یہودیوں کی خونخواری کے کچھ اور نمونے

  • ۱۴۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:

جرمنی
سنہ ۱۹۳۹ع‍ میں ایک جرمن رسالے میں عجیب تصویر شائع ہوئی۔ رسالے “سٹرمر” (der Stürmer) کے اس شمارے کو دین یہود میں انسانی قربانیوں کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ مجلے کی جلد پر ایک انسانیت سوز جرم کی تصویر تھی۔ اس انسانیت سوز جرم کا ارتکاب یہودیوں کے سوا کسی نے بھی کیا تھا۔ انھوں نے ایک طفل کو قتل کیا تھا اور اس کے خون کے آخری قطرے تک کو نکال دیا۔  
سنہ ۱۲۳۵ع‍ میں جرمنی کے فولڈٹ نامی علاقے سے پانچ بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں اور یہودی مشتبہ ٹہرے اور انہیں پکڑا گیا تو انھوں نے اقرار کیا کہ “انھوں نے ان بچوں کو طبی ضروریات کی بنا پر ہلاک کیا ہے”۔ اس واقعے پر یہودیوں سے انتقام لیا گیا اور ان میں بہت ساروں کو ہلاک کیا گیا۔
سنہ ۱۲۶۱ع‍ میں بادیو (Badeu) نامی علاقے میں ایک عورت نے اپنا سات سالہ بچہ یہودیوں کو فروخت کیا اور انھوں نے اس کو قتل کیا اور اس کے خون کے آخری قطرے تک کو محفوظ کیا اور بچے کی لاش کو دریا میں پھینک دیا۔ اس واقعے میں ملوث کئی یہودیوں کو پھانسی کی سزا ہوئی اور دو یہودیوں نے خودکشی کرلی۔
سنہ ۱۲۸۶ع‍ میں شہر اوبروزل (Oberwesel) میں یہودیوں نے “ویز” نامی ایک عیسائی بچے کو تین دن تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ اور پھر اس کو الٹا لٹکایا اور اس کے خون کے آخری قطرے کو نکالا۔ کچھ عرصہ بعد بچے کی لاش دریا سے برآمد ہوئی۔ اس کے بعد ہر سال ۱۹ اپریل کو اس بچے کے صلیب پر لٹکائے جانے کی یاد منائی جاتی تھی۔ درندگی کی یہ واردات سنہ ۱۵۱۰ع‍ کو دوبارہ براڈنبرگ (Brandenburg) میں دہرائی گئی۔ یہودیوں نے ایک بچے کو خرید لیا، صلیب پر لٹکایا اور اس کے خون کے آخری قطرے کو نکالا۔ یہودی گرفتار ہوئے تو انھوں نے اعتراف جرم کیا اور ۴۱ یہودیوں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔
 
شہر مایتز (Mytez) میں ایک یہودی نے ایک ۳ سالہ بچے کو اغوا کیا اور اس کا خون نکال کر اسے قتل کیا؛ ایک یہودی ملوث پایا گیا اور آگ کے سپرد کیا گیا۔ اس طرح کے واقعات جرمنی میں کئی کئی بار دہرائے گئے اور تمام ملوث افراد یہودی تھے۔ یہ واقعات سنہ ۱۸۸۲ع‍ میں عوام کے ہاتھوں بڑی تعداد میں یہودیوں کے قتل عام پر منتج ہوئے۔
۲۲ اور ۲۳ مارچ، ۱۹۲۸ع‍ کی درمیانی رات کو شہر گلاڈبیک (Gladbeck) میں ہلموٹ ڈاب (Helmut Daube) نامی ۲۰ سالہ نوجوان کو ذبح کیا گیا اور اس کا خون محفوظ کیا گیا اور دوسرے روز اس کی سر کٹی لاش اس کے والدین کے گھر کے سامنے سے برآمد ہوئی جبکہ اس کے اعضائے تناسلی بھی غائب تھے۔
اس جرم کا اصل مجرم ہزمین (Huszmann) نامی یہودی تھا۔
مورخہ ۱۷ دسامبر سنہ ۱۹۲۷ع‍ کو ایک پانچ سالہ بچہ اغوا ہوا اور کچھ دن بعد اس کی لاش ملی۔ ذمہ دار اہلکاروں نے بتایا کہ قتل کی یہ کاروائی دینی مقاصد کے لئے انجام پائی ہے لیکن اس واردات میں حتی ایک یہودی پر مورد الزام نہیں ٹہرایا گیا!!
 
یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ بچے اپنی پاکیزہ روح کی بنا پر، دیوتا “یہوہ” کے لئے بہترین قربانی کا درجہ رکھتے ہیں
سنہ ۱۹۳۲ع‍ میں شہر پیڈربرن (Paderborn) ایک لڑکی کا مردہ جسم برآمد ہوا، ایک یہودی قصائی اور اس کے بیٹے کو مورد الزام ٹہرایا گیا۔ اعلانہ ہوا کہ یہ واقعہ بھی دینی مقاصد کی بنا پر رونما ہوا ہے۔
ہسپانیہ
سنہ ۱۲۵۰ع‍ شہر زاراگوزا (Zaragoza) میں ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی جس کو صلیب چڑھایا گیا تھا اور اور اس کے بدن میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ سنہ ۱۴۴۸ع‍ میں ایسا ہی واقعہ اسی شہر میں دہرایا گیا۔ اس واقعے میں یہودیوں نے ایک بچے کو صلیب چڑھایا اور اس کا پورا خون عید فصح کے لئے نکالا۔ کچھ یہودیوں کو مجرم پایا گیا اور پھانسی دی گئی۔ اس ۱۴۹۰ع‍ میں تولیدو (Tolido) نامی شہر میں ایک یہودی نے ایک بچے کے قتل میں اپنے دیگر شرکاء کے نام فاش کردیئے۔ اس جرم کے نتیجے میں آٹھ یہودیوں کو پھانسی دی گئی۔ سنہ ۱۴۹۰ع‍ کا واقعہ ہسپانیہ سے یہودیوں کی جلاوطنی کا اصل سبب تھا۔
 
سوئیٹزرلینڈ
سنہ ۱۲۸۷ع‍ کو شہر برن (Berne) میں ایک عیسائی بچے روڈولف (Rudolf) کو مالٹر (Matler) نامی صاحب ثروت یہودی کے گھر میں ذبح کیا گیا۔ یہودیوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک یہودی شخص کا مجسمہ بنایا گیا جو ایک شیرخوار بچے کو کھا رہا تھا۔ مجسمہ یہودیوں کے محلے میں نصب کیا گیا تا کہ یہودیوں کو ان کی درندگی پر مبنی جرائم کی یاددہانی کرائی جاتی رہے۔ یہ سنگی مجسمہ آج بھی برن میں موجود ہے۔
آسٹریا
سنہ ۱۴۶۲ع‍ کو شہر انسبرک (Innsbruck) میں آنڈریاس آکسنر (Andreas Oxner) نامی عیسائی لڑکا یہودیوں کو فروخت کیا گیا۔ یہودی اسے جنگ لے گئے اور ایک چٹان کے اوپر ذبح کیا اور اس کے خون کو عید کے دن استعمال کیا۔ اس درندگی کے بعد یہودیوں کے خلاف بڑے فیصلے ہوئے اور اس کے بعد یہودی مجبور تھے کہ اپنے بائیں بازو پر پیلے رنگ کی پٹی باندھ کر گھر سے نکلا کریں تاکہ لوگ انہیں پہچانیں اور اپنے بچوں کی بہتر انداز سے حفاظت کرسکیں۔
اٹلی
سنہ ۱۴۷۵ع‍ کو اٹلی کے شہر ٹیرنٹ میں ایک یہودی ڈاکٹر نے سائمن (Simon) نامی دو سالہ عیسائی بچہ یہودی مقدس رسومات کے ایام میں اس کے والدین کی غیرموجودگی میں گھر سے چوری کرلیا۔ بچہ غائب ہوا تو نگاہیں یہودیوں کی طرف گئیں اور یہودیوں نے بھی تلاش میں حصہ لیا اور راز فاش ہونے کے خوف سے بچے کی لاش کو لاکر کہا کہ یہ ہم نے تلاش کرلی ہے اور بچہ پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوا ہے۔ لیکن تفتیش کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ بچہ ڈوبا نہیں بلکہ اس کی گردن، ہاتھوں اور پاؤں پر بےشمار گھاؤ لگے ہوئے ہیں جن سے بچے کے خون کا آخری قطرہ بھی نکالا گیا ہے۔ یہودیوں نے مجبور ہوکر اعتراف جرم کیا لیکن اپنے اس غیر انسانی عمل کا جواز پیش کرتے ہوئے کہ انہیں مذہبی رسومات میں قربانی کے لئے اس بچے کی ضرورت تھی اور اس کے خون سے عید فصح کی روٹی تیار کی گئی۔ سات یہودی اس جرم کے بموجب تختہ دار پر لٹکائے گئے۔
سنہ ۱۸۴۰ع‍ کو وینس (Venice) میں بھی تین یہودیوں کو ایک عیسائی بچے کی قربانی کے جرم میں پھانسی دی گئی۔
سنہ ۱۴۸۵ع‍ کو شہر پاڈوا (Padua) کے نواح میں لورنزین (Lorenzin) نامی عیسائی بچی یہودیوں کے ہاتھوں ذبح ہوئی۔
سنہ ۱۶۰۳ع‍ کو شہر ویرونا (Verona) میں ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی جس کے بدن سے ماہرانہ انداز میں خون کی ایک ایک بوند تک نکالی گئی تھی۔ اس قضیئے میں کئی یہودیوں کو سزائیں ہوئیں۔
مجارستان (ہنگری)
سنہ ۱۴۹۴ع‍ کو شہر تیرانان (Teranan) میں یہودیوں نے ایک بچے کو صلیب پر لٹکایا اور اس کے جسم کا پورا خون نکال لیا۔ ایک معمر خاتون نے درندگی کی اس واردات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا چنانچہ اس نے واقعے میں ملوث افراد کو متعارف کرایا۔ یہودیوں نے تفتیش اور مقدمے کے دوران اعتراف کیا کہ انھوں نے چار دوسرے بچوں کو بھی ذبح کیا ہے اور ان کے خون کو “طبی مقاصد” کے لئے استعمال کیا ہے۔
اپریل ۱۸۸۲ع‍ کو یہودیوں کی خونی عید سے کچھ دن پہلے ۱۴ سالہ عیسائی لڑکی ٹریسا ایزلر (Tisza-Eszlar) کے نواح میں یہودیوں نے ۱۴ سالہ عیسائی لڑکی ایستر سالیموسی (Esther Solymosi) کو اغوا کیا۔ اسے آخری بار یہودی عبادتخانے کے باہر دیکھا گیا تھا۔ لوگوں کی توجہ یہودیوں کی طرف گئی۔ عبادت خانے کے ملازم جوزف شارف (Josef Scharf) کے دو بچوں ساموئل اور مورتیز (Samuel and Mortiz) نے اپنے باپ پر الزام لگایا اور کہا کہ ان کے والدین نے اس کو درندگی کا نشانہ بنا قتل کیا۔ لڑکی کی لاش ہرگز نہیں ملی۔ کئی یہودیوں نے کہا کہ انھوں نے عید فصح کے لئے لڑکی کے قتل میں حصہ لیا تھا۔ عبادتگاہ کے ملازم کے ایک بیٹے نے کہا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کہ لڑکی کے خون کو ایک بڑے برتن میں جمع کیا گیا۔ ۱۵ یہودی ملوث پائے گئے، مقدمہ ۱۹ جنوری سے ۳ اگست تک جاری رہا اور ماضی میں اتنا طویل مقدمہ کبھی نہیں لڑا گیا تھا۔ یہودی مال و دولت نے عیسائی لڑکی کا خون پامال کرہی لیا اور مجرمین اقرار جرم کے باوجود بےگناہ قرار دیئے گئے۔ یہودی درندگی کی یہ واردات پورے یورپ میں یہودیوں کے خلاف زبردست نفرت اور دشمنی پھیل جانے کا باعث ہوئی۔ (تو یہودی دشمنی یورپ میں بےسبب نہیں ہے)۔
 
