امریکی جامعات کے پاکستانی نژاد پروفیسر محمد شاہد عالم کا تعارف

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، محمد شاہد عالم ان ہزاروں پروفیسروں میں سے ایک ہے جو مارکسی سوچ رکھتے ہیں اور امریکی جامعات میں سرگرم عمل ہیں اور سوچتے ہیں کہ امریکہ ایک بڑا شیطان ہے اور امریکہ کے دہشت گرد دشمن حقیقت میں “آزادی کے مجاہدین” ہیں۔
دسمبر ۲۰۰۴ع‍ میں ان کا ایک مضمون بعنوان “مخالف آواز” (امن و انصاف کے لئے جدوجہد کے سلسلے میں ایک بنیادپرست خبرنامہ) شائع ہوا، جس میں عالم نے محمد عطا اور ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ع‍ کو عالمی تجارتی مرکز پر حملہ کرنے والے القاعدہ کے دوسرے دہشت گردوں کو ان محب الوطن امریکیوں سے تشبیہ دی، جنہوں نے برطانویوں کا مقابلہ کرتے ہوئے لیکسنگٹن (Lexington) اور کانکرڈ (Concord) کی حفاظت کی اور امریکہ کی آزادی کی تاریخی تحریک کا آغاز کیا۔
پروفیسر عالم نے لکھا تھا: “۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ع‍ کو ۱۹ عرب ہائی جیکروں نے اپنے ہدف کے حصول کی راہ میں مارنے اور مارے جانے کے لئے اپنے اشتیاق کو ثابت کرکے دکھایا”۔
پروفیسر عالم کی اشتعال انگیز اور متعصبانہ تحریر انٹرنیٹ میں وسیع سطح پر شائع ہوئی۔ جب انہیں ایمیل کے ذریعے چیلنج کیا گیا تو انھوں نے یہود دشمنی پر مبنی تمسخر کے ساتھ جواب دیا کہ: “یہ کیسی بات ہے کہ میں جو دھمکی آمیز خطوط وصول کررہا ہوں ان سب پر لیوٹ (Levit)، ہوک (Hook) اور فریڈ مین (Friedman) کے دستخط ہیں؟”، اگر پروفیسر عالم نے اس طرح کے اہانت آمیز الفاظ افریقی نژاد امریکیوں یا ہمجنس بازوں کے بارے میں استعمال کئے ہوتے تو انہیں یقینا سزا ملتی اور یہ بھی امکان تھا کہ انہیں یونیورسٹی کے انتظامیہ کی طرف سے برخاست کیا جاتا؛ لیکن چونکہ ان کے الفاظ سے مراد صرف “یہودی” تھے چنانچہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کے احتساب کی خواہش تک ظاہر نہیں کی۔
پروفیسر عالم نے جنوری ۲۰۰۵ کو اپنا تکمیلی مضمون Counterpunch.org نامی ویب گاہ پر (جو عراق میں امریکہ کے خلاف لڑنے والوں کو امریکی سامراجیت کے غازی سمجھتی ہے) شائع کیا، جس کا عنوان تھا: “نفرت کی لہریں: امریکہ میں آزادی بیان کا امتحان (The Waves of Hate: Testing Free Speech in America)۔ اس مضمون میں انھوں نے اپنا تعارف ایسے شخص کے طور پر کرایا جو آزادی بیان کے سلسلے میں بندشوں کے تجربے سے گذر رہے تھے، اور (ان کے بقول) نفرت کی ویب گاہیں (یعنی القاعدہ کے خلاف سرگرم عمل ویب گاہیں www.jihadwatch.org اور www.littlegreenfootballs.com) انہیں حقیقت گوئی پر مجبور کرتی ہیں؛ یوں انھوں نے اپنے آپ کو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو غلط فہمی کا شکار ہوکر اذیت و آزار کا نشانہ بنا ہے۔
عالم نے کاؤنٹر پنچ والے مضمون میں اپنے دعوے کی یوں وکالت کی: “ممکن ہے کہ امریکیوں نے اپنی جنگ آزادی میں عام شہریوں کو نشانہ نہ بنایا ہو لیکن وہ جرائم کے مرتکب ضرور ہوئے اور عام اور نہتے شہریوں کو ضمنی طور پر نقصان پہنچایا”۔ لگتا ہے کہ عالم کو اس بات سے حیرت ہوئی تھی کہ لوگ ان کے استدلال کے لئے استثناء کے قائل ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا: مجھے حیرت ہے کہ میرے ان الفاظ نے ـ کہ “القاعدہ تنظیم (اپنے سے پہلے کے امریکی سامراجیوں کی طرح) ایک اسلامی تحریک میں بدل چکی ہے”ـ اس قدر تشدد آمیز حملوں کا طوفان بپا کیا ہے۔
پروفیسر محمد شاہد عالم /Professor M. Shahid Alam، مشہور پاکستانی ہواباز محمود احمد عالم (ایم ایم عالم) کے بھائی اور بنگالی نژاد پاکستانی ہیں۔
نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی
– بوسٹن کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر
-۱۱ ستمبر کے دہشت گردوں کو ایسے مَردوں کے طور پر متعارف کراتے ہیں جو موت کو گلے لگانے کے لئے تیار تھے اس امید سے کہ شاید ان کے ملک کے عوام عزت اور آزادی کے ساتھ جی سکیں؛ وہ انہیں امریکہ کے بانیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔
– ان کا دعوی ہے کہ القاعدہ کا جہاد مغربی جارحین کے خلاف ایک دفاعی جہاد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی