اسرائیل کے قیام کا تاریخچہ (۲)

  • ۳۷۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: دوسری عالمی جنگ کے بعد سنہ ۱۹۴۷ میں برطانیہ اگلے سال (۱۹۴۸ میں) فلسطین سے اپنے انخلا اور فلسطین کا انتظام اقوام متحدہ کے سپرد کرنے کا اعلان کیا۔ ۲۹ نومبر سنہ ۱۹۴۷ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قراداد کے تحت فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کیا اور اس سرزمین کے ۴۳ فیصد حصے کو عربوں اور ۵۶ فیصد حصے کو یہودیوں کے حوالے کیا اور بیت المقدس کو بین الاقوامی عملداری میں دیا گیا۔
مورخہ ۱۵ مئی کو فلسطین پر برطانیہ کی سرپرستی کی مدت اختتام پذیر ہوئی تو فلسطین کے تمام ادارے نیست و نابود ہوچکے تھے اور انگریزوں کے انخلاء سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لئے کوئی بھی ادارہ موجود نہیں تھا۔ یہودیوں نے ـ جو اقوام متحدہ کے تقسیم کردہ علاقوں پر مسلط ہوچکے تھے ـ ایک عبوری حکومتی کونسل تشکیل دی جو ۳۸ اراکین پر مشتمل تھی اور اس کونسل نے ایک تیرہ رکنی کابینہ کا انتخاب عمل میں لایا۔ اسی دن ڈیوڈ بن گورین نے ـ جو بعد میں وزیر اعظم بنا ـ وزارت دفاع کا قلمدان سنبھال لیا اور کابینہ کے قیام کا اعلان کیا۔
اس اقدام کے چند ہی گھنٹے بعد امریکہ اور سووویت روس نے اس ریاست کو تسلیم کیا۔ اور یہودی ایجنسی نے اسرائیلی ریاست کی تشکیل کے اعلامیے کے ضمن میں اقوام متحدہ کی قرارداد ۱۸۱ کو یہودی عوام کی طرف سے خودمختار ریاست کی تشکیل کا حق تسلیم کئے جانے کا اظہار قرار دیا۔
اس اعلامیے میں البتہ اسرائیل کے لئے کوئی سرحد متعین نہیں کی گئی تھی لیکن یہودی ایجنسی نے امریکی صدر ٹرومین کے نام اپنے پیغام میں انہیں اسرائیل کے باضابطہ تسلیم کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی کا اعلامیہ ان سرحدوں تک محدود ہے جن کا تعین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ۲۹ نومبر ۱۹۴۷ کی منظور کردہ قرارداد میں ہوا تھا۔ قرارداد نمبر ۱۸۱ کے ساتھ ساتھ، یہودی ایجنسی نے فلسطین کے سلسلے میں اپنے دعوے کے ضمن میں مقدرات کے فیصلے اور فلسطین پر قدیم یہودی مالکیت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور مختلف ملکوں اور اقوام میں سے ہجرت کرنے والے یہودیوں کو قدیم عبرانیوں کا جانشین قرار دیا۔
اسی دن، بوقت شام، مصر، شام، اردن اور لبنان نے نوظہور اسرائیلی ریاست کے خلاف اعلان جنگ کیا اور یہ عرب ـ اسرائیل کی پہلی خونریز جنگ تھی۔
اسرائیل کے قیام کے اعلامیے میں فلسطینی عوام ـ جو ۹۷ فیصد سرزمینوں کے مالک تھے ـ کو “غیر یہودی معاشروں” کے تحت سرے سے نظر انداز کیا گیا تھا جس کے باعث پوری دنیا کے یہودی غیر قانونی طور پر فلسطین کی طرف آنا شروع ہوئے اور امریکی صدر ولسن نے بھی اس غیرقانونی ہجرت کی حمایت کا اعلان کیا۔ دوسری طرف سے فلسطین کے خون بھرے واقعات کی وجہ سے عالمی رائے عامہ میں نفرت کی لہر دوڑ گئی اور یہودیوں کی نوزائیدہ ریاست کو شدید تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکہ میں مقیم صہیونی یہودیوں نے بھی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرکے یہودی ریاست کی تشکیل پر زور دیا۔ فلسطینیوں پر تشدد اور ان کے آزار و اذیت کے باعث صہیونیوں کے خلاف عالمی غیظ و غضب میں شدت آئی اورانھوں نے اقوام متحدہ سے احتجاج کیا۔ قبل ازیں ـ یعنی ۲۹ نومبر ۱۹۴۷ کو ـ امریکہ اور سوویت روس نے اپنے ایک غیر معمولی اور نادر مفاہمت نامے کے تحت فلسطینی سرزمین کی دو عرب اور یہودی حصوں میں تقسیم کے منصوبے پر عملدرآمد کیا اور اقوام متحدہ سے کہا کہ اس منصوبے کو منظور کرلے؛ جس نے عالم اسلام میں غصے اور نفرت کی لہر دوڑا دی اور سابق سوویت روس اور صہیونیوں کے خلاف بیت المقدس، یافا، حیفا اور فلسطین کے کئی دوسرے شہروں اور کئی اسلامی ممالک میں خونی مظاہرے ہوئے۔
مورخہ ۸ دسمبر ۱۹۴۷ کو عرب لیگ نے ایک نشست میں اقوام متحدہ کے خائنانہ فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے یہودی صہیونیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کچھ فیصلے کئے۔ سنہ ۱۹۴۸ میں مصری طیاروں نے ابتداء میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کو بمباری کا نشانہ بنایا اور لبنان کی بکتر بند یونٹوں نے شمال سے، شام اور اردن نے مشرق اور مصر نے مغرب سے فلسطین کی طرف عزیمت کی۔
ابتدائی دنوں میں اردن کی افواج نے بیت المقدس کے ایک بڑے حصے کو یہودی قبضے سے آزاد کرایا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دیکھا کہ جنگ یہودی غاصبوں کے نقصان میں ہے، تو اس نے ۲ جون ۱۹۴۸ کو ـ جبکہ جنگ کے آغاز سے ۱۹ دن گذر رہے تھے ـ جنگ بندی کی اپیل کی۔ یہودیوں نے اس جنگ بندی سے فائدہ اٹھایا اور امریکہ اور چیکوسلواکیہ کی مدد سے اپنے فوجی دستوں کو کیل کانٹے سے لیس کیا اور اسی سال ماہ ستمبر میں ـ یعنی صرف تین ماہ بعد ـ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا اور فلسطین کے اندر “ہاگانا” یا “یہودی حملہ آور اور دفاعی فوج” نے علاقہ “عکا” پر حملہ کیا جہاں حیفا اور دوسرے عرب علاقوں کے ہزاروں عربوں نے پناہ لی تھی اوران پر زبردست فائرنگ کی۔ اور بعدازاں ہاگانہ کے ساتویں بریگیڈ نے گھمسان کی لڑائی کے بعد شہر “ناصرہ” پر قبضہ کرلیا اور مصر کی طرف پیشقدمی کا آغاز کیا۔
دوسری جنگ میں عرب افواج مشترکہ کمان اور ہماہنگی نہ ہونے کے باعث استقامت نہ دکھا سکے جس کے نتیجے میں اسلامی سرزمینوں کا ۶۰۰۰ کلومیٹر کا رقبہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا اور یہ جنگ اقوام متحدہ کی مداخلت سے اختتام پذیر ہوئی۔
بہار ۱۹۴۹ میں اسرائیل نے مصر، لبنان، ماورائے اردن اور شام کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کرکے اختتام جنگ کے مفاہمت ناموں پر دستخط کئے۔ لیکن یہ مفاہمت نامے بھی دیرپا ثابت نہ ہوئے اور اسرائیلی ریاست کے حملے وقتا فوقتا جاری رہے۔ اسی سال غاصب یہودی ریاست نے فلسطین کے ۴۰۰ شہروں اور دیہاتوں کو ویراں کردیا اور ویرانوں پر مصنوعی جنگل کاری کا اہتمام کیا۔
چنانچہ اس جنگ میں ۱۰ لاکھ فلسطینی بےگھر ہوکر عرب ممالک میں پناہ گزین ہوئے اور فریقین کے ہزاروں سپاہی ہلاک اور زخمی ہوئے اور یہودی فلسطین کے ۷۸ فیصد حصے پر مسلط ہوئے۔ دوسری طرف سے دنیا بھر سے یہودیوں کی فلسطین آمد میں اضافہ ہوا اور یہ سلسلہ ۱۹۵۱ میں اپنے عروج کو پہنچا۔
جنگ اور فلسطینیوں کے قتل اور ان کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں نیز اپنی آبائی سرزمینوں سے ان کے مسلسل فرار کے نتیجے میں فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ معرض وجود میں آیا اور یہ مسئلہ ۱۹۶۷ کی ۶ روزہ عرب ـ اسرائیل جنگ کا سبب بنا۔