روس
سنہ ۱۸۲۳ کو شہر ویلیژ (Velizh) میں یہودیوں کی عید فصح کے موقع پر ایک اڑھائی سالہ عیسائی بچہ لاپتہ ہوا اور ایک ہفتہ بعد اس کی لاش کو شہر کے قریبی تالاب سے برآمد کیا گیا۔ جس کے ننھے جسم پر نوکدار کیلوں کے لگنے سے بے شمار زخم آئے تھے، بچے کو کیلوں کے ذریعے زخمی کرنے کے بغیر اس کا ختنہ بھی کیا گیا تھا اور بدن میں خون کی ای بوند بھی نہیں پائی گئی، چنانچہ چند سال بعد تین روسی عورتوں سمیت پانچ یہودی حراست میں لئے گئے، جنہوں نے اقرار جرم کیا اور تین روسی عورتوں کو ـ جنہوں نے یہودی مذہب اختیار کیا تھا ـ سائبریا جلاوطن کیا گیا جبکہ یہودیوں کو بری کیا گیا جبکہ انھوں نے بھی اعتراف جرم کیا تھا لیکن یہودی پیسہ یہاں بھی کام آیا۔
یہودیوں کے ہاتھوں اغوا کی وارداتیں جاری رہیں۔ دسمبر ۱۸۵۲ع‍ میں ایک دس سالہ عیسائی بچہ اغوا ہوا۔ یہودیوں کو اس جرم میں ملوث پایا گیا اور انھوں نے بچے کے قتل اور اس کا خون جاری کرنے کا اقرار کرلیا۔
جنوری ۱۸۵۳ع‍ میں ایک ۱۱ سالہ بچہ اغوا کیا گیا اور اس کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا گیا جو دوسروں کے ساتھ روا رکھا گیا تھا۔ یہودیوں کو ملوث پایا گیا۔
مورخہ ۲۰ مارچ سنہ ۱۹۱۱ع‍‍ کو شہر کیف (Kiev) کے نواحی علاقے سے ایک ۱۳ سالہ عیسائی بچے آندیری یوشچنکی (Andrei Yushchinsky’s) کی لاش برآمد ہوئی جس کو چاقو کے ۴۸ وار کرکے قتل کیا گیا تھا اور اس کا پورا خون نکالا گیا تھا۔ قتل میں مناحیم مینڈل بیلیس نامی حسیدی (Hasidic) فرقے کا یہودی ملوث پایا گیا اور اس پر سنہ ۱۹۱۳ع‍ میں مقدمہ چلایا گیا لیکن آخرکار اسے بھی بری کیا گیا اور اس مقدمے کی وجہ سے سلطنت روس پر یہودی دشمنی کے الزام میں زبردست عالمی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہودی قاتل بہر حال بری ہوا اور قاتل پر مقدمہ چلانے والے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ (چمک کی برکت سے)۔
ترکی
سنہ ۱۸۳۹ع‍ میں دمشق کے کسٹمز اہلکاروں نے ایک یہودی سے خون کی ایک بوتل برآمد کرلی۔ یہودی نے ۱۰۰۰۰ پیاسٹر رشوت کی پیشکش کرتے ہوئے مسئلہ دبانے کی درخواست کی۔
سنہ ۱۸۴۰ع‍ کو یہودیوں کی عید “پوریم” کے موقع پر جزیرہ روڈز (Rhodes island) میں ایک یونانی عیسائی تاجر کا ۸ سالہ بچہ لاپتہ ہوا۔ اس کو آخری بار یہودی محلے میں دیکھا گیا تھا۔ وہ کچھ یہودیوں کو انڈے پہنچانے کے لئے اس محلے میں پہنچا تھا۔
ترک بادشاہ یوسف پاشا نے یونانی عوام کے شدید مطالبے پر یہودی محلے کو گھیر لیا اور یہودی سرغنوں کو گرفتار کرکے قید کرلیا۔ دائرۃ المعارف یہود طبع چہاردہم، کے صفحہ ۴۱۰ پر اقرار کیا گیا ہے کہ یہودی سرمایہ دار اور برطانوی یہودیوں کا سربراہ موسی مونتفیوری (Moses Montefiore) بیچ میں آیا اور ترک دربار کو بھاری رشوت دی۔ عثمانی سلطنت کے بینکوں کا یہودی سربراہ “کونٹ کمانڈو (Count Camondo) نے حقیقت کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہودی سرمائے کی قوت نے نہ صرف اس جرم کے دوران حق کو چھپایا اور دبایا بلکہ بہت سے دوسرے واقعات میں حق کشی میں مصروف رہی تھی اور آج تک مصرف ہے۔
 
یہودی آج بھی خاموشی سے خونخواری میں مصروف ہیں لیکن روش بدل گئی ہے
گوکہ یہودیوں کی آج کی جرائم پیشگی ذرا عجیب سے معلوم ہو لیکن یہودی خونخواری کی روایت میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ چونکہ آج کے زمانے میں جرم کا تیزی سے سراغ لگایا جاتا ہے اور قانون کا تعاقب کچھ زیادہ رائج اور ناگزیر اور رشوت وسیع سطح پر بدنامی کا سبب بنتی ہے چنانچہ یہودیوں نے روش بدل دی ہے، بڑوں کو چھوڑنا پڑا ہے لیکن شیرخواروں کا خون چوسنا جاری و ساری ہے۔
 
یہ بہت ہی نفرت انگیز روش ہے جس میں بچے کا ختنہ کئے جانے کے فورا بعد ان کا خون چوسا جاتا ہے۔ یہ عمل بہت سی بیماریاں پھیلنے اور متعدد بچوں کی ہلاکت کا سبب بن رہا ہے۔
 
ایک یہودی حاخام (رابی) کی ختنہ گاہ کو حفظان صحت کے اصولوں کے برعکس اور نہایت دردناک انداز سے، ختنہ کرنے کے بعد بچے کی ختنہ گاہ سے خون چوستے ہوئے۔
 
ایک شیرخوار بچے کے جسم پر انفیکشن کے اثرات، اس بچے کا خون یہودی خاخام نے چوس لیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
کچھ حوالے:
۱۔ Bernard Lazare, “Antisémitisme: son histoire et ses causes”, Published in France in 1894.
۱۔ Arnold Leese, Jewish Ritual; Murder, published in 1938, Chapter 10.
۲۔ اس عید کو پسح، یا عید فطیر یا مصاها یا Easter بھی کہا جاتا ہے۔
۳۔ الکنز المرصود فی قواعد التلمود، صص ۲۲۳-۲۲۴۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ
۱٫ الیهود و القرابین البشریة – محمد فوزی حمزة، دار الأنصار. مصر
۲٫ نهایة الیهود – أبو الفدا محمد عارف، دار الاعتصام. مصر
۳٫ المسألة الیهودیة بین الأمم العربیة و الأجنبیة – عبد الله حسین، دار أبی الهول. مصر
۴٫ روزنامه الشعب مصر، شماره ۱۳۱۶ تاریخ ۱ دسامبر
۵٫ الیهود و القرابین البشریة، مصطفی رفعت، به آدرس زیر:
http://www.oboody.com/mychoice/03.htm
http://www.fatimamovement.com/i-jewish-talmud-exposed-7.php#Babylonian-Talmud-148
http://www.bibliotecapleyades.net/sociopolitica/esp_sociopol_bohemiangrove03.htm
منبع: mshrgh.ir/357083
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کس قوم کو “تاریخ کی خونخوارترین قوم” کا خطاب ملا؟

  • ۱۵۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ : یہودیوں اور خونریزیوں کے درمیان کا ناطہ کوئی نیا نہیں ہے۔ یہودی قوم کی درندگی، وحشی پن اور خونخواری کا اندازہ مقبوضہ سرزمینوں میں فلسطینیوں کے خلاف ان کے جاری اقدامات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہودی قوم کی تاریخ اور گذشتہ صدیوں میں ان کے کرتوتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے تحریف شدہ دین اور تعلیمات کے عین مطابق، بنیادی طور پر، خونریزی اور خونخواری پر زور دیتے ہیں۔ یہودی بچہ [یہودی ماں کی کوکھ] سے پیدا ہوتا ہے تو اس کا ختنہ کیا جاتا ہے اور یہیں سے خونخواری کا آغاز ہوتا کیونکہ یہودی رابی [حاخام] عمل ختنہ سے نکلنے والے خون کو چوس چوس کر پی لیتے ہیں اور یہ سلسلہ “یہوہ” کے لئے انسانوں کی قربانی دینے، قربان ہونے والے انسان کے خون کو مٹھائیوں میں ملانے تک جاری رہتا ہے۔
 
ڈاکٹر “ایریک بسکوف” (Erich Bischoff) قوم یہود کے بارے میں لکھتے ہیں: “یہودی فلسفے اور اس کی تعلیمات میں ان اجنبیوں کا قتل جائز ہے جو حیوانات کے برابر ہیں اور یہ کشت و خون شرعی احکام کے دائرے میں ہونا چاہئے اور جو لوگ دین یہود کی تعلیمات پر یقین نہیں رکھتے، انہیں قربانی کے طور پر بڑے دیوتا کی خدمت میں پیش کرنا چاہئے”۔
رچرڈ فرانسس بورٹن (Richard Francis Burton) ـ جنہوں نے عرصہ دراز تک تلمود کی تعلیم حاصل کی ہے ـ اپنی کتاب “یہودی، خانہ بدوش اور اسلام” (The Jew, The Gypsy, and El Islam) مطبوعہ سنہ ۱۸۹۸ع‍] میں لکھتے ہیں: “تلمود کے مندرجات کے مطابق، یہودیوں کے درمیان دو خونی رسمیں پائی جاتی ہیں جن کے ذریعے “یہوہ” کو خوشنود کیا جاسکتا ہے، ان میں سے ایک انسانی خون سے آلودہ روٹیوں کی عید ہے ـ جو در حقیقت وہی عید فصح ہی ہے ـ اور دوسری رسم یہودی بچوں کا ختنہ کرنے کی رسم ہے” جس سے نکلنے والے خون کو یہودی حاخام چوس چوس کر پی لیتے ہیں۔
 
غیر یہودی انسانوں کے قتل کے موضوع کی اہمیت کو دیکھ کر عرب مفکر “ڈاکٹر رفعت مصطفی” نے اس موضوع پر مطالعہ کرکے معلومات جمع کرلیں اور نہایت اہم مقالہ تالیف کیا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس موضوع پر کام شروع کرنے کے بعد، اپنا ارادہ ترک کرلیا کیونکہ متعلقہ واقعات اور حادثات میں ابہام پایا جاتا تھا لیکن کچھ عرصہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ واقعات درست ہیں۔ مجھے اس سلسلے میں کئی کتابیں ملیں اور کچھ ویب گاہوں میں جستجو کی اور کسی حد تک بھینٹ چڑھنے والے انسانوں سے آگہی حاصل کرلی۔ مصطفی کہتے ہیں: “مقالہ لکھنے کا کام مکمل کرنے کے بعد، بہت سوں نے مجھ پر مبالغہ آرائی کا الزام لگایا۔ لیکن میں نے وہ مآخذ ان افراد کے لئے بھجوا دیئے جن سے میں نے استناد کیا تھا اور وہ مقالے کی درستی کے قائل ہوئے”۔
 
رفعت مصطفی لکھتے ہیں کہ یہود وہ لوگ ہیں جو “انسانیت کے خونخواروں” کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: “میں نہیں سمجھتا ہم نے کبھی افسانوں کے سوا کہیں اور اس نام کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ شاید آپ کو اس ایک خیال یا گمان سمجھ لیں نہ کہ ایک حقیقی موضوع، لیکن آپ ہمارے ساتھ رہیں گے تو ہم ایسے لوگوں کو آپ سے متعارف کرائیں گے جو حقیقتا اس خطاب کے مستحق ہیں۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ خیال اور توہم کے بجائے عقل کو مطمع نظر قرار دیں اور افسانوں سے گذر کر حقیقت تک پہنچیں”۔
جی ہاں! یہ لوگ یہودی ہیں۔ وہی لوگ جن کا دین ان سے کہتا ہے کہ “جو لوگ دین یہود پر ایمان نہیں لاتے انہیں ہمارے دیوتا “یہوہ” کے لئے قربان ہونا چاہئے۔ ہمارے ہاں ہاں عید کی دو رسمیں ایسی ہیں جن خون بہایا جاتا ہے اور ہمارا یہ کام ہمارے دیوتا میں کی خوشنودی کا سبب بنتا ہے؛ ان دو عیدوں میں سے ایک وہ عید ہے جس میں انسانی خون ملا کر کھانا تیار کیا جاتا ہے اور دوسری رسم ہمارے بچوں کا ختنہ کرنے کی ہے”۔
مقدس فطیرہ وہ ہے جس میں آٹے کو خون میں گوندھا جاتا ہے تا کہ “عید فصح” ـ یہودیوں کی ایک عید ـ کے لئے کھانا تیار کیا جائے۔ یہ خونخوارانہ اور وحشیانہ رسم یہودی کتاب مقدس کے حصے “تلمود” کے ذریعے ان تک پہنچی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تحریف شدہ دین کی تعلیمات کی پیروی، پوری تاریخ کی ان تمام بدبختیوں کا سبب بنی ہے جن سے یہودی دوچار ہوئے ہیں۔ قدیم زمانے میں یہودی ساحر جادوگری کے وقت انسانی خون استعمال کرتے تھے۔ تورات میں ایک صریح متن آیا ہے جس میں یسعیاہ قوم یہود سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے: ” آہ خطا کار گروہ۔ بد کرداری سے لدی ہوئی قوم۔ بدکرداروں کی نسل مکار اولاد جنہوں نے خداوند کو ترک کیا اِسرائیل کے قُدوس کو حقیر جانا اورگمراہ برگشتہ ہو گئے”۔ (سفر یسعیاہ، عہد قدیم، آیت ۴)
یہودی اپنی تعلیمات اور اسلاف سے ورثے میں ملنے والے جرائم کی رو سے بچوں کو قتل کرکے ان کا خون عید کے روز کی روٹی میں ملانے کی عادت رکھتے ہیں۔ یہودی مؤرخ برنارڈ لازار (Bernard Lazare) اپنی کتاب “یہودی دشمنی: تاریخ اور اسباب” (۱) میں اس یہودی رسم کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو ماضی کے یہودی جادوگروں سے نسبت دیتا ہے۔
 

