صہیونی سینما میں عربوں کی شمولیت

  • ۱۶۴


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، قدس کی غاصب صہیونی ریاست نے اسرائیل، فلسطین اور دیگر عرب ریاستوں کے درمیان مشترکہ ثقافتی سرگرمیاں انجام دینے کی غرض سے حالیہ مہینوں اسرائیل سینما و ٹی وی اکیڈمی کی بنیاد ڈالی ہے جس کے ذریعے اسرائیل اپنی فلموں کو فلسطین اور دیگر عرب ریاستوں میں عام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل اس منصوبے کے تحت عرب فلمی ڈائریکٹروں کو اپنی طرف جذب کر رہا ہے تاکہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے باہمی تعاون سے ایسی فلمیں بنائی جائیں جن میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے آپسی رہن سہن اور مشترکہ زندگی کی منظر کشی کی جائے اور دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی جائے کہ فلسطین اور اسرائیل میں جنگ صرف سیاسی جنگ ہے اور عوام سب مل جل کر زندگی گزار رہے ہیں۔
صہیونیوں نے حالیہ سالوں عرب فلمی ڈائریکٹروں کی مدد سے عربوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور عر ریاستوں میں صہیونیت مخالف فلموں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف پیدا ہونے والی معاندانہ فضا کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیل سینما کی دنیا میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کر کے عرب فلمی ڈائریکٹروں کے ذریعے ہولوکاسٹ کے موضوع کو عام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

برطانوی سفیر کے فاش شدہ برقی مکتوب اور امریکی حکومت کا اندرونی انتشار

  • ۱۵۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: برطانوی سفیر کے برقی مکتوبات کے لیک ہو جانے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سرمایہ کے بل پر کبھی بھی اپنی خامیوں کو دنیا میں نہیں چھپایا جا سکتا ہے، حقیقت تو عیاں ہو کر ہی رہے گے عین ممکن ہے کہ برطانوی سفیرکی طرح دیگر ممالک کے سفیروں نے بھی اپنے اپنے ممالک اسی قسم کی رپورٹیں بھیجیں ہوں اور اپن سر زمینوں کے حکام کو آگاہ کیا ہو کہ آپ کا ملکی مفاد اس بات میں نہیں ہے کہ آپ دنیا کی سب سے طاقت ور کہی جانے والی حکومت کے ہر فیصلہ کو یہ سوچ کر تسلیم کر لیں کہ یہ اس ملک کی پالیسی کا حصہ ہے، اور اسی کی روشنی میں آپ اپنی عالمی پالیسی کے خطوط کو ترسیم کریں، ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں موجودہ حکومت میں پالسیاں جذبات و احساسات کے تحت بن رہی ہیں انکا حقیقتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ،چنانچہ سب سے بڑی بات آپ یہاں کے سربراہ کے کسی بھی ٹوئیٹ کو پڑھ کر یہ ہرگز نہ سوچیں کہ یہ کسی حقیقت کی عکاس ہے بلکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر جانے والے ملک کی حالت یہ ہے کچھ نابخرد اندیشوں نے اسکی مقتدرہ کو بالکل نا اہل بنا دیا ہے ۔
ممکن ہے ایسے اندیشوں کا اظہار دیگر ممالک کے سفیروں نے بھی اپنے ممالک بھیجے جانے والی رپورٹس میں کیا ہو لیکن فی الحال تو برطانوی سفیر کا معاملہ ہی میڈیا کی کرم نوازیوں سے سامنے آیا ہے جو اپنے آپ میں برطانیہ و امریکہ کے ما بین دیرینہ تعلقات کے پیش نظر قابل تامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ مسلسل  جہاں واشنگٹن میں برطانوی سفیر کی لیک ہونے والی ای میلز کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ وہیں امریکی صدر جمہوریہ ٹرنپ نے برطانوی سفیر کےساتھ  اشاروں اشاروں میں واسطہ نہ[۱] رکھنے کی بات کر کے فاش ہونے والے ایملز کے مندرجات کی سچائی پر مہر لگا دی ہے اور اس بات کا ثبوت فراہم کر دیا ہے جو باتیں برطانوی سفیر نے اپنے میل میں کی ہیں [۲]، ان کی سچائی کو جاننے کے لئے کسی تحقیق کی ضرورت نہیں خود میرا رویہ ہی ان کی سچائی پر دلیل ہے جو بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ فاش شدہ ایملیز میں بیان کیا گیا ہے۔
ادھر ان ایملیز کے سامنے آنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان بڑا محتاط رد عمل سامنے آ رہا ہے اور جہاں ایک طرف ایمیلز کے فاش ہونے میں شامل ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی بات ہو رہی ہے وہیں برطانوی حکومت بہت ہی احتیاط کے ساتھ اپنے سفیر کا دفاع بھی کرتی نظر آ رہی ہے چنانچہ  جہاں برطانیہ میں خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین ٹام ٹوگن ہاٹ نے کہا ہے کہ ان مراسلوں کا افشا ہونا ’بہت ہی سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
وہیں کنزرویٹو ممبر پارلیمان ٹام ٹوگن ہاٹ نے بھی  اس معاملے میں تحقیقات کے مطالبہ کے ساتھ  سر کِم کا دفاع  کیا۔ حتی کہا جا رہا ہے جو کچھ بھی برطانوی سفیر نے کیا وہ اعلی کمان کی زیر نگرانی اور انکے اشاروں پر کیا ہے یاد رہے کہ واشنگٹن میں برطانوی سفیر سر کِم ڈارک کی لیک ہونے والی ایم میلز میں ٹرمپ انتظامیہ کو ‘ناکارہ’، ’غیر محفوظ‘ اور ’نااہل‘ کہا گیا ہے[۳]۔ ساتھ ہی ساتھ  برطانوی سفیر نے اس بات کو بھی کھلے الفاظ میں بیان کر دیا ہے کہ برطانوی سفیر کا کام ’امریکہ کے احساسات کی نہیں بلکہ برطانوی شہریوں کے مفادات اور خواہشات کی ترجمانی کرنا ہے‘۔ انہوں نے بہت ہی واضح الفاظ میں کئی حقیقتوں کو بیان کیا ہے برطانوی سفیر سر کِم ڈارک نے جہاں کہا کہ  صدر ٹرمپ کی قیادت میں وائٹ ہاؤس ’ناکارہ‘ اور ‘منقسم’ ہے۔[۴]
سر کِم نے ان ایملیز میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جون میں برطانیہ کے اپنے سرکاری دورے کے دوران ‘چکا چوند‘ میں کھو گئے تھے۔ برطانوی سفیر نے کہا کہ صدر کے دماغ میں بات ڈالنے کے لیے آپ کو اپنے نکات کو آسان و سادہ زبان  یہاں تک کہ دو ٹوک انداز میں پیش کرنا ہو گا۔ ان ایملیز کی ایک خاص بات گزشتہ مہینہ صدر ٹرنپ کی جانب سے ایک کی جانب سے امریکن ڈرون مار گرائے جانے کے بعد جوابی کاروائی کے سلسلہ سے حکم کے دئیے جانے اور کاروائی سے ۱۰ منٹ پہلے مشن کو روک دینے پر بھی اظہار خیال کیا گیا ہے  چنانچہ سر کم نے ایران سے متعلق امریکی پالیسی کو ‘غیر مربوط اور خلفشار کا شکار’ قرار دیتے ہوئے ۔کہا  ہے کہ ٹرمپ کا تہران پر حملے کو دس منٹ پہلے یہ کہہ کر روک دینا کہ اس میں صرف ۱۵۰ افراد مارے جائیں گے ’سمجھ سے بالاتر ہے۔’انھوں نے کہا کہ صدر کبھی بھی ’پوری طرح اس کے حق میں نہیں تھے‘ اور وہ امریکہ کے بیرونی جھگڑوں میں شامل نہ ہونے کے اپنی انتخابی مہم کے وعدے کے خلاف نہیں جانا چاہتے تھے۔سر کِم نے کہا کہ ‘ایران پر امریکی پالیسی کا مستقبل قریب میں کبھی بھی مربوط ہونے کا امکان نہیں ہے کیونکہ ‘یہ بہت ہی منقسم انتظامیہ ہے۔[۵]’ برطانوی سفیر کی جانب سے  لیک ہونے والی فائل سنہ ۲۰۱۷ سے حال کے واقعات کے ذکر پر مشتمل ہے جس میں سفیر کے ابتدائی خیالات شامل ہیں کہ میڈیا وائٹ ہاؤس میں جو ‘شدید باہمی رسہ کشی اور انتشار'[۶] کی بات کہتا ہے وہ ‘زیادہ تر درست ہے۔’اس میں ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روس کے ساتھ سازباز کے جو الزامات ہیں ان پر بھی تجزیہ ہے کرتے ہوئے انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا ہے کہ  ’’بدترین امکانات کو خارج نہیں کیا جا سکتا‘‘.
جہاں ان ایمیلز کے سامنے آنے کے بعد برطانیہ اور امریکہ کے ما بین تعلقات میں دراڑ پڑ سکتی ہے وہیں برطانوی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ سفیر سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ وزیروں کو اپنی تعیناتی کے ملک کی سیاست سے متعلق ‘ایماندارانہ اور بے لاگ تبصرہ’ فراہم کرے۔ انھوں نے کہا ‘ان کے خیالات ضروری نہیں کہ وزیروں کے بھی خیالات ہوں یا پھر حکومت کے خیالات ہوں۔ لیکن انھیں صاف گوئی ہی کی تنخواہ دی جاتی ہے۔ ‘انھوں نے کہا کہ وزرا اور سرکاری ملازمین ان مشوروں کو ‘درست انداز سے’ دیکھتے ہیں اور سفیروں کی رازداری برقرار رکھی جانی چاہئے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں برطانوی سفارتخانے کے وائٹ ہاؤس سے ‘ تعلقات مضبوط’ ہیں اور ان مراسلوں کے افشا جیسی شرارت کے باوجود یہ رشتے قائم رہیں گے۔ برطانوی اور امریکی تعلقات کی مضبوطی کی دہائی پیشتر امریکن صدر ٹرانپ بھی دے چکے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس مخالفت کا سامنا انہیں اپنے برطانیہ کے سفر میں کرنا پڑا یقینا وہ ٹرنب کے لئے ناقابل فراموش ہوگا چنانچہ ٹرمپ کے لندن پہنچنے کے موقع پر بڑے پیمانے پر احتجاج ہونے کی خبریں میڈیا میں گشت کر رہی تھیں ٹرنپ کے اس سفر کے دوران لوگوں نے یہ  منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لندن کے  لوگوں نے ایک بہت بڑا غبارہ ہوا میں چھوڑا ہوا تھا جس میں صدر ٹرمپ کو ایک بچے کی شکل میں دکھایا گیا تھا۔ علاوہ از ایں ٹرمپ کے خلاف پارلیمنٹ اسکوائر کے علاوہ لندن کے کئی دوسرے مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہو ئے تھے اورلندن  کے میئر صادق خان نے بھی ان پر کڑی تنقید کی تھی  جبکہ ٹرنپ نے کہا تھا کہ صادق خان نے انتہائی خراب کارکردگی دکھائی ہے۔[۷] یہ ساری نوک جھونک اور  ٹرنپ کے لند ن سفر کا حال یہ بتا رہا ہے کہ برطانونی حکام کچھ بھی کہیں لیکن اب برطانیہ کی رائے عامہ اس حق میں نہیں ہے کہ بے چوں و چرا  امریکی منتظمہ کی ہر بات کو مان لیا جائے  اور دھیرے دھیرے  دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے   فاش شدہ ایمیلز  برطانوی فیصلہ سازوں کے لئے آگے کی حکمت بنانے میں یقینا مدد گار ثابت ہونگے  اور نہ صرف انکے لئے بلکہ ان تمام ہی ممالک کے لئے جو  بغیر سوچے سمجھے امریکی منتظمہ کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائے چلے جا رہے ہیں اور انہیں یہ نہیں معلوم اسکا انجام کیا ہوگا چنانچہ  ان ایملیز نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انتہائی راز دار ملک کے سفیر جب امریکی انتظامیہ  کو قابل اعتماد نہ جانتے ہوئے ناکارہ و انتشار کے حامل ملک کے طور پر دیکھ رہے ہیں تو دوسروں کے اعتماد کی تو بات ہی کیا ہے خاص کر اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد امریکی انتظامیہ جس کشمکش کا شکار رہی ہے وہ کسی بھی صاحب فکر سے پوشیدہ نہیں ہے، لوگوں نے  یہ ضرب المثل پہلے تو محض سنی ہی تھی کہ کھسیانی بلی کھما نوچے لیکن  اب امریکہ  کے صدر کی عجیب و غریب حرکتوں کے پس منظر میں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کھسیانی بلی کس طرح  اتنی بے بس ہے کہ اب کھمبا نوچنے تک کے لائق نہیں ہے اور بس کھنبے کے ارد گرد ٹہلے چلی جا رہی ہے ۔
ہر دن امریکی صدر کے ٹوئیٹر ہینڈل سے جو ٹوئیٹ سامنے آ رہا ہے وہ  اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ جو کچھ بھی برطانوی سفیر نے کہا ہے بالکل سچ ہے  امریکی انتظامیہ مکمل  انتشار و رسہ کشی کی شکار ہے  اور اسکی خارجہ پالیسی خاص کر اسلامی جمہوریہ ایران کو لیکر اسکا مطمع نظر یہ بیان کرنے کے لئے کافی ہیں کہ اگلے ڈیرھ سال بعد وہائٹ ہاوس میں شاید کوئی اور ہو جو ٹوئیٹر ہینڈل سے ان سارے ٹوئیٹس کو ڈلیٹ کر کے نئے ٹوئیٹس کرنا شروع کرے اور یہ واضح کرے کہ ’’جو اب تک ہم کر رہے تھے وہ غلط تھا  ہم خود بھی انتشار کا شکار رہے اور ہم نے دنیا کو بھی منتشر رکھا اب یہ انتشار مزید قابل برداشت نہیں‘‘ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[۱] https://www.bbc.com/hindi/international-48916582
[۲] ۔ https://www.theatlantic.com/international/…/britain-has…trump…ambassador/593545/
https://www.politico.com/story/2019/07/…/british-ambassador-donald-trump-1404601
https://www.nbcnews.com/…/trump-s-spat-u-k-ambassador-shows-he-still-doesn-ncna.
https://www.theguardian.com/…/donald-trump-we-will-no-longer-deal-with-the-britis
https://www.vox.com/2019/7/8/…/trump-darroch-uk-ambassador-leaked-cables-tweet
[۳] https://www.bbc.com/news/uk-48898231
[۴] https://www.theguardian.com/us-news/2019/jul/07/donald-trump-inept-and-dysfunctional-uk-ambassador-to-us-says
[۵] “unlikely that US policy on Iran is going to become more coherent any time soon” because “this is a divided administration”.،https://www.bbc.com/urdu/world-48898681
[۶] ۔https://www.huffpost.com/entry/british-ambassador-leaked-memo-inept-trump_n_5d212ed0e4b01b834737dbfe
[۷] ۔https://www.bbc.com/urdu/world-44823387
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صدی کی ڈیل سیاسی نہیں شیطانی منصوبہ ہے: رحمان دوست

