کتاب ’’اسرائیل کی قومی سلامتی‘‘ کا تعارف

  • ۳۵۹

ترجمہ سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کتاب ’’اسرائیل کی قومی سلامتی‘‘ یہودی مصنف اور تجزیہ نگار ’افرائم انبار‘‘ (Efraim Inbar ) کی کاوش ہے انہوں نے اس کتاب میں اکتوبر ۱۹۷۲ کی جنگ کے بعد صہیونی ریاست کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کا جامع تجزیہ کیا ہے۔
کتاب کا اصلی نام ’’ Israel’s national security : issues and challenges since the Yom Kippur War‘‘ ہے۔
بطور کلی اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ صہیونی ریاست کو درپیش اسٹریٹجک چیلنجز اور مشرق وسطیٰ میں اس کی حمایت کرنے والے فنکاروں پر ایک گہری نگاہ ڈالی جائے۔
 اس کتاب کے پہلے حصے میں ۱۹۷۲ کی جنگ کے بعد کے حالات پر گفتگو کی گئی ہے جبکہ اس کی توجہ کا محور صہیونی رژیم کی اسٹریٹجک فکر اور امریکہ کی جانب سے کی جانے والی جنگی حمایت ہے کہ جس کا مقصد صہیونی فوج کو ایک قوی ترین فوج میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
کتاب کے دوسرے حصہ کا نام طاقت کا سہارا ہے کہ جس میں صہیونی ریاست کے انتفاضہ کو جوابات، نیز جنگ لبنان (۱۹۸۲) کے حوالے سے یہودی ریاست کے داخلی اختلافات وغیرہ پر گفتگو کی گئی ہے۔
تیسرا حصہ سرد جنگ کے بعد کا دور ہے جس میں صہیونی ریاست کی بین الاقوامی سطح پر تنہائی کو مورد بحث قرار دیا گیا ہے نیز اس حصے میں خلیج فارس جنگ (۱۹۹۱) میں صہیونی ریاست کے حیران کن کردار، نئی اسٹریٹجک فکر کا جائزہ اور ۱۹۹۰ کی دہائی میں اس ریاست کی پالیسیوں کی تشریح کی گئی ہے۔
کتاب کے چوتھے حصے کا نام امن منصوبہ ہے اور اس میں ۱۹۹۱ میں منعقدہ میڈریڈ کانفرنس کے بعد امن کے منصوبے پر مختلف پہلوؤں سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ صہیونی ریاست اور شام کے درمیان مذاکرات، اسلامی رجحان اور امن کی سازش، عربوں اور یہودیوں کی باہمی حیات وغیرہ جیسے موضوعات پر اس حصے میں گفتگو کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پانچویں حصے کا موضوع نئے اسٹریٹجک شرکاء ہیں اور اس میں صہیونیوں کے ہندوستان اور ترکی کے ساتھ تعلقات کو بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے دو اہم شریک کے عنوان سے گفتگو کی ہے اور آخر میں یعنی اس کتاب کے چھٹے حصے میں اکیسویں صدی کی چیلنجز پر تجزیہ کرتے ہوئے فلسطین کا چیلنج، ایران کی ایٹمی توانائی سے مقابلے کی ضرورت اور ۳۳ روزہ جنگ میں صہیونی ریاست کی اسٹریٹجک غلطیوں پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کتاب “یہودیوں کی صہیونی بنیاد پرستی” کا مختصر تعارف