اگر آپ یہودی عبادتگاہوں اور کنیسٹوں کے بارے میں جان لیں اور ان چیزوں کو دیکھ لیں جو ان وحشیانہ جرائم کا سبب بنتی ہیں، تو خوف و ہراس سے دوچار ہوجائیں گے، کیونکہ ان کی عبادتگاہیں ایسے خون سے آلودہ ہیں جو سابقہ زمانوں سے ان کے اندر بہایا گیا ہے۔ قدس شریف میں یہودی عبادتگاہیں ہندوستانی ساحروں کی عبادتگاہوں سے بھی زیادہ خوفناک ہیں کیونکہ یہ وہ عبادتگاہیں ہیں جن میں انسانوں کا قتل عام ہوا ہے۔ یہ جرائم ان تعلیمات کا نتیجہ ہیں جنہیں یہودی حاخاموں (رابیوں) نے وضع کیا ہے۔
یہودیوں کے جرائم کا پھیلاؤ خطرناک اور سنجیدہ ہوا تو “قربان ہونے والے اور یہودی” (victims and “the Jews”) نامی موضوع وسیع سطح پر زیر بحث آیا۔
یہودی اپنی دو مقدس عیدوں میں انسانوں کو قربان کرکے اور انسان کے خون میں تیار کردہ غذا کھانے کھاکر ہی خوش ہوا کرتے ہیں۔ پہلی عید کا نام پوریم (Feast of Purim) ہے جو ہر سال مارچ کے مہینے میں منائی جاتی ہے اور دوسری “عید فصح” (۲) ہے جو ہر سال اپریل کے مہینے میں منائی جاتی ہے۔
عید پوریم میں بھینٹ چڑھائے جانے والے عام طور پر بالغ نوجوانوں میں سے چنے جاتے ہیں۔ بیچارے نوجوان کو قتل کرکے اس کا خون خشک کیا جاتا ہے اور ذرات میں تبدیل کرتے ہیں اور اسے فطیرہ کے خمیر (اس روز کے طعام) میں ملا دیتے ہیں اگر کچھ باقی رہ جائے تو اگلے سال کی عید کے لئے رکھ لیتے ہیں۔
 
یہودی غیر یہودیوں کے خون سے عید فصح کے دن کے کھانا تیار کرتے تھے
لیکن عید فصح کے دن قربان ہونے والے عام طور پر نابالغ اور ۱۰ سال سے کم کے بچے ہوتے ہیں۔ ان کا خون بھی اسی انداز سے خشک کیا جاتا ہے اور اسے فطیرے میں ملا دیا جاتا ہے گوکہ بعض اوقات وہ بچوں کا تازہ خون استعمال کرتے ہیں۔
 
قربان ہونے والے انسان کا خون جاری اور اکٹھا کرنے کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ایک اوزار سوئیوں والا ڈرم ہے۔ یہ ڈرم قربانی بننے والے انسان کے جسم کے برابر ہوتا ہے اور اس کے اندر بےشمار نوکیلی سوئیاں ہوتی ہیں۔ جب قربان ہونے والے نوجوان یا بچے کو مار جاتا ہے تو سوئیاں چاروں اطراف سے اس کے بدن میں چبھ جاتی ہیں اور اس طرح اس کے پورے بدن کا خون بیک وقت باہر آنا شروع ہوجاتا ہے اور اسی اثناء میں یہودی مختلف برتنوں میں خود اکٹھا کرتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان کو بکرے کی طرح ذبح کرتے ہیں اور اس کا خون ایک برتن میں جمع کرتے ہیں اور اسے بزعم خویش پاک کردیتے ہیں۔
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ یہودی نوجوان یا بچے کی کئی رگوں کو کاٹ دیتے ہیں تا کہ ان سے خون ابلے۔ اور پھر اس خون کو ایک برتن میں جمع کرتے ہیں اور اس حاخام کے سپرد کرتے ہیں جو خون انسان سے تیار کئے جانے والے کھانے “فطیر مقدس” کی تیاری کا ذمہ دار ہوتا ہے تا کہ “یہوہ” نامی دیوتا ـ جو بنی نوع انسان کے خون کا پیاسا ہے!!! ـ کو اپنے سے راضی و خوشنود کرے۔
شادی میں مرد اور عورت، شام کے بعد کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں اور ایک رات اور ایک دن کا مکمل روزہ رکھتے ہیں جس کے بعد حاخام کتان کا ایک ٹکڑا غیر یہودی شخص کے خون میں ڈبو دیتا ہے اور پھر اسے جلا کر راکھ کردیتا ہے اور راکھ کو انسانی خون کے لئے مختص برتن میں ڈال دیتا ہے، اور ابلا ہوا انڈا اس میں لڑھکا دیتا ہے، اور دلہا دلہن کو کھلا دیتا ہے۔ (۳)
ختنہ کی رسم میں حاخام اپنی انگلیاں خون بھرے شراب کے کے برتن میں ڈال دیتا ہے اور پھر اپنی انگلیاں بچے کے منہ میں دے دیتا ہے اور بچے سے مخاطب ہوکر کہا ہے: “تیری زندگی کا دارومدار تیرے خون پر ہے۔۔۔”۔
 
یہودیوں کے لئے تلمود کا حکم ہے: “غیر اسرائیلی صالح اور نیک انسانوں کو قتل کرو”، نیز اس کا حکم ہے: “جس طرح کہ مچھلی کا پیٹ چیرنا جائز ہے، انسان کا پیٹ کھولنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، خواہ یہ عمل روز شنبہ کے کے بڑے والے روزے کے دن ہی کیوں انجام نہ دیا جائے”۔ بعدازاں اس جرم کے لئے اخروی ثواب کے بھی قائل ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں: “جو بھی کسی غیر یہودی کو قتل کرے اس کی پاداش یہ ہے کہ جنت الخلد میں رہے اور چوتھی منزل پر سکونت پذیر ہو”۔ [اب ذرا یہودی نواز تکفیریوں کے ہاں کے فتاوی پر نظر ڈالی جائے تو مشابہت بالکل عیاں ہے: جو ایک غیر سنی مسلمان کو قتل کرے ۔۔۔ اور ہاں یہی لوگ اس طرح کا فتوی اسلام و ایمان کے بدترین دشمن “یہود” کے بارے میں نہیں دیتے!]۔
ویسے تو یہودی اپنے بہت سی معلومات اور بہت سے اعداد و شمار بالخصوص اپنے اندرونی یہودی عبادات و رسومات کو ـ جو انسانیت سے متصادم ہیں ـ کو چھپا دیتے ہیں؛ یہاں تک برطانیہ کا نظام حکومت یہودی تعلیمات کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے جہاں کی رازداریاں دنیا بھر میں مشہور ہیں تو یقینا یہودی بھی اپنے بہت سے اعمال اور درندگی اور خونخواری پر مبنی افعال کو چھپائے رکھتے ہیں لیکن جو کچھ ابھی تک فاش ہوا ہے اس کے کچھ نمونے حسب ذیل ہیں:
بعض رپورٹوں کے مطابق، بچوں کے قتل اور یہودی عیدوں میں ان کے خون کے استعمال کے سلسلے میں اب تک ۴۰۰۰ وارداتیں طشت از بام ہوئے ہیں۔
جن واقعات اور وارداتوں کی طرف اس رپورٹ میں اشارہ کیا جارہا ہے وہ ان واقعات کے عشر عشیر سے بھی کم ہیں جو در حقیقت ان وحشی قوم کے ہاتھوں انجام کو پہنچتے ہیں۔ یہاں مذکورہ تمام واقعات “دائرۃ المعارف یہودیت” سے منقول ہیں جن کے آخر میں ماخذ کا بھی ذکر ہوا ہے۔
قربان ہونے والے شخص کی ضروری خصوصیات:
۱۔ عیسائی ہو۔ (یہودیوں کا کہنا ہے کہ عیسائی ہماری بھیڑیں ہیں!)
۲۔ بچہ ہو اور سن بلوغت سے نہ گذرا ہو۔
۳۔ ایسے نیک اور صالح عیسائی والدین کا فرزند ہو، جو کبھی زنا کے مرتکب نہ ہوئے ہیں اور شراب کے عادی نہ ہوں۔
۴۔ بچہ ہو، جس نے شراب نوشی نہ کی ہو اور اس کا خون خالص اور پاکیزہ ہو۔
۵۔ اگر عید کے روز کے فطیر مقدس میں ملا خون ایک پادری کا ہو تو یہ (یہودیوں کے معبود) یہوہ کے نزدیک زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے اور یہوہ اس سے زیادہ خوشنود ہوتا ہے۔ اور یہ خون تمام عیدوں کے لئے قیمتی اور پسندیدہ ہے۔

 