 

اسرائیل کے قیام کا تاریخچہ (۱)

  • ۳۹۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: سنہ ۱۸۹۸ع‍ میں آسٹریا میں یہودی صحافی و مصنف “تھیوڈور ہرٹزل” نے “یہودی ریاست” کے زیر عنوان ایک کتاب شائع کی۔ اس نے اس کتاب میں ایک یہودی ریاست کے قیام کے حق میں دلائل دیئے اور صہیونی تحریک کا خیرمقدم کرنے کے لئے مغربی رائے عامہ کو ایک فکری ماحول فراہم کیا۔ چونکہ یہودیوں کو جرمنی میں سب سے زیادہ سیاسی اثر و رسوخ حاصل اور سرگرمیوں کا ماحول فراہم تھا لہذا ہرٹزل نے ابتداء میں جرمنی کے توسط سے ـ یہودیوں کے فلسطین میں بسانے کے سلسلے میں ـ عثمانی سلطان کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی لیکن بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مسلمانوں کے اعلان جہاد سمیت متعدد اسباب و عوامل کی بنا پر ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی چنانچہ یہودیوں نے برطانیہ کے دامن میں پناہ لی۔
یہودی عمائدین نے برطانیہ کے نمائندے سائکس کے ساتھ مذاکرات میں، انہیں یقین دلایا کہ “لیگ آف نیشنز” میں فلسطین کے برطانیہ کے زیر سرپرستی یا پروٹیکٹوریٹ ہونے کی حمایت کریں گے اور فرانس یا کسی بھی دوسرے ملک کو اسے اپنے زیر سرپرستی لانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دوسری طرف سے انھوں نے سائکس کو تمام تر مراعاتیں دینے کا وعدہ کیا اور عہد کیا کہ وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو اتحادیوں کے حق میں اور جرمنی کے خلاف، مداخلت پر آمادہ کریں گے۔ ان اقدامات سے درحقیقت ۲ نومبر ۱۹۱۷ کے بالفور اعلامیئے کے لئے امکان فراہم کیا گیا۔ برطانیہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ بالفور نے لارڈ لوچرڈ کے نام اپنے ایک خط میں ایک قومی یہودی وطن کی تشکیل کی خوشخبری دی۔ یہ خط اعلامیۂ بالفور کے عنوان سے مشہور ہوا۔ اعلامیئے میں کہا گیا تھا:
“فلسطین میں یہودی قومی وطن کی تشکیل کے بابت حکومت برطانیہ کے اشتیاقِ خاص کے پیش نظر، یہ حکومت اس ہدف کے حصول اور اس کے لئے وسائل کی فراہمی کے لئے کوشش کرے گی”۔
اعلامیۂ بالفور کی اشاعت کے بعد، برطانوی افواج نے ۹ دسمبر ۱۹۱۷ کو بیت المقدس پر قبضہ کیا اور خزان سنہ ۱۹۱۸ تک تمام عثمانی افواج کو فلسطین میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا اور پوری سرزمین فلسطین پر قبضہ کیا۔ ۱۹۱۹ میں فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے مندوبین کی موجودگی میں “سان ریمو” کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں فلسطین کے حالات کا جامع جائزہ لینے کے بعد فیصلہ ہوا کہ مذکورہ ممالک فلسطین پر برطانیہ کی سرپرستی کی حمایت کرتے ہیں۔
مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۲۲ کو لیگ آف نیشنز کونسل میں فلسطین کے برطانیہ کے زیر سرپرستی ملک کے قانون کو باضابطہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ برطانیہ کی حمایت کے تحت، عربوں کی مخالفت کے باوجود، یہودیوں کی فلسطین میں ہجرت کے سلسلے کی رفتار میں ـ جو کئی سال پیشتر شروع ہوچکا تھا ـ اضافہ ہوا۔ ادھر ہٹلر کی یہود مخالف پالیسیوں کی وجہ سے بھی فلسطین آنے والے یہودی مہاجرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۶ میں فلسطین کی مجموعی آبادی انیس لاکھ بہتر ہزار پانچ سو پچاس تھی جن میں چھ لاکھ آٹھ ہزار یہودی پناہ گزین شامل تھے، جبکہ ۱۹۱۸ میں فلسطین میں یہودی مہاجرین کی تعداد ۵۶۰۰۰ سے زیادہ نہ تھی۔ فلسطین میں آ بسنے والے یہودی مہاجرین کی زیادہ تر تعداد کا تعلق مشرقی یورپی ممالک سے تھا۔
فلسطین میں یہودی آبادی میں اضافے اور علاقے میں ان کی سیاست قوت بڑھ جانے کی بنا پر عربوں نے برطانیہ پر دباؤ بڑھا دیا کہ وہ یہودیوں کی حمایت نہ کرے۔ اس اثناء میں یہودیوں نے فلسطین میں ایک خودمختار لشکر اور ایک خفیہ فوج بنام “ہاگانا” تیار کی تھی۔ اس خفیہ فوج کی ذمہ داری مخالفین پر قاتلانہ حملے کرنا اور عرب آبادی کے خلاف جنگ کرنا تھی۔
برطانیہ نے عرب آبادیوں کو خاموش کرنے اور ان کی بغاوت کا سدباب کرنے کی غرض سے ۱۹۳۹ میں “کتابِ سفید” شائع کرکے اعلان کیا کہ یہودیوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ فلسطین میں ایک قومی مرکز قائم کریں، لیکن انہیں خودمختار حکومت قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس اعلامیے نے یہودیوں میں غیظ و غضب کی لہر دوڑا دی اور انھوں نے انگریزوں کی رائے کے برعکس، اپنے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا؛ تا ہم اسی زمانے میں دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا اور فلسطین کا مسئلہ جنگ کی خبروں تلے دب کر رہ گیا۔