  • ۲۲۰

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے نامہ نگار نے “دفاعی کمیٹی برائے ملت فلسطین” کے سیکرٹری جنرل اور محقق استاد “مجتبیٰ رحمان دوست” سے صدی کی ڈیل کے موضوع پر ایک خصوصی گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
خیبر: صدی کی ڈیل کے منصوبے اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے پیش کئے گئے دیگر منصوبوں میں اہم ترین فرق کیا ہے؟
۔ سب سے پہلے اس بات پر توجہ کرنا چاہیے کہ ‘صدی کی ڈیل’ کا نام بہت ہی چالاکی اور ہوشیاری سے انتخاب کیا گیا ہے۔ در حقیقت یہ منصوبہ ایسا منصوبہ ہے جو ممکن ہے موجودہ صدی کا سب سے بڑا منصوبہ ہو۔ چنانچہ اگر یہ منصوبہ من و عن نافذ ہو جاتا ہے تو یقینا تمام مذاکرات، تمام قراردادوں اور دیگر سیاسی واقعات کو متاثر کر دے گا۔
دوسرا اہم نکتہ صدی کی ڈیل کے بارے میں یہ ہے کہ یہ منصوبہ اس شخص کی شخصیت کے ساتھ بھی گہرا رابطہ رکھتا ہے جس نے یہ منصوبہ پیش کیا ہے یعنی ٹرمپ کی شخصیت سیاسی مسائل سے زیادہ ایک تجارتی شخصیت ہے اور صدی کی ڈیل کا زیادہ تر تعلق سیاست کے بجائے اقتصاد اور معیشت سے ہے۔
اہم ترین چیز اس منصوبے میں یہ ہے کہ اگر یہ عملی جامہ پہن لیتا ہے تو فلسطینیوں کا حق واپسی بطور کلی منتفی ہو جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی نسبت نگاہ کچھ یوں ہے کہ وہ افراد جو اصالتا فلسطینی ہیں لیکن فلسطینی سرزمین سے باہر دنیا میں آئے ہیں وہ فلسطینی پناہ گزیں شمار نہیں ہوتے۔ اس نظریے کے تحت اس بات کے پیش نظر کہ فلسطین ۷۰ سال قبل صہیونیوں کے زیر قبضہ واقع ہوا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کی نظر میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد بہت کم اور انگشت شمار ہے۔
کلی طور پر فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ صہیونی ریاست اور امریکہ کے نزدیک بہت اہم مسئلہ ہے۔ اور اسرائیل و امریکہ ہمیشہ اس کوشش میں رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے پناہ گزینوں کے مسئلہ کا حل نکال کر حق واپسی پر خط بطلان کھینج دیں۔ “اسلو” معاہدے کے بعد تمام مذاکرات میں اسرائیل کبھی بھی حاضر نہیں ہوا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے کسی ایک شق کو قبول کرے۔
خیبر: صدی کی ڈیل کے مضمون کو چھپائے رکھنے میں امریکہ کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟
۔ اس معاملے اور منصوبے کے شیطانی ہونے کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ ابھی تک امریکہ اور اسرائیل نے اس منصوبے کے مضمون کو مکمل طور پر شائع نہیں کیا۔ اور ابھی تک جو چیزیں اس کے حوالے سے سامنے آئیں ہیں وہ ظن و گمان پر مبنی ہیں۔
امریکہ اور صہیونی ریاست کو چاہیے کہ پہلے اس کے مضمون کا اعلان کریں اور اس کے بعد دنیا کے اہل نظر اس پر نقد و تنقید کریں اس کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کریں۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں اور اس کے مضمون کو خفیہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور تحریک مزاحمت کی پالیسی بالکل اس معاملے کے خلاف ہے اور وہ اس بات کا انتظار نہیں کریں گے کہ امریکہ اس کے جزئیات سے ہمیں آگاہ کرے تو ہم کوئی اقدام کریں اور اپنا موقف اختیار کریں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کا صدی کی ڈیل کے حوالے سے موقع بہت دقیق اور اصول پسند ہے۔ اس لیے کہ کوئی بھی منصوبہ جو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے امریکہ اور صہیونیوں کے ذریعے تیار کیا جائے گا وہ فطرتا اسرائیل کے فائدے میں ہو گا اور اس میں فلسطین کے مظلوم عوام کے لئے کسی حق کو پیش نظر نہیں رکھا ہو گا۔ لہذا ایران اور مزاحمتی تحریک نے اس کے اعلان سے قبل ہی رسمی طور پر اس کی مخالفت کا اظہار کیا ہے اور اس کے خلاف موقف اپنایا ہے۔
خیبر: کچھ جزئیات جو سامنے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبے کے بانی فلسطینی عوام کو اردن منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اردن کی حکومت اس کام کے لیے رضامند ہو گی؟
۔ بہت سارے اردنی اصل میں فلسطینی ہیں اور اگر غزہ اور فلسطین کے عوام کو اردن میں منتقل کر دیا جائے تو بظاہر عوام کی جانب سے کوئی مخالفت سامنے نہیں آئے گی۔ اردن کی حکومت اس بات کے مخالف ہے۔ اس لیے کہ اگر فلسطینیوں کو اردن منتقل کر دیا جائے گا تو اردن میں اکثریت فلسطینیوں کی ہو جائے گی اور فطرتا آبادی کے اعتبار سے اردن فلسطین بن جائے گا۔
خیبر: صدی کی ڈیل کے انجام کو آپ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟
۔ صدی کی ڈیل کے حوالے سے تاحال شائع ہونے والی جزئیات قطعی طور پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہیں اور انسانی فطرت اور حب وطن جیسے مفاہیم سے منافات رکھتی ہیں اس کے علاوہ اس منصوبہ کے ذریعے فلسطینی ہویت کو مٹایا جا رہا ہے۔
لہذا ان تمام باتوں کے پیش نظر صدی کی ڈیل قابل نفاذ منصوبہ نہیں ہے البتہ دشمنان فلسطین اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کر رہے ہیں۔ لیکن انشاء اللہ تحریک مزاحمت کی جد و جہد اس شیطانی منصوبے کو ناکام بنا کر رکھ دے گی۔

 

پاکستان میں صہیونیت مخالف جذبات اور ان کا مقابلہ کرنے کی استعماری کوشش (حصہ سوئم)

