ابوظہبی کے تل ابیب سے تعلقات پر امارات کے دیگر حکمرانوں کا موقف

  • ۱۷۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عرب نیوز ایجنسی 21 کے جائزہ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں اور ان کے قریبی افراد کی طرف سے سرکاری اور غیرسرکاری میڈیا پر جاری کردہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے ابوظہبی کے فیصلے پر اماراتی عہدیداروں اور لوگوں کے درمیان کافی حد تک اختلافات پائے جاتے ہیں۔

شارجہ، عجمان، راس الخمیہ، ام القیوین اور الفجیرہ کے حکمرانوں نے تل ابیب کے ساتھ ابوظہبی کے تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کی باضابطہ طور پر حمایت نہیں کی اور صرف حاکم امارات محمد بن راشد آل مکتوم  نے اپنے ٹویٹر میں لکھا ہے کہ ’’صلح پسند بہادروں کے نام تاریخ میں درج ہو جائیں گے‘‘۔ لیکن دیگر کسی نے خاموشی کا تالہ نہیں توڑا۔

عربی نیوز 21 نے المکتوم خاندان کے 33 افراد اور محمد بن راشد کے بیٹوں کے ٹویٹر اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام اکاؤنٹس بھی چیک کیے، ان میں سے کسی نے بھی ابوظہبی کی حمایت نہیں کی۔ دبئی کی صرف دو حکمرانوں کی بیٹیوں نے اس معاہدے کی حمایت کی ہے۔

شارجہ کے حکمران جو ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی ہیں ، نے عوامی تنقید کے فقدان کے باوجود ، دوسروں کے مقابلے میں ، تل ابیب کے ساتھ ابوظہبی کے تعلقات کے حوالے سے، اپنے سخترین موقف کا اظہار کیا۔ شارجہ کے حکمران کی اہلیہ شیخہ جواہر القاسمی کے موقف کو سی این این نیوز نے شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’قدس دار الحکومت کے ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی قیمت ہے۔"

جواہر القاسمی کے ٹویٹ میں مقبوضہ بیت المقدس کو حکومت کا دارالحکومت قرار دینے کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو معمول پر لانے کی مخالفت کی گئی ہے۔ شارجہ کے حکمران کی بیٹی نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ، لیکن معاہدے کے اعلان سے دو دن قبل انسٹاگرام پر لکھا، "میں فلسطین کی آزادی تک فلسطینی ہوں بیروت میں امن کے قیام تک لبنانی ہوں۔"
راس الخیمہ کے حکمران ، سعود بن صقر القاسمی نے اس معاہدے کو نظرانداز کیا ہے ، لیکن ان کے بیٹے محمد نے اس کی سختی سے حمایت کی اور اسرائیل  کے ساتھ باہمی رواداری کو ضروری سمجھا ہے۔

عربی نیوز 21  کی رپورٹ کے مطابق دیگر تمام شیوخ نے اس معاہدے کو نظر انداز کیا ہے اور اس کے اوپر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

متحدہ عرب امارات کے مخالفین کا کہنا ہے کہ محمد بن زید کی سربراہی میں ابو ظہبی نے متحدہ عرب امارات کی سپریم کونسل کے سات ممبران کے لئے کسی بھی ممکنہ کردار کو مسترد کردیا ہے ، جبکہ متحدہ عرب امارات کے سات ملکوں کے شیخوں کو حکومت کے فیصلوں میں شامل ہونا چاہئے تھا، لیکن ابوظہبی برسوں سے اپنے امور پر یکطرفہ فیصلہ کرتی آئی ہے۔

 