  • ۳۶۲

ترجمہ سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودیوں کی صہیونی بنیاد پرستی (The Jewishes, Zionist fundamentalism) اسرائیل کے ماہر عمرانیات و مردم شناس گائڈن ارن [۱]کے قلم سے سامنے آنے والی کتاب ہے، اس مصنف کے دیگر آثار میں، اسرائیلی سرزمین: سیاست و دین کے درمیان [۲]، صلح کی قیمت :یہودی نشین آبادیوں کو ختم کرنا، صلح کے قیام و معاملات کو رفع دفع کرنے میں صلح[۳] وغیرہ جیسے آثار کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
گائڈن ارن نے اس کتاب اور اپنے دیگر مقالات کو ضبط تحریر میں لانے کے لئے اسرائیل میں موجود مختلف تحریکوں کے سربراہوں سے مختلف انٹرویو لیے ہیں، یہودیوں کی صہیونی بنیاد پرستی ایک ایسی کتاب ہے جو اسرائیل میں موجود مختلف تحریکوں کے تعارف کے پیش نظر لکھی گئی ہے اور خاص طور پر اسرائیل کی قدامت پرست تحریک گوش امونیم Gush Emunim מִפְלָגָה דָּתִית לְאֻומִּית، پر اس کتاب میں فوکس کیا گیا ہے۔
گوش امونیم [۴]ایک عبری عبارت ہے جو گروہ مومنین کے معنی میں اور دینی پس منظر کی حامل تحریک کے سلسلہ سے استعمال ہوتی ہے، یہ کتاب امریکی عوام کی دسترس میں قرار پانے والی اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس سلسلہ سے لکھی جانے والی پہلی کتاب ہے جسے ایک ممتاز محقق نے سپرد قرطاس کیا ہے، لہذا امریکی رائے عامہ، یونیورسٹیز، حتی امریکی پالیسی سازوں اور امریکہ کے سلسلہ سے فیصلہ کرنے کا اختیار رکھنے والوں تک کو متاثر کر نے کا سبب ہوگی۔ اور اس لحاظ سے کہ اس کے مصنف اسرائیل میں بنیاد پرستوں کے ساتھ خود ہی اٹھے بیٹھے ہیں اور سالہا سال انکے ساتھ زندگی جینے کا تجربہ رکھتے ہیں، ایک خاص اہمیت کی حامل ہونے کے ساتھ ایک ثبوت اور دستاویز کی حیثت رکھتی ہے۔
اس کتاب میں گوش امونیم کی تحریک کے آغاز سے اسکے رشد تک کے مرحلہ کو بیان کیا گیا ہے اس کتاب کے مصنف نے کتاب کو ضبط تحریر میں لانے کے لئے مقبوضہ فلسطین کی سر زمینوں میں رہائش کی سختیوں کو برداشت کیا ہے اور اس تحریک کے فعال اراکین و اعضاء جنہیں گروہ مومنین کہا جاتا ہے کے ساتھ ، پہاڑوں اور بیابانوں کو پیروں تلے روندا ہے اور ہر چیز کو نزدیک سے دیکھنے کے لئے کبھی ڈرائور کا کردار نبھایا ہے تو کبھی اسلحوں کو کاندھوں پر ڈھونے والے حمال تو کبھی اس تحریک کے سربراہوں کے باڈی گارڈ کا رول نبھایا ہے اور گوش امونیم کی پنہاں و آشکار کارکردگیوں کو ایک محرم راز و شاہد کی حیثیت لمس کرنے کے ساتھ اس تحریک کی رسمی و غیر رسمی پنہاں وآشکار فعالیتوں کے گواہ کے طور پر بہت کچھ قریب سے دیکھا ہے[۵]
ان لوگوں کے لئے اس کتاب کو پڑھنا بہت ہی مفید ہوگا جو صہیونیت کی شناخت کے سلسلہ سے شوق ورغبت رکھتے ہیں، صہیونی سماج کو پہچاننا چاہتے ہیں، افراطی یہودیوں کے سلسلہ سے معلومات حاصل کرنے میں دلچسبی رکھتے ہیں اور مجموعی طور پر ان سبھی حضرات کے لیے اس کتاب کو تجویز کیا جا سکتا ہے جو موجودہ اسرائیل کے بننے اور اس ملک کی تعمیر کے پس منظرمیں موجود فکر اور فلسطین پر حملوں اور فلسطینی عوام کے قتل عام کے پیچھے کی فکر کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔
حواشی
[۱] Gideon Aran
[۲] اورشلیم: موسسه مطالعاتی اسرائیلی اورشلیم،۱۹۸۵
[۳] www.gideonaran.com/category/publications
[۴] Gush Emunim מִפְלָגָה דָּתִית לְאֻומִּית، ایک سخت گیر نظریات کی حامل قوم پرست یہودی ارتھوڈکس پارٹی ، مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ۔Ehud Sprinzak, ‘From Messianic Pioneering to Vigilante Terrorism: The Case of the Gush Emunim Underground,’ in David C. Rapoport(ed.),Inside Terrorist Organizations,Routledge 2013 pp. 194-215, p. 194
[۵] http://teeh.ir/fa/news-details/2655/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کتاب “امریکہ میں یہودیوں کے اثر و رسوخ کے سلسلہ میں ان کہی باتیں” کا تعارف

  • ۴۱۵

ترجمہ سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ’’میری بیداری :امریکہ میں یہودیوں کے اثر و رسوخ کے سلسلہ سے ان کہیں باتیں ‘‘ ڈیوڈ ارنسٹ ڈوکے David Ernest Duke”،، کے قلم سے سامنے آنے والی کتاب ہے ، امریکی معاشرے کو درون سے دیکھنے والے ایک قوم پرست سفید فام کی جانب سے لکھی جانے والی یہ کتاب ایک ایسا ماخذ ہے جس میں ایک گورے و قوم پرست مصنف کی جانب سے امریکی یہودیوں اور ہلوکاسٹ پر تنقیدی نظر کو پیش کیا گیا ہے ۔
اور اسی زاویہ نظر کے اعتبار سے اسکی اہمیت دو چنداں ہے کہ اسے ایک امریکہ ہی کے معاشرہ میں رہنے والے قوم پرست مصنف نے سپرد قرطاس کیا ہے۔
ڈیوڈ نے اس کتاب کی پہلی فصل میں مختصر طور پر اپنی بیو گرافی کو بیان کیا ہے اور اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ’’ میں شدید طور پر ان لوگوں سے نفرت کرتا ہوں جو اپنی ایک مستقل سوچ نہیں رکھتے اور چلتی ہوا کے پیچھے ہو لیتے ہیں یا اور جیسا دیس ویسا بھیس کے مقولے پر عمل کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر میں اپنے انقلابی عقائد کو پیش کر رہا ہوں جو کل کی دنیا میں ایک تبدیلی کا سبب بنیں گے‘‘
اس کتاب میں آگے چل کر ڈیوڈ نے یہودیوں کی حقیقت کو بیان کیا ہے خاص کر مصنف نے یہودیوں اور کمیونزم کے آپسی روابط کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے، مصنف کا ماننا ہے کہ کمیونزم، نے یہودیت کے پیٹ سے جنم لیا ہے، اور وہ یہودیوں پر ہونے والی تنقید کی صورت حال کے پیش نظر لکھتے ہیں: ’’کوئی بھی اگر یہودیوں کی تاریخ ، یا انکے طرز عمل یا صہیونی سیاست پر معمولی اور چھوٹی سی بھی تنقید کرتا ہے تو اس پر ایک یلغار ہو جاتی ہے اور یہودی ستیزی کا لیبل اس پر چپکا دیا جاتا ہے، اسے بدنام کر دیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ کی جانب سے سیاہ فاموں کے سلسلہ سے روا رکھے جانے والے دائمی، نادرست و غیر مناسب طرز عمل پر اگر کوئی تنقید کرتا ہے تو اسے امریکہ مخالف قرار نہیں دیا جاتا ہے، اگر کوئی ہسپانوی عدالت میں عقائد و افکار کی جستجو و تفتیش پر اعتراض کرتا ہے تو اسے عیسائیت یا اسپین کا مخالف قرار نہیں دیا جاتا ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ یہودیت پر تنقید کو کیوں یہودیوں کے مخالفت کی صف میں لا کھڑا کیا جاتا ہے اور ہر تنقید کو مخالفت کا رنگ کیوں دیا جاتا ہے؟
کتاب کی تیسری فصل میں مصنف دنیا میں موجود یہودیوں کے افکار میں صہیونیت کے نفوذ کو بیان کرتے ہیں اور تورات کے اندر غلط ترجموں اور غلط مصادیق کے بیان کے ذریعہ تورات میں صہیونیوں کی تحریف پر اشارہ کرتے ہیں کہ کس طرح صہیونی فکر عام یہودیوں کے افکار میں تورات کے غلط مصادیق و غلط ترجموں کے ذریعہ اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
 
