یہودی غاصبوں کی پیٹاگونیا بھاگنے کی تیاریاں

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: پیٹا گونیا کا رقبہ ۹ لاکھ کلومیٹر کے لگ بھگ ہے یا یوں کہئے کہ یہ سرزمین پاکستان سے بڑی ہے۔ پیٹا گونیا بھی آبادی سے خالی سرزمین نہیں ہے بلکہ یہاں ۲۰ لاکھ کے قریب لوگ بھی رہتے ہیں چنانچہ ان لوگوں کو بھی اپنا انجام فلسطینیوں جیسا نظر آرہا ہے۔
پیٹاگونیا قدرتی عجائبات کے لئے بھی مشہور ہے؛ جس کے مغرب اور جنوب میں انڈیس (Andes) پہاڑی سلسلہ اور مشرق میں نشیبی صحرائی علاقہ ہے۔ پیٹاگونیا کا چلی والا حصہ شہر پویرتو مونت سے شروع ہوتا ہے اور اس کا ارجنٹائن والا حصہ دریائے کولوراڈو (Colorado River [Argentina]) کے جنوب سے شروع ہوتا ہے۔  
لیکن جس چیز نے حالیہ برسوں میں لاطینی امریکہ کی سیاسی اور ابلاغیاتی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے، نہ تو یہاں کا خوشگوار موسم اور بےمثل چشم و چشم نواز نظارے نہیں ہیں بلکہ صہیونیوں کی نقل مکانی اور پیٹاگونیا میں زمین کی خریداری واحد اہم موضوع ہے جو چلی اور ارجنٹائن کے حلقوں کا موضوع سخن بنی ہوا ہے۔
یہ ایک دعوی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا نوظہور مسئلہ ہے کہ آج آشکارا کہا جاسکتا ہے کہ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ حقیقت کا روپ اختیار کرچکا ہے۔ اسی سلسلے میں اسرائیلی ریاست کی تشکیل کے آغاز میں جو مسودہ “روتھشیلڈ خاندان” (Rothschild Family) کو دستاویز کے طور پر دیا گیا، اس میں پیٹاگونیا یہودی ریاست کی سرزمین قرار دی گئی تھی۔
 
پیٹاگونیا کا معتدل موسم، یہاں کی مالامال معدنیات اور مختصر سی آبادی، اس علاقے کو صہیونیوں کے لئے دلچسپ بنا رہی تھی۔ [گویا اسلام دشمن مغربی طاقتیں بھی جانتی تھیں کہ سرزمین فلسطین تر نوالہ نہیں ہے اور آخرکار یہودیوں کو یہاں سے رخت سفر باندھنا ہے چنانچہ انھوں نے وقتی طور پر یہودیوں سے جان چھڑانے کی غرض سے ان کو فلسطین کا قبضہ دلوایا اور پیٹاگونیا کو یہودیوں کا آخری ٹھکانا قرار دیا چنانچہ اب یہودیوں کو فلسطینی سرزمین پر ان کے مطلوبہ مسیح کے نزول سے زیادہ، فلسطینی بچوں کے غلیلوں سے بھاگنے کے فکر کھائے جارہی ہے اور پیٹاگونیا میں زمین کی خریداری کے سلسلے میں اسی بنا پر شدت آئی ہے]۔
کئی سالوں سے ارجنٹائن اور چلی کے متعدد سیاستدان یہودی سرمایہ داروں کے ہاتھو پیٹاگونیا کی زمینوں کی خریداری پر تنقید کررہے ہیں لیکن جیسا کہ اندازہ لگایا جاتا ہے، ان دو ممالک کے ذرائع ابلاغ نیز دنیا کے بڑے ذرائع، گویا کہ اس موضوع کو ہوا نہیں دینا چاہتے!!!