عطوان: فلسطینی کاز کا خاتمہ ایک "تاریخی دن" کہاں ہے؟

  • ۱۹۳

عرب دنیا کے مشہور تجزیہ کار اور مصنف نے امریکہ کے تحت نظر متحدہ عرب امارات اور صہیونی ریاست کے مابین انجام پائے معاہدے کو "غداری کا عروج" قرار دیا ہے۔
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عرب دنیا کے ایک مشہور تجزیہ کار اور مصنف "عبدالباری عطوان" نے لکھا ہے کہ اس سے قبل جتنے بھی معاہدے انجام پائے ان پر مصر، اردن اور فلسطینی اتھارٹی کے دستخط تھے اور آئندہ بھی تمام معاہدے جن کا ڈونلڈ ٹرمپ اور جرڈ کوشنر نے وعدہ کیا ہوا ہے وہ بھی ایسے ہی ہوں گے۔
عطوان نے لکھا: "یہ واقعی تکلیف دہ بات ہے کہ کچھ لوگ اس معاہدے پر خوشی منا رہے ہیں اور اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ" تاریخی معاہدہ " ہے اور عرب دنیا کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ لیکن میرا ایک سوال ہے،قدس، مسجد الاقصیٰ اور تمام اسلامی عربی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فلسطین کو بیچ ڈالنا کیا ایک ’تاریخی دن‘ ہے؟  کیا اسرائیل ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ایک عرب سنی رہنما کی تاج پوشی کر رہا ہے ایک نئے دور کا آغاز ہے؟  کیا یہ انصاف کے قیام کی طرف ایک بڑا قدم ہے؟ کونسا انصاف پسند معاہدہ ہے جس میں نہ قدس کا تذکرہ ہے، نہ فلسطین کا ذکر ہے، نہ عرب منصوبے کا نام ہے؟ برائے مہربانی اگر آپ ہمارے جذبات کا احترام نہیں کرتے تو کم سے کم ہمارے ضمیر کی توہین نہ کریں۔
اخبار " رائ الیوم " کے مطابق عطوان نے مزید لکھا: ہاں یہ اماراتی-اسرائیلی معاہدہ فلسطینی کاز کے لیے ایک دائمی امن کا باعث بنے گا اور وہ ہے ’فلسطینی کاز کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ‘ ،  اور شاید اس کی بہترین وضاحت خود نیتن یاہو نے کی جو کہا کہ "وہ اپنے تعلقات ہمارے ساتھ معمول پر لا رہے ہیں چونکہ ہم طاقتور ہیں اور وہ کمزور‘‘ ۔  لیکن نیتن یاہو ان عربوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے تعلقات اچھے بنا لیے ہیں یا مستقبل میں بہتر بنائیں گے نہ کہ وہ عرب جو اسرائیل کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور غزہ کی پٹی سے نیتن یاہو پر بارش کی طرح میزائل برسائے جب وہ انتخاباتی مہم کے دوران تقریر کر رہے تھے اور اپنی جان بچا کر چوہے کی طرح بل میں گھس گئے۔
عرب دنیا کے اس مصنف نے مزید لکھا ہے کہ کچھ لوگ ٹیکس یا انعام کے طور پر واشنگٹن اور ٹرمپ کو نقد رقمیں ادا کرتے ہیں یا حمایت کے بدلے ان سے ہتھیار خریدتے ہیں اور اب یہی لوگ بالخصوص خلیج فارس کے ممالک خوف اور دھشت کے مارے یہی ٹیکس اور انعامات نیتن یاہو کو دیں گے تاکہ وہ انہیں ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھیں۔
عطوان نے مزید لکھا: "ہم جانتے ہیں کہ نتن یاہو اور ٹرمپ ، جو خود بحران زدہ ہیں ، اس معاہدے کے فاتح ہیں، خواہ یہ وقتی ہی کیوں نہ ہو ، لیکن اس معاہدے پر دستخط کرنے سے متحدہ عرب امارات کو کیا فائدہ حاصل ہوا ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات جو تیل سے مالا مال ایک ملک ہے اس نے فرانس ، امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے ہوئے ہیں اور اس کی سرزمین پر ان کے متعدد فوجی اڈے ہیں ۔ایک ہفتہ قبل اس کے وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی تھی۔

دنیائے عرب کے ممتاز تجزیہ کار نے یہ ذکر کرتے ہوئے کہ عام طور پر امن معاہدوں پر دشمنوں کے ساتھ جنگ یا تناؤ کے بعد دستخط ہوتے ہیں یہ سوال اٹھایا کہ کیا متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ حالت جنگ میں تھا یا ایسی جنگ میں داخل ہونے جا رہا تھا جس سے ہم لاعلم تھے۔
انہوں نے مزید کہا: "آج ہم عراق، لیبیا ، یمن اور شام کی تباہی اور فلسطینی عوام کی بھوک اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ساتھ غداری کی وجوہات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں‘‘۔
عبد الباری عطوان نے آخر میں یہ لکھا کہ سن 1982 میں لبنانی شکست نے اسلامی مزاحمت کو جنم دیا ، اور جون 1967 میں فلسطینی مزاحمت تشکیل پائی اور 2000 میں کیمپ ڈیوڈ کے سازشوں سے دوسرا مسلح انفتاضہ شروع ہوا۔ یہ امت ایک پختہ اور مستحکم اعتقاد کی مالک ہے اور مستقبل میں بھی کسی قیام سے گریز نہیں کرے گی۔

 

 