یہودیوں کی خصلتیں قرآن کریم کی نظر میں 3

  • ۴۳۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عالم انسانیت کے بد ترین دشمن یہودی ہیں قرآن کریم نے بھی اس بات اعلان کیا ہے اور تاریخ و تجربہ نے بھی یہ ثابت کیا ہے۔
اس بات سے قطع نظر کہ آج کی دنیا میں یہودی قوم دوسری قوموں کے ساتھ کیسا سلوک کر رہی ہے اگر ہم اس قوم کی گزشتہ تاریخ پر بھی نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ دیگر قومیں کس قدر اس ستمگر قوم کے ظلم و تشدد کا شکار رہی ہیں۔
اس مختصر تحریر میں ہم قرآن کریم کی نگاہ سے قوم یہود کی چند خصلتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پروردگارعالم نے خود قرآن میں بیان کی ہیں۔
قرآن کریم میں چار سو سے زیادہ آیتیں بنی اسرائیل کے بارے میں ہیں ان آیتوں میں بنی اسرائیل کے قصوں کے علاوہ دوسری قوموں کی نسبت پائی جانے والی ان کی دشمنی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن چونکہ ان تمام آیتوں کا جائزہ لینا ایک مستقل اور مفصل موضوع ہے اور اس تحریر میں اس کی گنجائش نہیں لہذا صرف بعض عناوین کی طرف یہاں اشارہ کرتے ہیں:
الف؛ تاریخی خصلتیں (۱)
۱، دین سے بغاوت اور سامری کے بچھڑے کی پرستش
۲، خدا کی جسمانیت پر عقیدہ اور خدا کی رؤیت کا مطالبہ
۳، صحراؤں میں چالیس سال تک جلاوطنی کی سزا بھگتنا
۴، خدا اور حضرت موسی (ع) کے ساتھ ہٹ دھرمی اور لجاجت
۵، انبیاء اور پیغمبروں کا قتل
۶، اسیروں کا قتل جن کے قتل سے منع کیا گیا تھا
۷، سنیچر کے دن کی حرمت کی اطاعت نہ کرنا
۸، ان میں بعض کا بندر کی شکل میں تبدیل ہونا (۲)
۹، ربا، سود اور چوری کو جائز قرار دینا
۱۰، کلمات الہی میں تحریف پیدا کرنا (۳)
۱۱، اس بات پر عقیدہ رکھنا کہ خدا کا ہاتھ نعوذ باللہ مفلوج ہے (۴)
۱۲، حق کی پہچان کے بعد اس کی پیروی نہ کرنا
۱۳، آیات الہی کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ان کا انکار کرنا(۵)
۱۴، آسمانی بجلی گرنے کے بعد سب کو ایک ساتھ موت آنا اور دوبارہ زندگی ملنا (۶)
۱۵، گناہوں کی وجہ سے شقاوت قلب کا پیدا ہونا (۷)
۱۶، اس بات پر عقیدہ کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں اور خدا انہیں عذاب نہیں کرے گا۔ (۸)
ب: ذاتی خصلتیں
۱، مادہ پرستی
قرآن کریم نے قوم یہود کی ایک خصلت یہ بیان کی ہے کہ وہ مادہ پرست ہیں یہاں تک کہ وہ خدا کو بھی اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَکْبَرَ مِنْ ذَٰلِکَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ )۹(
’’انہوں نے موسیٰ سے اس سے بڑی مانگ کی اور کہا ہمیں خدا کو آشکارا دکھلاؤ پس ان کے ظلم کی وجہ سے آسمانی بجلی نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا‘‘۔
۲، مال و ثروت کی لالچ
پروردگار عالم نے قرآن کریم میں یہودیوں کی ایک صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ مال دنیا کی نسبت بے حد حریص اور لالچی ہیں۔
وَ لَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلى‌‌حَیاةٍ وَ مِنَ الَّذینَ أَشْرَکُوا یَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَ ۔۔۔ (بقرہ ۹۶)
’’اے رسول آپ دیکھیں گے کہ یہ (یہودی) زندگی کے سب سے زیادہ حریص ہیں اور بعض مشرکین تو یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ہزار برس کی عمر دی جائے جبکہ یہ ہزار برس بھی زندہ رہیں تو طول حیات انہیں عذاب الہی سے نہیں بچا سکتا‘‘
۳، مومنوں اور مسلمانوں سے دشمنی و عداوت
قرآن کریم سورہ مائدہ کی ۸۲ ویں آیت میں فرماتا ہے: لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَداوَةً لِلَّذِینَ آمَنُوا الْیَهُودَ وَ الَّذِینَ أَشْرَکُوا  ’’آپ دیکھیں گے کہ صاحبان ایمان سے سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں‘‘۔
آخری دو خصلتوں کو آج کے یہودیوں اور صہیونیوں میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ جو کچھ اس وقت دنیا میں خصوصا بیت المقدس میں ہو رہا ہے وہ یہودیوں کی مسلمانوں اور اسلامی آثار کی نسبت شدید ترین دشمنی کا نمونہ ہے۔ سورہ آل عمران کی ۹۹ آیت میں خداوند عالم یہودیوں کی ملامت کرتے ہوئے فرماتا ہے: قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
’’کہیے! اے اہل کتاب کیوں صاحبان ایمان کو راہ خدا سے روکتے ہو اور اس کی کجی تلاش کرتے ہو جبکہ تم خود اس کی صحت کے گواہ ہو اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘۔
یہودی اپنے برے مقاصد حاصل کرنے کے لیے عام طور پر خفیہ سازشیں اور خطرناک پروپیگنڈے کرتے ہیں جن کے ذریعے نادان اور سادہ لوح افراد کو با آسانی شکار کر لیتے ہیں۔ اس وجہ سے خداوند عالم نے بعد والی آیت میں مومنین کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دشمن کی زہر آلود سازشوں کا شکار نہ بنیں اور انہیں اپنے اندر نفوذ پیدا کرنے کی اجازت نہ دیں۔ (۱۰)
صدر اسلام کے مسلمانوں کی نسبت قوم یہود کی عداوتوں اور خفیہ سازشوں کے بے شمار نمونے تاریخ میں موجود ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انہوں نے مومنین کی سادہ لوحی اور غفلت سے بخوبی فائدہ اٹھایا۔ مثال کے طور پر جنگ خندق میں وہ منافقین اور یہودی جو پیغمبر اکرم کے حکم سے مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے انہوں نے دشمنان اسلام کو تحریک کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہوں اور وہ ان کی پشت پناہی کریں۔ انہوں نے کفار سے کہا: تم مطمئن رہو کہ تم حق پر ہو اور تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے(۱۱) اس کے بعد بنی قینقاع، بنی قریظہ اور بنی نظیر کے یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کسی پر ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ (۱۲)
لیکن خداوند عالم نے انہیں ہر مقام پر ذلیل و رسوا کیا ’’ضربت الیھم الذلۃ‘‘ ذلت اور رسوائی کی طوق ان کی گلے میں لٹکا دی جو بھی قوم گناہوں میں غرق ہو جائے گی دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرے گی اس کا سرانجام ذلت و رسوائی ہو گا۔ (۱۳)
آج بھی یہ قوم مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے اور سازشیں کرنے میں سرفہرست ہے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو ان کے آشیانوں اور کاشانوں سے باہر نکال کر ان کا قتل عام کر رہی ہے ان پر ظلم و ستم کی تاریخ رقم کر رہی ہے صرف دنیا کی لالچ میں اقتدار کی لالچ میں ملک اور زمین کی لالچ میں۔ لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ مستضعفین زمین کے وارث بنیں گے اور ظالم و ستمگر ذلیل و خوار ہو کر نابود ہو جائیں گے۔ (۱۴)
حوالہ جات
۱٫ تفسیر نمونه و المیزان، ذیل آیات ۱۵۳- ۱۶۱، سوره نساء
۲٫ نساء(۴)/۴۷
۳٫ بقره(۲)/۷۹
۴٫ مائده(۵)/۶۴
۵٫ عنکبوت(۲۹)/۳۲
۶٫ بقره(۲)/۵۵
۷٫ بقره،(۲)/۷۴
۸٫ بقره(۲)/۹۵
۹٫ نساء(۴)/۱۵۳
۱۰٫ ر.ک: نفسیر نمونه، ج۳، ص ۲۳- ۲۲
۱۱٫ ر.ک: تاریخ اسلام، محلاتی، ج۱، ص ۱۳۲- ۱۳۱
۱۲٫ ر.ک : تاریخ اسلام، منتظر القائم، صص ۲۱۴- ۲۲۰
۱۳. ر.ک: تفسیر نمونه،ج ۳، ص ۵۴
۱۴. وہی، ج۲۳، ص ۴۹۹

 

یہودیوں اور ابلیس کے درمیان شباہتیں

  • ۲۱۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودی اور ابلیس کی خصوصیات اور صفات نیز ان کا راستہ ایک جیسا ہے اور یہ ہمیشہ ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں اور ان کے اہداف ایک جیسے ہوتے ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے کئی مرتبہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ ابلیس کی دشمنی کا تذکرہ کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ کتنے عظیم گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں گویا آغاز عالم سے ہی بنی اسرائیل کی طینت اس کا سرچشمہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
“وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِّن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَکَثِیرٌ مِّنْهُمْ سَاء مَا یَعْمَلُونَ؛ اور اگر وہ توریت اور انجیل اور اس کو جو ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے اترا تھا ٹھیک طرح قائم رکھتے تو وہ کھاتے پیتے اپنے اوپر سے اور اپنے پیروں کے نیچے سے ان میں سے بس ایک گروہ تو اعتدال پر ہے اور زیادہ ان میں سے بڑا برا کردار رکھتے ہیں”۔ (سورہ مائدہ، ۶۶)
کچھ نمونے:
۱۔ حسد
ابلیس نے آدم(ع) کے ساتھ اور بنی آدم کے ساتھ حسد برتا اور حسد ابلیس کی وجۂ شہرت ہے۔ یہاں تک کہ حسد کی بنا پر اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور راندۂ درگاہ ہوگیا لیکن کبھی بھی آدم کو سجدہ نہیں کیا۔ یہودی البتہ ابلیس سے زیادہ حاسد ہیں۔ کیونکہ یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے اپنے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ حسد کیا اور کہہ ڈالا:
“اقْتُلُواْ یُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضاً یَخْلُ لَکُمْ وَجْهُ أَبِیکُمْ وَتَکُونُواْ مِن بَعْدِهِ قَوْماً صَالِحِینَ؛ قتل کر دو یوسف کو یا کسی اور سر زمین پر لے جا کر ڈال دو کہ تمہارے باپ کی توجہ تمہاری طرف ہو جائے اور تم اس کے بعد پھر نیک لوگ ہو جانا”۔
(سورہ یوسف، آیت ۹)
۲۔ غرور اور خودغرضی
ابلیس نے اللہ کی بارگاہ میں گستاخانہ انداز سے اپنی آواز بلند کردی اور غرور، خودغرضی اور نسل پرستی کی بنا پر کہا:
قَالَ مَا مَنَعَکَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَنَاْ خَیْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِی مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِینٍ؛ ارشاد ہوا کیا امر تجھے مانع ہوا جو تو سجدہ نہ کرے باوجودیکہ میں نے تجھے حکم دیا۔ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے”۔
(سورہ اعراف، آیت ۱۲)
یہودی بھی نسل پرستی اور کبر و غرور کی بنا پر چلا چلا کر کہتے تھے کہ ہم اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں:
“وَقَالَتِ الْیَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاء اللّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُم بِذُنُوبِکُم بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ؛ اور یہودیوں اور عیسائیوں کا قول ہے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ کہو کہ پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے بلکہ تم بھی اس کے مخلوقات میں سے کچھ انسان ہو”۔
(سورہ مائدہ، آیت ۱۸)
۳۔ زمین میں فساد پھیلانا
ابلیس کا کام اصولا روئے زمین پر فساد اور برائی پھیلانا ہے؛ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
“یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ وَمَن یَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ فَإِنَّهُ یَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء وَالْمُنکَرِ؛ اے ایمان لانے والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو اور جو شیطان کے قدم بقدم چلے گا تو وہ بلاشبہ شرمناک کام اور برائی ہی کے لئے کہتا ہے”۔ (سورہ نور، آیت ۲۱)
خداوند متعال قرآن کریم میں یہودیوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:
“الَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِیثَاقِهِ وَیَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الأَرْضِ أُولَـئِکَ هُمُ الْخَاسِرُونَ؛ جو اللہ سے کیے ہوئے معاہدے کو اس کے استحکام کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس رشتہ کے ملائے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے، اسے وہ کاٹ ڈالتے ہیں اور دنیا میں خرابی کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو گھاٹے میں رہنے والے ہیں”۔ (سورہ بقرہ، آیت ۲۷)
۴۔ انسانیت کے دشمن
خداوند متعال نے ارشاد فرمایا ہے ابلیس بنی آدم کا شدید ترین دشمن ہے اور انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ ابلیس کو اپنا دائمی ابدی دشمن سمجھیں اور قرار دیں، اور ارشاد فرماتا ہے:
“إِنَّ الشَّیْطَآنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِینٌ؛ بلاشبہ شیطان تم دونوں کا کھلا ہوا دشمن ہے”۔ (سورہ اعراف، آیت ۲۲)
ارشاد ہوتا ہے:
“إِنَّمَا یُرِیدُ الشَّیْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ؛ شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے میں مبتلا کرکے تمہارے درمیان کینہ و عداوت ڈالتا رہے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے باز رکھے تو کیا اب تم باز آؤ گے؟ (سورہ مائدہ، آیت ۹۱)
نیز ارشاد ہوتا ہے:
“إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوّاً؛ یہ حقیقت ہے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے تو اسے دشمن سمجھو۔
اب مؤمنین کے ساتھ دشمنی کے بارے میں قرآن کریم کیا ارشاد دیکھتے ہیں:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِینَ آمَنُواْ الْیَهُودَ؛ یقینا آپ سخت ترین دشمن مسلمانوں کا پاؤ گے یہودیوں کو”۔ (سورہ مائدہ، ۸۲)
۵۔ اللہ تعالی کا انتباہ: ان کی پیروی نہ کرو
خداوند متعال نے مؤمنین کو خبردار کیا ہے کہ شیطان کی پیروی نہ کریں اور ان کے ساتھ دوستی سے اجتناب کریں:
“وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّهُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِین؛ اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو، یقینا وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے”۔
(سورہ بقرہ، آیت۱۶۸ و آیت ۲۰۸؛ سورہ انعام، آیت ۱۴۲؛ سورہ نور، آیت ۲۱)
نیز اللہ تعالی مؤمنوں کو یہود اور نصاری کے ساتھ دوستی سے بھی خبردار فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ ان کی دوستوں اور پیروکاروں میں شامل نہ ہوں:
یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِیَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ وَمَن یَتَوَلَّهُم مِّنکُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ یَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ؛ اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی تو وہ ان ہی میں سے ہے۔ یقینا اللہ ظالموں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ (سورہ مائدہ، آیت ۵۱)
۶۔ خیانت، غداری اور عہد شکنی
عہدشکنی شیطان کی فطرت میں شامل ہے؛ وہ عہد و پیمان کو نظر انداز کرتا ہے جیسا کہ یہودی نیز عیسائی بھی ایسا ہی کرتے ہیں اور معاصر تاریخ میں یہود و نصاری کی عہدشکنیوں کی داستانیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
شیطان کی عہدشکنانہ خصلت کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:
“وَقَالَ الشَّیْطَانُ لَمَّا قُضِیَ الأَمْرُ إِنَّ اللّهَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّکُمْ فَأَخْلَفْتُکُمْ؛ اور شیطان کہے گا اس وقت کہ جب جو ہوتا ہے وہ ہو جائے گا کہ بے شبہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا؛ اور میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ خلافی کی”۔
(سورہ ابراہیم، آیت ۲۲)
آج کے زمانے کے یہودی ـ بطور خاص سیاسی یہودی ـ صہیونیت اور ماسونیت کے پیروکار اور شیطان پرستانہ عقائد کے حامل ہیں۔ یہودی بھی ابتدائے تاریخ سے عہد شکن رہے ہیں اور وعدہ خلافی کرتے ہیں بالکل شیطان کی طرح، جو ان کے وجود میں مجسم ہوچکا ہے؛ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
“وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِیثَاقَ الَّذِینَ أُوتُواْ الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَکْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاء ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِیلاً فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُونَ؛ اور جب کہ اللہ نے ان سے جنہیں کتاب دی گئی تھی، عہدوپیمان لیا تھا کہ تم اسے ضرور لوگوں کے لیے واضح طور پر پیش کرتے رہو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں تو انھوں نے اسے اپنے پس پشت ڈال دیا اور اس کے عوض میں ذرا سی قیمت وصول کر لی تو کیا بری بات ہے وہ معاملت جو انھوں نے کی ہے”۔
(سورہ آل عمران، آیت ۱۸۷)
نیز قرآن کریم نے یہودیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:
“أَوَکُلَّمَا عَاهَدُواْ عَهْداً نَّبَذَهُ فَرِیقٌ مِّنْهُم بَلْ أَکْثَرُهُمْ لاَ یُؤْمِنُونَ؛ اور یہ (یہودی) جب بھی کوئی عہد کریں گے تو ان میں سے ایک جماعت اسے پس پشت ضرور ڈال دے گی بلکہ زیادہ ایسے ہی ہوں گے جو ایمان نہ لائیں گے”۔ (سورہ بقرہ، آیت ۱۰۰)
۷۔ ابلیس اور یہودی مؤمنوں کو کفر سے دوچار کرتے ہیں
شیطان کی آرزو ہے اور اس کو توقع ہے کہ مؤمنوں کو کافر کردے، لہذا راہ حق اور آزادی اور کامیابی و فلاح کے راستے میں گھات لگا کر بیٹھتا ہے جس طرح کے راہزن اور ڈاکو قافلوں اور مسافروں کی راہ میں گھات لگا کر بیٹھتے ہیں؛ چنانچہ شیطان اللہ سے عرض کرتا ہے:
“قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْتَنِی لأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیمَ ٭ ثُمَّ لآتِیَنَّهُم مِّن بَیْنِ أَیْدِیهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَیْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ؛ اس نے کہا تو جیسا تو نے مجھے گمراہ قرار دیا ہے، اب میں ضرور بیٹھوں گا ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر ٭ پھر میں آؤں گا ان کی طرف ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اور تو ان میں سے زیادہ کو شکر گزار نہیں پائے گا”۔ (سورہ اعراف، آیات ۱۶-۱۷)
معاصر تاریخ میں گناہ اور برائی اور فساد اور اخلاقی تباہی کے تمام بڑے اڈے اور آج کل کے زمانے میں گناہ کی ترویج کے تمام وسائل اور شیطان پرستی کے فروغ کا پورا انتظام نیز اسلامو فوبیا کے تمام منصوبے یہودیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ قرآن کریم بنی اسرائیل کے دلوں میں چھپی ہوئی سازشوں اور بدنیتیوں کو برملا کرتا ہے اور ان کے مکر و فریب کے پردوں کو چاک کرتا ہے، ان مسلمانوں کی گمراہی کی شدید یہودی خواہشوں کو بےنقاب کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہودیوں کا ارادہ، خواہش اور منصوبہ ہے کہ تم مرتد ہوجاؤ اور اسلام کو ترک کرو، وہ بھی ایسے وقت میں کہ وہ جان چکے ہیں کہ مؤمنین برحق ہیں؛ ارشاد فرماتا ہے:
“وَدَّ کَثِیرٌ مِّنْ أَهْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّونَکُم مِّن بَعْدِ إِیمَانِکُمْ کُفَّاراً حَسَداً مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ؛ بہت سے اہل کتاب کی دلی خواہش یہ ہے کہ کسی طرح ایمان کے بعد پھر دوبارہ تم لوگوں کو کافر بنا لیں صرف حسد کی وجہ سے جو ان کے نفوس میں ہے۔ باوجود یکہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے”۔ (سورہ بقرہ، آیت ۱۰۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