  • ۲۶۷

بقلم: ڈاکٹر محسن محمدی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی



حصۂ اول کا خلاصہ
فلسطین اور قبلۂ اول کے قبضے پر سب سے پہلا رد عمل ہندوستانی مسلمانوں نے دکھایا اور انھوں نے ۱۹۲۰ع‍ کی دہائی کی تحریک خلافت کو فلسطینی کاز کے لئے وقف کیا۔ سب سے پہلی عمومی اسلامی کانفرنس مولانا محمد علی جوہر سمیت برصغیر کے مسلم راہنماؤں کے زیر اہتمام اور فلسطین کے مفتی الحاج امین الحسینی کے تعاون سے بیت المقدس میں منعقد ہوئی جہاں کانفرنس کے شرکاء کی نماز جماعت کی امامت عراق کے عظیم مصلح علامہ محمد حسین کاشف الغطاء نے کی اور نماز کے بعد مسلم مندوبین اور فلسطینی نمازیوں کو اپنا تاریخی خطبہ دیا۔ پاکستان اپنی تاسیس کے فورا بعد یہودی ریاست کی مخالفت اور فلسطینی کاز کی حمایت کے اظہار کا عالمی مرکز بنا اور یہاں کے مسلم راہنماؤں نے فلسطینی کاز کی زبردست وکالت کی اور اسلامی کانفرنس الحاج امین الحسینی کی سربراہی میں اس نو زائیدہ مسلم ملک کے دارالحکومت کراچی میں منعقد ہوئی۔ پاکستان نے اپنی تاسیس کے پہلے سال سے اقوام متحدہ میں بھی فلسطینیوں کی حمایت کی اور پاکستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے یہودی ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
حصۂ دوئم کا خلاصہ
استعمار کی طرف سے صہیونیت مخالف نظریات کا خاتمہ فطری امر ہے ۔۔۔ اسرائیل کا قیام، قیام پاکستان کے قیام کے ایک سال بعد میں لایا گیا۔ پاکستان صہیونیت مخالف نظریات کے مرکز ہونے کے ناطے اسرائیلیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی کے مترادف تھا چنانچہ یہاں استعمار اور صہیونیت نے اپنی شیطانی سازشوں کا آغاز کیا۔ ہند اور پاکستان کے درمیان اختلافات کو ہوا دی اور اسرائیلی سیاسی اور مذہبی راہنماؤں نے پاکستان کے ایٹمی منصوبے کو اپنے لئے خطرہ قرار دیا اور صہیونیت مخالف ہندوستانی شخصیات کے قتل کی کامیاب سازشیں کیں۔
حصۂ سوئم
۵۔ دشمن شناسی میں انحراف
استعمار کا مقابلہ اور اس کے خلاف جدوجہد کے سلسلے میں بر صغیر کا تجربہ باعث بنا کہ مسلمانوں کے درمیان استعمار مخالف جذبات بہت گہرے اور طاقتور ہو جائیں۔ چنانچہ بر صغیر کی سیاسی فقہ کے اہم ترین مفاہیم و تصورات میں ایک “جہاد” کا تصور ہے جو استعمار کے خلاف جدوجہد کے ضمن میں ـ عسکری لحاظ سے بھی اور سیاسی لحاظ سے بھی ـ نمایاں رہا۔ جو افسوسناک واقعہ پاکستان میں رونما ہوا، یہ تھا کہ پاکستانیوں کا استعمار مخالف جذبہ اپنے راستے سے منحرف ہوا؛ جس کے بموجب یہ توانائی اور یہ مقدس قوت استعمار کے خلاف جدوجہد میں صرف ہونے کے بجائے، عالم اسلام کے اندر صرف ہوئی۔
افغان جنگ اس مسئلے کا آغاز ثابت ہوئی کہ پاکستانی مسلمان جو جذبات اور جو قوت اس سے قبل انگریزی استعمار کے خلاف بروئے کار لاتے رہے تھے، ان ہی جذبات سے انھوں نے افغان مسلمانوں کے ساتھ مل کر سوویت اتحاد کی جارحیت کے خلاف بھی استفادہ کیا۔ یہ پرانا تجربہ ابتدائی قدم میں کامیاب رہا اور افغانستان سے سوویت روس کے نکال باہر کرنے پر منتج ہوا لیکن دوسرے قدم میں یہ عظیم استعداد و صلاحیت ـ مغرب کی سازش اور مداخلت کی وجہ سے ـ دشمن کی شناخت میں انحراف سے دوچار ہوئی۔ اسی سازش کی وجہ سے پاکستان تکفیری جماعتوں کے سب سے بڑے اڈے میں تبدیل ہوا اور یوں استعمار مخالف اور حقیقی اسلام پسندانہ جذبات کے تاریخی دھارے کا رخ ـ مغرب اور تسلط پسند عالمی استعماری نظام کو نشانہ بنانے کے بجائے اسلامی مکاتب فکر، منجملہ شیعہ ـ کی طرف تبدیل کردیا گیا اور آج صورت حال یہ ہے کہ پاکستان ان اہم ترین مراکز میں سے ہے جہاں سے شیعہ مخالف تشدد کی رپورٹیں آرہی ہیں۔
سیاسی اتحاد و ہمآہنگی کے اہم ترین اصولوں میں سے ایک “مشترکہ دشمن” ہے۔ امت مسلمہ کو اپنے طویل المدت اہداف کے حصول کے لئے اتحاد، یکجہتی اور ہمآہنگی کی ضرورت ہے۔ اس راستے میں تمام تر قومی، قبائلی اور نسلی رجحانات کو ترک کرنا چاہئے اور اسلام کو اپنی عالمی اسلامی تحریکوں کا محور بنانا چاہئے۔ عالم اسلام کے اندرونی محاذ کی یکجہتی اور اتحاد کا سبب بننے والا ایک عنصر “مشترکہ دشمن” ہے۔ مشترکہ دشمن اندرونی یکجہتی اور اندرونی مجموعے [یعنی عالم اسلام] کو تشخص دینے اور اس راہ میں ثابت قدم رہنے اور کوشش کرنے اور اسلامی امت کے مشترکہ سفر کے احساس کا موجب بنتا ہے؛ کیونکہ تشخص کا ایک حصہ متضاد قوتوں کی موجودگی کی وجہ سے با معنی بن جاتا ہے۔ ہمارے تشخص کا ایک حصہ اس سوال کے جواب کا مرہون منت ہے کہ “ہم کون نہیں ہیں؟”۔ چنانچہ ہویت کا اصول ہمیشہ تضاد کے اصول کا لازمہ ہے۔ ([۱])
ابن خلدون کا کہنا ہے کہ مشترکہ دشمن کی موجودگی قرابتوں، اور قبیلے یا قوم کی یکجہتیوں، عصبیتوں اور قیام و دوام کا سبب ہے۔ ([۲])
جب ایک چیز کو “دشمن” کا عنوان دیا گیا، تو اس کی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر دشمن کی ایک کارکردگی “خطرہ اور دھمکی” ہے۔ “دھمکی” ایک سماجی عمل اور فعل ہے جو کبھی ایک روش اور طرز عمل میں اور کبھی کچھ الفاظ کے سانچے میں نمایاں ہوجاتا ہے۔ دھمکی لازمی طور پر عملی جامہ نہیں پہنا کرتی بلکہ دھمکی دینے والا چاہتا ہے کہ اس شخص [یا فریق] پر “تسلط” پائے جس کو دھمکی دی جاتی ہے اور “تسلط” دھمکی دینے والے کے استعماری مقاصد کے حصول کے لئے ہوتا ہے۔ دھمکی کے مقابل فریق کی طرف سے رد عمل کا امکان پایا جاتا ہے جو “مزاحمت” اور دھمکی دینے والی کے مطالبے کے سامنے عدم تسلیم و عدم قبولیت پر منتج ہوسکتا ہے۔ ([۳])
دھمکی کا عمل جس کا سرچشمہ ایک “غیر” کی طرف سے ہے، دھمکی دینے والے فریق میں ایک مجموعی تشخص، یکجہتی، اور نتیجتاً معاشرے میں  “مزاحمت” کے عنصر کے جنم لینے کا سبب بنتا ہے۔ اہم نکتہ یہاں یہ ہے کہ “مزاحمت استقامت کا سبب بنتی ہے”۔ ([۴]) یعنی “مزاحمتی قوتوں” کی کامیابیوں کے علائم اور نشانیوں کو دیکھ کر ان لوگوں کی طاقت و استعداد میں اضافہ ہوتا ہے جو دھمکیوں کے نتیجے میں مزاحمت ترک کرچکے ہیں اور سر تسلیم خم کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں مزاحمت جاری رہے گی تو مزاحمتی دھارے کی طاقت اور صلاحیت کو بڑھا دیتی ہے اور دھمکی آمیز قوتوں کی صلاحیتوں کو گھٹا دیتی ہے۔ بالفاظ دیگر “وقت” مزاحمت اور دھمکی کے درمیان رابطے میں، دھمکی اور خطرے کی شدت کو کم اور مزاحمت کی قوت میں اضافے کا سبب ہے۔ چنانچہ “حالات” کا عنصر مزاحمتی دھارے کے حق میں پلٹے گا اور یوں “مزاحمت” کا دھارا “تسلط” کے دھارے پر غلبہ پائے گا۔ ([۵])
عصر حاضر میں بھی بہت سی بین الاقوامی اور تہذیبی صف آرائیاں اسی تناظر میں قابل تشریح ہیں؛ جیسے سرد جنگ کے دوران طاقت کی دوڑ، نیز اس دور کے بعد مغرب کی طرف سے اسلامو فوبیا کا منصوبہ۔ ([۶]) چنانچہ امریکہ جن صلاحیتوں اور طاقت کو سوویت اتحاد کے خلاف بروئے کار لا رہا تھا، اس کا رخ عالم اسلام کی طرف ہوا۔ البتہ یہ خطرہ اگر مسلمانوں کو مشترکہ تشخص اور مشترکہ عزم کی طرف لے جائے تو اس کا کردار وحدت آفریں ہوگا اور [اس خطرے ([۷])] کو ایک فرصت ([۸]) میں تبدیل کرے گا۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ دشمنان اسلام کی استعماری سرگرمیوں کی وجہ سے، مسلم ممالک اپنی سلامتی کے لئے بیرونی دشمنوں سے کم اور دوسرے مسلم ممالک کی طرف سے زیادہ خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ ([۹])
بدقسمتی سے، عالم اسلام اپنے دشمنوں اور اپنے حقیقی رقیبوں کی پہچان کے حوالے سے تقلیب و تغیّر سے دوچار ہو گیا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر “طاقت کا تجزیہ” ثابت کرتا ہے کہ عالم اسلام کو “تسلط پسند لبرل جمہوریت کی ثقافت” نامی ایک بڑے مشترکہ دشمن کا سامنا ہے لیکن بعض مسلم ممالک حقیقی دشمن سے چشم پوشی کرکے عالم اسلام کے اندر اپنے لئے دشمن تلاش کررہے ہیں۔ اس تزویری خطا کا نتیجہ عالم اسلام میں تضادات اور انتشار اور عالم اسلام پر دشمن کے تسلط کی ترغیب کی صورت میں برآمد ہورہا ہے؛ جس کی اہم ترین مثالوں میں سے ایک اسلامو فوبیا کی الٹی تصویر ہے جو امریکہ عالم اسلام کے اندر سرگرم تکفیری ٹولوں کی مدد سے دنیا کو پیش کررہا ہے تا کہ اسلامی ممالک میں اپنی ناجائز موجودگی اور اثر و رسوخ کا جواز فراہم کرسکے۔ ([۱۰])
قرآن مجید ـ جو تمام مسلمانوں کا مشترکہ اور سب سے اہم اور بنیادی ماخذ و منبع سمجھا جاتا ہے ـ یہود کو اہل ایمان کا شدید ترین اور اصلی دشمن قرار دیتا ہے اور آج یہود کا اصلی ترین جلوہ صہیونی/یہودی ریاست کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس ریاست کو اپنا مشترکہ دشمن سمجھیں اور اس کے مد مقابل فلسطینی کاز کو اپنا نصب العین قرار دیں۔ لیکن انتہاپسند تکفیری دھارے نے عالم اسلام کے ایک تزویری تقابل میں تزویری انحراف پیدا کیا ہے۔
اس نامطلوب صورت حال میں تکفیری ٹولوں کے کرتوتوں نے بحران میں شدت آنے اور عالم اسلام میں انتشار اور تضادات کے فروغ کے اسباب فراہم کئے ہیں۔ اسلامی جماعتوں کے ساتھ تکفیری دھارے کے معاندانہ رویے نے اسلامی جماعتوں کے اتحاد و یکجہتی کا سبب بننے والے “مشترکہ دشمن” کے نظریئے کو نابود کردیا ہے اور اس کے بموجب دوست اور دشمن کی جگہ تبدیل ہوگئی ہے۔ تکفیری سوچ نے بہت سوں کو اسلامی معاشرے سے نکال باہر کیا ہے اور عالم اسلام میں معاندانہ صف بندیوں کو جنم دیا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمین اصلی اور حقیقی دشمن سے غافل ہوچکے ہیں اور دوسرے مسلمانوں اور مسلم جماعتوں اور گروہوں کو دشمن سمجھنے لگے ہیں۔