لبنان کے خلاف فرانس، امریکہ اور سعودی عرب کا اتحاد

  • ۲۰۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ، لبنان کے وزیر اعظم ’’حسان دیاب‘‘ جو بیروت دھماکے کے بعد سخت دباؤ میں تھے نے بالآخر پیر (کل) کو استعفیٰ دے کر اگلی حکومت کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے تاکہ ملک کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔
روزنامہ " الاخبار " نے اپنی ایک رپورٹ میں لبنان کی موجودہ صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے، فرانسیسی صدر "ایمانوئل میکرون" نے ایسے وقت میں لبنان کا اچانک دورہ کیا کہ لبنان کی صورتحال بحرانی کیفیت کا شکار تھی انہوں نے بجائے اس کے کہ موجودہ حکومت کو سہارا دیں اور دھماکے میں اتنی جانوں کے ضیاع پر تعزیت پیش کریں مخالف سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کو حکومت کے خلاف مشتعل کر دیا۔  ایسے میں حسن دیاب کو ان لوگوں کو جواب دینا پڑا جو ان کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر انہیں قربانی کا بکرا بنانے کی سازش رچا رہے تھے ، لہذا انہوں نے قبل از وقت الیکشن کا بم پھوڑ دیا۔ لیکن جب پارلیمنٹ کے اسپیکر ’نبیہ بری‘ نے "اتحادیوں سے مشورہ کیے بغیر یہ اعلان کر دیا کہ وہ جمعرات کے روز موجودہ حکومت کو بیروت دھماکے کے حوالے سے مواخذہ کرنے کا قصد رکھتے ہیں تو حسن دیاب استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے۔
لبنانی حکومت کے استعفے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، فرانسیسی وزارت خارجہ نے یہ اعلان کیا کہ میکرون کے لبنان دورے کا مقصد پورا ہو گیا ہے لہذا جلد ہی نئی حکومت تشکیل دی جائے گی۔ بیان میں آئندہ حکومت کے چیلنجوں کو ’بیروت کی تعمیر نو‘ اور ’لبنانی عوام کے مطالبات کا جواب‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ اگر چہ بظاہر فرانس کے منصوبے کے مطابق لبنان کی سیاسی پالیسی ایک قومی حکومت کی تشکیل کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم اعلیٰ سیاسی ذرائع کے مطابق فرانس لبنان میں قومی حکومت کی تشکیل کا خواہاں نہیں ہے بلکہ امریکہ اور سعودی عرب کے ہمراہ ایسی حکومت کی تشکیل پر زور دے رہا ہے جو ان کے مفاد میں ہو اور مزاحمتی گروہوں کو کمزور بلکہ غیر مسلح کرے۔
اسی سلسلے میں ریاض کے قریبی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ فرانس نے لبنان کے لئے کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا اور یہ سچ نہیں ہے کہ پیرس نے قومی اتحادی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ایسی حکومت "دوسری بغاوت" کا باعث بنے گی۔ ذرائع نے مزید کہا: "فرانسیسی کسی بہانے قومی اتحاد کی حکومت کے اس نظریہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میکرون کے الفاظ کی غلط ترجمانی کی گئی ہے۔"
الاخبار نے لبنان میں ہونے والے واقعات اور فرانسیسی منصوبے کے بارے میں سعودی عرب کے مؤقف کو باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ریاض کے لئے سب سے بڑا مسئلہ "حزب اللہ کا غلبہ اور اس کے تئیں مشیل عون کی حمایت ہے‘‘۔
لبنانی سیاسی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکیوں فرانسیسیوں اور سعودیوں نے ’نواف سلام‘ کو مستقبل کی لبنانی حکومت کے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار نامزد کیا ہے ۔ لیکن ممکن ہے مشیل عون اپنے قانونی اختیارات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگلے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے کوئی ریڈ لائن متعین کر دیں۔ لیکن بہر صورت سیاسی خلا سے بچنے کے لیے جلد ہی ایک نئی حکومت کی تشکیل لازمی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ، موجودہ حالات کے پیش نظر لبنان کا مستقبل دو ممکنہ صورتوں پر مبنی ہے:
پہلی صورت؛ ابتدائی پارلیمانی انتخابات کا نفاذ۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سنجیدہ نہیں لگتا کیوں کہ لبنان کو بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے، ان میں سے پہلی مشکل نئے انتخابی قانون پر اتفاق ہے۔

دوسری صورت؛ نئی حکومت کا قیام یا سیاسی نظام کی تنظیم نو ، جو ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے ’طائف‘ معاہدے کی طرح طویل مدتی گفتگو اور مشاورت کی ضرورت ہے۔ ایک ہی آپشن باقی رہتا ہے اور وہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت اپنا استعفیٰ واپس لے لے، جو آسان نہیں ہے لہذا ملک کی صورتحال وہی ہے جو سعد الحریری کے استعفیٰ کے بعد پیش آئی تھی ، لیکن اس بار مسئلہ صرف حکومت کی تشکیل کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ بیروت دھماکے میں جانوں کے ضیاع اور بھاری نقصانات کا بھی ہے۔ چونکہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ انتقام کے خواہاں ہیں۔
ایسے میں لبنان کے حالات کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مسلم ممالک اور صہیونی ریاست کی قربتیں