 

فرقہ بہائیت کی مختصر تاریخ (۳)

  • ۴۰۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بہائیوں کے بانیوں کا تعارف
عباس افندی
عبد البہاء (عباس افندی) تہران میں پیدا ہوئے اور ۹ سال کی عمر سے ہی باپ کے ہمراہ جلاوطنی کا شکار رہے اس جلاوطنی کا ایک فائدہ انہیں یہ ہوا کہ وہ مختلف طرح کے تجربات حاصل کرنے کے علاوہ باپ اور چچا کے جھوٹ و فراڈ اور لوگوں کے ساتھ دھوکے بازیاں بھی اچھی طرح سے سیکھ گئے تھے۔ جبکہ انہوں نے اس دوران بڑے بڑے لوگوں سے اچھے تعلقات بھی بنا لیے تھے۔ عباس افندی اپنے باپ کی موقعیت کی وجہ سے اچھے اچھے اساتید سے بھی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور عصری تعلیم میں بھی اچھی ڈگریاں لے لیں۔
عبد البہاء سلطان عبد الحمید کی حکومت کی سرنگونی کے بعد یورپ اور امریکہ کے سفر پر نکلے اور اس سفر میں وہ مغربی تہذیب کے اس قدر شیدائی ہوئے کہ ہمیشہ اپنی تقریروں میں ان کے گن گاتے تھے۔
عباس افندی ۱۹۲۱ عیسوی میں ایک بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے انتقال پر برطانیہ کے کئی بڑے بڑے عہدیداروں کی طرف سے تعزیتی پیغامات وصول ہوئے۔
انہوں نے اپنی موت سے پہلے اپنے نواسے شوقی افندی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ البتہ بعض کا کہنا ہے کہ یہ کام اس کی ماں کی چالاکی سے انجام پایا ورنہ خود شوقی بہائیت سے زیادہ متاثر نہیں تھا۔
شوقی افندی ربانی
شوقی ربانی جن کا لقب ’’ولی امر اللہ‘‘ تھا ۱۸۹۷ میں پیدا ہوئے شوقی افندی ربانی در حقیقت عبد البہاء کے نواسے تھے۔ انہوں نے عکا میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد بیروت یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد برطانیہ کی معروف یونیورسٹی آکسفورڈ میں شفٹ ہو گئے۔ لیکن عبد البہاء کی موت کی وجہ سے اپنے پڑھائی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اس وجہ سے انہیں اعلی تعلیم کی کوئی ڈگری حاصل نہ ہو سکی۔
عبد البہاء نے شوقی افندی کی نسل سے ۲۴ جانشین پیدا ہونے کی پیش گوئی کی تھی مگر شوقی بے اولاد ہونے کی وجہ سے اس سلسلے کو آگے نہیں بڑھا پائے اور عبد البہاء کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور ان کی نسل سے بہائیت کی باگ ڈور سنبھالنے والا کوئی جانشین پیدا نہیں ہوا۔
شوقی افندی کے دور صدارت کے چند اہم واقعات
•    شوقی افندی کے دور صدارت میں بہائیوں کے بھرپور تعاون سے صہیونی ریاست تشکیل پائی جس کے بعد شوقی افندی نے اسرائیل کے صدر سے ملاقات کی اور یہودیوں کے ساتھ اپنے تعلقات باقی رکھنے اور ملک کی ترقی میں ان کا تعاون کرنے کا وعدہ دیا۔
•    شوقی افندی کے دور میں بہائیوں نے دنیا بھر کے ملکوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ بہائیوں کے مرکز قائم کر کے بہائیت کی تبلیغ کے مواقع فراہم کئے۔
•    اس کے دور میں بہائیت کے بعض بزرگ مبلغین جیسے ’عبد الحسین تفتی آوارہ‘، ’فضل اللہ صبحی مہتدی‘ اور ’مرزا حسن نیکو بروجردی‘ نے توبہ کر کے اسلام کے دامن میں واپس پناہ لی۔
شوقی افندی آخر کار ۱۹۵۷ میں اس سے قبل کہ ’بیت العدل‘ کی تعمیر کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں لندن میں مشکوک طریقے سے انتقال کر گئے اور وہیں پر دفن کر دئے گئے۔ ۱۹۵۷ کے بعد بہائیت کی رہبریت اور تبلیغ کی ذمہ داری اسرائیل میں واقع بیت العدل کے سپرد کر دی گئی۔

منبع: در جستجوی حقیقت، روزبهانی بروجردی، علیرضا، مرکز مدریت حوزه علمیه قم، چاپ 1388، قم.

 

صہیونیت کے خلاف جد و جہد کرنے والا علماء/ شہید محمد مفتح

  • ۴۵۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: شہید مفتح جن کی شہادت کے دن کو حوزات علمیہ اور یونیورسٹیوں کے درمیان اتحاد کا دن قرار دیا گیا ہے کا شمار ان مجاہد اور انقلابی علماء میں سے ہوتا ہے جنہوں نے امام خمینی (رہ) کی پیروی میں زندگی بھر جبر و استکبار اور ظلم و ستم کے خلاف جنگ کی۔ اور آخر کار دشمنوں اور منافقوں نے ان کی مجاہدت اور ظلم مخالف جد و جہد کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے انہیں شہید کر دیا۔
امام خمینی (رہ) کے دیگر ساتھیوں اور شاگردوں کی طرح شہید مفتح کے نزدیک بھی عالم اسلام کے مسائل خصوصا مسئلہ فلسطین انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ رضا شاہ کے دور میں حکومت مخالف اور انقلابی سرگرمیوں کی بنا پر آپ کو جیل میں بند کر دیا گیا تھا اور طرح طرح کی سزائیں دی گئیں تھی لیکن جب جیل سے رہا ہوئے تو نہ صرف اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے بلکہ اپنی جد و جہد میں مزید اضافہ کر دیا۔ لبنان کے وہ شیعہ جو اسرائیل کے حملے کی وجہ سے اپنا سب کچھ کھو چکے تھے اور بھاری نقصان سے دوچار ہوئے تھے ان کے لیے آپ نے امداد جمع کرنا شروع کر دی۔ اور امداد جمع کر کے خود لبنان کا سفر کیا اور اپنے ہاتھوں سے ستم دیدہ افراد کو امداد پہنچائی۔ ۱
اسی طرح فلسطین کے عوام کے لیے ان کا دل بہت جلتا تھا اور ہمیشہ ان مظلوموں کو ظلم و ستم کی چکی سے نکالنے کے لیے کوشش کرتے اور صہیونی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ۱۹۷۹ میں یوم القدس کے موقع پر جو پہلی قرارداد لکھی گئی وہ شہید مفتح نے لکھی تھی۔ آپ نے اس قرارداد میں جن اہم نکات کی طرف اشارہ کیا وہ درج ذیل ہیں:
۔ ہم ملت فلسطین کے اہداف کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں جو قدس کی آزادی کی راہ میں پیش قدم ہیں اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کے تجربہ سے یہ امید ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف جنگ اگر اسلامی طرز کے مطابق ہو گی تو کامیابی سے دوچار ہو گی۔
۔ ہم فلسطینی مفادات کے خلاف ہر طرح کی قرارداد منجملہ ’کارٹر، سادات اور بیگن‘ نامی قراردادوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ۲
حواشی
۱۔ http://fa.wikishia.net/view/شهید محمد مفتح.
۲۔ http://www.irdc.ir/fa/news/4194.