پانچویں فصل میں امریکی ٹی وی چینلوں اور اخباروں بلکہ مجموعی طور پر میڈیا و ذرائع ابلاغ پر یہودیوں کے تسلط اور انکے قبضے کو بیان کرتے ہوئے مصنف اپنا عقیدہ اس بارے میں یوں بیان کرتے ہیں: ’’ یہودیوں نے سالہا سال تک ہالیوڈ کی فلم صنعت پر اپنا قبضہ جمائے رکھا اور جب ہالی وڈ کی ۱۰ ممتاز شخصیتوں کو اعزاز دیا گیا اور امریکہ کے اس دور کے صدر جمہوریہ کے سامنے جب اعزاز پانے والوں سے سوال ہوا کہ کیا وہ کمیونسٹ طرز فکر کے حامل ہیں تو ان ۱۰ میں سے نو لوگوں نے کہا کہ وہ یہودی ہیں ۔
اسی فصل میں مصنف آگے چل کر کہتے ہیں: ” میں نے جب امریکہ میں شائع ہونے والے مختلف مجلوں اور جرائد و میگزینوں نیز کتابوں کا جائزہ لیا تو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ سب کے سب یہودی مفادات کے سلسلہ سے سرگرم عمل ہیں اور انہیں کے مفاد کے لئے کام کرتے ہیں، انہیں کی مصلحت و انہیں کے مفاد کے بارے میں سوچتے اور فکر کرتے ہیں جیسے SCHNEIDER شیلڈنر جیسی فلم کے ہدایت کار اسٹیون اسپلبرگ Steven Spielberg جو کہ بالکل صراحت کے ساتھ صہیونی حکومت کی بھرپور تائید و حمایت کرتے ہیں۔
ڈیوڈ کا ماننا ہے کہ غیر اخلاقی و تاریخی فحش فلمیں جنکو کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں یہودیوں کی ہدایت کاری میں اور انہیں کے سرمایہ سے سامنے آتی ہیں۔
بعد کی فصلوں میں ڈیوڈ یہودیوں کے امریکی سیاست میں نفوذ ، سامی رجحان کی مخالفت کی جڑوں، یہودیوں کے اتنظامی امور میں تسلط ، ہلوکاسٹ کے بارے میں تحقیق، اور یہودیت کی سربراہی میں پیچیدہ عجیب و غریب جنگ، جیسے موضوعات کو چھیڑتے ہیں۔
انجام کار کتاب کی آخری فصل میں بہت تفصیل سے یہودیوں کے دیگر اقوام پر برتری کے عقیدہ کی تشریح کرتے ہیں، اور انکی برتری کے عقیدے کے سلسلہ سے دلائل و شواہد کو پیش کرتے ہوئے اسکے اطراف و اکناف پر بحث کرتے ہیں نیز یہودیوں کے اس عقیدہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہیں ۔

 