  • ۱۷۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ؛ عرب دنیا کے حکمرانوں اور اسرائیل کی قرابت میں آئے روز ہونے والا اضافہ جہاں ایک طرف فلسطینیوں کی بے مثال جدوجہد کو سبوتاژ کر رہا ہے، وہاں ساتھ ساتھ اسرائیل کے لئے خطے میں کھلم کھلا بدمعاشی اور دہشت گردی کے راستے بھی کھول رہا ہے اور یہ دہشت گردی بالآخر خطے میں موجود اسرائیل کے قرابت دار عرب حکمرانوں کو بھی اپنی آگ میں لپیٹ لے گی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمران اور بادشاہ اپنے انجام اور عاقبت سے بے خبر امریکہ و صہیونی کاسہ لیسی میں غرق ہوچکے ہیں۔ سابق اسرائیلی سفارتکار دورے گولڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل عرب تعلقات کے بڑھتے ہوئے رحجان سے اسرائیل کی مشکلات میں کمی ہونے کا امکان پیدا ہوچکا ہے۔ انہوں نے عرب دنیا اور اسرائیل کے مابین ملاقاتوں اور تعلقات کے راز کو افشا کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ملاقاتیں کوئی نئی بات نہیں ہیں بلکہ کئی برسوں کا تسلسل ہے اور اس طرح کی ملاقاتیں اسرائیل کے لئے کامیابی کی کنجی ہیں۔
اس تجزیہ نگار کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمران اور اسرائیل کے حکمران اب ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن ماضی میں کوئی بھی قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی، تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ سابق اسرائیلی سفارتکار کے تجزیہ کے مطابق عرب خلیجی حکمرانوں کی اسرائیل کے قریب آنے کی ایک وجہ اسرائیل اور ان عرب ممالک کا ایران مخالف ہونا ہے۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران پر قابو رکھنے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ بھی خلیج میں امریکی اتحادیوں اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات کی زبردست حامی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں فلسطین اور اس کے عوام شدید خطرات سے لاحق ہو رہے ہیں، القدس خطرے میں ہے۔ خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں، نئے اتحادوں اور صدر ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد کہ وہ اسرائیل عرب تنازعے کو ختم کرنے کے لیے اس “صدی کا سب سے بڑا معاہدہ” کرانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، فلسطینیوں کی فکرمندی میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔
فلسطینیوں کو خطرہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اْن پر دباؤ بڑھانے کے لئے سعوی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی ریاستوں کی جانب دیکھ رہی اور یہ امریکی انتظامیہ فلسطینیوں کو ایک ایسے امن معاہدے پر مجبوراً رضامند کرانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے ان کے دیرینہ مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ فی الحال صرف مصر اور اردن ہی وہ عرب ممالک ہیں، جو اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن قائم کرنے کا عمل بہت پہلے رک چکا ہے، لیکن گذشتہ سال اسے ایک اور دھچکا لگا۔ وہ فلسطینی عوام جو مقبوضہ بیت المقدس کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانے چاہتے ہیں، انھوں نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اسے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے یہ کہہ کر واشنگٹن سے اپنے تعلقات ختم کر لیے کہ یہ قدم تصفیہ کرانے والے کسی منصف کا نہیں ہو سکتا۔
لیکن اس کے باوجود مشرق وسطیٰ کے لئے امریکہ کے ایلچی جیسن گرین بلاٹ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم کے عمان کے دورے کے حوالے سے پرجوش بھی ہیں۔ اپنی ایک ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ “یہ قدم ہماری امن کی کوششوں کے لئے نہ صرف مدد گار ہے بلکہ اسرائیل، فلسطین اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان استحکام اور خوشحالی کی فضا قائم کرنے کے لئے ضروری بھی ہے۔” دوسری طرف عرب دنیا کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امن مذاکرات کی بحالی میں سعودی عرب کو جو کردار دیا گیا تھا، وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد شکوک کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بیان میں بنیامن نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگرچہ خاشقجی کی ہلاکت ایک “ہولناک” خبر تھی، لیکن اس سے سعودی عرب کے اندر عدم استحکام پیدا نہیں ہونا چاہیئے، کیونکہ اصل اور بڑا مسئلہ ایران ہے۔ بحرین نے اسرائیل کی جانب سے اس “واضح موقف” کو اسی طرح سراہا ہے، جیسا اس نے گذشتہ دنوں عمان کو اسرائیلی وزیراعظم کی آمد پر سراہا تھا۔
اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ عرب ممالک جلد ہی اسرائیل کو پوری طرح گلے لگا لیں گے، اس لئے فی الحال ہمیں دونوں فریقوں کے درمیان ایسے دعوت ناموں اور پرجوش انداز میں ہاتھ ملانے کے مناظر کو ہی کافی سمجھنا پڑے گا، جن کے بارے میں ہم کل تک سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس تمام تر صورتحال پر اثر اب پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہوچکا ہے کہ جو ماضی میں پاکستانی حکمرانوں کی اسرائیلی عہدیداروں کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں خفیہ ملاقاتوں کی صورت میں سامنے آیا تھا، تاہم دور حاضر میں تل ابیب سے پرواز کرکے آنے والا طیارہ کی اسلام آباد میں لینڈنگ ہو اور دس گھنٹے قیام ہو یا پھر سابق جنرل کا اسرائیل حمایت میں لیکچر یا پھر حکومتی جماعت کی رکن قومی اسمبلی کی طرف صہیونیوں کی حمایت اور اسرائیل کے لئے راہ ہموار کرنے جیسے بیانات اور تقریریں ہوں، سب کے سب ریکارڈ پر موجود ہیں اور ایک نئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔
ایسے حالات میں خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ اب پاکستان نے جن ممالک کیلئے ویزا پالیسی کا اعلان کیا ہے، اس میں اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو بھی پاکستانی ویزا دیا جائے گا، یہ انتہائی خطرے کی بات ہے اور پاکستان کے آئین اور نظریاتی بنیادوں سمیت بانیان پاکستان کی اساس سے انحراف کے مترادف ہے۔ چونکہ پاکستان کی سیاست اور آنے والی حکومتوں کے حکمران عام طور پر امریکہ کے بعد سعودی عرب اور امارات کو اپنا سب سے بڑا پیشوا اور مسیحا مانتے ہیں، تاہم اس مریدی میں یقیناً پاکستان پر انہی عرب ممالک کی طرف سے یہ دباؤ بھی ضرور ہوگا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کو نرم کیا جائے۔ بہرحال خلاصہ یہی ہے کہ حالیہ دور میں فلسطینی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، جو کہ مثالی ہے جبکہ عرب دنیا کے حکمران اسرائیل کے ساتھ قربتیں پیدا کرکے جس طرح سے نہ صرف فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی پیٹھ میں خنجر گھونپا جا رہاہے۔
اس صورتحال سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے مسلم دنیا اور عالم انسانیت کا خطرناک دشمن صہیونی جعلی ریاست اسرائیل ہے، جو عنقریب ان عرب قرابت داروں کو بھی اپنے شکنجہ میں دبوچ ڈالے گی اور اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ مقالہ کے اختتام پر سابق پاکستانی جنرل غلام مصطفیٰ کی بات کو دہراتا ہوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان تل ابیب میں بیٹھ کر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی چوکیداری بھی کر لے، تب بھی یہ اسرائیل پاکستان کو نہیں چھوڑے گا اور موقع ملتے ہی پاکستان کے خلاف اپنا ہر قسم کا وار کرے گا۔ اب پاکستان سمیت تمام عرب دنیا کے حکمرانوں کو اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیئے۔