 پیٹاگونیا میں صہیونیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں چلی کے سینیٹر کے انکشافات
اسی سلسلے میں یہودی ریاست کے اخبار ہاآرتص نے دسمبر ۲۰۱۳ع میں چلیائی سینیٹر یوگینیو توما (Eugenio Tuma) کے حوالے سے لکھا کہ “اسرائیلی فوجی چلی میں نقشہ کشی کررہے ہیں اور پیٹاگونیا کو دنیا کے یہودیوں کی جائے پناہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں”۔
ہاآراتص کے مطابق، مذکورہ سینیٹر ـ جو چلیائی سینٹ کی خارجہ کمیٹی کے سربراہ بھی رہے ہیں ـ نے کہا تھا کہ “چلی کی حکومت سیاحت کے بھیس میں ہونے والے اقدامات کی نسبت غیر جانبدار نہیں رہ سکتی؛ کیونکہ اسرائیل کے ہزاروں ریزرو فوجی تسلسل کے ساتھ پیٹاگونیا کا دورہ کررہے ہیں”۔  
سینیٹر توما نے سنہ ۲۰۱۳ع‍ کے بعد بھی متعدد رپورٹیں شائع کی ہیں جن میں انھوں نے واضح کیا ہے کہ پیٹاگونیا پر یہودیوں کے قبضے کا آغاز سنہ ۱۸۸۶ع‍ میں سوئٹزر لینڈ کے شہر باسیل (Basel) میں تھیوڈور ہرزل کی صدارت میں منعقدہ خفیہ کانفرنس ہی سے ہوچکا تھا۔
واضح رہے کہ پیٹاگونیا کا دو لاکھ ۵۶ ہزار کلومیٹر مربع حصہ چلی میں اور سات لاکھ ۸۷ ہزار کلومیٹر مربع حصہ ارجنٹائن میں واقع ہوا ہے اور طے یہ پایا ہے کہ اس سرزمین کو عالمی یہودیوں کی متبادل سرزمین میں تبدیل کیا جائے۔ ادھر چلی کے دارالحکومت میں مقیم یہودیوں کے سربراہ نے سیاسی جماعت ” Party for Democracy” کو خط لکھ کر مذکورہ سینیٹر کے موقف کی مذمت اور ان کی برخاستگی کا مطالبہ کیا۔
اس علاقے کی صورت حال کچھ یوں ہے کہ یہاں آنے والے سیاحوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی اور عبرانی زبانی کے فروغ کی کوششیں ناقابل انکار ہیں۔
ایک برطانوی یہودی ارب پتی ملوث ہے
ایک ایرانی سفارتکار “محسن پاک آئین” اس سلسلے میں لکھتے ہیں: “ارجنٹائن کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہودی ریاست برطانیہ کے خفیہ اداروں اور صہیونیت کے حامی عناصر کی مدد سے پیٹاگونیا میں اراضی خرید رہی ہے اور حال ہی میں ارجنٹائن کے بعض ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹ میں ایک برطانوی یہودی ارب پتی جو لیویس (Joseph C. Lewis) کے ہاتھوں لاکھوں اسرائیلیوں کی آبادکاری کے لئے پیٹاگونیا میں اراضی کی خریداری پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔۔۔ جولیویس نے ارجنٹائن اور چلی کے درمیانی علاقے میں وسیع اراضی خرید لی ہیں اور مشہور ہے کہ اس کی ملکیتی زمین اسرائیلی قلمرو سے کئی گنا بڑی ہے۔ زیادہ تر خریدی گئی اراضی تےرا دیل فےگو (Tierra del Fuego) کے علاقے میں واقع ہیں۔ لاگو ایسکونڈیڈو (Lago Escondido) کے علاقے میں بھی وسیع اراضی کی خریداری اس یہودی ـ برطانوی ارب پتی کے منصوبے میں شامل ہے”۔  
 گارجین: پیٹاگونیا کے مقامی باشندے اسرائیلیوں کی آمد سے ناراض
روزنامہ گارجین نے جنوری سنہ ۲۰۱۵ع‍ میں ایک رپورٹ کے ضمن میں نام نہاد یہودی سیاحوں کی آمد سے ارجنٹینی پیٹاگونیا کے عوام اور اس علاقے کے مقامی باشندوں کی شدید ناراضگی پر مبنی رپورٹ شائع کردی۔ رپورٹر نے لکھا تھا کہ اس علاقے میں موجود یہودیوں کو علاقے کے اصلی باشندوں کی بدسلوکی کا سامنا ہے۔
گارجین، جو اپنی پرانی پالیسی کے مطابق یہودیوں کو مظلوم بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے، لکھتا ہے: “جنوبی ارجنٹائن میں واقع پیٹاگونیا کے مقامی لوگوں کی طرف سے نو وارد یہودی آبادکاروں کے ساتھ بدسلوکی میں اس لئے بھی اضافہ ہوا ہے کہ وہ سمجھے ہیں کہ جو یہودی حال ہی میں اس علاقے میں آبسے ہیں، در حقیقت اسرائیلی فوجی ہیں”۔
