عقیدہ مہدویت کا مقابلہ اور یہودی ریاست کی حکمت عملی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: قرآن کریم یہود کو مؤمنوں کا شدید ترین دشمن قرار دیتا ہے۔ (۱) چنانچہ مؤمنین اور عقیدہ مہدویت کے مقابلے میں اس شدید ترین دشمن کے نظریات اور حکمت عملیوں کا جائزہ لینا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل سے تھے جو سنہ ۱۷ قبل از مسیح سے کنعان میں ہجرت کرکے آگئے اور وہاں سے مصر میں داخل ہوئے۔ اس قوم کو قبطیوں اور فرعون کے شدید ترین مظالم کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ خداوند متعال نے ان میں سے حضرت موسی علیہ السلام کو پیغمبر کے طور پر مبعوث فرمایا، جن کا مشن یہ تھا کہ اپنی قوم کو فرعون کے مظالم سے نجات دلائیں۔
فرعون نے بنی اسرائیل کی منتقلی کی مخالفت کی تو حضرت موسی(ع) اپنی قوم کے ساتھ دریا / سمندر پار کرگئے اور فیصلہ کیا کہ سرزمین موعود (بیت المقدس) چلے جائیں۔ بنی اسرائیل حضرت موسی علیہ السلام کے معجزے سے دریا پارکرنے میں کامیاب ہوئے اور فرعون اور اس کے سپاہی ڈوب کر ہلاک ہوئے۔
راستے میں بنی اسرائیل کی سرکشیاں اور نافرمانیاں اللہ کے وعدوں میں تاخیر کا سبب بنے۔ (۲) اور بنی اسرائیل صحرائے سینا میں ۴۰ سال تک دربدری اور سرگردانی کے بعد موسی(ع) کے وصی یوشع بن نون(ع) کی قیادت میں سرزمین مقدس کی طرف روانہ ہوئے۔
حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اپنی سپاہ کو لے کر شہر “اریحا” پر قابض ہوئے اور بنی اسرائیل اس شہر میں سکونت پذیر ہوئے۔ یوشع(ع) عمالقہ کے خلاف لڑے اور شام اور فلسطین کی سرزمینوں کو بنی اسرائیل میں تقسیم کیا۔ ان کی وفات کے بعد، بنی اسرائیل کے درمیان کے اختلاف زور پکڑ گئے اور دشمنوں نے بنی اسرائیل کے شہروں پر حملے کئے اور ان کا قتل عام کیا۔ بنی اسرائیل نے خداوند متعال سے التجا کی کہ دشمنوں کے خلاف جدوجہد اور بنی اسرائیل کی عظمت رفتہ بحال کرانے کے لئے انہیں ایک رہبر و قائد متعین فرمائے۔ (۳)
خداوند متعال نے بنی اسرائیل کی دعا قبول فرمائی اور حضرت طالوت علیہ السلام کو ان کے دشمنوں کے خلاف لڑنے پر مامور فرمایا۔ طالوت اور جالوت کے درمیان ہونے والی جنگ میں داؤد نامی نوجوان نے جالوت کو ہلاک کر ڈالا اور خداوند متعال نے انہیں نبوت اور فرمانروائی عطا کی۔ (۴)
حضرت داؤد علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو متحد کیا۔ تاریخ یہود میں حضرت داؤد(ع) اور ان کے فرزند حضرت سلیمان نبی علیہ السلام کی حکمرانی کا دور، سنہری دور کہلاتا ہے۔ حضرت سلیمان(ع) نے جنوں کی مدد سے بیت المقدس میں ایک عظیم عبادتگاہ تعمیر کی۔
حضرت سلیمان(ع) کی وفات کے بعد، اختلافات نے ایک بار پھر بنی اسرائیل کی راہ دیکھ لی اور ان کی قوت زائل ہو گئی اور آخر کار، سنہ ۵۸۶ قبل از مسیح میں بُختُ النَصر ـ جو ان دنوں بغداد اور مدائن کا حکمران تھا ـ بیت المقدس پر حملہ آور ہوا اور شہر کو خاک کے ڈھیر میں تبدیل کیا اور سلیمان(ع) کی عبادتگاہ کو منہدم کیا۔
یہود کی تزویری حکمت عملی کا تاریخی پہلو چار مراحل کی پیروی کرتا ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام سے آج تک کے ۳۰۰۰ سال سے زائد عرصے میں یہودی اسی پروگرام کے مطابق مصروف عمل رہے ہیں۔

پہلا مرحلہ:
پہلا مرحلہ مختلف سرزمینوں سے سرزمین مقدس کی طرف ہجرتوں کا مرحلہ ہے۔ یہ مسئلہ حضرت موسی(ع) کے زمانے میں دریا پار کرنے کی صورت میں انجام کو پہنچا۔
دوسرا مرحلہ:
یہ مرحلہ حضرت یوشع(ع) کی قیادت میں اریحا کی فتح اور فلسطین میں قیام حکومت پر مشتمل تھا۔
تیسرا مرحلہ:
یہ مرحلہ بیت المقدس کی تسخیر کا مرحلہ تھا؛ حضرت سلیمان(ع) کی سلطنت کے دور میں بیت المقدس پر یہودیوں نے قبضہ کیا۔ بعد میں بُختُ النَصر نے حملہ کرکے یہودیوں کو منتشر کردیا۔
جس وقت مسلمانوں نے بیت المقدس کو آزاد کرایا تو یہودیوں نے عیسائیوں کو اکسایا اور مسلمانوں اور عیسائیوں کو ۸ صلیبی جنگوں میں الجھایا تا کہ آخرکار ایک بار پھر بیت المقدس کو مسخّر کریں۔
چوتھا مرحلہ:
یہود کی تزویری حکمت عملی کا چوتھا مرحلہ سلیمان کی عبادتگاہ یا ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو ہے جسے بُختُ النَصر نے منہدم کردیا تھا۔

 

جاری

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی