اسرائیل جمہوری یا اپارتھائیڈ ریاست؟

  • ۴۳۲

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: کتاب ’’اسرائیل جمہوری یا اپارتھائیڈ ریاست؟‘‘ (Israel: Democracy or Apartheid State?) امریکی تجزیہ کار، سیاسی کارکن اور محقق ’جوش روبنر‘ (Josh Ruebner) کی کاوش ہے۔ موصوف نے مشیگن یونیورسٹی (University of Michigan) سے علوم سیاسیات میں بے اے اور جانز ہوپکینز(Johns Hopkins University) سے بین الاقوامی روابط میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ روبنر اس وقت فلسطینی انسانی حقوق تنظیم کے سیاسی رہنما ہیں۔
مذکورہ کتاب کے مقدمے میں مصنف نے فلسطینی عوام کے ساتھ صہیونیوں کی جنگ، برطانوی حکومت کی طرف سے بالفور اعلانیہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے سرزمین فلسطین میں یہودیوں اور عربوں کے لیے دو الگ الگ ملکوں کی تشکیل کی پیشکش جیسے مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اگر چہ اقوام متحدہ کی پیشکش نے اسرائیلی ریاست کی تشکیل کو کسی حد تک تاخیر میں ڈال دیا لیکن آخرکار تقریبا ۵۰ سال کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجی طاقت سے فلسطین کے ایک عظیم حصے کو اپنے قبضے میں لے لیا۔
روبنر کوشش کرتے ہیں اس کتاب میں تاریخی دستاویزات اور حقوقی و سیاسی تجزیوں کے ذریعے اس سوال کا جواب دیں کہ کیا مقبوضہ فلسطین میں قائم صہیونی ریاست جمہوری ریاست ہے یا اپارتھائیڈ ریاست؟
یہ کاوش ۲۱ مختصر حصوں پر مشتمل ہے جو ۲۰۱۸ میں منظر عام پر آئی۔ مصنف نے اس کتاب  ’’اسرائیل؛ جمہوری یا اپارتھائیڈ ریاست؟‘‘ کا ایک ایسے فلسطینی گاؤں جو ۱۹۴۸ کی جنگ میں اجھڑ گیا تھا کے سفر سے آغاز کیا اور بعد والے حصوں میں اسرائیلی معیشت، اسرائیل کی تاریخ ۱۹ ویں صدی کے اواخر کے بعد، صہیونیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے راہ ہائے حل، امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات، BDS تحریک کی نسبت صہیونی ریاست کا رد عمل اور تشدد و جارحیت کے ذریعے موجودہ صورتحال کے کنٹرول کے لیے اسرائیل کی توانائی جیسے موضوعات کو مورد گفتگو قرار دیا ہے۔ نیز مصنف نے کتاب کے ایک حصے کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے مختص کیا ہے۔
جوش روبنر ساری کتاب میں کوشش کرتے ہیں کہ صہیونی ریاست کو ایک اپارٹھائیڈ ریاست کے عنوان سے پہچنوائیں۔ وہ اپنے اس نظریے کی تائید میں کہتے ہیں: ’’اپارتھائیڈ کا مفہوم اپنی ذاتی خصوصیات اور ان معانی جو جنوبی افریقہ پر اطلاق ہوتے تھے سے الگ ہو گیا ہے اور اس وقت ایک خاص اور عالمی مفہوم اور تعریف میں تبدیل ہو چکا ہے۔  موجودہ دور میں اپارتھائید ایسے اقدامات کے مجموعے کو کہا جاتا ہے کہ جس کے ذریعے ایک خاص نسل کو ملک کے سماجی، سیاسی، معیشتی اور ثقافتی امور میں حصہ لینے سے روک دیا جاتا ہے۔  بالکل واضح ہے کہ صہیونی ریاست کی تمام پالیسیاں منجملہ فلسطینیوں کے ساتھ فوجی سلوک، بین الاقوامی تعریف کے مطابق اپارتھائیڈ کی مصادیق ہیں۔

صہیونی ریاست اپنے زوال سے خوفزدہ

  • ۳۹۱

بہت ساری وجوہات ہیں جن کی بنا پر صہیونی ریاست اپنے زوال سے خوفزدہ ہے، ان وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ صہیونیوں نے شیطان کے دل میں بسیرا ڈالا ہے۔ یعنی اس غاصب اور طفل کش ریاست کی جڑیں شیطان کے وجود سے پھوٹتی ہیں اسی وجہ سے یہ شیطانی ریاست قائم و دائم نہیں رہ سکتی اور ہمیشہ ایک خدائی طاقت اس کے مقابلے میں موجود ہے۔
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، نابودی کا خوف، ایک اہم چیلنج ہے جو ہمیشہ یہودی قوم اور صہیونی ریاست کو دھمکا رہا ہے۔ موجودہ دور میں سرزمین فلسطین کو غصب اور ستر سال سے زیادہ عرصے سے اس میں جرائم کا ارتکاب، نیز پوری دنیا کے میڈیا پر قبضہ کرنے کے باوجود اس ریاست پر اپنی نابودی کے کالے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
اسی وجہ سے صہیونی ریاست کے حکام کے خصوصی جلسوں میں صرف اپنی بقا پر ہی غور و خوض کیا جاتا ہے۔ یہودی ایجنسی کے ڈائریکٹر بورڈ کے حالیہ جلسے جو ڈائریکٹر بورڈ کے سربراہ ’’ناٹن شارنسکی‘‘ کی موجودگی میں منعقد ہوا اور جلسہ میں انتخابات کے بعد ’’اسحاق ہرٹزوک‘‘ کو ناٹن شارنسکی کا نائب صدر مقرر کیا، میں انہوں نے یہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے فورا بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہمیں یہودیوں کو متحد کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس مقام تک پہنچنا ہے کہ ہمیں یقین ہو جائے کہ یہودی نابود نہیں ہوں گے۔ یہودی، یہودی ہے ضروری نہیں ہے کہ وہ کیسا لباس پہنے اور کس پارٹی سے منسلک ہو، ہم سب ایک ہیں۔
اسی سلسلے سے صہیونی تنظیم نے ’’قدس میں کتاب مقدس کی اراضی‘‘ کے زیر عنوان ایک سروے کیا جس میں آدھے سے زیادہ صہیونیوں نے صہیونی ریاست کی مکمل نابودی کی نسبت تشویش کا اظہار کیا۔
صہیونی آبادکاروں کے چینل نمبر ۷ کی رپورٹ کے مطابق، یہ سروے ۵۰۰ یہودیوں کے درمیان انجام دیا گیا جن کی عمر ۱۸ سال سے ۶۵ سال کے درمیان تھی سروے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ۴۲ فیصد یہودیوں نے صہیونی ریاست کی مکمل نابودی کی رائے دی جبکہ ۱۰ فیصد نے اسرائیل کی نسبت اظہار تشویش کیا۔ (۴) سروے کی رپورٹ کے مطابق، مذہبی یہودیوں کو زیادہ تر تشویش اس بات سے ہے کہ پوری دنیا صہیونی ریاست سے نفرت کا اظہار کر رہی ہے۔
یہودی قوم ڈرپوک اور بزدل
زوال کے خوف کی ایک وجہ یہودیوں کا ڈرپوک اور بزدل ہونا ہے۔ ان کے اندر یہ صفت اس وجہ سے پائی جاتی ہے چونکہ وہ حد سے زیادہ دنیا سے وابستہ ہیں۔ قرآن کریم کے سورہ آل عمران کی آیت ۱۱۲ میں یہودیوں کی اس صفت کی مذمت کی گئی ہے۔ خداوند عالم اس آیت میں ارشاد فرماتا ہے: «ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ أَیْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْکَنَةُ ذَلِکَ بِأَنَّهُمْ کَانُوا یَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللَّهِ وَیَقْتُلُونَ الْأَنْبِیَاءَ بِغَیْرِ حَقٍّ ذَلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوا یَعْتَدُونَ، ’’ان پر ذلت کے نشان لگا دئے گئے ہیں یہ جہاں بھی رہیں مگر یہ کہ خدائی عہد یا لوگوں کے معاہدے کی پناہ مل جائے، یہ غضب الہی میں رہیں گے اور ان پر مسکنت کی مار رہے گی۔ یہ اس لیے کہ یہ آیات الہی کا انکار کرتے تھے اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے تھے۔ یہ اس لیے کہ یہ نافرمان تھے اور زیادتیاں کیا کرتے تھے‘‘۔
اس آیت کی تفسیر میں آیا ہے کہ یہودی ہمیشہ ذلیل و خوار تھے۔ اگر چہ بسا اوقات انہوں نے دنیا کی معیشت یا سیاست پر قبضہ جمایا۔ لیکن انسانی وقار، عزت و سربلندی اور امن و سکون کے اعتبار سے بدترین منزل پر رہے ہیں۔ ( جیسے چور اور ڈاکو جو اگر چہ چوری کر کے، ڈاکہ مار کے عظیم مال و ثروت کے مالک بن جاتے ہیں لیکن انسانی اقدار کے حوالے سے ان کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہوتا)۔ لہذا «ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ»
صہیونی ریاست کی جڑیں شیطانی افکار میں پیوست
یہودی ریاست کے خوفزدہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی بنیادیں شیطانی افکار پر قائم ہیں۔ اس غاصب اور طفل کش ریاست کی جڑیں شیطان کے وجود سے پھوٹتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ کبھی بھی قائم و دائم نہیں رہ سکتی۔ اس کے مقابلے میں اسلامی حکومت ثابت قدم اور استوار ہے۔ اگر چہ دنیا ساری کے ذرائع ابلاغ مشرق سے لے کر مغرب تک اس نظام حکومت کے خلاف عمل پیرا ہیں۔
سینکڑوں مفکر اور ماسٹر مائنڈ روز و شب اس کام پر جٹے ہوئے ہیں کہ کوئی نہ کوئی سازش، کوئی منصوبہ کوئی پراپیگنڈہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنم دیں اور اسے متزلزل کرنے کی کوشش کریں لیکن اسلامی نظام کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچا سکتے۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لیے ہے کہ اس نظام حکومت کا قیام خدا پر ایمان اور توکل کی بنا پر ہے۔
صہیونی ریاست اور دنیا کے ظالمین کا زوال اس وجہ سے ہے کہ ان کی بنیاد ظلم، باطل اور شیطانی افکار پر قائم ہے خداأوند عالم نے خود ان کی نابودی کا وعدہ دیا ہے۔ قرآن کریم جب حق و باطل کے تقابل کی منظر کشی کرتا ہے تو یوں فرماتا ہے:
«اَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ اَوْدِیَهٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَداً رَابِیاً وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْیَه اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهُ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَاءً وَاَمَّا مَا یَنفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الاْرْضِ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الاْمْثَالَ»؛
’’اس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیوں میں بقدر ظرف بہنے لگا اور سیلاب میں جوش کھا کر جھاگ پیدا ہو گیا جسے آگ پر زیور یا کوئی دوسرا سامان بنانے کے لیے پگھلاتے ہیں۔ اسی طرح پروردگار حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے کہ جھاگ خشک ہو کر فنا ہو جاتا ہے اور جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتا ہے اور خدا اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے‘‘۔ (سورہ رعد، ۱۷)
دینی علماء کی مجاہدت صہیونی ریاست کی نابودی کا ذریعہ
صہیونیوں کے خوفزدہ ہونے کی ایک وجہ مشرق وسطیٰ میں مخلص، متدین اور مجاہد علماء کا وجود ہے۔ وہ علماء جنہوں نے دین کی حقیقت کو پہچانا ہے اور دین کو صرف نماز و روزے میں محدود نہیں جانتے ہمیشہ سے باطل طاقتوں کے لئے چیلنج بنے رہے ہیں اور باطل طاقتیں ان کے چہروں میں اپنی نابودی کا نقشہ دیکھتی رہی ہیں۔
اس کی ایک مثال رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے یہ الفاظ ہیں  جو آپ نے ۸ ستمبر ۲۰۱۵ کو اپنی ایک تقریر کے دوران بیان فرمائے تھے: تم (صہیونیو) آئندہ ۲۵ سال کو نہیں دیکھ پاؤ گے۔ انشاء اللہ آئندہ ۲۵ سال تک اللہ کے فضل و کرم سے صہیونی ریاست نام کی کوئی چیز علاقے میں نہیں ہو گی‘‘۔ آپ کا یہ بیان عالمی ذرائع ابلاغ میں ایسے پھیلا جیسے خشک جنگل میں آگ پھیلتی ہے۔ اس بیان نے صہیونی رژیم کے منحوس وجود پر لرزہ طاری کر دیا۔ اور اس کے بعد سے آج تک وہ صرف اپنی بقا کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔ خدا کرے ان کی یہ جد و جہد خاک میں ملے اور طفل کش صہیونی رژیم ہمیشہ کے لیے صفحہ ھستی سے محو ہو جائے۔

 

 

یہودی اسکولوں میں بچوں کو دی جانے والی تعلیم

  • ۵۱۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ’’عرب اور مسلمان نجس حیوان کے مانند ہیں اگر وہ دیکھیں کہ تم ڈر گئے ہو اور ان کی حرکتوں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کر رہے ہو تو تم پر حملہ کر دیں گے، لیکن اگر تم ان پر حملہ کرنے میں پہل کرو گے تو وہ فرار کر جائیں گے‘‘ ۔
یہ کوئی ایسے جملے نہیں ہیں جو غلطی سے کسی کتاب میں چھپ گئے ہوں بلکہ یہ جملے ان کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں جو اسرائیل میں یہودی بچوں کو پڑھائی جاتی ہیں۔
عربوں، مسلمانوں اور دیگر اقوام کی نسبت صہیونی نسل پرستی کا یہ ایک نمونہ ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ صہیونی پوری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے ہیں کہ مسلمانوں اور عربوں کی درسی کتابوں میں یہودیوں کے خلاف مضامین موجود ہیں جس سے اسلامی ممالک میں یہودیت مخالف فضا پھیل رہی ہے۔
مقبوضہ فلسطین کے علاقے ’’المثلث‘‘ میں ’مرکز مطالعات تربیتی‘ کے سربراہ ڈاکٹر خالد ابو عصبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کے مسلمانوں اور عرب فلسطینیوں کے خلاف منفی افکار کی ترویج کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر ابوعصبہ کا کہنا ہے کہ وہ عربوں کا ایک شدت پسندانہ چہرہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں گویا کہ وہ انسان ہی نہیں ہیں وہ انسانیت اور تہذیب و تمدن سے کوسوں دور ہیں اور عورتوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کا باعث بنتی ہے کہ یہودی بچے بچن سے ہی مسلمانوں کی نسبت نفرت اپنے دلوں میں لے کر بڑے ہوتے ہیں۔