گارجین نے ارجنٹائن کے یہودیوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر دعوی کیا ہے کہ “اس علاقے میں یہود مخالف اقدامات اور نازیت کی حمایت میں اٹھائے جانے والے نعروں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور عوام پیٹاگونیا سے یہودیوں کے فوری انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں”۔
فلسطین سے فرار صہیونیوں کی حتمی قسمت
غاصب یہودیوں کے لئے متبادل سرزمین کا موضوع نہایت حساس اور اہم موضوع ہے جس پر بحث و تمحیص کی کھلی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاتی ہے۔ اگرچہ سنہ ۲۰۰۶ع‍ میں حزب اللہ کے ساتھ ۳۳ روزہ جنگ کے بعد سے یہودیوں کی الٹی نقل مکانی شروع ہوچکی ہے اور حال ہیں غزہ، لبنان اور جولان کی طرف سے مقبوضہ فلسطین میں قائم غاصب یہودی ریاست کے شدید محاصرے کے بعد سے اس نقل مکانی میں مزید شدت آئی ہے اور اسی بنا پر مقبوضہ سرزمین سے یہودیوں کی الٹی نقل مکانی ایک بار پھر مختلف حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی ذرائع نے یہودیوں کی الٹی نقل مکانی اور دوبارہ آبادکاری کے لئے کینیڈا، پولینڈ اور جنوبی سوڈان کے کچھ علاقوں کا جائزہ لینے کے بارے میں رپورٹیں شائع کی ہیں۔
دریں اثناء اگرچہ رہبر انقلاب امام سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالی) نے یہودی ریاست کے خاتمے کی پیشگوئی کی ہے لیکن وہ اس حوالے سے تنہا نہیں ہیں اور سنہ ۱۹۹۰ع‍ کے عشرے سے کچھ یہودی علماء اور مفکرین نے بھی اسرائیل نامی ریاست کے تسلسل کو ناممکن قرار دیا ہے اور یہ مفکرین ـ ان کے بقول ـ مقدس سرزمین میں یہودی ریاست کی بقاء کو ناممکن سمجھ رہے ہیں۔ نیز، بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ علاقے میں ایک طویل المدت اور شدید لڑائی شروع ہونے کی صورت میں دنیا بھر سے مقبوضہ سرزمین میں آبسنے والے یہودی نہایت تیزی کے ساتھ فلسطین کو چھوڑ کر دوسرے ممالک کی طرف فرار کریں گے۔
 
اسی بنا پر مسئلہ فلسطین کے آغاز سے کئی عشرے گذرجانے اور فلسطینی کاز کو فراموشی کے سپرد کروانے کے لئے درجنوں منظرناموں کے نفاذ کے باوجود، مسلم اقوام، مغرب کے آگے سجدہ ریز حکمرانوں کے برعکس، فلسطینی سرزمین اور یہاں کے مظلوم عوام کی پشت پناہی کی پابند ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کہلوانے والی غاصب ریاست، سرزمین فلسطین میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہونے کے بعد ہر صورت میں اس سرزمین اپنا غاصبانہ قبضہ قائم رکھنا چاہتی ہے جو لبنان، شام اور فلسطین کی مجاہد اقوام کی جدوجہد کی بنا پر ممکن نہیں، چنانچہ یہ ریاست اسی اثناء میں متبادل سرزمینوں کو بھی مدنظر رکھی ہوئی ہے کیونکہ امریکہ کی غیر محتاطانہ اور بےتحاشا حمایت کے باوجود، اس ریاست کی صورت حال ہمیشہ سے زیادہ نازک اور زیادہ متزلزل ہے اور یہودی ریاست کے منتظمین اپنی موجودگی کا اختتام اب بغیر عینک کے بھی دیکھ سکتے ہیں؛ گویا یہ ایک وقتی ٹھکانا تھا جو اسرائیل کی بنیاد رکھنے والے یورپیوں نے یہودیوں کے شر سے بچنے اور مسلمانوں کو سزا دینے کے لئے ان کے سپرد کیا تھا اور پیٹاگونیا ابتدائی دستاویزات کے مطابق ان کی دائمی سرزمین قرار دی گئی تھی چنانچہ اب وہ اپنی دائمی سرزمین میں بس جانے کی تیاری کررہے ہیں گوکہ پیٹاگونیا کے عوام بھی بظاہر انہیں خیرمقدم کہنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور وہاں جانے کے بعد انہیں کسی تیسری اور چوتھی متبادل سرزمین کا تعین بھی کرنا پڑے گا۔
منبع: mshrgh.ir/952902
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی