونیسم، تصوری، محمدرضا، بهار و تابستان 1385، شماره 18، ص 256-229.

 

اسرائیل کی تشکیل اور بہائیت و صہیونیت کے گہرے تعلقات

  • ۶۳۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بہائی فرقہ اگرچہ ابتدائے وجود سے ہی یہودیوں سے وابستہ تھا لیکن یہ گہرے تعلقات اس وقت وجود میں آئے جب یہ فرقہ ’روسی زارشاہی‘ سے جدا ہوا اور برطانوی سامراج سے جڑ گیا اور اس کے بانیان نے فلسطین میں سکونت اختیار کر لی۔ خیال رہے کہ فلسطین اس دور میں برطانوی قبضے میں تھا۔ ۱۹۴۸ میں برطانوی استعماری حکومت کی کوششوں اور فرقہ ضالہ ’بہائیت‘ کے تعاون سے صہیونی ریاست تشکیل پائی۔ ہم اس مختصر تحریر میں بہائیت اور صہیونیت کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
آپ کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہو گا کہ ’میرزا حسین علی نوری‘ یا وہی ’بہاء اللہ‘ نے صہیونی ریاست کی تشکیل سے پہلے اپنے پیروکاروں کو یہ خوشخبری اور بشارت دی تھی کہ یہودی حکومت تشکیل پائے گی اور سرزمین موعود یعنی فلسطین میں دوبارہ بنی اسرائیل کو عزت و سربلندی حاصل ہو گی۔ یہ دعویٰ اس قدر واضح تھا کہ حتیٰ اطالوی اخباروں نے بھی اس دور میں اس خبر کو شائع کیا۔
بہاء اللہ کے جانشین ’عباس افندی‘ اپنے باپ کی طرح بعض یہودی سربراہان جیسے ’اسحاق بن زوی‘ کے ساتھ ۱۹۰۹،۱۰ عیسوی کے دوران یعنی اسرائیل کی تشکیل سے ۴۰ سال قبل ملاقاتیں کرتے رہے اور ان کے مشوروں کے ساتھ اپنی سرگرمیاں انجام دیتے رہے۔ وہ صہیونی ریاست کی تشکیل کے بارے میں اپنے ایک پیروکار ’حبیب مؤید‘ کے نام خطاب میں یوں پیش گوئی کرتے ہیں:
’’یہ فلسطین ہے، سرزمین مقدس، عنقریب یہودی قوم اس سرزمین پر واپس پلٹ آئے گی۔ اور داؤودی حکومت اور سلیمانی جاہ و حشمت قائم ہو گی۔ یہ اللہ کے سچے وعدوں میں سے ایک ہے اور اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں۔ یہودی قوم اللہ کے نزدیک دوبارہ عزیز ہو گی اوردنیا کے تمام یہودی ایک جگہ جمع ہو جائیں گے۔ اور یہ سرزمین ان سے آباد ہو گی‘‘۔
عباس افندی روتھشیلڈ گھرانے سے بھی ملاقات کرتے تھے۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے حبیب مؤید کے نام ایک اور خط میں لکھا: ’’مسٹر روتھشیلڈ جرمنی کے ایک ماہر نقاش ہیں۔ انہوں نے حضور مبارک کے تمثال کی تصویر کشی کی ہے اور مجھے دعوت دی ہے کہ میں اس تصویر کے نیچے چند کلمے لکھوں اور وہ اس کا جرمنی میں ترجمہ کر کے شائع کریں‘‘۔
نیز افندی کی زوجہ ’روحیہ ماکسل‘ اپنی کتاب ’’گوہر یکتا‘‘ جو ان کے شوہر کی سوانح حیات پر مبنی ہے میں عباس افندی اور صہیونی رہنما ’موشہ شارٹ‘ کے درمیان گہرے تعلقات کا راز فاش کرتی ہیں۔
عباس افندی نہ صرف صہیونیوں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے بلکہ ان کی عدم موجودگی میں ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ مثال کے طور پر بہاء اللہ ایک عیسائی نامہ نگار کے ساتھ اپنی گفتگو میں کہتے ہیں:
"کچھ دن پہلے، ’کرمل‘ اخبار کے مالک میرے پاس آئے، تو میں نے ان سے کہا کہ اب دینی اور مذہبی تعصب کے خاتمہ کا دور ہے، انہوں نے کہا: یہودی دیگر جگہوں سے آ رہے ہیں اور یہاں زمین خرید رہے ہیں، بینک کھول رہے ہیں، کمپنیاں کھول رہے ہیں، فلسطین کو لینا چاہتے ہیں، اور اس پر سلطنت کرنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا: یہ اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سرزمین میں حکومت کریں گے، یہ اللہ کا ارادہ ہے، کوئی ان کے مقابلے میں نہیں آ پائے گا، دیکھیں سلطان حمید اس جاہ و حشمت کے ساتھ کچھ نہ کر سکے‘‘۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ بہائیوں اور صہیونی یہودیوں کے درمیان تعلقات مرزا حسین علی کے دور سے ہی موجود تھے، لیکن عباس افندی کے زمانے میں ان تعلقات میں مزید گہرائی اور گیرائی آئی۔ خیال رہے کہ عباس افندی کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب صہیونی یہودی فلسطین میں یہودی حکومت کی تشکیل کے لیے بھرپور جد و جہد کر رہے تھے۔
منبع: فصلنامه تاریخ معاصر ایران، بهائیت و اسرائیل: پیوند دیرین و فزاینده، شکیبا، پویا، بهار 1388، شماره 49، ص 640-513.