 

کیا غاصب جعلی اسرائیل قرآن میں مذکورہ بنی اسرائیل کے وارث ہیں؟ (۲)

  • ۱۵۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ
فلسطین کا تاریخچہ:
حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت سے ۲۵۰۰ سال قبل، کئی عرب نژاد قبائل جزیرہ نمائے عرب سے بحیرہ روم کے جنوبی ساحلی علاقوں کی طرف کوچ کرگئے۔ ان میں سے کچھ قبائل فلسطین میں سکونت پذیر ہوئے۔ ان کا پیشہ کاشتکاری اور زراعت سے عبارت تھا اور وہ کنعانی کہلائے اور اسی بنا پر سرزمین فلسطین ارض کنعان کہلائی۔
کچھ عرب قبائل لبنان میں رہائش پذیر ہوئے اور ان کا پیشہ کشتیرانی سے عبارت تھا۔ انہیں فینیقی (Phoenicians) بھی کہا گیا ہے۔
کنعانیوں کا ایک اہم قبیلہ “یبوسی” قبیلہ تھا جو بیت المقدس میں رہائش پذیر تھا اسی بنا پر قدیم زمانے میں بیت المقدس کو یبوس بھی کہا جاتا تھا۔
غاصب اسرائیلی ریاست کی تشکیل کا تاریخچہ:
غاصب اسرائیلی ریاست نظری لحاظ سے ایک “ماسونی ـ صہیونی” تحریک کا نام ہے اور عملی لحاظ سے ـ بطور خاص مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں ـ استکباری دنیا کا انتظامی مرکز ہے۔ کسی وقت استکباری دنیا کا سرغنہ برطانیہ تھا اور آج امریکہ ہے۔
ایک۔ فلسطینی قوم ـ جو اسلام، عیسائیت اور یہودیت پر مشتمل تھی ـ صدیوں سے اس سرزمین میں قیام پذیر تھی۔ یہاں تک کہ سنہ ۱۰۹۹ع‍میں صلیبی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا اور عیسائیوں نے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا۔
یورپی اور عیسائی مؤرخین کہتے ہیں کہ انھوں نے صرف بیت المقدس کی حدود میں ۶۰۰۰۰ افراد کا قتل عام کیا اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ (۶)
فلسطین ۸۸ سال کے عرصے تک صلیبیوں کے زیر تسلط رہا اور انھوں نے اس عرصے میں مسلمانوں کے ساتھ نہایت بےرحمانہ سلوک روا رکھا۔ یہاں تک کہ سنہ ۱۱۸۷ع‍(بمطابق ۵۸۳ہجری) میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو شکست دی اور اور فلسطین بشمول بیت المقدس مسلمانوں کی آغوش میں پلٹ آیا۔
دو۔ سنہ ۱۸۸۰ع‍میں قوم فلسطین کی آبادی پانچ لاکھ تھی جن میں یہودیوں کی تعداد صرف ۲۴۰۰۰ تھی؛ یعنی ۵ فیصد سے بھی کم۔ سنہ ۱۸۹۶ع‍میں ایک آسٹریائی یہودی صحافی تھیوڈور ہرزل (Theodor Herzl) نے ایک کتاب لکھی اور صہیونی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا نصب العین یہ تھا کہ “یہودی کسی ایک سرزمین میں اپنی ریاست قائم کریں”۔
تین – ایک سال بعد، سنہ ۱۸۹۷ع‍میں سوئیٹزلینڈ کے شہر بیسل (Basel) میں صہیونی کانگریس کا اہتمام کیا گیا اور فلسطین میں یہودی آبادی میں اضافے کے لئے پوری دنیا سے یہودیوں کی فلسطین ہجرت اور ایک اسلامی سرزمین میں یہودی ریاست کی تشکیل کا منصوبہ منظور کیا گیا۔
اس منصوبے کے تحت ایک سال کے مختصر عرصے میں فلسطین میں (فلسطینی اور غیر فلسطینی) یہودیوں کی آبادی ۵ فیصد سے بڑھ کر ۱۱ فیصد تک پہنچ گئی۔ یعنی فلسطین کی کل آبادی (۷۵۰۰۰۰ افراد میں) یہودیوں کی تعداد ۸۵ ہزار تک پہنچی، البتہ اس دوران بھی مسلمانوں کی نسل کشی رائج تھی۔
چار – پہلی عالمی جنگ کے دوران سنہ ۱۹۱۷ع‍میں انگریز وزیر خارجہ بالفور نے ایک اعلامیئے کے تحت فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام اور اس کی حمایت کی برطانوی پالیسی کا اعلان کیا۔
ایک سال بعد، برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ جمایا اور غیر فلسطینی یہودیوں کی فلسطین ہجرت کا سیلاب امڈ آیا۔ سنہ ۱۹۱۹ع‍سے ۱۹۲۳ع‍کے چار سالہ عرصے میں ۳۵ ہزار غیر فلسطینی یہودی فلسطین میں آ بسے۔
برطانوی حکومت نے ۱۹۳۲ سے ۱۹۳۵ع‍کے عرصے میں ایک لاکھ پینتالیس ہزار یہودیوں کو برطانیہ اور برطانیہ کی نوآبادیوں سے فلسطین منتقل کیا اور ۱۰ہزار یہودی بلا اجازت اور غیر قانونی طور پر فلسطین میں آ ٹپکے۔ یوں یہودیوں کی آبادی کی شرح ۵ فیصد سے ۳۰ فیصد تک پہنچی۔
پانچ – دوسری عالمی جنگ بہترین بہانہ بن گئی۔ یہ جنگ عیسائیوں کے درمیان تھی لیکن ہٹلر کی کشورگشائی کو یہودکشی کا نام دیا گیا اور جنگ کے اہداف میں تحریف کی گئی حالانکہ اس جنگ میں سات کروڑ انسان مارے گئے تھے لیکن یورپی قوانین میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس جنگ کے حوالے سے صرف یہودی ہالکین کو موضوع سخن بنائیں؛ اور جہاں خدا اور انبیاء الہی حتی کہ عیسی علیہ السلام کی توہین کو بیان کی آزادی کے تحت جائز قرار دیا جاتا ہے، قرار دیا گیا کہ کسی کو بھی یہ حق اور اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی تحقیقات میں اس قانون کو چیلنج کرے اور یہودیوں کے ہالکین کی تعداد کو ساٹھ لاکھ سے کم گردانے اور اس قانون کا نام “ہالوکاسٹ” کا قانون رکھا گیا۔
اگر مان بھی لیا جائے کہ یہودی ہلاک شدگان کی تعداد اتنی ہی تھی تو یہ تعداد جنگ کے مجموعی مقتولین میں ۱۰ فیصد سے بھی کم تھے اور اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ مقرر کیا گیا کہ یہودی ہلاک شدگان کا تاوان جرمنوں کے جائے فلسطینی مسلمانوں سے وصول کیا جائے!! اور مسلمانان عالم ان ہی یورپیوں اور امریکیوں کو انسانی تہذیب کا نقیب قرار دیتے رہے۔
چھ – سنہ ۱۹۴۵ع‍میں برطانیہ نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ مل کر ایک لاکھ یہودیوں کو امریکہ اور یورپ سے فلسطین بھجوایا اور ۱۹۴۷ع‍میں فلسطین کی کل آبادی اٹھارہ لاکھ سرسٹھ ہزار تک پہنچی جس میں یہودیوں کی آبادی چھ لاکھ پندرہ ہزار (یعنی ۳۲٫۹ فیصد) تھی جبکہ مسلمانوں کی آبادی دس لاکھ نوے ہزار (یعنی ۵۸٫۴ فیصد) تھی جبکہ اس آبادی میں ایک لاکھ پچاس ہزار (یعنی ۷٫۸ فیصد) کے لگ بھگ عیسائی شامل تھے۔
سات – سنہ ۱۹۴۸ع‍نے ـ جس نے یہودی ریاست کے لئے مناسب ماحول فراہم کرلیا تھا ـ فلسطین سے انخلاء کا اعلان کیا اور یہودی پناہ گزینوں نے اس سرزمین کو غصب کرلیا۔ جس طرح کہ بعد کے برسوں میں امریکیوں اور انگریزوں نے بظاہر افغانستان اور عراق سے انخلاء کا اعلان کیا اور چند قومی دہشت گردوں کو اپنے متبادل کے طور پر ان ملکوں پر مسلط کیا۔ یہودی پناہ گزینوں نے بلا روک ٹوک کے فلسطینیوں کا قتل عام کیا اور انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ یہاں تک کہ ڈیوڈ بن گورین نے تل ابیب میں یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کیا۔
غاصب اسرائیلی ریاست کے اعلان کے بعد فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی میں شدت آئی اور زیادہ شدت سے انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور یہ سلسلہ آج [۲۰۱۸ع‍] میں بھی جاری ہے۔
نکتہ: تو جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، اسرائیل کی صہیونی ـ یہودی ریاست کا قوم بنی اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ جو فلسطینی تھے ـ جس قوم سے بھی تعلق رکھتے تھے ـ ان کی اکثریت نے اسلامی قبول کیا اور کچھ لوگ عیسائی اور ایک چھوٹی اقلیت یہودی رہے۔
۔ کردوں کے لئے ایک الگ سرزمین اور غاصب اسرائیل کی طرح، امریکہ، برطانیہ اور یہودی ریاست کی حمایت سے کردی ریاست ـ جو درحقیقت دہشت گردوں اور شرپسندوں کی سرزمین ہوگی ـ کے قیام کے بہانے القاعدہ، داعش، النصرہ اور ان جیسے دہشت گرد اور خونخوار ٹولوں کی پرورش کی روش، بالکل غاصب اسرائیلی ریاست کی مانند ہے۔
ابتداء میں شیطانی استکباری طاقتوں نے اعلان کیا کہ مشرق وسطی کے جدید نقشے میں، بہت سے ملکوں کو تقسیم ہونا چاہئے، بعدازاں اعلان کیا کہ کردوں کے لئے ایک خودمختار کردی ریاست کا قیام عمل میں آنا چاہئے۔، بعدازاں مغربی طاقتوں نے دہشت گرد ٹولوں کو تشکیل دیا، انہیں تربیت دی اور اسلحہ فراہم کیا۔ مغرب اور یہودی ریاست نے ان کی حمایت کی اور مسلمانوں کے قتل عام کے سلسلے میں نفرت انگیز مناظر تخلیق کئے تا کہ مسلمانوں کا قتل عام ہو، انہیں خوفزدہ کیا جائے اور اپنا گھر بار اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں اور مسلمانوں کا وسیع قتل عام کرایا۔
اس بار البتہ دہشت گردوں نے اپنے ادارے کا نام “دولۃ الاسلامیہ” رکھا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ یہ لوگ یہودی ریاست کے لئے کام کررہے ہیں اور پھر دنیا بھر کے انسان اسلام اور اس کے نام اور دولت اسلامی سے خوفزدہ ہوجائیں اور اسلامو فوبیا کو فروغ ملے۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ سترہ ہزار داعشیوں میں بارہ ہزار غیر ملکی بھی شامل ہیں جن میں سے اکثر کا تعلق یورپ سے ہے۔
یورپ نے ایک طرف سے داعش اور اس جیسے خونخوار اور نسل کش ٹولوں کو پروان چڑھایا، مسلح کیا، حربی آلات سے لیس کیا اور عراق اور شام کا چوری کا تیل خرید کر انہیں صاحب ثروت بنایا اور اپنے ملکوں سے رضاکارانہ طور پر داعش اور دوسرے ٹولوں میں شامل ہونے کو سفر اور شمولیت کا امکان فراہم کیا اور اپنے حلیف ملک ترکی کو انہیں شام میں اور عراق میں بھجوانے کا ٹاسک دیا اور اب انھوں نے اعلان کیا ہے کہ یورپی دہشت گردوں کو ندامت اور توبہ کا حق حاصل نہیں ہے تا کہ وہ علاقے کے مسلم ممالک کے اندر رہ کر لڑیں۔
امریکہ نے بھی دہشت گردوں کے ساتھ نوراکشتی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے اپنی افواج کو ان ممالک میں متعین کرے اور ان ممالک کی تقسیم میں براہ راست کردار ادا کرسکے۔
امریکہ کا سرکاری اعلان یہ کہ داعش اور اس جیسے دہشت گردوں کو کم از کم ۲۰ سال کے عرصے تک زندہ اور سرگرم رکھا جائے گا۔ گوکہ بظاہر ان کا کہنا ہے کہ “ان ٹولوں کا خاتمہ ۲۰ سال تک ممکن نہیں ہے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ آلبرائٹ ، ص۲۳۶؛ ڈانئیل ـ ریپس ، ص۱۴ـ ۱۵؛ اسمارٹ، ص۳۸۴ـ۳۸۵۔۔۔
۲۔ قرآن سمیت اسلامی منابع و مآخذ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام تھے۔
٭۔ سورہ، مائدہ، آیات ۲۴ تا ۲۶۔
۳۔ بیک، ص۲۸ـ ۴۸؛ اسمارٹ، ص۲۹۱؛ د۔ جوڈائیکا، ج۸۔
۴۔ د۔ جوڈائیکا ، ج۸، کالم ۵۹۳ ـ۵۹۹۔
۵۔ عہد قدیم، پیدائش ، باب ۳۲: ۲۷ـ ۲۸۔۔۔ یہودیوں کی تحریف شدہ کتاب میں آیا ہے کہ یعقوب(ع) پیغمبری کی وجہ سے نہیں بلکہ خدا اور بندگان خدا پر غلبہ پانے کے بعد اسرائیل کہلائے۔
۶۔ گستاولی بون، تاریخ تمدن اسلام و عرب، ص۴۰۱۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کا صہیونی منصوبہ امت مسلمہ کے خلاف بھیانک سازش