کتاب” اسرائیل کی مقدس دہشت گردی” کا تعارف

  • ۶۲۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ’’اسرائیل کی مقدس دہشت گردی‘‘ لیویا روخارچ نامی ایک یہودی و اسرائیلی خاتون کے ذریعہ صفحہ قرطاس پر سامنے آنے والی ایسی کتاب [۱] ہے جو ۱۹۸۰ میں منظر عام پر آئی اور اس کتاب پر مقدمہ معروف امریکن یہودی نوام چومسکی [۲] نے لکھا ہے ۔
یہ کتاب۱۹۳۳ ۔ ۱۹۴۸) تک یہود ایجینسی کے سیاسی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کا عہدہ رکھنے والے موشے شارٹ[۳] کی ڈائری اور انکی جانب سے لکھے جانے والے نوٹس پر مشتمل ہے جو کہ بعد میں صہیونی حکومت کے سب سے پہلے وزیر خارجہ ہوئے جسکا دورانیہ ۱۹۴۸۔سے ۱۹۵۶ ء رہا اور اسکے بعد ۱۹۵۴ سے ۱۹۵۵ تک اسرائیل کے وزیر اعظم کے طور پر انہوں نے اپنا کام کیا ۔موشے شارٹ کی ہر روز کی ڈائری کو سب سے پہلے ان کے بیٹے نے ۱۹۷۹ میں مقبوضہ فلسطین میں شائع کیا تھا ۔
مصنفہ لیویا روخارچ ،موشے شارٹ کی وزارت عظمی کے دوران وزیر داخلہ کے عہدہ پر رہنے والے اسرائیل راکاخ کی بیٹی ہیں۔
موشے شارٹ کی منظر عام پر آنے والی ڈائری جو کہ عبری میں نشر ہوئی تھی اسرائیل میں کسی کی توجہ کو اپنی طرف مبذول نہ کر سکی البتہ لیویا روخارچ کے قلم سے انگریزی زبان میں جب یہی کتاب مارکیٹ میں آئی تو بین الاقوامی سطح پر چوطرفہ طور پراس کی پذیرائی ہوئی ۔
مصنفہ روخارچ ۱۹۷۰ کی دہائی میں اٹلی کی طرف ہجرت کر گئیں، اور انہوں نے اپنے تشخص کو مخفی رکھا اور اپنی نام نشانی کو پوشیدہ رکھتے ہوئے انہوں نے فلسطین سے متعلق ایک اطالوی شہری کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاری ۔
۱۹۸۰ ء میں روخارچ نے صہیونی حکومت کی شدید دھمکیوں کے باوجود امریکہ میں اس کتاب کو منتشر کیا، اور پھر ٹھیک ۵ سال بعد ۱۹۸۵ء میں روخارچ کی لاش روم کے ایک ہوٹل میں ملی ۔
اس کتاب کا اہداء ان فلسطینیوں کے نام ہے جو اسرائیل کے مظالم اور اس کی خبیث دہشت گردانہ کاروائیوں کا شکار ہوئے ہیں ۔مصنفہ روخارچ اپنے اہداییہ میں لکھتی ہیں :’’ دہشت گردانہ کاروائیوں اور ٹرریزم اور انتقام کو اسرائیلی معاشرہ میں ایک نئی قدر حتی تقدس کی حد تک سراہا جاتا ہے ‘‘۔ ۱۹۸۶ میں’’ اسرائیل کی مقدس دہشت گردی‘‘ کا تیسرا ایڈیشن بھی شایع ہو گیا ۔
اس کتاب میں سب سے پہلے ٹرریزم کی تعریف کرتے ہوئے اسکے مفہوم کی وضاحت کی گئی ہے اس کے بعد صہیونی حکومت کے فکری اور اعتقادی پس منظر کو اسی مفہوم کے تحت پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے نیز اس کے تاریخی سابقہ کا جائزہ بھی لیا گیا ہے ۔اسکے بعد صہیونی حکومت کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے طریقہ کار اور اس کے انواع و اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اختتام میں فلسطین میں موجود صہیونیوں کے فاشسٹی و دہشت گردانہ نظریات کے حامل گروہوں کو اسرائیل کے وجود سے قبل و بعد دونوں ہی مراحل میں متعارف کرایا گیا ہے ۔
اس کتاب میں چامسکی نے اپنے مقدمہ میں بہت ہی عمدہ و نفیس مطالب کو بیان کیا ہے من جملہ ان میں ایک بات یہ ہے کہ روخارچ نے اپنے مقدمہ میں دو صہیونی اسلوبوں mythical پر مشتمل مفروضوں اور ایک احساس کا نام لیا ہے اور ان اسلوبوں اور ایک احساس کے مجموعہ کو صہیونیوں نے، فلسطینیوں کی سرکوبی، ان پر تشدد، قتل، جیل میں ڈالنے ، دربدر کر دینے، انکے گھروں کو ویران کرنے، اور مقبوضہ فلسطین سے خود کو پیچھے نہ ہٹنے دینے کی دستاویز بنایا ہوا ہے ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن سے صہیونی حکومت نے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے اور اٹھا رہی ہے ۔
 
ان صہیونی مفرضوں کو حسب ذیل انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
الف: مفروضہ تحفظ وامنیت : مفروضہ تحفظ و امنیت یا اس بات کا توہم کہ فلسطین میں موجود یہودیوں کا وجود دائمی خطرات کے سایہ میں ہے جوکہ بہت ہی سنگین ہیں ۔
ب : عربوں کا ڈر اور انکا خوف اور انکی دھمکیاں ؛ عربوں کی دھمکیوں، انکے خوف و ڈر کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ صہیونیوں نے پروپیگنڈہ کے ذریعہ اپنی مظلومیت کو اس کے بل پر پیش کیا ہے اور پیش کر رہے ہیں۔
ج: روخارچ نے حساس انداز میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ وہ چیز ہے جسے صہیونیوں نے اعراب کے خوف و ہراس کو اپنے لوگوں کے دلوں میں بٹھانے کے لئے مصنوعی انداز میں پیش کیا ہے ، اس ڈر و خوف کی فضا کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے اور انہیں اس بات کی تلقین کی جا سکے کہ اسرائیلی معاشرہ بہت بری طرح چو طرفہ طور پر گھرا ہوا ہے اور محاصرہ میں ہے ۔
حوالہ جات
[۱] ۔ Livia Rokach, Israel”s Sacred Terrorism, A Study Based on Moshe Sharett’s Personal Diary and Other Documents, USA: AAUG Press, 1980
[۲] ۔ اَورام ناؤم چومسکی (عبرانی: אברם נועם חומסקי) (پیدائش ۷ دسمبر ۱۹۲۸) ایک یہودی امریکی ماہر لسانیات ، فلسفی ، مؤرخ ، سیاسی مصنف، اور لیکچرار ہیں۔ ان کے نام کا اولین حصہ اَورام دراصل ابراہیم کا عبرانی متبادل ہے۔ وہ مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شعبہ لسانیات میں پروفیسر رہے اور اس ادارے میں پچھلے ۵۰ سالوں سے کام کیا۔ چومسکی کو لسانیات میں جینیریٹو گرامر کے اصول اور بیسویں صدی کے لسانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے کام سے کمپیوٹرسائنس ، ریاضی اور نفسیات کے شعبے میں ترقی ہوئی۔ چومسکی کی خاص وجہ شہرت ان کی امریکی خارجہ پالیسی اور سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید رہی ہے۔ وہ ۱۰۰ سے زیادہ کتابوں کے مصنف رہے ہیں۔ انکی ایک کتاب دنیا کس طرح کام کرتی ہے نے بڑی شہرت پائی۔
[۳] ۔ Moshe Sharett, Yoman Ishi [Personal Diary], edited by Yaqov Sharett, Tel Aviv: Ma”ariv, 1979.