 

صہیونیت کے خلاف جد و جہد کرنے والے علماء/ شہید مرتضیٰ مطہری

  • ۱۹۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری اسلام کے عظیم مفکر، عالم تشیع کے ایک بزرگ فلاسفر اور امام خمینی (رہ) کے خاص شاگرد تھے۔ یہ عظیم شخصیت اس قدر اسلام اور انقلاب کے لیے دلسوز تھی کہ امام خمینی(رہ) نے ان کی شہادت کے بعد انہیں اپنا بیٹا کہہ کر یاد کیا۔
امام خمینی (رہ) کی شاگردی اختیار کرنے سے شہید مطہری کے اندر اپنے استاد کی طرح، سامراجی طاقتوں اور صہیونی نظام کے خلاف جہاد کا جذبہ پیدا ہو گیا جس کا مشاہدہ آپ کے دروس، تقاریر اور بیانات سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے عالمی صہیونیت کے خلاف کس قدر جہاد بالقلم اور جہاد باللسان کا مظاہرہ کیا اور فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے لوگوں سے پیسہ اکٹھا کر کے جہاد بالعمل کا ثبوت بھی دیا۔ فلسطینی عوام کی امداد رسانی کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنا اور ان سے امداد جمع کر کے فلسطینیوں تک پہنچانا آپ کا معمول بن چکا تھا۔
لیکن ایک مرتبہ ساواک نے ان کا اکاونٹ سیل کر کے سارا پیسہ ضبط کر لیا جو فلسطینیوں کے امداد کے طور پر جمع کیا ہوا تھا۔ شہید مطہری کو جب خبر ملی تو آیت اللہ شریعتمداری جن کے ساواک کے ساتھ اچھے تعلقات تھے کے دفتر کے تعاون سے ان پیسوں کو ساواک سے واپس لیا۔ اور بعد میں مکہ سفر کے دوران ان پیسوں کو فلسطینی نمائندوں کے ذریعے فلسطین کے عوام تک پہنچایا۔ (۱)
شہید مطہری سے شہنشاہی نظام کو اس وقت شدید خطرہ محسوس ہوا جب انہوں نے عاشور کے دن ’’حسینیہ ارشاد‘‘ میں صہیونی ریاست کے خلاف کھلے عام سخت لہجے میں تقریر کی، جس کے بعد ساواک نے انہیں اسرائیل مخالفین کی فہرست میں قرار دے کر گرفتار کر لیا۔
شہید مطہری نے اپنی اس تقریر میں کہا: اسلامی پہلو کے علاوہ مسئلہ فلسطین کی کوئی تاریخ نہیں ہے مسئلہ فلسطین کا کسی ایک حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے، مسئلہ فلسطین ایک ملت سے تعلق رکھتا ہے، ایسی ملت جسے بے گھر کر دیا گیا ہے جس کی زمین کو غصب کر دیا گیا ہے‘‘۔
آپ نے اس تقریر میں مسئلہ فلسطین کو واقعہ عاشورا سے جوڑتے ہوئے کہا: ’’اگر حسین بن علی(ع) آج زندہ ہوتے اور خود کہتے میرے لیے عزاداری کرو تو کن سا نوحہ پڑھنے کو کہتے؟ کیا یہ کہتے کہ کہو: ہائے میرا نوجواں اکبر۔۔۔؟
اگر حسین بن علی (ع) آج ہوتے اور کہتے میرے لیے عزاداری کرو، میرے لیے ماتم کرو اور زنجیر مارو، تو آج تمہارا نوحہ ’ہائے فلسطین‘ ہوتا۔ آج کا شمر ’موشے دایان‘ ہے، اپنے زمانے کے شمر کو پہچانو‘‘۔
شہید مطہری نے اس شبہہ کو بھی دور کرتے ہوئے کہ مسئلہ فلسطین عربوں اور اسرائیل کا مسئلہ ہے کہا:
ہمارے ذہنوں میں اتنا جھوٹ بھر دیا ہے کہ یہ مسئلہ تو اندرونی مسئلہ ہے، عرب اور اسرائیل کا مسئلہ ہے، عبد الرحمان فرامرزی کے بقول کہ اگر انہی کا مسئلہ اور مذہبی مسئلہ نہیں ہے تو کیوں دنیا کے دیگر یہودی ہمیشہ ان کے لیے پیسے بھیج رہے ہیں؟ ۳۶ ملین ڈالر ہمارے ملک ایران کے یہودیوں نے اسرائیل کو بھیجے ہیں۔ میں ان یہودیوں کو لعنت ملامت نہیں کرتا چونکہ وہ یہودی ہیں، میں خود اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں، انہوں نے اپنے دینی بھائیوں کی مدد کی اور پورے فخر کے ساتھ ان کے لیے پیسہ بھیجتے ہیں، میرے پاس اخبار کا وہ ٹکڑا موجود ہے جس پر یہ خبر چھپی ہوئی ہے کہ امریکہ کے یہودی روزانہ ایک ملین ڈالر اسرائیل کی مدد کرتے ہیں‘‘۔ ۲
حواشی
1 – http://motahari.org/index.aspx?pageid=186&p=1
2- https://www.tabnak.ir/fa/news/419362