نظریۂ تکفیر کا اہم ترین نظریہ پرداز “عبدالسلام فَرَج” “قریبی دشمنوں” (یعنی اسلامی ممالک کے حکمرانوں) کے خلاف جدوجہد کو “دور کے دشمنوں” (یعنی غیر مسلم ممالک کے حکمرانوں) کے خلاف جدوجہد پر ترجیح دیتا ہے۔ ([۱۱]) اس تصور یا نظریئے کی بنیاد پر جہاد دفاعی حالت سے جارحانہ حالت میں تبدیل ہوا اور کفار کے بجائے مسلمین ـ جن کو اسلام سے خارج کردیا گیا تھا ـ قتل عام کا نشانہ بنے اور بےشمار شیعہ اور سنی مسلمان اس طوفان بدتمیزی کا شکار ہوئے۔ یہاں تک کہ سلفی شیوخ اور مفتیوں نے شیعیان اہل بیت سمیت اکثریتی مسلمانوں کے کفر کا فتویٰ دینے کے بعد ان کے مقابلے میں “جہادیوں” کو مدد پہنچانے کی ضرورت پر مبنی فتاویٰ جاری کئے۔ ([۱۲])
ربیع بن محمد السعودی ـ جو ایک سلفی مؤلف ہے اگرچہ کچھ غیر حقیقی عقائد کو مذہب تشیّع سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے ـ مگر صلیبی اور یہودی حکومتوں اور عالم اسلام میں امریکی مداخلتوں کے مقابلے میں شیعہ اور سنی کے اتحاد کے عقیدے کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور آخرکار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا شیعوں سے اتحاد ہوسکتا ہے۔ ([۱۳])
اس قسم کے تضادات پر مبنی تفکرات و نظریات کو فلسطین اور تحریک مزاحمت کے سلسلے میں ان کے موقف میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔
مسئلۂ فلسطین ابتداء سے عالم اسلام کے نہایت اہم اور متفقہ مسائل کے زمرے میں شمار ہوتا رہا ہے جس کے لئے شیعہ علماء کا فتوائے جہاد جاری ہوا۔ ([۱۴]) اگرچہ یہ تنازعہ سنی دنیا میں رونما ہوا لیکن تکفیری نظریئے کے پیروکاروں کا موقف نہ صرف غیرجانبدارانہ بلکہ غاصبوں کے ساتھ سازگار اور موافقت ہے:
تکفیری دھارا صہیونی ریاست کے آگے اپنے ماتھے پر بل بھی نہیں ڈالتا اور حتّیٰ کہ مسلمانوں کے خلاف یہودی ریاست کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ ([۱۵])
محاذ مزاحمت کو بھی ـ جو یہودی ریاست کے خلاف جدوجہد میں سرگرم عمل ہے اور استعماری طاقتوں کے مقابلے میں مسلمانوں کا مشترکہ محاذ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے ـ تکفیری ٹولوں کے کرتوتوں کے اثرات کا سامنا ہے۔ تکفیری ٹولوں نے نہ صرف اس محاذ کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اس کو ترک کرگئے اور اس کے مد مقابل آکھڑے ہوئے۔ ([۱۶])
اسی اثناء میں امت مسلمہ اور محاذ مزاحمت کی دشمن یہودی ریاست (اسرائیل) مقبوضہ فلسطین میں، یہودیوں کی ناہمآہنگ ٹولوں کو مشترکہ تشخص دینے اور سماجی یکجہتی قائم کرنے کے لئے “مشترکہ دشمن” کے تصور سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ بالفاظ دیگر یہودی-اسرائیلی معاشرے کا تشخص ایک مشترکہ اصول کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اور وہ ہے: یہود مخالف “مشترکہ دشمن”۔ ([۱۷])
علاوہ ازیں اسلامی بیداری کا دھارا، سیاسی-معاشرتی میدان میں اسلام کی موجودگی اور کردار ادا کرنے اور مغرب اور آمریت و استبدادیت کے خلاف جدوجہد کا اہم ترین معاصر عامل اور سبب تھا جو مشترکہ دشمن کے مقابلے کے طور پر، اسلامی اہداف تک پہنچنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور ربط و پیوند کا سبب بن سکتا تھا۔ تکفیری ٹولوں نے اس راہ میں بھی ایک بڑے آسیب اور آفت و انحراف کا کردار ادا کیا، اور اتحاد و یکجہتی کے بجائے تکفیر، انتہاپسندی کی ثقافت کو فروغ دیا۔ ([۱۸])
پاکستان علاقے اور عالم اسلام میں انتہاپسند تکفیری تصورات و تفکرات کے اصلی اڈوں میں شامل ہے اور تکفیری ٹولے یہاں سعودی اثر و رسوخ اور پشت پناہی کے سائے میں سرگرم عمل ہیں۔ اس تلخ صورت حال کا ایک سبب افغانستان کی جنگ اور اس کے بعد رونما ہونے والے مسائل اور واقعات ہیں۔ افغان جنگ کے خاتمے کے بعد، افغانستان میں سرگرم پاکستانیوں میں سے زیادہ تر افراد پاکستان واپس آئے اور فرقہ وارانہ تشدد میں مصروف ہوئے اور اس تشدد کو سیاسی طاقت کے حصول کا اوزار قرار دیا۔ انھوں نے تکفیر کے اوزار کو نہ صرف شیعیان اہل بیت سمیت ان لوگوں کے خلاف استعمال کیا جنہیں وہ اپنا دشمن سمجھتے تھے۔
افغان جنگ نے پاکستان میں تشدد پسند اور انتہا پسند قوتوں کو تقویت پہنچائی اور انہیں وہابیت کی وادی میں پہنچایا۔ چنانچہ دیوبندیوں کے درمیان سلفیت کے رجحانات پیدا ہوئے۔ اس صورت حال میں وہ نہ صرف فلسطینی کاز سے دور ہوگئے بلکہ قدس پر قابض یہودی ریاست کو دشمن سمجھنے کے بجائے شیعہ کو اپنے دشمن کا عنوان دیا؛ [اور بعض مواقع پر یہودی ریاست کی صف میں کھڑے ہوکر فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی کی غرض سے منعقدہ یوم القدس ریلیوں کے شیعہ شرکاء کو دہشت گردانہ اور خودکش حملوں کا نشانہ بنایا]۔ یوں اسلام کی جہادی استعداد اسلام اور مسلمانوں کے اصلی اور شدیدترین دشمن ـ یعنی صہیونی-یہودی ریاست پر صرف ہونے کے بجائے، عالم اسلام کے دوسرے حصے (شیعیان اہل بیت) کے خلاف جنگ کی نذر ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
[۱]۔ رجوع کریں: تغییرات اجتماعی، (Le changement social) گای روچر، (Guy Rocher)، فارسی ترجمہ منوچہر وثوقی، ص۱۳، نشر نی، تہران۔
[۲]۔ رجوع کریں: مقدمۂ ابن خلدون، ابن خلدون، فارسی ترجمہ: پروین گُنابادی، ج۱، ص۳۳۴، انتشارات علمی و فرہنگی، تہران، ۱۳۶۲۔ نیز رجوع کریں: تاریخِ عرب قبل از اسلام، عبدالعزیز سالم، ترجمہ باقر حیدری نیا، ص۳۱۱، انتشارات علمی و فرہنگی، تہران، ۱۳۸۰۔
[۳]۔ ر۔ک: کالبدشکافی تہدید، اصغر افتخاری، ص۹۴، دانشگاہ امام حسین علیہ السلام، تہران، ۱۳۸۵۔
[۴]۔ رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے اس مسئلے کو اسلام کے صدر اول کی تاریخ میں نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ رجوع کریں: یوم بعثت رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ کے سلسلے میں نظام اسلامی کے عہدہ داروں سے خطاب، مورخہ ۳۰ جولائی ۲۰۰۸۔
[۵]۔ رجوع کریں: کانفرنس بعنوان “نظریۂ بیداری اسلامی در اندیشہ سیاسی حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی و آیت اللہ العظمی امام خامنہای” کے منتخب مقالات کا مجموعہ بعنوان “تاثیر مقاومت بر بیداری اسلامی در اندیشہ سیاسی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای”، کمیل خجستہ، ص۷۲۷-۷۵۱۔
[۶]۔ رجوع کریں: “پدیدہ اسلامترسی”، (The phenomenon of Islamophobia) فادی اسماعی، ترجمہ پرویز شریفی، ص۳۳-۴۰، ماہنامہ اسلام و غرب، وزارت امور خارجہ، سال اول، پیش شمارہ دوم، مرداد ۱۳۷۶؛ نہ شرقی نہ غربی (روابط خارجی ایران با آمریکا و شوروی)، (Neither East Nor West: Iran, the Soviet Union, and the United States) نکی کیڈی، مارک گازیورسکی، (Nikki Keddie & Mark J. Gasiorowski) ترجمہ ابراہیم متقی اور الہہ کولایی، ص۲۱۶، نشر مرکز اسناد انقلاب اسلامی، تہران، ۱۳۷۹ھ ش۔
[۷]۔ Threat
[۸]۔ Opportunity
[۹]۔  رجوع کریں: سیاست خارجی جمہوری اسلامی ایران؛ بازبینی نظری و پارادایم ائتلاف، محمود سریع القلم، ص۱۱۲و۱۱۳، مرکز تحقیقات استراتژیک، تہران، ۱۳۷۹۔
[۱۰]۔  رجوع کریں: صناعۃ الکراہیہ فی العلاقات العربیۃ – الامریکیۃ، جمع من المؤلفین، بیروت، مرکز دراسات الوحدة العربیّۃ، ۲۰۰۳ع‍
[۱۱]۔  رجوع کریں: الجہاد الفریضۃ الغائبۃ، محمد عبدالسلام فرج، مقدمہ، قاہرہ، بی نا، ۱۹۸۱۔
[۱۲]۔  مجموعۃ فتاوی، عبد اللہ بن باز، ج۴، ص ۳۲۴۔
[۱۳]۔  الشیعۃ الامامیۃ الاثنی عشریۃ فی میزان الاسلام، ربیع بن محمد السعودی، ص ۱۴-۱۷، چاپ دوم، مکتبہ ابن تیمیۃ، قاہرہ ۱۴۱۴ق۔
[۱۴]۔  تاریخ النجف السیاسی ۱۹۵۸-۱۹۴۱ع‍، مقدام عبدالحسین فیاض، ص ۱۶۵، بیروت، دارالاضواء، ۲۰۰۲ع‍/۱۴۲۳ق۔
[۱۵]. عالمی کانفرس بعنوان “تکفیری دھارے علمائے اسلام کی نظر میں” سے امام خامنہ ای کا خطاب۔ ۲۰۱۴-۱۲-۰۵۔
[۱۶]۔ رجوع کریں: نظریہ مقاومت در روابط بینالملل؛ رویکرد ایرانی-اسلامی نفی سبیل و برخورد با سلطہ، روحاللہ قادری کنگاوری، ص ۲۳۹و ۲۳۸، مجلہ سیاست دفاعی، ش ۸۲، بہار ۱۳۹۲۔
[۱۷]۔ رجوع کریں: جامعہ شناسی سیاسی اسرائیل، (اسرائیل کی سیاسی نفسیات) اصغر افتخاری، ص۱۳۷و۱۳۸، مرکز پژوہش ہای علمی و مطالعات استراتژیک خاورمیانہ، تہران، ۱۳۸۰؛ “ابعاد اجتماعی برنامہ امنیتی اسرائیل؛ دستور کاری برای قرن بیست و یکم”، (اسرائیلی سماجی سلامتی منصوبےکے پہلو؛ اکیسویں صدی کے لئے دستور العمل) اصغر افتخاری، ص۵و۶، فصلنامہ مطالعات امنیتی، شمارہ ۱، ۱۳۷۲ھ ش۔
[۱۸]۔ “بررسی تاثیرات سلفیگری تکفیری بر بیداری اسلامی”، (اسلامی بیداری پر تکفیری سلفیت کے اثرات کا جائزہ) محمد ستودہ، مہدی علیزادہ موسوی، ص۹۱-۱۱۶، علوم سیاسی، شمارہ ۶۵، بہار ۱۳۹۳ھ ش۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دنیا کی فلم انڈسٹریز پر یہودیوں کی مکمل اجارہ داری