 

برطانوی صحافی ویلیم شاکراس کی کتاب ‘ روپرٹ مردوخ’ (ابلاغی سلطنت) کا تعارف

  • ۴۰۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کتاب “روپرٹ مردوخ (ابلاغی سلطنت)” (۱) کے مؤلف، آزاد برطانوی صحافی ویلیم شاکراس (۲) ہیں۔ شاکراس نے اس کتاب میں تقریبا صحافتی طرز تحریر اپناتے ہوئے مردوخ کی زندگی کی لمحہ بہ لمحہ حکایت بیان کی ہے جس میں انھوں نے صہیونیت کے صحافتی جرنیل روپرٹ مردوخ کی ۱۹۶۳ تک کی ذاتی، خاندانی اور پیشہ ورانہ زندگی کی تصویر کشی کی ہے۔
کتاب “روپرٹ مردوخ (ابلاغی سلطنت)” پندرہ فصلوں پر مشتمل ہے۔ مؤلف پہلی فصل میں اس کاوش کی تالیف کے مقاصد بیان کرتے ہیں۔ شاکراس کہتے ہیں: “روپرٹ مردوخ کے بارے میں اٹھنے والے سوالات میں چند ایسے سوالات ہیں جو دوسرے سوالات سے زیادہ دہرائے جاتے ہیں جو یوں ہیں: مردوخ نے اپنی عمر کے ۴۵ برس مختلف ممالک کے دوروں میں گذار دی ہے تا کہ ایک بین الاقوامی سطنت کی داغ بیل ڈالنے کا منصوبہ تیار کریں؟ اس راہ میں ان کے محرکات کیا تھے؟”۔
 
اس کتاب میں جس چیز کو خاص توجہ دی گئی ہے وہ دنیا کے ذرائع ابلاغ پر ایک صہیونی ـ یہودی فرد کی سطلنت ہے۔
اس کتاب میں ایسے حالات کو بیان کیا گیا ہے جو دوران حیات مردوخ کی ترقی کا باعث بنے ہیں اور صہیونیت کے ہاتھوں ایک ابلاغی سلطنت کے قیام پر منتج ہوئے ہیں۔
مؤلف نے پہلی فصل میں جینیاتی اور وراثتی لحاظ سے روپرٹ مردوخ کی اخلاقی خصوصیات اور افکار پر روشنی ڈالی ہے؛ دوسری فصل میں مردوخ کے بچپن کے حالات سے مختص کیا ہے اور بعد کی فصلوں میں ان کی سماجی سرگرمیوں کو بیان کیا ہے اور ان تمام اقتباسات میں روپرٹ کی تسلط پسندی پر زور دیا ہے۔
مؤلف آٹھویں فصل کے ایک حصے میں لکھتے ہیں: “مردوخ بخوبی سمجھ چکے تھے کہ تفریحی صنعت روز بروز مغرب ـ اور بالخصوص امریکی ثقافت ـ کے معاشرتی مزاج میں بدل رہی ہے۔ عالمی گاؤں (۴) میں ٹیلی ویژن رفتہ رفتہ معمولی دیہاتوں کی سرسبزی اور خُرَّمی کی جگہ لے رہا ہے؛ چھوٹے مگر دلفریب سبزہ زار ہر گھر میں دکھائی دے رہے ہیں، بَصَری تصویریں رفتہ رفتہ کلامی مباحث کے متبادل کے طور پر سامنے آرہی ہیں اور (یوں) معلومات تفریح کے ضمن میں لوگوں کو سامنے رکھی جاتی ہیں”۔ یہودی المذہب روپرٹ مردوخ نے ان مواقع کو غنیمت سمجھا اور ان سے اپنے ابلاغی تسلط کے قیام میں بھرپور فائدہ اٹھایا۔
مردوخ نے ۱۹۷۶ میں اخبار نیویارک پوسٹ کو خرید لیا اور امریکہ کی ابلاغی دنیا میں داخل ہوئے اور اس کے بعد کئی دیگر ذرائع ابلاغ ـ منجملہ: ٹیلی ویژن، سیٹلائٹ چینل، اخبارات وغیرہ ـ کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
۱٫ Murdoch: the making of a media empire.
۲٫ William Hartley Hume Shawcross.
۳۔ شاوکراس، ویلیام، روپرت مورداک (امپراتوری رسانه‌ای) فصل اول
۴٫ Global village
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کتاب” صہیونی لابی اور امریکہ کی خارجہ پالیسی” کا تعارف