 

کیا انسان نے واقعی ترقی کی ہے؟ (۱)

  • ۲۰۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گا: تاریخ عالم کے مطالعہ کے دوران ہم قوموں، اخلاقی اصول و ضوابط اور مذاہب کے عروج و زوال کے پیش منظر میں انسانی ترقی کے بارے میں شکوک و ابہام کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ بسا اوقات ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آیا ہر نسل کا اپنے آپ کو ’’جدید اور ترقی یافتہ‘‘ قرار دینے کا دعویٰ محض بے کار اور روائتی طور پر ڈینگ ہانکنے کے مترادف تو نہیں؟
چونکہ ہم نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اب تک کے تاریخی اداوار کے دوران انسانی فطرت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے اس لیے تمام تر تکنیکی ترقی کو محض یہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ یہ تو پرانے مقاصد، اشیاء کے حصول، یا جنس مخالف تک رسائی، مقابلہ میں کامیابی وجنگ میں فتح، کے حصول کے نئے ذرائع ہیں۔ موجودہ صدی میں ہم جن بہت سے حقائق سے روشناس ہوئے ہیں ان میں سے ایک حوصلہ شکن انکشاف یہ بھی ہے کہ سائنس انسانی احساسات و جذبات کے بارے میں غیر جانبدار ہے۔ یہ جس قدر مستعدی سے مریضوں کو صحت یاب کر سکتی ہے اسی تیزی سے انسانوں کو موت کے گھاٹ بھی اتار سکتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ تعمیر کی نسبت تخریب کا عمل سائنس زیادہ تیز رفتاری سے کر سکتی ہے، فرانس بیکن کا یہ فخریہ مقولہ آج کس قدر غیر اہم لگتا ہے کہ ’’علم طاقت ہے‘‘۔ ۔۔۔
بلا شبہہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم نے ترقی کی ہے لیکن یہ ترقی بھی قباحتوں سے خالی نہیں ہے۔ سہولتوں اور آسائشوں نے ہماری جسمانی قوت برداشت اور اخلاقی طاقت کو کمزور کر دیا ہے ہم نے اپنے ذرائع آمد و رفت کو بہت ترقی دے دی ہے لیکن ہم میں سے ہی کچھ لوگ ان ترقی یافتہ ذرائع کو جرائم کے ارتکاب اور اپنے ساتھی انسانوں کی یا خود اپنی ہلاکت کے لیے استعمال کرتے ہیں ہم نے اپنی رفتار کو دگنا، تگنا بلکہ سوگنا بڑھا لیا ہے لیکن اس عمل کے دوران ہم نے اپنے اعصاب تباہ کر لیے ہیں ہم میں اور عہد وحشت کے انسانوں میں رفتار کے علاوہ اور کوئی فرق نہیں ہے یہ درست ہے کہ ہم جدید طب نے بہت زیادہ ترقی کی ہے لیکن علاج معالج کی اس ترقی کو ہم اسی وقت ہی سراہنے کے قابل ہونگے اگر اس کی بنا پر اصل امراض سے بھی بدتر ذیلی اثرات پیدا نہ ہوں۔ نئی نئی بیماریوں اور جراثیم کی روز افزوں مزاحمت کے خلاف ڈاکٹروں کی تندہی اور مشقت بلاشبہ قابل تعریف ہیں اور ہم طبی سائنس میں ترقی کے باعث اوسط انسانی عمر میں اضافہ کے لیے شکرگزار ہوں گے بشرطیکہ زندگی میں ہونے والا یہ اضافہ محض بیماری معذوری اور اداسی کے بوجھل لمحے نہ ہوں۔
آج روئے زمین پر ہونے والے روزمرہ کے واقعات کے بارے میں ہمارے باخبر رہنے اور ان کو بیان کرنے کی صلاحیت پہلے سے سوگنا بڑھ گئی ہے۔ لیکن کبھی کبھار ہمیں اپنے اپنے آباؤ اجداد پر رشک آتا ہے جن کے پرسکون ماحول میں اپنے گاؤں کی کوئی خبر سن کر دھیما سا خلل پڑ جاتا تھا۔
اگر چہ ہم نے ہنرمند کاریگروں اور درمیانہ طبقے کے حالات کو قابل رشک حد تک بہتر بنا لیا ہے۔ لیکن ہمارے شہروں میں گندگی اور غلیظ گلیوں اور قابل نفرت تاریک بستیوں کے ناسور پل رہے ہیں۔