  • ۲۱۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: صہیونی اور یہودی لابیوں کا دنیا کے سینیما، فلم کمپنیوں اور انڈسٹریوں پر اس قدر قبضہ ہے کہ ایک مغربی عیسائی مفکر لکھتے ہیں: “۔۔۔ یہودیوں نے عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوری دنیا کے ذہنوں کو واش کر دیا ہے۔ یہودی انحرافی فلموں کے ذریعے ہمارے نوجوانوں اور بچوں کے لیے خوراک فراہم کر رہے ہیں اور وہ فلموں کے ذریعے جو چاہتے ہیں ان کے ذہنوں میں ڈال دیتے ہیں، انہوں نے ہمارے جوانوں کو فاسد کر دیا ہے اور انہیں اپنی نوکری کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ صہیونی دو گھنٹوں کے اندر (یعنی دو گھنٹے کی فلم کے دوران) ان تمام آداب و رسومات اور ثقافت و کلچر کو ان کے ذہنوں سے واش کر دیتے ہیں جو اسکول، معلم، والدین وغیرہ نے انہیں سکھائے ہوتے ہیں”۔
یہ بات سن کر آپ کو حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا میں فلم سازی کی صنعت کی بنیاد ڈالنے والے اور اسے عروج دینے والے یہودی ہیں۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق سینیما کی دنیا کے ۹۰ فیصد ڈائریکٹر، فنکار، فوٹوگرافرز، کیمرہ مینز، فلم نامہ لکھنے والے اور اسپانسرز وغیرہ یہودی ہیں۔ چند ماہ قبل عالمی انٹرنٹ چینل نے ایک مقالہ شائع کیا اس عنوان کے تحت کہ کیا ہالیووڈ یہودی ہے؟ اور اس میں یہودیوں کی ایک لمبی فہرست گنوائی گئی جو ہالی ووڈ میں مصروف کار ہیں۔
ایک طرف صہیونیوں کا پوری دنیا کی سینیما پر قبضہ اور دوسری طرف عالم اسلام میں اس موضوع پر بے توجہی انتہائی حیرت انگیز بات اور المناک المیہ ہے۔ صہیونی سینیما اور میڈیا کا استعمال کر کے اپنے جھوٹے واقعات کو پوری دنیا میں یقینی بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ہم مسلمان اپنے سچے حقائق اور حقیقی تاریخ کو اپنے مسلمانوں تک پہنچانے میں بھی ناکام ہیں۔
کتاب “سلطنت خود انہیں کی” کے یہودی مولف “نیل گابر” نے ۱۹۸۸ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ہالی ووڈ کی سب سے بڑی فلم کمپنیز جیسے کولمبیا، میٹروگولڈین میئر(Metro-Goldwyn-Mayer)، وارنر براوز (Warner Bros.)، (Paramount Pictures) پیرامونٹ پیکچرز (Universal Pictures) وغیرہ وغیرہ سب بیسویں صدی عیسوی میں یہودیوں کے ذریعے تاسیس کی گئی ہیں اور مشرقی و مغربی یہودیوں کے ذریعے ان کمپنیوں میں کام ہو رہا ہے۔
ہنری فورڈ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ یہودی فلم سازی کی صنعت پر ۵۰ فیصد نہیں بلکہ سو فیصد تسلط رکھتے ہیں۔
اور آخر میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے کہ دنیا کی کوئی بھی فلم کمپنی اس وقت تک معروف نہیں ہو سکتی جب تک یہودیوں سے وہ اپنا رشتہ نہ جوڑ لے اور دنیا کی کوئی فلم اس وقت تک شہرت نہیں پا سکتی جب تک یہودی اسے شائع ہونے کی اجازت نہ دے دیں۔