  • ۴۱۰

خیبر صیہون ریسرچ سینٹر: یہ کتاب “اوہ جوزف میئر شیمر”(John Mearsheimer ( mɪrʃhaɪmər ؛ اور “اسٹیفن والٹ” کی مشترکہ کاوش ہے دونوں ہی “آر وینیل ہیریسن ڈسٹرکٹ” میں ممتاز استاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں. کتاب کے مصنفین کا مقصد اسرائیلی حکومت کی حمایت کے سلسلہ سے صہیونیوں کی غلط توجیہات اور نئے قدامت پسندوں کی اس ناجائز حکومت کی حمایت کے سلسلہ سے کی جانے والی تاویلوں کو آشکار کرتے ہوئے ان پر خط بطلان کھینچنا ہے ۔
اس کتاب میں واضح طو ر پر اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکی سیاست مداروں نے عراق اور افغانستان میں ہزاروں لوگوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا جبکہ صہیونی چھوٹی سی منظم لابی کے سامنے انکی گھگھی بندھی رہتی ہے اور انکی حقارت کی انتہا نہیں ۔
مصنفین کی نظر کے مطابق مشرق وسطی میں امریکہ کی خارجی سیاست ہر ایک عامل سے زیادہ صہیونی لابی سے متاثر ہے یہاں تک کہ آخری چند دہایہوں میں خاص کر اسرائیل و عربوں کی جنگ کے دور سے اسرائیل سے تعلقات کا مسئلہ مشرق وسطی میں امریکہ کی بنیادی سیاست میں تبدیل ہو گیا ہے ۔
یہ کتاب ۲۰۰۶ میں چھپی، اور اسکے مارکیٹ میں آنے کے بعد دنیا بھر میں مخالفین و موافقین کے درمیان بحث و گفتگو کا بازار گرم ہو گیا قابل ذکر ہے کہ ۲۰۰۶ ء میں ہی یہ کتاب کئی بار پرنٹ ہوئی اور اس کے ایڈیشن کے ایڈیشن ختم ہو گئے یہاں تک کے ۲۰۰۶ء میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب قرار پائی۔
کتاب کے ایک حصہ میں ہمیں ملتا ہے” صہیونی لابی امریکہ میں اس قدر طاقت ور ہے کہ اس نے ناقابل خدشہ یہ عقیدہ لوگوں کے ذہنوں میں ترسیم کر دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے قومی مفادات ایک ہی ہیں ”
واضح سی بات ہے کہ ہر ملک کی خارجہ پالیسی اس ملک کے قومی مفادات کے پیش نظر تدوین پاتی ہے ، جبکہ یہ بات مشرق وسطی میں امریکی پالیسی پر صادق نہیں آتی اس لئیے کہ صہیونی رژیم کے مفادات کا تحفظ اس علاقہ میں امریکہ کی اصلی خارجہ پالیسی کا محور و مرکز ہے ۔
جبکہ امریکہ کی داخلی سیاست میں ہم پورے استحکام و یقین کے ساتھ دعوی کر سکتے ہیں کہ امریکہ کی صورت حال تو کچھ یہ ہے کہ امریکہ کی صدارت کے امیدواروں میں کوئی ایک ایسا نہیں ہے چاہیں وہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکراٹ کوئی بھی ایسا نہیں جو صہیونیوں کو خوشنود کئیے بغیر، انکی رضایت کے بغیر، انکی مالی حمایت کے بغیر الیکشن میں کامیابی کے بارے میں سوچ بھی سکے ۔

 

کتاب ’’اسرائیل اور ایٹمی ہتھیار‘‘ کا تعارف

  • ۴۲۱

خیبر صیہون ریسرچ سینٹر: اسرائیل و ایٹمی ہتھیار نامی کتاب اسرائیل کے موجودہ ایٹمی ہتھاروں کے اسلحوں کے انبار کے ساتھ اسکی ایٹمی توانائی کی صلاحیت کے سلسلہ سے لکھی گئی ہے ۔
«آونرکوہن» اس کتاب کے مصنف نے اس کتاب کو امریکہ و اسرائیل کے حکومتی اسناد و ثبوتوں سے استفادہ کرتے ہوئے لکھا ہے جو کہ غالبا آخری ان چند سالوں میں درجہ بندی classification سے خارج ہوئی ہے ۔اس کتاب میں تقریبا سو سے زیادہ ان کلیدی شخصتیوں سے انٹرویو لیا گیا ہے جو ایٹمی اسلحوں سے جڑے ہوئے ہیں ان افراد کے اسرائیل کے ایٹمی اسلحوں کے سلسلہ سے تجزیہ و تبصروں کو کتاب میں پیش کیا گیا ہے ۔
اس کتاب میں «کوهن» نے ایک جامع رپورٹ اس سلسلہ میں پیش کی ہے کہ جس کا نام خود انہوں نے اسرائیل کے غیر واضح ایٹمی نظریات Doctrine کی توسیع و تشکیل رکھا ہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ سے وضاحت کی ہے کہ اسرائیلی سربراہوں نے امریکی اہلکاروں کو دھوکہ دے کر اور انجام کار خود انہیں کے نرم رویہ و تسامح کی بنیاد پر خود کو ایٹمی اسلحوں کے پھیلاو کے معاہدہ سے دور رکھا ہے ، تب سے اب تک تین دہایہاں اس معاہدہ کو گزر چکی ہیں لیکن ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اسرائیل اس معاہدہ سے جڑنے کا کوئی ارادہ و قصد رکھتا ہو۔
اس کتاب کی ۱۷ فصلیں ہیں کنڈی اور اسرائیل کا پروجیکٹ، ڈیمونا کے سلسلہ سے کشمکش ، کنڈی اور اشکول کا معاہدہ ، ۶ دن کی جنگ ، NPT کے سلسلہ سے کشمش و مبھم راہ جیسے عناوین اس کتاب کی بعض فصلوں کو بیان کرر ہے ہیں۔

 