ہم مذہب سے چھٹکارا پانے کی خوشی میں خوب بغلیں بجاتے ہیں لیکن کیا ہم مذہب سے علیحدہ کوئی ایسا فطری ضابطہ اخلاق تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس میں اتنی قوت ہو کہ وہ ہماری اشیاء کے حصول، جھگڑالوپن، اور جنسی جبلتوں کو قابو میں رکھ سکے۔ تاکہ ہم اپنے جبلی تقاضوں کے زیر اثر اپنے اس تمدن کا لالچ، جرم اور جنسی بے راہ روی کی دلدل میں نہ دھکیل دیں؟
کیا ہم نے مذہبی تعصب اور نارواداری کو بالکل خیرباد کہہ دیا ہے یا پھر یہ تعصاب اب قومی نظریاتی اور نسلی منافرتوں میں بدل گئے ہیں؟ کیا ہمارے اخلاق و عادات اور اطوار پہلے کی نسبت بہتر ہیں یا بدتر؟ انیسویں صدی کے ایک سیاح کا کہنا ہے:
’’جوں جوں ہم مشرق سے مغرب کو جائیں تو اخلاقی طور پر اطوار بد سے بدتر ہوتے جاتے ہیں۔ یہ ایشیا میں برے یورپ میں بدتر اور امریکہ کی مغربی ریاستوں میں بدترین ہیں‘‘۔
اب تو مشرق بھی اس معاملہ میں مغرب کی پیروی کر رہا ہے!
کیا ہمارے قوانین مجرموں کو معاشرے اور ریاست کے مقابلے میں بہت زیادہ تحفظ فراہم نہیں کرتے؟
کیا ہم نے اپنے آپ کو اپنے ظرف سے زیادہ ذہنی آزادی نہیں دے دی؟
کیا آج ہم ایسی اخلاقی اور سماجی ابتری کے دہانے پر نہیں کھڑے جہاں اپنے بچوں کی بے راہروی سے خوفزدہ ہو کر والدین دوبارہ مذہب/ کلیسا کی طرف رجوع کریں اور ان میں نظم و ضبط اور اخلاق کی بحالی کے لیے مطلق ذہنی آزادی سے دستبردار ہو کر مذہب کا سہارا لیں گے؟
جاری
اقتباس از
(تاریخ عالم کا ایک جائزہ، ول ڈیورانٹ، صفحہ ۱۲۶ سے ۱۲۸ تک)

 

امام خمینی (رہ) اور صہیونیت کا مقابلہ

  • ۲۰۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امام خمینی کے فکری ادب میں ، لفظ "اسرائیل" کئی بار دہرایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ امام خمینی اسلامی انقلاب کے بنیادی مسائل جیسے ملک میں اسلامی حکومت کی تشکیل، علم و صنعت میں ترقی اور قوموں کی آزادی اور ان کے دفاع کے لیے ایک طاقتور فوج کی تشکیل، ان تمام مسائل کو اسرائیل کی نابودی سے متعلق جانتے تھے اور متعدد بار اپنے بیانات میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں؛
مثال کے طور پر ، عالمی یوم القدس کا اعلان کرتے ہوئے آپ نے فرماتے ہیں: " میں برسوں سے مسلمانوں کو فلسطین پر اسرائیل کے قبضہ کرنے کے خطرے سے خبردار کرتا آ رہا ہوں۔" میں دنیا بھر کے تمام مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس غاصب حکومت اور اس کے حامیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جائیں ... ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل انسانیت کا دشمن ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل کو لازمی طور پر صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہیے۔  
آپ نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن مجید نے مسلمانوں کو دشمنوں کے خلاف لڑنے کا حکم دیا ہے، اور اسرائیل عرصے سے مسلمانوں کے مقابلے میں کھڑا ہے اور ان سے برسر پیکار ہے۔ اسی طرح امریکہ بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ لہذا قدس کو آزاد کروانا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ (۱)
حضرت امام خمینی امت اسلام کی وحدت کو ایک درینہ آرزو کے عنوان سے جانتے اور امت مسلمہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غاصب اسرائیل کو فلسطین سے نکال باہر کرنے کے لیے ایران کا ساتھ دیں۔ آپ نے فرمایا: ہم نے اپنے دفاع کے لیے کہ جو ایک الہی تکلیف اور واجب امر ہے قیام کیا ہے اور ہم کسی دوسرے ملک پر تجاوز کا ارادہ نہیں رکھتے ہم اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سب ایک ساتھ کھڑے ہوں تاکہ مسلمانوں کے حقوق کے دفاع کے لیے غاصب اسرائیل کے جرائم کا مقابلے کرنے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کر سکیں۔ (۲)
صہیونی ریاست کے خلاف امام کا ایک مضبوط اور مستحکم سیاسی مؤقف آپ کی وہ تقریر ہے جو جیل سے رہائی کے بعد آپ نے مسجد اعظم میں کی آپ نے فرمایا: اے قوم، ہمارے مذہب کا تقاضا ہے کہ ہم دشمنان اسلام سے متفق نہ ہوں ، ہمارے قرآن کا تقاضا ہے کہ ہم مسلمانوں کے دشمنوں کی صف میں کھڑے نہ ہوں۔ ہماری قوم شاہ کے اسرائیل کے ساتھ اتحاد کی مخالف ہے۔ (۳)
اس کے ساتھ ساتھ، امام یہودیوں کو صیہونیوں سے بالکل الگ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں: یہودی صیہونیوں سے الگ الگ حساب کتاب رکھتے ہیں۔ اگر مسلمان صہیونیوں کو شکست دیتے ہیں تو یہودیوں سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہو گا۔  وہ دوسری قوموں کی طرح ایک قوم ہیں، انہیں بھی زندگی کرنے کا حق ہے اور کوئی ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گا۔ (۴)
امام خمینی کے مؤقف اور بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونزم کے خلاف ان کی جدوجہد کا آغاز ایک واحد معیار یعنی قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ہوا،  جس نے اس کے حصول کے لئے اہداف اور ذرائع کو طے کیا۔ اس طرح ، امام خمینی اسرائیل اور امریکہ کی تباہی کے لیے جد و جہد کو، یا کم سے کم اسلامی امت کے اوپر سے امریکی تسلط کو ختم کرنے کو، انقلابی تحریک کا عروج اور اتحاد امت کا سبب سمجھتے ہیں ، اور اگر یہ جدوجہد ایسے اتحاد کا سبب بنے تو  اسرائیل اور امریکہ کا خاتمہ امت مسلمہ کی کامیابی ہو گی . (۵)
حواشی
[1]. صحیفه امام، ج 5، ص 186ـ187.
[2]. صحیفه امام، ج 16، ص 46ـ48.
[3]. صحیفه امام، ج 1، ص 77
http://yun.ir/pha9d3
[4]. صحیفه امام، ج 11، ص 3ـ4.
[5]. http://yun.ir/9m6yv2

 

قاسم سلیمانی کا قتل اسرائیلی مفاد کے مطابق تھا: ڈاکٹر ہادی برہانی

  • ۲۳۸

خیبر صہیونی تحقیقاتی ویب گاہ: قاسم سلیمانی کو شہید کرنے کا منصوبہ در حقیقت اسرائیلی مفاد اور ضرورت کے تحت صہیونی لابی نے امریکہ پر تھونپا۔
صہیونی لابی امریکی حکمران طبقے میں گہرا اثر و رسوخ رکھتی ہے جس کی واضح دلیل خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسیاں ہیں۔
صہیونی بہت آسانی سے امریکیوں پر اپنی رائے مسلط کر سکتے ہیں اور یہاں تک کہ اپنے ہر اس منصوبے کو ان پر تھونپ سکتے ہیں جو صہیونی ریاست کے مفاد میں ہو۔

تہران یونیورسٹی کے شعبہ عالمی مطالعات کے پروفیسر ڈاکٹر سید ہادی برہانی کے ساتھ خیبر کی خصوصی گفتگو میں سے اقتباس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۰۲

قاسم سلیمانی کے قتل میں اسرائیل کا کردار

  • ۲۷۷

امریکہ کے ذریعے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد، اسرائیل نے ابتدا میں اس اقدام کی تعریف کی اور امریکہ کی حمایت کا اعلان کیا۔ لیکن ایران میں محسن رضائی کے ٹویٹ، دیگر فوجی افراد کے تبصروں اور صہیونی ریاست کو دھمکی دئیے جانے کے بعد، صہیونی وزرا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے کینسٹ کی مٹینگ میں کہا ہے:قاسم سلیمانی کا قتل اسرائیلی کاروائی نہیں بلکہ امریکی کاروائی تھی اور اس کا ہمارے ملک سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن کیا حقیقت میں اسرائیل کا قاسم سلیمانی کے قتل میں کوئی کردار نہیں تھا؟

سردار قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ، قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ، سردار سعید قاسمی اور سید ہادی برہانی نیز دیگر ایرانی اسکالرز نے شہید قاسم سلیمانی کے قتل میں اسرائیل کے کردار کا جائزہ لیا۔ لاس اینجلس ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں جنرل سلیمانی کے قتل کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو ایران کے خلاف جنگ بھڑکانے کی تمنا رکھنے والے یہودی عناصر کے اکسانے پر مبنی قرار دیا ہے جن میں ان کے داماد کوشنر بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب سے موساد کے سابق نائب سربراہ "رام بن باراک" نے اس بارے میں اسرائیلی فوجی ریڈیو سے کہا:
"سلیمانی کا قتل اسی منصوبہ بند پیمانے پر ہے جس پر اسرائیل نے 2008 میں عماد مغنیہ کا قتل کیا تھا۔"
در حقیقت یہ ٹارگٹ کلنگ، اگرچہ ایک امریکی عمل تھا، لیکن اس کا فیصلہ اسرائیل کی جانب سے لیا گیا تھا۔ اس لیے کہ اس کارروائی سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوا۔ لیکن مغربی ایشین خطے میں، داعش کے خاتمے اور عراق میں داخلی صورتحال کی ناکامی کے بعد امریکی صورتحال متزلزل اور زوال پذیر رہی ہے، لہذا ایسے حال میں ایسی کاروائی یقینی طور پر اس رجیم کے فائدے میں نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس قتل نے خطے میں اس کے اخراجات میں بھی اضافہ کیا اور دوسری طرف امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

..............

202