 

عیسائیوں پر یہودیوں کا تشدد

  • ۳۹۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ’’صہیونیسٹ کونسل آف امریکہ‘‘ کی تشکیل کے بعد اس کونسل نے صہیونیسٹ کے خفیہ بجٹ سے دو کمیٹیوں بنام ’’امریکی فلسطینی کمیٹی‘‘ (۱)اور ’’فلسطینی عیسائی کونسل‘‘(۲) کو جنم دیا تاکہ وہ اس طریقے سے امریکہ کے رہنے والے عیسائیوں کی حمایت حاصل کر سکیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ دو کمیٹیاں پہلی عالمی جنگ سے قبل امریکہ کے ہزاروں عیسائی افراد کو اپنی طرف جذب کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
عیسائیوں کی صہیونی سیاستوں کے تئیں حمایت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ غریب اور فقیر عوام کی مدد کرنا چاہتے تھے اور چونکہ صہیونی ہمیشہ مختلف ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعے دوسری عالمی جنگ کے بعد یہودیوں کی ابتر حالت کا ڈنڈھورا پیٹتے تھے اور ان کو ستم دیدہ اور مظلوم افراد ظاہر کرتے تھے کہ ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے سر چھپانے کے لیے مکان نہیں ہیں۔
ڈونالڈ نیف(۳) ۱۴ مئی ۱۹۴۸میں صہیونیوں کے عیسائی بستیوں پر کئے گئے حملے کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’عیسائیوں کے بعض گروہ اس بات کی شکایت کرتے تھے کہ مئی کے مہینے میں صہیونیوں نے عیسائیوں کے کلیساؤں اور انسان دوستانہ اداروں پر حملہ کر کے سینکڑوں بچوں، بے سہارا لوگوں اور پادریوں کو تہہ تیغ اور زخمی کیا تھا۔ مثال کے طور پر ان عیسائی رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ بہت سارے بچوں کو یہودیوں کی طرف سے آرتھوڈوکس کاپیک کنونٹ( Orthodox Coptic Convent) نے گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا‘‘۔
نیف ایک کیتھولک پادری کی زبان سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’یہودی فوجیوں نے ہمارے چرچ کے دروازوں کو جلا دیا اور چرچ کی تمام قیمتی اور مقدس چیزوں کو چرا لیا۔ انہوں نے اس کے بعد حضرت مسیح کے مجسموں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ یہ اس حال میں ہے کہ یہودیوں کے رہنماؤں نے اس سے قبل اس بات کی ضمانت دی ہوئی تھی کہ مذہبی عمارتوں اور مقدس مقامات کی بے حرمتی نہیں کریں گے۔ لیکن ان کا کردار کسی بھی اعتبار سے ان کی گفتار کے مطابق نہیں تھا‘‘۔
مآخذ:
۱۔ amercan palestine committce
۲۔ chistian council on palestine
۳۔ Donald Neff بیت المقدس میں مجلہ ٹائمز کے سابق سربراہ