  • ۲۰۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عالمی صہیونیت کا “عظیم تر اسرائیل” کا منصوبہ اور اسے پورا کرنے کا عزم پوری امت مسلمہ کے خلاف ایک نہایت بھیانک منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کو اسرائیلی قومی دستاویزات اور پالیسیوں میں سرکاری حیثیت حاصل ہے۔ اسلامی ممالک کے حکمران اور علمائے دین و دانشور اگر یہ سوچتے ہیں کہ یہ منصوبہ محض کتابی ہے یا صرف پروپیگنڈہ ہے وہ اپنے کا دھوکہ دے رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اور عالمی صہیونیت کے لیڈر اس دعویٰ پر پوری ضد سے قائم ہیں۔ وہ عظیم تر اسرائیل کو اپنا دائمی حق سمجھتے ہیں اور وقتا فوقتا اس کا برسر عام بھی اعلان کرتے ہیں۔ سپین کے مشہور میڈرڈ میں ۱۹۹۱ء میں جب اسرائیلیوں اور عربوں کے مابین “مشرق وسطیٰ کانفرنس” کو شروع ہوئے چھ دن گزرے تھے تو روزنامہ دی نیوز نے ۶ نومبر ۱۹۹۱ء کو یہ خبر شائع کی کہ “میڈرڈ میں اسرائیلی وزیر اعظم اضحاک شمیر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل اپنی حدود کو ضرور وسیع کرے گا۔ توسیع کا علاقہ جنوب میں مصر سے لے کر شمال میں ترکی تک ہے اور اس میں شام، عراق، سعودی عرب، لبنان اور کویت کا بیشتر حصہ شامل ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں ریاستی توسیع کا حق اسرائیل کو ہے اور امریکہ یا سوویت یونین کا اس معاملے میں کوئی حق نہیں۔
عظیم تر اسرائیل کے پرانے نقشے میں جو اسرائیلی رسالوں اور کتابوں میں اکثر ملتا ہے، مدینہ منورہ اسرائیلی حدود میں بتایا گیا ہے اب جدہ اور کچھ اور علاقے بھی اس میں شامل کر دئے گئے ہیں۔
اسرائیل کو تسلیم کرنا مسلم دنیا کو تباہی میں دھکیلنا ہے۔ مسلم ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے اسرائیلی منصوبے کے ساتھ اضحاک شمیر کے اعلان کو ملا کر غور کریں تو عظیم اسرائیل کا فتنہ کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ پروفیسر للّی انتھل نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “دی زاٹسٹ کنکشن” یعنی مخصوص صہیونی بندھن “نیویارک ۱۹۷۸” میں اسرائیل کی علاقائی توسیع کی حرص کے بارے میں یہ فکر انگیز جملہ لکھا ہے۔ “علاقائی توسیع کے صہیونی عزائم کی کوئی حد نہیں” یہ تبصرہ اور پروفیسر گاروڈی کا تبصرہ کہ “صہیونی ریاست اب تک ہر وہ مقصد پورا کرتی رہی ہے جس کا عزم اس نے برملا کیا تھا۔ حالانکہ اس کے کئی مقاصد دیومالائی اور فرضی تھے دیوانہ پن اور قیاس پر مبنی تھے تمام مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔
یہ بھی یاد رکھیے کہ “عظیم تر اسرائیل” بنانے کی غرض سے اسرائیل نے ابھی تک اپنی ریاستی باؤنڈری یعنی زمینی حدود کو غیر متعین اور غیر واضح رکھا ہوا ہے جس طرح صہیونی لیڈروں نے دھوکے، دھشت گردی، حکمرانوں پہ دباؤ اور بڑی طاقتوں کی پشت پناہی سے ایک فرضی دعویٰ پر اسرائیل قائم اور تسلیم کروایا انہیں ہتھکنڈوں سے وہ “عظیم تر اسرائیل” کو تسلیم کروانے اور قائم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اسلامی ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا سنگین اور ناقابل تلافی غلطی کا ارتکاب ہو گا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا عظیم تر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت اشد ضروری ہے کہ مسلم حکمران تدبر و حکمت سے کام لیں۔ ظلم و فریب سے بنی ہوئی جعلی اسرائیلی ریاست کو کسی قیمت پر قبول کرنا یا اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنا کسی قیمت پر اسلامی حکمرانوں کی صلاح میں نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں صہیونیت کے مہا منصوبے کے مطابق مسلم ممالک میں مزید طوفانی بحران اٹھنے والے ہیں ان کا سامنا کرنے کے لیے مسلم ممالک میں باہمی اتحاد اور ہر مسلم ملک میں حکام اور عوام کی یکجہتی بہت ضروری ہے۔ مسلم عوام کو اسرائیل کبھی بھی منظور نہیں ہو گا۔ کیونکہ قرآن کریم کی رو سے بھی اس صہیونی ریاست سے مسلمانوں کے تعلقات ممنوع ہیں۔
منبع: اسرائیل کیوں تسلیم کیا جائے، تالیف: محمد شریف ہزاروی

 

یہودی طرز کا بینکی نظام صرف ربا اور سود پر استوار

  • ۲۶۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:  آج ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جس میں بےشمار مشکلات انسان کے دامن گیر ہیں ثقافتی، سماجی، سیاسی اور معیشتی مشکلات نے انسان کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس تعجب خیز ٹیکنالوجی ترقی کے دور میں انسان کی زندگی کمال اور سعاتمندی کی طرف گامزن ہوتی اور اس راہ میں پائی جانے والے مشکلات کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔
سائنسی ترقی نے جہاں انسانی زندگی کے دیگر شعبوں میں الجھاؤ پیدا کئے وہاں معیشتی امور میں بھی اسے بہت ساری مشکلات سے دوچار کیا۔ آج دنیا کا اقتصاد صرف سرمایہ داروں کے اختیار میں ہے اور دنیا پر حاکم ظالم اور ستمگر حکمران پوری دنیا کے انسانوں کی معیشت کی لگام اپنے ہاتھوں میں لے کر جس طرف چاہتے ہیں انسانی زندگی کی لگام موڑ دیتے ہیں۔
عصر حاضر کے قارون اور فرعون در حقیقت خدا سے مقابلہ کرنے کے لیے معیشی امور میں جس چیز سے کھلے عام فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ ہے ’’ربا اور سود‘‘۔ انہوں نے معیشتی امور میں جس نظام کو سماج میں رائج کیا ہے وہ ہے ’’بینکی نظام‘‘۔ بینکی نظام کا اہم ترین رکن سود اور پرافٹ ہوتا ہے اگر اس رکن کو اس نظام سے نکال دیا جائے تو ان کے بقول بینک بیٹھ جائیں گے اور دنیا کا نظام نہیں چل سکے گا جبکہ ایسا نہیں ہے۔ اگر بنکوں سے سود کا لین دین ہٹایا جائے اور اسے الہی اور اسلامی طرز کے مطابق تشکیل دیا جائے تو نہ سماج کی ترقی میں کوئی کمی آئے گی اور نہ کمال کی طرف ان کی زندگی کے سفر میں کوئی خلل واقع ہو گا لیکن جو عصر حاضر میں یہودیوں کے ذریعے جو بنکوں کا جو طریقہ کار بنایا ہوا ہے اس نے دنیا کے ہر انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف انسانوں کی زندگیوں کی برکتوں کا خاتمہ ہو چکا ہے بلکہ انہیں معیشتی امور میں خدا کے مقابلے میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔
آج پوری دنیا کے ماہرین اقتصاد کا یہ ماننا ہے کہ جس چیز نے انسانی سماج کو بے روزگاری ، مہنگائی اور بدبختی کے موڑ پر لا کر کھڑا کیا ہے وہ ہے عصر حاضر کا بینکنگ سسٹم۔
موسی پیکاک نامی ایک ماہر اقتصاد کا کہنا ہے کہ دنیا کے بین الاقوامی ماہرین اقتصاد معیشتی ترقی کے لیے جس چیز کی تجویز کرتے ہیں وہ ہے سود جبکہ تمام مشکلات کی بنیادی جڑ یہی سود ہے جس کی طرف انسانوں کو متوجہ نہیں کیا جاتا۔
اگر آپ بینکنگ سسٹم پر غور کریں کہ وہ کیسے وجود میں آیا؟ اور اس کے وجود میں لانے والے کون تھے؟ تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس نظام میں انسانوں کو کس طرح بیوقوف بنا کر انہیں اپنے چنگل میں پھنسایا جاتا ہے۔
بنکوں کے نظام کو وجود میں لانے والے یہودی ہیں۔ یہودیوں نے پوری دنیا کی معیشت کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے ۷ سو سال کا عرصہ صرف کر کے ایک مثلث وجود میں لائی جس کا ایک ستون بینک ہیں جو مکمل طور پر سود پر مبتنی ہیں دوسرا ستون اسٹاک مارکٹ ہے اور تیسرا قرضہ اور Loan ہے۔ یہودیوں نے ۷ سو سال لگا کر یورپ کے اندر اس نظام کو حاکم کیا اس کے بعد پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے اس بینکی نظام کے ذریعے سب سے پہلے ان کی معیشت کو اپنے اختیار میں لیا اور ان تین ستونوں کے ذریعے آج یہودی پوری دنیا کی معیشت کو اپنے اختیار میں لینے پر کامیاب ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود کہ قدیم توریت کی شریعت میں دوسرے ادیان و مذاہب کی طرح سود خواری حرام ہے اور سود کھانے والے افراد اخروی عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی سزا کے مستحق ہیں ان پر کفارہ واجب ہے اور انہیں کوڑے مارے جائیں گے لیکن یہودیوں نے جدید توریت میں تحریف کر کے سود خواری کو جائز قرار دے دیا’’ اپنے بھائی سے سود طلب نہ کرو نہ نقد پیسے پر نہ کھانے پر نہ کسی دوسری اس چیز ہر جو قرض دی جاتی ہے۔ صرف غیروں سے قرضے پر سود لے سکتے ہو‘‘ ( کتاب مقدس، عہد قدیم، سفر لاویان، باب ۲۵، آیت ۳۷،۳۸)
اہل سنت کے عالم دین رشید رضا نے اپنے استاد شیخ محمد عبدہ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: توریت کی قدیمی نسخوں میں یہ عبارت موجود نہیں تھی کہ تم غیروں سے سود لے سکتے ہو لیکن موجودہ نسخوں میں یہ الفاظ موجود ہیں۔ یہودیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہودی حتیٰ اپنے بھائیوں پر بھی رحم نہیں کرتے تھے اور ایک دوسرے سے سود لینے کے علاوہ انہیں اپنا غلام بنا کر حتیٰ دوسری قوموں کو بھی بیچ دیتے تھے۔