کتاب ‘جاسوس کی تلاش اور اس کا شکار’ کا تعارف

  • ۴۲۶

خیبر صیہون ریسرچ سینٹر: سرد جنگ کا خاتمہ نہیں ہوا محض ایک وقفہ ایجاد ہوا، ایک نئی سرد جنگ جاری ہے جو پچھلی سرد جنگ سے زیادہ پیچیدہ ہے ،مزید بر آن اس میں پروپیگنڈہ، جاسوسی، شکنجہ ، دہشت و ٹرر ، مجازی فضا میں جاسوسی سائبری حملے اور نیابتی جنگ کا بھی اضافہ ہوا ہے۔
اگر ہم مستقبل سے روبرو ہونا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ماضی سے آگاہ ہوں جو تاریخ سے سبق نہیں لے گا وہ تاریخ کو دہرائے گا ، جاسوس کی تلاش و جستجو اور اسکا شکار نامی کتاب برطانیہ کی جاسوسی تنظیم MI5))، کے عالی رتبہ اہلکار پیٹر رایت کے دستاویز و ڈائری پر مشتمل ہے اور یہ ایک وہ ماخذ ہے جو اسرار جنگ کی حقیقت و واقعیت سے بہت نزدیک ہے ۔
اس کتاب کے اہم مباحث میں ایک ایک زبردست جاسوس کی ماھیت کی شناسائی ہے جو پانچویں مرد کے طور پر جانا جاتا ہے اور وافر دلائل و شواہد کی روشنی میں اس کے سلسلہ سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ یہ ایک بیرونی جاسوسی تنظیم کے حساس مرکز میں تھا جسے MI6)) کہا جاتا ہے اس پانچویں آدمی کا کام تھا سویت یونین کے لئیے معلومات و اطلاعات کے ذخیرہ کو بھیجے یہ اپنے اس کام میں ہوشیاری سے اس طرح لگا رہا کہ کبھی بھی کسی جال میں نہ پھنسا پیٹر رایت کے بقول اس نے پانچویں مرد کا تعاقب کر کے اس کی شناخت کر لی ہے اور یہ وہ ہے کہ جس کے سلسلہ سے خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ شخص سویت یونین کا جاسوس تو ہرگز نہ تھا البتہ برطانیہ کی سیاست و اقتصاد پر حکومت کرنے والے صہیونی دہشت گرد مافیا کا برطانیہ کے جاسوسی ادارہ میں نمائندہ تھا ۔
اس کتاب کے پڑھنے والے محترم قاری کو ان عجیب حوادث و دلائل کو پڑھنے کا موقع ملے گا جسے اس کتاب کے مصنف نے ۲۰ سال کی جانفشانی کے بعد اس شخص کے جاسوس ہونے کو ثابت ہونے کے لئیے یکجا کیا ہے ، اور یہ وہ بات ہے جسکے سبب سالہا سال تک یہ کتاب برطانیہ میں ممنوع رہی ایسے ملک میں جہاں آزادی کا دعوی کیا جاتا ہے لیکن عمل کچھ اور کہتا ہے لیکن اب سوال یہ ہے کہ آخر کیا ہوا کہ یہ پانچواں مرد کبھی کسی کے جال میں نہ پھنس سکا اس کا جواب کتاب کو پڑھ کر ہی معلوم ہو سکتا ہے ۔

 

کتاب “امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ” پر اجمالی نظر

  • ۵۵۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کتاب “امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ” (۱) نیویارک کی بنگ ہمٹن یونیورسٹی (۲) کے ممتاز پروفیسر “جیمز پیٹراس” (۳) کی کاوش ہے۔ انھوں نے اب تک ۶۳ کتابیں لکھی ہیں اور ان کے کتب کے تراجم ۲۹ زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔
اس کتاب میں مشرق وسطی کے سلسلے میں امریکی پالیسیوں میں یہودی لابی کے اثر و رسوخ اور تسلط کی تصویر کشی ہوئی ہے۔ مؤلف کا خیال ہے کہ یہودی لابی کے اثر و رسوخ کی جڑیں امریکہ کے نہایت بااثر، طاقتور اور خوشحال ترین خاندانوں کے ساتھ یہودی خاندانوں کے غیر معمولی تعلقات میں پیوست ہیں۔ مزید برآں یہودی لابیوں اور نظرپردازوں نے دباؤ بڑھانے، بلیک میل کرنے اور رائے عامہ کی حمایت اپنی جانب مبذول کروا کر اپنی فکری برتری کو بھی منوا لیا ہے۔
جیمز پیٹراس لکھتے ہیں کہ آج کے معاشروں میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ بحث و مباحثے کی آزادی اور اسرائیلی لابیوں پر علی الاعلان تنقید کے لئے تحریک چلائی جائے۔ ان کا خیال ہے کہ عالمی معاشروں کی خارجہ پالیسیوں کا نئے سرے سے اور زیادہ غور و فکر کے ساتھ، جائزہ لیا جائے۔ اور انھوں نے اپنی کتاب “امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ” کو اسی مقصد سے تالیف کیا ہے۔