 

امام زمانہ کا ظہور اور عہد یہود کا تابوت

  • ۴۸۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امام زمانہ (عج) کے ظہور کے زمانے کو جن قوموں کی جانب سے بڑا چیلنج ہے ان میں سے ایک قوم یہود ہے۔ یہودیوں کی تاریخ کئی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ قرآن کریم میں یہودیوں اور بنی اسرائیل کے بارے میں متعدد آیات موجود ہیں جو ان کے کردار و صفات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ بعض آیات میں ان کی ابدی ذلت و خواری اور ہمیشہ کے لیے نابودی کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔
موجودہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ امام زمانہ عصر ظہور میں دو مراحل میں یہودیوں سے روبرو ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں یہودیوں کو منطقی دلائل کے ذریعے اسلام کی دعوت دیں گے۔ جس کی وجہ سے بعض ایمان لے آئیں گے لیکن بہت سارے عناد، دشمنی اور اپنی نسل پرستی کے تعصب کی وجہ سے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔ ایسی صورت میں دوسرے مرحلے میں ان کے ساتھ جنگ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ظہور امام زمانہ سے متعلق روایات کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال، یہود، سفیانی اور شام کے درمیان ایک خاص رابطہ پایا جاتا ہے۔ امام زمانہ دجال اور سفیانی لشکر کو شکست دے کر شام پر قبضہ کریں گے، اور آخر کار مسجد الاقصیٰ میں داخل ہوں گے کہ جو یہودی قوم کی ذلت و خواری اور شکست کی انتہا ہو گی۔
امام زمانہ اور یہودیوں کو دعوت اسلام
دین اسلام، دین فطرت اور دین عقل و منطق ہے۔ امام زمانہ (عج) بھی دیگر ہادیان برحق؛ انبیاء اور اوصیاء کی طرح سب سے پہلے تمام غیر مسلمانوں منجملہ یہودیوں کو اسلام کی دعوت دیں گے۔ اس حقیقت کی طرف اسلامی کتابوں اور روایتوں میں اشارہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر عبد اللہ بن بکیر نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ میں نے امام علیہ السلام سے آیت     «وله أسلم من فی السماوات و الأرض»  کی تفسیر معلوم کرنا چاہی تو آپ نے فرمایا: ’’یہ آیت ہمارے ’قائم‘ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جب وہ یہودیوں، نصرانیوں، صابئین، مادہ پرستوں اور کرہ ارض کے مشرق و مغرب میں رہنے والے کفار و مشرکین کے خلاف قیام کریں گے اور انہیں اسلام کی دعوت دیں گے۔ جو اسلام قبول کر لے گا اسے نماز و زکات کا حکم دیں گے ۔۔۔‘‘ (عیاشی، محمد بن مسعود، ج۱، ص۱۸۳-۱۸۴)
امام زمانہ صرف دعوت حق پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ بعض احادیث کے مطابق دین خدا اور اپنی حقانیت کے اثبات کے لیے ہر دین کے ماننے والوں کے لیے انہی کے دین سے دلائل پیش کریں گے۔ آئین یہودیت میں مقدس ’تابوت‘ عظیم مقام و منزلت کا حامل ہے۔ خداوند عالم جناب طالوت کی حقانیت کے بارے میں فرماتا ہے: ’’اور ان کے پیغمبر نے ان سے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت کی نشانی یہ ہے کہ یہ تمہارے پاس وہ تابوت لے آئیں گے جس میں پروردگار کی طرف سے سامان سکون اور آل موسی اور آل ہارون کا چھوڑا ہوا ترکہ بھی ہے۔ اس تابوت کو ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور اس میں تمہارے لیے پروردگار کی نشانی بھی ہے اگر تم صاحب ایمان ہوں‘‘۔ (بقرہ، ۲۴۸)
تاریخ میں ہے کہ بنی اسرائیل میں یہ تابوت جس خاندان کے پاس ہوتا تھا نبوت اسی خاندان کو نصیب ہوتی تھی لہذا یہودیوں کے یہاں اس تابوت کا بہت احترام ہے۔ اسی بنا پر امام زمانہ ظہور کے بعد یہ تابوت لے کر یہودیوں پر حجت تمام کریں گے اور جو آپ پر ایمان نہیں لائیں گے ان کے ساتھ جنگ کر کے ان کا قلع قمع کر دیں گے۔

 

فرقہ بہائیت کی مختصر تاریخ (۱)

  • ۴۶۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فرقہ بہائیت کی داستان در حقیقت ’فرقہ بابیہ‘ سے جڑتی ہے۔ فرقہ بابیہ کا آغاز ’سید علی محمد شیرازی‘  سے ہوتا ہے جو ’’باب‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔ یہ شخص پندرہ سال کی عمر میں اپنے ماموں کے ہمراہ ایران کے شہر بوشہر میں تجارت کی غرض سے گیا اور وہاں تجارت کے ساتھ ساتھ اس نے ریاضت کر کے کچھ شعبدہ بازی بھی سیکھ لی۔ بعد از آں بوشہر میں واقع ایک یہودی کمپنی ’’ساسون‘‘ میں نوکری اختیار کی اور اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی وجہ سے بہت جلد وہ کمپنی کے اہم افراد کے اندر اثر و رسوخ پیدا کر گئے۔ علی محمد شیرازی نے یہودی کمپنی میں نوکری کے بعد ۱۹ سال کی عمر میں ایک معروف عالم دین ’سید کاظم رشتی‘ کے درس میں شرکت کرنا شروع کر دی اور جب سید کاظم رشتی انتقال کر گئے تو اس نے ان کی جانشینی کا دعویٰ کر دیا۔
کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اپنی شعبدہ بازی کے ذریعے لوگوں میں شہرت پانا شروع کی اور  خود کو بارہویں امام کا ’باب‘ ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں ’باب‘ کا لقب پا لیا اور اسی بنا پر فرقہ بابیہ وجود میں آیا۔
فرقہ بابیہ کے پیروکاروں اور علی محمد شیرازی کے مریدوں کی تعداد دن بدن بڑھنے لگی اور دھیرے دھیرے ایران کے دیگر شہروں میں اس شخص کے خرافات پھیلنے لگے اور لوگ گمراھی کا شکار ہونے لگے۔ تبریز کے کچھ علماء نے ولیعہد کی موجودگی میں اس کے ساتھ ایک مناظرہ کے دوران اسے شکست سے دوچار کیا جس کے نتیجے میں حکومت نے اسے جیل میں بند کر دیا۔ جیل سے ایک معافی نامہ حکومت کے نام لکھ کر اپنے کاموں سے توبہ کی اور معافی مانگ کا رہائی کا مطالبہ کیا۔
حکومت وقت نے سید علی محمد شیرازی (باب) کو جیل سے رہا کیا مگر رہائی کے کچھ عرصہ بعد دوبارہ اپنے پیروکاروں کے ذریعے پورے ملک میں ایک شورش برپا کر ڈالی۔ جس کے بعد امیر کبیر نے اسے پھانسی دینے کا حکم دے دیا جس کے نتیجے میں ۱۲۶۶ ہجری قمری میں سید علی محمد شیرازی (باب) کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
علی محمد شیرازی نے اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا لیکن کئی لوگوں نے اس کی جانشینی کا دعویٰ کر دیا اس کے اہم ترین دعویداروں میں ’مرزا یحییٰ صبح ازل‘ ، ’شیخ علی ترشیزی عظیم‘ اور ’مرزا حسین علی نوری‘ المعروف ’’بہاء اللہ‘‘ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
بہائیوں کو ’مرزا حسین علی نوری‘ کہ جنہیں ’’بہاء اللہ‘‘ کا لقب دیا گیا کی وجہ سے زیادہ شہرت ملی۔ اور ان کے لقب بہاء اللہ کے نام سے ان کے پیروکاروں کو ’بہائی‘ کہا جانے لگا۔

 

جاری

انٹرویو/ بہائیت کا مقابلہ ان کے مبانی پر تنقید سے ممکن نہیں: حدادپور جہرمی

  • ۴۷۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بہائیت اور صہیونیت کے باہمی تعلقات کے موضوع سے متعلق اس سے قبل بھی خیبر نے کچھ مضامین تحریر کئے ہیں اور اس بار ایک علمی شخصیت جناب حجۃ الاسلام و المسلمین محمد رضا حدادپور جہرمی سے گفتگو کا موقع حاصل کیا ہے امید ہے کہ قارئین کو پسند آئے گی:
خیبر: کیا آپ ہمارے قارئین کو فرقہ ضالہ ’بہائیت‘ کے بارے میں آگاہ کریں گے اور خاص طور پر اس حوالے سے کہ بہائیت اور صہیونیت کے درمیان تعلقات کس حد تک ہیں؟
۔ بہائیوں اور صہیونیوں کے درمیان تعلقات کے عنوان سے بس اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ بہائیوں کا اصلی مرکز ’بیت العدل‘ اسرائیل میں واقع ہے اور اسرائیلی حکومت ہر سال اس کے لیے بجٹ منظور کرتی ہے۔ لیکن میں اس حوالے سے اس موضوع پر گفتگو نہیں کرنا چاہوں گا کہ ان کا چونکہ مرکز وہاں ہے لہذا وہ فرقہ گمراہ شدہ ہے بلکہ میں دوسرے زاویہ سے اس موضوع پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔
دنیا میں سب سے بڑا خیانتکار اور شیطان صفت کوئی ملک اگر ہے تو وہ برطانیہ ہے۔ برطانیہ بہت اطمینان سے بغیر شور و واویلا کئے اپنی ثقافتی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ جہاں بھی دین و مذہب کی لڑائی اور فرقہ واریت کی بات آتی ہے برطانیہ کا ہاتھ اس کے پیچھے ضرور پوشیدہ ہوتا ہے۔ انگریز ایشیا پر گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے تک پہنچے کہ مسلمانوں کو اندر سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، لہذا انہوں نے اہل سنت میں وہابیت کو جنم دیا اور اہل تشیع میں بہائیت کو۔
بہائیت کو پہچاننے کے لیے ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ یک، ہم علمی اور سیاسی پہلو سے گفتگو کریں، دوسرا ہم علاقے کا گہرا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ بہائیت کے جال میں کون کون لوگ پھنسے ہیں۔ عام طور پر لوگ اس موضوع پر علمی گفتگو کرتے ہیں اور میدانی گفتگو کی طرف توجہ نہیں کرتے ہم یہاں پر اس حوالے سے گفتگو کرنا چاہیں گے۔
میدانی اعتبار سے بہائیت کے موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے ہم چار موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی طرف توجہ کرنا بہت ضروری ہے:
ایک۔ بہائی سکیورٹی اور سالمیت کے اعتبار سے بہت حساس ہیں اور انٹیلیجنس میں ان کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔ میں اس سے زیادہ اس مسئلہ کو زیر بحث نہیں لاؤں گا، صرف اتنا عرض کروں گا کہ بہائیت تنہا ایسا فرقہ ہے جس کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کا فتویٰ ہے کہ وہ نجس ہیں اور ان کے ساتھ خرید و فروخت درست نہیں ہے۔
دو۔ دوسرا مسئلہ اقتصادی اور معاشی مسئلہ ہے۔ کوئی بہائی مالی اعتبار سے کبھی مشکل میں گرفتار نہیں ملے گا۔ ان کے یہاں فقیر لفظ نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے شاپنگ مال اور سپر مارکیٹوں کے مالک بہائی ہیں۔ وہ اپنی کمیونٹی میں کسی کو اقتصادی اعتبار سے کمزور نہیں ہونے دیتے بلکہ دوسروں کو بھی پیسے سے خرید لیتے ہیں۔
تین۔ بہائیوں کے لیے سچائی بہت اہمیت کی حامل ہے، کوئی بھی بہائی کبھی اپنے بہائی ہونے کا انکار نہیں کرے گا۔
چار۔ بہائی بیت العدل سے بتائی جانے والی تعلیمات کے بہت پابند ہیں، خیال رہے کہ ان کا مرکز بیت العدل آنلائن اور چوبیس گھنٹے بہائیوں کے لیے تعلیمی پروگرام نشر کرتا ہے اور یہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور جو آنلائن تعلیم حاصل نہیں کر سکتے وہ فیسبوک اور ٹیلیگرام کے ذریعے مرکز سے جڑے رہتے ہیں۔

 

صہیونیت اور منجی عالم بشریت

  • ۴۲۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اگر چہ اسلامی مصادر میں ظہور کے وقت یہودیوں کے حالات کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں پائی جاتیں، لیکن قرآن کریم میں یہودیوں کی جو صفات بیان ہوئی ہیں خاص طور پر ان کی نسل پرستی،(۱) ان کا برگزیدہ قوم ہونا،(۲) اور پیغمبروں کا انکار کرنا، اور پھر مسلمانوں کی نسبت ان کی شدید دشمنی، ان چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ عصر غیبت میں وہ امام زمانہ کے دشمن ہیں آپ کے ظہور کے بعد بھی وہ اپنی دشمنی جاری رکھیں گے اور آپ کے ساتھ جنگ کے لیے آمادہ ہو جائیں گے۔
اس دشمنی کی ایک وجہ یہ ہے کہ قوم یہود تلمودی تعلیمات کی بنا پر خود ایک مسیحا یا عبرانی زبان میں ’ماشیح‘ کے منتظر ہیں جسے وہ موعود یا منجی کا نام دیتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ مسیحا اس وقت ظہور کریں گے جب قوم یہود تمام مقدس سرزمین پر تسلط پیدا کر لے گی۔ چنانچہ کتاب مقدس میں آیا ہے ’’ ہم تمہاری (ابراہیم) اولاد کو نیل سے فرات تک کی زمین عطا کرتے ہیں‘‘۔ (۳)
اس بنا پر وہ قائل ہیں کہ یہودی ہی صرف حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں چونکہ وہ جناب اسحاق اور ان کی اولاد کو ہی برحق سمجھتے ہیں اور اس بنا پر کتاب مقدس کی اس آیت کے مطابق صرف یہودی ہی نیل سے فرات تک کی زمین کے حقدار ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین پر اپنا قبضہ نہیں جما لیتے مسیحا ظہور نہیں کر سکتے۔
حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو سرزمین مقدس میں داخل ہونے اور جہاد کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ لیکن بنی اسرائیل ان کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں جس کی وجہ سے۴۰ سال تک بیابانوں میں سرگرداں ہو جاتے ہیں۔ اور آخر کار جناب طالوت اور جناب داؤود کے زمانے میں یہ وعدہ تحقق پاتا ہے اور جناب سلیمان کے دور میں دوبارہ اقتدار یہودیوں کے ہاتھ میں آتا ہے۔ (۴)

یہودیوں کے ساتھ صہیونی عیسائی بھی ہم صدا
لہذا توریت میں جو اللہ نے یہودیوں کے ساتھ وعدہ کیا وہ حضرت سلیمان کے دور میں پورا ہو گیا اور وہ سرزمین مقدس پر قابض ہوئے۔ لیکن جو چیز یہاں پر قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں صہیونی عیسائی بھی یہودیوں کے ساتھ ہم صدا اور ہم نوا ہو چکے ہیں۔ جبکہ عیسائی یہ جانتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ مسیحا بن کر قوم یہود کے لیے آئے تھے اس قوم نے انکی نبوت کا انکار کیا اور آخر کار انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا بلکہ اپنی طرف سے انہیں قتل کر دیا لیکن اللہ نے انہیں بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔
عصر حاضر میں امریکہ اور برطانیہ رہنے والے اکثر عیسائی بنی اسرائیل اور یہودیوں کے ساتھ ہم نوا ہو کر مسیح کے پلٹنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن عیسائیوں میں ایک پروٹیسٹنٹ نامی فرقہ ہے جو آخر الزمان کے موضوع کو لے کر بہت ہی حساس ہے اور انتہاپسند یہودیوں کے ساتھ مل کر مسیح کے ظہور کے لیے مقدمات فراہم کرنے میں بے انتہا سرمایہ لگا رہا ہے۔
یہ فرقہ قائل ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے ایک مسیحا ظہور کرے گا مگر اس سے قبل فلسطین میں ایک خطرناک ایٹمی جنگ ہو گی جس کے حوالے سے انہوں نے تاہم دسیوں فلمیں بھی بنائی ہیں۔
انہوں نے ان فلموں کے اندر یہ یقین دہانی کروانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں لوگ دو طرح کے ہیں ایک شرپسند اور دوسرے خیر پسند۔ خیر پسند صہیونی ہیں چاہے وہ یہودی ہوں یا عیسائی، جبکہ شرپسند مسلمان، عرب یا اسرائیل کے مخالف لوگ ہیں۔ اور اس جنگ میں شرپسند تمام طاقتیں ختم ہو جائیں گی اور ہزاروں سال حکومت صہیونیوں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بقول اسی خطرناک جنگ کے دوران مسیح ظہور کریں گے جو عیسائیوں کی حمایت کریں گے۔ اسی وجہ سے ۲۰ ویں صدی عیسوی کے ابتدا سے ہی بنیاد پرست عیسائیوں اور انتہا پسند یہودیوں نے سیاست میں قدم رکھا اور اسرائیل کو جنم دیا اور اب اپنا حیرت انگیز سرمایہ لگا کر صہیونی ریاست کی حفاظت میں کوشاں ہیں اور منتظر ہیں اس وقت کے جب فلسطین میں خیر و شر کی غیر معمولی جنگ ہو گی اور اس میں مسیح ظہور کر کے انہیں نجات دیں گے اور پھر ہزاروں سال دنیا پر صہیونی حکومت ہو گی۔
حواشی
1 – بقره: ۱۱۱ و ۱۱۳ و ۱۲۰ ، ۱۳۵
2- بقره: ۸۷
3- الکنیسة ، ۱۹۸0م؛ سفر التکوین الأصحاح الخامس عشر، ۲0 ص ۲۳.
4- مائده: 26-21
    
ماخذ: فصلنامه مشرق موعود، مواجهه امام زمان علیه السلام با قوم یهود در عصر ظهور، سعید بخشی، سید مسعود پورسید آقایی، تابستان 1396، سال یازدهم، شماره 42، ص86-39.
 

 

صہیونیت کے خلاف جد وجہد کرنے والے علماء/ شہید بہشتی

  • ۵۷۵

’شہید سید محمد حسینی بہشتی‘

شہید بہشتی ایک فقیہ، سیاستدان اور امام خمینی (رہ) کے ان قریبی ساتھیوں میں سے تھے کہ جنہوں نے انقلاب سے پہلے اور بعد ہمیشہ حقیقی اور خالص اسلام کی بقاء اور انقلاب کی کامیابی کی راہ میں انتھک مجاہدت کی۔ سامراجیت کے خلاف جد وجہد اور عدالت کے نفاذ کے لیے کوشش اس مجاہد فقیہ کا خاصہ تھا۔ آپ فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے سے بے انتہا رنجیدہ تھے اور ملک کے اندر اور باہر فلسطین کی آزادی کے لیے مہم چلاتے رہے۔
شہید بہشتی مسئلہ فلسطین کو عرب ملکوں کے مسئلہ کے عنوان سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس انسانی بحران کو عالم اسلام کی مشکل سمجھتے تھے۔ آپ ہمیشہ فلسطینی عوام کے فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتے تھے یہاں تک کہ اس دور میں جب آپ ہیمبرگ میں زیر تعلیم تھے طالبعلموں سے چندہ کر کے امام موسی صدر اور شہید چمران کے ذریعے فلسطینیوں تک امداد پہنچایا کرتے تھے۔
شہید بہشتی کے شاگرد ’رحیم کمالیان‘ اس بارے میں کہتے ہیں: ’’ ڈاکٹر بہشتی ہمیشہ طلبہ کو اس بات پر تاکید کرتے تھے کہ اگر ہو سکے تو اپنے اخراجات میں سے کچھ بچا کر فلسطینیوں کے لیے مخصوص صندوقچہ میں ڈالیں اور اس طرح پیسہ جمع کر کے ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔ آپ اس کے علاوہ یورپ میں اسلامی انجمنوں کو بھی اس کام کی تاکید کرتے تھے۔ جس کے بعد امریکہ اور یورپ کی تمام اسلامی تنظیمیں جو اسلامی یونین کی رکن تھیں فلسطینیوں کے لیے مالی امداد فراہم کرنے لگیں۔ ۱


اس کے علاوہ شہید بہشتی شام اور لبنان کے سفر پر بھی جایا کرتے اور فلسطینی مجاہد گروہوں سے ملاقات کرتے تھے۔ ۲
شہید بہشتی نے اپنی ایک تقریر میں مسئلہ فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کی پہلوی حکومت کو اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے خبردار کیا اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ چیز باعث بنی کہ ’ساواک‘ انہیں تحت نظر رکھے۔ انقلاب کے بعد ساواک کی دستاویزات سے ملی ایک دستاویز میں شہید کے بارے میں کچھ یوں لکھا ہوا تھا:
’’مذکورہ شخص، خمینی کے حامی گروپ کا لیڈر ہے اس نے عرب اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بارے میں ایران اور مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا، ہم ہمیشہ قائل تھے کہ ایران کے رہنما اسرائیل کے حامی ہوں گے اور جو خبریں ہمیں موصول ہوئی ہیں وہ اسی نظریے کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس لیے کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک فضائی پل تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے اسلحہ اور امریکہ کی دیگر امداد اسرائیل کو پہنچائی جا رہی ہے۔
مذکورہ شخص نے اپنے اظہار خیال میں یہ امید ظاہر کی ہے کہ جب تک اسلامی حکومتیں آپس میں متحد نہیں ہوں گی کبھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتیں۔ اس لیے کہ جب اسلامی حکومتیں عربوں کی پیٹھ پر خنجر ماریں گیں تو کیسے عرب اس جنگ میں کامیاب ہو پائیں گے۔
مذکورہ شخص نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل کو اس وقت تک شکست سے دوچار نہیں کیا جا سکتا جب تک امریکہ کو ایران، ترکی، اردن اور سعودی عرب سے نکال باہر نہ کیا جائے‘‘۔ ۳
حواشی
1 – https://www.teribon.ir/archives/33440.
2- http://ensani.ir/fa/article/9899.
3- http://historydocuments.ir/show.php/print.php?page=post&id=2310

 

 

ظہور امام عصر عج، آخر الزمان اور صہیونیت کا انجام

  • ۶۷۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: حقیقی و خالص اسلام کے مقابلہ پرجو فکر سب سے زیادہ وسیع پیمانہ پر مختلف میدانوں میں اپنی پوری توانائی کے ساتھ کھڑی ہے وہ صہیونی فکر ہے۔
صہیونیوں کو سب سے زیادہ خطرہ اسلام کے ان حقیقی پیرو کاروں سے ہے جنہوں نے قرآن کے مستضعفین کی مستکبرین پرحکومت کے وعدہ [۱]کو پیش نظر رکھتے ہوئے استکبار کے خلاف عملی محاذ قائم کیا ہے اور جہاں وہ وعدہ الہی کے منتظر ہیں وہیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے ہیں بلکہ اس وعدہ الہی کے مقدمات کو فراہم کرنے میں مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔
آج صہیونیت کو سب سے زیادہ خطرہ بھی اسلام کے ان واقعی پیرو کاروں سے ہے جنہوں نے زمین کے مظلوموں کی وراثت قرار دئے جانے والے قرآنی وعدہ کو محض تلاوت کی حد تک نہ رکھتے ہوئے ساری دنیا میں ان لوگوں کا ساتھ دینے کی ٹھانی جن پر ظلم ہو رہا ہے جنکو بڑی طاقتوں نے کمزور بنا کر انکا استحصال کیا ہے، کمزوروں کی زمین پر وراثت کے وعدہ پر ایمان لانے والے لوگ آج ساری دنیا کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ایک منجی بشریت کے منتظر ہیں اور اس انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بھی نہیں بیٹھے ہیں بلکہ انتظار کے واقعی مفہوم کو پیش کرتے ہوئے ہر اس جگہ مظلوموں کےساتھ کھڑے ہیں جہاں ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔
اسی بنیاد پر صہیونیوں کی نظر میں سب سے زیادہ وہی لوگ کھٹک رہے ہیں۔ اور انہیں لوگوں کے خلاف چو طرفہ سازشیں ہو رہی ہیں جو خدا کے سچے وعدے پر یقین رکھتے ہوئَے دنیا بھر کے مظلوموں کی آواز بنے دشمنوں سے مقابلہ کر رہے ہیں، صہیونی بھی اسی لئے انہیں اپنا سب سے بڑا دشمن کہہ رہے ہیں کہ جب عصر غیبت و انتظار میں ان چند گنے چنے لوگوں نے دنیا کی بڑی طاقتوں کی نیندیں حرام کر دیں ہیں تو اس وقت کیا ہوگا جب انکا وہ منجی آ جائےگا جس کے انتظار میں یہ چشم براہ ہیں ۔
آج کا عرصہ کارزار صہیونیت اور منتظرین حقیقی کے درمیان ہے، یہی سبب ہے کہ جہاں دنیا کے مستضعفین و کمزور لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں صہیونیت ان تمام طاقتوں کی پشت پناہی کرتی نظر آ رہی ہے جو مظلوموں اور کمزوروں کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے یہ کمزور اپنے بل پر کھڑے ہوں۔ آج کمزوروں کی اٹھتی ہوئی آواز کو اگر مہدویت کا نام دیا جا سکتا ہے تو ان کمزوروں کو کچلنے والوں کو صہیونیت و وہابیت کی فکر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جو آج مہدوی فکر کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھ کر مظلوموں کو اپنے پیروں کھڑے ہونے دینا نہیں چاہتی اور اسی سبب عالمی سامراج کی حمایت کے چلتے دنیا کے مختلف گوشوں میں انکا قتل عام کیا جا رہا ہے اسکی ایک سامنے کی مثال یمن کی صورت حال ہے جہاں سعودی حکومت مسلسل قتل عام کر رہی ہے اور اسکی پشت پناہی امریکہ و اسرائیل کر رہے ہیں اور یمن ہی نہیں دنیا کے ہر اس علاقہ میں صہیونیت کے ہمراہ وہابیت کے نشان ظلم ملیں گے جہاں اسلامی تعلیمات کے سایہ میں اپنی خود مختاری کی بات ہوگی اور اس کی سب سے بڑی وجہ بیت المقدس کی طرف سے توجہ ہٹا کر سفیانیت کو بڑھاوا دینا ہے انہیں خوب معلوم ہے مہدویت وہ فکر ہے جس کے چلتے لوگوں میں ایک امید جاگتی ہے اور انہیں اپنے حق کے مطالبہ پر اکساتی ہے لہذا ضروری ہے کہ اس کے مقابلہ پر جو فکر بھی ہو اسکی حمایت کی جائے اور تاریخی شواہد کی روشنی میں انہیں پتہ ہے مہدویت کے مقابلہ پر سفیانیت سامنے آئے گی جیسا کہ روایات سے واضح ہے، امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی سخت ترین دشمن سفیانیت کی فکر ہوگی جسے مغرب کی حمایت بھی حاصل ہوگی اور یہودیوں کی بھی ،بلکہ بنیادی طور پر دیکھا جائے تو سفیانی کی حمایت ہی اس لئے ہے کہ ایک طرف تو انقلابی فکر کو دبایا جا سکے اور دوسری طرف اسرائیلی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ان لوگوں سے مقابلہ کیا جا سکے جو لشکر خراسانی اورناصران مہدی عج کی صورت بیت المقدس کی آزادی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ،جبکہ یہ وعدہ الہی ہے کہ ظلم و ستم کے پرستاروں کو اس بار کوئی کامیابی ملنے والی نہیں ہے سورہ اسراء میں اسی بات کی طرف یوں اشارہ ملتا ہے:
وَقَضَیْنَآ اِلٰى بَنِیْٓ اِسْرَاۗءِیْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا، فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ۰ۭ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا، ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْہِمْ وَاَمْدَدْنٰکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا،نْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ۰ۣ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَہَا۰ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْۗءٗا وُجُوْہَکُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَـمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّلِــیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا
ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں آگاہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ ضرور فساد برپا کرو گے اور ضرور بڑی طغیانی دکھاؤ گے۔ پس جب دونوں میں سے پہلے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اپنے زبردست طاقتور جنگجو بندوں کو تم پر مسلط کیا پھر وہ گھر گھر گھس گئے اور یہ پورا ہونے والا وعدہ تھا۔ پھر دوسری بار ہم نے تمہیں ان پر غالب کر دیا اور اموال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہاری تعداد بڑھا دی۔ اگر تم نے نیکی کی تو اپنے لیے نیکی کی اور اگر تم نے برائی کی تو بھی اپنے حق میں کی پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا ـ(تو ہم نے ایسے دشمنوں کو مسلط کیا ) وہ تمہارے چہرے بدنما کر دیں اور مسجد (اقصیٰ) میں اس طرح داخل ہوجائیں جس طرح اس میں پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے اور جس جس چیز پر ان کا زور چلے اسے بالکل تباہ کر دیں [۲]۔
امام صادق علیہ السلام }عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ{ ‘‘طاقت ور جنگجو بندوں’’ کے سلسلہ سے فرماتے ہیں :یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں خدا ظہور قائم عج سے قبل سامنے لائے گا اور یہ کسی دشمن اہلبیت کو نہیں پکاریں گے یہاں تک کے اسے واصل نار کر دیں گے [۳]
عیاشی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ امام باقر علیہ السلام نے بعثنا علیکم عبادا لنا کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس سے مراد ہمارا قائم عج ہے اور اسکے ناصر ہیں جو طاقت ور ہونگے[۴] امام صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی تو آپ کے ایک صحابی نے سوال کیا میری جان آپ پر فدا ہو مولا یہ لوگ کون ہونگے آپ نے جواب میں تین بار فرمایا :یہ لوگ اہل قم میں سے ہوں گے ، اہل قم میں سے ہوں گے اہل قم میں سے ہوں گے [۵]
بظاہر موجودہ حالات اورظہور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے سلسلہ سے وارد ہونے والی روایات کے لب و لہجہ کو دیکھتے ہوئے بعید نہیں ہے کہ فریقین کی کتابوں میں موجود آخری دور کی جنگ میں مسلمانوں اور یہودی کی جنگ سے مراد یہی آخر الزمان کی جنگ ہو جس کے بارے میں یوں ملتا ہے کہ :قیامت نہیں آئے گی مگر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ایک سخت جنگ چھڑے گی ، اور اس جنگ میں مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوگا اور مسلمان سب کو ہلاک کر دیں گے یہاں تک کہ اگر انکا کوئی دشمن کسی پتھر یا درخت کے پیچھے بھی چھپ جائے گا تو درخت و پتھر سے آواز آئے گی تمہارا کھلا ہوا دشمن یہاں چھپا ہے اسے ہلاک کر دو [۶]۔
اس آخری دور میں جہاں یہودیوں کو انکے ظلم و ستم کی بنا پر مسلمانوں کا لشکر ہلاک کرے گا وہیں یہ بھی ہے کہ ان میں سے تیس ہزار کے قریب اس وقت اسلام لے آئیں گے جب دیکھیں گے کہ انطاکیہ کی ایک غار سے توراۃ کو انجیل کو نکالا جائے گا اور صندوق مقدس کو طبریہ کی جھییل سے سامنے لایا جائے گا یہ وہ وقت ہوگا کہ یہودیوں کے لئے سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائےگا اور ان علامتوں کو دیکھ کر تیس ہزار یہودیوں اسلام قبول کر لیں گے [۷]۔
اسی انجام کا ڈر ہے جو اسرائیل کو لاحق ہے اور وہ مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے کہ بزعم خویش تو اپنے بچاو کی چارہ سازی کر رہا ہے لیکن در پردہ اپنی قبر کھود رہا ہے جبکہ وعدہ الہی حق ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا ۔ نہ اونچی اونچی دیواریں اسے تباہ ہونے سے روک سکتی ہیں نہ بکتر بند فولادی گاڑیاں نہ مرکاوہ ٹینک اور نہ ہی اپنے مان مانے طریقے سے فلسطینی حدود کی تعیین و فلسطینیوں سرحدوں کے اندر انہیں قید کر دینا وعدہ الہی سچ ہے اوراسکی سچائی ساری دنیا کے سامنے آ کر رہے گی فلسطین، شام، عراق و لبنان میں جوکچھ ہو رہا ہے وہ اسی وعدہ الہی کی آہٹ ہے جس کے بموجب منجی آخر کے ظہور کے ساتھ ساتھ ہی انسانیت کے دشمن صہیونی اپنے انجام کو پہنچیں گے ۔
حوالہ جات
[۱][۱] وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَىِٕمَّۃً وَّنَجْعَلَہُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ, وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ…
۵۔ اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جنہیں زمین میں بے بس کر دیا گیا ہے ہم ان پر احسان کریں اور ہم انہیں پیشوا بنائیں اور ہم انہی کو وارث بنائیں اور ہم زمین میں انہیں اقتدار دیں ۔۔۔ ۵- ۶ قصص
[۲] ۔ اسراء ، ۴-۷
[۳] تفسیر نورالثقلین، ج ۳، ص ۱۳۸٫
[۴] ایضا
[۵]۔ بحارالانوار، ج ۶۰، ص ۲۱۶٫
[۶] ۔ مسند احمد، ج ۲، ص ۴۱۷؛ معجم احادیث الامام المهدی، ج ۱، ص ۳۱۲
تفصیل کے لئے رجوع کریں بحارالانوار، ج ۵۱، ص ۲۵٫
۷ تفصیل کے لئے رجوع کریں. معجم احادیث الامام المهدی (علیه السلام)، ج ۱، ص ۳۴۴؛ الملاحم و الفتن، ص ۶۹٫:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