 

قوم یہود کا سرانجام قرآن کریم کی نگاہ میں (۲)

  • ۱۶۹

ارض موعود میں فساد و تباہی

قرآن کریم سورہ اسراء کی تیسری آیہ مبارکہ میں خبر دیتا ہے کہ بنی اسرائیل الہی لطف و کرم کے زیر سایہ اور پیغمبران الہی حضرت سلیمان اور حضرت داؤود کے ہمراہ اس سرزمین موعود میں وارد ہوئے (۹۵۰ ق،م) لیکن بجائے اس کے کہ وہ اس سرزمین پر احکام الہی کو نافذ کریں فساد و تباہی پھیلانے میں مصروف ہو گئے انہوں نے اس سرزمین پر ظلم و ستم کی بساط پھیلائی، الہی نعمتوں کی قدردانی کے بجائے کفران نعمت کیا لہذا خدا نے ان کے ظلم و تشدد کے نتیجے میں انہیں ہلاکت اور عذاب کا وعدہ دیا اور انہیں دردناک سرانجام سے آگاہ کیا۔
قوم یہود کی ہلاکت اور بابل کے زندان میں ان کی اسارت
اس کے بعد قرآن کریم اس سورے کی چوتھی آیت میں بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے عذاب کی خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل کے فساد و تباہی کی وجہ سے ہم نے ان کی ہلاکت کا وعدہ دے دیا ان پر ظالم و جابر بادشاہ مسلط کیا جو اشارہ ہے ’’بخت النصر اور اس کے لشکر‘‘ کی طرف۔ اور اس کے لشکر نے بنی اسرائیل کو سرزمین موعود کے چپے چپے پر تہہ تیغ کیا یہ ایسا عذاب تھا جو بنی اسرائیل کی لجاجت و ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے دامن گیر ہوا۔ (۶۰۸ق،م)
قوم یہود کی رجعت اور معبد سلیمان کی تعمیر نو
قرآن کریم بنی اسرائیل کی ہلاکت اور ارض موعود سے ان کو نکال دئے جانے کی طرف اشارہ  کرنے کے بعد جو در حقیقت اسی تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو بابل کے بادشاہ بخت النصر کے ذریعے رخ پایا، بنی اسرائیل کی اس سرزمین میں بازگشت اور ان کی تجدید حیات کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم نے ایک بار پھر تمہارے اوپر اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دئے اور ایک جوان نسل، کثیر اموال اور دیگر نعمتوں کے ذریعے تمہاری مدد کی اور تمہیں نئی حکومت تک پہنچایا۔ یہ اشارہ ہے بنی اسرائیل کے زندان بابل سے ۷۰ سال کے بعد نجات پانے کی طرف جو دراصل ایرانی بادشاہ ’’کوروش‘‘ کے ذریعے انہیں زندان بابل سے نجات ملی اور ان کی نئی نسل کو دوبارہ زندگی نصیب ہوئی، ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو کی گئی اور شریعت حضرت موسیٰ کو دوبارہ نافذ کیا گیا۔

بنی اسرائیل کا دوسری بار فساد پھیلانا
بنی اسرائیل کو دین سے دوری اور زمین میں فساد و تباہی پھیلانے کی وجہ سے اللہ نے انہیں جلاوطن اور ۷۰ سال تک زندان بابل میں اسیر کر دیا آخر کار توبہ و استغفار کے بعد زندان سے نجات ملی اور دوبارہ اپنے وطن واپس جانا نصیب ہوا۔ لیکن انسان کی سرشت یہ ہے کہ جب اسے کسی عذاب سے چھٹکارا ملتا ہے تو وہ اس عذاب اور اس کے اسباب کو فراموش کر دیتا ہے اور دوبارہ اسی گناہ و معصیت کا ارتکاب کرنے لگتا ہے جس کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوا ہوتا ہے۔
بنی اسرائیل جب دوبارہ اپنے وطن واپس لوٹے تو شریعت حضرت موسی (ع) پر عمل پیرا ہونے کے بجائے رومیوں کے دین اور آداب و رسوم کے گرویدہ ہو گئے جن بتوں کی وہ پرستش کرتے تھے ان کو اپنا خدا ماننے لگے۔ الہی پیغمبروں حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا جو انہیں توحید و یکتائی کی طرف دعوت دے رہے تھے اور دین الہی کی تعلیمات سے آشنا کر رہے تھے کو جھٹلا کر قتل کر دیا۔ اور رومیوں کے باطل دین کے پیروکار ہو گئے خداوند عالم نے ایک بار پھر انہیں عذاب میں مبتلا کیا اور انہی رومیوں جن کے دین کے وہ پیروکار ہو چکے تھے کے ذریعے انہیں ہلاکت سے دوچار کیا۔
قرآن کریم اس بارے میں فرماتا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب تمہاری ہلاکت کا دوسرا وعدہ بھی پورا ہو گیا، اور تم ایک بار پھر ظلم و فساد میں ڈوب گئے اور تمہارے چہرے سیاہ ہو گئے۔ یعنی خدائے وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر رومیوں کے خداوں کی پرستش اور ان کے باطل دین کی پیروی اور ان کے ظالم و ستمگر بادشاہ جسے قرآن نے ’’طاغوت‘‘ کا نام دیا ہے کی اطاعت وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے بنی اسرائیل ایک بار عذاب الہی میں مبتلا ہوئے اور ان کے چہرے سیاہ ہو گئے۔
وَلِیُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِیرًا ؛ قرآن کریم فرماتا ہے: اس کے بعد جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسری قوم کو مسلط کر دیا تاکہ تمہاری شکلیں بگاڑ دیں۔۔۔
رحمت و مغفرت کا وعدہ
قرآن کریم بنی اسرائیل کو دو مرتبہ عذاب میں مبتلا کرنے کے بعد انہیں رحمت و مغفرت کا وعدہ دیتا ہے یعنی الہی شریعت کو چھوڑ کر بابل و روم کے طاغوتوں کی پیروی نے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ انہیں ذلیل و رسوا کیا اور اللہ نے بھی اپنے دردناک عذاب  کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ آخر کار دوسری مرتبہ عذاب الہی کا مزہ چکھنے کے بعد بنی اسرائیل نے توبہ اور استغفار کا راستہ اختیار کیا اور اللہ نے بھی ان کی توبہ قبول کی اور ان پر رحمت و مغرفت کا دروازہ کھول دیا۔
لیکن قرآن کریم بیان کرتا ہے کہ یہ قوم اس کے بعد بھی اپنی توبہ پر باقی نہیں رہی اور سب رحمت الہی کے دروازے سے داخل نہیں ہوئے انہوں نے حضرت عیسی پر ایمان لانے سے انکار کیا، پیغمبر اسلام کی رسالت کو ماننے سے انکار کیا جبکہ یہ یہودیوں کے لیے ایک غنیمت کا موقع تھا کہ وہ رسول خدا پر ایمان لے آتے اور گزشتہ انبیاء کے ساتھ جو انہوں نے ناروا سلوک کیا انہیں جھٹلایا، انہیں قتل کیا اس دھبے کو اپنے دامن سے پاک کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے پھر وہی تاریخ دھرائی اور اللہ کے اس آخری نبی پر ایمان لانے کے بجائے اس کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوجھل و ابو سفیان جیسوں کا سہارا لے کر اللہ کے آخری نبی کے مد مقابل آگئے۔
قوم یہود کی آخری ہلاکت
قرآن کریم اس بات کا قائل ہے کہ ایک مرتبہ پھر سرزمین موعود پر واپسی بنی اسرائیل اور قوم یہود کے مقدر میں ہے لیکن وہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس مقدس سرزمین پر سوائے ظلم و فساد کی بساط پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے لیکن یہ ان کے پاس آخری موقع ہو گا اور اس کے بعد جب عذاب الہی ان کے سوراغ میں آئے گا تو ان کی بساط مکمل طور پر سمٹ جائے گی۔ «وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِی إِسْرَائِیلَ اسْکُنُواْ الأَرْضَ فَإِذَا جَاء وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیفًا» (سوره اسراء/104)
’’اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ اب زمین میں آباد ہو جاؤ پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آ جائے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کر لے آئیں گے۔‘‘
بعض تفسیروں کے مطابق قرآن کی یہ تعبیر ’’وعد الآخرہ‘‘ قوم یہود کی ہلاکت کا آخری وعدہ ہے جو اسی سرزمین موعود میں انجام پائے گا ان کی ’’ارض نعمت‘‘ ’’ارض نقمت‘‘ میں تبدیل ہو جائے گی۔
سورہ اسراء کی آٹھویں آیت میں بھی قرآن کریم بنی اسرائیل کی آخری ہلاکت کے بارے میں فرماتا ہے: «عَسَى رَبُّکُمْ أَن یَرْحَمَکُمْ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْکَافِرِینَ حَصِیرًا»
امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کر دے لیکن اگر تم نے دوبارہ فساد کیا تو ہم پھر سزا دیں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے ایک قید خانہ بنا دیا ہے۔
یعنی اگر تم نے دوبارہ اس سرزمین موعود پر ظلم و ستم کی داستان شروع کر لی تو ہمارا عذاب تمہارے سوراغ میں پھر آئے گا۔ گویا اس آیت میں قرآن کریم بنی اسرائیل کے انجام کی خبر دیتا ہے اور اس کی نشانی اور علامت انکا ظلم و ستم اور فساد و تباہی ہے۔ یعنی واضح لفظوں میں یوں کہیں کہ اس ارض موعود میں یہودیوں کا ایک بار پھر جمع ہونا اور ان کی طرف سے ظلم و ستم کی داستان دوبارہ رقم کرنا ان کے آخری زوال اور نابودی کی علامت ہے۔
قرآن کریم اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ اب آخری بار خداوند عالم خود قوم یہود کی نابودی کے لیے اقدام کرے گا اس لیے کہ اس نے اس سے قبل دو مرتبہ دوسروں کو ان کی نابودی کے لیے بھیجا ایک مرتبہ بادشاہ بابل کو اور دوسری مرتبہ بادشاہ روم کو لیکن تیسری اور آخری مرتبہ جو عذاب الہی ان کے دامن گیر ہو گا اور ان کی نابودی یقینی ہو گی وہ خدا کے صالح بندوں اور مومنین کے ذریعے ہو گی اور یہ ایسی نابودی ہو گی کہ اس کے بعد وہ اس سرزمین کا رخ نہیں کر پائیں گے۔

 

قوم یہود کا سرانجام قرآن کریم کی نگاہ میں (۱)