 

فلسطین کے داخلی امن میں ۴ عرب ممالک رکاوٹ

  • ۱۷۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: لبنان کے ایک اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ چار ممالک، اردن، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات فلسطینیوں کی تحریک فتح اور اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے مابین امن کے مخالف ہیں اور مفاہمت کے عمل میں رکاوٹ کھڑی کررہے ہیں۔
 لبنانی اخبار "الاخبار" کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چار عرب ممالک فلسطینی مزاحمتی گروہوں "فتح" اور اسلامی تحریک "حماس" کے مابین اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں جو حالیہ دنوں استنبول میں ہوا تھا۔

الاخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ، محمود عباس ، حماس اور فتح کی تحریکوں کے مابین طے پانے والے افہام و تفہیم کی بنیاد پر، چھ ماہ کے شیڈول کے مطابق فلسطینی عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی توقع کی جا رہی ہے، کئی عرب ممالک عام انتخابات کو روکنے اور فلسطینی گروہوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔  
الاخبار نے بتایا کہ یہ اطلاع ملی ہے کہ حالیہ افہام و تفہیم کے ساتھ چند عرب ملکوں کی مخالفت عام انتخابات کے حوالے سے محمود عباس کے حکم صادر کرنے میں تاخیر کا باعث بنی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر ، مصر اور اردن کے دباؤ اور اس کے بعد کچھ خلیجی عرب ریاستوں کے دباؤ کے بعد ، سیکریٹریوں کا اجلاس جو اس ماہ کی تیسری تاریخ کو ہونا طے پایا تھا پیچھے ہو گیا ہے وہ اجلاس جس کی توقع کی جارہی تھی کہ اس میں دیگر گروہوں کے ساتھ بات چیت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے حکم صادر کر دیا جائے گا۔  
بعض ذرائع نے الاخبار کو بتایا کہ فتح تنظیم کے وفد کے گذشتہ ہفتے قاہرہ کے دورے کے دوران (استنبول معاہدے کے بعد)، اس تحریک کو معلوم ہوا ہے کہ ترکی میں معاہدے کے طے پانے سے مصری متفق نہیں ہیں۔ تاہم ، فتح نے استدلال کیا کہ یہ معاہدہ ترکی کی نگرانی یا ثالثی کے بغیر استنبول میں واقع فلسطینی قونصل خانے میں ہوا ہے۔
تاہم ، ذرائع نے انکشاف کیا کہ مصریوں کو ان کے یہ بیانات پسند نہیں آئے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف معاہدے کی مخالفت کی بلکہ انتخابات کے انعقاد کی بھی مخالفت کی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، مصر کی مخالفت کی ابتدائی وجہ یہ تھی کہ قاہرہ کی نگرانی سے دور فلسطینی گروہوں کے درمیان کسی بھی طرح کا باہمی مصالحت اور تعاون پر مبنی معاہدہ در حقیقت مصر کی ۱۴ سالہ زحمتوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے جو وہ ان گزشتہ سالوں سے کرتا آیا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ مصر کے نزدیک یہ وقت انتخابات کے لیے مناسب نہیں ہے چونکہ ان انتخابات میں امریکہ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

 

 

یہودیت اور نسل پرستی

  • ۱۸۹


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ادیان ابراہیمیؑ میں یہودیت وہ واحد دین ہے، جس کی بنیاد نسل پرستی پر ہے۔ یہودی خود کو میراث موسوی کا امین سمجھتے ہیں، یہاں تک مسئلہ نہیں تھا، مگر یہ حق وہ کسی اور کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر کسی اور نسل سے تعلق رکھنے والا کوئی انسان یہودیت قبول کر لے تو وہ درجہ اول کا یہودی نہیں بن سکتا۔ ان میں ماں یہودی باپ غیر یہودی یا عکس میں بھی رتبہ کے اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے۔ یہودیت ان ادیان میں سے ہے، جن کے ماننے والے تبلیغ نہیں کرتے یا اس پر بہت زیادہ زور نہیں دیتے۔ یوں ایک طرح سے نسلی تفاخر ان میں موجود ہے، جس کے وجہ سے یہ غیر بنی اسرائیلیوں کو دوسرے درجے کے انسان سمجھتے ہیں۔ اچھی طرح یاد نہیں مگر صیہونیت کا مذہبی بیانیہ ان کے اس مذہبی ڈیکلریشن سے بھی واضح ہوتا ہے، جس میں انہوں نے فلسطینی بچوں کو اس لیے مارنا اور قتل کرنا جائز بتایا تھا کہ یہ بڑے ہو کر اسرائیلیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مدمقابل اسلام اور مسیحت میں ایسا نہیں ہے، جو بھی اسلام یا مسیحت قبول کر لے، وہ برابر کا مسلمان یا مسیحی ہوتا ہے۔
پچھلے چند روز سے اسرائیل میں شدید مظاہرے ہو رہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ نسل پرستی کا معاملہ اس قابض ریاست میں گھمبیر صورتحال اختیار کرچکا ہے۔ ایک پولیس آفیسر نے سلیمان ٹکہ نام کے ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، سلیمان کے والدین کا تعلق ایتھوپیا سے تھا، اس لحاظ سے نسلی طور پر یہ سیاہ فام تھے۔ اس قتل نے دہائیوں سے جاری اس نسل پرستی کے خلاف پسے ہوئے طبقات کو اٹھنے کا موقع دے دیا۔ لوگ بڑی تعداد میں اسرائیلی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، مظاہروں کے ساتھ ساتھ بات جلاو گھراو تک پہنچ گئی۔ یہ واقعہ تو ان مظاہروں کا سبب بن گیا، اصل میں جو یہودی موسیٰ اور سلیمان نامی آپریشنز کے ذریعے ایتھوپیا سے اسرائیل منتقل کیے گئے، اسرائیل میں ان کی آبادی تقریباً ۱۴۰۰۰۰ ہزار افراد پر مشتمل ہے، جو کل آبادی کا محض ڈیڑھ فیصد ہے۔ ان لوگوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اور یہ لوگ تعلیم میں بہت پیچھے ہیں، اسی طرح ان میں بے روزگاری بھی بہت زیادہ ہے۔ مظاہرین کے انٹرویوز دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک گھٹن کی زندگی بسر کر رہے ہیں، جس میں یہ نسل پرست ریاست ان کا استحصال کر رہی ہے اور انہیں بنیادی حقوق تک رسائی نہیں ہے۔
میں سوچ رہا تھا کہ ظاہراً دنیا بھر سے صرف اور صرف مذہب یعنی یہودیت کی بنیاد پر لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اسرائیل میں آباد کیا گیا۔ بین الاقوامی طاقتوں نے اس کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل فراہم کیے، ان یہودیوں کو بھی خوشحالی کے سہانے سہانے خواب دکھائے گئے، مگر جب وہ پہنچے تو سفید چمڑی والے ان کے اہل مذہب ان کے استحصال کے لیے موجود تھے۔ ایسا کیوں ہوا کہ مذہب کی بنیاد پر جمع ہونے والوں میں رنگ کی بنیاد پر اتنی تفریق پیدا ہوگئی؟ جلاو گھراو شروع کر دیا گیا اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، سینکڑوں پولیس والے زخمی ہوگئے اور کئی ایمبولینسز کو بھی آگ لگا دی گئی۔ اسرائیل میں گورے کالے کی یہ تقسیم امریکہ سے منتقل ہوئی، کیونکہ جو لوگ بہت زیادہ امیر ہیں اور جن کے پاس حکومت ہے، وہ یورپ یا امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں، امریکہ میں نسل پرستی کی ایک تاریخ ہے۔
قارئین کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکہ کی سینیٹ میں اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا کالے لوگ انسان ہیں یا انسان نہیں ہیں؟ کافی وقت یہ ڈیبیٹ چلتی رہی اور آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کالے لوگ تمام کے تمام انسان نہیں ہیں بلکہ ہر کالا بیس فیصد انسان ہوتا ہے۔ سینیٹ نے یہ بات قانونی طور پر منظور کر لی کہ کالے بیس فیصد انسان ہیں۔ اس لیے الیکشن میں یہ ووٹ ڈال سکتے ہیں، مگر ان کے پانچ ووٹوں کو ایک ووٹ شمار کیا جائے گا۔ یوں امریکی سینیٹ دنیا میں وہ پہلی سینیٹ ٹھہری، جس نے تمام جمہوری اصولوں کے مطابق اس کو قانون کی حیثیت دی۔ اسی طرح ایک لمبی مدت تک چینیوں کو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا تھا اور انہیں شہروں میں رہنے کی اجازت نہیں تھی، الگ بستیوں میں رہتے تھے، یعنی ایک طرح سے الگ باڑے بنا دیئے گئے تھے، جہاں یہ رہتے تھے۔
ان کا ہوٹلز اور بڑے بازاروں میں داخلہ ممنوع تھا۔ بعد میں اس قانون کو ظالمانہ قانون قرار دیتے ہوئے تبدیل کر دیا گیا، مگر تیس سال تک یہ قانون امریکہ میں نافذ رہا۔ ابھی بھی امریکہ میں بڑے پیمانے پر سیاہ فارم استحصال کا شکار رہے۔ امریکہ کی تاریخ میں پہلے سیاہ فام صدر صدر اوبامہ تھے۔ آپ گوگل پر چیک کر لیں، ہر سال سینکڑوں سیاہ فام امریکی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اسرائیل میں سیاہ فام لوگوں کے استحصال کی یہ روایت امریکہ سے آئی ہے، اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی ریاست صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ خود وہاں کی یہودی کمیونٹی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اسرائیلی ریاست پر ایک خاص گروہ مسلط ہے، جو مسیحیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کا استحصال کر رہا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ وہ انسانوں کا استحصال کر رہا ہے۔
اسلام نے مذہب کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصب کو روک دیا بلکہ کہا کہ مسلمان چاہے مشرق کا ہو یا مغرب کا، سیاہ رنگ ہو یا سفید رنگ ہو، اس کی زبان عربی ہو یا غیر عربی، ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بارگاہ نبوی میں حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی حیثیت بڑے بڑے عرب سرداروں سے زیادہ تھی، روم سے صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ نبوی میں خاص مقام رکھتے تھے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تو نبی اکرم (ص) نے فرما دیا کہ یہ ہماری اہلبیتؑ میں سے ہیں۔ جب ایرانی طلبہ نے امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر لیا تو امام خمینیؒ نے عورتوں اور سیاہ فام ملازمین کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب بی بی سی کے نمائندے نے پوچھا تو امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ اسلام میں عورتوں کے بہت زیادہ حقوق ہیں اور سیاہ فام لوگ امریکہ میں مظالم کا شکار ہیں، اس لیے میں نے عورتوں اور سیاہ فام ملازمین کو چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ حکم دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق تھا، جس میں مظلوم کی تالیف قلب کی گئی تھی۔
بقلم ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