 
کتاب “امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ” چار حصوں اور ۱۴ فصلوں پر مشتمل ہے۔ مؤلف ابتدائی حصے کو “امریکہ میں اسرائیل کی طاقت” کے عنوان سے، امریکہ کو عراق کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرنے میں اسرائیل کے حامی امریکی حکام اور یہودی لابیوں کے کردار پر زور دیتے ہیں؛ اور مختلف فصلوں میں بین الاقوامی معاشروں میں امریکہ کی طرف سے جنگوں کے اسباب فراہم کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
دوسرے حصے میں، شکنجے (ٹارچر)، دہشت گردی اور نسل کشی کو امریکہ اور یہودی ریاست کی سلطنت سازی کے عمل کا ناقابل جدائی اجزاء کے طور پر زیر بحث لاتے ہیں۔ اس حصے میں ایک فصل کو غزہ پر اسرائیلیوں کی وحشیانہ یلغار سے مختص کرتے ہیں اور اسے ہولناک بمباریوں کے ذریعے ایک نسل کو فنا کرنے اور ایک علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا نمونہ قرار دیتے ہیں۔
جیمز پیٹراس تیسرے حصے میں نفسیاتی جنگ کے شعبے نیز مزاحمت کی اخلاقی بنیادوں پر بحث کرتے ہیں۔ انھوں نے اس بحث کے ضمن میں “دہشت گردی کے ماہرین” نیز یہودی لابی کے کردار کا بھی جائزہ لیا ہے۔ پیٹراس کی رائے کے مطابق، دہشت گردی کے ماہرین شکنجے (ٹارچر) اور تشدد آمیز اقدامات، اجتماعی اور خودسرانہ گرفتاریوں، پورے عوام اور مختلف معاشروں کو بیک وقت سزا دینے جیسے اقدامات کا جواز فراہم کرنے کے لئے صہونیت اور استکبار کے دشمنوں کو غیر انسانی اوصاف اور خصوصیات کا ملزم ٹہراتے ہیں۔
کتاب کا چوتھا اور آخری حصہ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی استکباری پالیسیوں کی تشکیل اور استعماری منصوبہ سازیوں میں یہودی لابی کی اہمیت اور صہیونی لابیوں سے اس کے رابطوں کے جائزے پر مشتمل ہے؛ اور کتاب کی آخری فصل میں امریکہ کی مشرق وسطائی پالیسیوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ (۴)
حواشی
[۱]POWER OF ISRAEL IN THE UNITED STATES
[۲] Binghamton University
[۳] James Petras
[۴] www.coalitionoftheobvious.com/17112929

یہودیت اور صہیونیزم کی تاریخ پر مشتمل مصوری انسائکلوپیڈیا

  • ۸۸۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کتاب ھذا یہودیت اور صہیونیزم کی ابتداء سے حال تک کی جامع تاریخ پر مشتمل ہے۔ اس کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں تمام مطالب مستند اور عمیق ہونے کے علاوہ نایاب تصویروں کے ساتھ تحریر کئے گئے ہیں جس سے قارئین کو اس کتاب کے مطالب کی نسبت اطمینان حاصل ہونے کے علاوہ اس کے مطالعہ سے دلچسبی بھی ملتی ہے۔ اس کتاب کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں موضوع پر مکمل اور جامع نگاہ کی گئی ہے یعنی مولفین نے یہودیت کی پیدائش سے لے کر عصر حاضر تک کے تمام واقعات و حالات کو تصویروں کے ساتھ اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس کتاب کے پہلے حصے کا نام ’’بنی اسرائیل سے اسرائیل تک‘‘ ہے اس دوران کے یہودیوں سے متعلق تمام باتیں جو آپ جاننا چاہیں کتاب کے اس حصے میں موجود ہیں۔ یہ حصہ حضرت ابراہیم کے دور سے شروع ہوتا ہے اور ۴۵ صفحوں میں یہودیت کی تاریخ کو بیان کرنے کے بعد تیس صفحوں میں یہودیوں کی مقدس کتابوں کے بارے میں بیان کرتا ہے۔
اس کتاب کی دوسری فصل ’’شریعت‘‘ یعنی دین یہود کے بعض احکام جیسے حرام کھانے، غسل، روزہ، صدقہ، نماز، کھانا پکانے کی ترکیبیں، یہودی اور ان کا خون، نجاست سے آلودہ افراد کو دور کرنا وغیرہ وغیرہ پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد کی فصل میں آداب و رسوم کا تذکرہ ہے۔ عیدوں کی قسمیں، پہلے بیٹے کا معبد کو ہدیہ کرنا، شادی بیاہ کی رسومات، دعاؤوں کی قسمیں وغیرہ۔۔۔ یہودیوں کی یہ وہ رسومات ہیں جن کے بارے میں جاننا انسان کے لئے دلچسبی رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم نے کئی مرتبہ فلموں میں یہودیوں کو دیوار کی طرف مڑ کر دعا کرتے دیکھا ہے لیکن کیوں اور کیسے سے ہمیں خبر نہیں۔
اس کتاب کی اگلی فصل عرفان سے متعلق ہے عرفان کی قسموں مخصوصا ’’کابالا‘‘ کو مستند طریقے سے تصویروں کے ہمراہ مورد بحث قرار دیا گیا ہے۔ یہودی فرقوں، بین الاقوامی سطح پر یہودیوں کا سیاسی اور اقتصادی نفوذ بھی پہلے حصے کی آخری فصلوں میں شامل ہے۔


کتاب ھذا کا دوسرا حصہ صہیونی رژیم کی تاریخ اور بناوٹ کا عنوان رکھتا ہے۔ سیاسی نظام، اقتصادی نظام، تعلیمی نظام، عسکری اور سکیورٹی نظام اور یہودیوں کی اہم شخصیات اس حصے کی فصلوں میں شامل ہیں۔ ان فصلوں کے مطالعہ سے اسرائیل کے پوشیدہ پیچ و خم اور اس کی بناوٹ کے بارے میں عجیب و غریب معلومات انسان کو ملتی ہیں۔ خاص طور پر جب آپ تعلیمی نظام کا مطالعہ کرتے ہیں تو صہیونی رژیم کے اسکولوں میں بچوں کو کس چیز کی تعلیم دی جانا چاہئے اور انہیں کیسے تربیت کیا جانا چاہیے اس کے بارے میں جان کر آپ کو بہت حیرانگی ہو گی۔
اس کتاب کا آخری حصہ ’’ایران اور صہیونیزم‘‘ کے بارے میں ہے اور اس کی آخری فصل ہولوکاسٹ پر ختم ہوتی ہے۔