  • ۲۶۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: قرآن کریم بنی اسرائیل اور قوم یہود جو حضرت موسی (ع) کے واسطے نجات یافتہ ہوئے اور اللہ کی ان پر نعمتیں نازل ہوئی کی کمزوریوں کو بیان کرتا ہے کہ یہ بچھڑے کی پوجا کرنے لگے اللہ کی نشانیوں کا انکار کرنے لگے ان کے دل پتھر کے مانند ہو گئے انہوں نے انبیائے بنی اسرائیل کا قتل کیا اور آخر کار خداوند عالم کے غضب کا نشانہ بنے اور خدا نے انہیں ذلت و رسوائی سے دوچار کیا۔
مقدمہ
قرآن کریم قوم یہود کو مسلمانوں کا بدترین دشمن قرار دیتا ہے۔ عصر حاضر میں بھی اس کی مثال یہودی ریاست ہے جو عالم اسلام کی بدترین دشمن ہے۔ اس یہودی ریاست اور قوم یہود کا سرانجام کیا ہو گا؟ اس کو جاننے کے لیے درج ذیل تحریر ملاحظہ فرمائیں۔
قرآن کریم سورہ یوسف میں بنی اسرائیل کی پیدائش اور کنعان سے سرزمین مصر ان کی ہجرت کے واقعات کو بیان کرتا ہے، سورہ یوسف کے بعد سورہ اسراء میں ان کی گمراہی اور سرزمین موعود میں ان کے ظلم و فساد اور ان کی وعدہ خلافیوں کا تذکرہ کرتا ہے اور آخر میں ان پر نازل ہونے والے الہی قہر و غضب کی خبر دیتا ہے کہ اس قوم نے جو عہد شکنیاں کیں، زمین میں جو فساد و تباہی پھیلائی اس کی وجہ سے ان کی ’’ارض موعود‘‘ ’’ارض ہلاکت‘‘ میں تبدیل ہو گئی۔ اور ان کا سرانجام بھی ابلیس کے جیسا انجام ہوا کہ اس نے بھی الہی نعمتوں کی قدردانی نہیں کی اور طغیان و تکبر سے کام لیا اور راندہ درگاہ ہو گیا۔ جیسا کہ سورہ بقرہ میں بھی ابلیس کے قصے کے بعد بنی اسرائیل کے عناد و استکبار کا تذکرہ ہوا ہے کہ یہ قوم بھی مجسم شیطان اور دجال زمانہ ہے۔
سورہ اسراء جس کا دوسرا نام ہی بنی اسرائیل ہے قرآن کریم کے حیرت انگیز سوروں میں سے ایک ہے اور اس میں بہت ہی اہم نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
پیغمبر اسلام کا ارض موعود میں داخلہ
خداوند عالم اس سورہ کی پہلی آیت جو لفظ ’’سبحان‘‘ سے شروع ہوتی ہے اور اس کے مطالب کی عظمت اور اہمیت کی طرف اشارہ کرتی ہے میں پیغمبر اسلام کے ایک ہی رات میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ کے سفر اور انہیں الہی نشانیوں کو دکھلانے کی خبر دیتا ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ خداوند عالم اپنے نبی کو سرزمین مکہ؛ جو توحید ابرہیمی کا مرکز ہے سے پیغمبروں کی ارض موعود جو سرزمین فلسطین ہے کا سفر کرواتا ہے اور در حقیقت ان دونوں سرزمینوں پر اپنے نبی کی حاکمیت کو بیان کرتا ہے جیسا کہ احادیث معراج سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر تمام پیغمبر رسول خدا(ص) کے حضور میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ کی رسالت و امامت کا اقرار کرتے ہیں اور تمام انبیائے الہی کے واسطے اس سرزمین موعود پر امت واحدہ تشکیل پاتی ہے گویا وہ سرزمین جس پر تمام پیغمبر حکومت الہی کی تشکیل اور شریعت الہی کے نفاذ کے لیے سعی و تلاش کرتے رہے اس پر پیغمبر اسلام کی امامت میں امت واحدہ تشکیل پانے کی نوید دیتے ہیں۔
لہذا اس سورہ کی سب سے پہلی آیت اس سرزمین میں عدل الہی کے قیام کی بشارت دیتی ہے اور پیغمبر اسلام اور ان کے اصحاب و انصار و ان کے کلمہ گو کو اس سرزمین کے وارث قرار دیتی ہے۔
تورات کا نزول عدالت کی حاکمیت کے لیے
قرآن کریم اس سورہ مبارکہ کی دوسری آیت میں حضرت موسی علیہ السلام کی رسالت کا تذکرہ کرتا ہے اور بیان کرتا ہے کہ خداوند عالم نے موسی کو مقام نبوت پر فائز کیا اور ان پر تورات نازل کی اور تورات کو بنی اسرائیل کی ہدایت کا منشور قرار دیا تاکہ وہ شریعت الہی کا نفاذ عمل میں لائیں، تورات پر عمل کریں، شریعت کو اپنا حاکم بنائیں اور خدا کو اپنا مولا اور ولی قرار دیں۔ (۱۴۴۷ ق۔ م)

 

یہودیوں کی خصلتیں قرآن کریم کی نظر میں

  • ۱۷۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عالم انسانیت کے بد ترین دشمن یہودی ہیں قرآن کریم نے بھی اس بات اعلان کیا ہے اور تاریخ و تجربہ نے بھی اس چیز کو ثابت کیا ہے۔
اس بات سے قطع نظر کہ آج کی دنیا میں یہودی قوم دوسری قوموں کے ساتھ کیسا سلوک کر رہی ہے اگر ہم اس قوم کی گزشتہ تاریخ پر بھی نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ دیگر قومیں کس قدر اس ستمگر قوم کے ظلم و تشدد کا شکار رہی ہیں۔
اس مختصر تحریر میں ہم قرآن کریم کی نگاہ سے قوم یہود کی چند خصلتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پروردگارعالم نے خود قرآن میں بیان کی ہیں۔
قرآن کریم میں چار سو سے زیادہ آیتیں بنی اسرائیل کے بارے میں ہیں ان آیتوں میں بنی اسرائیل کے قصوں کے علاوہ دوسری قوموں کی نسبت پائی جانے والی ان کی دشمنی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن چونکہ ان تمام آیتوں کا جائزہ لینا ایک مستقل اور مفصل موضوع ہے اور اس تحریر میں اس کی گنجائش نہیں لہذا صرف بعض عناوین کی طرف یہاں اشارہ کرتے ہیں:
الف؛ تاریخی خصلتیں (۱)
۱، دین سے بغاوت اور سامری کے بچھڑے کی پرستش
۲، خدا کی جسمانیت پر عقیدہ اور خدا کی رؤیت کا مطالبہ
۳، صحراؤں میں چالیس سال تک جلاوطنی کی سزا بھگتنا
۴، خدا اور حضرت موسی (ع) کے ساتھ ہٹ دھرمی اور لجاجت
۵، انبیاء اور پیغمبروں کا قتل
۶، اسیروں کا قتل جن کے قتل سے منع کیا گیا تھا
۷، سنیچر کے دن کی حرمت کی اطاعت نہ کرنا
۸، ان میں بعض کا بندر کی شکل میں تبدیل ہونا (۲)
۹، ربا، سود اور چوری کو جائز قرار دینا
۱۰، کلمات الہی میں تحریف پیدا کرنا (۳)
۱۱، اس بات پر عقیدہ رکھنا کہ خدا کا ہاتھ نعوذ باللہ مفلوج ہے (۴)
۱۲، حق کی پہچان کے بعد اس کی پیروی نہ کرنا
۱۳، آیات الہی کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ان کا انکار کرنا(۵)
۱۴، آسمانی بجلی گرنے کے بعد سب کو ایک ساتھ موت آنا اور دوبارہ زندگی ملنا (۶)
۱۵، گناہوں کی وجہ سے شقاوت قلب کا پیدا ہونا (۷)
۱۶، اس بات پر عقیدہ کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں اور خدا انہیں عذاب نہیں کرے گا۔ (۸)
یہودیوں کی ذاتی خصلتیں قرآن کریم کی روشنی میں
۱، مادہ پرستی
قرآن کریم نے قوم یہود کی ایک خصلت یہ بیان کی ہے کہ وہ مادہ پرست ہیں یہاں تک کہ وہ خدا کو بھی اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَکْبَرَ مِنْ ذَٰلِکَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ )9(
’’انہوں نے موسیٰ سے اس سے بڑی مانگ کی اور کہا ہمیں خدا کو آشکارا دکھلاؤ پس ان کے ظلم کی وجہ سے آسمانی بجلی نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا‘‘۔
۲، مال و ثروت کی لالچ
پروردگار عالم نے قرآن کریم میں یہودیوں کی ایک صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ مال دنیا کی نسبت بے حد حریص اور لالچی ہیں۔
وَ لَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلى‌‌ حَیاةٍ وَ مِنَ الَّذینَ أَشْرَکُوا یَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَ ۔۔۔ (بقرہ ۹۶)
’’اے رسول آپ دیکھیں گے کہ یہ (یہودی) زندگی کے سب سے زیادہ حریص ہیں اور بعض مشرکین تو یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ہزار برس کی عمر دی جائے جبکہ یہ ہزار برس بھی زندہ رہیں تو طول حیات انہیں عذاب الہی سے نہیں بچا سکتا‘‘
۳، مومنوں اور مسلمانوں سے دشمنی و عداوت
قرآن کریم سورہ مائدہ کی ۸۲ ویں آیت میں فرماتا ہے: لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَداوَةً لِلَّذِینَ آمَنُوا الْیَهُودَ وَ الَّذِینَ أَشْرَکُوا  ’’آپ دیکھیں گے کہ صاحبان ایمان سے سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں‘‘۔
آخری دو خصلتوں کو آج کے یہودیوں اور صہیونیوں میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ جو کچھ اس وقت دنیا میں خصوصا بیت المقدس میں ہو رہا ہے وہ یہودیوں کی مسلمانوں اور اسلامی آثار کی نسبت شدید ترین دشمنی کا نمونہ ہے۔ سورہ آل عمران کی ۹۹ آیت میں خداوند عالم یہودیوں کی ملامت کرتے ہوئے فرماتا ہے: قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
’’کہیے! اے اہل کتاب کیوں صاحبان ایمان کو راہ خدا سے روکتے ہو اور اس کی کجی تلاش کرتے ہو جبکہ تم خود اس کی صحت کے گواہ ہو اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘۔
یہودی اپنے برے مقاصد حاصل کرنے کے لیے عام طور پر خفیہ سازشیں اور خطرناک پروپیگنڈے کرتے ہیں جن کے ذریعے نادان اور سادہ لوح افراد کو با آسانی شکار کر لیتے ہیں۔ اس وجہ سے خداوند عالم نے بعد والی آیت میں مومنین کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دشمن کی زہر آلود سازشوں کا شکار نہ بنیں اور انہیں اپنے اندر نفوذ پیدا کرنے کی اجازت نہ دیں۔ (۱۰)
صدر اسلام کے مسلمانوں کی نسبت قوم یہود کی عداوتوں اور خفیہ سازشوں کے بے شمار نمونے تاریخ میں موجود ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انہوں نے مومنین کی سادہ لوحی اور غفلت سے بخوبی فائدہ اٹھایا۔ مثال کے طور پر جنگ خندق میں وہ منافقین اور یہودی جو پیغمبر اکرم کے حکم سے مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے انہوں نے دشمنان اسلام کو تحریک کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہوں اور وہ ان کی پشت پناہی کریں۔ انہوں نے کفار سے کہا: تم مطمئن رہو کہ تم حق پر ہو اور تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے(۱۱) اس کے بعد بنی قینقاع، بنی قریظہ اور بنی نظیر کے یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کسی پر ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ (۱۲)
لیکن خداوند عالم نے انہیں ہر مقام پر ذلیل و رسوا کیا ’’ضربت الیھم الذلۃ‘‘ ذلت اور رسوائی کی طوق ان کی گلے میں لٹکا دی جو بھی قوم گناہوں میں غرق ہو جائے گی دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرے گی اس کا سرانجام ذلت و رسوائی ہو گا۔ (۱۳)
آج بھی یہ قوم مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے اور سازشیں کرنے میں سرفہرست ہے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو ان کے آشیانوں اور کاشانوں سے باہر نکال کر ان کا قتل عام کر رہی ہے ان پر ظلم و ستم کی تاریخ رقم کر رہی ہے صرف دنیا کی لالچ میں اقتدار کی لالچ میں ملک اور زمین کی لالچ میں۔ لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ مستضعفین زمین کے وارث بنیں گے اور ظالم و ستمگر ذلیل و خوار ہو کر نابود ہو جائیں گے۔ (۱۴)
حوالہ جات
1. تفسیر نمونه و المیزان، ذیل آیات 153- 161، سوره نساء
2. نساء(4)/47
3. بقره(2)/79
4. مائده(5)/64
5. عنکبوت(29)/32
6. بقره(2)/55
7. بقره،(2)/74
8. بقره(2)/95
9. نساء(4)/153
10. ر.ک: نفسیر نمونه، ج3، ص 23- 22
11. ر.ک: تاریخ اسلام، محلاتی، ج1، ص 132- 131
12. ر.ک : تاریخ اسلام، منتظر القائم، صص 214- 220
1۳. ر.ک: تفسیر نمونه،ج 3، ص 54
1۴. وہی، ج23، ص 499