 

حسن نصر اللہ کی شخصیت اسرائیلی نصاب کا حصہ

  • ۲۱۹


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسرائیل کو، سید حسن نصر اللہ کی وجہ سے کافی مسائل کا سامنا ہے ۔ صہیونی رہنما یہ اعتراف کرتے ہیں کہ سید نصر اللہ نے اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اسحاق شامیر کے اس مشہور نظریہ کا خاتمہ کر دیا ہے کہ عرب وہی عرب ہیں اور پانی وہی پانی ہے ۔ شامیر کا مطلب یہ تھا کہ یہ وہی عرب ہیں جنہیں ۶ دنوں کے اندر ہم نے شکست دی تھی اور جن کے علاقوں پر قبضہ کیا تھا ۔
اب اسرائیلی یہی مانتے ہیں کہ سید حسن نصر اللہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ وہی عرب نہیں ہیں کیونکہ اب تک اسرائیلی فوج کے کمانڈر کہتے ہیں کہ حزب اللہ، ان کی فوج کے بعد، مشرق وسطی کی سب سے طاقتور فوج ہے ۔ یہ معجزہ سید حسن نصر اللہ کا ہی ہے کہ انہوں نے حزب اللہ نامی تحریک کو ایک طاقتور فوج میں بدل دیا ۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے بارے میں اسرائیلی کیا سوچتے ہیں، اس کی ایک مثال، اسرائیل کے اسکولوں میں سماجیات کی کتاب میں سید حسن نصر اللہ کے بارے میں کچھ باتوں کے ذکر ہے ۔ اسرائیل کے حکومتی نصاب میں شامل ایک کتاب میں لکھا ہے: حسن نصر اللہ غیر معمولی طور پر ایک معجزاتی شخصیت کے مالک نہیں اور انہیں اسرائیل کے بارے میں ہر چیز کی اطلاع ہے اور یہی سبب ہے کہ وہ اسرائیلی معاشرے کی بہت اچھی شناخت رکھتے ہیں اور اپنی اس اطلاع کو متعدد مواقع پر نفسیاتی جنگ میں اسرائیلی معاشرے کو پیغامات دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے ۲۰۰۰ میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی پسپائی کے بعد اسرائیلی معاشرے کو مکڑی کا جالا کہا تھا جسے بڑی آسانی سے تباہ کیا جا سکتا ہے ۔
اسرائیلی اخبار ہارٹس کے مطابق، حزب اللہ کی نفسیاتی جنگ اس حد تک موثر تھی کہ اسرائیلی فوجیوں کو اپنی توانائی پر شک ہونے لگا ۔ اخبار نے مزید لکھا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے خوف سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے ۔ یہ خوف اسرائیل میں ۱۹۸۵ اور ۲۰۰۰ میں ہونے والے نقصانات سے پیدا ہوا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹس میں شائع ڈیوڈ داوود کے مقالے میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ، آئندہ کسی تصادم میں اسرائیل میں پیدا خوف سے استفادہ کرے گی جس نے اسرائیل کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ وہ الجلیل شہر کو فتح کر سکتا ہے، اسرائیل پر دقیق نشانہ لگانے والے میزائلوں کی بارش کر سکتا ہے، امونیا گیس کے ذخائر اور ڈیمونا ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر سکتا ہے اور حزب اللہ نے یہ یقین، بغیر یہ سب کچھ کئے، اسرائیل کو دلا دیا ہے ۔
اسرائیلی اخبار ہارٹس میں شائع اس مقالے کے مقالہ نگار نے یہ اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ، اسرائیلی معاشرے کو یہ یقین دلانے میں بھی کامیاب ہو گیا ہے کہ جنوبی لبنان، اسرائیلی فوجیوں کی قبرستان بن جائے گا ۔
مقالہ نگار کے مطابق، ممکنہ نقصان سے اسرائیل کا خوف، جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے اسرائیل کی شکست کی اصل وجہ تھی نہ کہ حزب اللہ کی فوجی طاقت اور یہی خوف ۲۰۰۶ میں وسیع جنگ سے اسرائیل کے پرہیز کی بھی اصل وجہ ہے، جیسا کہ اس مقالے میں لکھا ہے ۔
حزب اللہ سے اسرائیل کا یہی خوف، تل ابیب کی راہ میں جنگ شام سے وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھانے کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔
ہارٹس نے آخر میں لکھا ہے کہ کسی بھی تصادم کی صورت میں، حزب اللہ کو صرف یہ کرنا ہوگا کہ اسرائیلی سرحد پر کچھ چوکیوں اور چھوٹے قصبوں پر قبضہ کر لے یا کچھ اسیروں کو اغوا یا قتل کر دے اور اس کا ویڈیو جاری کر دے تو اس طرح سے اسرائیلی فوجی یہ یقین کر لیں گے کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کی توانائی نہیں رکھتے ہیں اس لئے وہ اپنی حکومت پر جنگ کے خاتمے کے لئے دباؤ ڈالیں گے اور اس طرح سے جنگ ختم ہو جائے گی اور اس کی تلخ یاد، اسرائیل کے لئے باقی رہے گی ۔

 

اسلام کے تئین غداری کی توجیہ کے لیے آل زائد اور آل خلیفہ کی کوشش

  • ۱۹۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کو رکوانے اور امریکی ایف ۳۵ جنگی طیارے خریدنے جیسے جھوٹوں کے ذریعے، امارات میں آل زائد اور بحرین می آل خلیفہ اس غداری اور خیانت کی توجیہ کی تلاش میں ہیں جو انہوں نے اسلام، امت مسلمہ اور فلسطین کے مقدسات کے ساتھ کی ہے۔
حالیہ دنوں اسرائیل کے وزیر جنگ بنی گینٹز نے سعودی اور اماراتی نامہ نگاروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ تل ابیب کا عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف محاذ جنگ کو مستحکم بنانا تھا۔
انہوں نے کہا ، "ہمارے پاس ایران کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے، لیکن بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے سے ایران کے خلاف دشمنانہ کاروائیوں کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ "
ایران اور مزاحمتی محاذ کے خلاف بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اہم مسئلہ اس گٹھ جوڑ کا آشکارا ہونا ہے کہ جو ایران، مزاحمتی محاذ اور علاقے کی اقوام کے فائدے میں تمام ہوا ہے اس وجہ سے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک قدس کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ دشمنی کے بارے میں اپنے لوگوں کے ساتھ جھوٹ سے کام نہیں لے سکیں گے۔
گینٹز جانتے ہیں کہ ان کا بیان اس بارے میں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف جنگ کے محاذ کو مستحکم کرنا ہے محض جھوٹ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنگ اس معاہدے سے پہلے بھی جاری تھی اور صہیونی ریاست اور اس کے حامی مزدور ہمیشہ ایران اور مزاحمتی محاذ سے شکست کھاتے رہے ہیں اور آج ان کی فوج بقول ان کے اسرائیل کی شکست نا پذیر فوج شام میں حزب اللہ کے ایک مجاہد کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے اور یہاں تک کہ ۴۸ گھنٹے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کی توانائی نہیں رکھتی۔
آل زائد، آل خلیفہ اور آل سلمان گوسفندوں کے مانند ہیں کہ جو وہائٹ ہاؤس کی صف میں کھڑے ہیں تاکہ ٹرمپ آئندہ انتخابات میں دوبارہ وہائٹ ہاؤس میں قدم رکھنے اور صہیونی ریاست کی حمایت کرنے میں ان کے سر قلم کریں۔
اسی وجہ سے ان گوسفندوں کو چاہیے کہ گینٹز اور اس جیسوں کی کھوکھلی حمایتوں پر بھروسہ نہ کریں اس لیے کہ گینٹز ایسا شخص ہے جو حزب اللہ، حماس اور جہاد اسلامی کے جوانوں سے ڈر کر اپنا زیادہ وقت پناہ گاہوں میں گزارتا ہے۔

 

 

برطانیہ نے کس طرح ہندوستان کی ۴۵  ٹریلین ڈالر کی دولت چوری کی؟

  • ۲۰۰

تحریر: جیسون ہیکل، لندن یونیورسٹی کے استاد اور ہنر و فن کی سلطنتی انجمن کے رکن
تحقیق و ترجمہ خیبر گروپ

خیبر صہیون تحقیقاتی وی گاہ:  برطانیہ میں ہندوستان کے استعمار کو لیکر یہ عجب کہانی رائج ہے { جو اپنے آپ میں ایک ہولناک مسئلہ ہے } اور وہ یہ کہ ہندوستان پر قبضہ برطانیہ کے لئے کوئی قابل ذکر فائدہ کا حامل نہیں تھا ، علاوہ از ایں شاید ہندوستان کو چلانے میں برطانیہ کو الٹا ہی اخراجات اٹھانے پڑے ، در نتیجہ یہ حقیقت کہ برطانوی امپائر عرصے تک قائم رہا -اور آگے بھی کہانی جاری ہے- برطانوی  سلطنت کی  جانب سے  ہندوستان کو چلانے کے لئے  اخراجات کا برداشت کرنا ، ایک نیکی اور خیر خواہی کا مکھوٹا پہننا ہے۔ جبکہ اس سلسلہ سے اوٹسا  پاٹنایک  جیسے  نامور اقتصاد دانوں کی جانب سے انجام پانے والی  تحقیق کے مطابق  جسے حال ہی میں کلمبیا کی یونیورسٹی نے  شایع کیا ہے ۔ اس  بات پر کاری ضرب  لگتی ہے ۔ پاٹنایک نے گزشتہ دو صدیوں پر مشتمل  مالی اور تجارتی امور کے سلسلہ سے موجودہ  اطلاعات کی تفصیل  کی جانچ پڑتال سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ۱۷۶۵ ؁سے لیکر ۱۹۳۸  تک برطانیہ نے ۴۵ ٹریلین ڈالر پر مشتمل ہندوستان کی دولت کو اپنی جیب میں ڈالا ہے  یہ ایک بڑی رقم ہے، اگر ہم اس رقم کو بہتر طور پر سمجھنا چاہیں تو یہ جان لینے میں کوئی برائی و عیب  نہیں ہے کہ  ۴۵ ٹریلین ڈالر کی رقم آج کی برطانیہ کے  مجموعی ملکی آمدنی) G.N.I ( [1]کی سترہ برابر ہے ۔ یہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آ گئی  یہ سب کچھ تجارتی سسٹم کے ذریعہ ممکن ہوا،  برطانیہ   ہندوستان پر قبضے سے پہلے  بنے کپڑے اور چاول جیسی چیزوں کو ہندوستانی کسانوں اور صنعت کاروں سے خریدتے اور رائج طریقہ کار کے مطابق  زیادہ تر چاندی میں اسکی قیمت ادا کرتے  بالکل ویسے ہی جیسے دوسرے ممالک سے تجارت کرتے ، لیکن ۱۷۶۵ میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی [۲]نے   برصغیر کو اپنے چنگل میں لیا اور ہندوستانی تجارت کو محض خود تک منحصر کر لیا اور یوں   سب کچھ بدل گیا ۔
اس تجارتی سسٹم کے کام کرنے کا انداز کچھ یہ تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے شروع میں ہندوستان سے ٹیکس وصولنا شروع کیا اور اس کے بعد بہت ہی چالاکی کے ساتھ  تقریبا  ٹیکس سے وصول ہونے والی ایک تہائی آمدنی کو برطانیہ کے استعمال میں  آونے والی ہندوستانی اشیاء کی قیمت کی ادائگی  کے لئے استعمال کیا گیا، دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ بجائے اسکے کہ ہندوستانی سازو سامان کو خریدنے کے بعد اسکی ادائگی اپنے جیب سے کی جاتی برطانوی تاجروں نے  ہندوستانی سازو سامان مفت میں ہی حاصل کر لیا  یہ لوگ  ہندوستانی رعیت کی اشیاء و بنکروں سے حاصل کئے گئے کپڑوں کو اس پیسے سے خریدتے جو خود انہیں سے ٹیکس کے طور پر انہوں نے پہلے لئے ہوئے تھے  یہ ایک  بڑے پیمانے پر ہونے والی چوری  وعیاری کے ساتھ    ایک بڑا  دھوکہ دھڑی و فراڈ  کا معاملہ تھا  اسکے باوجود اکثر ہندوستانیوں کو خبر نہیں تھی کہ انکے ساتھ کیا ہو رہا ہے  چونکہ ٹیکس وصول کرنے والے کلیکٹرز وہ نہ تھے جو  پونجی خریدنے کے لئے آتے تھے  اگر یہ کام ایک ہی شخص کرتا تو ممکن تھا لوگوں کو بھنک لگ جاتی کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور  اس عیاری و فراڈ سے پردہ اٹھ جاتا اور بات واضح ہو جاتی لہذا ان لوگوں نے بڑی چالاکی کے ساتھ یہ کام اس طرح کیا تھا کہ ہندوستانیوں ہی کے پیسے سے خریدی جانے والی  پونجی کا کچھ حصہ برطانیہ میں استعمال کیا جاتا اور بقیہ وہاں کے بعد دوبارہ دوسرے علاقوں میں بھیج دیا جاتا یہاں برطانوی بر آمدات و ایکسپورٹ کا نظام ایک بار پھر اس بات کی جازت دینا کہ یورپ میں درآمد ہونے والے سازو سامان کے پیسوں کو اس طرح پورا کیا جائے  من جملہ اسٹریٹجک دھاتیں جیسے  لوہا، تارکول اور لکڑی وبانس وغیرہ جن کا وجود برطانیہ کے صنعتی ملک بننے کے لئے  ضروری تھا، اور حقیقت میں دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ سچ تو یہ ہے کہ  صنعتی انقلاب اس  ہندوستان سے ہونے والی سسٹمیٹک چوری سے جڑا ہوا ہے  ۔ اس حربے کے ذریعہ برطانیہ کے لئے یہ ممکن ہو سکا کہ وہ ہندوستان سے چرائی جانے والی اجناس و اشیاء کو اس کی خرید کی قیمت سے  کئی گنا بڑھا کر  دوسرے ممالک میں فروخت کرے جبکہ  ان چیزوں کو اس نے پہلے مقام سے بہت ہی سستے داموں پر لیا تھا، اور نہ صرف اس تجارت میں اسے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ فروخت کیئے جانے والے سازوسامان کی ۱۰۰ فیصد اصلی قیمت کو اپنی جیب میں ڈالے بلکہ اسے اس میں خاصے پیمانے پر اضافی سود وفائدہ  بھی حاصل ہوا ۔
؁۱۸۴۷ میں بلا واسطہ طور پر برطانیہ کی جانب سے ہندوستانی حاکمیت  کے حصول کے بعد  برطانیہ کی طرف سے عالمی لٹیروں نے اپنے مالیاتی نظام اور خرید و فروخت کے سسٹم میں ایک خاص تبدیلی پیدا کر دی[۳] ، ایسٹ انڈیا کمپنی [۴]کے تسلط کے ختم ہوتے ہی [۵]ہندوستانی صنعت کاروں اور مختلف اشیاء بنانے والے  تاجروں کو اجازت مل گئی کہ اپنے سازو سامان کو  ڈائریکٹ  دیگر ممالک میں ایکسپورٹ کریں  ، اسکے باجود  برطانیہ  کو اطمینان تھا کہ اس سازوسامان کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی رقم لندن ہی پہنچے گی اور جو کچھ  زر مبادلہ  ہوگا اسکا مرکز لندن ہی رہے گا، یہ عیارانہ چال کیونکر اپنا کام کرتی رہی ؟تو اسکا جواب یہ ہے کہ  جو بھی ہندوستانی اشیاء خریدتا اسے ایک مخصوص قسم کے نوٹوں کی ضرورت ہوتی ، ایسے کاغذی نوٹ جو برطانوی حکومت کی جانب سے  ہندوستان میں چھپتے  اور وہیں سے انکی گردش شروع ہوتی لیکن ان نوٹوں کو حاصل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ لندن میں انہیں سونے یا چاندی کے بدلے حاصل کیا جائے، غرض یہ کہ ان نوٹوں کو حاصل کرنے کے لئے تاجر لوگ لندن میں  چاندی اورسونا رکھتے اور اسکے بعد انہیں سونے کے مقابل برطانیہ کی جانب سے چھپے ہوئے یہ نوٹ دے دئیے جاتے جن سے ہندوستانی چیزوں کی خرید ہوتی  جب ہندوستانی باشندے ان نوٹوں کی گڈیوں کو اپنے مقامی استعماری مراکز میں لے کر جاتے تو انہیں  وہی پیسہ دے دیا جاتا جو انہیں سے ٹیکس میں وصول کیا گیا تھا  اور یوں ایک بار پھر  برطانیہ ک جانب سے نہ صرف یہ کہ کچھ ادا نہیں کیا جاتا بلکہ و ہ پھر ہندوستانیوں کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرتا ، اس پورے ماجرے میں وہ تمام سونا چاندی جو کہ ہندوستانیوں کی برآمدات کی بنا پر ہندوستانیوں کے ہاتھوں میں آتا سب کے سب لند ن پہنچتا  گو کہ ہر چیز لندن سے شروع ہو کر لندن پر ختم ہوتی ۔
یہ فاسد سسٹم کچھ اس طرح عمل کرتا کہ گرچہ ہندوستان دیگر ممالک کے برخلاف ایک مازاد تجارتی حیثیت کا حامل تھا ، ایسی اضافی تجارت جو کہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی تک چلی ، لیکن اس اضافی تجارت کے باوجود ہندوستان کے قومی حساب میں  گھاٹا ہی نظر آتا  اور ایسا اس لئے ہوتا کہ ہندوستانی برآمدات سے حاصل ہونے والی واقعی رقم مکمل طور پر برطانیہ کے ہتھے چڑھ جاتی ۔اور ظاہر میں دکھتا کہ ہندوستان کو گھاٹا ہی ہو رہا ہے اور اسی بات کو دلیل بنایا جاتا کہ ہندوستان مسلسل گھاٹے میں جانے کی وجہ سے برطانیہ کے لئے وبال جان کے سوا کچھ نہیں ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برخلاف تھی، برطانیہ کو ایک ایسی  بہت بڑی رقم حاصل ہو رہی تھی  جو کہ ہندوستانیوں سے متعلق تھی لیکن ان بے چاروں کو نہ مل کر سب کچھ برطانیہ کے کھاتے میں جا رہا  تھا اور ہندوستانی تاجروں صنعت کاروں کے ہاتھ کچھ نہیں آ رہا تھا  ۔ ہندوستان ایک ایسا پرندہ تھا جو سونے کا انڈا دے رہا تھا  دوسری طرف ہندوستان کو مسلسل ہوتے ہوئے خسارے کے معنی یہ تھے اپنے یہاں درآمد کرنے والی چیزوں کے پیسوں کی ادائگی کے لئے ہندوستان کے پاس برطانیہ سے قرض لینے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہ تھا  ، چنانچہ یہی وجہ تھی کہ ہندوستانی کی مکمل آبادی ایک غیر ضروری  جبری قرض کے بوجھ تلے دب چکی تھی اور ہندوستانی عوام کو قرض تلے دبائے انکے استعماری  وڈیرے برطانیہ کے اس ملک پر تسلط کو اور بھی مضبوط کرتے جا رہے تھے۔
برطانیہ نے اس بے ایمان سسٹم  سے حاصل ہونے والی منفعت کو اپنے امپریالسٹی تشدد پسندانہ موٹرز کو ایندھن پہنچانے کے لئے استعمال کیا ، یعنی ۱۸۴۰ ؁ میں چین پر حملے کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے اور اسی کے ساتھ ۱۸۵۷؁ میں ہندوستانیوں کی بغاوت[۶]  کو کچلنے  کے لئے  اسی سسٹم سے حاصل ہونے والے پیسو  ں کو استعمال کیا ۔
اور یہ سب کچھ اس سے الگ ہٹ کر ہے جسے برطانوی حکومت ہندوستان میں  ٹیکس دینے والوں سے  بلا واسطہ طور پر اپنی جنگوں کے اخراجات کے طور پر وصول کرتی رہی تھی   جیسا کہ پاٹنائک نے اشارہ کیا ’’  ہندوستان کی سرحدوں سے پرے برطانیہ کی فاتحانہ جنگوں کا کل خرچ  ہمیشہ  مکمل طور پر یا زیادہ تر اس درآمد پر منحصر ہوتا جو برطانوی حکومت کو ہندوستان سے حاصل ہوتی ، اور مزے کی بات یہ ہے کہ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ برطانیہ  ہندوستان سے حاصل ہونے والے بے پایاں خراج کو اپنے زیرتسلط  وہ یورپ اور اسکے  استعماری علاقوں  جیسے کینیڈا و آسٹریلیا میں کیپیٹالیزم  کے پھیلاو پر آنے والے اخراجات پر صرف کرتا، لہذا نہ صرف برطانیہ کے صنعتی ہونے کا راستہ  بلکہ جہان غرب کے ایک بڑے حصے کا صنعتی ہونا  برطانوی سامرج کی جانب سے تاراج کی جانے والی ثروت کے بل پر ہی آسان ہو سکا۔ پاٹنایک نے ہندوستان کے چار اقتصادی ادوار کو پیش کیا ہے جو کہ ۱۷۶۵ ؁ سے ۱۹۳۸ ؁ کے درمیان ایک دوسرے سے بالکل مختلف صورت میں ہیں اور ان ادوار میں  لوٹی جانے والی ثروت کا انہوں نے ایک تخمیہ پیش کیا ہے اور اسکے بعد  منفعت و سود کی ایک معتدل قیمت ( تقریبا  بازار کے فائدہ کے معیار سے ۵ فی صد کم میں ) ہر دور سے عصر حاضر تک ملا کر نکال کر انہوں نے  اعداد و ارقام کی شمارش کے ذریعہ  یہ نتیجہ لیا ہے کہ برطانوی سامراج کو ہندوستان سے محصلہ رقم کا تخمینہ  ۴۴،۶ ٹریلین ڈالر ہے، پاٹنایک کے بقول یہ وہ رقم ہے جو بہت محتاطانہ انداز میں شمار کی گئی ہے اور اس میں وہ قرض کی رقم شامل نہیں ہے جسے برطانیہ نے اپنی حاکمیت کے دوران ہندوستان پر تھوپ دیا تھا ۔ یہ وہ ارقام ہیں جو انسان کے ہوش اڑا دینے کے لئے کافی ہیں، لیکن اس ناجائز فائدہ اٹھانے کی واقعی رقم کیا ہوگی اسکا حساب نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ اگر ہندوستان اپنی مالی در آمد  کے ساتھ بیرونی مبادلات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو  اپنے ملک کی ترقی میں لگا دیتا اور ملکی ترقی کے سلسلہ سے اسی رقم کی سرمایہ کاری کرتا جیسا کہ جاپان نے کیا تو شک نہیں ہے کہ آج ہندوستانی تاریخ کا رخ دوسرا ہی ہوتا ، ایسی صورت میں ہندوستان خود ایک  اقتصادی انجن کی شکل میں ڈھل جاتا اور صدیوں سے چلی آ رہی فقیری کے دردسے خود کو بہت اچھی طرح بچا سکتا تھا ۔
جو کچھ بھی اس تحقیق کے نتائج ہیں سب کے سب اس جھوٹی داستان کے سامنے تریاق کی حیثیت رکھتے ہیں  جسے برطانیہ میں ہمیشہ ایک طاقت ور آواز نے  رواج دیا ہے ، نیال فرگوسن  قدامت پسند مورخ نے یہ دعوی کیا ہے کہ  برطانوی حکومت نے  ہندوستان کی ترقی و توسیع میں تعاون کیا ہے  جب کہ سابقہ وزیر اعظم ڈیوڈ کامرون  نے اپنی وزارت عظمی کے دوران یہ بہت ہی مطمئن انداز میں کہا ہے کہ  برطانیہ کی حکومت ہندوستان کے لئے  محض مدد و تعاون کا سسبب تھی ۔
اس جھوٹی کہانی کے نقوش عوام کے تخیلات اور عمومی طرز فکر میں بھی قابل غور حدتک تلاش کئیے جا سکتے ہیں ۲۰۱۴؁ میں   یوگاو کی جانب سے ہونے والے ایک سروے کے مطابق  برطانیہ کے ۵۰ فیصد  عوام کا خیال یہ ہے کہ برطانوی استعمار اپنے زیر نگیں علاقوں کے فائدہ میں رہا ہے ۔اس سب کے باجود حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان پر ۲۰۰ سال تک برطانوی راج کے دور میں  ہندوستان کی مجموعی فی کس آمدنی  تقریبا کسی بھی طرح کے اضافے کی حامل نہیں رہی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ انیسویں صدی کے دوسرے حصے میں  ۔یعنی اس وقت جب برطانیہ کی ہندوستان میں مداخلت اپنے عروج پر تھی ۔ ہندوستان کی آمدنی  آدھی ہو کر رہ گئی تھی ۔ اور  ۱۸۷۹ ؁ سے ۱۹۲۰ ؁ تک ہندوستانیوں کی زندگی کی امید کی شرح   ایک پنجم  تک کم ہو گئی تھی ، دسیوں ملین لوگ اس قحط کا شکار ہو گئے [۷] جس کا  محرک اس دور کی سیاست  تھی اور یوں بلا وجہ انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔
برطانیہ نہ صرف یہ کہ ہندوستان کی ترقی کا سبب نہ بن سکا بلکہ اسکے بالکل برعکس یہ ہندوستان تھا جو برطانیہ کی ترقی کاسبب بنا
یہ حقیقت  آج برطانیہ کو کس چیز پر وادار کرتی ہے ؟ کیا  صرف ایک معذرت ؟ ہرگز نہیں ، کیا لوٹی ہوئی  دولت ؟ جواب ہوگا شاید ۔  ہرچند کہ پورے برطانیہ میں اتنا پیسہ ہی نہیں ہے کہ جو تخمینہ لگایا گیا ہے اس کے مطابق ہے اسکی دوبارہ ادائگی ہو سکے  لیکن ہم اس پیسے کے ادائگی کے ماورا تاریخ کی حقیقی داستان کو تو نقل کر سکتے ہیں ، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس بات کی تصدیق کریں کہ برطانیہ نے ہندوستان پر قبضہ  خیر خواہی کے تحت ہرگز نہیں کیا تھا بلکہ اس قبضے کا مقصد ہی  ہندوستان کی دولت کو تارا ج کرنا تھا  ۔ صنعتی و ترقی یافتہ برطانیہ جیسا کہ درسی کتابوں میں ہمیں بتایا جاتا ہے کسی طاقت ور مالی  سسٹم کے  یا کسی چلتےانجن کے بخار   و بھانپ سے سامنے نہیں آیا ہے بلکہ اسکا    حصول دوسری سرزمینوں کی ثروت کو ہڑپنے و  تاراج کرنےنیز  تشدد آمیز لوٹ مار کے ذریعہ انکی دولت کو ہتھیانے سے ہی ممکن ہو سکا جو سلسلہ  آج بھی جاری ہے ۔
منبع:  yon.ir/TVGPZ
حواشی
[۱] ۔ مجموعی قومی آمدنی (gross national income – gni) درحقیقت  ذاتی کھپت ،اخراجات مجموعی نجی سرمایہ کاری ،سرکاری کھپت اخراجات بیرون ملک اثاثوں سے خالص آمدنی اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمد پر مشتمل ہوتی ہے ۲۰۱۴ کے ایک سروے میں
برطانوی مجموعی قومی آمدنی ۲,۸۰۱,۴۹۹  بیان کی گئی تھی ۔
[۲] ۔ برطانوی شرق الہند کمپنی   جسے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی یا برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی بھی  (British East India Company) کہا جاتا ہے اور یہ (EIC)  کے نام سے بھی مشہور ہے ۔، (EIC) ایک ایسی کمپنی تھی  جسے ہندوستان کے مشرق میں   کاروباری مواقع کی تلاش کے لیے تشکیل دیا گیا تھا یہ  ایک تجارتی ادارہ تھا لیکن اس کمپنی نے تجارت کی آڑ میں  ہندوستان  پر برطانیہ کے قبضے کی راہ ہموار کی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی تک ہندوستان میں کمپنی کا راج تھا۔ اس کے بعد ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے زیر نگیں آ گیا۔ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہو : Desai, Tripta (1984). The East India Company: A Brief Survey from 1599 to 1857. Kanak Publications. p. 3.
“Imperial Gazetteer of India”. II. 1908: 454.
Wernham, R.B (1994). The Return of the Armadas: The Last Years of the Elizabethan Wars Against Spain 1595–۱۶۰۳٫ Oxford: Clarendon Press. pp. 333–۳۳۴٫ ISBN 978-0-19-820443-5.
[۳] ۔ اگست ۱۸۵۸ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے ا ملکہ وکٹوریہ کے اعلان کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے ہندوستان کو برطانیہ کے سپرد کر دیا۔
[۴] ۔ اس کمپنی کا نام ضرور ختم ہوا ہے لیکن کام ابھی بھی باقی ہے چنانچہ یہ ضرور ہے کہ اپنے آغاز کے ۲۷۵ سال بعد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو تحلیل کر دیا گیا اور اس کے سارے اثاثے Lloyds کے حوالے کر دیے گئے جو N.M. Rothschild & Co کا ذیلی ادارہ ہے لیکن اسکے اثرات اب بھی ملٹی نینشنل کمپنیوں میں دیکھنے کو مل سکتے ہیں مزید مطالعہ کے لئے ملاحظہ ہو : http://greatgameindia.com/east-india-company-still-exist/
https://www.zerohedge.com/news/2019-01-18/price-empire
[۵] ۔۱۸۵۸ء میں یہ کمپنی ختم کردی گئی اور اس کے تمام اختیارات تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ تاہم ۱۸۷۴ء تک کچھ اختیارات کمپنی کے ہاتھ میں رہے۔
[۶] ۔ آزادی کی وہ جنگ جسے ۱۸۵۷ کے غدر کے نام سے جانا جاتا ہے جب ہندوستانی سپاہیوں نے سور اور گائے کی چربی کارتوسوں میں مخلوط ہونے کی بنا پر آزادی کی تحریک چلانے والوں پر فائرنگ سے انکار کر دیا تھا ۔ the Gurkhas by W. Brook Northey, John Morris. ISBN 81-206-1577-8. Page 58
[۷] ۔اس قحط میں نہ صرف عام لوگ بلکہ صاحبان اقتدار بھی گرفتار ہوئے چنانچہ ملتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجیں اکثر مقامی حکمرانوں کو اجرت کے عوض فوجی خدمات فراہم کرتی تھیں۔ لیکن ان فوجی اخراجات سے مقامی حکمران جلد ہی کنگال ہو جاتے تھے اور اپنی حکمرانی کھو بیٹھتے تھے (جیسے اودھ)۔ اس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کی سلطنت وسیع ہوتی چلی گئی
http://www.excellup.com/ClassEight/sseight/tradeterritory1.aspx۔
قحط و بھوک مری کی تاریخ میں بنگال کے قحط (۱۷۶۹ء – ۱۷۷۰ء) کو فراموش نہیں کیا  جب Warren Hastings کے مطابق لگ بھگ ایک کروڑ افراد بھوک سے مر گئے جو کل آبادی کا ایک تہائی تھے۔ لوگ روٹی کی خاطر اپنے بچے بیچنے لگے تھے جا سکتا Cornelius Wallard کے مطابق ہندوستان میں پچھلے دو ہزار سالوں میں ۱۷ دفعہ قحط پڑا تھا۔ مگر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ۱۲۰ سالہ دور میں ۳۴ دفعہ قحط پڑا۔ مغلوں کے دور حکومت میں قحط کے زمانے میں لگان (ٹیکس) کم کر دیا جاتا تھا مگر ایسٹ انڈیا کمپنی نے قحط کے زمانے میں لگان بڑھا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